حضرت خواجہ حاجی شریف زندنی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
آپ بڑے احوال عجبہ اور مقامات غریبہ کے مالک تھے آپ مقتدائے مشائخ اور پیشوائے ابدال تھے آپ کا لقب نیر الدین تھا۔ حضرت خواجہ موجود چشتی رحمۃ اللہ علیہ سے خرقۂ خلافت پایا تھا۔ چودہ سال کی عمر سے باوضو رہنے لگے۔
کپڑے پرانے اور پیوند شدہ پہنتے تھے۔ فقر و تجرید پر کار بند رہے، آپ کا روزہ بھی مسلسل روزہ تھا،تین روز کے بعد بے نمک سبزی سے روزہ افطار کرتے تھے۔ اس سبزی میں یہ کمال تھا کہ آپ کا تبرک کوئی اور کھاتا تو مجذوب ہوجاتا۔ اگر سماع سن لیتا تو اس قدر روتا کہ بے ہوش ہوجاتا، اگر دنیا پرست ایک بار مجلس سماع میں شریک ہوتا تو تارک الدنیا ہوجاتا تھا۔
ایک فکر مند فقیر جس کی سات بیٹیاں تھیں، اور غربت و افلاس کی وجہ سے سخت پریشان تھا۔ حضرت کی خدمت میں حاضر ہوا، عرض کی اگر آپ کی نگاہ فیضان سے میرے رزق میں کشادگی ہوجائے اور بیٹیوں کے نکاح سے فارغ ہوجاؤں تو ساری عمر دعا گو رہوں گا، آپ نے فرمایا: تم کل آنا، کوئی تدبیر سوچیں گے، درویش چلا گیا، جاتے ہوئے راستہ میں اسے ایک یہودی سے ملاقات ہوئی، یہودی نے درویش سے پوچھا کہ تم کہاں گئے تھے، اس نے اپنی پریشانی مشکلات کا مسئلہ حضرت حاجی صاحب کے کل آنے کا حکم اور دوسرے حالات سنائے، یہودی کہنے لگا، حاجی شریف تو خود محتاج اور تہی دست ہیں تمہاری کیا مدد کریں گے، تم حاجی صاحب کے پاس واپس جاؤ اور انہیں کہو کہ فلاں یہودی نے کہا ہے کہ اگر خواجہ شریف سات سال میری خدمت کا وعدہ کر لیں تو میں آج ہی سات ہزار سرخ دینار دینے کو تیار ہوں وہ درویش واپس حاضر خدمت ہوا سارا واقعہ سنایا ـ
حضرت حاجی صاحب نے سنتے ہی فرمایا مجھے منظور ہے اور اُسی وقت اٹھ کر اس کے ساتھ یہودی کے پاس چلے گئے سات ہزار دینار اس درویش کو دلادیے اور خود خدمت گزاری پر آمادہ ہوگئے، بادشاہ کو اس واقعہ کی اطلاع ہوئی تو اس نے حضرت خواجہ کی خدمت میں سات ہزار دینار بھیجے تاکہ یہودی کا قرضہ دے کر فارغ ہوجائیں، حضرت حاجی صاحب نے یہ سات ہزار بھی غریبوں میں تقسیم کرکے فرمایا، میں نے یہودی کی سات سالہ نوکری کا عہد کیا ہے اب اس عہد سے پھرنا مناسب نہیں یہودی نے حضرت حاجی صاحب کی استقامت سن کر اپنا قرضہ معاف کردیا اور حضرت کو آزاد کردیا، آپ نے یہودی کو فرمایا کہ تم نے مجھے آزاد کیا ہے میرا اللہ تمہیں آتش دوزخ سے آواز کرے، یہودی یہ دعا سن کر مسلمان ہوگیا اور مقبولان خدا سے ہوگیا۔
سفینۃ الاولیاء کے مصنف نے لکھا ہے کہ کسی شخص نے شہنشاہ سنجر کو اس کے مرنے کے بعد خواب میں دیکھا پوچھا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے ساتھ کیا سلوک کیا سنجر نے بتایا مجھے حکم دیا گیا کہ دوزخ کے شعلوں کے حوالے کردیا جائے، عذاب کے فرشتے لیے جا رہے تھے کہ آواز آئی شاہ سنجر کو چھوڑ دو، اس نے ایک دن حضرت خواجہ شریف زندنی کی مجلس میں نیاز مندانہ حاضری دی تھی، اس مجلس کی برکت سے اسے بخش دیا گیا ہے۔ چنانچہ مجھے رہائی مل گئی۔
آپ کی وفات دس رجب المرجب چھ سو بارہ ہجری کو ہوئی، آپ کی عمر مبارک ایک سو بیس سال تھی۔
چون شریف از عالم دنیا برفت
سال وصل آں شہ والا حنیف
کن رقم مہتاب دیں اہلِ دین ۶۱۲ھ
نیز کن تحریر حاجیٔ شریف ۶۱۲ھ
آپ بڑے احوال عجبہ اور مقامات غریبہ کے مالک تھے آپ مقتدائے مشائخ اور پیشوائے ابدال تھے آپ کا لقب نیر الدین تھا۔ حضرت خواجہ موجود چشتی رحمۃ اللہ علیہ سے خرقۂ خلافت پایا تھا۔ چودہ سال کی عمر سے باوضو رہنے لگے۔
کپڑے پرانے اور پیوند شدہ پہنتے تھے۔ فقر و تجرید پر کار بند رہے، آپ کا روزہ بھی مسلسل روزہ تھا،تین روز کے بعد بے نمک سبزی سے روزہ افطار کرتے تھے۔ اس سبزی میں یہ کمال تھا کہ آپ کا تبرک کوئی اور کھاتا تو مجذوب ہوجاتا۔ اگر سماع سن لیتا تو اس قدر روتا کہ بے ہوش ہوجاتا، اگر دنیا پرست ایک بار مجلس سماع میں شریک ہوتا تو تارک الدنیا ہوجاتا تھا۔
ایک فکر مند فقیر جس کی سات بیٹیاں تھیں، اور غربت و افلاس کی وجہ سے سخت پریشان تھا۔ حضرت کی خدمت میں حاضر ہوا، عرض کی اگر آپ کی نگاہ فیضان سے میرے رزق میں کشادگی ہوجائے اور بیٹیوں کے نکاح سے فارغ ہوجاؤں تو ساری عمر دعا گو رہوں گا، آپ نے فرمایا: تم کل آنا، کوئی تدبیر سوچیں گے، درویش چلا گیا، جاتے ہوئے راستہ میں اسے ایک یہودی سے ملاقات ہوئی، یہودی نے درویش سے پوچھا کہ تم کہاں گئے تھے، اس نے اپنی پریشانی مشکلات کا مسئلہ حضرت حاجی صاحب کے کل آنے کا حکم اور دوسرے حالات سنائے، یہودی کہنے لگا، حاجی شریف تو خود محتاج اور تہی دست ہیں تمہاری کیا مدد کریں گے، تم حاجی صاحب کے پاس واپس جاؤ اور انہیں کہو کہ فلاں یہودی نے کہا ہے کہ اگر خواجہ شریف سات سال میری خدمت کا وعدہ کر لیں تو میں آج ہی سات ہزار سرخ دینار دینے کو تیار ہوں وہ درویش واپس حاضر خدمت ہوا سارا واقعہ سنایا ـ
حضرت حاجی صاحب نے سنتے ہی فرمایا مجھے منظور ہے اور اُسی وقت اٹھ کر اس کے ساتھ یہودی کے پاس چلے گئے سات ہزار دینار اس درویش کو دلادیے اور خود خدمت گزاری پر آمادہ ہوگئے، بادشاہ کو اس واقعہ کی اطلاع ہوئی تو اس نے حضرت خواجہ کی خدمت میں سات ہزار دینار بھیجے تاکہ یہودی کا قرضہ دے کر فارغ ہوجائیں، حضرت حاجی صاحب نے یہ سات ہزار بھی غریبوں میں تقسیم کرکے فرمایا، میں نے یہودی کی سات سالہ نوکری کا عہد کیا ہے اب اس عہد سے پھرنا مناسب نہیں یہودی نے حضرت حاجی صاحب کی استقامت سن کر اپنا قرضہ معاف کردیا اور حضرت کو آزاد کردیا، آپ نے یہودی کو فرمایا کہ تم نے مجھے آزاد کیا ہے میرا اللہ تمہیں آتش دوزخ سے آواز کرے، یہودی یہ دعا سن کر مسلمان ہوگیا اور مقبولان خدا سے ہوگیا۔
سفینۃ الاولیاء کے مصنف نے لکھا ہے کہ کسی شخص نے شہنشاہ سنجر کو اس کے مرنے کے بعد خواب میں دیکھا پوچھا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے ساتھ کیا سلوک کیا سنجر نے بتایا مجھے حکم دیا گیا کہ دوزخ کے شعلوں کے حوالے کردیا جائے، عذاب کے فرشتے لیے جا رہے تھے کہ آواز آئی شاہ سنجر کو چھوڑ دو، اس نے ایک دن حضرت خواجہ شریف زندنی کی مجلس میں نیاز مندانہ حاضری دی تھی، اس مجلس کی برکت سے اسے بخش دیا گیا ہے۔ چنانچہ مجھے رہائی مل گئی۔
