ہیں ہوتی اور دوسروں کی تکمیل کرانے کے قابل نہیں ہوتا۔ جیسا کہ اُن حضرات سے مخفی نہیں جنکو معفت کا ادنیٰ ذوق ہے۔
دسواں سوال
طلاب کے لیے موت کے بعد وصل مطلوب ممکن ہے یا نہیں؟
جواب
اگر سالک مرتبہ دید یا شنید کے کھلنے کے بعد پہلے اور نہایت کار کے حصول سے پہلے مرجائے تو موت کے بعد نہایت کار سے واصل ہوجاتا ہے۔ اگر مرتبہ دید شنید سے پہلے موت واقع ہوجائے تو بعض کےنزدیک مطلوب کوپہنچ جاتا ہے۔
گیارھواں سوال
طالب فانی ہوتا ہے یا مطلوب؟
جواب
مرتبہ فنا میں طالب اور مطلوب دونوں ایک دوسرے کے صفات میں فانی ہوجاتے ہیں اور مقام بقا میں دونوں ایک دوسرے کے صفات سے باقی ہوتے ہیں۔ جیسا کہ ایک عارف نے فرمایا ہے۔
من برنگ یار گشتم
یار رنگ من گرفت
(میں دوست کے رنگ میں رنگا گیا اور دوست نے میرا رنگ اختیار کرلیا)
بارھواں سوال
درد اور عشق سے کیا مراد ہے؟
جواب
عشق سے مراد عاشق کا مشاہدۂ دوست کی طرف رجوع ہے۔ اور درد سے مراد سوز اور فراق ہے عین طلب[14] میں تاحصول وصال۔ پس موجب ترقی درد ہے۔ اگر کسی کو عشق ہے لیکن درد نہیں ہے وہ ترقی نہیں کرسکتا۔ چنانچہ ملائک کو عشق ہے درد نہیں ہے لہذا وہ ترقی نہیں کر سکتے۔ جیسا کہ آیت کریمہ وَما منا الاولہ مقام معلوم سے ظاہر ہے۔ درد صرف انسان کا خاصہ ہے۔ کسی عارف نے خوب کہا ہے؎
قدسیاں را عشق ہست ودرونیست
درد راجز آدمی در خورد نیست
(فرشتوں کو عشق ہے درد نہیں ہے۔ درد کے قابل انسان کے سوا کوئی نہیں ہے)
قدسیاں را عشق ہست و درد نیست
درۂ در داز دل عشاق بہ
(عشق کا ایک ذرہ ساری کائنات سے بہتر ہے اور درد کا ایک ذرہ تمام عاشقوں کے دل سے بہتر ہے)
عشق کیلئے درد لازمی نہیں لیکن درد کیلئے عشق لازمی ہے اور درد کے بغیر عشق محبوب تک نہیں پہنچا سکتا۔ ہاں درد محبوب تک پہنچا سکتا ہے۔
تیرھواں سوال
وہ کونسا شغل ہے جو شاغل کے اختیار کے بغیر صادر ہوتا ہے،
جواب
وہ شغل جو شاغل کی کوشش کے بغیر انقطاع (مسلسل) جاری رہے اور وہ شغل سلطان ذکریا صوتِ سرمدی یا انحد ہے جسکا ذکر مفصل حضرت عبدالقدوس گنگوہی قدس سرہٗ اور حضرت جلال الدین تھانیسری کے حالات میں ہوچکا ہے اعادہ کی ضرورت نہیں ہے۔
چودھواں سوال
وساوس کے بغیر نماز کب حاصل ہوسکتی ہے؟
جواب
یہ نماز اس وقت حاصل ہوتی ہے جب نمازی پر شغل باطن مسلط ہوکر غیر کےنقوش اسکی لوح دل سے مٹادیتا ہے۔ اور عشق کے سوا اسکے دل میں کوئی خطرہ نہیں آسکتا۔
غرضیکہ حضرت شاہ محب اللہ عارف صاحب اسرار جو وساوس اغیاء سے فارغ اور دقائق طریقت وآداب شریعت کے محافظ تھے۔ جیسا کہ مندرجہ بالا اٹھارہ سوالات و جوابات سے ظاہر ہے۔ پس جو شخص آپکی نکتہ چینی کرتا ہے وہ الھاد اور زندقہ میں مبتلا ہے اور علم حقائق سے بے بہرہ ہے۔ چونکہ وہ شخص حضرت اقدس کا کلام سمجھنے سے قاصر ہے اور انکا پر کمر باند لیتا ہے۔ آفتاب کی ہستی کا منکر ہوتا ہے ۔لیکن اپنی جہالت سے آگاہ نہیں ہوتا۔ آپ کے کمال کیلئےیہی دلیل کافی ہے کہ آپ حضرت شاہ ابو سعید قدس سرہٗ کے مرید تھے اور حضرت اقدس کی نظر خاص کےپروردہ تے۔ حاجب مراۃ الاسرار لکھتے ہیں کہ حضرت شیخ محب اللہ بیس سال تک الٰہ آباد میں مسند ارشاد پر متمکن رہے اور ایک جہان آپ سے فیضیاب ہوا۔
وصال
آپ نے بتاریخ ۹؍ ماہ رجب بروز پنجشنبہ بوقت غروب آفتاب ۱۰۵۸ھ عالم فنا سے عالم بقا کی طرف رحلت فرمائی اور الٰہ آباد میں دفن ہوئے۔ اپکا ایک خورد سال بچہ تھا جنکا نام شیخ تاج الدین تھا۔ لیکن یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ شیخ تاج الدین کی اولاد باقی ہے۔
چوتھے خلیفہ
حضرت شیخ ابو سعید قدس سرہٗ کے چوتھے خلیفہ حضرلت شیخ ابراہیم سہارنپوری تے۔
پانچویں خلیفہ
آپکے پانچواں خلیفہ حضرت شیخ خواجہ پانی پتی تھے۔ آپ کے دیگر خلفا بی بہت تھے جنکا ذکر اس مختصر کتاب میں نہیں ہوسکا۔ رحمہ اللہ علیھما
اللّٰھُمَّ صَلِّ عَلیٰ مُحَمَّد ٍوَالہٖ وَاَصْحَابِہٖ اَجْمَعِیْن۔
ازرہگذرِ خاکِ سرکوئے شمابود
ہر نافہ کہ دردستِ نسیم سحر افتاد
[1]۔ شغل نفی واثبات سے مراد ذکر اللہ لا الہ الا اللہ ہے
[2]۔ اسم ذات سے مُراد ذکر اسم مبارک اللہ اللہ ہے
[3]۔ برزخ شیخ کا مطلب یہ ہے کہ یہ ذکر تصور شیخ کےساتھ کیا جائے یعنی سالک اپنے آپ کو شیخ کی صورت دیکھے اور ذکر کرنے والا سالک خود نہ ہو بلکہ حضرت شیخ ہو۔
[4]۔ سیر الی اللہ سے مراد عروجی سفر ہے جو ذات حق تک رسائی حاصل کرنے کی خاطر اختیار کیا جاتا ہے اس سفر میں عالم مثال، عالم ملکوت یا عالم ارواح اور عالم جبروت سے گذر کر ذات بحت میں روحانی طریق سے داخل ہونا پڑتا ہے۔ یعنی سالک کی روح تزکیہ نفس کے بعد پرواز کر کے عالم مثال، عالم ملکوت عالم جبروت سے گذرتی ہوئی ذات باری تعالیٰ میں واصل ہو جاتی ہے۔
دسواں سوال
طلاب کے لیے موت کے بعد وصل مطلوب ممکن ہے یا نہیں؟
جواب
اگر سالک مرتبہ دید یا شنید کے کھلنے کے بعد پہلے اور نہایت کار کے حصول سے پہلے مرجائے تو موت کے بعد نہایت کار سے واصل ہوجاتا ہے۔ اگر مرتبہ دید شنید سے پہلے موت واقع ہوجائے تو بعض کےنزدیک مطلوب کوپہنچ جاتا ہے۔
گیارھواں سوال
طالب فانی ہوتا ہے یا مطلوب؟
جواب
مرتبہ فنا میں طالب اور مطلوب دونوں ایک دوسرے کے صفات میں فانی ہوجاتے ہیں اور مقام بقا میں دونوں ایک دوسرے کے صفات سے باقی ہوتے ہیں۔ جیسا کہ ایک عارف نے فرمایا ہے۔
من برنگ یار گشتم
یار رنگ من گرفت
(میں دوست کے رنگ میں رنگا گیا اور دوست نے میرا رنگ اختیار کرلیا)
بارھواں سوال
درد اور عشق سے کیا مراد ہے؟
جواب
