حضرت مولانا حاجی ہاشم کھتری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
حضرت مولانا الحاج محمد ہاشم بن میاں عبد اللہ دھوبی نزد چوہڑ جمالی، گوٹھ ’’گونگانی‘‘ (تحصیل شاہ بندر ضلع ٹھٹھہ) میں ۱۱ رجب المرجب ۱۲۵۰ھ میں بروز پیر تولد ہوئے ۔
تعلیم و تربیت:
ابتدائی تعلیم اپنے چچا مولانا ابو اسحاق عبد الغفور دھوبی سے حاصل کی اس کے ساتھ اسکول میں پرائمری تعلیم بھی جاری رکھی ۔ اس کے بعد گوٹھ کے پرائمری اسکول میں استاد مقرر ہوئے ۔ ایک روز ان کی قسمت کا ستارہ چمکا، ہوا یوں کہ ان کے گوٹھ میں استاد العلماء حضرت علامہ ابو الخیر قاضی عبد اللہ جتوئی کا آنا ہوا، انہوں نے آپ کے ماتھے کو دیکھ کر نوشتہ دیوار پڑھ لیا، گوہر نایاب کو پہچان لیا، اور اپنے ساتھ اپنے گوٹھ لے گئے، جہاں تعلیم و تربیت کا بند و بست کیا، وہیں سے درس نظامی مکمل کرکے فارغ التحصیل ہوئے۔ اس کے بعد ہندوستان کی سیاحت کو نکل گئے ۔
بیعت:
آپ سلسلہ عالیہ نقشبندیہ مجددیہ میں حضرت خواجہ عبد الرحمن جان سر ہندی فاروقی قدس سرہٗ سے دست بیعت ہوئے ۔
مدرسہ کا قیام:
۱۸۹۲ء کے سیلاب کے سبب مولانا نے گوٹھ گانگانی سے منتقل ہو کر تحصیل میر پور ساکرو (ضلع ٹھٹھہ) کے شہر غلام اللہ میں اپنا گوٹھ قائم کیا۔ جس میں ایک عظیم الشان مدرسہ ’’دارالعلوم فیض ہاشمیہ‘‘ اور ایک مسجد شریف تعمیر کروائی۔ اس کے علاوہ ایک عظیم الشان کتب خانہ بھی مدرسہ میں قائم فرمایا تھا۔ جہاں سے بے شمار علم کے پیاسے سیراب ہو کر نکلتے ۔
آپ کی زندگی بھی درس و تدریس ، تصنیف و تالیف اور وعظ و نصیحت سے وابستہ رہی ۔
تلامذہ:
۱۔ مولانا ممیر محمد جتوئی
۲۔ مولانا محمد عمر کھتری چوہڑ جمالی
۳۔ مولانا غلام محمد بلوچ
۴۔ مولوی نور محمد زنگیانی
۵۔ مولوی محمد عمر جت (گھوڑا باڑی)
صاحب حضوری:
مولانا محمد ہاشم جید عالم، شب خیز عابد، قناعت پسند زاہد، صاحب فتویٰ مفتی، پرہیزگار ، مہمان نواز، علماء شناس، سادہ طبیعت، مشفق و مہربان، اور ولی اللہ تھے ۔ درود شریف کے مبلغ، حضور پر نور ﷺ کے عاشق زار تھے اسی لئے تو کثرت سے درود شریف پڑھا کرتے تھے، ساری ساری رات درود شریف کا ورد کرتے ، ایک بار تو ایک کروڑ درود شریف کا ختم کیا۔ کثرت سے درود شریف پڑھنے والے کا سینہ کھل جاتا ہے، آپ کے سینے کا بھی انشراح ہوا حضور ﷺ کی محفل پاک میں آنے جانے کی ٹکٹ جاری ہوگئی، اس لئے ’’حضوری‘‘ کے لقب سے یاد کئے جاتے ہیں ۔
ایک بار فقیر محمد اسماعیل ’’خاطی‘‘ ٹھٹھوی کے والد صاحب کو مشکل کشائی اور سخت مصیبت میں حاجت روائی کیلئے ایک درود شریف بتایا اور فرمایا ’’یہ درود شریف اسم اعظم ہے ، اس کو ایک ہزار بار روزانہ سات دن پڑھا جائے تو جبل (پہاڑ) بھی اپنی جگہ سے ہٹ سکتا ہے‘‘ اور وہ یہ ہے:
الصلوٰۃ واسللام علیک یا سیدی قرۃ عینی یا رسول اللہ ﷺ
خذ بیدی قلت حیلتی ادرکنی یا رسول اللہ ﷺ
(برکات الصلوٰۃ سندھی، ص:۶۶)
عادات و خصائل:
