🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
💯1
Forwarded from Ghulam Mustafa Naimi
___بابری نامہ___
قسط دوم

غلام مصطفےٰ نعیمی
روشن مستقبل دہلی

____مغل شہنشاہ جلال الدین محمد اکبر [1542-1605ء] تمام مغل بادشاہوں میں سب سے زیادہ لبرل اور آزاد خیال واقع ہوا تھا۔کچھ اس کی ناخواندگی اور کچھ درباری علما کے نفاق، حرص اور طمع نے اسے مذہب بیزار بنانے میں اہم رول ادا کیا۔اکبر کے تبدیلی مزاج میں اس کی چوتھی بیوی ہرکھا بائی(یہی خاتون جودھا بائی کے نام سے مشہور ہے) نے بھی اہم رول ادا کیا۔ہرکھا بائی آمیر کے راجا بھارمل سنگھ کی بیٹی تھی۔یہی وہ خاتون ہے جو اکبر کے نکاح میں آنے کے باوجود ہندو دھرم پر ہی قائم رہی، جس کی بنیاد پر اکبر کا رجحان ہندو مذہب اور بت پرستی کی جانب بھی بڑھتا گیا۔ہندو مذہب میں دل چسپی کے باعث اکبر نے ہندوؤں کے مقدس گرنتھ راماین اور مہابھارت کا فارسی زبان میں ترجمہ کرایا۔دربار میں مسلمانوں سے زیادہ ہندوؤں کو عہدے دئے۔ہندوؤں کی خوش نودی کی خاطر جزیہ کا قانون ختم کیا۔ہرکھا بائی[جودھا بائی] کی محبت میں شہنشاہ اکبر اس قدر فریفتہ تھے کہ انہوں نے گائے کا گوشت تک کھانا چھوڑ دیا تھا۔

____اکبر ہی کے زمانے میں ہندو مذہب کے دو بڑے فاضل اور اعلی درجے کے مذہبی مزاج رکھنے والے افراد موجود تھے، ایک تان سین [1500-1589] تھے جو اکبر کے نو رتنوں میں شامل تھے جب کہ دوسرے سور داس [1478-1583] تھے جو ایک معروف موسیقار اور شری کرشن کے بڑے بھکت تھے۔تانسین کی طرح بادشاہ اکبر سورداس کے بھی بڑے مداح تھے۔یہاں تک کہ صرف سورداس کے بھجن سننے کے لیے متھرا تک کا سفر کیا اور سورداس کو بڑے انعام واکرام سے بھی نوازا۔ہندو مذہب میں اکبر کی غیر معمولی دل چسپی اور ہندو باباؤں سے اکبر کی مثالی وابستگی کے باوجود کسی ایک ہندو رشی مُنی نے کبھی بھی یہ شکایت نہیں کہ آپ کے دادا بابر نے ہمارے بھگوان رام کا جنم استھان توڑ کر مسجد بنائی ہے۔اگر کسی ہندو بابا نے جھوٹ موٹ بھی یہ شکایت کی ہوتی تو اکبر جیسا بادشاہ پہلی فرصت میں بابری مسجد ہندوؤں کو سونپ دیتا، لیکن تانسین سے لیکر سورداس تک، مان سنگھ سے لیکر بیربل تک سارے ہندو راجا اور پنڈت خاموش تھے، اس کا مطلب صاف ہے کہ ان کی نگاہ میں ایسا کوئی معاملہ سرے سے تھا ہی نہیں جس کی شکایت وہ اکبر سے کرتے۔کوئی اور کرتا نہ کرتا لیکن اکبر کی بیوی ہرکھا بائی ضرور اکبر سے یہ کام کراتی کہ جو بیوی اکبر سے گائے کا گوشت چھڑا سکتی تھی وہ اپنے مندر کا مطالبہ کیوں نہیں کر سکتی تھی؟