عشق سے مراد عاشق کا مشاہدۂ دوست کی طرف رجوع ہے۔ اور درد سے مراد سوز اور فراق ہے عین طلب[14] میں تاحصول وصال۔ پس موجب ترقی درد ہے۔ اگر کسی کو عشق ہے لیکن درد نہیں ہے وہ ترقی نہیں کرسکتا۔ چنانچہ ملائک کو عشق ہے درد نہیں ہے لہذا وہ ترقی نہیں کر سکتے۔ جیسا کہ آیت کریمہ وَما منا الاولہ مقام معلوم سے ظاہر ہے۔ درد صرف انسان کا خاصہ ہے۔ کسی عارف نے خوب کہا ہے؎
قدسیاں را عشق ہست ودرونیست
درد راجز آدمی در خورد نیست
(فرشتوں کو عشق ہے درد نہیں ہے۔ درد کے قابل انسان کے سوا کوئی نہیں ہے)
قدسیاں را عشق ہست و درد نیست
درۂ در داز دل عشاق بہ
(عشق کا ایک ذرہ ساری کائنات سے بہتر ہے اور درد کا ایک ذرہ تمام عاشقوں کے دل سے بہتر ہے)
عشق کیلئے درد لازمی نہیں لیکن درد کیلئے عشق لازمی ہے اور درد کے بغیر عشق محبوب تک نہیں پہنچا سکتا۔ ہاں درد محبوب تک پہنچا سکتا ہے۔
تیرھواں سوال
وہ کونسا شغل ہے جو شاغل کے اختیار کے بغیر صادر ہوتا ہے،
جواب
وہ شغل جو شاغل کی کوشش کے بغیر انقطاع (مسلسل) جاری رہے اور وہ شغل سلطان ذکریا صوتِ سرمدی یا انحد ہے جسکا ذکر مفصل حضرت عبدالقدوس گنگوہی قدس سرہٗ اور حضرت جلال الدین تھانیسری کے حالات میں ہوچکا ہے اعادہ کی ضرورت نہیں ہے۔
چودھواں سوال
وساوس کے بغیر نماز کب حاصل ہوسکتی ہے؟
جواب
یہ نماز اس وقت حاصل ہوتی ہے جب نمازی پر شغل باطن مسلط ہوکر غیر کےنقوش اسکی لوح دل سے مٹادیتا ہے۔ اور عشق کے سوا اسکے دل میں کوئی خطرہ نہیں آسکتا۔
غرضیکہ حضرت شاہ محب اللہ عارف صاحب اسرار جو وساوس اغیاء سے فارغ اور دقائق طریقت وآداب شریعت کے محافظ تھے۔ جیسا کہ مندرجہ بالا اٹھارہ سوالات و جوابات سے ظاہر ہے۔ پس جو شخص آپکی نکتہ چینی کرتا ہے وہ الھاد اور زندقہ میں مبتلا ہے اور علم حقائق سے بے بہرہ ہے۔ چونکہ وہ شخص حضرت اقدس کا کلام سمجھنے سے قاصر ہے اور انکا پر کمر باند لیتا ہے۔ آفتاب کی ہستی کا منکر ہوتا ہے ۔لیکن اپنی جہالت سے آگاہ نہیں ہوتا۔ آپ کے کمال کیلئےیہی دلیل کافی ہے کہ آپ حضرت شاہ ابو سعید قدس سرہٗ کے مرید تھے اور حضرت اقدس کی نظر خاص کےپروردہ تے۔ حاجب مراۃ الاسرار لکھتے ہیں کہ حضرت شیخ محب اللہ بیس سال تک الٰہ آباد میں مسند ارشاد پر متمکن رہے اور ایک جہان آپ سے فیضیاب ہوا۔
وصال
آپ نے بتاریخ ۹؍ ماہ رجب بروز پنجشنبہ بوقت غروب آفتاب ۱۰۵۸ھ عالم فنا سے عالم بقا کی طرف رحلت فرمائی اور الٰہ آباد میں دفن ہوئے۔ اپکا ایک خورد سال بچہ تھا جنکا نام شیخ تاج الدین تھا۔ لیکن یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ شیخ تاج الدین کی اولاد باقی ہے۔
چوتھے خلیفہ
حضرت شیخ ابو سعید قدس سرہٗ کے چوتھے خلیفہ حضرلت شیخ ابراہیم سہارنپوری تے۔
پانچویں خلیفہ
آپکے پانچواں خلیفہ حضرت شیخ خواجہ پانی پتی تھے۔ آپ کے دیگر خلفا بی بہت تھے جنکا ذکر اس مختصر کتاب میں نہیں ہوسکا۔ رحمہ اللہ علیھما
اللّٰھُمَّ صَلِّ عَلیٰ مُحَمَّد ٍوَالہٖ وَاَصْحَابِہٖ اَجْمَعِیْن۔
ازرہگذرِ خاکِ سرکوئے شمابود
ہر نافہ کہ دردستِ نسیم سحر افتاد
[1]۔ شغل نفی واثبات سے مراد ذکر اللہ لا الہ الا اللہ ہے
[2]۔ اسم ذات سے مُراد ذکر اسم مبارک اللہ اللہ ہے
[3]۔ برزخ شیخ کا مطلب یہ ہے کہ یہ ذکر تصور شیخ کےساتھ کیا جائے یعنی سالک اپنے آپ کو شیخ کی صورت دیکھے اور ذکر کرنے والا سالک خود نہ ہو بلکہ حضرت شیخ ہو۔
[4]۔ سیر الی اللہ سے مراد عروجی سفر ہے جو ذات حق تک رسائی حاصل کرنے کی خاطر اختیار کیا جاتا ہے اس سفر میں عالم مثال، عالم ملکوت یا عالم ارواح اور عالم جبروت سے گذر کر ذات بحت میں روحانی طریق سے داخل ہونا پڑتا ہے۔ یعنی سالک کی روح تزکیہ نفس کے بعد پرواز کر کے عالم مثال، عالم ملکوت عالم جبروت سے گذرتی ہوئی ذات باری تعالیٰ میں واصل ہو جاتی ہے۔
❤1
[5]۔ سیر فی اللہ سےمراد وہ پرواز ہے جو سالک ذات حق سے واصل ہوکر ذات حق میں مزید قرب و وصال کی خاطر اختیار کرتا ہے۔ اسکے بعد سیر من اللہ ہے جو نزولی سفر ہےجسکے ذریعہ سالک پھر مقام و دوئی میں واپسی آتا ہے اور فرائض منصبی ادا کرتا ہے۔
[6]۔ یعنی جب فرق من وتو مٹ جاتا ہے اور سالک اپنی ہستی کو ذات حق میں گم کردیتا ہے تو بندہ اور خدا کی نسبت باقی نہیں رہتی۔ سب خدا ہی ہوتا ہے۔ بندہ نہیں رہتا ـ
[7]۔ یعنی جب دوئی مٹ جاتی ہے تو خالق و مخلوق کا فرق مٹ جاتا ہے۔
[8]۔ یعنی مرتبۂ ذات بحت میں تعینات گم ہیں۔
[9]۔ ان دو آیات کی رو سے بعد ممات وہ لوگ مانع ترقی ہیں جو عصیان میں مبتلا ہوں گے۔ لیکن جن مقدس افراد کو اس دنیا میں باطنی بصیرت اور روحانی قوت پرواز حاصل ہوچکی ہے وہ ہر آن اور ہر لحظ ذات حق میں ترقی کرتے ہیں خواہ عند الحیات خواہ بعد الممات۔
[10]۔ ان دو آیات کی رو سے بعد ممات وہ لوگ مانع ترقی ہیں جو عصیان میں مبتلا ہوں گے۔ لیکن جن مقدس افراد کو اس دنیا میں باطنی بصیرت اور روحانی قوت پرواز حاصل ہوچکی ہے وہ ہر آن اور ہر لحظ ذات حق میں ترقی کرتے ہیں خواہ عند الحیات خواہ بعد الممات۔
[11]۔ شاید اس عبارت کا مفہوم یہ ہے کہ حضرات نقشبندیہ کے نزدیک ابتدائے کا رمرتبۂ فناء ہے اور انتہاء کار مرتبہ فناء الفنا ہے۔ جہاں احساس فنا بھی شہود ذات بحت میں ختم ہوجاتا ہے۔ مشاہدہ صبح اور مشاہدہ اشراق میں ظہور کی کمی و بیشی کا فرق ہے جیسے صبح صادق کے وقت آفتاب کی چمک مدھم ہوتی ہے اور اشراق کے وقت تیز۔
[12]۔ جیسا کہ کسی نے کہا ہے۔
ساحل دریا ہمہ کفر است ودریا دینداری
ولیک گوہر دریا درائے کفر و فن است
[13]۔ شیخ کامل ۔
[14]۔ ہجر در عین وصال جو مقامِ جامعیت ہے۔
