🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
10-07-1445 ᴴ | 22-01-2024 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
10-07-1445 ᴴ | 22-01-2024 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
بابری مسجد کب بنائی گئی؟
بابری مسجد 1528ء میں تعمیر ہوئی
بابری مسجد کِس نے بنوائی؟
بابر کے کمانڈر میر باقی نے تعمیر کرائی
بابر بادشاہ کا اِنتقال کب ہوا؟
ظہیر الدین بابر کا اِنتقال 48 سال کی
عمر میں سنہ 1530 عیسوی میں ہواـ

🆔 @islaamic_Knowledge
کُچھ تلسی داس کے بارے میں:
اکبر ہی کے زمانے میں مشہور ہندو رِشی سوامی تلسی داس [1511ء-1623ء] بھی موجود تھے ـ تلسی داس سوروں ضلع کاس گنج کے رہائشی تھے ـ تلسی داس ہی نے شری رام چندر کی سوانح عمری Biography لِکھنے کا بیڑا اُٹھایا ـ 1554ء میں راماین لِکھنا شروع کیا ²سال ⁷مہینے ²⁶دِن 1556ء میں یہ کام مکمل ہوا ـ اسی گرنتھ کا نام رام چرت مانس ہےـ اور عوامی طور پر اسے راماین کے نام سے جانا جاتا ہے ـ

راماین سات کانڈ (ابواب) پر مشتمل ہے، لیکن کسی ایک باب میں بھی تلسی داس جیسے رام بھکت نے اس بات کا صراحت تو کیا، اشاروں میں بھی ذکر نہیں کیا کہ بابری مسجد رام جنم استھان اور مندر توڑ کر بنائی گئی ہے۔ جب کہ اس وقت بابری مسجد کو بنے ہوئے 26 سال ہی ہوئے تھے، اگر واقعی مسجد مندر توڑ کر بنی ہوتی تو تلسی داس اس حادثہ کا ذکر اپنی کتاب میں ضرور کرتے۔
👌2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
👌1
Forwarded from Ghulam Mustafa Naimi
*___بابری نامہ___*

غلام مصطفےٰ نعیمی
روشن مستقبل دہلی

بابری مسجد 1528عیسوی میں اجودھیا(موجودہ ایودھیا) میں تعمیر ہوئی۔بابر کے کمانڈر میر باقی نے مسجد تعمیر کرائی اور اسے اپنے بادشاہ بابر کے نام سے موسوم کیا۔یہ وہ زمانہ تھا جب سلطنت مغلیہ کے بانی ظہیر الدین محمد بابر نے ابراہیم لودی اور رانا سانگا کو کراری شکست دے کر سلطنت مغلیہ کی بنیاد رکھی تھی۔

_بابر کی عمر نے زیادہ وفا نہیں کی، سلطنت کی داغ بیل ڈالنے کے چوتھے سال 1530 میں بابر کا انتقال ہوگیا۔یعنی بھارت میں بابر نے قریب چار سال ہی گزارے۔ان چار سالوں میں بابر نے چار بڑی جنگیں لڑیں جن میں جنگ پانی پت، جنگ خانوا، جنگ چندیری اور جنگ گھاگھرا شامل ہیں، یعنی بابر کے چار سالہ قیام ہند کا اکثر وقت جنگوں ہی میں گزرا، لیکن بابر کی جنگی مہارت نے چار سال ہی میں اسے ایک بڑے رقبے کا بادشاہ بنا دیا تھا۔

____سن 1530 میں بابر کا محض 48 سال کی عمر میں انتقال ہوگیا، لیکن کسی ہندو راجا نے بھی یہ الزام نہیں لگایا کہ بابری مسجد کسی مندر کو توڑ کر بنائی گئی ہے۔اس زمانے کے کسی ماخذ ومصدر میں بھی اس چیز کا تذکرہ نہیں ہے۔

___بابر کے بعد اس کا بیٹا ہمایوں تخت نشیں ہوا۔لیکن دس سال بعد ہی شیر شاہ سوری نے ہمایوں کو ہرا کر سلطنت پر قبضہ جما لیا، اس طرح تقریباً پانچ سال تک مغل سلطنت ہندوستان سے غائب رہی، اگر بابری مسجد مندر توڑ کر بنائی گئی ہوتی تو ان پانچ سالوں میں یہ بات ضرور سامنے آتی کیوں کہ مغل راج ختم ہوچکا تھا اور اقتدار مغل حکومت کے دشمنوں کے پاس تھا مگر ان پانچ سالوں میں بھی ایسی کوئی سُن گُن ہندو سماج میں نہیں تھی۔