_____اکبر ہی کے زمانے میں مشہور ہندو رشی سوامی تلسی داس [1511-1623ء] بھی موجود تھے۔تلسی داس سوروں ضلع کاس گنج کے رہائشی تھے۔تلسی داس ہی نے شری رام چندر کی سوانح عمری(Biography) لکھنے کا بیڑا اٹھایا۔اس کام کا آغاز تلسی داس نے ایودھیا ہی میں کیا۔سن 1554 عیسوی میں راماین لکھنا شروع کی۔دو سال سات مہینے چھبیس دن میں یہ کام مکمل ہوا اور 1556 عیسوی میں یہ کام مکمل ہوگیا۔اسی گرنتھ کا نام "رام چرت مانس" ہے اور عوامی طور پر اسے راماین کے نام سے جانا جاتا ہے۔راماین سات کانڈ [ابواب] پر مشتمل ہے، لیکن کسی ایک باب میں بھی تلسی داس جیسے رام بھکت نے اس بات کا صراحت تو کیا، اشاروں میں بھی ذکر نہیں کیا کہ بابری مسجد رام جنم استھان اور مندر توڑ کر بنائی گئی ہے۔جب کہ اس وقت بابری مسجد کو بنے ہوئے 26 سال ہی ہوئے تھے، اگر واقعی مسجد مندر توڑ کر بنی ہوتی تو تلسی داس اس حادثہ کا ذکر اپنی کتاب میں ضرور کرتے۔چھبیس سال کا زمانہ کوئی بڑا زمانہ نہیں ہوتا کہ لوگ پوری طرح بھول جائیں، خصوصاً ایسے حادثات کو تو لوگ صدیوں تک نہیں بھولتے، تو تلسی داس جیسے رام بھکت گیانی پنڈت سے یہ امید کون کر سکتا ہے کہ وہ اس حادثہ کو بھول گیے ہوں گے یا مغل بادشاہ کے خوف سے چھوڑ دیا ہوگا؟ وہ بھی اکبر جیسا بادشاہ، جو ہندو مذہب کے بہت قریب اور اسلام سے بہت دور تھا۔تلسی داس کا اس اہم معاملے پر کچھ نہ لکھنا ہی اس بات کو صاف کر دیتا ہے کہ ایسا کوئی واقعہ تاریخ میں ہوا ہی نہیں تھا۔


_____جس زمانے میں بابری مسجد تعمیر ہوئی اس وقت تلسی داس کی عمر تقریباً 17 سال رہی ہوگی، کیوں کہ تلسی داس 1511 عیسوی میں پیدا ہوئے جب کہ بابری مسجد 1528 عیسوی میں تعمیر ہوئی اس حساب سے تعمیر مسجد کے وقت تلسی داس کی عمر سترہ سال بنتی ہے۔سترہ سال کا لڑکا اتنا ناسمجھ نہیں ہوتا کہ اتنے بڑے حادثے کی اسے خبر ہی نہ ملی ہو۔1554ء میں تلسی داس نے راماین لکھنا شروع کی، اس وقت تلسی داس 43 سال کے پختہ عمر شخص تھے جب کہ بابری مسجد کو بنے ہوئے 26 سال ہوچکے تھے۔اس وقت یقیناً ایودھیا میں ایسے سیکڑوں لوگ موجود رہے ہوں گے جنہوں نے بابری مسجد کو بنتے ہوئے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہوگا، اگر واقعتاً مسجد رام مندر توڑ کر بنی ہوتی تو وہ لوگ تلسی داس سے اس واقعے کا ذکر ضرور کرتے اور تلسی داس اسے راماین میں ضرور لکھتے تاکہ آنے والی نسلوں کے لیے سند رہے، لیکن کسی ہندو نے ایسا کہا نہ تلسی داس نے ایسا لکھا،
👌1
Forwarded from Ghulam Mustafa Naimi
کیوں کہ ایسا کچھ کبھی ہوا ہی نہیں تھا۔بابری مسجد نہایت دیانت داری کے ساتھ ایک صاف ستھری زمین پر بغیر کسی مندر کو توڑے تعمیر ہوئی جس پر اس عہد کے ہندو پنڈتوں اور ہندو عوام کی خاموش گواہی بھی چیخ چیخ کر گواہی دے رہی ہے۔

9 رجب المرجب 1445ھ
21 جنوری 2024 بروز اتوار
👌1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1💯1
#____बाबरीनामा___

By: ग़ुलाम मुस्तफा नईमी

बाबरी मस्जिद का निर्माण 1528 ईस्वी में अयोध्या में किया गया था। बाबर के कमांडर मीर बाकी ने मस्जिद का निर्माण किया और इसका नाम अपने राजा बाबर के नाम पर रखा। यह वह समय था जब मुगल साम्राज्य के संस्थापक जहीरुद्दीन मुहम्मद बाबर ने इब्राहिम लोदी और राणा सांगा को पराजित कर कर मुगल साम्राज्य की स्थापना की थी

बाबर की उम्र बहुत लम्बी न रही, साम्राज्य की स्थापना के चौथे वर्ष 1530 में बाबर की मृत्यु हो गई। यानी बाबर ने भारत में केवल चार साल बिताए। इन चार वर्षों में बाबर ने चार प्रमुख युद्ध लड़े, जिसमें पानीपत की लड़ाई भी शामिल थी। खानवा का युद्ध, चंदेरी का युद्ध और घाघरा का युद्ध अर्थात बाबर के भारत में चार साल के प्रवास का अधिकांश समय युद्धों में बीता, लेकिन बाबर के युद्ध कौशल ने उसे चार साल के भीतर ही एक बड़े क्षेत्र का राजा बना दिया था।