( اقتباس الانوار )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-muhibullah-siddiqui
وصال:
9 رجب المرجب 1058ھ
[6]۔ یعنی جب فرق من وتو مٹ جاتا ہے اور سالک اپنی ہستی کو ذات حق میں گم کردیتا ہے تو بندہ اور خدا کی نسبت باقی نہیں رہتی۔ سب خدا ہی ہوتا ہے۔ بندہ نہیں رہتا ـ
[7]۔ یعنی جب دوئی مٹ جاتی ہے تو خالق و مخلوق کا فرق مٹ جاتا ہے۔
[8]۔ یعنی مرتبۂ ذات بحت میں تعینات گم ہیں۔
[9]۔ ان دو آیات کی رو سے بعد ممات وہ لوگ مانع ترقی ہیں جو عصیان میں مبتلا ہوں گے۔ لیکن جن مقدس افراد کو اس دنیا میں باطنی بصیرت اور روحانی قوت پرواز حاصل ہوچکی ہے وہ ہر آن اور ہر لحظ ذات حق میں ترقی کرتے ہیں خواہ عند الحیات خواہ بعد الممات۔
[10]۔ ان دو آیات کی رو سے بعد ممات وہ لوگ مانع ترقی ہیں جو عصیان میں مبتلا ہوں گے۔ لیکن جن مقدس افراد کو اس دنیا میں باطنی بصیرت اور روحانی قوت پرواز حاصل ہوچکی ہے وہ ہر آن اور ہر لحظ ذات حق میں ترقی کرتے ہیں خواہ عند الحیات خواہ بعد الممات۔
[11]۔ شاید اس عبارت کا مفہوم یہ ہے کہ حضرات نقشبندیہ کے نزدیک ابتدائے کا رمرتبۂ فناء ہے اور انتہاء کار مرتبہ فناء الفنا ہے۔ جہاں احساس فنا بھی شہود ذات بحت میں ختم ہوجاتا ہے۔ مشاہدہ صبح اور مشاہدہ اشراق میں ظہور کی کمی و بیشی کا فرق ہے جیسے صبح صادق کے وقت آفتاب کی چمک مدھم ہوتی ہے اور اشراق کے وقت تیز۔
[12]۔ جیسا کہ کسی نے کہا ہے۔
ساحل دریا ہمہ کفر است ودریا دینداری
ولیک گوہر دریا درائے کفر و فن است
[13]۔ شیخ کامل ۔
[14]۔ ہجر در عین وصال جو مقامِ جامعیت ہے۔
( اقتباس الانوار )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-muhibullah-siddiqui
وصال:
9 رجب المرجب 1058ھ
❤1
قطب العالم حضرت شیخ عبد الجلیل چوہڑ بندگی سہروردی رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسم گرامی: حضرت شیخ عبد الجلیل سہروردی رحمۃ اللہ علیہ ۔ لقب: قطب العالم، چوہڑبندگی ۔
چوہڑبندگی کی وجہ تسمیہ:
چوہڑہندی زبان میں " شکار کو تدبیر سے قابو کرنے والا " کو کہتے ہیں ۔
چونکہ آپکا سلسلۂ نسب اِسطرح ہے:
آپ کا سلسلۂ نسب چند واسطوں سے سلطان التارکین حضرت شیخ حمید الدین ابو الحاکم بادشاہ کیچ مکران سے ملتا ہے۔ شیخ عبد الجلیل بن شیخ ابو الفتح بن شیخ عبد العزیز بن شیخ عبد الجلیل بن شیخ شہاب الدین بن شیخ نور الدین بن شیخ سلطان التارکین حضرت شیخ حمید الدین ابو الحاکم علیہم الرحمہ ۔
ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت قصبہ "موکہ" ریاست بہاولپور میں ہوئی۔
تحصیلِ علم:
آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے والد گرامی سے حاصل کی ۔ پھر بلاد اسلامیہ کے مختلف شہروں میں جید علماء سے اخذ علم کیا۔یہاں تک کہ علوم ظاہرہ میں کامل و اکمل ہو گئے۔
بیعت و خلافت:
آپ نے علوم ظاہریہ کی تکمیل کے بعد اپنے عظیم والد بزرگوار حضرت شیخ ابو الفتح سہروردی علیہ الرحمۃ کے دست حق پرست پر بیعت کی اور ان کی خدمت میں رہ کر فیوضات باطنی کی دولت سے مالا مال ہوئے۔آپ کے والد بزرگوار نے محبت و شفقت پدری کے باوجود آپ سے سخت ترین ریاضتیں اور مجاہدے کرائے۔مجاہدات وریاضات کےبعد خلافت عطاء فرمائی۔
سیرت و خصائص:
قطب العالم، شیخ المشائخ، عارف باللہ، عالم السنہ، امام الاولیاء، سید الاصفیاء حضرت شیخ عبد الجلیل چوہڑبندگی رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ علیہ الرحمہ کی ذات بابرکت سےدین اسلام کوبہت فروغ حاصل ہوا۔اسی طرح سلسلہ عالیہ سہروردیہ کی خوب اشاعت ہوئی۔آپ نے دنیا کی سیاحت کی اور اس دوران تبلیغ کا فریضہ ادا کر کے لا تعداد افراد کو ایمان و عرفان کی دولت سےمالا مال کیا اور بہت سے گم کردہ راہوں کو گمراہی کے دلدل سے نکال کر صراط مستقیم پر گامزن کیا۔ اور کوبہ کوبہ شہر بہ شہر پھرت پھراتے مکہ مکرمہ پہنچے اور حج بیت اللہ شریف کی سعادت حاصل کی۔ قیام مکہ مکرمہ کے دوران وہاں کے علماء اور مشائخ آپ کی خدمت میں حاضر رہتے لاتعداد افراد آ کے فیوضات باطنیہ سے مالا مال ہوئے اور ہزاروں افراد آپ کے دست حق پرست پر بیعت سے مشرف ہوئے۔
آپ انتہا درجہ کے متقی، پابند شریعت و طریقت اور اخلاق کریمانہ میں بے مثال تھے،آپ کی خدمت میں حاضری دینے والا غلام بے دام ہوکے رہ جاتا تھا، آپ نے تمام عمر یادِ خدا اور خدمت خلق اللہ میں گزاری اور رشد و ہدایت میں نمایاں کردار ادا کرکے سلسلہ عالیہ سہروردیہ میں لوگوں کو بیعت سے شرف یاب کیا۔آپ کی ذات والا صفات مشائخ زمانہ بالخصوص مشائخ سہروردی میں خاص مقام رکھتی تھی۔لاہور کے قدیم ترین سہروردی بزرگوں میں آپ کا شمار ہوتا تھا۔آپ اپنے وقت کے قطب الارشاد تھے۔
خرق عادات آپ سے لاتعداد ثابت ہیں۔دلائل الخیرات کا ورد کثرت سے آپ کا معمول تھا۔کتاب تذکرہ قطبیہ کےمصنف فرماتے ہیں۔کہ آپ قوت لایموت خود کما کر کھاتے تے۔کسی کے گھر کا کھانا بہت کم قبول فرماتے تھے۔غلہ خود پیستے تھے کسی دوسرے سے کبھی کوئی مشقت نہیں لی۔ اپنا کام خود انجام دے کر راحت محسوس کرتے تھے۔
کشف و کرامات:
حضرت غلام دستگیر نامی کی تحقیق کے مطابق آپ 880 ھ کے قریب جب لاہور تشریف لائے تو یہ سلطان بہلول لودھی کا زمانہ تھا۔سلطان کو ان دنوں راجہ سین پال سلہریہ کی بغاوت نے فکر مندرکر رکھا تھا۔(سلہریہ ریاست اس وقت اس رقبے پر مشتمل تھی، جس میں اب پسرور ، ناروال ، ظفر وال، پٹھان کوٹ ، شکر گڑھ اور جموں کشمیروغیرہ واقع ہیں)۔
