🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
08-07-1445 ᴴ | 20-01-2024 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
08-07-1445 ᴴ | 20-01-2024 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
08-07-1445 ᴴ | 20-01-2024 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
08-07-1445 ᴴ | 20-01-2024 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
شان اعلی حضرت بزبان امیر اہلسنت⁷
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
شان اعلی حضرت بزبان امیر اہلسنت⁷
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
حضرت شیخ محب اللہ صدیقی صدر پوری
حضرت شیخ ابو سعید کے تیسرے خلیفہ حضرت شیخ محب اللہ صدیقی صدر پوری تھے ۔ جن کا شمار اکابر خلفاء میں ہوتا ہے۔
صاحب مراۃ الاسرار لکھتے ہیں کہ جب حضرت شیخ محب اللہ قدس سرہٗ علوم عقلی و نقلی سے فارغ ہوئے تو آپ کے دل میں طلب حق کا درد پیدا ہوا چنانچہ آپ نے وقت کے اکثر بزرگوں سے ملاقات کی لیکن تشفی نہ ہوئی۔ اسکے بعد آپ نے دہلی جاکر حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی قدس سرہٗ کےآستانہ پر استخارہ کیا۔ وہاں سے فرمان ہوا کہ اس وقت شیخ علی صابر قدس سرہٗ کا سلسلہ خوب رونق میں ہے اور شیخ ابو سعید گنگوہی کے پاس جاؤ چنانچہ آپ نے حضرت شیخ ابو سعید قدس سرہٗ کی خدمت میں حاضر ہوکر شرف بیعت حاصل کیا۔ اس کے بعد حضرت اقدس نے اپنے خادم خاص مجاہد نام کو حکم دیا کہ وضو کر کے دوگانہ ادا کرو اور دیکھو کہ شیخ محب اللہ کی استعداد کس نبی کی ولایت سے مناسبت رکھتی ہے تاکہ اُسی مناسبت کے مطابق ان کی تربیت کی جائے۔
جب اس محرم راز خادم نے خلوت میں جاکر توجہ کی تو معلوم ہوا کہ ان کی استعداد ولایت موسوی سے مناسبت رکھتی ہے۔ چنانچہ حضرت شیخ ابو سعید نے ان کو شغل نفی واثبات [1] اور اسم ذات [2] برزخ شیخ [3] میں کام کرنے کا امر فرمایا۔ اور اربعین (چلہ) میں بٹھادیا۔ اُس خلوت میں آپکو اس قدر تصفیہ حاصل ہوا کہ علوم باطنی آپ پر اچھی طرح واضح ہونے لگے۔ اور تجلیات ملکوتیہ وجبروتیہ سے بہرہ ور ہوئے۔ لیکن ت جلی ذات بے کیف اس خلوت میں میسر نہ ہوئی حالانکہ آپ اس تجلی کے بے حد خواہاں تھے۔ جب چلہ سے نکل کر آپ نے تمام واقعات حضرت شیخ کی خدمت میں عرض کیے تو آپ نے انکو خرقۂ خلافت دینے کا ارادہ کیا شیخ محب اللہ کے دل میں خیال آیا کہ ابھی تک مجھے شہود ذات بے کیف حاصل نہیں ہوا میرے شیخ مجھے کس طرح خلافت کےلائق سمجھ رہےہیں۔ کیونکہ وہ سالکین جو عالم ملکوت اور عالم جبروت کی تجلیات میں ہیں خلافت کے قابل نہیں ہوئی میں اسی کا طالب ہوں جسے شہود ولاکیف کہتے ہیں۔
اقسام خلافت:
مخفی نہ رہے کہ خلافت مشائخ جو اس وقت مروج ہے ساتھ اقسام پر ہے۔ پہلی خلافت اصالۃً، دوسری خلافت اجازت، تیسری خلافت احجاعاً، چوتھی خلافت وراثتہً، پانچویں حکماً، چھٹی تکلیفاً، ساتویں اویسیہ
خلافت اصالت:
خلافت اصالۃً یہ ہے کہ حق تعالیٰ کے حکم سے کوئی بزرگ کسی شخص کو اپنا خلیفہ وجانشین مقرر کرے۔ چنانچہ صاحب مراۃ الاسرار لکھتے ہیں جب حضرت شیخ فرید الدین گنجشکر قدس سرہٗ نے اپنے کسی مرید کو خلافت دیکر ہندوستان کا صاحب ولایت مقرر کرنے کا ارادہ کیا تو آپ کو غیب سے آواز آئی کہ نظام الدین بدایونی آرہے ہیں خلافت کے قابل وہی ہیں۔ جب حضرت شیخ نظام الدین تشریف لائے تو حکمِ ربی سے آپ نے انکو خلافت عطا فرمائی۔ اور ولایت ہندوستان کا صاحب ولایت مقرر فرمایا چنانچہ حضرت خواجہ گنجشکر اکثر فرمایا کرتے تھے کہ بظاہر بابا نظام الدین کو میں نے خلیفہ بنایا ہے لیکن در حقیقت وہ حق تعالیٰ کا خلیفہ ہے۔ اور محمد مصطفیٰﷺ کا نائب ہے۔ اس قسم کی خلافت کو صوفیائے کرام خلافت الٰہی بھی کہتے ہیں۔
خلافت اجازت:
خلافت اجازت یہ ہے کہ حضرت شیخ اپنے کسی مرید کو خواہ وہ وارث ہو یا بیگانہ خلافت کے قابل سمجھ کر اپنی رضا ورغبت سے خلیفہ مقرر کریں۔ جیسا کہ تمام مشائخ عظام کا دستور ہے اس قسم کی خلافت کو خلافر رضائی بھی کہتے ہیں۔
خلافت اجماعی:
خلافت اجماعی یہ ہے کہ حضرت شیخ کسی کو خلیفہ مقرر کیے بغیر کر جائیں اور قوم یا قبیلہ کے لوگ اتفاق رائے سے کسی کو خلیفہ مقرر کردیں۔ جیسا کہ عام رسم ہے۔ لیکن مشائخ کےنزدیک اس قسم کی خلافت جائز نہیں ہے۔ اس قسم کی خلافت کو خلافت افزائی بھی کہتے ہیں۔
خلافتِ وراثت:
خلافت وراثت یہ ہے کہ مرشد کسی شخص کو خلیفہ مقرر کیے بغیر اس جہان سے جائیں اورانکا کوئی وارث اپنے آپ کو خلیفہ کہلانا شروع کردے۔ مشائخ عظام نے اس قسم کی خلافت کو قبول نہیں فرمایا۔ ہاں اگر کوئی بزرگ اپنی زندگی میں کسی کو باطنی طور پر اشارہ کردے تو یہ بھی جائز ہے کیونکہ صوفیاء کرام کے نزدیک باطنی حکم صحیح ہے۔
خلافت حکمی:
خلافت حکمی کا مطلب یہ ہے کہ کوئی بزرگ خلیفہ مقرر کیے بغیر رحلت کر جائ یں اور انکے ورثاء کے دریان اختلاف شروع ہوجائے اور حکومت کسی شخص کو موزوں سمجھ کر مسندِ خلافت پر بٹھادے اس قسم کی خلافت کو اَطِیْعُو اللہَ وَاَطِیْعُو الرَّسُوْل وَاُولِی الْاَمْرُ مِنْکُمْ (اللہ کی اطاعت کرو رسول اللہ کی اطاعت کرو اور اپنے میں سے حاکم وقت کی اطاعت کرو) کے مطابق جائز معلوم ہوتی ہے۔
خلافت تکلیف:
خلافت تکلیف یہ ہے کہ کوئی مرید زبردستی یا کسی کی سفارش سے کوشش کر کے خلافت حاصل کرلے یہ خلافت جائز نہیں ہے اور اس سے کوی فائدہ حاصل نہیں ہوتا۔
خلافت اویسی:
خلافت اویسی یہ ہے کہ کوئی شخص کسی بزرگ سے جو اس جہانِ رحلت کر گئے ہوں باطنی تربیت حاصل کر کے۔ اس
حضرت شیخ ابو سعید کے تیسرے خلیفہ حضرت شیخ محب اللہ صدیقی صدر پوری تھے ۔ جن کا شمار اکابر خلفاء میں ہوتا ہے۔
صاحب مراۃ الاسرار لکھتے ہیں کہ جب حضرت شیخ محب اللہ قدس سرہٗ علوم عقلی و نقلی سے فارغ ہوئے تو آپ کے دل میں طلب حق کا درد پیدا ہوا چنانچہ آپ نے وقت کے اکثر بزرگوں سے ملاقات کی لیکن تشفی نہ ہوئی۔ اسکے بعد آپ نے دہلی جاکر حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی قدس سرہٗ کےآستانہ پر استخارہ کیا۔ وہاں سے فرمان ہوا کہ اس وقت شیخ علی صابر قدس سرہٗ کا سلسلہ خوب رونق میں ہے اور شیخ ابو سعید گنگوہی کے پاس جاؤ چنانچہ آپ نے حضرت شیخ ابو سعید قدس سرہٗ کی خدمت میں حاضر ہوکر شرف بیعت حاصل کیا۔ اس کے بعد حضرت اقدس نے اپنے خادم خاص مجاہد نام کو حکم دیا کہ وضو کر کے دوگانہ ادا کرو اور دیکھو کہ شیخ محب اللہ کی استعداد کس نبی کی ولایت سے مناسبت رکھتی ہے تاکہ اُسی مناسبت کے مطابق ان کی تربیت کی جائے۔
جب اس محرم راز خادم نے خلوت میں جاکر توجہ کی تو معلوم ہوا کہ ان کی استعداد ولایت موسوی سے مناسبت رکھتی ہے۔ چنانچہ حضرت شیخ ابو سعید نے ان کو شغل نفی واثبات [1] اور اسم ذات [2] برزخ شیخ [3] میں کام کرنے کا امر فرمایا۔ اور اربعین (چلہ) میں بٹھادیا۔ اُس خلوت میں آپکو اس قدر تصفیہ حاصل ہوا کہ علوم باطنی آپ پر اچھی طرح واضح ہونے لگے۔ اور تجلیات ملکوتیہ وجبروتیہ سے بہرہ ور ہوئے۔ لیکن ت جلی ذات بے کیف اس خلوت میں میسر نہ ہوئی حالانکہ آپ اس تجلی کے بے حد خواہاں تھے۔ جب چلہ سے نکل کر آپ نے تمام واقعات حضرت شیخ کی خدمت میں عرض کیے تو آپ نے انکو خرقۂ خلافت دینے کا ارادہ کیا شیخ محب اللہ کے دل میں خیال آیا کہ ابھی تک مجھے شہود ذات بے کیف حاصل نہیں ہوا میرے شیخ مجھے کس طرح خلافت کےلائق سمجھ رہےہیں۔ کیونکہ وہ سالکین جو عالم ملکوت اور عالم جبروت کی تجلیات میں ہیں خلافت کے قابل نہیں ہوئی میں اسی کا طالب ہوں جسے شہود ولاکیف کہتے ہیں۔
اقسام خلافت:
مخفی نہ رہے کہ خلافت مشائخ جو اس وقت مروج ہے ساتھ اقسام پر ہے۔ پہلی خلافت اصالۃً، دوسری خلافت اجازت، تیسری خلافت احجاعاً، چوتھی خلافت وراثتہً، پانچویں حکماً، چھٹی تکلیفاً، ساتویں اویسیہ
خلافت اصالت:
خلافت اصالۃً یہ ہے کہ حق تعالیٰ کے حکم سے کوئی بزرگ کسی شخص کو اپنا خلیفہ وجانشین مقرر کرے۔ چنانچہ صاحب مراۃ الاسرار لکھتے ہیں جب حضرت شیخ فرید الدین گنجشکر قدس سرہٗ نے اپنے کسی مرید کو خلافت دیکر ہندوستان کا صاحب ولایت مقرر کرنے کا ارادہ کیا تو آپ کو غیب سے آواز آئی کہ نظام الدین بدایونی آرہے ہیں خلافت کے قابل وہی ہیں۔ جب حضرت شیخ نظام الدین تشریف لائے تو حکمِ ربی سے آپ نے انکو خلافت عطا فرمائی۔ اور ولایت ہندوستان کا صاحب ولایت مقرر فرمایا چنانچہ حضرت خواجہ گنجشکر اکثر فرمایا کرتے تھے کہ بظاہر بابا نظام الدین کو میں نے خلیفہ بنایا ہے لیکن در حقیقت وہ حق تعالیٰ کا خلیفہ ہے۔ اور محمد مصطفیٰﷺ کا نائب ہے۔ اس قسم کی خلافت کو صوفیائے کرام خلافت الٰہی بھی کہتے ہیں۔
خلافت اجازت:
خلافت اجازت یہ ہے کہ حضرت شیخ اپنے کسی مرید کو خواہ وہ وارث ہو یا بیگانہ خلافت کے قابل سمجھ کر اپنی رضا ورغبت سے خلیفہ مقرر کریں۔ جیسا کہ تمام مشائخ عظام کا دستور ہے اس قسم کی خلافت کو خلافر رضائی بھی کہتے ہیں۔
