🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
09-07-1445 ᴴ | 21-01-2024 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
09-07-1445 ᴴ | 21-01-2024 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
Forwarded from Muḥammad Qāsim al-Qādirī al-Azʾharī (Qāsim Saifī)
ख़्वाजा का एक अनोखा आ़शिक़

राफ़िज़ी मुजाविरों, और नाम निहाद चिश्तियों के मुंह पर ज़ोरदार तमाचा:

मैं आपको एक ऐसे आ़शिक़े ग़रीब नवाज़ की बारगाह में ले चलता हूँ, जिसकी ज़िन्दगी का एक-एक लम्ह़ा ख़िदमते दीन, व इश्क़े रसूल (ﷺ ❤️) का आईना, आ़शिक़ाने रसूल (ﷺ ❤️) के लिए ख़ज़ीना, और दुश्मनों के लिए शम्शीरे बरहना है. जिसे दुनिया 'इमामे अहले सुन्नत', व 'मुजद्दिदे दीनो मिल्लत' के अल्क़ाब से याद करती है. यानी:

आ़ला ह़ज़रत इमाम अह़मद रज़ा खा़न ह़नफ़ी क़ादिरी बरकाती बरेलवी (अलैहिर्रह़मह) की बारगाह में;

जिनके सामने एक इस्तिफ़्ता पेश किया गया कि:

"क्या अजमेर के साथ 'शरीफ़' न लिखना, और असली नाम 'ग़ुलामे मुई़नुद्दीन' पर 'ग़ुलाम' न लिखना, ख़िलाफ़े अ़क़ीद-ए-अहले सुन्नत है, या नहीं?"

आपने जवाब में इरशाद फ़रमाया:

"अजमेर शरीफ़ के नामे पाक के साथ लफ्ज़े 'शरीफ़' न लिखना, और इन तमाम मवाक़िअ़ में इसका इल्तिज़ाम करना, अगर इस बिना पर है कि हुज़ूर सय्यिदुना ख़्वाजा ग़रीब नवाज़ (रद़ियल्लाहु अ़न्हु) की जलवा अफरोज़ी, ह़याते ज़ाहिरी, व मज़ारे पुर-अनवार को (जिस के सबब मुसलमान अजमेर शरीफ़ कहते हैं), वज्हे शराफ़त नहीं जानता, तो वो गुमराह, बल्कि अ़दुव्वुल्लाह (अल्लाह का दुश्मन) है. स़ह़ीह़ बुख़ारी शरीफ़ में है कि रसूलुल्लाह (ﷺ ❤️) इरशाद फरमाते हैं कि:

"अल्लाह (ﷻ) इरशाद फ़रमाता है:

"مَنْ عَادَى لِي وَلِيًّا فَقَدْ آذَنْتُهُ بِالحَرْبِ..."،

"जिसने मेरे वली से दुश्मनी मोल ली, मेरी जानिब से उसके लिए ऐलाने जंग है....",

और अगर ये नापाक इल्तिज़ाम, बर बिनाए कसल, व कोताहे क़लमी है, तो सख़्त बे-बरकता, और फ़ज़्ले अ़ज़ीम व ख़ैरे जसीम से मह़रूम है;
और अगर इसका मबना, वह्हाबिय्यत है, तो वह्हाबिय्यत कुफ़्र है, इसके बाद ऐसी बातों की क्या शिकायत?