راجہ سین پال نے جب خراج وغیرہ دینا بند کیا تو سلطان نے اس کی سر کوبی کےلیے ایک لشکر بھیجا۔جس نے پہلے راجہ کو سلطان کا پیغام دیا کہ وہ خراج ادا کرے یا مسلمان ہوجائے راجہ نے خراج بھی نہ دیا نہ ہی مسلمان ہونے کی شرط قبول کی اس کے برعکس لڑائی کو ترجیح دی لیکن جلدی ہی شکست کھا کر بھاگ گیا۔اور جموں کے پہاڑوںمیں اس کی ملاقات چے پال نامی جوگی سے ہوئی جس کے بارے میں مشہور تھا کہ استدراج میں اس کا کوئی ہندو جوگی ہمسر نہیں۔راجہ سین پال اس جوگی کے پاس گیا۔اور اپنی تمام رام کہانی اسے سنائی۔ اور اس کی منت کی کہ وہ کوئی ایسا عمل کرے جس سے مجھ پر آئی ہوئی مصیب ٹل جائے۔جے پال نے اسے تسلی دی اور وعدہ کیا کہ میں تمہارا یہ کام کردوں گا۔ اور تمہاری سلطنت بھی واپس دلوادوں گا۔
نام و نسب:
اسم گرامی: حضرت شیخ عبد الجلیل سہروردی رحمۃ اللہ علیہ ۔ لقب: قطب العالم، چوہڑبندگی ۔
چوہڑبندگی کی وجہ تسمیہ:
چوہڑہندی زبان میں " شکار کو تدبیر سے قابو کرنے والا " کو کہتے ہیں ۔
چونکہ آپکا سلسلۂ نسب اِسطرح ہے:
آپ کا سلسلۂ نسب چند واسطوں سے سلطان التارکین حضرت شیخ حمید الدین ابو الحاکم بادشاہ کیچ مکران سے ملتا ہے۔ شیخ عبد الجلیل بن شیخ ابو الفتح بن شیخ عبد العزیز بن شیخ عبد الجلیل بن شیخ شہاب الدین بن شیخ نور الدین بن شیخ سلطان التارکین حضرت شیخ حمید الدین ابو الحاکم علیہم الرحمہ ۔
ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت قصبہ "موکہ" ریاست بہاولپور میں ہوئی۔
تحصیلِ علم:
آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے والد گرامی سے حاصل کی ۔ پھر بلاد اسلامیہ کے مختلف شہروں میں جید علماء سے اخذ علم کیا۔یہاں تک کہ علوم ظاہرہ میں کامل و اکمل ہو گئے۔
بیعت و خلافت:
آپ نے علوم ظاہریہ کی تکمیل کے بعد اپنے عظیم والد بزرگوار حضرت شیخ ابو الفتح سہروردی علیہ الرحمۃ کے دست حق پرست پر بیعت کی اور ان کی خدمت میں رہ کر فیوضات باطنی کی دولت سے مالا مال ہوئے۔آپ کے والد بزرگوار نے محبت و شفقت پدری کے باوجود آپ سے سخت ترین ریاضتیں اور مجاہدے کرائے۔مجاہدات وریاضات کےبعد خلافت عطاء فرمائی۔
سیرت و خصائص:
قطب العالم، شیخ المشائخ، عارف باللہ، عالم السنہ، امام الاولیاء، سید الاصفیاء حضرت شیخ عبد الجلیل چوہڑبندگی رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ علیہ الرحمہ کی ذات بابرکت سےدین اسلام کوبہت فروغ حاصل ہوا۔اسی طرح سلسلہ عالیہ سہروردیہ کی خوب اشاعت ہوئی۔آپ نے دنیا کی سیاحت کی اور اس دوران تبلیغ کا فریضہ ادا کر کے لا تعداد افراد کو ایمان و عرفان کی دولت سےمالا مال کیا اور بہت سے گم کردہ راہوں کو گمراہی کے دلدل سے نکال کر صراط مستقیم پر گامزن کیا۔ اور کوبہ کوبہ شہر بہ شہر پھرت پھراتے مکہ مکرمہ پہنچے اور حج بیت اللہ شریف کی سعادت حاصل کی۔ قیام مکہ مکرمہ کے دوران وہاں کے علماء اور مشائخ آپ کی خدمت میں حاضر رہتے لاتعداد افراد آ کے فیوضات باطنیہ سے مالا مال ہوئے اور ہزاروں افراد آپ کے دست حق پرست پر بیعت سے مشرف ہوئے۔
آپ انتہا درجہ کے متقی، پابند شریعت و طریقت اور اخلاق کریمانہ میں بے مثال تھے،آپ کی خدمت میں حاضری دینے والا غلام بے دام ہوکے رہ جاتا تھا، آپ نے تمام عمر یادِ خدا اور خدمت خلق اللہ میں گزاری اور رشد و ہدایت میں نمایاں کردار ادا کرکے سلسلہ عالیہ سہروردیہ میں لوگوں کو بیعت سے شرف یاب کیا۔آپ کی ذات والا صفات مشائخ زمانہ بالخصوص مشائخ سہروردی میں خاص مقام رکھتی تھی۔لاہور کے قدیم ترین سہروردی بزرگوں میں آپ کا شمار ہوتا تھا۔آپ اپنے وقت کے قطب الارشاد تھے۔
خرق عادات آپ سے لاتعداد ثابت ہیں۔دلائل الخیرات کا ورد کثرت سے آپ کا معمول تھا۔کتاب تذکرہ قطبیہ کےمصنف فرماتے ہیں۔کہ آپ قوت لایموت خود کما کر کھاتے تے۔کسی کے گھر کا کھانا بہت کم قبول فرماتے تھے۔غلہ خود پیستے تھے کسی دوسرے سے کبھی کوئی مشقت نہیں لی۔ اپنا کام خود انجام دے کر راحت محسوس کرتے تھے۔
کشف و کرامات:
حضرت غلام دستگیر نامی کی تحقیق کے مطابق آپ 880 ھ کے قریب جب لاہور تشریف لائے تو یہ سلطان بہلول لودھی کا زمانہ تھا۔سلطان کو ان دنوں راجہ سین پال سلہریہ کی بغاوت نے فکر مندرکر رکھا تھا۔(سلہریہ ریاست اس وقت اس رقبے پر مشتمل تھی، جس میں اب پسرور ، ناروال ، ظفر وال، پٹھان کوٹ ، شکر گڑھ اور جموں کشمیروغیرہ واقع ہیں)۔
راجہ سین پال نے جب خراج وغیرہ دینا بند کیا تو سلطان نے اس کی سر کوبی کےلیے ایک لشکر بھیجا۔جس نے پہلے راجہ کو سلطان کا پیغام دیا کہ وہ خراج ادا کرے یا مسلمان ہوجائے راجہ نے خراج بھی نہ دیا نہ ہی مسلمان ہونے کی شرط قبول کی اس کے برعکس لڑائی کو ترجیح دی لیکن جلدی ہی شکست کھا کر بھاگ گیا۔اور جموں کے پہاڑوںمیں اس کی ملاقات چے پال نامی جوگی سے ہوئی جس کے بارے میں مشہور تھا کہ استدراج میں اس کا کوئی ہندو جوگی ہمسر نہیں۔راجہ سین پال اس جوگی کے پاس گیا۔اور اپنی تمام رام کہانی اسے سنائی۔ اور اس کی منت کی کہ وہ کوئی ایسا عمل کرے جس سے مجھ پر آئی ہوئی مصیب ٹل جائے۔جے پال نے اسے تسلی دی اور وعدہ کیا کہ میں تمہارا یہ کام کردوں گا۔ اور تمہاری سلطنت بھی واپس دلوادوں گا۔
❤1