خلافت اجماعی:
خلافت اجماعی یہ ہے کہ حضرت شیخ کسی کو خلیفہ مقرر کیے بغیر کر جائیں اور قوم یا قبیلہ کے لوگ اتفاق رائے سے کسی کو خلیفہ مقرر کردیں۔ جیسا کہ عام رسم ہے۔ لیکن مشائخ کےنزدیک اس قسم کی خلافت جائز نہیں ہے۔ اس قسم کی خلافت کو خلافت افزائی بھی کہتے ہیں۔
خلافتِ وراثت:
خلافت وراثت یہ ہے کہ مرشد کسی شخص کو خلیفہ مقرر کیے بغیر اس جہان سے جائیں اورانکا کوئی وارث اپنے آپ کو خلیفہ کہلانا شروع کردے۔ مشائخ عظام نے اس قسم کی خلافت کو قبول نہیں فرمایا۔ ہاں اگر کوئی بزرگ اپنی زندگی میں کسی کو باطنی طور پر اشارہ کردے تو یہ بھی جائز ہے کیونکہ صوفیاء کرام کے نزدیک باطنی حکم صحیح ہے۔
خلافت حکمی:
خلافت حکمی کا مطلب یہ ہے کہ کوئی بزرگ خلیفہ مقرر کیے بغیر رحلت کر جائ یں اور انکے ورثاء کے دریان اختلاف شروع ہوجائے اور حکومت کسی شخص کو موزوں سمجھ کر مسندِ خلافت پر بٹھادے اس قسم کی خلافت کو اَطِیْعُو اللہَ وَاَطِیْعُو الرَّسُوْل وَاُولِی الْاَمْرُ مِنْکُمْ (اللہ کی اطاعت کرو رسول اللہ کی اطاعت کرو اور اپنے میں سے حاکم وقت کی اطاعت کرو) کے مطابق جائز معلوم ہوتی ہے۔
خلافت تکلیف:
خلافت تکلیف یہ ہے کہ کوئی مرید زبردستی یا کسی کی سفارش سے کوشش کر کے خلافت حاصل کرلے یہ خلافت جائز نہیں ہے اور اس سے کوی فائدہ حاصل نہیں ہوتا۔
خلافت اویسی:
خلافت اویسی یہ ہے کہ کوئی شخص کسی بزرگ سے جو اس جہانِ رحلت کر گئے ہوں باطنی تربیت حاصل کر کے۔ اس
❤1👍1
خلافت کو حاصل مشائخ متقدمین نے روارکھا ہے اور ان میں سے اکثر ایوسی تھے۔ جنکا ذکر اس کتاب میں نہیں آ سکتا۔ لیکن مشائخ متاخرین کےنزدیک اس قسم کی خلافت جائز نہیں ہے کیونکہ جب تک کسی زندہ اور صاحب کمال بزرگ سے خلافت نہ ملے سلسلۂ مشائخ اس سے جاری نہیں ہو سکتا۔ جیسا کہ سر حلقۂ محبوبان حضرت سید ابو محمد محی الدین عبد القادر جیلانی قدس سرہٗ کے احوال میں بیان ہو چکا ہے۔
خلافت کونسا مقام
طے کرنے کے بعد مل سکتی ہے:
محققین کا کہنا ہے کہ جب سالک مقام فنافی الرسول اور عالم جبروت تک پہنچ جاتا ہے شیخ کیلئے جائز ہے کہ اُسے خلافت عطا فرمائے۔ لیکن اس مقام پر خلافت کا عطا کرنا واجب نہیں ہے ہاں جب سالک کی رسائی شہود ذات تک ہوجائے تو شیخ پر واجب نہیں ہے بلکہ فرض عین ہے کہ اُسے خلافت دیدے۔ بعض حضرات تو اس شخص کو بھی خلافت دینا جائز سمجھتے ہیں جو عالم ملکوت تک پہنچ جائے لیکن ہمارے مشائخ عظام کا یہ دستور نہیں ہے۔ جیسا کہ منقول ہے کہ جب ایک درویش نے جو واصلِ ملکوت تھے حضرت شیخ داؤد گنگوہی سے خرقۂ خلافت کی درخواست کی تو آپ نے فرمایا کہ تم ابھی مشائخ عظام کی خلافت کے قابل نہیں ہوا۔ اس سے وہ حضرات اقدس سے رنجیدہ خاطر ہوکر چلا گیا آپ نے فرمایا رنجیدہ ہو یا خوش ہو میں تجھے خلافتِ مشائخ نہیں دوں گا۔
بعض کہتے ہیں کہ جب مرید خطرۂ شیطانی اور رحمانی کے درمیان تمیز کر سکے تو پیر کیلئے لازم ہے کہ اُسے خلافت دیدے۔ بعض کہتے ہیں کہ جب حق تعالی خی جناب سے یا حضرت رسالت پناہﷺ کی طرف سے کسی مرید کو خلافت دینے کا حکم ملتے تو شیخ پر واجب ہے کہ اُسے خلافت دیدے بعض کہتے ہیں کہ جب پیر مرید کے اندر معاملۂ نیکو دیکھے تو اُسے خلافت دینا جائزہے۔
خلافت کی دو اور قسمیں:
مشائخ فرماتے ہیں کہ خلافت کی دو مزید اقسام ہیں اول خلافت مستقل، دوم خلافت نیابت۔
خلافتِ مستقل:
خلافت مستقل یہ ہے کہ شیخ اپنے مرید کو متقل طور پر خلافت عطا کریں اور وہ خلیفہ اپنے نام پر لوگوں کو مرید بنائے اپنی طرف سے شجرہ عطا کرے اور شجرہ میں اپنا نام لکھ دے۔ اس قسم کی خلافت کو خلافت مطلقہ بھی کہتے ہیں۔
خلافت نیابت:
نیابتی خلافت یہ ہے کہ شیخ اپنے کسی مرید کو حکم دے کہ لوگوں کومیری طرف سے اور میرے نام پرمرید بناؤ اور شجرہ شریف بھی لوگوں کو میری طرف سے دو اوراپنا نام شجرہ میں نہ لکھو۔ اسی حالت میں اس شخص کے مرید در اصل حضرت شیخ کے مرید ہوتے ہیں اور وہ سوائے سفری کے اور کچھ نہیں ہوتا۔ بخلافت مستقل خلافت کے کہ جب وہ اپنی طرف سے لوگوں کو بیعت کرتا ہے اور اپنا مرید بناتا ہے۔
خلافت کی مزید دو اقسام:
بعض مشائخ کےنزدیک خلافت دو اقسام پر ہے اول خلافت سغریٰ، دوم خلافت کبریٰ
خلافت صغریٰ:
خلافت صغریٰ یہ ہے کہ حضرت شیخ کسی مرید کی ریاضت و مجاہدہ دیکھ کر بطریق حسن ظن اسے خلافت عطا کردیں۔
خلافت کبریٰ:
خلافت کبریٰ یہ ہے کہ شیخ کہ دل پر کئی بار حضرت حق کی طرف سے الہام ہو کہ فلاں مرید کو خلافت عطا کردو۔ حتیٰ کہ اگر یہ خیال بھول بھی جائے لیکن پوری طرح دل سے نہیں نکلتا یہ خلافت کبریٰ ہے کہ جس کے لیے شیخ کو براہ راست حق تعالیٰ سے حکم لتا ہے۔ اہلِ تحقیق کے نزدیک خلافت صغریٰ یہ ہے کہ شیخ کسی مرید کو جامۂ خلافت عطا کرے اور کسی علاقے میں ہدایت و ارشاد خلق کیلئے اور سجادگی بھی کہتے ہیں یہ ہے کہ شیخ کسی مرید کو وہ نسبت جو رسول اللہ ﷺ سے سینہ بہ سینہ چلی آرہی ہے بالکلیہ عطا فرمائے اور خلافت نامہ بمع تمام تبرکات کے جو مشائخ عظام سے تواتر کے ساتھ آرہے ہیں عطا کرے اور اپنا قائم مقام اور وارث احوال مقرر کرے۔ جیسا کہ حضرت خواجہ معین الدین حسن سنجری نے حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کو اور آپ نے حضرت خواجہ گنجشکر کو اور آپ نے حضرت سلطان المشائخ بدایونی اور آپ نے حضرت نصیر الدین چراغ دہلوی کو قدس اسرارہم اپنا قائم مقام، وارث احوال مقرر فرمایا۔ جب شیخ کامل و مکمل چاہتے ہیں کہ کسی مرید کو خرقۂ خلافت عطا فرمادیں تو آنحضرت ﷺ اور دیگر مشائخ کی روحانیت کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اگر اشارہ ملتا ہے تو خرقہ عطا کرتے ہیں۔
طریق عطائے خلافت:
خلافت عطا کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ پہلے غسل اور وضو کرایا جاتا ہے اسکے بعد دو رکعت نماز نفل پڑھاکر یہ پانچ کلمات بمع معی، تلقین کیےج اتے ہیں اول کلمہ توحید، دوم کلمہ شریعت، سوم کلمۂ طریقت چہارم کلمۂ حقیقت اور پنجم کلمۂ معرفت۔ کلمۃ توحید لا الہ اللہ ہے کلمہ شریعت لا معبود الا اللہ ہے، کلمۂ طریقت لا مقصود الا للہ، کلمۂ حقیقت لا محبوب الا اللہ اور کلمۂ معرفت لا موجود اللہ ہے۔ اس کے بعد خرقۂ خلافت پہنا کرمثال یعنی خلافت برائے نامہ لکھ کر دیا جاتا ہے۔ لیکن خلافت نامہ اس وقت دیا جاتا ہے جب خرقۂ خلافت برائے بیعت دنیا مطلوب ہو اگر خرقۂ تبرک و تشبہ دیا جائے تو مثال کی ضرورت نہیں ہے۔
چہار حروف خرقہ کا مطلب:
رخصت کرتے وقت مرید کو لفظ خرقہ کے چار حروف کے معنی واضح کر دیئے جاتے ہیں۔
خ کا مطلب
خلافت کونسا مقام
طے کرنے کے بعد مل سکتی ہے:
محققین کا کہنا ہے کہ جب سالک مقام فنافی الرسول اور عالم جبروت تک پہنچ جاتا ہے شیخ کیلئے جائز ہے کہ اُسے خلافت عطا فرمائے۔ لیکن اس مقام پر خلافت کا عطا کرنا واجب نہیں ہے ہاں جب سالک کی رسائی شہود ذات تک ہوجائے تو شیخ پر واجب نہیں ہے بلکہ فرض عین ہے کہ اُسے خلافت دیدے۔ بعض حضرات تو اس شخص کو بھی خلافت دینا جائز سمجھتے ہیں جو عالم ملکوت تک پہنچ جائے لیکن ہمارے مشائخ عظام کا یہ دستور نہیں ہے۔ جیسا کہ منقول ہے کہ جب ایک درویش نے جو واصلِ ملکوت تھے حضرت شیخ داؤد گنگوہی سے خرقۂ خلافت کی درخواست کی تو آپ نے فرمایا کہ تم ابھی مشائخ عظام کی خلافت کے قابل نہیں ہوا۔ اس سے وہ حضرات اقدس سے رنجیدہ خاطر ہوکر چلا گیا آپ نے فرمایا رنجیدہ ہو یا خوش ہو میں تجھے خلافتِ مشائخ نہیں دوں گا۔
بعض کہتے ہیں کہ جب مرید خطرۂ شیطانی اور رحمانی کے درمیان تمیز کر سکے تو پیر کیلئے لازم ہے کہ اُسے خلافت دیدے۔ بعض کہتے ہیں کہ جب حق تعالی خی جناب سے یا حضرت رسالت پناہﷺ کی طرف سے کسی مرید کو خلافت دینے کا حکم ملتے تو شیخ پر واجب ہے کہ اُسے خلافت دیدے بعض کہتے ہیں کہ جب پیر مرید کے اندر معاملۂ نیکو دیکھے تو اُسے خلافت دینا جائزہے۔
خلافت کی دو اور قسمیں:
مشائخ فرماتے ہیں کہ خلافت کی دو مزید اقسام ہیں اول خلافت مستقل، دوم خلافت نیابت۔
خلافتِ مستقل:
خلافت مستقل یہ ہے کہ شیخ اپنے مرید کو متقل طور پر خلافت عطا کریں اور وہ خلیفہ اپنے نام پر لوگوں کو مرید بنائے اپنی طرف سے شجرہ عطا کرے اور شجرہ میں اپنا نام لکھ دے۔ اس قسم کی خلافت کو خلافت مطلقہ بھی کہتے ہیں۔
خلافت نیابت:
نیابتی خلافت یہ ہے کہ شیخ اپنے کسی مرید کو حکم دے کہ لوگوں کومیری طرف سے اور میرے نام پرمرید بناؤ اور شجرہ شریف بھی لوگوں کو میری طرف سے دو اوراپنا نام شجرہ میں نہ لکھو۔ اسی حالت میں اس شخص کے مرید در اصل حضرت شیخ کے مرید ہوتے ہیں اور وہ سوائے سفری کے اور کچھ نہیں ہوتا۔ بخلافت مستقل خلافت کے کہ جب وہ اپنی طرف سے لوگوں کو بیعت کرتا ہے اور اپنا مرید بناتا ہے۔
خلافت کی مزید دو اقسام:
بعض مشائخ کےنزدیک خلافت دو اقسام پر ہے اول خلافت سغریٰ، دوم خلافت کبریٰ
خلافت صغریٰ:
خلافت صغریٰ یہ ہے کہ حضرت شیخ کسی مرید کی ریاضت و مجاہدہ دیکھ کر بطریق حسن ظن اسے خلافت عطا کردیں۔