_____ابتدائی مشکلات اور آزمائشوں سے جوجھنے کے باوجود جلال الدین محمد اکبر نے سلطنت مغلیہ کو طاقت ور بنایا۔سر اٹھانے والے مقامی راجاؤں کو بری طرح شکست دے کر اپنا دبدبہ قائم کیا۔اکبر ہی وہ بادشاہ بنا جس نے باپ دادا کے خلاف جاکر مذہب سے زیادہ سلطنت کو ترجیح دی جس کی بنا پر ہندو راجاؤں کی بیٹیوں سے بغیر قبول اسلام شادیوں کا چلن شروع کیا۔

____اکبر کی دین بیزاری اس وقت انتہا کو پہنچ گئی جب اس نے مذہب اسلام کے مقابلے ایک نیا دین، دین الہی جاری کیا۔اپنی بیوی جودھا بائی کی محبت میں گھر کے اندر مندر بنایا۔ہر صبح جھروکہ درشن کے نام پر بت پرستی شروع کی۔یہی وہ وقت تھا جب اکبر کے دربار میں ہندو راجاؤں، پنڈتوں کو رسوخ اور اونچا مقام ملا۔دربار اکبری کے نو رتنوں میں چار لوگ ہندو تھے، جن میں راجا ٹوڈرمل، راجا مان سنگھ، راجا بیربل اور تنو مشرا عرف تان سین۔ان لوگوں کو دربار اکبری میں نمایاں ترین مقام حاصل تھا اگر واقعی بابری مسجد مندر توڑ کر بنی ہوتی تو ہندو راجاؤں کے لیے اکبر جیسے بد دین سے اپنی بات رکھنا اور مندر کا مطالبہ کرنا سب سے آسان تھا لیکن حیرت کی بات ہے کہ ایک بھی راجا یا پنڈت نے اس موضوع پر اکبر سے کبھی کوئی شکایت کی نہ مطالبہ کیا، یہاں تک کہ کبھی کسی نے اس بات کا ذکر تک بھی نہیں کیا کہ بابری مسجد مندر کی جگہ بنی ہے، سمجھ نہیں آتا کہ وہ سارے ہندو راجا اور گیانی پنڈت جاہل تھے یا حد سے زیادہ ڈرپوک کہ اکبر جیسے دین بیزار سے بھی یہ بات نہ کر سکے؟

___بادشاہ اکبر سے جہاں گیر، شاہ جہاں اور اورنگ زیب عالمگیر کے زمانے تک سلطنت مغلیہ پوری آن بان اور دبدبے کے ساتھ چلتی رہی۔حضرت اورنگ زیب کے انتقال [1707] کے بعد مغل اقتدار کمزور ہوتا گیا یہاں تک کہ 1803 میں ہندوستان پر انگریز قابض ہوگیے، بس علامتی طور پر بادشاہت باقی رہی۔آخری مغل تاج دار بہادر شاہ ظفر[1862ء] کی زندگی ہی میں 1857 میں مغل سلطنت کا مکمل خاتمہ ہوگیا۔اس خاتمے تک بھی کسی ایک ہندو مؤرخ نے بابری مسجد پر کوئی دعویٰ کیا نہ مندر ہونے کا کوئی قضیہ سامنے آیا۔حالانکہ اس وقت تک بابری مسجد کو بنے ہوئے تقریباً 334 سال ہوچکے تھے۔

8 رجب المرجب 1445ھ
20 جنوری 2024 بروز ہفتہ
👌1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
💯1
Forwarded from Ghulam Mustafa Naimi
___بابری نامہ___
قسط دوم