آپ کی وفات دس رجب المرجب چھ سو بارہ ہجری کو ہوئی، آپ کی عمر مبارک ایک سو بیس سال تھی۔
چون شریف از عالم دنیا برفت
سال وصل آں شہ والا حنیف
کن رقم مہتاب دیں اہلِ دین ۶۱۲ھ
نیز کن تحریر حاجیٔ شریف ۶۱۲ھ
❤2
علماء کے مقتدا اولیاء کے پیشوا خواجہ شریف زندنی ہیں جو حقائق حقیقت کے کلمات میں اپنے زمانہ کے مشائخ کبار میں بے نظیر اور عدیم المثال شہرت رکھتے تھے اس عہد کے تمام علما و فضلا بالخصوص اہل حقیقت آپ کی طرف متوجہ تھے آپ نے خرقہ ارادت خواجہ قطب الملۃ الدین مودود چشتی کی خدمت سے زیب تن فرمایا تھا۔ منقول ہے کہ خواجہ حاجی شریف زندنی نے چالیس سال تک مخلوق سے علیحدگی اختیار کر کے جنگل و بیان میں زندگی بسر کی اور اس عرصہ میں صرف درختوں کے پتے اور جنگلی میئووں کے کھانے پر قناعت کی۔ آپ کے زہد اور ترک دنیا کا یہ حال تھا کہ جب کوئی شخص آپ کی خدمت میں حاضر ہوتا تو خادم اس سے تاکیداً کہہ دیتے کہ دیکھو خواجہ کے سامنے دنیا کا ذکر ہر گز نہ کرنا اور اس کی کوئی حکایت آپ کے سامنے بیان نہ کرنا ورنہ زیارت کی سعادت سے محروم و بے نصیب رہو گے۔ منقول ہے کہ ایک دن ایک شخص خواجہ کی خدمت میں کچھ نقدی لایا آپ نے نہایت تند اور قہر ناک آواز میں فرمایا کہ تجھے درویشوں سے کیا عداوت ہے جو خدا کے دشمن کو میرے پاس لایا ہے یہ کہہ کر آپ نے ارشاد کیا کہ ذرا صحرا کی طرف آنکھ اُٹھا کر دیکھ ـ
وہ شخص دیکھتا ہے کہ صحرا میں ایک بڑا عظیم الشان سونے کا دریا پڑا لہریں لے رہا ہے ازاں بعد خواجہ نے فرمایا کہ بھلا جس شخص کو خزانۂ غیب میں تصرف کرنے کی پوری قدرت حاصل ہو وہ تمہارے اس حقیر و نا چیز مال کی طرف کب نظر کرسکتا ہے۔ منقول ہے کہ سلطان سنجر کو لوگوں نے خواب میں دیکھ کر پوچھا کہ خدا نے تمہارے ساتھ کیسا برتاؤ کیا۔ کہا میں نے جو نیک و بد کام دنیا میں کیے تھے ایک ایک میری آنکھوں کے سامنے رکھے گئے اور عذاب کے فرشتوں کو حکم صادر ہوا کہ اسے دوزخ میں لے جاکر داخل کرو۔ ابھی میں دوزخ کے فرشتوں کے ہاتھ میں نہ گیا تھا کہ دوبارہ یہ فرمان صادر ہوا چونکہ اس شخص نے فلاں دن دمشق کی مسجد میں خواجہ حاجی شریف زندنی کی قدم بوسی حاصل کی تھی لہذا میں نے ان کی برکت سے اسے بخش دیا۔
( سیر الاولیاء )
آپ کے دوسرے خلیفہ حضرت خواجہ ھاجی شریف زندنی قدس سرہٗ ہیں جو بہت بڑے بزرگ تھے اور حضرت خواجہ مودود چشتی کے نائب کل، خلیفۂ مطلق، سجادگی صوری ومعنوی کے وارث اور نعمت ولایت ظاہری وباطنی کے حامل تھے۔ حضرت خواجہ مودود قدس سرہٗ کو اپنے مشائخ سے جو نعمت ملی تھی آپ نے آخری وقت میں خواجہ شریف زندنی کو عطا فرمائی۔ اور اپنا جانشین مقرر فرمایا۔ چنانچہ سلسلہ عالیہ چشتیہ کو آپ کے اہتمام سے نشو ونما ملی اورقیامت تک قائم رہے گا۔ آپ کاذکر خیر آئندہ صفحات میں آرہا ہے۔
( اقتباس الانوار )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khwaja-haji-sharif-zindani
وہ شخص دیکھتا ہے کہ صحرا میں ایک بڑا عظیم الشان سونے کا دریا پڑا لہریں لے رہا ہے ازاں بعد خواجہ نے فرمایا کہ بھلا جس شخص کو خزانۂ غیب میں تصرف کرنے کی پوری قدرت حاصل ہو وہ تمہارے اس حقیر و نا چیز مال کی طرف کب نظر کرسکتا ہے۔ منقول ہے کہ سلطان سنجر کو لوگوں نے خواب میں دیکھ کر پوچھا کہ خدا نے تمہارے ساتھ کیسا برتاؤ کیا۔ کہا میں نے جو نیک و بد کام دنیا میں کیے تھے ایک ایک میری آنکھوں کے سامنے رکھے گئے اور عذاب کے فرشتوں کو حکم صادر ہوا کہ اسے دوزخ میں لے جاکر داخل کرو۔ ابھی میں دوزخ کے فرشتوں کے ہاتھ میں نہ گیا تھا کہ دوبارہ یہ فرمان صادر ہوا چونکہ اس شخص نے فلاں دن دمشق کی مسجد میں خواجہ حاجی شریف زندنی کی قدم بوسی حاصل کی تھی لہذا میں نے ان کی برکت سے اسے بخش دیا۔
( سیر الاولیاء )
آپ کے دوسرے خلیفہ حضرت خواجہ ھاجی شریف زندنی قدس سرہٗ ہیں جو بہت بڑے بزرگ تھے اور حضرت خواجہ مودود چشتی کے نائب کل، خلیفۂ مطلق، سجادگی صوری ومعنوی کے وارث اور نعمت ولایت ظاہری وباطنی کے حامل تھے۔ حضرت خواجہ مودود قدس سرہٗ کو اپنے مشائخ سے جو نعمت ملی تھی آپ نے آخری وقت میں خواجہ شریف زندنی کو عطا فرمائی۔ اور اپنا جانشین مقرر فرمایا۔ چنانچہ سلسلہ عالیہ چشتیہ کو آپ کے اہتمام سے نشو ونما ملی اورقیامت تک قائم رہے گا۔ آپ کاذکر خیر آئندہ صفحات میں آرہا ہے۔
( اقتباس الانوار )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khwaja-haji-sharif-zindani
❤2👍1
بہاءالدین محمد بن جلال الدین رومی معروف بہ سلطان ولد رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسم گرامی: بہاء الدین محمد ۔ لقب: سلطان ولد ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
مولانا بہاء الدین محمد بن مولائے روم مولانا محمد جلال الدین رومی بن محمد بہاؤ الدین بن محمد بن حسین بلخی بن احمد بن قاسم بن مسیب بن عبد اللہ بن عبد الرحمن بن ابو بکر صدیق ۔ (رضی اللہ عنہم اجمعین) ۔
آپ مولائے روم حضرت مولانا محمد جلال الدین رومی کے فرزندِ اکبر اور دوسرے جانشین تھے ۔
تاریخ ِولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 25 ربیع الآخر 623ھ / مطابق ماہ اپریل 1226ء کو " لارندہ " میں ہوئی، جسے اب " قرامان " کہتے ہیں ۔
قرامان یہ قونیہ شریف سے 100 کلو میٹر جنوب میں واقع ترکی کا ایک مرکزی شہر ہے ۔
تحصیل علم:
ابتدا ہی سے دانائے امت مولانا جلال الدین رومی ان پر خاص لطف و عنایت روا رکھتے تھے اور انہوں نے اپنے قول و فعل سے بارہا اس توجہ اور مہربانی کا ذکر فرماتے تھے ۔ مولانا نے خود انہیں برہان الدین ابوبکر مرغینانی کی کتاب ہدایہ پڑھائی تھی اور جب وہ سنِ بلوغ کو پہنچ گئے تو بہاء الدین اور ان کے بھائی علاء الدین کو انہوں نے حلب اور دمشق بھیج دیا ۔ شام سے واپسی کے بعد بہاء الدین نے اپنے والد مولانا روم، برہان الدین محقق ترمذی، حضرت شمس تبریزی، صلاح الدین فریدون زرکوب اور حسام الدین چلپی سے علمی و روحانی استفادہ کیا ۔