अपने नाम से 'ग़ुलाम' का ह़ज़्फ़ अगर इस बिना पर है, कि ह़ुज़ूर ख़्वाजा-ए-ख़्वाजगां (रद़ियल्लाहु अ़न्हु) का ग़ुलाम बनने से इंकार व इस्तिक्बार रखता है, तो बदस्तूर गुमराह, और बह़ुक्मे ह़दीसे मज़्कूर, अ़दुव्वुल्लाह (अल्लाह का दुश्मन) है, और इसका ठिकाना जहन्नम है. अल्लाह (ﷻ) ने फ़रमाया:

"أَلَيْسَ فِي جَهَنَّمَ مَثْوًى لِلْمُتَكَبِّرِينَ"،

"क्या मग़रूर का ठिकाना जहन्नम नहीं ?"
[क़ुरआन, 39:60]

और अगर बर बिनाए वह्हाबियत है, कि ग़ुलामे औलिया-ए-किराम बनने वालों को मुशरिक, और 'ग़ुलामे मुह़िय्युद्दीन', व 'ग़ुलामे मुई़नुद्दीन' को शिर्क जानता है, तो वह्हाबिय्यह ख़ुद ज़िन्दीक़, बेदीन, कुफ़्फ़ार, व मुर्तद्दीन हैं;

"وَلِلْكَافِرِينَ عَذَابٌ مُّهِينٌ"،

"और काफिरों के लिए ख़्वारी का अज़ाब है."
[क़ुरआन, 2:90]

📙फ़तावा रज़विय्यह, 6:187-188, रज़ा अकैडमी (मुम्‍बई)
_____
दूसरी जगह अपने ग़ौस व ख़्वाजा की ग़ुलामी का सुबूत देते हुए लिखते हैं:

"हुज़ूर सय्यिदुना ग़ौसे आ़ज़म (रद़ियल्लाहु अ़न्हु) ज़रूर दस्तगीर हैं, और ह़ज़रत सुल्त़ानुल् हिन्द मुई़नुल्-हक़्क़ि वद्-दीन, ज़रूर ग़रीब नवाज़."

📙फ़तावा रज़विय्यह, 11:43, रज़ा अकैडमी (मुंबई)
___
मुह़म्मद क़ासिमुल् क़ादिरी
14/03/19 ई.
1
Forwarded from Muḥammad Qāsim al-Qādirī al-Azʾharī (Qāsim Saifī)
मुल्ह़िदीन का वसवसा

आक़ा (ﷺ 💚) ने इरशाद फ़रमाया:

"يَأْتِي الشَّيْطَانُ أَحَدَكُمْ، فَيَقُولَ: 'مَنْ خَلَقَ كَذَا وَكَذَا؟' حَتَّى يَقُولَ لَهُ: 'مَنْ خَلَقَ رَبَّكَ؟' فَإِذَا بَلَغَ ذَلِكَ، فَلْيَسْتَعِذْ بِاللهِ وَلْيَنْتَهِ."

"तुम में से किसी के पास शैतान आएगा, तो पूछेगा: 'फ़ुलां-फ़ुलां चीज़ को किसने पैदा किया?'
यहां तक कि ये (सवाल) भी पूछेगा: 'तुम्हारे रब को किसने पैदा किया?'
तो जिसके साथ ऐसा हो, तो वो अऊ़ज़ु-बिल्लाह पढ़े, और (ऐसे वसवसों की तरफ़) तवज्जुह न दे."

📙स़ह़ीह़ मुस्लिम, किताबुल् ईमान, बाब: बयानुल् वस्वसह फ़िल् ईमान, ह़दीस न. 214, जिल्द न. 1, पेज न. 120, पब्लिकेशन: दारु इह़्याइत् तुरासिल् अ़रबिय्यि (बेरूत)
______
मुह़म्मद क़ासिमुल् क़ादिरी अल्-अज़्हरी
20/12/20 ई.
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
💯1
حضرت خواجہ حاجی شریف زندنی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

آپ بڑے احوال عجبہ اور مقامات غریبہ کے مالک تھے آپ مقتدائے مشائخ اور پیشوائے ابدال تھے آپ کا لقب نیر الدین تھا۔ حضرت خواجہ موجود چشتی رحمۃ اللہ علیہ سے خرقۂ خلافت پایا تھا۔ چودہ سال کی عمر سے باوضو رہنے لگے۔