مونالا نہ صرف عالم با عمل تھے بلکہ صاحب حضوری ولی اللہ تھے ۔ چہرے پر ہمیشہ مسکراہٹ رہتی تھی، ہر چھوٹے اور بڑے سے خندہ پیشانی سے ملتے تھے ۔ عربی ، فارسی، ہندی اور اردو پر دسترس رکھتے تھے، سندھی تو مادری زبان تھی ۔ حافظہ قوی، حاضر جوابی میں ضرب المثل تھے ۔ فقیہ و بہترین مفتی تھے ۔ عارف کامل حضرت سید شاہ عبداللطیف بھٹائی قدس سرہٗ کے کلام پر کامل مہارت رکھتے تھے اور شاہ جو رسالو‘‘ کے بہترین شارح تھے، رسالہ میں تمثیلی واقعات کے پس منظر سے بخوبی واقف تھے ۔ آپ جب بھٹائی صاحب کا عارفانہ کلام پڑھتے تو ایک رقت سی طاری ہو جاتی تھی ۔
تصنیف و تالیف:
آپ تقریر و تحریر دونوں پر عبور رکھتے تھے۔ ساٹھ سے زائد کتابوں کا مختلف زبانوں میں مثلاً عربی، فارسی، اردو اور ہندی میں ترجمے کئے، ان میں فلسفہ حکمت تصوف فقہ اور علم جفر وغیرہ موضوعات آجاتے ہیں ۔ اسی طرح کئی درسی و دیگر عربی کتب پر حواشی لگائے ۔ لیکن مضمون نگار نے ان کتب کے نام نہیں گنوائے ہیں ۔
شاعری:
اس کے علاوہ مولانا کو شعر و شاعری سے بھی دلچسپی تھی ۔ آپ کا نعتیہ کلام آج بھی نعت خواں حضرات ٹھٹھہ و مضافات میں بڑے شوق و ذوق سے سناتے ہیں ۔
اولاد:
آپ کو تین بیٹے تولد ہوئے۔
۱۔ مولانا محمد سلیم
۲۔ میاں حافظ احمد
۳۔ میاں حاجی عمر
وصال:
حضرت مولانا محمد ہاشم نے ۱۳ ، رجب المرجب ۱۳۸۰ھ بمطابق ۲۱ دسمبر ۱۹۶۱ء بروز جمعرات ۱۳۰ سال کی عمر میں انتقال کیا۔ آپ کا مزار غلام اللہ ضلع ٹھٹھہ (سندھ) میں مرجع خلائق ہے۔
[محترم حافظ حبیب سندھی، چوہڑ جمالی، نے مواد فراہم کیا۔ فقیر نہایت مشکور ہے۔]
( انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-haji-hashim-khatri
حضرت مولانا الحاج محمد ہاشم بن میاں عبد اللہ دھوبی نزد چوہڑ جمالی، گوٹھ ’’گونگانی‘‘ (تحصیل شاہ بندر ضلع ٹھٹھہ) میں ۱۱ رجب المرجب ۱۲۵۰ھ میں بروز پیر تولد ہوئے ۔
تعلیم و تربیت:
ابتدائی تعلیم اپنے چچا مولانا ابو اسحاق عبد الغفور دھوبی سے حاصل کی اس کے ساتھ اسکول میں پرائمری تعلیم بھی جاری رکھی ۔ اس کے بعد گوٹھ کے پرائمری اسکول میں استاد مقرر ہوئے ۔ ایک روز ان کی قسمت کا ستارہ چمکا، ہوا یوں کہ ان کے گوٹھ میں استاد العلماء حضرت علامہ ابو الخیر قاضی عبد اللہ جتوئی کا آنا ہوا، انہوں نے آپ کے ماتھے کو دیکھ کر نوشتہ دیوار پڑھ لیا، گوہر نایاب کو پہچان لیا، اور اپنے ساتھ اپنے گوٹھ لے گئے، جہاں تعلیم و تربیت کا بند و بست کیا، وہیں سے درس نظامی مکمل کرکے فارغ التحصیل ہوئے۔ اس کے بعد ہندوستان کی سیاحت کو نکل گئے ۔
بیعت:
آپ سلسلہ عالیہ نقشبندیہ مجددیہ میں حضرت خواجہ عبد الرحمن جان سر ہندی فاروقی قدس سرہٗ سے دست بیعت ہوئے ۔
مدرسہ کا قیام:
۱۸۹۲ء کے سیلاب کے سبب مولانا نے گوٹھ گانگانی سے منتقل ہو کر تحصیل میر پور ساکرو (ضلع ٹھٹھہ) کے شہر غلام اللہ میں اپنا گوٹھ قائم کیا۔ جس میں ایک عظیم الشان مدرسہ ’’دارالعلوم فیض ہاشمیہ‘‘ اور ایک مسجد شریف تعمیر کروائی۔ اس کے علاوہ ایک عظیم الشان کتب خانہ بھی مدرسہ میں قائم فرمایا تھا۔ جہاں سے بے شمار علم کے پیاسے سیراب ہو کر نکلتے ۔
آپ کی زندگی بھی درس و تدریس ، تصنیف و تالیف اور وعظ و نصیحت سے وابستہ رہی ۔
تلامذہ:
۱۔ مولانا ممیر محمد جتوئی
۲۔ مولانا محمد عمر کھتری چوہڑ جمالی