बाबर की मृत्यु 1530 में महज 48 साल की उम्र में हो गई, लेकिन किसी भी हिंदू राजा ने कभी यह आरोप नहीं लगाया कि बाबरी मस्जिद किसी मंदिर को तोड़कर बनाई गई थी। उस समय के किसी भी स्रोत में इसका कोई उल्लेख नहीं है।

बाबर के बाद उसका बेटा हुमायूँ गद्दी पर बैठा। लेकिन दस साल बाद ही शेरशाह सूरी ने हुमायूँ को हराकर राज्य पर कब्ज़ा कर लिया। इस प्रकार, लगभग पाँच वर्षों तक मुग़ल साम्राज्य भारत से अनुपस्थित रहा। अगर बाबरी मस्जिद मन्दिर तोड़ कर निर्माण की गई होती तो इन पांच वर्षों में यह बात जरूर सामने आती, क्योंकि मुगल शासन समाप्त हो चुका था और सत्ता मुगल शासन के दुश्मनों के पास थी, लेकिन इन पांच वर्षों में भी हिंदू समाज में ऐसी कोई बात नहीं थी।

प्रारंभिक कठिनाइयों का सामना करने के बावजूद, जलालुद्दीन मुहम्मद अकबर ने मुगल साम्राज्य को शक्तिशाली बनाया और उभरते हुए स्थानीय राजाओं को बुरी तरह हराकर अपना शासन स्थापित किया।
अकबर एक ऐसा राजा बन गया जिसने अपने पिता के विरुद्ध जाकर धर्म के स्थान पर साम्राज्य को प्राथमिकता दी, जिसके आधार पर उसने इस्लाम स्वीकार किए बिना हिंदू राजाओं की बेटियों से विवाह करना शुरू कर दिया।

अकबर की इस्लाम धर्म के प्रति घृणा तब चरम पर पहुंच गई जब उसने अपनी पत्नी जोधाबाई के प्रेम में इस्लाम की तुलना में एक नया धर्म दीने इलाही चलाया, अपने घर के अंदर एक मंदिर बनवाया और झरोखा दर्शन के नाम पर हर सुबह मूर्तियों की पूजा करना शुरू कर दिया। यही वह समय था जब हिंदू राजाओं और पंडितों ने अकबर के दरबार में प्रभाव और उच्च स्थान प्राप्त किया अकबरी दरबार के नौ रतनों में से चार लोग हिंदू थे, जिनमें राजा टोडरमल, राजा मान सिंह, राजा बीरबल और तनु मिश्रा उर्फ तान सेन थे, इन लोगों को अकबरी दरबार में सबसे प्रमुख स्थान प्राप्त था। यदि वास्तव में बाबरी मस्जिद का निर्माण मंदिर को तोड़कर किया गया होता, तो हिंदू राजाओं के लिए अकबर जैसे बे दीन के सामने अपनी बात रखना और मंदिर की मांग करना सबसे आसान होता, लेकिन आश्चर्य की बात है कि एक भी राजा या पंडित ने कभी भी अकबर से परामर्श नहीं किया। किसी ने इस विषय पर शिकायत नहीं की , किसी ने यह भी नहीं बताया कि बाबरी मस्जिद एक मंदिर के स्थल पर है, समझ नहीं आता कि वे सभी हिंदू राजा और ज्ञानी पंडित अज्ञानी थे या बहुत कायर कि वह अकबर जैसे बे दीन से बात तक नहीं कर सके?

सम्राट अकबर से लेकर जहाँगीर, शाहजहाँ और औरंगज़ेब आलमगीर के शासनकाल तक, मुग़ल साम्राज्य फलता-फूलता रहा। हज़रत औरंगज़ेब [1707] की मृत्यु के बाद मुग़ल साम्राज्य कमजोर होता गया यहां तक कि 1803 में अंग्रेजों ने भारत पर कब्ज़ा कर लिया। केवल प्रतीकात्मक राजतन्त्र ही रह गया। अंतिम मुगल युवराज बहादुर शाह जफर [1862] के जीवनकाल में ही मुगल साम्राज्य का अंत 1857 में हो गया।यहां तक कि इसके अंत तक एक भी हिंदू इतिहासकार ने बाबरी मस्जिद पर कोई दावा नहीं किया और न ही इसके मंदिर होने का कोई मामला सामने आया, हालांकि उस समय तक बाबरी मस्जिद को बने लगभग 334 साल हो चुके थे.