بیعت و خلافت:
مولانا سلطان ولد نے اپنے والد گرامی حضرت مولائے روم دانائے امت مولانا جلال الدین رومی علیہ الرحمہ سے ظاہر و باطنی علوم کی تحصیل کی، اور ان کے بعد ان کے سلسلہ مولویہ کے منتظم و جانشین قرار پائے ۔ اسی طرح حضرت شمس تبریزی، اور مولانا حسام الدین چلپی سے بھی روحانی استفادہ فرمایا ۔
سیرت و خصائص:
شیخ الاجل، عالم اکمل، صاحبِ اوصافِ کثیرہ، نائبِ دانائے امت مولائے روم، بہاء الدین محمد المعروف سلطان ولد رومی رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ علیہ الرحمہ حضرت مولائے روم کے پرتو جمیل، اور جانشینِ صادق تھے ۔ علم و عمل، ذہانت و فطانت، اور شکل و شباہت میں ثانیِ مولائے روم حضرت جلال الدین رومی تھے ۔ ان کے وصال کے بعد سلسلۂ مولویہ کی تربیت و اشاعت کی ذمہ دای آپ پر آئی، اور آپ نے اس کو بطریق احسن نبھایا ۔ یہاں یہ بات بہت اہم ہے کہ مولانا نے اپنی وفات کے بعد اپنے مرید و خلیفہ خاص مولانا حسام الدین چلپی علیہ الرحمہ کو اپنا نائب و جانشین منتخب کیا تھا ۔ جو گیارہ سال تک مولانا روم کے وصال کے بعد ان کے جانشین، اور علمی و روحانی امانتوں کے وارث رہے ۔
اس وقت مولانا روم کے صاحبزادے سلطان ولد بھی موجود تھے، اور تمام کمالات کے جامع تھے ۔ لیکن ان کا مقام مولانا چلپی سے کم تھا ۔ اس لئے ان کو منتخب کیا گیا، اور سلطان ولد علیہ الرحمہ گیارہ سال تک ان کی خدمت کرتے رہے اور ان کے حکم کی تعمیل فرماتے رہے ۔ (فی زمانہ اس کی مثال ہمیں نظر نہیں آئی، پیر صاحب کے وصال کے بعد ہر حال میں ان کا صاحبزادہ ہی جانشین ہوگا، چاہے وہ بالکل صفر ہی کیوں نہ ہو، اور پیر صاحب کے مریدوں میں چاہے کوئی کتنا ہی صاحب کمال کیوں نہ ہو، وہ ان کی گدی کا وارث نہیں بن سکتا ہے ۔ اس موروثی سلسلے نے ہمارے خانقاہی نظام کو تباہ و برباد کر دیا ہے، اور پھر جہالت نے رہی سہی کسر پوری کر دی ۔ اور اب مدارس میں بھی یہی موروثی سلسلہ شروع ہو چکا ہے، جس سے مدارس کی حالت ترقی کی بجائے تنزلی کی طرف جا رہی رہے ۔الا ماشاء اللہ) ۔
نام و نسب:
اسم گرامی: بہاء الدین محمد ۔ لقب: سلطان ولد ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
مولانا بہاء الدین محمد بن مولائے روم مولانا محمد جلال الدین رومی بن محمد بہاؤ الدین بن محمد بن حسین بلخی بن احمد بن قاسم بن مسیب بن عبد اللہ بن عبد الرحمن بن ابو بکر صدیق ۔ (رضی اللہ عنہم اجمعین) ۔
آپ مولائے روم حضرت مولانا محمد جلال الدین رومی کے فرزندِ اکبر اور دوسرے جانشین تھے ۔
تاریخ ِولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 25 ربیع الآخر 623ھ / مطابق ماہ اپریل 1226ء کو " لارندہ " میں ہوئی، جسے اب " قرامان " کہتے ہیں ۔
قرامان یہ قونیہ شریف سے 100 کلو میٹر جنوب میں واقع ترکی کا ایک مرکزی شہر ہے ۔
تحصیل علم:
ابتدا ہی سے دانائے امت مولانا جلال الدین رومی ان پر خاص لطف و عنایت روا رکھتے تھے اور انہوں نے اپنے قول و فعل سے بارہا اس توجہ اور مہربانی کا ذکر فرماتے تھے ۔ مولانا نے خود انہیں برہان الدین ابوبکر مرغینانی کی کتاب ہدایہ پڑھائی تھی اور جب وہ سنِ بلوغ کو پہنچ گئے تو بہاء الدین اور ان کے بھائی علاء الدین کو انہوں نے حلب اور دمشق بھیج دیا ۔ شام سے واپسی کے بعد بہاء الدین نے اپنے والد مولانا روم، برہان الدین محقق ترمذی، حضرت شمس تبریزی، صلاح الدین فریدون زرکوب اور حسام الدین چلپی سے علمی و روحانی استفادہ کیا ۔
بیعت و خلافت:
مولانا سلطان ولد نے اپنے والد گرامی حضرت مولائے روم دانائے امت مولانا جلال الدین رومی علیہ الرحمہ سے ظاہر و باطنی علوم کی تحصیل کی، اور ان کے بعد ان کے سلسلہ مولویہ کے منتظم و جانشین قرار پائے ۔ اسی طرح حضرت شمس تبریزی، اور مولانا حسام الدین چلپی سے بھی روحانی استفادہ فرمایا ۔
سیرت و خصائص:
شیخ الاجل، عالم اکمل، صاحبِ اوصافِ کثیرہ، نائبِ دانائے امت مولائے روم، بہاء الدین محمد المعروف سلطان ولد رومی رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ علیہ الرحمہ حضرت مولائے روم کے پرتو جمیل، اور جانشینِ صادق تھے ۔ علم و عمل، ذہانت و فطانت، اور شکل و شباہت میں ثانیِ مولائے روم حضرت جلال الدین رومی تھے ۔ ان کے وصال کے بعد سلسلۂ مولویہ کی تربیت و اشاعت کی ذمہ دای آپ پر آئی، اور آپ نے اس کو بطریق احسن نبھایا ۔ یہاں یہ بات بہت اہم ہے کہ مولانا نے اپنی وفات کے بعد اپنے مرید و خلیفہ خاص مولانا حسام الدین چلپی علیہ الرحمہ کو اپنا نائب و جانشین منتخب کیا تھا ۔ جو گیارہ سال تک مولانا روم کے وصال کے بعد ان کے جانشین، اور علمی و روحانی امانتوں کے وارث رہے ۔
اس وقت مولانا روم کے صاحبزادے سلطان ولد بھی موجود تھے، اور تمام کمالات کے جامع تھے ۔ لیکن ان کا مقام مولانا چلپی سے کم تھا ۔ اس لئے ان کو منتخب کیا گیا، اور سلطان ولد علیہ الرحمہ گیارہ سال تک ان کی خدمت کرتے رہے اور ان کے حکم کی تعمیل فرماتے رہے ۔ (فی زمانہ اس کی مثال ہمیں نظر نہیں آئی، پیر صاحب کے وصال کے بعد ہر حال میں ان کا صاحبزادہ ہی جانشین ہوگا، چاہے وہ بالکل صفر ہی کیوں نہ ہو، اور پیر صاحب کے مریدوں میں چاہے کوئی کتنا ہی صاحب کمال کیوں نہ ہو، وہ ان کی گدی کا وارث نہیں بن سکتا ہے ۔ اس موروثی سلسلے نے ہمارے خانقاہی نظام کو تباہ و برباد کر دیا ہے، اور پھر جہالت نے رہی سہی کسر پوری کر دی ۔ اور اب مدارس میں بھی یہی موروثی سلسلہ شروع ہو چکا ہے، جس سے مدارس کی حالت ترقی کی بجائے تنزلی کی طرف جا رہی رہے ۔الا ماشاء اللہ) ۔
مولانابہاءالدین کا اپنے والد کے ساتھ بڑا قریبی تعلق تھا اور اپنے بھائی کے برخلاف، کہ جنہیں صوفیانہ طریقِ زندگی اور سلوک سے چنداں علاقہ نہیں تھا، وہ ہمیشہ مولانا کی پیروی کرتے تھے، ان کے دوستوں اور مریدوں کے بیچ حاضر ہوتے اور ان کی روش و منش کو اپنے لیے نمونہ قرار دیتے تھے۔ شاید یہی وجہ تھی کہ مولانا اپنے مریدوں اور اقرباء میں سے صلاح الدین زرکوب، حسام الدین چلبی اور بہاءالدین محمد کو اپنے نزدیک ترین لوگوں میں شمار کرتے تھے۔ بہاءالدین صوفیوں کی اکثر محفلوں میں اپنے والد کے ہمراہ حاضر ہوتے تھے اور ان کی اپنے والد سے اتنی شباہتِ ظاہری تھی کہ اغلب انہیں مولانا کا بھائی سمجھا جاتا تھا۔شکل وشباہت میں اپنےوالدکےمشابہ تھے۔
