🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
اس کے سر پر رکھا جاتا ہے۔ ختم ہوا مترج مکا وضاحتی بیان)

دوسرا سوال

حضرت شیخ جنید بغدادی قدس سرہٗ کے اس قول کا کیا مطلب ہے کہ جب آپ سے دریافت کیا گیا کہ ما النھا یۃ (نہایت یا آخری مقام کیا ہے) تو آپ نے جواب دیا یہ رجوع الی البدایۃ ( یہ رجوع ہے ابتدا کی طرف ) اس سوال کا جواب پہلے سوا ل کے جواب میں آچکا ہے (یعنی مقام الف سے بہ پر واپس آنا کمالات بشریت ہے)

تیسرا سوال

وہ کونسا علمہے جسے حجاب اکبر کہا گیا ہے (صوفیاء کرام کا مقولہ ہے کہ العلم حجاب الاکبر (علم حجاب اکبر ہے)

جواب چونکہ علم،عالم اور معلوم تینوں کی حقیقت ایک ہے اس لیے ہر وہ علم جو اس حقیقت کے خلاف ہے حجاب اکبر ہے۔ بلکہ تفرقۂ ابدی ہے۔ اور حصول مقصد کی راہ میں رکاوٹ ہے۔

چوتھا سوال

انبیاء سابق کومعرفت توحید حاصل تھی یا نہیں؟

جواب

صوفیاء کرام کے نزدیک یہ امر مُسلّم ہے کہ ذات وصفات، اسماء واحکام الٰہی ک ے علم کا نام نبوت ہے۔ نیز شیخ محی الدین ابن عربی قدس سرہٗ نے فصوص الحکم میں فرمایا ہے کہ نبی حق تعالیٰ کی طرف سے اس لیے مبعوث کیا جاتا ہے کہ خلق خدا کی ان کمالات کی طرف راہنمائی کرے جو انکے اعیان ثابتہ کےمطابق علم حق تعالیٰ میں انکےلیے مقرر ہوچکی ہے۔ لہٰذا عقل کا تقاضا یہ ہے کہ معرفت توحید کے بغیر یہ کام انبیاء علیہمالسلام سے نہیں ہوسکتا۔( یعنی معرفت توحید بالضرور انبیاء علیہم السلام کو حاصل ہے) دوسری بات یہ ہے کہ اولیاء مقدمین اور متاخرین کا اس بات پر اتفق ہے کہ تمام اولیاء کرام کو مشکوٰۃ نبوت سے نور معرفت حاصل ہوتا ہے۔ پس اگر انبیاء علیہم السلام کو معرفت توحید نہ ہو تو اولیاء کو کس طرح حاصل ہوگی۔ اب چونکہ یہ چیز اولیاء کرام کو حاصل ہے اس لیے انبیاء علیہم السلام جو اُن محتاج الیہ میں بدرجہ اولی یہ دولت حاصل ہوتی ہے۔

پانچواں سوال

تصور کا اعتبار ہے یا نہیں؟

جواب

و ہ تصوور جو اغراض نفسانی سےمنسوب نہیں اور حق تعالیٰ کی طرف لے جانے والا ہےمعتبر ہے اور جو اسکے خلاف ہے درجۂ اعتبار سے ساقطہ ہے۔ اگر غور سے دیکھا جائے تو چیز ذات بحت پر زائد نظر آئے غیرمعتبر ہے۔

چھٹا سوال

جب موجود کامعدوم ہونا محال ہے تو اشیاء کو کس طرح معدوم کہا جاسکتاہے۔

جواب

اشیاء کی صورتیں جو اعتباری اور اضافی ہیں تبدیل ہوسکتی ہیں لیکن حقیقت اشیاء جو و احد ہے ہر حال (ہر صورت) میں موجود رہتی ہے معدوم نہیں ہوتی مثلاً لکڑی جل جانے کے بعد راکھ بن جاتیہے اور راکھ دوسرے عناصر میں تبدیل ہوجاتی ہے۔ حتیٰ کہ نور ذات پر منتہیٰ ہوتی ہے جو تمام صورتوں اور شکلوں کی حامل ہے۔

ساتواں سوال

ترقی کی کوئی انتہا بھی ہے یا نہیں (یعنی ترقئ مدارج قریب)

جواب

سالک کی ترقی اسکےموسوم (وہمی۔ غیر حقیقی) وجودِ کے حق میں گم ہوجانے سے ممکن ہے۔ اور اس چیز کو فنافی اللہ کہتے ہیں اور چونکہ سالک کو اس مقام پر ذات الٰہی میں وصول (وصال) حاصل ہے اور چونکہ ذات الٰہی کی کوئی حد نہیں اس لیے ترقی کی بھی کوئی حد نہیں۔ کل یوم ھو فی شان (اسی ہر تجلیکین ئی شان ہے)سے یہی مراد ہے۔ بیت؎

اے تجلئ تو تکرار نہ


دے کہ زحسن تو پدیدارنہ
(اے دوست تیری تجلیات کو تکرار نہیں ہے یعنی ہر بار نئی تجلی نمودار ہوتی ایک تجلی دوبارہ نہیں آتی۔ اور تو اپنے حسن و تجلیات اور شدت ظہور کی س جہ سے نظر نہیں آتا یعنی آنکھیں چند دھیا گئی ہیں۔)

آٹھواں سوال

قرآن مجید کے الفاظ ظلوماً جھولاً انسان کی تعریف میں آئے ہیں یا مذمت میں۔

جواب

اگر انسان کو اِنَّا عرضنا الا مانتہ وحملھا الانسان انہ کان ظلوماً جھولاً میں مذکور امانت قبول کرنے کا اختیار تو ظلوماً جہولاً مذمت ہے۔ کہ اس نے آرام گاہ اطلاق سے تقید کی آشوب گاہ مین اپنے آپکو گرفتار کر کے غایب جہل سے اپنے آپ پر ظلم کیا۔ لیکن یہ عوام کا عقیدہ ہے۔ اگر یہ نہ ہوتا تو پیغمبر علیہ السلام یہ نہ فرماتےکہ یا لیت رب محمد لم یخلق محمداً ( کاش کہ محمد کا رب محمد کو پیدا نہ کرتا) اگر انسان کو اختیار نہ تھا اور حق تعالیٰ نے اُسے فعل مختار بنایا اور امانت قبول کرنے کی قابلیت عطا فرمائی تو ظلوماً جہولاً اسکی مدح (تعریف) ہے۔ اور چونکہ انسان کے افعال حق تعالی سے منسوب ہوتے ہیں ان افعال (یعنی امانت قبول کرنے) کی نسبت بھی حق تعالیی سے ہوگی۔ اور حق تعالیٰ جو کچھ کرتاہے عدل ہے نہ کہ ظلم ۔ یہ خواص عقیدہ ہے۔

نانواں سوال

کیا ارواح (یعنی کسی بزرگ کی روحانیت) سے تربیت حاصل کر کے معرفت حاصل کی جاسکتی ہے۔

جواب

کسی سالک کو ذاتی استعداد اور فطری قابلیت کے بغیر ارواح کی تربیت سے معرفت حاصل نہیں ہوتی اور جب یہ دونوں جمع ہوجائیں (یعنی ذاتی قابلیت بھی ہو اور ارواح کی تربیت بھی مل جائے) تو شاید آیہ اِنَّکَ لا تھدی من اَحْبَتَتْ (اے پیغمبر تو جسے چاہے ہدایت نہیں دے سکتا) کے مطابق کمال ونقصان حضرت علمیہ الٰہیہ سے منسوب ہوتا ہے اور اسکا ظاہری فاعل سے کوئی تعلق نہیں (فاعل حقیقی یعنی حق تعالیٰ سے تعلق ہے)
1
دسواں سوال