اس کے بعد وہ وہاں سے سیدھا لاہور پہنچا اور سلطان بہلول کی خدمت میں باریاب ہوکر عرض کیا کہ اللہ رب عالمین نے اپنے بندوں کو بادشاہوں کے قبضے میں اس لیے دیا کہ وہ ان میں انصاف کریں۔ اگر جہاں پناہ اس حقیر کی گذارش پر غور کریں تو میں کچھ عرض کرنے کی جسارت کروں۔سلطان بہلول کوجوگی کایہ انداز تکلم بہت پسند آیا ۔ اور فرمایا کہ تم جو کچھ کہنا چاہتے ہو تمہیں اجازت ہے۔بلا خوف و خطر کہو جو کچھ کہنا چاہتے ہو ۔ جے پال نے عرض کی اگر جہاں پناہ اپنی رعایا کو ان کی رضا و رغبت سے دائرہ اسلام میں لانا چاہتے ہیں تو کسی مسلمان عالم کو میرے سامنے لائیں کہ وہ مجھ سے مناظرہ کرے تاکہ حق و باطل میں امتیاز ہو سکے ۔ اگر مسلمان عالم مجھ پر غالب آگیا میں تمام قوم سلہریہ کے ساتھ اسلام کی دعوت کوقبول کرلوں گا۔ورنہ مجھ سے وعدہ فرمائیں کہ آپ راجہ سین پال سے مزاحمت نہیں کریں گے۔
سلطان بہلول نے جے پال جوگی کی یہ بات مان لی اور اپنے وزیر سے کہا کہ کسی صاحب حال عالم کی تلاش کرو جو اس جوگی کو لاجواب کر سکے۔سلطان کا وزیر دولت خان حضرت شاہ کاکو چشتی صابری علیہ الرحمۃ کی خدمت میں آپ کی خانقاہ واقع نزد مسجد شہید گنج ریلوے اسٹیشن کے قریب حاضر ہوا اور تمام ماجرا گوش گزار کردیا۔حضرت شیخ شاہ کاکو علیہ الرحمۃ نے فرمایا کہ اب میں بوڑھا ہوچکا ہوں کمزوری کے باعث زیادہ دیر تک مناظرہ بھی نہ کرسکوں گا۔ لہٰذا آپ حضرت قطب العالم شیخ عبد الجلیل چوڑ بندگی سہروردی علیہ الرحمۃ کی خدمت میں چلے جائیں وہ آج کل لاہور میں میرے قریب کی خانقاہ میں جلوہ افروز ہیں اور یہ بھی یاد رکھو کہ لاہور کی ولایت بحکم رسول کریم ﷺ اب ان کے سپرد ہوچکی ہے۔
چنانچہ دولت خان سیدھا آپ کی خانقاہ معلیٰ محلہ کوٹ کروڑ حاجی سرائے میں پہنچا اور تمام واقعہ گوش گزار دیا تو آپ نے فرمایا کہ بادشاہ کو کہو کہ وہ خاطر جمع رکھے انشاء اللہ تمام ریاست جے پال جوگی سمیت مسلمان ہوجائے گی۔میں کل دربار میں آجاؤں گا۔ اگلے روز دربار لگا حضرت شیخ قطب العالم عبد الجلیل چوہڑ بندگی سہروردی کی زیارت اور اس معرکہ کو دیکھنے کےلیے سہارا شہر جمع ہوگیا۔جب مناظرہ شروع ہوا تو جوگی نے پہلے آغاز کرتے ہوئے اسلام پر کچھ اعتراضات پیش کئےجن کےجواب میں حضرت بندگی نے مدلل تقریر فرمائی اور ہر اعتراض کا ایسا شافی و کافی جواب ارشاد فرمایا کہ جوگی مبہوت ہوکے رہ گیا۔جب اس کے جواب کچھ کہنے کے قابل نہ رہا تو اس نے پنتر ابدلا اور کہنے لگا آؤ ظاہر کو چھوڑو اور باطن کی طرف رجوع کریں۔ اس کے بعد دونوں مراقبے میں چلےگئے۔جوگی نے اپنے استدراج کے ذریعے آپ کو تمام روئے زمین کی سیر کرائی۔
اس کے بعد آپ کی خدمت میں عرض کی کہ اگر آپ میں کچھ باطنی و روحانی کمال ہے تو آپ بھی دکھائیں۔حضرت قطب العالم بندگی نے ارشاد فرمایا کہ آنکھیں بند کرو۔آپ نے اپنی نظر ولایت اور تصرف باطنی سے جوگی کو آسمانوں کی سیر کرواتے ہوئے مقام لاہوت کا مشاہدہ کراتے ہوئےجنت الماویٰ کے دروازے پر لے گئےعالم لامکاں کی تجلیات نے جے پال کو دم بخود کردیا تھا۔ اب جوگی کی روح نے جنت الماویٰ میں داخل ہونےکی کوشش کی تو دروازہ بند ہوگیا۔حضرت قطب العالم بندگی نے ارشاد فرمایا :جوگی اس میں داخلے کےلیے کلمہ پڑھنا ضروری ہے۔اگر تو کلمہ پڑھ لے تو جنت کی سیر بھی ہوسکتی ہے۔ آپ کا یہ فرمانِ ذیشان سن کر جوگی نے بلند آواز سے کلمہ شہادت پڑھا جسے وہاں موجود تمام اہل دربار نے سنا۔مراقبے سے سر اٹھاتے ہی جوگی نے اپنی تمام قوم سے مخاطب ہو کر کہا اے عزیز و : مذہب اسلام حق اور سچا ہے۔ میں تو تمہارے سامنےدین اسلام میں داخل ہوچکا ہوں ۔ لہٰذا جو شخص مجھ سے ارادت رکھتا ہے وہ بھی کلمہ شہادت پڑھ کر اپنے سینے کو اسلام کے نور سے منور کرلے ۔ یہ کہہ کر اس نے دوبار تمام حاضرین کے سامنے کلمہ طیبہ با آواز بلند پڑھا اور مسلمان ہو گیا ۔ اس کی آواز سنتے ہی تمام قوم سلہریہ اور راجہ سین پال نے کلمہ پڑھا اور دولت ایمان سے مشرف ہو گیا ۔
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 9 رجب المرجب 910ھ میں ہوا ۔ آپ کا مزار شریف لاہور میں مرجع خلائق ہے ۔
ماخذومراجع:
انسائیکلو پیڈیا اولیائے کرام ۔ تاریخ مشائخِ سہروردیہ ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-qutb-e-alam-abdul-jalil-chohar-bandagi-soharwardi
سلطان بہلول نے جے پال جوگی کی یہ بات مان لی اور اپنے وزیر سے کہا کہ کسی صاحب حال عالم کی تلاش کرو جو اس جوگی کو لاجواب کر سکے۔سلطان کا وزیر دولت خان حضرت شاہ کاکو چشتی صابری علیہ الرحمۃ کی خدمت میں آپ کی خانقاہ واقع نزد مسجد شہید گنج ریلوے اسٹیشن کے قریب حاضر ہوا اور تمام ماجرا گوش گزار کردیا۔حضرت شیخ شاہ کاکو علیہ الرحمۃ نے فرمایا کہ اب میں بوڑھا ہوچکا ہوں کمزوری کے باعث زیادہ دیر تک مناظرہ بھی نہ کرسکوں گا۔ لہٰذا آپ حضرت قطب العالم شیخ عبد الجلیل چوڑ بندگی سہروردی علیہ الرحمۃ کی خدمت میں چلے جائیں وہ آج کل لاہور میں میرے قریب کی خانقاہ میں جلوہ افروز ہیں اور یہ بھی یاد رکھو کہ لاہور کی ولایت بحکم رسول کریم ﷺ اب ان کے سپرد ہوچکی ہے۔
چنانچہ دولت خان سیدھا آپ کی خانقاہ معلیٰ محلہ کوٹ کروڑ حاجی سرائے میں پہنچا اور تمام واقعہ گوش گزار دیا تو آپ نے فرمایا کہ بادشاہ کو کہو کہ وہ خاطر جمع رکھے انشاء اللہ تمام ریاست جے پال جوگی سمیت مسلمان ہوجائے گی۔میں کل دربار میں آجاؤں گا۔ اگلے روز دربار لگا حضرت شیخ قطب العالم عبد الجلیل چوہڑ بندگی سہروردی کی زیارت اور اس معرکہ کو دیکھنے کےلیے سہارا شہر جمع ہوگیا۔جب مناظرہ شروع ہوا تو جوگی نے پہلے آغاز کرتے ہوئے اسلام پر کچھ اعتراضات پیش کئےجن کےجواب میں حضرت بندگی نے مدلل تقریر فرمائی اور ہر اعتراض کا ایسا شافی و کافی جواب ارشاد فرمایا کہ جوگی مبہوت ہوکے رہ گیا۔جب اس کے جواب کچھ کہنے کے قابل نہ رہا تو اس نے پنتر ابدلا اور کہنے لگا آؤ ظاہر کو چھوڑو اور باطن کی طرف رجوع کریں۔ اس کے بعد دونوں مراقبے میں چلےگئے۔جوگی نے اپنے استدراج کے ذریعے آپ کو تمام روئے زمین کی سیر کرائی۔