کپڑے پرانے اور پیوند شدہ پہنتے تھے۔ فقر و تجرید پر کار بند رہے، آپ کا روزہ بھی مسلسل روزہ تھا،تین روز کے بعد بے نمک سبزی سے روزہ افطار کرتے تھے۔ اس سبزی میں یہ کمال تھا کہ آپ کا تبرک کوئی اور کھاتا تو مجذوب ہوجاتا۔ اگر سماع سن لیتا تو اس قدر روتا کہ بے ہوش ہوجاتا، اگر دنیا پرست ایک بار مجلس سماع میں شریک ہوتا تو تارک الدنیا ہوجاتا تھا۔

ایک فکر مند فقیر جس کی سات بیٹیاں تھیں، اور غربت و افلاس کی وجہ سے سخت پریشان تھا۔ حضرت کی خدمت میں حاضر ہوا، عرض کی اگر آپ کی نگاہ فیضان سے میرے رزق میں کشادگی ہوجائے اور بیٹیوں کے نکاح سے فارغ ہوجاؤں تو ساری عمر دعا گو رہوں گا، آپ نے فرمایا: تم کل آنا، کوئی تدبیر سوچیں گے، درویش چلا گیا، جاتے ہوئے راستہ میں اسے ایک یہودی سے ملاقات ہوئی، یہودی نے درویش سے پوچھا کہ تم کہاں گئے تھے، اس نے اپنی پریشانی مشکلات کا مسئلہ حضرت حاجی صاحب کے کل آنے کا حکم اور دوسرے حالات سنائے، یہودی کہنے لگا، حاجی شریف تو خود محتاج اور تہی دست ہیں تمہاری کیا مدد کریں گے، تم حاجی صاحب کے پاس واپس جاؤ اور انہیں کہو کہ فلاں یہودی نے کہا ہے کہ اگر خواجہ شریف سات سال میری خدمت کا وعدہ کر لیں تو میں آج ہی سات ہزار سرخ دینار دینے کو تیار ہوں وہ درویش واپس حاضر خدمت ہوا سارا واقعہ سنایا ـ

حضرت حاجی صاحب نے سنتے ہی فرمایا مجھے منظور ہے اور اُسی وقت اٹھ کر اس کے ساتھ یہودی کے پاس چلے گئے سات ہزار دینار اس درویش کو دلادیے اور خود خدمت گزاری پر آمادہ ہوگئے، بادشاہ کو اس واقعہ کی اطلاع ہوئی تو اس نے حضرت خواجہ کی خدمت میں سات ہزار دینار بھیجے تاکہ یہودی کا قرضہ دے کر فارغ ہوجائیں، حضرت حاجی صاحب نے یہ سات ہزار بھی غریبوں میں تقسیم کرکے فرمایا، میں نے یہودی کی سات سالہ نوکری کا عہد کیا ہے اب اس عہد سے پھرنا مناسب نہیں یہودی نے حضرت حاجی صاحب کی استقامت سن کر اپنا قرضہ معاف کردیا اور حضرت کو آزاد کردیا، آپ نے یہودی کو فرمایا کہ تم نے مجھے آزاد کیا ہے میرا اللہ تمہیں آتش دوزخ سے آواز کرے، یہودی یہ دعا سن کر مسلمان ہوگیا اور مقبولان خدا سے ہوگیا۔

سفینۃ الاولیاء کے مصنف نے لکھا ہے کہ کسی شخص نے شہنشاہ سنجر کو اس کے مرنے کے بعد خواب میں دیکھا پوچھا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے ساتھ کیا سلوک کیا سنجر نے بتایا مجھے حکم دیا گیا کہ دوزخ کے شعلوں کے حوالے کردیا جائے، عذاب کے فرشتے لیے جا رہے تھے کہ آواز آئی شاہ سنجر کو چھوڑ دو، اس نے ایک دن حضرت خواجہ شریف زندنی کی مجلس میں نیاز مندانہ حاضری دی تھی، اس مجلس کی برکت سے اسے بخش دیا گیا ہے۔ چنانچہ مجھے رہائی مل گئی۔