طالب کو موت کے بعد وصل ممکن ہے یا نہیں

جواب

عارفین کے نزدک طالب اور غیر طالب بلکہ ہر شی معدوم ہے (یعنی کسی چیز کا حقیقی و جود نہیں ہے) اور ذات بحت کے سوا کوئی چیز موجود نہیں ہےاور آیۂ کُلَّ اِلَیْنَا رَاجِعُون کے مطابق طالب بلکہ تمام موجودات اپنی ذات کی طرف (یعنی ذات حق کی طرف) رجوع کر رہے ہیں خواہ جمال کے راستے خواہ جلال کے راستے جس طرح کہ پاک اورپلید پانی بحر محیط میں ہمرنگ ہوجاتے ہیں؎

ہر چیز کہ درکان نمک رفت نمک شد
جو چیز نمک کی کان میں رکھی جائے نمک بن جاتی ہے

اور صفت جمال اور جلال کی ذات حق کے ساتھ یکساں نسبت ہے اس وجہ سے کہ وحدت ساذج (ذات بحت) تعد اور تکثر سے پاک اور منزہ ہے۔ ایبات:

گر گمرہ ور زاہل شہودی ایدل
یک قطرہ زدریائے وجودی ایدل
زیں پیش نبودے از تو تا دریا فرق
ناگاہ چناں مشوی کہ بودی ایدل
خلق از چہ بہ رہِ مختلف آسار فتند
بیشی وکمی بعالم وحدت نیست
چہ رود چہ قطرہ چوں بدریا فتند
(۱۔ اگر تو گمراہ ہے یا اہل شہود ہے تو دریائے وجود میں سے ایک قطرہ ہے۔

۲۔ اب تک تم میں اور دریا میں کوئی فرق نہیں تھا چنانچہ اب بھی کوئی فرق پیدا نہ کرو۔

۳۔ اگر چہ مخلوقات نے مختلف راستے اختیار کر رکھے ہیں تاہم جب حقیقت کو پہچنتے ہیں ایک ہوجاتے ہیں۔

۴۔ عالم وحدت میں کمی وبیشی نہیں ہے خواہ ندی ہے خواہ قطرہ جب دریا میں جاتے ہیں ایک ہوجاتے ہیں)

گیارہواں سوال

طالب فانی ہوجاتا ہے یا مطلوب (یعنی مقام فنافی اللہ میں) اگر حدیث کُنْتُ کَنزاً مخفیا ً فاحْیَتُ اَنْ اُعْرَفَ فخلقت الخلق (حق تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میں ایک مخفی خزانہ تھا مجھے خواہش ہوئی کہ مجھے کوئی دیکھے اس لیے مخلوق کو پیدا کیا) کے مطابق حق تعالیٰ کو طالب فرض کیا جائے تو فانی ہونا مطلوب کیلئے درست آتا ہے جس نے نقاب بشری اوڑھ رکھ تھا۔ اور اگر انسان کو طالب قرر دیا جائے تو نفسانیہ سے اور صفات بشریہ سے باہر نکل سکتا تو اس صورت میں طالب فانی ہےمطلوب میں۔ لہذا قاعدہ کلیہ یہ ہوا کہ انسان اپنی صفت حدوث (حادث ہونا) اور خلق (مخلوق ہونا) کی وجہ سے فانی ہے خواہ اس حیثیت سے وہ طالب کہلائے یامطلوب۔ لیکن جب صفت حدوث وخلق سے باہر آجاتا ہے وہ بقی بن جاتا ہے (فانی نہیں رہتا) اورصفت خلق سےمعرا اور پاک ہوجاتا ہے جیسا کہ کسی نےکہا ہے؎

عارف خدا ندارد


اونیست آفریدہ[6]
(عارف نہیں رکھتا نہ وہ کسی کا پیدا کیا ہوا ہے)

حضرت شیخ ابو الحسن خرقانی کا یہ قول اسی حقیقت کو ظاہر کرتا ہے الصوفی غیر مخلوق (صوفی غیر مخلوق ہے[7])

بارہوں سوال

درد اور عشق میں تفرقہ کیوں ہے۔

جواب

درد اور عشق دونوں لازم و ملزم ہیں۔ لیکن عاشق صفات (صفات کا طالب) ہمیشہ درد واندوہ میں مبتلا رہتا ہے۔ اس لیے کہ عالم صفات میں کبھی جلوہ گری ہوتی ہے کبھی پردہ پوشی جسکی وجہ سے عاشق صفات درد والم، حیرانی و پریشانی سے فارغ نہیں رہتا۔ اسکے بعد برعکس عاشق ذات ہمیشہ سکون واطمینان سے رہتا ہے کیونکہ عاشق ذات جس طرح دیکھتا ہے حق تعالیٰ کے جمال کے سوا کچھ نہیں دیکھتا؎

محقق ہماں بیند اندر ابلِ


کہ درخوبر و یان چین و چگل
(جو لوگ محقق ہیں محبوبان مجازی کے حسن و جمال میں حسن ازلی وجمالی لم یزلی کا مشاہدہ کرتے ہیں) اگر چہ ذات حق کے مختلف شیون (جمع شان) عین وصل میں اُسے نیم مردہ کردیتے ہیں اس وجہ سے عاشق جب تک محو مطلق نہیں ہوتا اور اپنے معشوق کے تعین سے فارغ نہیں ہوتا جو متقاضی دوئی ہے درد اور طلب اور سوز گذار اسکے اندر باقی رہتا ہے۔

خاصیت سیماب بود عاشق را


تاکشتہ نہ گردو اضطرابش نہ رود
(عاشق پارے کی طرح ہمیشہ بے چین رہتا ہے لیکن جب پارہ کشتہ ہوجاتا ہے اضطراب ختم ہوجاتا ہے)

تیرہواں سوال

وہ کونشا شغل ہے جو شغل کے اختیار کے بغیر (بے اختیار) شروع ہوجاتا ہے۔

جواب

یہ وہی شغل ہے جو ذکر اور ریاضت کی مداومت کی وجہ سے حاصل ہوتا ہے۔ جسے ذکر قلبی اور نطق القلب کے نام سے بھی موسوم کرتے ہیں۔ لیکن اس پر اکتفا نہیں کرنا چاہیے کیونکہ اس سے اوپر بے شمار مراتب ہیں اور انسان کا کمال یہ نہیں ہے۔

چودھوں سوال

نماز بے خطرہ (یعنی بغیر وساوس) کب میسر آتی ہے۔

جواب

یہ نماز اس وقت میسر آتی ہے جب اشیاء کا وجود نمازی کی ظاہری وباطنی آنکھوں سے گم اور فنا ہوجاتا ہے اور اسکے قلب میں ذات حق بس جاتی ہے۔

پندرھواں سوال

غیر متناہی (لامحدود یعنی ذات حق) متنا ہی (محدود یعنی انسان) میں کس طرح سما سکتا ہے۔

جواب

اس اعتبار سے کہ ذات حق بحسب اطلاق اشارات، عبارات، قیودو اعتبارات سے پاک اور منزہ ہے۔ چشم سر اسکے اوراک سے قاصر ہے۔ اِنَّ اللہَ تَعَالیٰ احتجب عن العقول کما احتجب عن الابصار ان الملا الا علی یطلبونہ کما یطلبونہ انتم (تحقیق اللہ تعالیٰ عقول سے بھی اُسی حجاب میں ہے جس طرح عیون یعنی آنکھوں سے ہے۔ ذات حق تمہاری تلاش میں اُسی طرح سر گرم ہے جس طرح تم اسکی تلاش میں سر گرم ہو) اور اس اعتبار سے کہ تقیدات ظہور اور مراتب و ج
1
ود یعنی مراتب کونیہ اور مظاہر حسیہ میں ذات حقِ کا ادراک ممکن ہے ہے ہوسکتا ہے کہ جیسے آسمان (یاسورج) اپنی پوری وسعت کے باوجود انسان کی تلی آنکھ پتلی میں سماجاتا ہے اسی طرح انسان کامل کے قلب میں بھی بمصداق حدیث قلب المومن عرش اللہ تعالیٰ ( مومن کا قلب اللہ تعالیٰ کا عرش ہے) ہوسکتا ہے کہ حق تعالیٰ سما جائے ۔ نیز حق تعالی نے فرمایا ہے وفی انفسکم افلا تبصرون (تم اپنے اندر کیوں نہیں دیکھتے) اللہ تعالیٰ یہ یہ کلام پاک میں بھی فرمایا ہے وَھُوَ مَعَ کُمْ اینھما کنتم (وہ تمہارے ساتھ ہے جہاں کہیں بھی تم ہو) نیز حدیث قدسی میں آیا ہے کہ لا یسعنی ارضی ولا سماتی ولاکن یسعی قلب عبدی المومن (میں نہ اپنی زمین میں سماسکتا ہوں نہ اپنے آسمانوں میں سما سکتا ہوں بلکہ اپنے بندۂ مومن کے قلب میں سما سکتا ہوں) شعر؎