اس کے بعد آپ کی خدمت میں عرض کی کہ اگر آپ میں کچھ باطنی و روحانی کمال ہے تو آپ بھی دکھائیں۔حضرت قطب العالم بندگی نے ارشاد فرمایا کہ آنکھیں بند کرو۔آپ نے اپنی نظر ولایت اور تصرف باطنی سے جوگی کو آسمانوں کی سیر کرواتے ہوئے مقام لاہوت کا مشاہدہ کراتے ہوئےجنت الماویٰ کے دروازے پر لے گئےعالم لامکاں کی تجلیات نے جے پال کو دم بخود کردیا تھا۔ اب جوگی کی روح نے جنت الماویٰ میں داخل ہونےکی کوشش کی تو دروازہ بند ہوگیا۔حضرت قطب العالم بندگی نے ارشاد فرمایا :جوگی اس میں داخلے کےلیے کلمہ پڑھنا ضروری ہے۔اگر تو کلمہ پڑھ لے تو جنت کی سیر بھی ہوسکتی ہے۔ آپ کا یہ فرمانِ ذیشان سن کر جوگی نے بلند آواز سے کلمہ شہادت پڑھا جسے وہاں موجود تمام اہل دربار نے سنا۔مراقبے سے سر اٹھاتے ہی جوگی نے اپنی تمام قوم سے مخاطب ہو کر کہا اے عزیز و : مذہب اسلام حق اور سچا ہے۔ میں تو تمہارے سامنےدین اسلام میں داخل ہوچکا ہوں ۔ لہٰذا جو شخص مجھ سے ارادت رکھتا ہے وہ بھی کلمہ شہادت پڑھ کر اپنے سینے کو اسلام کے نور سے منور کرلے ۔ یہ کہہ کر اس نے دوبار تمام حاضرین کے سامنے کلمہ طیبہ با آواز بلند پڑھا اور مسلمان ہو گیا ۔ اس کی آواز سنتے ہی تمام قوم سلہریہ اور راجہ سین پال نے کلمہ پڑھا اور دولت ایمان سے مشرف ہو گیا ۔
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 9 رجب المرجب 910ھ میں ہوا ۔ آپ کا مزار شریف لاہور میں مرجع خلائق ہے ۔
ماخذومراجع:
انسائیکلو پیڈیا اولیائے کرام ۔ تاریخ مشائخِ سہروردیہ ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-qutb-e-alam-abdul-jalil-chohar-bandagi-soharwardi
scholars.pk
Hazrat Qutb-e-Alam Abdul Jalil Chohar Bandagi Soharwardi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
حضرت مولانا شاہ محمد حسین الہ آبادی رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسم گرامی: حضرت مولانا شاہ محمد حسین علیہ الرحمہ ۔ لقب: فخر الاصفیاء، علامۂ زماں، شہیدِ محبت، عمری، محبی، الہ آبادی ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
مولانا شاہ محمد حسین الہ آبادی بن تفضل حسین ۔ علیہما الرحمہ ۔ آپ کا سلسلۂ نسب حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ تک منتہی ہوتا ہے ۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 1269ھ / مطابق 1853ء کو محلہ بہادر گنج، الہ آباد (اِنڈیا) میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
ابتدائی تعلیم الہ آباد میں حاصل کی، مولانا شکر اللہ الہ آبادی سے ابتدائی کتب پڑھیں ۔ پھر لکھنؤ کا سفر کیا ۔ وہاں مولانا نعمت اللہ فرنگی محلی، مولانا ابو الحسنات عبد الحئی فرنگی محلی اور قاری عبد الرحمٰن پانی پتی سے تعلیم پائی، تکمیل درسیات کے بعد حج کے لیے گئے، شیخ الاسلام سید احمد دحلان مکی سے سند حدیث حاصل کی ۔
بیعت و خلافت:
مکۃ المکرمہ میں سلسلۂ عالیہ چشتیہ صابریہ میں حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی رحمۃ اللہ علیہ کے دست حق پرست پر بیعت ہوئے ۔ ریاضت کے بعد خلافت سے مشرف کیے گئے ۔
سیرت و خصائص:
شہید راہ محبت، رونق بزم عاشقاں، پیکر کشتگان، عاشقِ اولیاء، امام العلماء، رئیس الاصفیاء، جامع کمالاتِ علمیہ و عملیہ، معارف اسرار ربانیہ، مہلک الوہابیہ والنجدیہ، مقبول بارگاہِ صمدانی حضرت علامہ مولانا شاہ محمد حسین الہ آبادی رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ نامور عالم، فاضل، صوفی بزرگ، عربی و فارسی کے زبردست ادیب، طبیب جسمانی اور روحانی تھے ۔
ابتداءً مولوی اسماعیل قتیل، اور سید احمد بریلوی کے خیالات سے متاثر ہو گئے تھے ۔ عوام و خواص میں " وہابی " معروف ہو گئے تھے ۔ لیکن جب حجاز مقدس تشریف لے گئے اور وہاں شیخ الاسلام شیخ احمد بن زین دحلان مکی علیہ الرحمہ اور شیخ العرب و العجم حضرت شاہ امداد اللہ مہاجر مکی علیہ الرحمہ کی صحبت سے مستفید ہوئے، اور جو ذہن و قلب پر بد عقیدگی کی میل آ گئی تھی، وہ ان نفوس قدسیہ کی نگاہِ فیض سے صاف ہو گئی ۔ اسی طرح ہندوستان سے چار مرتبہ حجاز مقدس کا سفر کیا ۔ ہر مرتبہ حالت تبدیل ہوتی گئی ۔ بِالآخر آپ کا قلب ہر قسم کے گمراہ عقائد و نظریات سے بِالکل صاف ہو گیا ۔ اسی طرح آپ " مجلس ندوۃ العلماء " کے بانیوں میں سر گرم بانی تھے ۔ جب مولوی شبلی نعمانی کی مذہب سے آزاد پالیسیاں ظاہر ہونے لگیں، اور ہر قسم کے افراد اس میں شامل ہونے لگے، مجلس عاملہ کے خصوصی اجلاس میں آپ نے ناظم ندوہ سے معاملات کی صفائی کے لئے کہا تو وہ آپ کے اس اقدام پر بہت برہم ہوا ۔
اس اجلاس میں خلیفۂ اعلیٰ حضرت عید الاسلام حضرت علامہ مولانا عبد السلام جبل پوری علیہ الرحمہ بھی آپ کے ساتھ تھے ۔ مولوی شبلی جواب دینے کی بجائے خلافِ تہذیب اور نازیبا گفتگو کرنے لگا ۔ یہ دونوں بزرگ وہاں سے بریلی شریف امام اہلسنت کی خدمت میں حاضر ہوئے، اور تمام روئیداد گوش گزار کی، اعلیٰ حضرت نے دونوں بزرگوں کو بہت ہی دعاؤں سے نوازا اور ان کی حق گوئی کی تعریف فرمائی ۔