آپ کی وفات دس رجب المرجب چھ سو بارہ ہجری کو ہوئی، آپ کی عمر مبارک ایک سو بیس سال تھی۔

چون شریف از عالم دنیا برفت
سال وصل آں شہ والا حنیف

کن رقم مہتاب دیں اہلِ دین ۶۱۲ھ
نیز کن تحریر حاجیٔ شریف ۶۱۲ھ
2
علماء کے مقتدا اولیاء کے پیشوا خواجہ شریف زندنی ہیں جو حقائق حقیقت کے کلمات میں اپنے زمانہ کے مشائخ کبار میں بے نظیر اور عدیم المثال شہرت رکھتے تھے اس عہد کے تمام علما و فضلا بالخصوص اہل حقیقت آپ کی طرف متوجہ تھے آپ نے خرقہ ارادت خواجہ قطب الملۃ الدین مودود چشتی کی خدمت سے زیب تن فرمایا تھا۔ منقول ہے کہ خواجہ حاجی شریف زندنی نے چالیس سال تک مخلوق سے علیحدگی اختیار کر کے جنگل و بیان میں زندگی بسر کی اور اس عرصہ میں صرف درختوں کے پتے اور جنگلی میئووں کے کھانے پر قناعت کی۔ آپ کے زہد اور ترک دنیا کا یہ حال تھا کہ جب کوئی شخص آپ کی خدمت میں حاضر ہوتا تو خادم اس سے تاکیداً کہہ دیتے کہ دیکھو خواجہ کے سامنے دنیا کا ذکر ہر گز نہ کرنا اور اس کی کوئی حکایت آپ کے سامنے بیان نہ کرنا ورنہ زیارت کی سعادت سے محروم و بے نصیب رہو گے۔ منقول ہے کہ ایک دن ایک شخص خواجہ کی خدمت میں کچھ نقدی لایا آپ نے نہایت تند اور قہر ناک آواز میں فرمایا کہ تجھے درویشوں سے کیا عداوت ہے جو خدا کے دشمن کو میرے پاس لایا ہے یہ کہہ کر آپ نے ارشاد کیا کہ ذرا صحرا کی طرف آنکھ اُٹھا کر دیکھ ـ

وہ شخص دیکھتا ہے کہ صحرا میں ایک بڑا عظیم الشان سونے کا دریا پڑا لہریں لے رہا ہے ازاں بعد خواجہ نے فرمایا کہ بھلا جس شخص کو خزانۂ غیب میں تصرف کرنے کی پوری قدرت حاصل ہو وہ تمہارے اس حقیر و نا چیز مال کی طرف کب نظر کرسکتا ہے۔ منقول ہے کہ سلطان سنجر کو لوگوں نے خواب میں دیکھ کر پوچھا کہ خدا نے تمہارے ساتھ کیسا برتاؤ کیا۔ کہا میں نے جو نیک و بد کام دنیا میں کیے تھے ایک ایک میری آنکھوں کے سامنے رکھے گئے اور عذاب کے فرشتوں کو حکم صادر ہوا کہ اسے دوزخ میں لے جاکر داخل کرو۔ ابھی میں دوزخ کے فرشتوں کے ہاتھ میں نہ گیا تھا کہ دوبارہ یہ فرمان صادر ہوا چونکہ اس شخص نے فلاں دن دمشق کی مسجد میں خواجہ حاجی شریف زندنی کی قدم بوسی حاصل کی تھی لہذا میں نے ان کی برکت سے اسے بخش دیا۔

( سیر الاولیاء )