غلام مصطفےٰ نعیمی
روشن مستقبل دہلی

____مغل شہنشاہ جلال الدین محمد اکبر [1542-1605ء] تمام مغل بادشاہوں میں سب سے زیادہ لبرل اور آزاد خیال واقع ہوا تھا۔کچھ اس کی ناخواندگی اور کچھ درباری علما کے نفاق، حرص اور طمع نے اسے مذہب بیزار بنانے میں اہم رول ادا کیا۔اکبر کے تبدیلی مزاج میں اس کی چوتھی بیوی ہرکھا بائی(یہی خاتون جودھا بائی کے نام سے مشہور ہے) نے بھی اہم رول ادا کیا۔ہرکھا بائی آمیر کے راجا بھارمل سنگھ کی بیٹی تھی۔یہی وہ خاتون ہے جو اکبر کے نکاح میں آنے کے باوجود ہندو دھرم پر ہی قائم رہی، جس کی بنیاد پر اکبر کا رجحان ہندو مذہب اور بت پرستی کی جانب بھی بڑھتا گیا۔ہندو مذہب میں دل چسپی کے باعث اکبر نے ہندوؤں کے مقدس گرنتھ راماین اور مہابھارت کا فارسی زبان میں ترجمہ کرایا۔دربار میں مسلمانوں سے زیادہ ہندوؤں کو عہدے دئے۔ہندوؤں کی خوش نودی کی خاطر جزیہ کا قانون ختم کیا۔ہرکھا بائی[جودھا بائی] کی محبت میں شہنشاہ اکبر اس قدر فریفتہ تھے کہ انہوں نے گائے کا گوشت تک کھانا چھوڑ دیا تھا۔

____اکبر ہی کے زمانے میں ہندو مذہب کے دو بڑے فاضل اور اعلی درجے کے مذہبی مزاج رکھنے والے افراد موجود تھے، ایک تان سین [1500-1589] تھے جو اکبر کے نو رتنوں میں شامل تھے جب کہ دوسرے سور داس [1478-1583] تھے جو ایک معروف موسیقار اور شری کرشن کے بڑے بھکت تھے۔تانسین کی طرح بادشاہ اکبر سورداس کے بھی بڑے مداح تھے۔یہاں تک کہ صرف سورداس کے بھجن سننے کے لیے متھرا تک کا سفر کیا اور سورداس کو بڑے انعام واکرام سے بھی نوازا۔ہندو مذہب میں اکبر کی غیر معمولی دل چسپی اور ہندو باباؤں سے اکبر کی مثالی وابستگی کے باوجود کسی ایک ہندو رشی مُنی نے کبھی بھی یہ شکایت نہیں کہ آپ کے دادا بابر نے ہمارے بھگوان رام کا جنم استھان توڑ کر مسجد بنائی ہے۔اگر کسی ہندو بابا نے جھوٹ موٹ بھی یہ شکایت کی ہوتی تو اکبر جیسا بادشاہ پہلی فرصت میں بابری مسجد ہندوؤں کو سونپ دیتا، لیکن تانسین سے لیکر سورداس تک، مان سنگھ سے لیکر بیربل تک سارے ہندو راجا اور پنڈت خاموش تھے، اس کا مطلب صاف ہے کہ ان کی نگاہ میں ایسا کوئی معاملہ سرے سے تھا ہی نہیں جس کی شکایت وہ اکبر سے کرتے۔کوئی اور کرتا نہ کرتا لیکن اکبر کی بیوی ہرکھا بائی ضرور اکبر سے یہ کام کراتی کہ جو بیوی اکبر سے گائے کا گوشت چھڑا سکتی تھی وہ اپنے مندر کا مطالبہ کیوں نہیں کر سکتی تھی؟

_____اکبر ہی کے زمانے میں مشہور ہندو رشی سوامی تلسی داس [1511-1623ء] بھی موجود تھے۔تلسی داس سوروں ضلع کاس گنج کے رہائشی تھے۔تلسی داس ہی نے شری رام چندر کی سوانح عمری(Biography) لکھنے کا بیڑا اٹھایا۔اس کام کا آغاز تلسی داس نے ایودھیا ہی میں کیا۔سن 1554 عیسوی میں راماین لکھنا شروع کی۔دو سال سات مہینے چھبیس دن میں یہ کام مکمل ہوا اور 1556 عیسوی میں یہ کام مکمل ہوگیا۔اسی گرنتھ کا نام "رام چرت مانس" ہے اور عوامی طور پر اسے راماین کے نام سے جانا جاتا ہے۔راماین سات کانڈ [ابواب] پر مشتمل ہے، لیکن کسی ایک باب میں بھی تلسی داس جیسے رام بھکت نے اس بات کا صراحت تو کیا، اشاروں میں بھی ذکر نہیں کیا کہ بابری مسجد رام جنم استھان اور مندر توڑ کر بنائی گئی ہے۔جب کہ اس وقت بابری مسجد کو بنے ہوئے 26 سال ہی ہوئے تھے، اگر واقعی مسجد مندر توڑ کر بنی ہوتی تو تلسی داس اس حادثہ کا ذکر اپنی کتاب میں ضرور کرتے۔چھبیس سال کا زمانہ کوئی بڑا زمانہ نہیں ہوتا کہ لوگ پوری طرح بھول جائیں، خصوصاً ایسے حادثات کو تو لوگ صدیوں تک نہیں بھولتے، تو تلسی داس جیسے رام بھکت گیانی پنڈت سے یہ امید کون کر سکتا ہے کہ وہ اس حادثہ کو بھول گیے ہوں گے یا مغل بادشاہ کے خوف سے چھوڑ دیا ہوگا؟ وہ بھی اکبر جیسا بادشاہ، جو ہندو مذہب کے بہت قریب اور اسلام سے بہت دور تھا۔تلسی داس کا اس اہم معاملے پر کچھ نہ لکھنا ہی اس بات کو صاف کر دیتا ہے کہ ایسا کوئی واقعہ تاریخ میں ہوا ہی نہیں تھا۔