۳۔ مولانا غلام محمد بلوچ
۴۔ مولوی نور محمد زنگیانی
۵۔ مولوی محمد عمر جت (گھوڑا باڑی)
صاحب حضوری:
مولانا محمد ہاشم جید عالم، شب خیز عابد، قناعت پسند زاہد، صاحب فتویٰ مفتی، پرہیزگار ، مہمان نواز، علماء شناس، سادہ طبیعت، مشفق و مہربان، اور ولی اللہ تھے ۔ درود شریف کے مبلغ، حضور پر نور ﷺ کے عاشق زار تھے اسی لئے تو کثرت سے درود شریف پڑھا کرتے تھے، ساری ساری رات درود شریف کا ورد کرتے ، ایک بار تو ایک کروڑ درود شریف کا ختم کیا۔ کثرت سے درود شریف پڑھنے والے کا سینہ کھل جاتا ہے، آپ کے سینے کا بھی انشراح ہوا حضور ﷺ کی محفل پاک میں آنے جانے کی ٹکٹ جاری ہوگئی، اس لئے ’’حضوری‘‘ کے لقب سے یاد کئے جاتے ہیں ۔
ایک بار فقیر محمد اسماعیل ’’خاطی‘‘ ٹھٹھوی کے والد صاحب کو مشکل کشائی اور سخت مصیبت میں حاجت روائی کیلئے ایک درود شریف بتایا اور فرمایا ’’یہ درود شریف اسم اعظم ہے ، اس کو ایک ہزار بار روزانہ سات دن پڑھا جائے تو جبل (پہاڑ) بھی اپنی جگہ سے ہٹ سکتا ہے‘‘ اور وہ یہ ہے:
الصلوٰۃ واسللام علیک یا سیدی قرۃ عینی یا رسول اللہ ﷺ
خذ بیدی قلت حیلتی ادرکنی یا رسول اللہ ﷺ
(برکات الصلوٰۃ سندھی، ص:۶۶)
عادات و خصائل:
مونالا نہ صرف عالم با عمل تھے بلکہ صاحب حضوری ولی اللہ تھے ۔ چہرے پر ہمیشہ مسکراہٹ رہتی تھی، ہر چھوٹے اور بڑے سے خندہ پیشانی سے ملتے تھے ۔ عربی ، فارسی، ہندی اور اردو پر دسترس رکھتے تھے، سندھی تو مادری زبان تھی ۔ حافظہ قوی، حاضر جوابی میں ضرب المثل تھے ۔ فقیہ و بہترین مفتی تھے ۔ عارف کامل حضرت سید شاہ عبداللطیف بھٹائی قدس سرہٗ کے کلام پر کامل مہارت رکھتے تھے اور شاہ جو رسالو‘‘ کے بہترین شارح تھے، رسالہ میں تمثیلی واقعات کے پس منظر سے بخوبی واقف تھے ۔ آپ جب بھٹائی صاحب کا عارفانہ کلام پڑھتے تو ایک رقت سی طاری ہو جاتی تھی ۔
تصنیف و تالیف:
آپ تقریر و تحریر دونوں پر عبور رکھتے تھے۔ ساٹھ سے زائد کتابوں کا مختلف زبانوں میں مثلاً عربی، فارسی، اردو اور ہندی میں ترجمے کئے، ان میں فلسفہ حکمت تصوف فقہ اور علم جفر وغیرہ موضوعات آجاتے ہیں ۔ اسی طرح کئی درسی و دیگر عربی کتب پر حواشی لگائے ۔ لیکن مضمون نگار نے ان کتب کے نام نہیں گنوائے ہیں ۔
شاعری:
اس کے علاوہ مولانا کو شعر و شاعری سے بھی دلچسپی تھی ۔ آپ کا نعتیہ کلام آج بھی نعت خواں حضرات ٹھٹھہ و مضافات میں بڑے شوق و ذوق سے سناتے ہیں ۔
اولاد:
آپ کو تین بیٹے تولد ہوئے۔
۱۔ مولانا محمد سلیم
۲۔ میاں حافظ احمد
۳۔ میاں حاجی عمر
وصال:
حضرت مولانا محمد ہاشم نے ۱۳ ، رجب المرجب ۱۳۸۰ھ بمطابق ۲۱ دسمبر ۱۹۶۱ء بروز جمعرات ۱۳۰ سال کی عمر میں انتقال کیا۔ آپ کا مزار غلام اللہ ضلع ٹھٹھہ (سندھ) میں مرجع خلائق ہے۔
[محترم حافظ حبیب سندھی، چوہڑ جمالی، نے مواد فراہم کیا۔ فقیر نہایت مشکور ہے۔]
( انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-haji-hashim-khatri
❤1👍1
حضرت قضیب البان موصلی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