خلافت کبریٰ:
خلافت کبریٰ یہ ہے کہ شیخ کہ دل پر کئی بار حضرت حق کی طرف سے الہام ہو کہ فلاں مرید کو خلافت عطا کردو۔ حتیٰ کہ اگر یہ خیال بھول بھی جائے لیکن پوری طرح دل سے نہیں نکلتا یہ خلافت کبریٰ ہے کہ جس کے لیے شیخ کو براہ راست حق تعالیٰ سے حکم لتا ہے۔ اہلِ تحقیق کے نزدیک خلافت صغریٰ یہ ہے کہ شیخ کسی مرید کو جامۂ خلافت عطا کرے اور کسی علاقے میں ہدایت و ارشاد خلق کیلئے اور سجادگی بھی کہتے ہیں یہ ہے کہ شیخ کسی مرید کو وہ نسبت جو رسول اللہ ﷺ سے سینہ بہ سینہ چلی آرہی ہے بالکلیہ عطا فرمائے اور خلافت نامہ بمع تمام تبرکات کے جو مشائخ عظام سے تواتر کے ساتھ آرہے ہیں عطا کرے اور اپنا قائم مقام اور وارث احوال مقرر کرے۔ جیسا کہ حضرت خواجہ معین الدین حسن سنجری نے حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کو اور آپ نے حضرت خواجہ گنجشکر کو اور آپ نے حضرت سلطان المشائخ بدایونی اور آپ نے حضرت نصیر الدین چراغ دہلوی کو قدس اسرارہم اپنا قائم مقام، وارث احوال مقرر فرمایا۔ جب شیخ کامل و مکمل چاہتے ہیں کہ کسی مرید کو خرقۂ خلافت عطا فرمادیں تو آنحضرت ﷺ اور دیگر مشائخ کی روحانیت کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اگر اشارہ ملتا ہے تو خرقہ عطا کرتے ہیں۔
طریق عطائے خلافت:
خلافت عطا کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ پہلے غسل اور وضو کرایا جاتا ہے اسکے بعد دو رکعت نماز نفل پڑھاکر یہ پانچ کلمات بمع معی، تلقین کیےج اتے ہیں اول کلمہ توحید، دوم کلمہ شریعت، سوم کلمۂ طریقت چہارم کلمۂ حقیقت اور پنجم کلمۂ معرفت۔ کلمۃ توحید لا الہ اللہ ہے کلمہ شریعت لا معبود الا اللہ ہے، کلمۂ طریقت لا مقصود الا للہ، کلمۂ حقیقت لا محبوب الا اللہ اور کلمۂ معرفت لا موجود اللہ ہے۔ اس کے بعد خرقۂ خلافت پہنا کرمثال یعنی خلافت برائے نامہ لکھ کر دیا جاتا ہے۔ لیکن خلافت نامہ اس وقت دیا جاتا ہے جب خرقۂ خلافت برائے بیعت دنیا مطلوب ہو اگر خرقۂ تبرک و تشبہ دیا جائے تو مثال کی ضرورت نہیں ہے۔
چہار حروف خرقہ کا مطلب:
رخصت کرتے وقت مرید کو لفظ خرقہ کے چار حروف کے معنی واضح کر دیئے جاتے ہیں۔
خ کا مطلب
❤1
ب یہ ہے کہ خیانت نہ کرے، رسے مراد یہ ہے کہ ریاضت سے کام لے، قاف کا مطلب یہ ہےکہ قیام اور قناعت پر کار بند رہے۔ ہ کامطلب یہ ہے کہ ہوأ نفس پر قابو پائے۔ یہ ہے خلافتاور اس کے اقسام کا بیان جو قدرے طویل ہوگیا ہے۔
اس سے ظاہر ہے کہ شیخ کامل و مکمل مرید صادق کومرتبہ جبروت میں اجازت ارشاد وتبیت مریدین عطا فرمائیں تو جائز ہے۔ چنانچہ حضرت شیخ ابو سعید قدس سرہٗ نے حضرت شیخ محب اللہ کو اُسی مرتبہ یعنی جبروت میں اجازت فرمائی۔ لیکن حضرت شیخ محب اللہ کے دل میں خطرہ (وسواس) پیدا ہوا کہ مرید تو مقام لاہوت کے حصول کے بعد خلافت کے قابل ہوتا ہے اور میری اب تک وہاں رسائی نہیں ہوئی معلوم نہیں میرے شیخ نےمیرے اندر کیا دیکھا ہے کہ مجھے خلافت عطا فرمارہے ہیں۔ حضرت شیخ ابو سعید قدس سرہٗ روشن ضمیری سے اس خطرہ سے آگاہ ہوئے اور انکو خرقۂ خلافت پہناکر دعاکیلئے ہاتھ اٹھائے اور باطنی توجہ سے انکو نوازا۔ آپکے ہاتھ اٹھاتے ہی حضرت شیخ محب اللہ پر تجلئ کیف جلوہ گر ہوئی اور فوراً چلا اٹھے کہ یا حضرت بس کیجئے کہ میرے اندر اس مشاہدہ سے زیادہ استعداد اور حوصلہ نہیں ہے اسکے بعد حضرت شیخ ن ے آپکی صحت اور تمکین کیلئے توجہ فرمائی جس سے آپ مغلوب الحال نہ ہوئے۔ حضرت شاہ ابو سعید نے خرقۂ خلافت حاصل کر کے حضرت شیخ محب اللہ اپنے شہر صدر پور تشریف لے گئے۔ صدر پور اگر چہ آپکا آبائی وطن تھا لیکن آپ نے وہاں رہنا پسند نہ فرمایا اور کچھ عرصہ توکل و تجرید کی خاطر ردولی شریف گئے۔ صاحب مراۃ الاسرار لکھتےہیں کہ جب ح ضرت شیخ محب اللہ ردولی پہنچے تو یہ فقیر بھی وہاں موجود تھا۔ چنانچہ ہم دونوں کے درمیان فقر در دوستی کا سلسلہ قائم ہوگیا۔ اور گرم اور مصفا ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہا۔نیز میں آپ کے اوصاف پسندیدہ سے بہت متاثر اور محفوظ ہوا چند ایام کے بعد آپ کو حضرت مخدوم احمد عبدالحق ردولوی قدس سرہٗ کی طرف سے نواز شات ہوئیں اور رخصت کی بشارت مل گئی۔ چنانچہ ہم دونوں ردولی شریف سے رخصت ہوکر آپ نے چند روزمیرے غریب خانہ پر قیام فرمایا۔ اس وقت حضرت شیخ محب اللہ آباد تشریف لے گئے اور اُسی جگہ اُن کے ہمراہ میر سید عبدالحکیم ساکن شہر نبہۃ بھی تھے جو اُن سے کسب فیض کرتے تے جب شیخ محب اللہ الٰہ آباد تشریف لے گئے اور اُسی جگہ سکونت اختیار کرلی تو وہاں آپکی بہت شہرت ہوئی۔ شروع میں اگر چہ فقر وفاقہ کا سامنا رہا لیکن آپ نے ہمت واستقلال سے کام لیا اور آخر کار کشائش رونما ہوئی۔ نیز حقائق ومعارف میں آپ کو پوری دسترس حاصل ہوگئی جس سے آپکا کلام بے حد مؤثر ثابت ہوا اور اکثر علماء ظاہر جو اہل توحید کے منکر تھے آپکے فیض صحبت سے راہِ راست پر آگے اورمشرب طریقت اختیارکرلیا۔ آپ کےکمالات کا صحیح اندازہ آپکی تصانیف مثلِ اسولہ واجوبہ سے ہوسکتا ہے۔ یہ اُن سوالات اور جوابات کامجموعہ ہے جو ایک درویش کامل اور بعض کہتے ہیں کہ حضرت داراشکوہ ابن محمد شاہجہان بادشاہ نے آپ سے پوچھے تھے اور جن کے جوابات آپ نے دیئے۔ وہ سوالات وجوابات یہ ہیں۔
کتاب اسولہ واجوبہ یعنی سوالات وجوابات
پہلا سوال
بدایت کا رکا ہے (یعنی کام کی ابتدا کیا ہے) اور انتہا کیا ہے ۔
جواب
اگر چہ من حیث السلوک کام کی ابتدا سیرالیٰ اللہ[4] اور انتہا سیرفی اللہ[5] ہے جسکی شرح محتاج بیان نہیں۔ تاہم صوفیاء کرام کے نزدیک حضرت حق تعالی کے وجود کے ظہور کےمراتب ایک دائرہ کی صورت میں واقع ہوئے ہیں اور نقطۂ احدیت جو دائرہ کی ابتدا بھی ہے اور انتہا بھ ی ہے بدایت کار (آغاز) سے نہایت کار (انتہا) میں مبدل ہوجاتا ہے۔ اور نقطۂ احدیت سے نقطۂ جامع انسانیہ جو اسکے بالمقابل ہے دائرہ کیایک قوس بنتی ہے جسکا نام قوس نزولی ہے اور دوسری نصف قوس نقطۂ جامع انسانیہ سے احدیت تک ہے جسے قوس عروجی کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ چنانچہ دونوں قوسوں کے ملنے سے دائرہ وجود میں آتا ہے۔
نقشہ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
ھو الاول والآخر والظاھر والباطن سے یہ مراد ہے۔ کہ
از مترجم: مندرجہ بالابیان کےمطابق سلوک اللہ کا سامنے والا خاکہ بن جاتا ہے۔
نقطۂ الف سے مراد ذات احدیت ہے۔ نقطۂ ب سےمراد مقام انسان ہے جب عبادات وریاضات و مجاہدات اور اذکار و مشاغل کے ذریعے سالک کا تزکیہ نفس ہوتا ہے اور روح میں قوت پرواز یدا ہوتی ہے تو مقام بہ سے نقطۂ ج کے زریعے مقام الف یعنی ذات احدیت کی طرف پرواز کرتا ہے اس سفر کا نام سیر عروجی یا سیر الی اللہ ہے۔ جب مقام الف پر پہنچ جاتا ہے اور ذات حق میں رسائی ہوجاتی ہے تو اس مرتبہ کا نام فنافی اللہ یا سیر فی اللہ ہے۔ جو سراسر استغراق و محویت ہے۔ اسکے بعد جب سالک اپنی اصلیت یعنی مقام بہ پر واپس آنا چاہتا ہے تو نقطۂ د سے ہوتا ہوا آتا ہے اور ب پر پہنچ کر استغراق سے نکل جاتا ہے۔ اور ہوشیاری میں واپس آکر مناصب زندگی انجام دیتا ہے اور ہدایت خلق کی طرف متوجہ ہوتا ہے اسی کا نام تکمیل ہے۔ جس کے بعد نیابت وخلافت الٰہیہ کا تاج
اس سے ظاہر ہے کہ شیخ کامل و مکمل مرید صادق کومرتبہ جبروت میں اجازت ارشاد وتبیت مریدین عطا فرمائیں تو جائز ہے۔ چنانچہ حضرت شیخ ابو سعید قدس سرہٗ نے حضرت شیخ محب اللہ کو اُسی مرتبہ یعنی جبروت میں اجازت فرمائی۔ لیکن حضرت شیخ محب اللہ کے دل میں خطرہ (وسواس) پیدا ہوا کہ مرید تو مقام لاہوت کے حصول کے بعد خلافت کے قابل ہوتا ہے اور میری اب تک وہاں رسائی نہیں ہوئی معلوم نہیں میرے شیخ نےمیرے اندر کیا دیکھا ہے کہ مجھے خلافت عطا فرمارہے ہیں۔ حضرت شیخ ابو سعید قدس سرہٗ روشن ضمیری سے اس خطرہ سے آگاہ ہوئے اور انکو خرقۂ خلافت پہناکر دعاکیلئے ہاتھ اٹھائے اور باطنی توجہ سے انکو نوازا۔ آپکے ہاتھ اٹھاتے ہی حضرت شیخ محب اللہ پر تجلئ کیف جلوہ گر ہوئی اور فوراً چلا اٹھے کہ یا حضرت بس کیجئے کہ میرے اندر اس مشاہدہ سے زیادہ استعداد اور حوصلہ نہیں ہے اسکے بعد حضرت شیخ ن ے آپکی صحت اور تمکین کیلئے توجہ فرمائی جس سے آپ مغلوب الحال نہ ہوئے۔ حضرت شاہ ابو سعید نے خرقۂ خلافت حاصل کر کے حضرت شیخ محب اللہ اپنے شہر صدر پور تشریف لے گئے۔ صدر پور اگر چہ آپکا آبائی وطن تھا لیکن آپ نے وہاں رہنا پسند نہ فرمایا اور کچھ عرصہ توکل و تجرید کی خاطر ردولی شریف گئے۔ صاحب مراۃ الاسرار لکھتےہیں کہ جب ح ضرت شیخ محب اللہ ردولی پہنچے تو یہ فقیر بھی وہاں موجود تھا۔ چنانچہ ہم دونوں کے درمیان فقر در دوستی کا سلسلہ قائم ہوگیا۔ اور گرم اور مصفا ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہا۔