بدیں خوردی کہ آمد جسۂ دل


خدا ے وند دو عالم راست منزل
(انسان کا دل اگر چہ بہت چھوٹا ہے لیکن خدا وند عالم کی جائے رہائش ہے)

سولھواں سوال

انسان کے اندر استعدادِ شناخت (معرفت) برابر ہے یا نہیں۔

جواب

استعداد ذاتی ہر شخص میں برابر ہے جیسا کہ حدیث شریف میں آیا کہ کُلَّکُم راع وکُلَّکُمْ مَسؤل عن رعیتہٖ (تم میں سے ہر شخص حکمران ہے اور ہر شخص سے اسکی رعیت یعنی کنبہ اور متعلقین کے متعلق پرسش کی جائیگی) نیز فرمایا وَمَا من مولودٍ اِلَّا وَھَدَ یُوَلَد علی فطرۃ الاسلام (ہربچہ اسلام کی فطرت پر یعنی صحیح فطرت پر پیدا ہوتا ہے) یہ تمام نصوص انسان کی مساوات ذاتی پر دلالت کرتی ہیں۔ لیکن ہر شخص کی استعداد صفاتی میں بہت فرق ہے۔ ایک صفات ربانی سے متصف ہوکر فرشتوں سے اوپر چلاجاتا ہے اور دوسرا اوصاف شیطانی سے متصف ہوکر بد ترین بھیڑیا بن جاتا ہے۔

سترھواں سوال

بصر افضل ہے یا سمع۔

جواب

حق تعالیٰ نے ہر چیز کو ایک مخصوص کا م کیلئے پیدا فرمایا ہے اور اس چیز کیلئے وہی کام افضل ہے۔ لوہا ایک لحاظ سے چاندی سے افضل ہے اور چاندی ایک لحاظ سے لوہے سے افضل ہے۔ اسی طرح کان ایک لحاظ سے آنکھ سے افضل ہے اس وجہ سے کہ آدمی علم کی وجہ سے اشرف المخلوقات ہے علم کے بغیر وہ بد ترین مخلوق ہے اور علم قوت سامع سے حاصل ہوتا ہے اور قوت ناطقہ جس سے انسان دیگر جانداروں سے ممتاز ہے قوت سامعہ کے بغیر بے کار ہے جس طرح مادر زاد گنگا کا حال ہے۔ ایک لحاظ سے آنکھ کو کان پر فضیلت حاصل ہے اس س جہ سے کہ جو علم کان کے ذریعے حاصل ہوتا ہے زوال پذیر ہے بخلاف علم بصر کے جو بالکل زوال پذیر نہیں ہوتا۔؎

شنیدہ کے بَوَد مانندِ دیدہ
روح کو ضائع وبدائع الٰہی کا احساس اور اشیاء عالم کی صورتوں کا اوراک اسی قوت باصرہ سے ہوتا ہے۔

اٹھارواں سوال

موت کے بعد بھی ترقی ہوتی ہے یا نہیں۔

جواب

مرتبۂ وحدت صرف میں ذوی الحیات (جاندار) معدوم ہیں[8]۔

لہٰذا اہل ممات بدرجہ اولی معدم ہونگے۔ اس وجہ سے یہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ البتہ شیخ محی الدین ابن عربی قدس سرہٗ فرماتے ہیں کہ موت کے بعد ترقی ہوتی ہے اور میں نے شبلی، جنید اور بایزید کے حال کا ملاحظہ کیا ہے انہوں نے ترقی ہے لیکن معرفت حق میں ترقی نہیں ہوتی اس وجہ سے کہ حق تعالیٰ نے فرمایا ہے مَن کَانَ فِیْ ھَذٖہ اَعمی فَھُوَ فِی الاخرۃ اعمیٰ[9] (جو اس دنیا میں اندھا ہے آخرت میں بھی اندھا ہوگا) لیکن اکثر محققین کا خیال ہے کہ موت کے بعد ترقی نہیں ہوتی چنانچہ حق تعالیٰ نے فرمایا ہے یا ایھا الذین امنو انفقوا مما رزقنکم من قبل ان یاتی یوم لابیع فیہ ولا خلۃ ولا شفاعہ والکافرون ھم الظالمون[10] (اے ایمان والو خرچ کرو (راہِ حق میں) اس رزق سے جو ہم نے تمکو دیا قبل اسکے کہ یوم قیامت آجائے جب نہ خرید وفروخت ہوگی نہ دوستی اور شفاعت اور کافر لوگ بڑے ظالم واقع ہوئے ہیں)

ان اٹھارہ سوالوں میں سے چودہ سوال کاتب حروف کو شیخ محب اللہ رحمۃ اللہ کی کتاب اسولہ واجوبہ کے دیکھنےسے پہلے موصول ہوچکے تھے۔ چنانچہ اس احقر نے انکےجواب وقت وحال کےمطابق تحریر کیے تھے انکو بھی یہاں لکھا جاتا ہے امید ہے ان سوالات کے نئے جوابات مفید ثابت ہونگے۔

پہلا سوال

اس راہ میں (یعنی طریقت یا سلوک الی اللہ میں) بدابت (ابتدا) اور نہایت (انتہا) کیا ہے۔

جواب

راہِ سلوک میں حضرات نقشبندیہ کے نزدیک ابتدا سے مراد سالک کا حصول اوراک بسیط ہے جس میں حقیقت کا خلقیّت پر غلبہ ہوتا ہے اور جو محل تجلئ ذات اور ظہور وجہ خاص ہے یہاں ظہور کے ساتھ وصول بھی مفہوم ہے۔ اس قسم کے ظہور کو آغاہی کے نام سے موسوم کرتے ہیں۔ انکے نزدیک نہایت یعنی انتہا سے مراد ذات لا تعین یا بے کیف کا شہود ہے۔ جہاں محویت واستغراق کا اس قدر غلبہ ہوتا ہے کہ نہ سالک کا نام باقی رہتا ہے نہ نشان۔ یہاں تمام نسبتیں حقیقت میں گم ہوجاتی ہیں۔ اس کشف کو کشف غلبہ کے نام سے موسوم کرتے ہیں۔ جسے تجلئ ذاتی شہود ذاتی اور یاد داشت بھی کہتے ہیں۔ اس مقام پر رویت جسکا ظہور آخرت میں ہونا تھا یہاں صحیح ہوجاتی ہے۔ اور مرتبہ
1
احسان اور رویت میں جو فرق ہے وہ اس فرق کی طرح ہے جو صاحب جمال کے مشاہدہ بوقت صبح اورمشاہدہ بوقت اشراق میں ہے[11]۔ اور ان حضرات کی اس کشف اور استغراق سے تمام تر غرض یہ ہوتی ہے کہ اس نسبت کے غلبہ سے کثرت صفات بھی انکی نظر سے گم ہوجاتی ہے اور صفت و فعل میں سوائے ذات کے کچھ نہیں دیکھتے اور موجودات کے سارے، میدان میں انکو ذات بحت کے سوا کچھ نہیں رہتا۔ یہ ہے انبیاء اور اولیاء کے مقام کی انتہا۔

طریقہ قادریہ اور چشتیہ میں ابتداء وانتہا

طریقۂ قادریہ اور چشتیہ میں بدایت سے مراد آغاز سلوک اور نہایت سے مراد جذبہ ہے۔ بعض کےنزدیک بدایت کار انابت (یعنی رجوع الی اللہ) سالک کے وجود کی نفی اور فنا ہے اور نہایت کا رنفی واثبات اور فنا وبقا سے گذر جانا ہے (یعنی فرو بنکر ایک کے ساتھ ایک ہوجانا[12])