20 जनवरी 2024

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid02cJDZ3JzuWs3V5qxbu9zi7eTVN8B65vCWfMNS1s9FriSRJCsXAZe5tVwn1GAZeZCJl&id=100003223204679&mibextid=Nif5oz
👌1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
💯1
حضرت سیّد قطب الدین حَیدر بخاری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

نام:
آپ کا اسم گرامی سیّد قطب الدین بخاری، عرف محمد اشرف اور لقب حیدر حسین ہے۔ آپ کی ولادت با سعادت ماوراء النہر میں ہوئی ۔ ماوراء النہر ہی میں مختلف اساتذہ سے حدیث، فقہ، تفسیر اور معقولات و منقولات میں یدِ طولیٰ حاصل کیا۔ آپ عالمِ باعمل اور فاضلِ بے بدل تھے۔ کئی زبانوں پر عبور حاصل تھا۔ پیرِ کامل کی تلاش میں سرہند شریف پہنچے اور حضرت خواجہ محمد زبیر قیّوم چہارم قدس سرہ کے دستِ حق پرست پر بیعت کر کے اجازت و خلافت حاصل کی اور اپنے شیخ کے انتقال کے بعد مسندِ خلافت پر بیٹھے۔

آپ کو امراء و اغنیاء کے اختلاط سے سخت نفر تھی۔ آپ شب و روز تلاوتِ قرآن مجید، ذکر الٰہی اور درود شریف میں مشغول رہتے تھے۔ عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں فنا فی الرّسول کے درجہ تک پہنچے ہوئے تھے۔ اور زیارتِ روضۂ انور کے لیے دن رات تڑپتے رہتے تھے۔

مسندِ شیخ پر چند سال بیٹھنے کے بعد ایک صاحبزادہ صاحب کے ساتھ کسی بات پر جھگڑا ہوگیا اور یہ جھگڑا اور رنجش یہاں تک پہنچی کہ آپ کی غیرت اور رنجیدگی سے سرہند شریف تباہ ہوگیا اسی واسطے حضرت امام رفیع الدین رحمۃ اللہ علیہ کو بانیٔ سرہند اور آپ کو فانی سرہند کہتے ہیں۔ چھ سال تک سرہند شریف میں لرزہ اور زلزلہ رہا ۔ [۱]

[۱۔ سرہند شریف سے دہلی میں آکر آپ حضرت خواجہ باقی بااللہ کے آستانے پر کچھ عرصہ حاضر رہے تھے (قصوری)]

۱۱۷۳ء میں آپ حضرت حافظ سیّد محمد جمال اللہ قدس سرہ کو اپنا خلیفہ و جانشین مقرر کر کے مدینہ منوّرہ روانہ ہوگئے۔ راستے میں ہر دو قدم پر سو سو بار درود شریف پڑھتے اور ہر فرسنگ پر دوگانہ نماز ادا کرتے تھے۔ راہ میں طرح طرح کے عجائبات ملاحظہ میں آئے مدینہ شریف کے قریب پہنچ کر دوگانۂ شکریہ ادا کر کے پا برہنہ شہر میں داخل ہوئے اور دیوانہ وار درودیوار کو چومتے ہوئے روضہ مقدسہ پر حاضر ہوئے ۔ اور شرفِ زیارت سے مشرّف ہوکر سعادتِ ابدی اور دولتِ سرمدی کو پہنچے۔ پھر آپ کو مدینہ طیّبہ کی جدائی گوارا نہ ہوئی اور وہاں کی فضائے جان فزا دل کو ایسی بھائی کہ زبانِ حال سے پُکار اُٹھے۔ کہ اب یہاں سے کہیں نہیں جاؤں گا، محبوب کے قدموں ہی میں جان دے دوں گا۔ بقول حکیم سنائی رحمۃ اللہ علیہ

باد و قبلہ در رہِ توحید نتواں رفت راست
یا رضائے دوست بایٔد یا ہوائے خویشتن

توحید کے راستے میں دو قبلوں کے ساتھ چلنا درست نہیں۔
یا دوست کی مرضی کرنا چاہیے یا اپنی نفسانی خواہش پر عمل۔