آپ کے دوسرے خلیفہ حضرت خواجہ ھاجی شریف زندنی قدس سرہٗ ہیں جو بہت بڑے بزرگ تھے اور حضرت خواجہ مودود چشتی کے نائب کل، خلیفۂ مطلق، سجادگی صوری ومعنوی کے وارث اور نعمت ولایت ظاہری وباطنی کے حامل تھے۔ حضرت خواجہ مودود قدس سرہٗ کو اپنے مشائخ سے جو نعمت ملی تھی آپ نے آخری وقت میں خواجہ شریف زندنی کو عطا فرمائی۔ اور اپنا جانشین مقرر فرمایا۔ چنانچہ سلسلہ عالیہ چشتیہ کو آپ کے اہتمام سے نشو ونما ملی اورقیامت تک قائم رہے گا۔ آپ کاذکر خیر آئندہ صفحات میں آرہا ہے۔

( اقتباس الانوار )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khwaja-haji-sharif-zindani
2👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
بہاءالدین محمد بن جلال الدین رومی معروف بہ سلطان ولد رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
اسم گرامی:
بہاء الدین محمد ۔ لقب: سلطان ولد ۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
مولانا بہاء الدین محمد بن مولائے روم مولانا محمد جلال الدین رومی بن محمد بہاؤ الدین بن محمد بن حسین بلخی بن احمد بن قاسم بن مسیب بن عبد اللہ بن عبد الرحمن بن ابو بکر صدیق ۔ (رضی اللہ عنہم اجمعین) ۔

آپ مولائے روم حضرت مولانا محمد جلال الدین رومی کے فرزندِ اکبر اور دوسرے جانشین تھے ۔

تاریخ ِولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 25 ربیع الآخر 623ھ / مطابق ماہ اپریل 1226ء کو " لارندہ " میں ہوئی، جسے اب " قرامان " کہتے ہیں ۔

قرامان یہ قونیہ شریف سے 100 کلو میٹر جنوب میں واقع ترکی کا ایک مرکزی شہر ہے ۔

تحصیل علم:
ابتدا ہی سے دانائے امت مولانا جلال الدین رومی ان پر خاص لطف و عنایت روا رکھتے تھے اور انہوں نے اپنے قول و فعل سے بارہا اس توجہ اور مہربانی کا ذکر فرماتے تھے ۔ مولانا نے خود انہیں برہان الدین ابوبکر مرغینانی کی کتاب ہدایہ پڑھائی تھی اور جب وہ سنِ بلوغ کو پہنچ گئے تو بہاء الدین اور ان کے بھائی علاء الدین کو انہوں نے حلب اور دمشق بھیج دیا ۔ شام سے واپسی کے بعد بہاء الدین نے اپنے والد مولانا روم، برہان الدین محقق ترمذی، حضرت شمس تبریزی، صلاح الدین فریدون زرکوب اور حسام الدین چلپی سے علمی و روحانی استفادہ کیا ۔

بیعت و خلافت:
مولانا سلطان ولد نے اپنے والد گرامی حضرت مولائے روم دانائے امت مولانا جلال الدین رومی علیہ الرحمہ سے ظاہر و باطنی علوم کی تحصیل کی، اور ان کے بعد ان کے سلسلہ مولویہ کے منتظم و جانشین قرار پائے ۔ اسی طرح حضرت شمس تبریزی، اور مولانا حسام الدین چلپی سے بھی روحانی استفادہ فرمایا ۔

سیرت و خصائص:
شیخ الاجل، عالم اکمل، صاحبِ اوصافِ کثیرہ، نائبِ دانائے امت مولائے روم، بہاء الدین محمد المعروف سلطان ولد رومی رحمۃ اللہ علیہ ۔