مولاناحسام الدین چلپی کےوصال کےبعدسلسلۂ مولویہ کی ازسرتشکیل نو اور شکل گیری کا آغازمولانا سلطان ولد کی خلافت ہی میں ہوا تھا۔ انہوں نے اپنے والد کے مریدوں کو اپنے گرد جمع کیا اور اس طریقے کے امور کو نظم بخشااورمریدوں کی مدد سے قونیہ میں واقع مولانا کے مزار پر قبہ بنوایا جس نے اس شہر کو مرکزیت بخش دی۔ اس کے بعدانہوں نے اپنی تیس سالہ پیشوائی کے دور میں مولویہ طریقے کے آداب وضع کیے اور مختلف شہروں میں مولویہ خانقاہیں قائم کروا کر اور اپنے نائبوں اور نمائندوں کو بھیج کر مولویہ طریقے کی ترویج کی کوشش کی۔
سلطان ولد اپنے والد کے پہلے سوانح نگار اور ان کے افکار و اشعار کے پہلے مفسر تھے۔ انہوں نے سپہ سالار اور افلاکی سے قبل مولانا کی زندگی اور مولویہ سلسلے کی تاریخ کی تدوین کا آغاز کیا اور ان کی کتابیں مولانا رومی کے بارے میں قابلِ اعتماد ماخذ کا درجہ رکھتی ہیں۔ چند محققوں کے مطابق وہ اولین شخص تھے جنہوں نے مولانا رومی کے خطبوں اور مجالس کو جمع کرنا شروع کیا تھا ۔ نیز کچھ لوگوں کے مطابق مقالاتِ شمس کا قدیم ترین نسخہ بھی سلطان ولد کے ہاتھوں سے لکھا گیا ہے ۔
اسی طرح مولانا سلطان ولد علیہ الرحمہ ایک زبردست محقق، فاضل علوم عقلیہ و نقلیہ، اور ادیب و شاعر تھے، ان کی شاعری میں حضرت مولائے روم کی جھلک پائی جاتی تھی ۔
آپ پہلے شاعر ہیں جنہوں نے ترکی شاعری کو فارسی اوزان و قواعد میں بیان کیا ۔ ترکی کی مقامی اور قومی زبان کی وجہ سے ان کی شاعری کو بہت اہمیت حاصل ہوئی ۔ اسی بناء پر آپ کو عثمانی ملت کا قومی شاعر، اور اس طرز ادب کا بانی کہا ہے ۔ آپ کا دیوان تیرہ ہزار اشعار پر مشتمل ہے، اور اس کے علاوہ مثنوی ولد نامہ یا ابیات نامہ یہ دس ہزار ابیات پر مشتمل ہے ۔ ان کی شاعری عربی، فارسی، ترکی، یونانی زبانوں پر محیط ہے ۔ لیکن ان کو وہ مقام نہیں مل سکا جوان کے والد گرامی مولائے روم کے حصے میں آیا ۔ اس کے علاوہ اور بھی نظم و نثر میں ان بہترین کتب تصنیف فرمائی ہیں ۔
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 10 رجب المرجب 712ھ / مطابق اول ماہ نومبر 1312ء کو ہوا ۔ اپنے والد کے قرب " قونیہ شریف " ترکی میں محو استراحت ہیں ۔
ماخذ و مراجع:
مقدمہ مثنوی معنوی ۔ اردو دائرہ معارف اسلامیہ ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sultan-walad-bin-molana-room
مولاناحسام الدین چلپی کےوصال کےبعدسلسلۂ مولویہ کی ازسرتشکیل نو اور شکل گیری کا آغازمولانا سلطان ولد کی خلافت ہی میں ہوا تھا۔ انہوں نے اپنے والد کے مریدوں کو اپنے گرد جمع کیا اور اس طریقے کے امور کو نظم بخشااورمریدوں کی مدد سے قونیہ میں واقع مولانا کے مزار پر قبہ بنوایا جس نے اس شہر کو مرکزیت بخش دی۔ اس کے بعدانہوں نے اپنی تیس سالہ پیشوائی کے دور میں مولویہ طریقے کے آداب وضع کیے اور مختلف شہروں میں مولویہ خانقاہیں قائم کروا کر اور اپنے نائبوں اور نمائندوں کو بھیج کر مولویہ طریقے کی ترویج کی کوشش کی۔
سلطان ولد اپنے والد کے پہلے سوانح نگار اور ان کے افکار و اشعار کے پہلے مفسر تھے۔ انہوں نے سپہ سالار اور افلاکی سے قبل مولانا کی زندگی اور مولویہ سلسلے کی تاریخ کی تدوین کا آغاز کیا اور ان کی کتابیں مولانا رومی کے بارے میں قابلِ اعتماد ماخذ کا درجہ رکھتی ہیں۔ چند محققوں کے مطابق وہ اولین شخص تھے جنہوں نے مولانا رومی کے خطبوں اور مجالس کو جمع کرنا شروع کیا تھا ۔ نیز کچھ لوگوں کے مطابق مقالاتِ شمس کا قدیم ترین نسخہ بھی سلطان ولد کے ہاتھوں سے لکھا گیا ہے ۔
اسی طرح مولانا سلطان ولد علیہ الرحمہ ایک زبردست محقق، فاضل علوم عقلیہ و نقلیہ، اور ادیب و شاعر تھے، ان کی شاعری میں حضرت مولائے روم کی جھلک پائی جاتی تھی ۔
آپ پہلے شاعر ہیں جنہوں نے ترکی شاعری کو فارسی اوزان و قواعد میں بیان کیا ۔ ترکی کی مقامی اور قومی زبان کی وجہ سے ان کی شاعری کو بہت اہمیت حاصل ہوئی ۔ اسی بناء پر آپ کو عثمانی ملت کا قومی شاعر، اور اس طرز ادب کا بانی کہا ہے ۔ آپ کا دیوان تیرہ ہزار اشعار پر مشتمل ہے، اور اس کے علاوہ مثنوی ولد نامہ یا ابیات نامہ یہ دس ہزار ابیات پر مشتمل ہے ۔ ان کی شاعری عربی، فارسی، ترکی، یونانی زبانوں پر محیط ہے ۔ لیکن ان کو وہ مقام نہیں مل سکا جوان کے والد گرامی مولائے روم کے حصے میں آیا ۔ اس کے علاوہ اور بھی نظم و نثر میں ان بہترین کتب تصنیف فرمائی ہیں ۔
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 10 رجب المرجب 712ھ / مطابق اول ماہ نومبر 1312ء کو ہوا ۔ اپنے والد کے قرب " قونیہ شریف " ترکی میں محو استراحت ہیں ۔
ماخذ و مراجع:
مقدمہ مثنوی معنوی ۔ اردو دائرہ معارف اسلامیہ ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sultan-walad-bin-molana-room
❤2
حضرت ابو محمد عبد الرحیم مغربی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
کنیت ابو محمد تھی اور سر زمین مغرب کے رہنے والے تھے مصر کے سربر آور وہ مشائخ میں شمار ہوتے تھے کرامات عالیہ اور مقامات بلند کے مالک تھے ـ
ایک دن آپ وضو فرمارہے تھے ایک شخص مسلوب الحالت آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور تھوڑا سا پانی مانگا حضرت نے وضو کا باقی ماندہ پانی اسے عطا کیا ایک گھونٹ پیتے ہی سلب شدہ حالت بحال ہو گئی ۔
وصال:
آپ کی وفات ۵۹۶ھ میں ہوئی ۔ آپ کا مزار موضع قنی جو مصر کے قریب ہے واقع ہے ۔
جناب مغربی پیر جہانگیر
یکے لاثانی آمد سال وصلش ۵۹۲ھ
ز دنیا شد چو در فردوس اعلیٰ
دگر عبد الرحیم عابد معلیٰ ۵۹۲ھ
( خزینۃ الاصفیاء )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-abu-muhammad-abdul-rahim-maghribi