_____جس زمانے میں بابری مسجد تعمیر ہوئی اس وقت تلسی داس کی عمر تقریباً 17 سال رہی ہوگی، کیوں کہ تلسی داس 1511 عیسوی میں پیدا ہوئے جب کہ بابری مسجد 1528 عیسوی میں تعمیر ہوئی اس حساب سے تعمیر مسجد کے وقت تلسی داس کی عمر سترہ سال بنتی ہے۔سترہ سال کا لڑکا اتنا ناسمجھ نہیں ہوتا کہ اتنے بڑے حادثے کی اسے خبر ہی نہ ملی ہو۔1554ء میں تلسی داس نے راماین لکھنا شروع کی، اس وقت تلسی داس 43 سال کے پختہ عمر شخص تھے جب کہ بابری مسجد کو بنے ہوئے 26 سال ہوچکے تھے۔اس وقت یقیناً ایودھیا میں ایسے سیکڑوں لوگ موجود رہے ہوں گے جنہوں نے بابری مسجد کو بنتے ہوئے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہوگا، اگر واقعتاً مسجد رام مندر توڑ کر بنی ہوتی تو وہ لوگ تلسی داس سے اس واقعے کا ذکر ضرور کرتے اور تلسی داس اسے راماین میں ضرور لکھتے تاکہ آنے والی نسلوں کے لیے سند رہے، لیکن کسی ہندو نے ایسا کہا نہ تلسی داس نے ایسا لکھا،
👌1
Forwarded from Ghulam Mustafa Naimi
کیوں کہ ایسا کچھ کبھی ہوا ہی نہیں تھا۔بابری مسجد نہایت دیانت داری کے ساتھ ایک صاف ستھری زمین پر بغیر کسی مندر کو توڑے تعمیر ہوئی جس پر اس عہد کے ہندو پنڈتوں اور ہندو عوام کی خاموش گواہی بھی چیخ چیخ کر گواہی دے رہی ہے۔

9 رجب المرجب 1445ھ
21 جنوری 2024 بروز اتوار
👌1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1💯1
#____बाबरीनामा___

By: ग़ुलाम मुस्तफा नईमी

बाबरी मस्जिद का निर्माण 1528 ईस्वी में अयोध्या में किया गया था। बाबर के कमांडर मीर बाकी ने मस्जिद का निर्माण किया और इसका नाम अपने राजा बाबर के नाम पर रखा। यह वह समय था जब मुगल साम्राज्य के संस्थापक जहीरुद्दीन मुहम्मद बाबर ने इब्राहिम लोदी और राणा सांगा को पराजित कर कर मुगल साम्राज्य की स्थापना की थी

बाबर की उम्र बहुत लम्बी न रही, साम्राज्य की स्थापना के चौथे वर्ष 1530 में बाबर की मृत्यु हो गई। यानी बाबर ने भारत में केवल चार साल बिताए। इन चार वर्षों में बाबर ने चार प्रमुख युद्ध लड़े, जिसमें पानीपत की लड़ाई भी शामिल थी। खानवा का युद्ध, चंदेरी का युद्ध और घाघरा का युद्ध अर्थात बाबर के भारत में चार साल के प्रवास का अधिकांश समय युद्धों में बीता, लेकिन बाबर के युद्ध कौशल ने उसे चार साल के भीतर ही एक बड़े क्षेत्र का राजा बना दिया था।