کنیت ابو عبد اللہ ہے ۔ حضرت غوث الاعظم کے کامل ترین مریدوں سے تھے۔ آپ کی ذات سے بے خوارق و کرامات کا ظہور ہوا۔ قاضیٔ موصل کو آپ سے سخت اختلاف تھا۔ ایک روز موصل کے کسی بازار سے گزرتے ہُوئے قاضی سے دوچار ہوگئے۔ قاضی نے دل میں کہا: آج موقع ہے گرفتار کرکے حاکم کے سپرد کردینا چاہیے تاکہ اچھی طرح سزا ملے۔ قاضی نے اچانک دُور سے دیکھا کہ گرد اڑرہی ہے۔ جب وُہ قریب آئی تو معلوم ہوا کوئی قوی ہیکل مغرور پہلوان ہے اور قریب ہُوا تو ایک اعرابی کی صورت میں متشکل ہوگیا۔ پھر عالم و فقہی کی شکل میں ظاہر ہوا اور قاضی کے قریب آکر کہنے لگا۔ کہو ان تینوں شکلوں میں سے کون سی شکل حاکم کے سامنے لے جاکر سزا دلانا چاہتے ہو۔ قاضی اسی تبدیلی ہیئت سے خوف زدہ ہوگیا۔ تائب ہوکر شیخ کے حلقۂ ارادت میں داخل ہوا۔
کسی نے حضرت غوث الاعظم کی خدمت میں شکایت کی کہ شیخ قصیب البان نماز نہیں پڑھتے۔ فرمایا: اُن کا سر ہمیشہ خانہ کعبہ کی دہلیز پر پڑا رہتا ہے۔ ۵۷۰ھ میں وفات پائی۔ مزار مبارک موصل میں ہے۔
قطعۂ تاریخ وفات:
رہنمائے جہاں قصیب البان
رحلتشن کاشف القلوب بگو ۵۷۰ھ
شیخ ذی جاہ رہبرِ معصوم
خواں دگر بار پیرِ دیں مرحوم ۵۷۰ھ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-qazeeb-ul-baan
کنیت ابو عبد اللہ ہے ۔ حضرت غوث الاعظم کے کامل ترین مریدوں سے تھے۔ آپ کی ذات سے بے خوارق و کرامات کا ظہور ہوا۔ قاضیٔ موصل کو آپ سے سخت اختلاف تھا۔ ایک روز موصل کے کسی بازار سے گزرتے ہُوئے قاضی سے دوچار ہوگئے۔ قاضی نے دل میں کہا: آج موقع ہے گرفتار کرکے حاکم کے سپرد کردینا چاہیے تاکہ اچھی طرح سزا ملے۔ قاضی نے اچانک دُور سے دیکھا کہ گرد اڑرہی ہے۔ جب وُہ قریب آئی تو معلوم ہوا کوئی قوی ہیکل مغرور پہلوان ہے اور قریب ہُوا تو ایک اعرابی کی صورت میں متشکل ہوگیا۔ پھر عالم و فقہی کی شکل میں ظاہر ہوا اور قاضی کے قریب آکر کہنے لگا۔ کہو ان تینوں شکلوں میں سے کون سی شکل حاکم کے سامنے لے جاکر سزا دلانا چاہتے ہو۔ قاضی اسی تبدیلی ہیئت سے خوف زدہ ہوگیا۔ تائب ہوکر شیخ کے حلقۂ ارادت میں داخل ہوا۔
کسی نے حضرت غوث الاعظم کی خدمت میں شکایت کی کہ شیخ قصیب البان نماز نہیں پڑھتے۔ فرمایا: اُن کا سر ہمیشہ خانہ کعبہ کی دہلیز پر پڑا رہتا ہے۔ ۵۷۰ھ میں وفات پائی۔ مزار مبارک موصل میں ہے۔
قطعۂ تاریخ وفات:
رہنمائے جہاں قصیب البان
رحلتشن کاشف القلوب بگو ۵۷۰ھ
شیخ ذی جاہ رہبرِ معصوم
خواں دگر بار پیرِ دیں مرحوم ۵۷۰ھ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-qazeeb-ul-baan
❤1
شیخ المشائخ شبیہِ غوث الاعظم حضرت مولانا سید شاہ ابو احمد محمد علی حسین اشرفی رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: شاہ محمد علی حسین ، کنیت: ابو احمد ،خاندانی خطاب اشرفی میاں ۔
تاریخِ ولادت:
22 ربیع الثانی 1266ھ بروز پیر ، بوقت صبح صادق پیدا ہوئے ۔
تحصیلِ علم:
حضرت مولانا گل محمد خلیل آبادی علیہ الرحمۃ نے بسم اللہ خوانی کی رسم ادا کرائی، مولانا امانت علی کچھوچھوی، مولانا سلامت علی گور کھپوری اور مولانا قلندر بخش کچھوچھوی علیہم الرحمہ سے علومِ دینیہ کی تحصیل و تکمیل فرمائی ۔