بعض کے نزدیک بدایت کار مرتبۂ عشقیّت و محبت ہے اور نہایت کار مقام معشوقیّت و محبوبیّت ہے بعض کےنزدیک بدایت کار اپنے آپکو سباری کائنات کو تقلید کے طور پر عین حق تصور کرنا ہے اور نہایت کار اپنے آپ اور تمام موجودات کو از روئے تحقیق وتصدیق (نہ صرف قالاً بلکہ حالاً) دیکھنا ہے بعض کہتے ہیں کہ بدایت کار شیخ کی صورت مثالی کا دیدۂ شہود سالک کے سامنے حاضر ہونا ہے اور نہایت کار عالم ملکوت کا کھل جانا ہے۔ اسکے بعد کام سلوک سے بالا تر ہوجاتا ہے اور سالک کی ترقی کا دار ومدار جذبۂ الٰہی کا ورود ہے۔ نیز بدایت کار تصور شیخ ہے اور نہایت کا اسکے ساتھ کلام کرنا اور فیض حاصل کرنا ہے۔ نیز بدابت کار مسافر روح کے ساتھ نسبت تامہ کا حصول ہے جیسا کہ شب معراج میں آنحضرتﷺ کیلئے براق اور نہایت کار روح مقیم کے ساتھ نسبت کاملہ ہے۔

دوسرا سوال

حضرت جنید بغدادی کے قول ھی الرجوع الی البدایۃ جو انہوں نے ما النھایت کے جواب میں دیا کا کیا مطلب ہے۔

جواب

اسکا مطلب یہ ہے کہ خلق قبل از ظہور عین حق تھی اور حق بعد از ظہور عین خلق ہوگیا۔ پس سالک کے کمال کی انتہا یہ ہے کہ جس طرح قبل از، ظہور عین حق تھا اسی طرح بعد از ظہور اپنی اصل کی طرف رجوع کر کے عین حق ہوجائے۔ بالفاظ دیگر انتہا یہ ہے کہ قطرہ دریا میں پیوست ہوجائے اور فرع اصل کے ساتھ مل کر ایک ہوجائے؎

رفت زمسعود بک جملہ صفات بشر
چونکہ ہمہ ذات بود باز ہماں ذات شد
(مسعود بیگ سے تمام صفات بشریہ دور ہوگئیں اور جس طرح پہلے عین ذات تھی اب عین ہوگیا)

تیسرا سوال

وہ کونسا علم ہےجو حجاب الاکبر کہلاتا ہے

جواب

وہ علم جو حجاب اکبر ہے وہ علم غیریت اور کثرت و دوئی کو دیکھنا ہے بعض کہتے ہیں کہ علم حضوری اور حصول حاصل دونوں ایک ہیں۔ کہ وہ علم جو حجاب اکبر ہے وہ عرفان ذات بے چون ہے لطف یہ ہے کہ وہ بھی درمیان میں نہ ہو۔ چنانچہ حضرت مولانا روم نے اس شعر میں اُسی کی طرف اشارہ کیا ہے؎

گفت مکشوف و برہنہ کو کہ من


مے نہ خسپم با صنم باپیرہن
(عاشق نے کہا کہ مجھے تو برہنہ اور بلا لباس اس محبوب چاہیے کیونکہ میں اس محبوب کے ساتھ نہیں سوتا جو پیراہن کے ساتھ ہو) بعض کہتے ہیں کہ وہ علم حق ہے جو تعین اول میں ظاہر ہوکر حاجب ذات اور اسکے ظہور کا ذریعہ بنا۔ العلم حجاب الاکبر کےمعنی حضرت شیخ احمد عبدالحق قدس سرہٗ کے احوال میں بھی بیان کیے جاچکے ہیں۔

چوتھا سوال

انبیائے سابق کو معرفت توحید حاصل تھی یا نہیں۔

جواب

انبیائے سابق (یعنی حضرت سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کے انبیاء علیہم السلام) کو خالص توحید تنزیہی یا خالص توحید تشبیہی حاصل تھی لیکن وہ توحید جو تشبیہہ و تنزیہہ کی جامع ہے حاصل نہ تھی کیونکہ یہ چیز سرور کائناتﷺ کا خاصہ ہے۔

پانچواں سوال

تصور قابل اعتبار ہے یا نہیں؟

جواب

تصور شاغل[13] کامل بالکل قابل اعتبار ہے لیکن غیر کامل کا تصور درجہ اعتبار سے ساقط ہے۔

چھٹا سوال

جب موجود کو معدوم ہونا محال ہے تو اشیا کو کیسےمعدوم کیا جاسکتا ہے؟

جواب

اشیاء عالم جو اعیان ثابتہ ہیں ہمیشہ سے معدوم ہیں انکو وجود خارجی کی بو تک نہیں آئی(یعنی وجود خارجی کی انکو ہوا تک نہیں لگی) اور جو کچھ موجود ہے سب ذات حق سبحانہ تعالیٰ ہے جسکا معدومہونا محال ہے لہٰذا ہم کیسےکہہ سکتے ہیں کہ اشیاء پہلے موجود تھیں بعد میں معدوم ہوگئیں۔

ساتواں سوال

ترقی کی کوئی انتہا بھی ہے یا نہیں؟

جواب

محمدی المشرب کی ترقی کی کوئی انتہا نہیں۔ دوسروں کی ترقی انتہا ہے۔

آٹھواں سوال

ظلوماً جہولاً میں انسان کی تعریف آئی ہے یا مذمت؟

جواب

ان الفاظ شریف میں ح ضرت انسان کے عرفان کے بے حد مدحت کی گئی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ انسان اپنے نفس سرکش پر ظالم ہے کیونکہ اسے سخت مجاہدات اور ریاضت شاقہ میں پکرتا ہے اور غیر حق سے جاہل ہے۔

نانواں سوال

ارواح کی تربیت سے معرفت تمام ہوتی ہےیا نہیں؟

جواب

سالک ارواح انبیاء واولیا کے ذریعے اجمالی معرفت حاصل کر سکتا ہے۔ لیکن جب تک ظاہری زندہ شیخ اور کامل اکمل شیخ سے تربیت حاصل نہ کی جائے اُسے حق تعالیٰ کی تفصیلی معرفت حاصل ن
1
ہیں ہوتی اور دوسروں کی تکمیل کرانے کے قابل نہیں ہوتا۔ جیسا کہ اُن حضرات سے مخفی نہیں جنکو معفت کا ادنیٰ ذوق ہے۔

دسواں سوال

طلاب کے لیے موت کے بعد وصل مطلوب ممکن ہے یا نہیں؟

جواب

اگر سالک مرتبہ دید یا شنید کے کھلنے کے بعد پہلے اور نہایت کار کے حصول سے پہلے مرجائے تو موت کے بعد نہایت کار سے واصل ہوجاتا ہے۔ اگر مرتبہ دید شنید سے پہلے موت واقع ہوجائے تو بعض کےنزدیک مطلوب کوپہنچ جاتا ہے۔

گیارھواں سوال

طالب فانی ہوتا ہے یا مطلوب؟

جواب

مرتبہ فنا میں طالب اور مطلوب دونوں ایک دوسرے کے صفات میں فانی ہوجاتے ہیں اور مقام بقا میں دونوں ایک دوسرے کے صفات سے باقی ہوتے ہیں۔ جیسا کہ ایک عارف نے فرمایا ہے۔

من برنگ یار گشتم


یار رنگ من گرفت
(میں دوست کے رنگ میں رنگا گیا اور دوست نے میرا رنگ اختیار کرلیا)