آپ علیہ الرحمہ ایک بہترین مدرس، مصنف، واعظ اور بہترین ادیب تھے ۔ آپ کی تدریس کا دور دور تک شہرہ تھا، لوگ دور دراز سے سفر کرکے تحصیل علم کے لئے آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے ۔ آخری عمر میں اوراد و وظائف، تزکیۂ نفس، اور زیارات مزاراتِ مقدسہ میں مشغول رہنے لگے، تمام معمولات اہلسنت، بزرگان دین کے ایام، میلاد شریف، معراج شریف کی محافل بڑے اہتمام سے مناتے تھے ۔ بلکہ الہ آباد میں محفل میلاد، و شب معراج شریف، اور عرائس بزرگان دین کا شعور آپ نے ہی بیدار کیا تھا ۔ اسی طرح آپ وہابیہ کے سخت مخالف تھے ۔ کیونکہ ان کی بد عقیدگی و بد عملی کا مشاہدہ کر چکے تھے، اور ان کے تمام معمولات کو اندر سے دیکھ چکے تھے ۔ اس لئے آپ کی ذات دوسرے علماء اہلسنت کی بنسبت ان کے لئے زیادہ تکلیف کی موجب تھی ۔
یہی وجہ ہے کہ " مؤلفِ نزہۃ الخواطر " آپ کے معمولات سے بڑے سیخ پا ہوئے، اور موجد بدعت و شرک وغیرہ لکھ دیا ۔ آگے چل کر پھر خود ہی تحریر کیا: "ان تمام باتوں کے باوجود نادر زمانہ تھے ۔ ذہن کی صفائی، سینہ کے صاف، دل کے پاک، حافظہ کے قوی، تقریر میں مٹھاس، تحریر میں خوبصورتی، طبیعت کی شرافت، اخلاق کی عمدگی، نظر میں چمک، اور اچھی سیرت، حلیم و بردبار ۔ میں نے خود ان سے تعلیم حاصل کی، اور ان کی طرف سفر کرکے پہنچا ۔ کافیہ شرح ابن حاجب ،جامی، اور شرح تہذیب کا کچھ حصہ ان سے پڑھا" ۔ (نزہۃ الخواطر ص:538) ـ
نام و نسب:
اسم گرامی: حضرت مولانا شاہ محمد حسین علیہ الرحمہ ۔ لقب: فخر الاصفیاء، علامۂ زماں، شہیدِ محبت، عمری، محبی، الہ آبادی ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
مولانا شاہ محمد حسین الہ آبادی بن تفضل حسین ۔ علیہما الرحمہ ۔ آپ کا سلسلۂ نسب حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ تک منتہی ہوتا ہے ۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 1269ھ / مطابق 1853ء کو محلہ بہادر گنج، الہ آباد (اِنڈیا) میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
ابتدائی تعلیم الہ آباد میں حاصل کی، مولانا شکر اللہ الہ آبادی سے ابتدائی کتب پڑھیں ۔ پھر لکھنؤ کا سفر کیا ۔ وہاں مولانا نعمت اللہ فرنگی محلی، مولانا ابو الحسنات عبد الحئی فرنگی محلی اور قاری عبد الرحمٰن پانی پتی سے تعلیم پائی، تکمیل درسیات کے بعد حج کے لیے گئے، شیخ الاسلام سید احمد دحلان مکی سے سند حدیث حاصل کی ۔
بیعت و خلافت:
مکۃ المکرمہ میں سلسلۂ عالیہ چشتیہ صابریہ میں حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی رحمۃ اللہ علیہ کے دست حق پرست پر بیعت ہوئے ۔ ریاضت کے بعد خلافت سے مشرف کیے گئے ۔
سیرت و خصائص:
شہید راہ محبت، رونق بزم عاشقاں، پیکر کشتگان، عاشقِ اولیاء، امام العلماء، رئیس الاصفیاء، جامع کمالاتِ علمیہ و عملیہ، معارف اسرار ربانیہ، مہلک الوہابیہ والنجدیہ، مقبول بارگاہِ صمدانی حضرت علامہ مولانا شاہ محمد حسین الہ آبادی رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ نامور عالم، فاضل، صوفی بزرگ، عربی و فارسی کے زبردست ادیب، طبیب جسمانی اور روحانی تھے ۔
ابتداءً مولوی اسماعیل قتیل، اور سید احمد بریلوی کے خیالات سے متاثر ہو گئے تھے ۔ عوام و خواص میں " وہابی " معروف ہو گئے تھے ۔ لیکن جب حجاز مقدس تشریف لے گئے اور وہاں شیخ الاسلام شیخ احمد بن زین دحلان مکی علیہ الرحمہ اور شیخ العرب و العجم حضرت شاہ امداد اللہ مہاجر مکی علیہ الرحمہ کی صحبت سے مستفید ہوئے، اور جو ذہن و قلب پر بد عقیدگی کی میل آ گئی تھی، وہ ان نفوس قدسیہ کی نگاہِ فیض سے صاف ہو گئی ۔ اسی طرح ہندوستان سے چار مرتبہ حجاز مقدس کا سفر کیا ۔ ہر مرتبہ حالت تبدیل ہوتی گئی ۔ بِالآخر آپ کا قلب ہر قسم کے گمراہ عقائد و نظریات سے بِالکل صاف ہو گیا ۔ اسی طرح آپ " مجلس ندوۃ العلماء " کے بانیوں میں سر گرم بانی تھے ۔ جب مولوی شبلی نعمانی کی مذہب سے آزاد پالیسیاں ظاہر ہونے لگیں، اور ہر قسم کے افراد اس میں شامل ہونے لگے، مجلس عاملہ کے خصوصی اجلاس میں آپ نے ناظم ندوہ سے معاملات کی صفائی کے لئے کہا تو وہ آپ کے اس اقدام پر بہت برہم ہوا ۔
اس اجلاس میں خلیفۂ اعلیٰ حضرت عید الاسلام حضرت علامہ مولانا عبد السلام جبل پوری علیہ الرحمہ بھی آپ کے ساتھ تھے ۔ مولوی شبلی جواب دینے کی بجائے خلافِ تہذیب اور نازیبا گفتگو کرنے لگا ۔ یہ دونوں بزرگ وہاں سے بریلی شریف امام اہلسنت کی خدمت میں حاضر ہوئے، اور تمام روئیداد گوش گزار کی، اعلیٰ حضرت نے دونوں بزرگوں کو بہت ہی دعاؤں سے نوازا اور ان کی حق گوئی کی تعریف فرمائی ۔
آپ علیہ الرحمہ ایک بہترین مدرس، مصنف، واعظ اور بہترین ادیب تھے ۔ آپ کی تدریس کا دور دور تک شہرہ تھا، لوگ دور دراز سے سفر کرکے تحصیل علم کے لئے آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے ۔ آخری عمر میں اوراد و وظائف، تزکیۂ نفس، اور زیارات مزاراتِ مقدسہ میں مشغول رہنے لگے، تمام معمولات اہلسنت، بزرگان دین کے ایام، میلاد شریف، معراج شریف کی محافل بڑے اہتمام سے مناتے تھے ۔ بلکہ الہ آباد میں محفل میلاد، و شب معراج شریف، اور عرائس بزرگان دین کا شعور آپ نے ہی بیدار کیا تھا ۔ اسی طرح آپ وہابیہ کے سخت مخالف تھے ۔ کیونکہ ان کی بد عقیدگی و بد عملی کا مشاہدہ کر چکے تھے، اور ان کے تمام معمولات کو اندر سے دیکھ چکے تھے ۔ اس لئے آپ کی ذات دوسرے علماء اہلسنت کی بنسبت ان کے لئے زیادہ تکلیف کی موجب تھی ۔
یہی وجہ ہے کہ " مؤلفِ نزہۃ الخواطر " آپ کے معمولات سے بڑے سیخ پا ہوئے، اور موجد بدعت و شرک وغیرہ لکھ دیا ۔ آگے چل کر پھر خود ہی تحریر کیا: "ان تمام باتوں کے باوجود نادر زمانہ تھے ۔ ذہن کی صفائی، سینہ کے صاف، دل کے پاک، حافظہ کے قوی، تقریر میں مٹھاس، تحریر میں خوبصورتی، طبیعت کی شرافت، اخلاق کی عمدگی، نظر میں چمک، اور اچھی سیرت، حلیم و بردبار ۔ میں نے خود ان سے تعلیم حاصل کی، اور ان کی طرف سفر کرکے پہنچا ۔ کافیہ شرح ابن حاجب ،جامی، اور شرح تہذیب کا کچھ حصہ ان سے پڑھا" ۔ (نزہۃ الخواطر ص:538) ـ