آپ علیہ الرحمہ حضرت مولائے روم کے پرتو جمیل، اور جانشینِ صادق تھے ۔ علم و عمل، ذہانت و فطانت، اور شکل و شباہت میں ثانیِ مولائے روم حضرت جلال الدین رومی تھے ۔ ان کے وصال کے بعد سلسلۂ مولویہ کی تربیت و اشاعت کی ذمہ دای آپ پر آئی، اور آپ نے اس کو بطریق احسن نبھایا ۔ یہاں یہ بات بہت اہم ہے کہ مولانا نے اپنی وفات کے بعد اپنے مرید و خلیفہ خاص مولانا حسام الدین چلپی علیہ الرحمہ کو اپنا نائب و جانشین منتخب کیا تھا ۔ جو گیارہ سال تک مولانا روم کے وصال کے بعد ان کے جانشین، اور علمی و روحانی امانتوں کے وارث رہے ۔

اس وقت مولانا روم کے صاحبزادے سلطان ولد بھی موجود تھے، اور تمام کمالات کے جامع تھے ۔ لیکن ان کا مقام مولانا چلپی سے کم تھا ۔ اس لئے ان کو منتخب کیا گیا، اور سلطان ولد علیہ الرحمہ گیارہ سال تک ان کی خدمت کرتے رہے اور ان کے حکم کی تعمیل فرماتے رہے ۔ (فی زمانہ اس کی مثال ہمیں نظر نہیں آئی، پیر صاحب کے وصال کے بعد ہر حال میں ان کا صاحبزادہ ہی جانشین ہوگا، چاہے وہ بالکل صفر ہی کیوں نہ ہو، اور پیر صاحب کے مریدوں میں چاہے کوئی کتنا ہی صاحب کمال کیوں نہ ہو، وہ ان کی گدی کا وارث نہیں بن سکتا ہے ۔ اس موروثی سلسلے نے ہمارے خانقاہی نظام کو تباہ و برباد کر دیا ہے، اور پھر جہالت نے رہی سہی کسر پوری کر دی ۔ اور اب مدارس میں بھی یہی موروثی سلسلہ شروع ہو چکا ہے، جس سے مدارس کی حالت ترقی کی بجائے تنزلی کی طرف جا رہی رہے ۔الا ماشاء اللہ) ۔
مولانابہاءالدین کا اپنے والد کے ساتھ بڑا قریبی تعلق تھا اور اپنے بھائی کے برخلاف، کہ جنہیں صوفیانہ طریقِ زندگی اور سلوک سے چنداں علاقہ نہیں تھا، وہ ہمیشہ مولانا کی پیروی کرتے تھے، ان کے دوستوں اور مریدوں کے بیچ حاضر ہوتے  اور ان کی روش و منش کو اپنے لیے نمونہ قرار دیتے تھے۔ شاید یہی وجہ تھی کہ مولانا اپنے مریدوں اور اقرباء میں سے صلاح الدین زرکوب، حسام الدین چلبی اور بہاءالدین محمد کو اپنے نزدیک ترین لوگوں میں شمار کرتے تھے۔ بہاءالدین صوفیوں کی اکثر محفلوں میں اپنے والد کے ہمراہ حاضر ہوتے تھے اور ان کی اپنے والد سے اتنی شباہتِ ظاہری تھی کہ اغلب انہیں مولانا کا بھائی سمجھا جاتا تھا۔شکل وشباہت میں اپنےوالدکےمشابہ تھے۔

مولاناحسام الدین چلپی کےوصال کےبعدسلسلۂ مولویہ کی ازسرتشکیل نو اور شکل گیری کا آغازمولانا سلطان ولد کی خلافت ہی میں ہوا تھا۔ انہوں نے اپنے والد کے مریدوں کو اپنے گرد جمع کیا اور اس طریقے کے امور کو نظم بخشااورمریدوں کی مدد سے قونیہ میں واقع مولانا کے مزار پر قبہ  بنوایا جس نے اس شہر کو مرکزیت بخش دی۔ اس کے بعدانہوں نے اپنی تیس سالہ پیشوائی کے دور میں مولویہ طریقے کے آداب وضع کیے اور مختلف شہروں میں مولویہ خانقاہیں قائم کروا کر اور اپنے نائبوں اور نمائندوں کو بھیج کر مولویہ طریقے کی ترویج کی کوشش کی۔