بیعت و خلافت:
1282ھ میں اپنے برادر اکبر قطب المشائخ حضرت شاہ اشرف حسین علیہ الرحمہ سے مرید ہو کر تکمیل سلوک فرما کر اجازت و خلافت حاصل فرمائی ۔
سیرت و خصائص:
خانوادۂ اشرفیہ کے مشہور و معروف بزرگ حضور اشرفی میاں علیہ الرحمہ کی تبلیغی خدمات اور ارشادات کا دائرہ کار اتنا وسیع ہے کہ احاطۂ تحریر میں لانا مشکل ہے ۔ عہدِ خرد سے زندگی کی آخری لمحے تک اسلام کی تبلیغ و اشاعت میں کوشاں رہے ، اور دینِ اسلام کے فروغ کے لئے تا عمر جد و جہد کرتے رہے ۔
لاکھوں گم گشتہ راہوں کو راہِ مستقیم پر گامزن فرمایا ۔ تشنگان علوم و معرفت اور متلاشیان حق کو جامِ معرفت سے سرشار کرکے حق کی راہ دکھائی ۔ تبلیغ و ارشاد کا ہی جذبہ کار فرما تھا کہ آپ نے ہند و پاک کے علاوہ بہت سارے ممالک ِاسلامیہ کی سیر و سیاحت فرمائی ۔
اسی وجہ سے لوگ آپ کو مخدوم جہانیاں جہاں گشت کا پر تو، اور مخدوم اشرف کا مظہر اتم و حقیقی جانشین کہنے لگے ۔ اس ضمن مِیں آپ نے لاکھوں غیر مسلموں کو مشرف بہ اسلام کیا اور لاکھوں افراد آپ کے دستِ مبارک پر تائب ہوئے ۔
آپ کی ذات سے سلسلۂ اشرفیہ کو بڑا فروغ حاصل ہوا ۔ آپ کی عظیم روحانی شخصیت کو دیکھ کر ہندوستان ، پاکستان ، بنگلہ دیش، نیپال اور عرب ممالک میں عدن، جدہ، مکۃ المکرمہ، مدینۃ المنورہ، شام، حلب، ترکی، عراق، مصر، یمن کے جید علماء کرام نے آپ کے دست مبارک پر بیعت کی اور اکثر علماء کرام اور سادات عظام روحانی تربیت کے بعد سلسلۂ عالیہ اشرفیہ کی اجازت و خلافت سے سر فراز کیےگئے ۔
حضرت مخدوم سلطان اشرف سمنانی علیہ الرحمہ کے بعد سلسلۂ عالیہ اشرفیہ میں آپ جیسا مرجع الخلائق کوئی دوسرا بزرگ نہیں گذرا ۔
حضور اشرفی میاں کو اللہ تعالیٰ نے حسنِ سیرت کے ساتھ حسنِ صورت میں بھی بلند مرتبہ پر فائز فرمایا تھا ۔
آپ اعلیٰ اوصاف و خصوصیات کے ساتھ ، ظاہری شکل و صورت میں حضرت غوث اعظم رضی اللہ عنہ کے ہم شبیہ تھے ۔
ہزارہا افراد تو صرف آپ کے حُسن خدا داد کی زیارت سے حلقہ بگوش اسلام ہوئے، اربابِ مشاہدہ نے اس کی تصدیق فرمائی ہے ۔
حضرت مولانا سید شاہ اظہار اشرف کی روایت ہے: کہ ایک مرتبہ حضر ت اشرفی میاں قدس سرہ حضرت سلطان المشائخ محبوب الٰہی رضی اللہ عنہ کے مزار پاک کے اندر سے فاتحہ پڑھ کر نکل رہے تھے، اور اعلیٰ حضرت، امام اہل سنت مولانا شاہ احمد رضا علیہ الرحمہ بغرضِ فاتحہ اندر جا رہے تھے کہ فاضل بریلوی کی نظر آپ پر پڑی، دیکھا تو بالکل ہم شکل محبوب الٰہی و غوث الثقلین تھے، اسی وقت بر جستہ یہ شعر کہا :
؎ اشرؔفی اے رخت آئینۂ حسنِ خوباں
اے نظر کردہ و پرور دہءِ سہ محبوباں
وصال:
11 رجب المرجب 1355ھ میں آپ کا وصال ہوا، مرقد درگاہ مخدوم سید اشرف میں زیارت گاہِ عام و خاص ہے ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-shah-ali-hussain-ashrafi-kachochavi
نام و نسب:
اسمِ گرامی: شاہ محمد علی حسین ، کنیت: ابو احمد ،خاندانی خطاب اشرفی میاں ۔
تاریخِ ولادت:
22 ربیع الثانی 1266ھ بروز پیر ، بوقت صبح صادق پیدا ہوئے ۔
تحصیلِ علم:
حضرت مولانا گل محمد خلیل آبادی علیہ الرحمۃ نے بسم اللہ خوانی کی رسم ادا کرائی، مولانا امانت علی کچھوچھوی، مولانا سلامت علی گور کھپوری اور مولانا قلندر بخش کچھوچھوی علیہم الرحمہ سے علومِ دینیہ کی تحصیل و تکمیل فرمائی ۔
بیعت و خلافت:
1282ھ میں اپنے برادر اکبر قطب المشائخ حضرت شاہ اشرف حسین علیہ الرحمہ سے مرید ہو کر تکمیل سلوک فرما کر اجازت و خلافت حاصل فرمائی ۔
سیرت و خصائص:
خانوادۂ اشرفیہ کے مشہور و معروف بزرگ حضور اشرفی میاں علیہ الرحمہ کی تبلیغی خدمات اور ارشادات کا دائرہ کار اتنا وسیع ہے کہ احاطۂ تحریر میں لانا مشکل ہے ۔ عہدِ خرد سے زندگی کی آخری لمحے تک اسلام کی تبلیغ و اشاعت میں کوشاں رہے ، اور دینِ اسلام کے فروغ کے لئے تا عمر جد و جہد کرتے رہے ۔
لاکھوں گم گشتہ راہوں کو راہِ مستقیم پر گامزن فرمایا ۔ تشنگان علوم و معرفت اور متلاشیان حق کو جامِ معرفت سے سرشار کرکے حق کی راہ دکھائی ۔ تبلیغ و ارشاد کا ہی جذبہ کار فرما تھا کہ آپ نے ہند و پاک کے علاوہ بہت سارے ممالک ِاسلامیہ کی سیر و سیاحت فرمائی ۔
اسی وجہ سے لوگ آپ کو مخدوم جہانیاں جہاں گشت کا پر تو، اور مخدوم اشرف کا مظہر اتم و حقیقی جانشین کہنے لگے ۔ اس ضمن مِیں آپ نے لاکھوں غیر مسلموں کو مشرف بہ اسلام کیا اور لاکھوں افراد آپ کے دستِ مبارک پر تائب ہوئے ۔
آپ کی ذات سے سلسلۂ اشرفیہ کو بڑا فروغ حاصل ہوا ۔ آپ کی عظیم روحانی شخصیت کو دیکھ کر ہندوستان ، پاکستان ، بنگلہ دیش، نیپال اور عرب ممالک میں عدن، جدہ، مکۃ المکرمہ، مدینۃ المنورہ، شام، حلب، ترکی، عراق، مصر، یمن کے جید علماء کرام نے آپ کے دست مبارک پر بیعت کی اور اکثر علماء کرام اور سادات عظام روحانی تربیت کے بعد سلسلۂ عالیہ اشرفیہ کی اجازت و خلافت سے سر فراز کیےگئے ۔
حضرت مخدوم سلطان اشرف سمنانی علیہ الرحمہ کے بعد سلسلۂ عالیہ اشرفیہ میں آپ جیسا مرجع الخلائق کوئی دوسرا بزرگ نہیں گذرا ۔
حضور اشرفی میاں کو اللہ تعالیٰ نے حسنِ سیرت کے ساتھ حسنِ صورت میں بھی بلند مرتبہ پر فائز فرمایا تھا ۔
آپ اعلیٰ اوصاف و خصوصیات کے ساتھ ، ظاہری شکل و صورت میں حضرت غوث اعظم رضی اللہ عنہ کے ہم شبیہ تھے ۔
ہزارہا افراد تو صرف آپ کے حُسن خدا داد کی زیارت سے حلقہ بگوش اسلام ہوئے، اربابِ مشاہدہ نے اس کی تصدیق فرمائی ہے ۔
حضرت مولانا سید شاہ اظہار اشرف کی روایت ہے: کہ ایک مرتبہ حضر ت اشرفی میاں قدس سرہ حضرت سلطان المشائخ محبوب الٰہی رضی اللہ عنہ کے مزار پاک کے اندر سے فاتحہ پڑھ کر نکل رہے تھے، اور اعلیٰ حضرت، امام اہل سنت مولانا شاہ احمد رضا علیہ الرحمہ بغرضِ فاتحہ اندر جا رہے تھے کہ فاضل بریلوی کی نظر آپ پر پڑی، دیکھا تو بالکل ہم شکل محبوب الٰہی و غوث الثقلین تھے، اسی وقت بر جستہ یہ شعر کہا :
؎ اشرؔفی اے رخت آئینۂ حسنِ خوباں
اے نظر کردہ و پرور دہءِ سہ محبوباں
وصال:
11 رجب المرجب 1355ھ میں آپ کا وصال ہوا، مرقد درگاہ مخدوم سید اشرف میں زیارت گاہِ عام و خاص ہے ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-shah-ali-hussain-ashrafi-kachochavi
scholars.pk