کنیت ابو محمد تھی اور سر زمین مغرب کے رہنے والے تھے مصر کے سربر آور وہ مشائخ میں شمار ہوتے تھے کرامات عالیہ اور مقامات بلند کے مالک تھے ـ
ایک دن آپ وضو فرمارہے تھے ایک شخص مسلوب الحالت آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور تھوڑا سا پانی مانگا حضرت نے وضو کا باقی ماندہ پانی اسے عطا کیا ایک گھونٹ پیتے ہی سلب شدہ حالت بحال ہو گئی ۔
وصال:
آپ کی وفات ۵۹۶ھ میں ہوئی ۔ آپ کا مزار موضع قنی جو مصر کے قریب ہے واقع ہے ۔
جناب مغربی پیر جہانگیر
یکے لاثانی آمد سال وصلش ۵۹۲ھ
ز دنیا شد چو در فردوس اعلیٰ
دگر عبد الرحیم عابد معلیٰ ۵۹۲ھ
( خزینۃ الاصفیاء )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-abu-muhammad-abdul-rahim-maghribi
❤1
حضرت مولانا شاہ ابو الحسن پھلواری علیہ الرحمہ
نام:
ابو الحسن نام، فرد تخلص، حضرت شاہ نعمت اللہ پھلواری قدس سرہٗ کے صاحبزادے، مشہور عالم، صوفی، شاعر، دسویں رجب ۱۱۹۱ھ کو پیدا ہوئے ـ
تعلیم:
حضرت مولانا احمدی پھلواروی سے درسیات پڑھیں اور ۱۲۱۱ھ میں فارغ ہوئے ـ
بیعت و خلافت:
بیعت و اجازت و خلافت سب کچھ والد ماجد سے تھی ـ
آپ علیہ الرحمہ نہایت مرتاض، باخدا، صاحب اوقات بزرگ تھے، اعلیٰ درجہ کا شعر کہتے تھے، راسخ عظیم آبادی نے آپ سے مشورۂ سخن کیا ـ
وہابیوں سے نفرت:
آپ کو مولوی اسمٰعیل دہلوی اور ان کے متّبعین سے شدیدی نفرت تھی ـ
بدمذہبوں سے مناظرہ:
سخاوت مرزا صاحب نے ‘‘بصائر’’ سرماہی کراچی شمارۂ اکتوبر ۱۹۶۲ھ صفحہ ۱۸۸ پر لکھا ہے کہ سید احمد رائے بریلوی، مولوی اسمٰعیل، مولوی عبد الحئی سے شاہ ابو الحسن فرد کا ۱۲۳۹ھ میں پھلواری میں مناظرہ ہوا ـ
حضرت شاہ ابو الحسن قدس سرہٗ کا یہ حال تھا، مگر آپ کے صاحبزادے حضرت شاہ علی حبیب نصر کے بعد خانقاہ مجیبیہ کے جانشینوں نے آپ کے مسلک حق پختہ اعتقادی سے انحراف و گریز کیا، اور اس انحراف و گریز کا نقطۂ عروج مولوی محی الدین پھلواروی کا دور سجادگی تھا، رسالہ ‘‘تقبیلُ الاظفار در اذان، اور دیوان فرد مطبوعہ ہے ـ
وصال:
۲۴ محرم ۱۳۶۵ھ میں انتقال ہوا ـ
( آثارات پھلواری )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-shah-abul-hassan-phulwari
نام:
ابو الحسن نام، فرد تخلص، حضرت شاہ نعمت اللہ پھلواری قدس سرہٗ کے صاحبزادے، مشہور عالم، صوفی، شاعر، دسویں رجب ۱۱۹۱ھ کو پیدا ہوئے ـ
تعلیم:
حضرت مولانا احمدی پھلواروی سے درسیات پڑھیں اور ۱۲۱۱ھ میں فارغ ہوئے ـ
بیعت و خلافت:
بیعت و اجازت و خلافت سب کچھ والد ماجد سے تھی ـ
آپ علیہ الرحمہ نہایت مرتاض، باخدا، صاحب اوقات بزرگ تھے، اعلیٰ درجہ کا شعر کہتے تھے، راسخ عظیم آبادی نے آپ سے مشورۂ سخن کیا ـ
وہابیوں سے نفرت:
آپ کو مولوی اسمٰعیل دہلوی اور ان کے متّبعین سے شدیدی نفرت تھی ـ
بدمذہبوں سے مناظرہ:
سخاوت مرزا صاحب نے ‘‘بصائر’’ سرماہی کراچی شمارۂ اکتوبر ۱۹۶۲ھ صفحہ ۱۸۸ پر لکھا ہے کہ سید احمد رائے بریلوی، مولوی اسمٰعیل، مولوی عبد الحئی سے شاہ ابو الحسن فرد کا ۱۲۳۹ھ میں پھلواری میں مناظرہ ہوا ـ
حضرت شاہ ابو الحسن قدس سرہٗ کا یہ حال تھا، مگر آپ کے صاحبزادے حضرت شاہ علی حبیب نصر کے بعد خانقاہ مجیبیہ کے جانشینوں نے آپ کے مسلک حق پختہ اعتقادی سے انحراف و گریز کیا، اور اس انحراف و گریز کا نقطۂ عروج مولوی محی الدین پھلواروی کا دور سجادگی تھا، رسالہ ‘‘تقبیلُ الاظفار در اذان، اور دیوان فرد مطبوعہ ہے ـ
وصال:
۲۴ محرم ۱۳۶۵ھ میں انتقال ہوا ـ
( آثارات پھلواری )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-shah-abul-hassan-phulwari
scholars.pk
Hazrat Molana Shah Abul Hassan Phulwari
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
سند الکاملین، حضرت سید شاہ آلِ برکات ستھرے میاں قادری برکاتی مارہروی رحمۃ الله تعالیٰ علیہ
اسمِ گرامی: ستھرے میاں ۔
اَلقاب: سند الکاملین، شاہ، آلِ برکات ۔
والد ماجد:
اسد العارفین حضرت سیّد شاہ حمزہ عینیؔ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ ۔
ولادت:
سند الکاملین حضرت سیّد شاہ آلِ برکات ستھرے میاں قادری برکاتی مارہروی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی پیدائش 10 رجب المرجب 1163ھ کو ہوئی ۔
تقویٰ:
آپ کو مسجد میں نماز پڑھنے اور یادِ الٰہی کا بہت شوق تھا ۔ مارہرہ شریف میں رہتے ہوئے سخت بیماری کے سبب صرف تین روز آپ مسجد میں نہ جا سکے جس کا عمر بھر قلق رہا ۔
شاعری سے شغف:
آپ شاعر بھی تھے اور ’’ آشفتہ ‘‘ تخلص رکھتے تھے ۔
اَولاد و امجاد:
آپ کے چار (4) صاحبزادے ہیں:
❶ حضرت سیّد شاہ آل امام جما میاں قُدِّسَ سِرُّہٗ ـ ❷ حضرت سیّد شاہ آلِ رسول احمدی قُدِّسَ سِرُّہٗ ـ ❸ حضرت سیّد شاہ اولادِ رسول قُدِّسَ سِرُّہٗ ـ ❹ حضرت سیّد شاہ غلام محی الدین امیر عالم قُدِّسَ سِرُّہٗ۔
مشہور خلفا:
❶ حضرت سیّد شاہ آلِ رسول احمدی قُدِّسَ سِرُّہٗ ـ ❷ حضرت سیّد شاہ اولادِ رسول قُدِّسَ سِرُّہٗ ـ ❸ حضرت سیّد شاہ غلام محی الدین امیر عالم قُدِّسَ سِرُّہٗ ـ ❹ حضرت حافظ نصیر الدین قُدِّسَ سِرُّہٗ۔
خاص کار نامہ:
آپ کو تعمیرات کا بہت شوق تھا، عبادت و ریاضت سے جو بھی وقت ملتا تھا درگاہ و خانقاہ کی تعمیر کے لیے وقف فرماتے تھے۔ در گاہ شریف میں جامع مسجد کی تعمیر جس کا سن تاسیس 1217ھ ہے آپ کا یادگار کار نامہ ہے ۔ یہ مسجد اب بھی خانقاہِ برکاتیہ میں موجود ہے ۔
وصال:
آپ نے 26 رمضان المبارک بروز سنیچر(ہفتہ) 1251ھ کو بوقتِ ظہر داعیِ اجل کو لبیک کہا ۔
بہ شکریہ:
البرکات اسلامک ریسرچ اینڈ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ، انوپ شہر روڈ، علی گڑھ ۔
دعاؤں کا طالب:
محمد حسین مُشاہد رضوی
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-shah-aal-e-barkaat-suthray-miyan-barkati-qadri-marehravi
اسمِ گرامی: ستھرے میاں ۔
اَلقاب: سند الکاملین، شاہ، آلِ برکات ۔
والد ماجد:
اسد العارفین حضرت سیّد شاہ حمزہ عینیؔ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ ۔
ولادت:
سند الکاملین حضرت سیّد شاہ آلِ برکات ستھرے میاں قادری برکاتی مارہروی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی پیدائش 10 رجب المرجب 1163ھ کو ہوئی ۔
تقویٰ:
آپ کو مسجد میں نماز پڑھنے اور یادِ الٰہی کا بہت شوق تھا ۔ مارہرہ شریف میں رہتے ہوئے سخت بیماری کے سبب صرف تین روز آپ مسجد میں نہ جا سکے جس کا عمر بھر قلق رہا ۔
شاعری سے شغف:
آپ شاعر بھی تھے اور ’’ آشفتہ ‘‘ تخلص رکھتے تھے ۔
اَولاد و امجاد:
آپ کے چار (4) صاحبزادے ہیں:
❶ حضرت سیّد شاہ آل امام جما میاں قُدِّسَ سِرُّہٗ ـ ❷ حضرت سیّد شاہ آلِ رسول احمدی قُدِّسَ سِرُّہٗ ـ ❸ حضرت سیّد شاہ اولادِ رسول قُدِّسَ سِرُّہٗ ـ ❹ حضرت سیّد شاہ غلام محی الدین امیر عالم قُدِّسَ سِرُّہٗ۔
مشہور خلفا:
❶ حضرت سیّد شاہ آلِ رسول احمدی قُدِّسَ سِرُّہٗ ـ ❷ حضرت سیّد شاہ اولادِ رسول قُدِّسَ سِرُّہٗ ـ ❸ حضرت سیّد شاہ غلام محی الدین امیر عالم قُدِّسَ سِرُّہٗ ـ ❹ حضرت حافظ نصیر الدین قُدِّسَ سِرُّہٗ۔
خاص کار نامہ:
آپ کو تعمیرات کا بہت شوق تھا، عبادت و ریاضت سے جو بھی وقت ملتا تھا درگاہ و خانقاہ کی تعمیر کے لیے وقف فرماتے تھے۔ در گاہ شریف میں جامع مسجد کی تعمیر جس کا سن تاسیس 1217ھ ہے آپ کا یادگار کار نامہ ہے ۔ یہ مسجد اب بھی خانقاہِ برکاتیہ میں موجود ہے ۔
وصال:
آپ نے 26 رمضان المبارک بروز سنیچر(ہفتہ) 1251ھ کو بوقتِ ظہر داعیِ اجل کو لبیک کہا ۔
بہ شکریہ:
البرکات اسلامک ریسرچ اینڈ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ، انوپ شہر روڈ، علی گڑھ ۔
دعاؤں کا طالب:
محمد حسین مُشاہد رضوی
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-shah-aal-e-barkaat-suthray-miyan-barkati-qadri-marehravi
scholars.pk
Hazrat Syed Shah Aal e Barkaat Suthray Miyan Barkati Qadri Marehravi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles…
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles…
❤1
حضرت امام محمد تقی جواد رضی اللہ عنہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: محمد ۔ کنیت: ابو جعفر ۔ لقب: تقی، جواد، قانع، مرتضیٰ ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
امام محمد تقی بن امام علی رضا بن امام موسیٰ کاظم بن امام محمد جعفر صادق بن امام محمد باقر بن امام زین العابدین بن امام حسین بن حضرت علی بن ابی طالب ۔
آپ کی والدہ کا اسم گرامی ریحان یا سکینہ یا خیزران تھا ۔
تاریخِ ولادت:
آپ 10 رجب المرجب 195ھ / بمطابق اپریل 811ء کو مدینۃ المنورہ میں پیدا ہوئے ۔
تحصیلِ علم:
خاندانی روایت کے مطابق آپ نے تمام علومِ ظاہری وباطنی کی تحصیل اپنے والدِ گرامی اور دیگر شیوخ سے فرمائی۔ آپ اپنے وقت کے علماء و مشائخ میں علم و عمل، اور ہر لحاظ سے ممتاز تھے ۔
شواہد النبوت میں ہے:
کہ حضرت امام تقی رضی اللہ عنہ صغر سنی میں علم و ادب اور فضل میں اس قدر ترقی کر چکے تھے کہ اس زمانے میں کسی کو ایسے ظاہری و باطنی کمالات حاصل نہ تھے ۔
بیعت وخلافت:
آپ اپنے والدِ گرامی حضرت امام علی رضا رضی اللہ عنہ کے جانشین و خلیفہ تھے ۔
سیرت و خصائص:
امام الاولیاء و الاصفیاء، ساداتِ کرام کے نیر عظیم ، خانوادۂ نبوت کے سراج منیر ابو جعفر حضرت امام محمد تقی جواد رضی اللہ تعالیٰ عنہ ۔
آپ آئمۂ اہلِ بیت کے نویں امام ہیں ۔ آپ حسن جمال و علمی کمالات اور جملہ خصائل میں مثل آباء کرام رضی اللہ عنہ کے تھے، بڑے عالم، بڑے عاقل، بڑے حاضر جواب اور صاحبِ کشف و کرامات تھے، خورد سالی میں مراتبِ امامت کو پہنچے، اِن کے فیض باطن سے بہت لوگ مستفیض ہوئے،
خلیفہ مامون الرشید اِن کی کمال تعظیم و توقیر کرتا تھا، جس قدر اِن کے علم و فضل و کمالِ عقل اور فہم و فراست کی حقیقت اُس پر کھُلتی گئی، اُسی قدر وہ تعظیم و تکریم میں مبالغہ کرتا گیا، آخر اپنی بیٹی امّ الفضل سے اِنکا نِکاح کر دیا، اور ہزار دینار خرچ سالانہ آپ کو نذرانہ پیش کرتا رہا ۔
ایک بار خلیفہ مامون نے قاضی یحییٰ بن اکثم رحمۃ اللہ علیہ سے جو متبحر عالم تھا، اِن کا مناظرہ کروایا، جس میں وہ نہایت لاجواب ہوا، اور اِن کو نمایاں فتح ہوئی، اور اراکینِ دولت و اعیانِ سلطنت کی طرف سے احسنت احسنت کے آوازے آنے لگے ۔
روحانی قوت و تصرف کایہ عالم تھا کہ ایک مرتبہ آپ مدینۃ المنورہ جا رہے تھے۔ جب کوفہ پہنچے شام کے وقت مسجد میں قیام فرمایا۔ مسجد کے صحن میں ایک بیری کا درخت تھا جو بالکل خشک تھا۔ آپ نے پانی کا کوزہ منگوا کر اس درخت کے نیچے وضو کیا اور مغرب کی نماز جماعت کے ساتھ ادا کی۔ اس کے بعد آپ اس درخت کے نیچے پہنچے، تو دیکھا کہ بغیر گٹھلی کے درخت پر پھل آ گیا اور لوگوں نے تازہ اور میٹھا پھل بطور تبر ک حاصل کیا اور کھایا، اور بعد میں بطورِ تبرک لوگ اس سے پھل لے جاتے تھے ۔
اسی طرح جب خلیفہ مأمون فوت ہوا تو امام موصوف نے فرمایا کہ میری وفات مامون کی وفات کے تیس ماہ بعد ہوگی۔ چنانچہ یہی ہوا کہ مامون کی وفات کےتیس ماہ بعد امام صاحب کا بھی وصال ہو گیا۔ (بارہ امام: 202) ـ
وصال:
آپ کا وصال 6 ذو الحجہ 220ھ / بمطابق نومبر 835ء کو ہوا ۔ آپ کی قبر انور (بغداد شریف، عراق) میں اپنے جد مکرم حضرت امام موسیٰ کاظم رضی اللہ عنہ کے مقبرے میں ہے ۔
ماخذ و مراجع:
اقتباس الانوار ۔ خزینۃ الاصفیاء ۔ شواہد النبوت ۔ بارہ امام ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-imam-muhammad-taqi-jawwad
نام و نسب:
اسمِ گرامی: محمد ۔ کنیت: ابو جعفر ۔ لقب: تقی، جواد، قانع، مرتضیٰ ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
امام محمد تقی بن امام علی رضا بن امام موسیٰ کاظم بن امام محمد جعفر صادق بن امام محمد باقر بن امام زین العابدین بن امام حسین بن حضرت علی بن ابی طالب ۔
آپ کی والدہ کا اسم گرامی ریحان یا سکینہ یا خیزران تھا ۔
تاریخِ ولادت:
آپ 10 رجب المرجب 195ھ / بمطابق اپریل 811ء کو مدینۃ المنورہ میں پیدا ہوئے ۔
تحصیلِ علم:
خاندانی روایت کے مطابق آپ نے تمام علومِ ظاہری وباطنی کی تحصیل اپنے والدِ گرامی اور دیگر شیوخ سے فرمائی۔ آپ اپنے وقت کے علماء و مشائخ میں علم و عمل، اور ہر لحاظ سے ممتاز تھے ۔