بارھواں سوال

درد اور عشق سے کیا مراد ہے؟

جواب

عشق سے مراد عاشق کا مشاہدۂ دوست کی طرف رجوع ہے۔ اور درد سے مراد سوز اور فراق ہے عین طلب[14] میں تاحصول وصال۔ پس موجب ترقی درد ہے۔ اگر کسی کو عشق ہے لیکن درد نہیں ہے وہ ترقی نہیں کرسکتا۔ چنانچہ ملائک کو عشق ہے درد نہیں ہے لہذا وہ ترقی نہیں کر سکتے۔ جیسا کہ آیت کریمہ وَما منا الاولہ مقام معلوم سے ظاہر ہے۔ درد صرف انسان کا خاصہ ہے۔ کسی عارف نے خوب کہا ہے؎

قدسیاں را عشق ہست ودرونیست


درد راجز آدمی در خورد نیست
(فرشتوں کو عشق ہے درد نہیں ہے۔ درد کے قابل انسان کے سوا کوئی نہیں ہے)

قدسیاں را عشق ہست و درد نیست


درۂ در داز دل عشاق بہ
(عشق کا ایک ذرہ ساری کائنات سے بہتر ہے اور درد کا ایک ذرہ تمام عاشقوں کے دل سے بہتر ہے)

عشق کیلئے درد لازمی نہیں لیکن درد کیلئے عشق لازمی ہے اور درد کے بغیر عشق محبوب تک نہیں پہنچا سکتا۔ ہاں درد محبوب تک پہنچا سکتا ہے۔

تیرھواں سوال

وہ کونسا شغل ہے جو شاغل کے اختیار کے بغیر صادر ہوتا ہے،

جواب

وہ شغل جو شاغل کی کوشش کے بغیر انقطاع (مسلسل) جاری رہے اور وہ شغل سلطان ذکریا صوتِ سرمدی یا انحد ہے جسکا ذکر مفصل حضرت عبدالقدوس گنگوہی قدس سرہٗ اور حضرت جلال الدین تھانیسری کے حالات میں ہوچکا ہے اعادہ کی ضرورت نہیں ہے۔

چودھواں سوال

وساوس کے بغیر نماز کب حاصل ہوسکتی ہے؟

جواب

یہ نماز اس وقت حاصل ہوتی ہے جب نمازی پر شغل باطن مسلط ہوکر غیر کےنقوش اسکی لوح دل سے مٹادیتا ہے۔ اور عشق کے سوا اسکے دل میں کوئی خطرہ نہیں آسکتا۔

غرضیکہ حضرت شاہ محب اللہ عارف صاحب اسرار جو وساوس اغیاء سے فارغ اور دقائق طریقت وآداب شریعت کے محافظ تھے۔ جیسا کہ مندرجہ بالا اٹھارہ سوالات و جوابات سے ظاہر ہے۔ پس جو شخص آپکی نکتہ چینی کرتا ہے وہ الھاد اور زندقہ میں مبتلا ہے اور علم حقائق سے بے بہرہ ہے۔ چونکہ وہ شخص حضرت اقدس کا کلام سمجھنے سے قاصر ہے اور انکا پر کمر باند لیتا ہے۔ آفتاب کی ہستی کا منکر ہوتا ہے ۔لیکن اپنی جہالت سے آگاہ نہیں ہوتا۔ آپ کے کمال کیلئےیہی دلیل کافی ہے کہ آپ حضرت شاہ ابو سعید قدس سرہٗ کے مرید تھے اور حضرت اقدس کی نظر خاص کےپروردہ تے۔ حاجب مراۃ الاسرار لکھتے ہیں کہ حضرت شیخ محب اللہ بیس سال تک الٰہ آباد میں مسند ارشاد پر متمکن رہے اور ایک جہان آپ سے فیضیاب ہوا۔

وصال

آپ نے بتاریخ ۹؍ ماہ رجب بروز پنجشنبہ بوقت غروب آفتاب ۱۰۵۸؁ھ عالم فنا سے عالم بقا کی طرف رحلت فرمائی اور الٰہ آباد میں دفن ہوئے۔ اپکا ایک خورد سال بچہ تھا جنکا نام شیخ تاج الدین تھا۔ لیکن یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ شیخ تاج الدین کی اولاد باقی ہے۔

چوتھے خلیفہ

حضرت شیخ ابو سعید قدس سرہٗ کے چوتھے خلیفہ حضرلت شیخ ابراہیم سہارنپوری تے۔

پانچویں خلیفہ

آپکے پانچواں خلیفہ حضرت شیخ خواجہ پانی پتی تھے۔ آپ کے دیگر خلفا بی بہت تھے جنکا ذکر اس مختصر کتاب میں نہیں ہوسکا۔ رحمہ اللہ علیھما

اللّٰھُمَّ صَلِّ عَلیٰ مُحَمَّد ٍوَالہٖ وَاَصْحَابِہٖ اَجْمَعِیْن۔

ازرہگذرِ خاکِ سرکوئے شمابود


ہر نافہ کہ دردستِ نسیم سحر افتاد




[1]۔ شغل نفی واثبات سے مراد ذکر اللہ لا الہ الا اللہ ہے

[2]۔ اسم ذات سے مُراد ذکر اسم مبارک اللہ اللہ ہے

[3]۔ برزخ شیخ کا مطلب یہ ہے کہ یہ ذکر تصور شیخ کےساتھ کیا جائے یعنی سالک اپنے آپ کو شیخ کی صورت دیکھے اور ذکر کرنے والا سالک خود نہ ہو بلکہ حضرت شیخ ہو۔

[4]۔ سیر الی اللہ سے مراد عروجی سفر ہے جو ذات حق تک رسائی حاصل کرنے کی خاطر اختیار کیا جاتا ہے اس سفر میں عالم مثال، عالم ملکوت یا عالم ارواح اور عالم جبروت سے گذر کر ذات بحت میں روحانی طریق سے داخل ہونا پڑتا ہے۔ یعنی سالک کی روح تزکیہ نفس کے بعد پرواز کر کے عالم مثال، عالم ملکوت عالم جبروت سے گذرتی ہوئی ذات باری تعالیٰ میں واصل ہو جاتی ہے۔
1
[5]۔ سیر فی اللہ سےمراد وہ پرواز ہے جو سالک ذات حق سے واصل ہوکر ذات حق میں مزید قرب و وصال کی خاطر اختیار کرتا ہے۔ اسکے بعد سیر من اللہ ہے جو نزولی سفر ہےجسکے ذریعہ سالک پھر مقام و دوئی میں واپسی آتا ہے اور فرائض منصبی ادا کرتا ہے۔

[6]۔ یعنی جب فرق من وتو مٹ جاتا ہے اور سالک اپنی ہستی کو ذات حق میں گم کردیتا ہے تو بندہ اور خدا کی نسبت باقی نہیں رہتی۔ سب خدا ہی ہوتا ہے۔ بندہ نہیں رہتا ـ

[7]۔ یعنی جب دوئی مٹ جاتی ہے تو خالق و مخلوق کا فرق مٹ جاتا ہے۔

[8]۔ یعنی مرتبۂ ذات بحت میں تعینات گم ہیں۔

[9]۔ ان دو آیات کی رو سے بعد ممات وہ لوگ مانع ترقی ہیں جو عصیان میں مبتلا ہوں گے۔ لیکن جن مقدس افراد کو اس دنیا میں باطنی بصیرت اور روحانی قوت پرواز حاصل ہوچکی ہے وہ ہر آن اور ہر لحظ ذات حق میں ترقی کرتے ہیں خواہ عند الحیات خواہ بعد الممات۔

[10]۔ ان دو آیات کی رو سے بعد ممات وہ لوگ مانع ترقی ہیں جو عصیان میں مبتلا ہوں گے۔ لیکن جن مقدس افراد کو اس دنیا میں باطنی بصیرت اور روحانی قوت پرواز حاصل ہوچکی ہے وہ ہر آن اور ہر لحظ ذات حق میں ترقی کرتے ہیں خواہ عند الحیات خواہ بعد الممات۔

[11]۔ شاید اس عبارت کا مفہوم یہ ہے کہ حضرات نقشبندیہ کے نزدیک ابتدائے کا رمرتبۂ فناء ہے اور انتہاء کار مرتبہ فناء الفنا ہے۔ جہاں احساس فنا بھی شہود ذات بحت میں ختم ہوجاتا ہے۔ مشاہدہ صبح اور مشاہدہ اشراق میں ظہور کی کمی و بیشی کا فرق ہے جیسے صبح صادق کے وقت آفتاب کی چمک مدھم ہوتی ہے اور اشراق کے وقت تیز۔