ازاں بعد جنّت البقیع میں حضرت امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے روضۂ مبارک کے قریب جہاں قبۂ مبارک کا پانی گرتا ہے، جا بیٹھے اور ذکر الٰہی میں مشغول ہوگئے کہتے ہیں کہ حضور سیّد عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور سے لوگوں کو بشارت ہوئی کہ سیّد قطب الدین میرا فرزند اور میرا مہمان ہے۔ اس سے باطنی فیوض و برکات حاصل کر۔ چنانچہ بہت سے لوگ آپ کی خدمت با برکت میں بصد آداب و احترام حاضر ہوئے اور سلسلۂ عالیہ نقشبندیہ مجدّدیہ میں داخل ہوکر دین و دنیا عقبیٰ و آخرت اور ظاہر و باطن کی نعمتوں کے سزا وار ٹھہرے ۔
1
وصال:
آپ نے ۱۱ رجب ۱۱۸۰ھ / ۱۷۶۶ء کو رحلت فرمائی تو روضہ مقدسہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی جالی مبارک سے ایک دستار بر آمد ہوئی اور ارشاد ہوا کہ میرے فرزند قطب الدین کو اسی کا کفن دو ۔ چنانچہ وہ دستار فیض آثار آپ کے کفن کو کافی دوافی ہوئی۔ آپ کا مزارِ پُر انوار حضرت خواجہ آدم نبوری رحمۃ اللہ علیہ [۲] (خلیفہ حضرت مجدّد الف ثانی قدس سرہ) اور خواجہ محمد پارسا رحمۃ اللہ علیہ[۳] (مرید و خلیفہ حضرت خواجہ خواجگان خواجہ نقشبند بخاری قدس سرہ) کے مزارات کے قریب جنت البقیع مدینہ منوّرہ میں واقع ہے۔ اور یہ تینوں مزارات حضرت امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے روضۂ مبارک کے شمال مغربی گوشہ میں واقعہ ہیں۔ اور دوسری قبروں سے ممتاز ہیں۔ حضرت عثمان ذالنُّورین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مزار مقدس کی چھت کا پانی آپ کے مرقد انور پر گرتا ہے۔[۴]

جِس طرح ہندوستان میں خواجہ غریب نواز حضرت خواجہ بزرگ معین الدین حسن سنجری اجمیری رحمۃ اللہ علیہ ہندالولی مشہور ہیں۔ اسی طرح مدینہ منوّرہ میں آپ بھی ہندالولی کہے جاتے ہیں۔

[۲۔ حضرت خواجہ سیّد آدم نبوری رحمۃ اللہ علیہ حضرت مجدّد الف ثانی قدس سرہ کے ارشد خلفاء میں سے تھے۔ آپ کی وفات ۱۳؍شوال ۱۰۵۳ھ کو ہوئی۔ جنت البقیع مدینہ منورہ میں دفن ہوئے۔ (قصور)]

[۳۔ خواجہ محمد پارسا رحمۃ اللہ علیہ ۷۳۹ھ میں بخارا میں پیدا ہوئے۔ حضرت خواجہ نقشبند قدس  سرہ شرف بیعت حاصل کرکے روحانی منازل  طے کیں اور حضرت خواجہ کے ممتاز خلفاء میں شمار ہوئے۔ آپ نے طریقہ نقشبندیہ پر بڑی جامع تصانیف کی اشاعت کی جو آج تک سلسلہ نقشبندیہ کیے اصول احوال پر بنیادی حیثیت رکھتی ہیں۔ آپ کو وصال ۸۲۲ھ میں بعمر شریف تراسی (۸۳) سال مدینہ منورہ میں ہوا ۔ (قصوری)]

[۴۔ تُرک دورِ حکومت تک جنت البقیع میں تمام مزارات مقدسہ بڑی شان کے ساتھ موجود تھے۔ مگر نجدی دور حکومت میں ہل چلا کر تمام مزارات کو منہدم کردیا گیا ہے۔ تفصیل کے لیے شورش کاشمیری کی کتاب ’’شب جائے کہ من بودم‘‘ اور صلاح الدین محمود کی کتاب ’’خاکِ حجاز کے نگہبان‘‘ کا مطالعہ کیا جاسکتا ہے۔ (قصوری)]

( تاریخِ مشائخ نقشبند )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-qutbuddin-hyder-bukhari
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت مولانا حاجی ہاشم کھتری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

حضرت مولانا الحاج محمد ہاشم بن میاں عبد اللہ دھوبی نزد چوہڑ جمالی، گوٹھ ’’گونگانی‘‘ (تحصیل شاہ بندر ضلع ٹھٹھہ) میں ۱۱ رجب المرجب ۱۲۵۰ھ میں بروز پیر تولد ہوئے ۔