बाबर की मृत्यु 1530 में महज 48 साल की उम्र में हो गई, लेकिन किसी भी हिंदू राजा ने कभी यह आरोप नहीं लगाया कि बाबरी मस्जिद किसी मंदिर को तोड़कर बनाई गई थी। उस समय के किसी भी स्रोत में इसका कोई उल्लेख नहीं है।

बाबर के बाद उसका बेटा हुमायूँ गद्दी पर बैठा। लेकिन दस साल बाद ही शेरशाह सूरी ने हुमायूँ को हराकर राज्य पर कब्ज़ा कर लिया। इस प्रकार, लगभग पाँच वर्षों तक मुग़ल साम्राज्य भारत से अनुपस्थित रहा। अगर बाबरी मस्जिद मन्दिर तोड़ कर निर्माण की गई होती तो इन पांच वर्षों में यह बात जरूर सामने आती, क्योंकि मुगल शासन समाप्त हो चुका था और सत्ता मुगल शासन के दुश्मनों के पास थी, लेकिन इन पांच वर्षों में भी हिंदू समाज में ऐसी कोई बात नहीं थी।

प्रारंभिक कठिनाइयों का सामना करने के बावजूद, जलालुद्दीन मुहम्मद अकबर ने मुगल साम्राज्य को शक्तिशाली बनाया और उभरते हुए स्थानीय राजाओं को बुरी तरह हराकर अपना शासन स्थापित किया।
अकबर एक ऐसा राजा बन गया जिसने अपने पिता के विरुद्ध जाकर धर्म के स्थान पर साम्राज्य को प्राथमिकता दी, जिसके आधार पर उसने इस्लाम स्वीकार किए बिना हिंदू राजाओं की बेटियों से विवाह करना शुरू कर दिया।

अकबर की इस्लाम धर्म के प्रति घृणा तब चरम पर पहुंच गई जब उसने अपनी पत्नी जोधाबाई के प्रेम में इस्लाम की तुलना में एक नया धर्म दीने इलाही चलाया, अपने घर के अंदर एक मंदिर बनवाया और झरोखा दर्शन के नाम पर हर सुबह मूर्तियों की पूजा करना शुरू कर दिया। यही वह समय था जब हिंदू राजाओं और पंडितों ने अकबर के दरबार में प्रभाव और उच्च स्थान प्राप्त किया अकबरी दरबार के नौ रतनों में से चार लोग हिंदू थे, जिनमें राजा टोडरमल, राजा मान सिंह, राजा बीरबल और तनु मिश्रा उर्फ तान सेन थे, इन लोगों को अकबरी दरबार में सबसे प्रमुख स्थान प्राप्त था। यदि वास्तव में बाबरी मस्जिद का निर्माण मंदिर को तोड़कर किया गया होता, तो हिंदू राजाओं के लिए अकबर जैसे बे दीन के सामने अपनी बात रखना और मंदिर की मांग करना सबसे आसान होता, लेकिन आश्चर्य की बात है कि एक भी राजा या पंडित ने कभी भी अकबर से परामर्श नहीं किया। किसी ने इस विषय पर शिकायत नहीं की , किसी ने यह भी नहीं बताया कि बाबरी मस्जिद एक मंदिर के स्थल पर है, समझ नहीं आता कि वे सभी हिंदू राजा और ज्ञानी पंडित अज्ञानी थे या बहुत कायर कि वह अकबर जैसे बे दीन से बात तक नहीं कर सके?

सम्राट अकबर से लेकर जहाँगीर, शाहजहाँ और औरंगज़ेब आलमगीर के शासनकाल तक, मुग़ल साम्राज्य फलता-फूलता रहा। हज़रत औरंगज़ेब [1707] की मृत्यु के बाद मुग़ल साम्राज्य कमजोर होता गया यहां तक कि 1803 में अंग्रेजों ने भारत पर कब्ज़ा कर लिया। केवल प्रतीकात्मक राजतन्त्र ही रह गया। अंतिम मुगल युवराज बहादुर शाह जफर [1862] के जीवनकाल में ही मुगल साम्राज्य का अंत 1857 में हो गया।यहां तक कि इसके अंत तक एक भी हिंदू इतिहासकार ने बाबरी मस्जिद पर कोई दावा नहीं किया और न ही इसके मंदिर होने का कोई मामला सामने आया, हालांकि उस समय तक बाबरी मस्जिद को बने लगभग 334 साल हो चुके थे.