[12]۔ جیسا کہ کسی نے کہا ہے۔

ساحل دریا ہمہ کفر است ودریا دینداری
ولیک گوہر دریا درائے کفر و فن است


[13]۔ شیخ کامل ۔

[14]۔ ہجر در عین وصال جو مقامِ جامعیت ہے۔

( اقتباس الانوار )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-muhibullah-siddiqui

وصال:
9 رجب المرجب 1058ھ
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
قطب العالم حضرت شیخ عبد الجلیل چوہڑ بندگی سہروردی رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
اسم گرامی:
حضرت شیخ عبد الجلیل سہروردی رحمۃ اللہ علیہ ۔ لقب: قطب العالم، چوہڑبندگی ۔

چوہڑبندگی کی وجہ تسمیہ:
چوہڑہندی زبان میں " شکار کو تدبیر سے قابو کرنے والا " کو کہتے ہیں ۔

چونکہ آپکا سلسلۂ نسب اِسطرح ہے:
آپ کا سلسلۂ نسب چند واسطوں سے سلطان التارکین حضرت شیخ حمید الدین ابو الحاکم بادشاہ کیچ مکران سے ملتا ہے۔ شیخ عبد الجلیل بن شیخ ابو الفتح بن شیخ عبد العزیز بن شیخ عبد الجلیل بن شیخ شہاب الدین بن شیخ نور الدین بن شیخ سلطان التارکین حضرت شیخ حمید الدین ابو الحاکم علیہم الرحمہ ۔

ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت قصبہ "موکہ" ریاست بہاولپور میں ہوئی۔

تحصیلِ علم:
آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے والد گرامی سے حاصل کی ۔ پھر بلاد اسلامیہ کے مختلف شہروں میں جید علماء سے اخذ علم کیا۔یہاں تک کہ علوم ظاہرہ میں کامل و اکمل ہو گئے۔

بیعت و خلافت:
آپ نے علوم ظاہریہ کی تکمیل کے بعد اپنے عظیم والد بزرگوار حضرت شیخ ابو الفتح سہروردی علیہ الرحمۃ کے دست حق پرست پر بیعت کی اور ان کی خدمت میں رہ کر فیوضات باطنی کی دولت سے مالا مال ہوئے۔آپ کے والد بزرگوار نے محبت و شفقت پدری کے باوجود آپ سے سخت ترین ریاضتیں اور مجاہدے کرائے۔مجاہدات وریاضات کےبعد خلافت عطاء فرمائی۔

سیرت و خصائص:
قطب العالم، شیخ المشائخ، عارف باللہ، عالم السنہ، امام الاولیاء، سید الاصفیاء حضرت شیخ عبد الجلیل چوہڑبندگی رحمۃ اللہ علیہ ۔

آپ علیہ الرحمہ کی ذات بابرکت سےدین اسلام کوبہت فروغ حاصل ہوا۔اسی طرح سلسلہ عالیہ سہروردیہ کی خوب اشاعت ہوئی۔آپ نے دنیا کی سیاحت کی اور اس دوران تبلیغ کا فریضہ ادا کر کے لا تعداد افراد کو ایمان و عرفان کی دولت سےمالا مال کیا اور بہت سے گم کردہ راہوں کو گمراہی کے دلدل سے نکال کر صراط مستقیم پر گامزن کیا۔ اور کوبہ کوبہ شہر بہ شہر پھرت پھراتے مکہ مکرمہ پہنچے اور حج بیت اللہ شریف کی سعادت حاصل کی۔ قیام مکہ مکرمہ کے دوران وہاں کے علماء اور مشائخ آپ کی خدمت میں حاضر رہتے لاتعداد افراد آ کے فیوضات باطنیہ سے مالا مال ہوئے اور ہزاروں افراد آپ کے دست حق پرست پر بیعت سے مشرف ہوئے۔

آپ انتہا درجہ کے متقی، پابند شریعت و طریقت اور اخلاق کریمانہ میں بے مثال تھے،آپ کی خدمت میں حاضری دینے والا غلام بے دام ہوکے رہ جاتا تھا، آپ نے تمام عمر یادِ خدا اور خدمت خلق اللہ میں گزاری اور رشد و ہدایت میں نمایاں کردار ادا کرکے سلسلہ عالیہ سہروردیہ میں لوگوں کو بیعت سے شرف یاب کیا۔آپ کی ذات والا صفات مشائخ زمانہ بالخصوص مشائخ سہروردی میں خاص مقام رکھتی تھی۔لاہور کے قدیم ترین سہروردی بزرگوں میں آپ کا شمار ہوتا تھا۔آپ اپنے وقت کے قطب الارشاد تھے۔

خرق عادات آپ سے لاتعداد ثابت ہیں۔دلائل الخیرات کا ورد کثرت سے آپ کا معمول تھا۔کتاب تذکرہ قطبیہ کےمصنف فرماتے ہیں۔کہ آپ قوت لایموت خود کما کر کھاتے تے۔کسی کے گھر کا کھانا بہت کم قبول فرماتے تھے۔غلہ خود پیستے تھے کسی دوسرے سے کبھی کوئی مشقت نہیں لی۔ اپنا کام خود انجام دے کر راحت محسوس کرتے تھے۔

کشف و کرامات:
حضرت غلام دستگیر نامی کی تحقیق کے مطابق آپ 880 ھ کے قریب جب لاہور تشریف لائے تو یہ سلطان بہلول لودھی کا زمانہ تھا۔سلطان کو ان دنوں راجہ سین پال سلہریہ کی بغاوت نے فکر مندرکر رکھا تھا۔(سلہریہ ریاست اس وقت اس رقبے پر مشتمل تھی، جس میں اب پسرور ، ناروال ، ظفر وال، پٹھان کوٹ ، شکر گڑھ اور جموں کشمیروغیرہ واقع ہیں)۔

راجہ سین پال نے جب خراج وغیرہ دینا بند کیا تو سلطان نے اس کی سر کوبی کےلیے ایک لشکر بھیجا۔جس نے پہلے راجہ کو سلطان کا پیغام دیا کہ وہ خراج ادا کرے یا مسلمان ہوجائے راجہ نے خراج بھی نہ دیا نہ ہی مسلمان ہونے کی شرط قبول کی اس کے برعکس لڑائی کو ترجیح دی لیکن جلدی ہی شکست کھا کر بھاگ گیا۔اور جموں کے پہاڑوںمیں اس کی ملاقات چے پال نامی جوگی سے ہوئی جس کے بارے میں مشہور تھا کہ استدراج میں اس کا کوئی ہندو جوگی ہمسر نہیں۔راجہ سین پال اس جوگی کے پاس گیا۔اور اپنی تمام رام کہانی اسے سنائی۔ اور اس کی منت کی کہ وہ کوئی ایسا عمل کرے جس سے مجھ پر آئی ہوئی مصیب ٹل جائے۔جے پال نے اسے تسلی دی اور وعدہ کیا کہ میں تمہارا یہ کام کردوں گا۔ اور تمہاری سلطنت بھی واپس دلوادوں گا۔
1
اس کے بعد وہ وہاں سے سیدھا لاہور پہنچا اور سلطان بہلول کی خدمت میں باریاب ہوکر عرض کیا کہ اللہ رب عالمین نے اپنے بندوں کو بادشاہوں کے قبضے میں اس لیے دیا کہ وہ ان میں انصاف کریں۔ اگر جہاں پناہ اس حقیر کی گذارش پر غور کریں تو میں کچھ عرض کرنے کی جسارت کروں۔سلطان بہلول کوجوگی کایہ انداز تکلم بہت پسند آیا ۔ اور فرمایا کہ تم جو کچھ کہنا چاہتے ہو تمہیں اجازت ہے۔بلا خوف و خطر کہو جو کچھ کہنا چاہتے ہو ۔ جے پال نے عرض کی اگر جہاں پناہ اپنی رعایا کو ان کی رضا و رغبت سے دائرہ اسلام میں لانا چاہتے ہیں تو کسی مسلمان عالم کو میرے سامنے لائیں کہ وہ مجھ سے مناظرہ کرے تاکہ حق و باطل میں امتیاز ہو سکے ۔ اگر مسلمان عالم مجھ پر غالب آگیا میں تمام قوم سلہریہ کے ساتھ اسلام کی دعوت کوقبول کرلوں گا۔ورنہ مجھ سے وعدہ فرمائیں کہ آپ راجہ سین پال سے مزاحمت نہیں کریں گے۔