نیز میں آپ کے اوصاف پسندیدہ سے بہت متاثر اور محفوظ ہوا چند ایام کے بعد آپ کو حضرت مخدوم احمد عبدالحق ردولوی قدس سرہٗ کی طرف سے نواز شات ہوئیں اور رخصت کی بشارت مل گئی۔ چنانچہ ہم دونوں ردولی شریف سے رخصت ہوکر آپ نے چند روزمیرے غریب خانہ پر قیام فرمایا۔ اس وقت حضرت شیخ محب اللہ آباد تشریف لے گئے اور اُسی جگہ اُن کے ہمراہ میر سید عبدالحکیم ساکن شہر نبہۃ بھی تھے جو اُن سے کسب فیض کرتے تے جب شیخ محب اللہ الٰہ آباد تشریف لے گئے اور اُسی جگہ سکونت اختیار کرلی تو وہاں آپکی بہت شہرت ہوئی۔ شروع میں اگر چہ فقر وفاقہ کا سامنا رہا لیکن آپ نے ہمت واستقلال سے کام لیا اور آخر کار کشائش رونما ہوئی۔ نیز حقائق ومعارف میں آپ کو پوری دسترس حاصل ہوگئی جس سے آپکا کلام بے حد مؤثر ثابت ہوا اور اکثر علماء ظاہر جو اہل توحید کے منکر تھے آپکے فیض صحبت سے راہِ راست پر آگے اورمشرب طریقت اختیارکرلیا۔ آپ کےکمالات کا صحیح اندازہ آپکی تصانیف مثلِ اسولہ واجوبہ سے ہوسکتا ہے۔ یہ اُن سوالات اور جوابات کامجموعہ ہے جو ایک درویش کامل اور بعض کہتے ہیں کہ حضرت داراشکوہ ابن محمد شاہجہان بادشاہ نے آپ سے پوچھے تھے اور جن کے جوابات آپ نے دیئے۔ وہ سوالات وجوابات یہ ہیں۔
کتاب اسولہ واجوبہ یعنی سوالات وجوابات
پہلا سوال
بدایت کا رکا ہے (یعنی کام کی ابتدا کیا ہے) اور انتہا کیا ہے ۔
جواب
اگر چہ من حیث السلوک کام کی ابتدا سیرالیٰ اللہ[4] اور انتہا سیرفی اللہ[5] ہے جسکی شرح محتاج بیان نہیں۔ تاہم صوفیاء کرام کے نزدیک حضرت حق تعالی کے وجود کے ظہور کےمراتب ایک دائرہ کی صورت میں واقع ہوئے ہیں اور نقطۂ احدیت جو دائرہ کی ابتدا بھی ہے اور انتہا بھ ی ہے بدایت کار (آغاز) سے نہایت کار (انتہا) میں مبدل ہوجاتا ہے۔ اور نقطۂ احدیت سے نقطۂ جامع انسانیہ جو اسکے بالمقابل ہے دائرہ کیایک قوس بنتی ہے جسکا نام قوس نزولی ہے اور دوسری نصف قوس نقطۂ جامع انسانیہ سے احدیت تک ہے جسے قوس عروجی کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ چنانچہ دونوں قوسوں کے ملنے سے دائرہ وجود میں آتا ہے۔
نقشہ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
ھو الاول والآخر والظاھر والباطن سے یہ مراد ہے۔ کہ
از مترجم: مندرجہ بالابیان کےمطابق سلوک اللہ کا سامنے والا خاکہ بن جاتا ہے۔
نقطۂ الف سے مراد ذات احدیت ہے۔ نقطۂ ب سےمراد مقام انسان ہے جب عبادات وریاضات و مجاہدات اور اذکار و مشاغل کے ذریعے سالک کا تزکیہ نفس ہوتا ہے اور روح میں قوت پرواز یدا ہوتی ہے تو مقام بہ سے نقطۂ ج کے زریعے مقام الف یعنی ذات احدیت کی طرف پرواز کرتا ہے اس سفر کا نام سیر عروجی یا سیر الی اللہ ہے۔ جب مقام الف پر پہنچ جاتا ہے اور ذات حق میں رسائی ہوجاتی ہے تو اس مرتبہ کا نام فنافی اللہ یا سیر فی اللہ ہے۔ جو سراسر استغراق و محویت ہے۔ اسکے بعد جب سالک اپنی اصلیت یعنی مقام بہ پر واپس آنا چاہتا ہے تو نقطۂ د سے ہوتا ہوا آتا ہے اور ب پر پہنچ کر استغراق سے نکل جاتا ہے۔ اور ہوشیاری میں واپس آکر مناصب زندگی انجام دیتا ہے اور ہدایت خلق کی طرف متوجہ ہوتا ہے اسی کا نام تکمیل ہے۔ جس کے بعد نیابت وخلافت الٰہیہ کا تاج
❤1
اس کے سر پر رکھا جاتا ہے۔ ختم ہوا مترج مکا وضاحتی بیان)
دوسرا سوال
حضرت شیخ جنید بغدادی قدس سرہٗ کے اس قول کا کیا مطلب ہے کہ جب آپ سے دریافت کیا گیا کہ ما النھا یۃ (نہایت یا آخری مقام کیا ہے) تو آپ نے جواب دیا یہ رجوع الی البدایۃ ( یہ رجوع ہے ابتدا کی طرف ) اس سوال کا جواب پہلے سوا ل کے جواب میں آچکا ہے (یعنی مقام الف سے بہ پر واپس آنا کمالات بشریت ہے)
تیسرا سوال
وہ کونسا علمہے جسے حجاب اکبر کہا گیا ہے (صوفیاء کرام کا مقولہ ہے کہ العلم حجاب الاکبر (علم حجاب اکبر ہے)
جواب چونکہ علم،عالم اور معلوم تینوں کی حقیقت ایک ہے اس لیے ہر وہ علم جو اس حقیقت کے خلاف ہے حجاب اکبر ہے۔ بلکہ تفرقۂ ابدی ہے۔ اور حصول مقصد کی راہ میں رکاوٹ ہے۔
چوتھا سوال
انبیاء سابق کومعرفت توحید حاصل تھی یا نہیں؟
جواب