20 जनवरी 2024

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid02cJDZ3JzuWs3V5qxbu9zi7eTVN8B65vCWfMNS1s9FriSRJCsXAZe5tVwn1GAZeZCJl&id=100003223204679&mibextid=Nif5oz
👌1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
💯1
حضرت سیّد قطب الدین حَیدر بخاری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

نام:
آپ کا اسم گرامی سیّد قطب الدین بخاری، عرف محمد اشرف اور لقب حیدر حسین ہے۔ آپ کی ولادت با سعادت ماوراء النہر میں ہوئی ۔ ماوراء النہر ہی میں مختلف اساتذہ سے حدیث، فقہ، تفسیر اور معقولات و منقولات میں یدِ طولیٰ حاصل کیا۔ آپ عالمِ باعمل اور فاضلِ بے بدل تھے۔ کئی زبانوں پر عبور حاصل تھا۔ پیرِ کامل کی تلاش میں سرہند شریف پہنچے اور حضرت خواجہ محمد زبیر قیّوم چہارم قدس سرہ کے دستِ حق پرست پر بیعت کر کے اجازت و خلافت حاصل کی اور اپنے شیخ کے انتقال کے بعد مسندِ خلافت پر بیٹھے۔

آپ کو امراء و اغنیاء کے اختلاط سے سخت نفر تھی۔ آپ شب و روز تلاوتِ قرآن مجید، ذکر الٰہی اور درود شریف میں مشغول رہتے تھے۔ عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں فنا فی الرّسول کے درجہ تک پہنچے ہوئے تھے۔ اور زیارتِ روضۂ انور کے لیے دن رات تڑپتے رہتے تھے۔

مسندِ شیخ پر چند سال بیٹھنے کے بعد ایک صاحبزادہ صاحب کے ساتھ کسی بات پر جھگڑا ہوگیا اور یہ جھگڑا اور رنجش یہاں تک پہنچی کہ آپ کی غیرت اور رنجیدگی سے سرہند شریف تباہ ہوگیا اسی واسطے حضرت امام رفیع الدین رحمۃ اللہ علیہ کو بانیٔ سرہند اور آپ کو فانی سرہند کہتے ہیں۔ چھ سال تک سرہند شریف میں لرزہ اور زلزلہ رہا ۔ [۱]

[۱۔ سرہند شریف سے دہلی میں آکر آپ حضرت خواجہ باقی بااللہ کے آستانے پر کچھ عرصہ حاضر رہے تھے (قصوری)]

۱۱۷۳ء میں آپ حضرت حافظ سیّد محمد جمال اللہ قدس سرہ کو اپنا خلیفہ و جانشین مقرر کر کے مدینہ منوّرہ روانہ ہوگئے۔ راستے میں ہر دو قدم پر سو سو بار درود شریف پڑھتے اور ہر فرسنگ پر دوگانہ نماز ادا کرتے تھے۔ راہ میں طرح طرح کے عجائبات ملاحظہ میں آئے مدینہ شریف کے قریب پہنچ کر دوگانۂ شکریہ ادا کر کے پا برہنہ شہر میں داخل ہوئے اور دیوانہ وار درودیوار کو چومتے ہوئے روضہ مقدسہ پر حاضر ہوئے ۔ اور شرفِ زیارت سے مشرّف ہوکر سعادتِ ابدی اور دولتِ سرمدی کو پہنچے۔ پھر آپ کو مدینہ طیّبہ کی جدائی گوارا نہ ہوئی اور وہاں کی فضائے جان فزا دل کو ایسی بھائی کہ زبانِ حال سے پُکار اُٹھے۔ کہ اب یہاں سے کہیں نہیں جاؤں گا، محبوب کے قدموں ہی میں جان دے دوں گا۔ بقول حکیم سنائی رحمۃ اللہ علیہ

باد و قبلہ در رہِ توحید نتواں رفت راست
یا رضائے دوست بایٔد یا ہوائے خویشتن

توحید کے راستے میں دو قبلوں کے ساتھ چلنا درست نہیں۔
یا دوست کی مرضی کرنا چاہیے یا اپنی نفسانی خواہش پر عمل۔