تعلیم و تربیت:
ابتدائی تعلیم اپنے چچا مولانا ابو اسحاق عبد الغفور دھوبی سے حاصل کی اس کے ساتھ اسکول میں پرائمری تعلیم بھی جاری رکھی ۔ اس کے بعد گوٹھ کے پرائمری اسکول میں استاد مقرر ہوئے ۔ ایک روز ان کی قسمت کا ستارہ چمکا، ہوا یوں کہ ان کے گوٹھ میں استاد العلماء حضرت علامہ ابو الخیر قاضی عبد اللہ جتوئی کا آنا ہوا، انہوں نے آپ کے ماتھے کو دیکھ کر نوشتہ دیوار پڑھ لیا، گوہر نایاب کو پہچان لیا، اور اپنے ساتھ اپنے گوٹھ لے گئے، جہاں تعلیم و تربیت کا بند و بست کیا، وہیں سے درس نظامی مکمل کرکے فارغ التحصیل ہوئے۔ اس کے بعد ہندوستان کی سیاحت کو نکل گئے ۔

بیعت:
آپ سلسلہ عالیہ نقشبندیہ مجددیہ میں حضرت خواجہ عبد الرحمن جان سر ہندی فاروقی قدس سرہٗ سے دست بیعت ہوئے ۔

مدرسہ کا قیام:
۱۸۹۲ء کے سیلاب کے سبب مولانا نے گوٹھ گانگانی سے منتقل ہو کر تحصیل میر پور ساکرو (ضلع ٹھٹھہ) کے شہر غلام اللہ میں اپنا گوٹھ قائم کیا۔ جس میں ایک عظیم الشان مدرسہ ’’دارالعلوم فیض ہاشمیہ‘‘ اور ایک مسجد شریف تعمیر کروائی۔ اس کے علاوہ ایک عظیم الشان کتب خانہ بھی مدرسہ میں قائم فرمایا تھا۔ جہاں سے بے شمار علم کے پیاسے سیراب ہو کر نکلتے ۔

آپ کی زندگی بھی درس و تدریس ، تصنیف و تالیف اور وعظ و نصیحت سے وابستہ رہی ۔

تلامذہ:
۱۔ مولانا ممیر محمد جتوئی
۲۔ مولانا محمد عمر کھتری چوہڑ جمالی
۳۔ مولانا غلام محمد بلوچ
۴۔ مولوی نور محمد زنگیانی
۵۔ مولوی محمد عمر جت (گھوڑا باڑی)

صاحب حضوری:
مولانا محمد ہاشم جید عالم، شب خیز عابد، قناعت پسند زاہد، صاحب فتویٰ مفتی، پرہیزگار ، مہمان نواز، علماء شناس، سادہ طبیعت، مشفق و مہربان، اور ولی اللہ تھے ۔ درود شریف کے مبلغ، حضور پر نور ﷺ کے عاشق زار تھے اسی لئے تو کثرت سے درود شریف پڑھا کرتے تھے، ساری ساری رات درود شریف کا ورد کرتے ، ایک بار تو ایک کروڑ درود شریف کا ختم کیا۔ کثرت سے درود شریف پڑھنے والے کا سینہ کھل جاتا ہے، آپ کے سینے کا بھی انشراح ہوا حضور ﷺ کی محفل پاک میں آنے جانے کی ٹکٹ جاری ہوگئی، اس لئے ’’حضوری‘‘ کے لقب سے یاد کئے جاتے ہیں ۔

ایک بار فقیر محمد اسماعیل ’’خاطی‘‘ ٹھٹھوی کے والد صاحب کو مشکل کشائی اور سخت مصیبت میں حاجت روائی کیلئے ایک درود شریف بتایا اور فرمایا ’’یہ درود شریف اسم اعظم ہے ، اس کو ایک ہزار بار روزانہ سات دن پڑھا جائے تو جبل (پہاڑ) بھی اپنی جگہ سے ہٹ سکتا ہے‘‘ اور وہ یہ ہے:

الصلوٰۃ واسللام علیک یا سیدی قرۃ عینی یا رسول اللہ ﷺ
خذ بیدی قلت حیلتی ادرکنی یا رسول اللہ ﷺ

(برکات الصلوٰۃ سندھی، ص:۶۶)

عادات و خصائل:
مونالا نہ صرف عالم با عمل تھے بلکہ صاحب حضوری ولی اللہ تھے ۔ چہرے پر ہمیشہ مسکراہٹ رہتی تھی، ہر چھوٹے اور بڑے سے خندہ پیشانی سے ملتے تھے ۔ عربی ، فارسی، ہندی اور اردو پر دسترس رکھتے تھے، سندھی تو مادری زبان تھی ۔ حافظہ قوی، حاضر جوابی میں ضرب المثل تھے ۔ فقیہ و بہترین مفتی تھے ۔ عارف کامل حضرت سید شاہ عبداللطیف بھٹائی قدس سرہٗ کے کلام پر کامل مہارت رکھتے تھے اور شاہ جو رسالو‘‘ کے بہترین شارح تھے، رسالہ میں تمثیلی واقعات کے پس منظر سے بخوبی واقف تھے ۔ آپ جب بھٹائی صاحب کا عارفانہ کلام پڑھتے تو ایک رقت سی طاری ہو جاتی تھی ۔