سلطان بہلول نے جے پال جوگی کی یہ بات مان لی اور اپنے وزیر سے کہا کہ کسی صاحب حال عالم کی تلاش کرو جو اس جوگی کو لاجواب کر سکے۔سلطان کا وزیر دولت خان حضرت شاہ کاکو چشتی صابری علیہ الرحمۃ کی خدمت میں آپ کی خانقاہ واقع نزد مسجد شہید گنج ریلوے اسٹیشن کے قریب حاضر ہوا اور تمام ماجرا گوش گزار کردیا۔حضرت شیخ شاہ کاکو علیہ الرحمۃ نے فرمایا کہ اب میں بوڑھا ہوچکا ہوں کمزوری کے باعث زیادہ دیر تک مناظرہ بھی نہ کرسکوں گا۔ لہٰذا آپ حضرت قطب العالم شیخ عبد الجلیل چوڑ بندگی سہروردی علیہ الرحمۃ کی خدمت میں چلے جائیں وہ آج کل لاہور میں میرے قریب کی خانقاہ میں جلوہ افروز ہیں اور یہ بھی یاد رکھو کہ لاہور کی ولایت بحکم رسول کریم ﷺ اب ان کے سپرد ہوچکی ہے۔

چنانچہ دولت خان سیدھا آپ کی خانقاہ معلیٰ محلہ کوٹ کروڑ حاجی سرائے میں پہنچا اور تمام واقعہ گوش گزار دیا تو آپ نے فرمایا کہ بادشاہ کو کہو کہ وہ خاطر جمع رکھے انشاء اللہ تمام ریاست جے پال جوگی سمیت مسلمان ہوجائے گی۔میں کل دربار میں آجاؤں گا۔ اگلے روز دربار لگا حضرت شیخ قطب العالم عبد الجلیل چوہڑ بندگی سہروردی کی زیارت اور اس معرکہ کو دیکھنے کےلیے سہارا شہر جمع ہوگیا۔جب مناظرہ شروع ہوا تو جوگی نے پہلے آغاز کرتے ہوئے اسلام پر کچھ اعتراضات پیش کئےجن کےجواب میں حضرت بندگی نے مدلل تقریر فرمائی اور ہر اعتراض کا ایسا شافی و کافی جواب ارشاد فرمایا کہ جوگی مبہوت ہوکے رہ گیا۔جب اس کے جواب کچھ کہنے کے قابل نہ رہا تو اس نے پنتر ابدلا اور کہنے لگا آؤ ظاہر کو چھوڑو اور باطن کی طرف رجوع کریں۔ اس کے بعد دونوں مراقبے میں چلےگئے۔جوگی نے اپنے استدراج کے ذریعے آپ کو تمام روئے زمین کی سیر کرائی۔

اس کے بعد آپ کی خدمت میں عرض کی کہ اگر آپ میں کچھ باطنی و روحانی کمال ہے تو آپ بھی دکھائیں۔حضرت قطب العالم بندگی نے ارشاد فرمایا کہ آنکھیں بند کرو۔آپ نے اپنی نظر ولایت اور تصرف باطنی سے جوگی کو آسمانوں کی سیر کرواتے ہوئے مقام لاہوت کا مشاہدہ کراتے ہوئےجنت الماویٰ کے دروازے پر لے گئےعالم لامکاں کی تجلیات نے جے پال کو دم بخود کردیا تھا۔ اب جوگی کی روح نے جنت الماویٰ میں داخل ہونےکی کوشش کی تو دروازہ بند ہوگیا۔حضرت قطب العالم بندگی نے ارشاد فرمایا :جوگی اس میں داخلے کےلیے کلمہ پڑھنا ضروری ہے۔اگر تو کلمہ پڑھ لے تو جنت کی سیر بھی ہوسکتی ہے۔ آپ کا یہ فرمانِ ذیشان سن کر جوگی نے بلند آواز سے کلمہ شہادت پڑھا جسے وہاں موجود تمام اہل دربار نے سنا۔مراقبے سے سر اٹھاتے ہی جوگی نے اپنی تمام قوم سے مخاطب ہو کر کہا اے عزیز و : مذہب اسلام حق اور سچا ہے۔ میں تو تمہارے سامنےدین اسلام میں داخل ہوچکا ہوں ۔ لہٰذا جو شخص مجھ سے ارادت رکھتا ہے وہ بھی کلمہ شہادت پڑھ کر اپنے سینے کو اسلام کے نور سے منور کرلے ۔ یہ کہہ کر اس نے دوبار تمام حاضرین کے سامنے کلمہ طیبہ با آواز بلند پڑھا اور مسلمان ہو گیا ۔ اس کی آواز سنتے ہی تمام قوم سلہریہ اور راجہ سین پال نے کلمہ پڑھا اور دولت ایمان سے مشرف ہو گیا ۔

تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 9 رجب المرجب 910ھ میں ہوا ۔ آپ کا مزار شریف لاہور میں مرجع خلائق ہے ۔

ماخذومراجع:
انسائیکلو پیڈیا اولیائے کرام ۔ تاریخ مشائخِ سہروردیہ ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-qutb-e-alam-abdul-jalil-chohar-bandagi-soharwardi
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت مولانا شاہ محمد حسین الہ آبادی رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
اسم گرامی:
حضرت مولانا شاہ محمد حسین علیہ الرحمہ ۔ لقب: فخر الاصفیاء، علامۂ زماں، شہیدِ محبت، عمری، محبی، الہ آبادی ۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
مولانا شاہ محمد حسین الہ آبادی بن تفضل حسین ۔ علیہما الرحمہ ۔ آپ کا سلسلۂ نسب حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ تک منتہی ہوتا ہے ۔

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 1269ھ / مطابق 1853ء کو محلہ بہادر گنج، الہ آباد (اِنڈیا) میں ہوئی ۔

تحصیلِ علم:
ابتدائی تعلیم الہ آباد میں حاصل کی، مولانا شکر اللہ الہ آبادی سے ابتدائی کتب پڑھیں ۔ پھر لکھنؤ کا سفر کیا ۔ وہاں مولانا نعمت اللہ فرنگی محلی، مولانا ابو الحسنات عبد الحئی فرنگی محلی اور قاری عبد الرحمٰن پانی پتی سے تعلیم پائی، تکمیل درسیات کے بعد حج کے لیے گئے، شیخ الاسلام سید احمد دحلان مکی سے سند حدیث حاصل کی ۔

بیعت و خلافت:
مکۃ المکرمہ میں سلسلۂ عالیہ چشتیہ صابریہ میں حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی رحمۃ اللہ علیہ کے دست حق پرست پر بیعت ہوئے ۔ ریاضت کے بعد خلافت سے مشرف کیے گئے ۔

سیرت و خصائص:
شہید راہ محبت، رونق بزم عاشقاں، پیکر کشتگان، عاشقِ اولیاء، امام العلماء، رئیس الاصفیاء، جامع کمالاتِ علمیہ و عملیہ، معارف اسرار ربانیہ، مہلک الوہابیہ والنجدیہ، مقبول بارگاہِ صمدانی حضرت علامہ مولانا شاہ محمد حسین الہ آبادی رحمۃ اللہ علیہ ۔

آپ نامور عالم، فاضل، صوفی بزرگ، عربی و فارسی کے زبردست ادیب، طبیب جسمانی اور روحانی تھے ۔