شواہد النبوت میں ہے:
کہ حضرت امام تقی رضی اللہ عنہ صغر سنی میں علم و ادب اور فضل میں اس قدر ترقی کر چکے تھے کہ اس زمانے میں کسی کو ایسے ظاہری و باطنی کمالات حاصل نہ تھے ۔
بیعت وخلافت:
آپ اپنے والدِ گرامی حضرت امام علی رضا رضی اللہ عنہ کے جانشین و خلیفہ تھے ۔
سیرت و خصائص:
امام الاولیاء و الاصفیاء، ساداتِ کرام کے نیر عظیم ، خانوادۂ نبوت کے سراج منیر ابو جعفر حضرت امام محمد تقی جواد رضی اللہ تعالیٰ عنہ ۔
آپ آئمۂ اہلِ بیت کے نویں امام ہیں ۔ آپ حسن جمال و علمی کمالات اور جملہ خصائل میں مثل آباء کرام رضی اللہ عنہ کے تھے، بڑے عالم، بڑے عاقل، بڑے حاضر جواب اور صاحبِ کشف و کرامات تھے، خورد سالی میں مراتبِ امامت کو پہنچے، اِن کے فیض باطن سے بہت لوگ مستفیض ہوئے،
خلیفہ مامون الرشید اِن کی کمال تعظیم و توقیر کرتا تھا، جس قدر اِن کے علم و فضل و کمالِ عقل اور فہم و فراست کی حقیقت اُس پر کھُلتی گئی، اُسی قدر وہ تعظیم و تکریم میں مبالغہ کرتا گیا، آخر اپنی بیٹی امّ الفضل سے اِنکا نِکاح کر دیا، اور ہزار دینار خرچ سالانہ آپ کو نذرانہ پیش کرتا رہا ۔
ایک بار خلیفہ مامون نے قاضی یحییٰ بن اکثم رحمۃ اللہ علیہ سے جو متبحر عالم تھا، اِن کا مناظرہ کروایا، جس میں وہ نہایت لاجواب ہوا، اور اِن کو نمایاں فتح ہوئی، اور اراکینِ دولت و اعیانِ سلطنت کی طرف سے احسنت احسنت کے آوازے آنے لگے ۔
روحانی قوت و تصرف کایہ عالم تھا کہ ایک مرتبہ آپ مدینۃ المنورہ جا رہے تھے۔ جب کوفہ پہنچے شام کے وقت مسجد میں قیام فرمایا۔ مسجد کے صحن میں ایک بیری کا درخت تھا جو بالکل خشک تھا۔ آپ نے پانی کا کوزہ منگوا کر اس درخت کے نیچے وضو کیا اور مغرب کی نماز جماعت کے ساتھ ادا کی۔ اس کے بعد آپ اس درخت کے نیچے پہنچے، تو دیکھا کہ بغیر گٹھلی کے درخت پر پھل آ گیا اور لوگوں نے تازہ اور میٹھا پھل بطور تبر ک حاصل کیا اور کھایا، اور بعد میں بطورِ تبرک لوگ اس سے پھل لے جاتے تھے ۔
اسی طرح جب خلیفہ مأمون فوت ہوا تو امام موصوف نے فرمایا کہ میری وفات مامون کی وفات کے تیس ماہ بعد ہوگی۔ چنانچہ یہی ہوا کہ مامون کی وفات کےتیس ماہ بعد امام صاحب کا بھی وصال ہو گیا۔ (بارہ امام: 202) ـ
وصال:
آپ کا وصال 6 ذو الحجہ 220ھ / بمطابق نومبر 835ء کو ہوا ۔ آپ کی قبر انور (بغداد شریف، عراق) میں اپنے جد مکرم حضرت امام موسیٰ کاظم رضی اللہ عنہ کے مقبرے میں ہے ۔
ماخذ و مراجع:
اقتباس الانوار ۔ خزینۃ الاصفیاء ۔ شواہد النبوت ۔ بارہ امام ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-imam-muhammad-taqi-jawwad
❤1
حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ
یوم وصال: 10 رجب المرجب 33 ھ
حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے مشہور اصحاب میں سے تھے ۔ ابتدائی طور پر ان کا تعلق زرتشتی مذہب سے تھا مگر حق کی تلاش ان کو اسلام کے دامن تک لے آئی ۔ آپ کئی زبانیں جانتے تھے اور مختلف مذاہب کا علم رکھتے تھے ۔ حضرت محمد ﷺ کے بارے میں مختلف مذاہب کی پیشین گوئیوں کی وجہ سے وہ اس انتظار میں تھے کہ نبی آخر الزماں حضرت محمد ﷺ کا ظہور ہو اور وہ حق کو اختیار کر سکیں ۔
آپ کا نسب:
نسبی تعلق اصفہان کے آب الملک کے خاندان سے تھا، مجوسی نام مابہ تھا، اسلام کے بعد سلمان رکھا گیا اور بارگاہِ نبوت سے سلمان الخیر لقب ملا، ابو عبد اللہ، کنیت ہے ـ
سلسلۂ نسب یہ ہے:
مابہ ابن بوذخشان بن مورسلان بن یہوذان بن فیروز ابن سہرک ۔
حالات:
سلمان فارسی رضی اللہ عنہ ایران کے شہر اصفہان کے ایک گاؤں روزبہ میں پیدا ہوئے ۔ آپ کے والد کا تعلق زرتشتی مذہب سے تھا ۔ مگر سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کا دل سچ کی تلاش میں تھا ۔ پہلے آپ نے عیسائیت اختیار کی اور حق کی تلاش جاری رکھی ۔ ایک عیسائی راہب نے انہیں بتایا کہ ایک سچے نبی کی آمد قریب ہے جس کی پیشین گوئی پرانی مذہبی کتابوں میں موجود ہے ۔ اس با علم راہب نے اس نبی کا حلیہ اور ان کے ظہور کی ممکنہ جگہ یعنی مدینہ کے بارے میں بھی بتایا جو اس وقت یثرب کہلاتا تھا ۔
یہ جاننے کے بعد حضرے سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے مدینہ منورہ جانے کی کوشش شروع کر دی ۔ مدینہ منورہ کے راستے میں ان کو ایک عرب بدوی گروہ نے دھوکے سے ایک یہودی کے ہاتھ غلام کے طور پر بیچ دیا، یہ یہودی مدینہ منورہ میں رہتا تھا ـ
چنانچہ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ پہنچ گئے اور اس یہودی کے باغ میں سخت محنت پر مجبور ہو گئے ۔ کچھ عرصے کے بعد انہوں نے سنا کہ ایک نبوت کے دعوے دار مکہ شہر سے ہجرت کر کے مدینہ منورہ آئے ہیں ۔ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے ان کی خصوصیات سے فوراً پہچان لیا کہ یہی اللہ کے سچے نبی ہیں ۔ انہوں نے مہر نبوت بھی ملاحظہ کی ۔ اس وقت انہوں نے اسلام قبول کر لیا ۔ ان کو غلامی سے آزادی دلانے کے لئے رسول اللہ ﷺ نے خود اپنے ہاتھ سے کھجور کے درخت بوئے جس کا مقصد یہودی کی شرط پوری کرنا تھا ۔
فضائل و مناقب:
ان کے بارے میں حضور ﷺ کا ارشاد ہے کہ اگر ایمان ثریا کے پاس بھی ہوگا تو اس کی قوم کے لوگ اس کو ضرور تلاش کر لیں گے ۔ (صحیح البخاری حدیث: 4897) (یہ حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی ذات پر دلالت کرتی ہے، کیونکہ امام صاحب کا تعلق اسی قوم سے تھا، اور آج تک اس قوم میں حضرت امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ جیسی شخصیت کا ظہور نہیں ہوا) ۔ غزوۂ خندق کے موقع پر خندق کی کھدائی میں حضرت سلمان فارسی سب سے زیادہ سر گرم تھے ۔ اس پر مہاجرین نے کہا کہ "سلمان ہمارا ہے" انصار نے یہ سنا تو کہا "سلمان ہمارا ہے" ۔
رسول اللہ ﷺ تک یہ بات پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا " سلمان منا اہل البیت " یعنی سلمان ہمارے اہل بیت میں سے ہے ، اس لئے سلمان کو مہاجرین یا انصار کے بجائے (بطورِ تکریماً) اہل بیت میں شمار کیا گيا ۔ (مستدرک علی الصحیحین: 6539 / معجم الکبیر: 6040) ـ