سلطان ولد اپنے والد کے پہلے سوانح نگار اور ان کے افکار و اشعار کے پہلے مفسر تھے۔ انہوں نے سپہ سالار اور افلاکی سے قبل مولانا کی زندگی اور مولویہ سلسلے کی تاریخ کی تدوین کا آغاز کیا اور ان کی کتابیں مولانا رومی کے بارے میں قابلِ اعتماد ماخذ کا درجہ رکھتی ہیں۔ چند محققوں کے مطابق وہ اولین شخص تھے جنہوں نے مولانا رومی کے خطبوں اور مجالس کو جمع کرنا شروع کیا تھا ۔ نیز کچھ لوگوں کے مطابق مقالاتِ شمس کا قدیم ترین نسخہ بھی سلطان ولد کے ہاتھوں سے لکھا گیا ہے ۔

اسی طرح مولانا سلطان ولد علیہ الرحمہ ایک زبردست محقق، فاضل علوم عقلیہ و نقلیہ، اور ادیب و شاعر تھے، ان کی شاعری میں حضرت مولائے روم کی جھلک پائی جاتی تھی ۔

آپ پہلے شاعر ہیں جنہوں نے ترکی شاعری کو فارسی اوزان و قواعد میں بیان کیا ۔ ترکی کی مقامی اور قومی زبان کی وجہ سے ان کی شاعری کو بہت اہمیت حاصل ہوئی ۔ اسی بناء پر آپ کو عثمانی ملت کا قومی شاعر، اور اس طرز ادب کا بانی کہا ہے ۔ آپ کا دیوان تیرہ ہزار اشعار پر مشتمل ہے، اور اس کے علاوہ مثنوی ولد نامہ یا ابیات نامہ یہ دس ہزار ابیات پر مشتمل ہے ۔ ان کی شاعری عربی، فارسی، ترکی، یونانی زبانوں پر محیط ہے ۔ لیکن ان کو وہ مقام نہیں مل سکا جوان کے والد گرامی مولائے روم کے حصے میں آیا ۔ اس کے علاوہ اور بھی نظم و نثر میں ان بہترین کتب تصنیف فرمائی ہیں ۔

تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 10 رجب المرجب 712ھ / مطابق اول ماہ نومبر 1312ء کو ہوا ۔ اپنے والد کے قرب " قونیہ شریف " ترکی میں محو استراحت ہیں ۔

ماخذ و مراجع:
مقدمہ مثنوی معنوی ۔ اردو دائرہ معارف اسلامیہ ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sultan-walad-bin-molana-room
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
حضرت ابو محمد عبد الرحیم مغربی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

کنیت ابو محمد تھی اور سر زمین مغرب کے رہنے والے تھے مصر کے سربر آور وہ مشائخ میں شمار ہوتے تھے کرامات عالیہ اور مقامات بلند کے مالک تھے ـ

ایک دن آپ وضو فرمارہے تھے ایک شخص مسلوب الحالت آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور تھوڑا سا پانی مانگا حضرت نے وضو کا باقی ماندہ پانی اسے عطا کیا ایک گھونٹ پیتے ہی سلب شدہ حالت بحال ہو گئی ۔

وصال:
آپ کی وفات ۵۹۶ھ میں ہوئی ۔ آپ کا مزار موضع قنی جو مصر کے قریب ہے واقع ہے ۔

جناب مغربی پیر جہانگیر
یکے لاثانی آمد سال وصلش ۵۹۲ھ

ز دنیا شد چو در فردوس اعلیٰ
دگر عبد الرحیم عابد معلیٰ ۵۹۲ھ

( خزینۃ الاصفیاء )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-abu-muhammad-abdul-rahim-maghribi
1