❤1👍1
واقعۂ وصال:
آپ پہلے سماع کے شدید مخالفوں میں سے تھے ۔ پھر اتنا ذوق و شوق ہوا، کہ حج کے لیے گئے تو قوال مع ساز کے ہمراہ لے گئے ۔ قوالی کثرت سے سنتے تھے ۔ قوالی سنتے سنتے حالتِ استغراق کی کیفیت طاری ہو جاتی، اور کافی دیر تک اسی حالت میں رہتےتھے ۔ 9 رجب المرجب 1322ھ کو اجمیر شریف بتقریب دعوت نواب سرور جنگ کے ہاں مجلس سماع میں مدعو تھے، اجمیر شریف کے قوال حضرت شیخ عبد القدوس گنگوہی کا کلام "آستیں بررو کشیدہ ہمچومکار آمدی" گا رہے تھے، محفل پر ایک کیفیت طاری تھی، شاہ صاحب ہر مصرعے کی شرح فرماتے جاتے تھے، جب قوال مقطع پر پہنچے:
گفت قدوسی فقیرے در فناء و در بقاء
خود نجود آزاد بودی خود گرفتار آمدی
"خود بخود آزاد" کی تکرار فرمائی اور نفس نفیس کی طرف اشارہ فرمایا ۔ تیسری مرتبہ ادا کرنا چاہتے تھے کہ کیفیت بڑھ گئی، سر بسجدہ ہو گئے اور مقصود کو پہنچے ۔ آپ نے چار حج کیے، آخری حج کے موقع پر دربارِ نبوی میں دعاء کی تھی، کہ میری موت مدینہ منورہ میں آئے، یا اجمیر شریف میں ۔ یہ آپ کی دعا قبول ہوئی ۔
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 9 رجب المرجب 1322ھ / مطابق وسط ستمبر 1904ء کو ہوا ۔ آپ کا مزار شریف "اجمیر شریف" میں مرجع خلائق ہے ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ علمائے اہلسنت ۔ نزہۃ الخواطر ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-muhammad-hussain-allahabadi
آپ پہلے سماع کے شدید مخالفوں میں سے تھے ۔ پھر اتنا ذوق و شوق ہوا، کہ حج کے لیے گئے تو قوال مع ساز کے ہمراہ لے گئے ۔ قوالی کثرت سے سنتے تھے ۔ قوالی سنتے سنتے حالتِ استغراق کی کیفیت طاری ہو جاتی، اور کافی دیر تک اسی حالت میں رہتےتھے ۔ 9 رجب المرجب 1322ھ کو اجمیر شریف بتقریب دعوت نواب سرور جنگ کے ہاں مجلس سماع میں مدعو تھے، اجمیر شریف کے قوال حضرت شیخ عبد القدوس گنگوہی کا کلام "آستیں بررو کشیدہ ہمچومکار آمدی" گا رہے تھے، محفل پر ایک کیفیت طاری تھی، شاہ صاحب ہر مصرعے کی شرح فرماتے جاتے تھے، جب قوال مقطع پر پہنچے:
گفت قدوسی فقیرے در فناء و در بقاء
خود نجود آزاد بودی خود گرفتار آمدی
"خود بخود آزاد" کی تکرار فرمائی اور نفس نفیس کی طرف اشارہ فرمایا ۔ تیسری مرتبہ ادا کرنا چاہتے تھے کہ کیفیت بڑھ گئی، سر بسجدہ ہو گئے اور مقصود کو پہنچے ۔ آپ نے چار حج کیے، آخری حج کے موقع پر دربارِ نبوی میں دعاء کی تھی، کہ میری موت مدینہ منورہ میں آئے، یا اجمیر شریف میں ۔ یہ آپ کی دعا قبول ہوئی ۔
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 9 رجب المرجب 1322ھ / مطابق وسط ستمبر 1904ء کو ہوا ۔ آپ کا مزار شریف "اجمیر شریف" میں مرجع خلائق ہے ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ علمائے اہلسنت ۔ نزہۃ الخواطر ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-muhammad-hussain-allahabadi
❤1
حضرت شیخ نور الدین رفیقی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
شیخ نور الدین بن عبد اللہ بن مصطفیٰ رفیقی ـ
تعلیم:
جامع علوم ظاہری و باطنی، علامۂ زمانہ، فہامۂ یگانہ، صاحب ہیبت، عظیم الاخلاق، علو الہمۃ تھے ـ
ولادت:
۱۲۲۵ھ میں پیدا ہوئے اور اپنے چچا کے بیٹے شیخ ابی المصطفیٰ طیب بن احمد بن مصطفیٰ کی گود میں پرورش پائی ـ
اور انہیں سے جمعی معارف کو اخذ کیا اور روایت حدیث اور ادا کی حاصل کی اور علوم متعارفہ فقہ، صرف، نحو، منطق، کلام، اصول، حکمت وغیرہ کو مولوی محمد حسن بن نظام الدین سے اخذ کیا اور شیوخ کثیرہ سے صحبت کر کے ان سے فوائد کثیرہ حاصل کیے ـ
سیر:
آپ نے اکثر شہروں کی سیر کی ـ
نکاح:
آپ نے تمام عمر نکاح نہیں کیا ـ
طبع موزون رکھتے تھے، اشعار لطیفہ اور ابیات منیفہ آپ سے یاد گار ہیں ۔
وصال:
وفات آپ کی ۹ رجب ۱۲۸۸ھ میں ہوئی ۔ ’’ خادم المحدثین ‘‘ تاریخ وفات ہے ۔
( حدائق الحنفیہ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-nooruddin-rafeeqi
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
شیخ نور الدین بن عبد اللہ بن مصطفیٰ رفیقی ـ
تعلیم:
جامع علوم ظاہری و باطنی، علامۂ زمانہ، فہامۂ یگانہ، صاحب ہیبت، عظیم الاخلاق، علو الہمۃ تھے ـ
ولادت:
۱۲۲۵ھ میں پیدا ہوئے اور اپنے چچا کے بیٹے شیخ ابی المصطفیٰ طیب بن احمد بن مصطفیٰ کی گود میں پرورش پائی ـ
اور انہیں سے جمعی معارف کو اخذ کیا اور روایت حدیث اور ادا کی حاصل کی اور علوم متعارفہ فقہ، صرف، نحو، منطق، کلام، اصول، حکمت وغیرہ کو مولوی محمد حسن بن نظام الدین سے اخذ کیا اور شیوخ کثیرہ سے صحبت کر کے ان سے فوائد کثیرہ حاصل کیے ـ
سیر:
آپ نے اکثر شہروں کی سیر کی ـ
نکاح:
آپ نے تمام عمر نکاح نہیں کیا ـ
طبع موزون رکھتے تھے، اشعار لطیفہ اور ابیات منیفہ آپ سے یاد گار ہیں ۔
وصال:
وفات آپ کی ۹ رجب ۱۲۸۸ھ میں ہوئی ۔ ’’ خادم المحدثین ‘‘ تاریخ وفات ہے ۔
( حدائق الحنفیہ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-nooruddin-rafeeqi
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
08-07-1445 ᴴ | 20-01-2024 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
09-07-1445 ᴴ | 21-01-2024 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1