ازاں بعد جنّت البقیع میں حضرت امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے روضۂ مبارک کے قریب جہاں قبۂ مبارک کا پانی گرتا ہے، جا بیٹھے اور ذکر الٰہی میں مشغول ہوگئے کہتے ہیں کہ حضور سیّد عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور سے لوگوں کو بشارت ہوئی کہ سیّد قطب الدین میرا فرزند اور میرا مہمان ہے۔ اس سے باطنی فیوض و برکات حاصل کر۔ چنانچہ بہت سے لوگ آپ کی خدمت با برکت میں بصد آداب و احترام حاضر ہوئے اور سلسلۂ عالیہ نقشبندیہ مجدّدیہ میں داخل ہوکر دین و دنیا عقبیٰ و آخرت اور ظاہر و باطن کی نعمتوں کے سزا وار ٹھہرے ۔
1
وصال:
آپ نے ۱۱ رجب ۱۱۸۰ھ / ۱۷۶۶ء کو رحلت فرمائی تو روضہ مقدسہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی جالی مبارک سے ایک دستار بر آمد ہوئی اور ارشاد ہوا کہ میرے فرزند قطب الدین کو اسی کا کفن دو ۔ چنانچہ وہ دستار فیض آثار آپ کے کفن کو کافی دوافی ہوئی۔ آپ کا مزارِ پُر انوار حضرت خواجہ آدم نبوری رحمۃ اللہ علیہ [۲] (خلیفہ حضرت مجدّد الف ثانی قدس سرہ) اور خواجہ محمد پارسا رحمۃ اللہ علیہ[۳] (مرید و خلیفہ حضرت خواجہ خواجگان خواجہ نقشبند بخاری قدس سرہ) کے مزارات کے قریب جنت البقیع مدینہ منوّرہ میں واقع ہے۔ اور یہ تینوں مزارات حضرت امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے روضۂ مبارک کے شمال مغربی گوشہ میں واقعہ ہیں۔ اور دوسری قبروں سے ممتاز ہیں۔ حضرت عثمان ذالنُّورین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مزار مقدس کی چھت کا پانی آپ کے مرقد انور پر گرتا ہے۔[۴]

جِس طرح ہندوستان میں خواجہ غریب نواز حضرت خواجہ بزرگ معین الدین حسن سنجری اجمیری رحمۃ اللہ علیہ ہندالولی مشہور ہیں۔ اسی طرح مدینہ منوّرہ میں آپ بھی ہندالولی کہے جاتے ہیں۔

[۲۔ حضرت خواجہ سیّد آدم نبوری رحمۃ اللہ علیہ حضرت مجدّد الف ثانی قدس سرہ کے ارشد خلفاء میں سے تھے۔ آپ کی وفات ۱۳؍شوال ۱۰۵۳ھ کو ہوئی۔ جنت البقیع مدینہ منورہ میں دفن ہوئے۔ (قصور)]

[۳۔ خواجہ محمد پارسا رحمۃ اللہ علیہ ۷۳۹ھ میں بخارا میں پیدا ہوئے۔ حضرت خواجہ نقشبند قدس  سرہ شرف بیعت حاصل کرکے روحانی منازل  طے کیں اور حضرت خواجہ کے ممتاز خلفاء میں شمار ہوئے۔ آپ نے طریقہ نقشبندیہ پر بڑی جامع تصانیف کی اشاعت کی جو آج تک سلسلہ نقشبندیہ کیے اصول احوال پر بنیادی حیثیت رکھتی ہیں۔ آپ کو وصال ۸۲۲ھ میں بعمر شریف تراسی (۸۳) سال مدینہ منورہ میں ہوا ۔ (قصوری)]

[۴۔ تُرک دورِ حکومت تک جنت البقیع میں تمام مزارات مقدسہ بڑی شان کے ساتھ موجود تھے۔ مگر نجدی دور حکومت میں ہل چلا کر تمام مزارات کو منہدم کردیا گیا ہے۔ تفصیل کے لیے شورش کاشمیری کی کتاب ’’شب جائے کہ من بودم‘‘ اور صلاح الدین محمود کی کتاب ’’خاکِ حجاز کے نگہبان‘‘ کا مطالعہ کیا جاسکتا ہے۔ (قصوری)]

( تاریخِ مشائخ نقشبند )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-qutbuddin-hyder-bukhari
1