تصنیف و تالیف:
آپ تقریر و تحریر دونوں پر عبور رکھتے تھے۔ ساٹھ سے زائد کتابوں کا مختلف زبانوں میں مثلاً عربی، فارسی، اردو اور ہندی میں ترجمے کئے، ان میں فلسفہ حکمت تصوف فقہ اور علم جفر وغیرہ موضوعات آجاتے ہیں ۔ اسی طرح کئی درسی و دیگر عربی کتب پر حواشی لگائے ۔ لیکن مضمون نگار نے ان کتب کے نام نہیں گنوائے ہیں ۔

شاعری:
اس کے علاوہ مولانا کو شعر و شاعری سے بھی دلچسپی تھی ۔ آپ کا نعتیہ کلام آج بھی نعت خواں حضرات ٹھٹھہ و مضافات میں بڑے شوق و ذوق سے سناتے ہیں ۔

اولاد:
آپ کو تین بیٹے تولد ہوئے۔
۱۔ مولانا محمد سلیم
۲۔ میاں حافظ احمد
۳۔ میاں حاجی عمر

وصال:
حضرت مولانا محمد ہاشم نے ۱۳ ، رجب المرجب ۱۳۸۰ھ بمطابق ۲۱ دسمبر ۱۹۶۱ء بروز جمعرات ۱۳۰ سال کی عمر میں انتقال کیا۔ آپ کا مزار غلام اللہ ضلع ٹھٹھہ (سندھ) میں مرجع خلائق ہے۔

[محترم حافظ حبیب سندھی، چوہڑ جمالی، نے مواد فراہم کیا۔ فقیر نہایت مشکور ہے۔]

( انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-haji-hashim-khatri
1👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت قضیب البان موصلی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

کنیت ابو عبد اللہ ہے ۔ حضرت غوث الاعظم کے کامل ترین مریدوں سے تھے۔ آپ کی ذات سے بے خوارق و کرامات کا ظہور ہوا۔ قاضیٔ موصل کو آپ سے سخت اختلاف تھا۔ ایک روز موصل کے کسی بازار سے گزرتے ہُوئے قاضی سے دوچار ہوگئے۔ قاضی نے دل میں کہا: آج موقع ہے گرفتار کرکے حاکم کے سپرد کردینا چاہیے تاکہ اچھی طرح سزا ملے۔ قاضی نے اچانک دُور سے دیکھا کہ گرد اڑرہی ہے۔ جب وُہ قریب آئی تو معلوم ہوا کوئی قوی ہیکل مغرور پہلوان ہے اور قریب ہُوا تو ایک اعرابی کی صورت میں متشکل ہوگیا۔ پھر عالم و فقہی کی شکل میں ظاہر ہوا اور قاضی کے قریب آکر کہنے لگا۔ کہو ان تینوں شکلوں میں سے کون سی شکل حاکم کے سامنے لے جاکر سزا دلانا چاہتے ہو۔ قاضی اسی تبدیلی ہیئت سے خوف زدہ ہوگیا۔ تائب ہوکر شیخ کے حلقۂ ارادت میں داخل ہوا۔

کسی نے حضرت غوث الاعظم کی خدمت میں شکایت کی کہ شیخ قصیب البان نماز نہیں پڑھتے۔ فرمایا: اُن کا سر ہمیشہ خانہ کعبہ کی دہلیز پر پڑا رہتا ہے۔ ۵۷۰ھ میں وفات پائی۔ مزار مبارک موصل میں ہے۔

قطعۂ تاریخ وفات:

رہنمائے جہاں قصیب البان
رحلتشن کاشف القلوب بگو ۵۷۰ھ

شیخ ذی جاہ رہبرِ معصوم
خواں دگر بار پیرِ دیں مرحوم ۵۷۰ھ

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-qazeeb-ul-baan
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
شیخ المشائخ شبیہِ غوث الاعظم حضرت مولانا سید شاہ ابو احمد محمد علی حسین اشرفی رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
اسمِ گرامی:
شاہ محمد علی حسین ، کنیت: ابو احمد ،خاندانی خطاب اشرفی میاں ۔

تاریخِ ولادت:
22 ربیع الثانی 1266ھ بروز پیر ، بوقت صبح صادق پیدا ہوئے ۔

تحصیلِ علم:
حضرت مولانا گل محمد خلیل آبادی علیہ الرحمۃ نے بسم اللہ خوانی کی رسم ادا کرائی، مولانا امانت علی کچھوچھوی، مولانا سلامت علی گور کھپوری اور مولانا قلندر بخش کچھوچھوی علیہم الرحمہ سے علومِ دینیہ کی تحصیل و تکمیل فرمائی ۔