ابتداءً مولوی اسماعیل قتیل، اور سید احمد بریلوی کے خیالات سے متاثر ہو گئے تھے ۔ عوام و خواص میں " وہابی " معروف ہو گئے تھے ۔ لیکن جب حجاز مقدس تشریف لے گئے اور وہاں شیخ الاسلام شیخ احمد بن زین دحلان مکی علیہ الرحمہ اور شیخ العرب و العجم حضرت شاہ امداد اللہ مہاجر مکی علیہ الرحمہ کی صحبت سے مستفید ہوئے، اور جو ذہن و قلب پر بد عقیدگی کی میل آ گئی تھی، وہ ان نفوس قدسیہ کی نگاہِ فیض سے صاف ہو گئی ۔ اسی طرح ہندوستان سے چار مرتبہ حجاز مقدس کا سفر کیا ۔ ہر مرتبہ حالت تبدیل ہوتی گئی ۔ بِالآخر آپ کا قلب ہر قسم کے گمراہ عقائد و نظریات سے بِالکل صاف ہو گیا ۔ اسی طرح آپ " مجلس ندوۃ العلماء " کے بانیوں میں سر گرم بانی تھے ۔ جب مولوی شبلی نعمانی کی مذہب سے آزاد پالیسیاں ظاہر ہونے لگیں، اور ہر قسم کے افراد اس میں شامل ہونے لگے، مجلس عاملہ کے خصوصی اجلاس میں آپ نے ناظم ندوہ سے معاملات کی صفائی کے لئے کہا تو وہ آپ کے اس اقدام پر بہت برہم ہوا ۔

اس اجلاس میں خلیفۂ اعلیٰ حضرت عید الاسلام حضرت علامہ مولانا عبد السلام جبل پوری علیہ الرحمہ بھی آپ کے ساتھ تھے ۔ مولوی شبلی جواب دینے کی بجائے خلافِ تہذیب اور نازیبا گفتگو کرنے لگا ۔ یہ دونوں بزرگ وہاں سے بریلی شریف امام اہلسنت کی خدمت میں حاضر ہوئے، اور تمام روئیداد گوش گزار کی، اعلیٰ حضرت نے دونوں بزرگوں کو بہت ہی دعاؤں سے نوازا اور ان کی حق گوئی کی تعریف فرمائی ۔

آپ علیہ الرحمہ ایک بہترین مدرس، مصنف، واعظ اور بہترین ادیب تھے ۔ آپ کی تدریس کا دور دور تک شہرہ تھا، لوگ دور دراز سے سفر کرکے تحصیل علم کے لئے آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے ۔ آخری عمر میں اوراد و وظائف، تزکیۂ نفس، اور زیارات مزاراتِ مقدسہ میں مشغول رہنے لگے، تمام معمولات اہلسنت، بزرگان دین کے ایام، میلاد شریف، معراج شریف کی محافل بڑے اہتمام سے مناتے تھے ۔ بلکہ الہ آباد میں محفل میلاد، و شب معراج شریف، اور عرائس بزرگان دین کا شعور آپ نے ہی بیدار کیا تھا ۔ اسی طرح آپ وہابیہ کے سخت مخالف تھے ۔ کیونکہ ان کی بد عقیدگی و بد عملی کا مشاہدہ کر چکے تھے، اور ان کے تمام معمولات کو اندر سے دیکھ چکے تھے ۔ اس لئے آپ کی ذات دوسرے علماء اہلسنت کی بنسبت ان کے لئے زیادہ تکلیف کی موجب تھی ۔

یہی وجہ ہے کہ " مؤلفِ نزہۃ الخواطر " آپ کے معمولات سے بڑے سیخ پا ہوئے، اور موجد بدعت و شرک وغیرہ لکھ دیا ۔ آگے چل کر پھر خود ہی تحریر کیا: "ان تمام باتوں کے باوجود نادر زمانہ تھے ۔ ذہن کی صفائی، سینہ کے صاف، دل کے پاک، حافظہ کے قوی، تقریر میں مٹھاس، تحریر میں خوبصورتی، طبیعت کی شرافت، اخلاق کی عمدگی، نظر میں چمک، اور اچھی سیرت، حلیم و بردبار ۔ میں نے خود ان سے تعلیم حاصل کی، اور ان کی طرف سفر کرکے پہنچا ۔ کافیہ شرح ابن حاجب ،جامی، اور شرح تہذیب کا کچھ حصہ ان سے پڑھا" ۔ (نزہۃ الخواطر ص:538) ـ
1👍1
واقعۂ وصال:
آپ پہلے سماع کے شدید مخالفوں میں سے تھے ۔ پھر اتنا ذوق و شوق ہوا، کہ حج کے لیے گئے تو قوال مع ساز کے ہمراہ لے گئے ۔ قوالی کثرت سے سنتے تھے ۔ قوالی سنتے سنتے حالتِ استغراق کی کیفیت طاری ہو جاتی، اور کافی دیر تک اسی حالت میں رہتےتھے ۔ 9 رجب المرجب 1322ھ کو اجمیر شریف بتقریب دعوت نواب سرور جنگ کے ہاں مجلس سماع میں مدعو تھے، اجمیر شریف کے قوال حضرت شیخ عبد القدوس گنگوہی کا کلام "آستیں بررو کشیدہ ہمچومکار آمدی" گا رہے تھے، محفل پر ایک کیفیت طاری تھی، شاہ صاحب ہر مصرعے کی شرح فرماتے جاتے تھے، جب قوال مقطع پر پہنچے:

گفت قدوسی فقیرے در فناء و در بقاء
خود نجود آزاد بودی خود گرفتار آمدی

"خود بخود آزاد" کی تکرار فرمائی اور نفس نفیس کی طرف اشارہ فرمایا ۔ تیسری مرتبہ ادا کرنا چاہتے تھے کہ کیفیت بڑھ گئی، سر بسجدہ ہو گئے اور مقصود کو پہنچے ۔ آپ نے چار حج کیے، آخری حج کے موقع پر دربارِ نبوی میں دعاء کی تھی، کہ میری موت مدینہ منورہ میں آئے، یا اجمیر شریف میں ۔ یہ آپ کی دعا قبول ہوئی ۔

تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 9 رجب المرجب 1322ھ / مطابق وسط ستمبر 1904ء کو ہوا ۔ آپ کا مزار شریف "اجمیر شریف" میں مرجع خلائق ہے ۔

ماخذ و مراجع:
تذکرہ علمائے اہلسنت ۔ نزہۃ الخواطر ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-muhammad-hussain-allahabadi
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت شیخ نور الدین رفیقی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
شیخ نور الدین بن عبد اللہ بن مصطفیٰ رفیقی ـ

تعلیم:
جامع علوم ظاہری و باطنی، علامۂ زمانہ، فہامۂ یگانہ، صاحب ہیبت، عظیم الاخلاق، علو الہمۃ تھے ـ

ولادت:
۱۲۲۵ھ میں پیدا ہوئے اور اپنے چچا کے بیٹے شیخ ابی المصطفیٰ طیب بن احمد بن مصطفیٰ کی گود میں پرورش پائی ـ

اور انہیں سے جمعی معارف کو اخذ کیا اور روایت حدیث اور ادا کی حاصل کی اور علوم متعارفہ فقہ، صرف، نحو، منطق، کلام، اصول، حکمت وغیرہ کو مولوی محمد حسن بن نظام الدین سے اخذ کیا اور شیوخ کثیرہ سے صحبت کر کے ان سے فوائد کثیرہ حاصل کیے ـ

سیر:
آپ نے اکثر شہروں کی سیر کی ـ

نکاح:
آپ نے تمام عمر نکاح نہیں کیا ـ

طبع موزون رکھتے تھے، اشعار لطیفہ اور ابیات منیفہ آپ سے یاد گار ہیں ۔

وصال:
وفات آپ کی ۹ رجب ۱۲۸۸ھ میں ہوئی ۔ ’’ خادم المحدثین ‘‘ تاریخ وفات ہے ۔

( حدائق الحنفیہ )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-nooruddin-rafeeqi
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
08-07-1445 ᴴ | 20-01-2024 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
09-07-1445 ᴴ | 21-01-2024 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1