Hazrat Molana Shah Ali Hussain Asharfi Kachochavi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
سراج السالکین، نور العارفین، حضرت علامہ سید شاہ ابو الحسین احمد نوری مارہروی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ـ
نام و نسب:
سراج العارفین سید شاہ ابو الحسین احمد نوری بن شاہ ظہور حسن بن حضرت شاہ آل رسول (علیہم الرحمہ) ـ
تاریخِ ولادت:
19 شوال 1255ھ / مطابق 26 دسمبر 1839ء بروز جمعرات پیدا ہوئے ۔
تحصیلِ علم:
ابتدائی تعلیم و تربیت اور پرورش دادی صاحبہ اور دادا بزرگوار (شاہ آلِ رسول علیہ الرحمہ) کے آغوشِ رحمت میں ہوئی۔ مدرسین خانقاہ برکاتیہ سے مختلف علوم و فنون کی تحصیل و تکمیل ہوئی ۔ جن میں بِالخصوص مولانا شاہ محمد سعید بدایونی المتوفی 1277ھ، مولانا فضل اللہ جالیسری المتوفی 1283ھ، مولانا نور احمد بدایونی المتوفی 1302ھ، اور مولانا ہدایت علی بریلوی المتوفی 1322ھ (علیہم الرحمہ) ہیں ۔
بیعت و خلافت:
12 ربیع الاوّل 1267ھ میں دادا بزرگوار خاتم الاکابر شاہ آلِ رسول مارہروی علیہ الرحمہ سے 12 سال کی عمر میں بیعت ہوئے اور اجازتِ مطلقہ سے مشرف کیے گئے ۔
سیرت و خصائص:
حضرت جلیل البرکات نور العارفین مولانا سید شاہ ابو لحسین احمد نوری مارہروی علیہ الرحمہ بالخصوص خاندانِ برکات اور بالعموم عالمِ اسلام کے لئے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں سے ایک نعمت تھے۔آپ وہ شخصیت ہیں جنکی تربیت ،وقت کے ایک ولیِ کامل کے ذریعے ہوئی ۔چھوٹی سی عمر میں آپکی تربیت ،ریاضت ومجاہدہ کی کثرت دیکھ کر آپکی دادی صاحبہ،شاہ آلِ رسول علیہ الرحمہ سے فرماتیں! "کیا اس بچے کو بھی اپنی طرح فقیر کردوگے؟" حضور فرماتے، ہاں! فقیر کر دونگا! "اور ایسا فقیر ہوگا کہ بڑے بڑے بادشاہ اور امراء اس کے آگے سر جھکا دیں گے"۔ آپ نے اپنے پوتے کو تمام علوم ظاہری و باطنی کی تعلیم دیکر جملہ رموز واسرار اور اپنے اسلاف ِ کرام کا سچا جانشین اور خانوادہ برکاتیہ کی تمام روحانی نعمتوں کا وارثِ کامل بنا دیا ۔
آپ علیہ الرحمہ سرورِ عالم ﷺ کے اخلاقِ کریمانہ کا پر تو تھے۔ میراثِ مصطفیٰ ﷺ (علوم ِ نبویہ) کے سچے وارث تھے۔عقیدے میں حد درجہ تصلب تھا۔شریعت کی پوری پابندی تھی۔محرمات تو دور مکروہات سے بھی حد درجہ احتیاط فرماتے تھے۔ ریاضت ومجاہدہ، سخاوت و کرم، مخلوقِ خدا کی حاجت روائی ، غرباء و مساکین کی مشکل کشائی ،اور ان سے انس و محبت ، بالخصوص سنی مسلمانوں کی خیر خواہی،اور ہر وقت انکے لئے دست بَدُعا رہنا،بد مذہبوں سے دوری ،فساق وفجار سے وحشت ،اوراہلِ سلسلہ کی خیر خواہی سرکار نور کے اخلاقِ نورانی کے صرف چند گوشے ہیں۔
میلا لگا ہے،شانِ مسیحا کی دید ہے
مردے جلا رہا ہے خرام ِ ابوالحسین
ذرّہ کو مہر ،قطرہ کو دریا کرے ابھی
گر جوش زن ہوبخشش عامِ ابوالحسین
وصال:
11 رجب 1324ھ میں آفتابِ طریقت غروب ہو گیا ۔ مارہرہ مطہرہ میں آپکا مزار منبعِ فیوض و برکات ہے ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-shah-abul-hussain-ahmed-noori-marharvi
نام و نسب:
سراج العارفین سید شاہ ابو الحسین احمد نوری بن شاہ ظہور حسن بن حضرت شاہ آل رسول (علیہم الرحمہ) ـ
تاریخِ ولادت:
19 شوال 1255ھ / مطابق 26 دسمبر 1839ء بروز جمعرات پیدا ہوئے ۔
تحصیلِ علم:
ابتدائی تعلیم و تربیت اور پرورش دادی صاحبہ اور دادا بزرگوار (شاہ آلِ رسول علیہ الرحمہ) کے آغوشِ رحمت میں ہوئی۔ مدرسین خانقاہ برکاتیہ سے مختلف علوم و فنون کی تحصیل و تکمیل ہوئی ۔ جن میں بِالخصوص مولانا شاہ محمد سعید بدایونی المتوفی 1277ھ، مولانا فضل اللہ جالیسری المتوفی 1283ھ، مولانا نور احمد بدایونی المتوفی 1302ھ، اور مولانا ہدایت علی بریلوی المتوفی 1322ھ (علیہم الرحمہ) ہیں ۔
بیعت و خلافت:
12 ربیع الاوّل 1267ھ میں دادا بزرگوار خاتم الاکابر شاہ آلِ رسول مارہروی علیہ الرحمہ سے 12 سال کی عمر میں بیعت ہوئے اور اجازتِ مطلقہ سے مشرف کیے گئے ۔
سیرت و خصائص:
حضرت جلیل البرکات نور العارفین مولانا سید شاہ ابو لحسین احمد نوری مارہروی علیہ الرحمہ بالخصوص خاندانِ برکات اور بالعموم عالمِ اسلام کے لئے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں سے ایک نعمت تھے۔آپ وہ شخصیت ہیں جنکی تربیت ،وقت کے ایک ولیِ کامل کے ذریعے ہوئی ۔چھوٹی سی عمر میں آپکی تربیت ،ریاضت ومجاہدہ کی کثرت دیکھ کر آپکی دادی صاحبہ،شاہ آلِ رسول علیہ الرحمہ سے فرماتیں! "کیا اس بچے کو بھی اپنی طرح فقیر کردوگے؟" حضور فرماتے، ہاں! فقیر کر دونگا! "اور ایسا فقیر ہوگا کہ بڑے بڑے بادشاہ اور امراء اس کے آگے سر جھکا دیں گے"۔ آپ نے اپنے پوتے کو تمام علوم ظاہری و باطنی کی تعلیم دیکر جملہ رموز واسرار اور اپنے اسلاف ِ کرام کا سچا جانشین اور خانوادہ برکاتیہ کی تمام روحانی نعمتوں کا وارثِ کامل بنا دیا ۔
آپ علیہ الرحمہ سرورِ عالم ﷺ کے اخلاقِ کریمانہ کا پر تو تھے۔ میراثِ مصطفیٰ ﷺ (علوم ِ نبویہ) کے سچے وارث تھے۔عقیدے میں حد درجہ تصلب تھا۔شریعت کی پوری پابندی تھی۔محرمات تو دور مکروہات سے بھی حد درجہ احتیاط فرماتے تھے۔ ریاضت ومجاہدہ، سخاوت و کرم، مخلوقِ خدا کی حاجت روائی ، غرباء و مساکین کی مشکل کشائی ،اور ان سے انس و محبت ، بالخصوص سنی مسلمانوں کی خیر خواہی،اور ہر وقت انکے لئے دست بَدُعا رہنا،بد مذہبوں سے دوری ،فساق وفجار سے وحشت ،اوراہلِ سلسلہ کی خیر خواہی سرکار نور کے اخلاقِ نورانی کے صرف چند گوشے ہیں۔
میلا لگا ہے،شانِ مسیحا کی دید ہے
مردے جلا رہا ہے خرام ِ ابوالحسین
ذرّہ کو مہر ،قطرہ کو دریا کرے ابھی
گر جوش زن ہوبخشش عامِ ابوالحسین
وصال:
11 رجب 1324ھ میں آفتابِ طریقت غروب ہو گیا ۔ مارہرہ مطہرہ میں آپکا مزار منبعِ فیوض و برکات ہے ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-shah-abul-hussain-ahmed-noori-marharvi
scholars.pk
Hazrat Syed Shah Abul Hussain Ahmed Noori Marharvi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
10-07-1445 ᴴ | 22-01-2024 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
11-07-1445 ᴴ | 23-01-2024 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1