زہد و تقویٰ:
ان کا زہد و ورع اس حد تک پہنچ گیا تھا کہ جس کے بعد رہبانیت کی حد شروع ہو جاتی ہے، اس کی ادنی مثال یہ ہے کہ عمر بھر گھر نہیں بنایا، جہاں کہیں دیوار یا درخت کا سایہ ملتا پڑے رہتے، ایک شخص نے اجازت چاہی کہ میں آپ کے لیے مکان بنا دوں؟ فرمایا: مجھ کو اس کی حاجت نہیں، وہ پیہم اصرار کرتا رہا، یہ برابر اِنکار کرتے رہے، آخر میں اس نے کہا کہ آپ کی مرضی کے مطابق بناؤںگا، فرمایا: وہ کیسا؟ عرض کیا کہ اتنا مختصر کہ کھڑے ہوں تو سر چھت سے مل جائے اور اگر آرام کریں تو پیر دیواروں سے لگیں، فرمایا خیر اس میں کوئی مضائقہ نہیں؛ چنانچہ اس نے ایک جھونپڑی بنا دی ۔
مواخاۃ:
حضور ﷺ نے حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ سے مواخاۃ (بھائی چارہ) قائم فرما دیا تھا، اور پھر ان میں ایسی محبت تھی کہ حقیقی بھائیوں میں بھی باید و شاید ۔
وصال:
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کو 656ء میں مدائن کا گورنر مقرر کیا مگر وہاں جانے کے چند ہفتے بعد آپ کا انتقال ہو گیا ۔ آپ کی وفات 10 رجب المرجب 33 ہجری میں ہوئی ۔ آپ کا مزار مدائن میں ہے ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-salman-farsi
یوم وصال: 10 رجب المرجب 33 ھ
حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے مشہور اصحاب میں سے تھے ۔ ابتدائی طور پر ان کا تعلق زرتشتی مذہب سے تھا مگر حق کی تلاش ان کو اسلام کے دامن تک لے آئی ۔ آپ کئی زبانیں جانتے تھے اور مختلف مذاہب کا علم رکھتے تھے ۔ حضرت محمد ﷺ کے بارے میں مختلف مذاہب کی پیشین گوئیوں کی وجہ سے وہ اس انتظار میں تھے کہ نبی آخر الزماں حضرت محمد ﷺ کا ظہور ہو اور وہ حق کو اختیار کر سکیں ۔
آپ کا نسب:
نسبی تعلق اصفہان کے آب الملک کے خاندان سے تھا، مجوسی نام مابہ تھا، اسلام کے بعد سلمان رکھا گیا اور بارگاہِ نبوت سے سلمان الخیر لقب ملا، ابو عبد اللہ، کنیت ہے ـ
سلسلۂ نسب یہ ہے:
مابہ ابن بوذخشان بن مورسلان بن یہوذان بن فیروز ابن سہرک ۔
حالات:
سلمان فارسی رضی اللہ عنہ ایران کے شہر اصفہان کے ایک گاؤں روزبہ میں پیدا ہوئے ۔ آپ کے والد کا تعلق زرتشتی مذہب سے تھا ۔ مگر سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کا دل سچ کی تلاش میں تھا ۔ پہلے آپ نے عیسائیت اختیار کی اور حق کی تلاش جاری رکھی ۔ ایک عیسائی راہب نے انہیں بتایا کہ ایک سچے نبی کی آمد قریب ہے جس کی پیشین گوئی پرانی مذہبی کتابوں میں موجود ہے ۔ اس با علم راہب نے اس نبی کا حلیہ اور ان کے ظہور کی ممکنہ جگہ یعنی مدینہ کے بارے میں بھی بتایا جو اس وقت یثرب کہلاتا تھا ۔
یہ جاننے کے بعد حضرے سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے مدینہ منورہ جانے کی کوشش شروع کر دی ۔ مدینہ منورہ کے راستے میں ان کو ایک عرب بدوی گروہ نے دھوکے سے ایک یہودی کے ہاتھ غلام کے طور پر بیچ دیا، یہ یہودی مدینہ منورہ میں رہتا تھا ـ
چنانچہ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ پہنچ گئے اور اس یہودی کے باغ میں سخت محنت پر مجبور ہو گئے ۔ کچھ عرصے کے بعد انہوں نے سنا کہ ایک نبوت کے دعوے دار مکہ شہر سے ہجرت کر کے مدینہ منورہ آئے ہیں ۔ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے ان کی خصوصیات سے فوراً پہچان لیا کہ یہی اللہ کے سچے نبی ہیں ۔ انہوں نے مہر نبوت بھی ملاحظہ کی ۔ اس وقت انہوں نے اسلام قبول کر لیا ۔ ان کو غلامی سے آزادی دلانے کے لئے رسول اللہ ﷺ نے خود اپنے ہاتھ سے کھجور کے درخت بوئے جس کا مقصد یہودی کی شرط پوری کرنا تھا ۔
فضائل و مناقب:
ان کے بارے میں حضور ﷺ کا ارشاد ہے کہ اگر ایمان ثریا کے پاس بھی ہوگا تو اس کی قوم کے لوگ اس کو ضرور تلاش کر لیں گے ۔ (صحیح البخاری حدیث: 4897) (یہ حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی ذات پر دلالت کرتی ہے، کیونکہ امام صاحب کا تعلق اسی قوم سے تھا، اور آج تک اس قوم میں حضرت امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ جیسی شخصیت کا ظہور نہیں ہوا) ۔ غزوۂ خندق کے موقع پر خندق کی کھدائی میں حضرت سلمان فارسی سب سے زیادہ سر گرم تھے ۔ اس پر مہاجرین نے کہا کہ "سلمان ہمارا ہے" انصار نے یہ سنا تو کہا "سلمان ہمارا ہے" ۔
رسول اللہ ﷺ تک یہ بات پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا " سلمان منا اہل البیت " یعنی سلمان ہمارے اہل بیت میں سے ہے ، اس لئے سلمان کو مہاجرین یا انصار کے بجائے (بطورِ تکریماً) اہل بیت میں شمار کیا گيا ۔ (مستدرک علی الصحیحین: 6539 / معجم الکبیر: 6040) ـ
زہد و تقویٰ:
ان کا زہد و ورع اس حد تک پہنچ گیا تھا کہ جس کے بعد رہبانیت کی حد شروع ہو جاتی ہے، اس کی ادنی مثال یہ ہے کہ عمر بھر گھر نہیں بنایا، جہاں کہیں دیوار یا درخت کا سایہ ملتا پڑے رہتے، ایک شخص نے اجازت چاہی کہ میں آپ کے لیے مکان بنا دوں؟ فرمایا: مجھ کو اس کی حاجت نہیں، وہ پیہم اصرار کرتا رہا، یہ برابر اِنکار کرتے رہے، آخر میں اس نے کہا کہ آپ کی مرضی کے مطابق بناؤںگا، فرمایا: وہ کیسا؟ عرض کیا کہ اتنا مختصر کہ کھڑے ہوں تو سر چھت سے مل جائے اور اگر آرام کریں تو پیر دیواروں سے لگیں، فرمایا خیر اس میں کوئی مضائقہ نہیں؛ چنانچہ اس نے ایک جھونپڑی بنا دی ۔
مواخاۃ:
حضور ﷺ نے حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ سے مواخاۃ (بھائی چارہ) قائم فرما دیا تھا، اور پھر ان میں ایسی محبت تھی کہ حقیقی بھائیوں میں بھی باید و شاید ۔
وصال:
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کو 656ء میں مدائن کا گورنر مقرر کیا مگر وہاں جانے کے چند ہفتے بعد آپ کا انتقال ہو گیا ۔ آپ کی وفات 10 رجب المرجب 33 ہجری میں ہوئی ۔ آپ کا مزار مدائن میں ہے ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-salman-farsi
scholars.pk
Hazrat Salman Farsi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
👍2❤1