بیعت و خلافت:
1282ھ میں اپنے برادر اکبر قطب المشائخ حضرت شاہ اشرف حسین علیہ الرحمہ سے مرید ہو کر تکمیل سلوک فرما کر اجازت و خلافت حاصل فرمائی ۔

سیرت و خصائص:
خانوادۂ اشرفیہ کے مشہور و معروف بزرگ حضور اشرفی میاں علیہ الرحمہ کی تبلیغی خدمات اور ارشادات کا دائرہ کار اتنا وسیع ہے کہ احاطۂ تحریر میں لانا مشکل ہے ۔ عہدِ خرد سے زندگی کی آخری لمحے تک اسلام کی تبلیغ و اشاعت میں کوشاں رہے ، اور دینِ اسلام کے فروغ کے لئے تا عمر جد و جہد کرتے رہے ۔

لاکھوں گم گشتہ راہوں کو راہِ مستقیم پر گامزن فرمایا ۔ تشنگان علوم و معرفت اور متلاشیان حق کو جامِ معرفت سے سرشار کرکے حق کی راہ دکھائی ۔ تبلیغ و ارشاد کا ہی جذبہ کار فرما تھا کہ آپ نے ہند و پاک کے علاوہ بہت سارے ممالک ِاسلامیہ کی سیر و سیاحت فرمائی ۔

اسی وجہ سے لوگ آپ کو مخدوم جہانیاں جہاں گشت کا پر تو، اور مخدوم اشرف کا مظہر اتم و حقیقی جانشین کہنے لگے ۔ اس ضمن مِیں آپ نے لاکھوں غیر مسلموں کو مشرف بہ اسلام کیا اور لاکھوں افراد آپ کے دستِ مبارک پر تائب ہوئے ۔

آپ کی ذات سے سلسلۂ اشرفیہ کو بڑا فروغ حاصل ہوا ۔ آپ کی عظیم روحانی شخصیت کو دیکھ کر ہندوستان ، پاکستان ، بنگلہ دیش، نیپال اور عرب ممالک میں عدن، جدہ، مکۃ المکرمہ، مدینۃ المنورہ، شام، حلب، ترکی، عراق، مصر، یمن کے جید علماء کرام نے آپ کے دست مبارک پر بیعت کی اور اکثر علماء کرام اور سادات عظام روحانی تربیت کے بعد سلسلۂ عالیہ اشرفیہ کی اجازت و خلافت سے سر فراز کیےگئے ۔

حضرت مخدوم سلطان اشرف سمنانی علیہ الرحمہ کے بعد سلسلۂ عالیہ اشرفیہ میں آپ جیسا مرجع الخلائق کوئی دوسرا بزرگ نہیں گذرا ۔

حضور اشرفی میاں کو اللہ تعالیٰ نے حسنِ سیرت کے ساتھ حسنِ صورت میں بھی بلند مرتبہ پر فائز فرمایا تھا ۔

آپ اعلیٰ اوصاف و خصوصیات کے ساتھ ، ظاہری شکل و صورت میں حضرت غوث اعظم رضی اللہ عنہ کے ہم شبیہ تھے ۔

ہزارہا افراد تو صرف آپ کے حُسن خدا داد کی زیارت سے حلقہ بگوش اسلام ہوئے، اربابِ مشاہدہ نے اس کی تصدیق فرمائی ہے ۔

حضرت مولانا سید شاہ اظہار اشرف کی روایت ہے: کہ ایک مرتبہ حضر ت اشرفی میاں قدس سرہ حضرت سلطان المشائخ محبوب الٰہی رضی اللہ عنہ کے مزار پاک کے اندر سے فاتحہ پڑھ کر نکل رہے تھے، اور اعلیٰ حضرت، امام اہل سنت مولانا شاہ احمد رضا علیہ الرحمہ بغرضِ فاتحہ اندر جا رہے تھے کہ فاضل بریلوی کی نظر آپ پر پڑی، دیکھا تو بالکل ہم شکل محبوب الٰہی و غوث الثقلین تھے، اسی وقت بر جستہ یہ شعر کہا :

؎ اشرؔفی اے رخت آئینۂ حسنِ خوباں
اے نظر کردہ و پرور دہءِ سہ محبوباں

وصال:
11 رجب المرجب 1355ھ میں آپ کا وصال ہوا، مرقد درگاہ مخدوم سید اشرف میں زیارت گاہِ عام و خاص ہے ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-shah-ali-hussain-ashrafi-kachochavi
1