صوفیاء کرام کے نزدیک یہ امر مُسلّم ہے کہ ذات وصفات، اسماء واحکام الٰہی ک ے علم کا نام نبوت ہے۔ نیز شیخ محی الدین ابن عربی قدس سرہٗ نے فصوص الحکم میں فرمایا ہے کہ نبی حق تعالیٰ کی طرف سے اس لیے مبعوث کیا جاتا ہے کہ خلق خدا کی ان کمالات کی طرف راہنمائی کرے جو انکے اعیان ثابتہ کےمطابق علم حق تعالیٰ میں انکےلیے مقرر ہوچکی ہے۔ لہٰذا عقل کا تقاضا یہ ہے کہ معرفت توحید کے بغیر یہ کام انبیاء علیہمالسلام سے نہیں ہوسکتا۔( یعنی معرفت توحید بالضرور انبیاء علیہم السلام کو حاصل ہے) دوسری بات یہ ہے کہ اولیاء مقدمین اور متاخرین کا اس بات پر اتفق ہے کہ تمام اولیاء کرام کو مشکوٰۃ نبوت سے نور معرفت حاصل ہوتا ہے۔ پس اگر انبیاء علیہم السلام کو معرفت توحید نہ ہو تو اولیاء کو کس طرح حاصل ہوگی۔ اب چونکہ یہ چیز اولیاء کرام کو حاصل ہے اس لیے انبیاء علیہم السلام جو اُن محتاج الیہ میں بدرجہ اولی یہ دولت حاصل ہوتی ہے۔
پانچواں سوال
تصور کا اعتبار ہے یا نہیں؟
جواب
و ہ تصوور جو اغراض نفسانی سےمنسوب نہیں اور حق تعالیٰ کی طرف لے جانے والا ہےمعتبر ہے اور جو اسکے خلاف ہے درجۂ اعتبار سے ساقطہ ہے۔ اگر غور سے دیکھا جائے تو چیز ذات بحت پر زائد نظر آئے غیرمعتبر ہے۔
چھٹا سوال
جب موجود کامعدوم ہونا محال ہے تو اشیاء کو کس طرح معدوم کہا جاسکتاہے۔
جواب
اشیاء کی صورتیں جو اعتباری اور اضافی ہیں تبدیل ہوسکتی ہیں لیکن حقیقت اشیاء جو و احد ہے ہر حال (ہر صورت) میں موجود رہتی ہے معدوم نہیں ہوتی مثلاً لکڑی جل جانے کے بعد راکھ بن جاتیہے اور راکھ دوسرے عناصر میں تبدیل ہوجاتی ہے۔ حتیٰ کہ نور ذات پر منتہیٰ ہوتی ہے جو تمام صورتوں اور شکلوں کی حامل ہے۔
ساتواں سوال
ترقی کی کوئی انتہا بھی ہے یا نہیں (یعنی ترقئ مدارج قریب)
جواب
سالک کی ترقی اسکےموسوم (وہمی۔ غیر حقیقی) وجودِ کے حق میں گم ہوجانے سے ممکن ہے۔ اور اس چیز کو فنافی اللہ کہتے ہیں اور چونکہ سالک کو اس مقام پر ذات الٰہی میں وصول (وصال) حاصل ہے اور چونکہ ذات الٰہی کی کوئی حد نہیں اس لیے ترقی کی بھی کوئی حد نہیں۔ کل یوم ھو فی شان (اسی ہر تجلیکین ئی شان ہے)سے یہی مراد ہے۔ بیت؎
اے تجلئ تو تکرار نہ
دے کہ زحسن تو پدیدارنہ
(اے دوست تیری تجلیات کو تکرار نہیں ہے یعنی ہر بار نئی تجلی نمودار ہوتی ایک تجلی دوبارہ نہیں آتی۔ اور تو اپنے حسن و تجلیات اور شدت ظہور کی س جہ سے نظر نہیں آتا یعنی آنکھیں چند دھیا گئی ہیں۔)
آٹھواں سوال
قرآن مجید کے الفاظ ظلوماً جھولاً انسان کی تعریف میں آئے ہیں یا مذمت میں۔
جواب
اگر انسان کو اِنَّا عرضنا الا مانتہ وحملھا الانسان انہ کان ظلوماً جھولاً میں مذکور امانت قبول کرنے کا اختیار تو ظلوماً جہولاً مذمت ہے۔ کہ اس نے آرام گاہ اطلاق سے تقید کی آشوب گاہ مین اپنے آپکو گرفتار کر کے غایب جہل سے اپنے آپ پر ظلم کیا۔ لیکن یہ عوام کا عقیدہ ہے۔ اگر یہ نہ ہوتا تو پیغمبر علیہ السلام یہ نہ فرماتےکہ یا لیت رب محمد لم یخلق محمداً ( کاش کہ محمد کا رب محمد کو پیدا نہ کرتا) اگر انسان کو اختیار نہ تھا اور حق تعالیٰ نے اُسے فعل مختار بنایا اور امانت قبول کرنے کی قابلیت عطا فرمائی تو ظلوماً جہولاً اسکی مدح (تعریف) ہے۔ اور چونکہ انسان کے افعال حق تعالی سے منسوب ہوتے ہیں ان افعال (یعنی امانت قبول کرنے) کی نسبت بھی حق تعالیی سے ہوگی۔ اور حق تعالیٰ جو کچھ کرتاہے عدل ہے نہ کہ ظلم ۔ یہ خواص عقیدہ ہے۔
نانواں سوال
کیا ارواح (یعنی کسی بزرگ کی روحانیت) سے تربیت حاصل کر کے معرفت حاصل کی جاسکتی ہے۔
جواب
کسی سالک کو ذاتی استعداد اور فطری قابلیت کے بغیر ارواح کی تربیت سے معرفت حاصل نہیں ہوتی اور جب یہ دونوں جمع ہوجائیں (یعنی ذاتی قابلیت بھی ہو اور ارواح کی تربیت بھی مل جائے) تو شاید آیہ اِنَّکَ لا تھدی من اَحْبَتَتْ (اے پیغمبر تو جسے چاہے ہدایت نہیں دے سکتا) کے مطابق کمال ونقصان حضرت علمیہ الٰہیہ سے منسوب ہوتا ہے اور اسکا ظاہری فاعل سے کوئی تعلق نہیں (فاعل حقیقی یعنی حق تعالیٰ سے تعلق ہے)
دوسرا سوال
حضرت شیخ جنید بغدادی قدس سرہٗ کے اس قول کا کیا مطلب ہے کہ جب آپ سے دریافت کیا گیا کہ ما النھا یۃ (نہایت یا آخری مقام کیا ہے) تو آپ نے جواب دیا یہ رجوع الی البدایۃ ( یہ رجوع ہے ابتدا کی طرف ) اس سوال کا جواب پہلے سوا ل کے جواب میں آچکا ہے (یعنی مقام الف سے بہ پر واپس آنا کمالات بشریت ہے)
تیسرا سوال
وہ کونسا علمہے جسے حجاب اکبر کہا گیا ہے (صوفیاء کرام کا مقولہ ہے کہ العلم حجاب الاکبر (علم حجاب اکبر ہے)
جواب چونکہ علم،عالم اور معلوم تینوں کی حقیقت ایک ہے اس لیے ہر وہ علم جو اس حقیقت کے خلاف ہے حجاب اکبر ہے۔ بلکہ تفرقۂ ابدی ہے۔ اور حصول مقصد کی راہ میں رکاوٹ ہے۔
چوتھا سوال
انبیاء سابق کومعرفت توحید حاصل تھی یا نہیں؟
جواب
صوفیاء کرام کے نزدیک یہ امر مُسلّم ہے کہ ذات وصفات، اسماء واحکام الٰہی ک ے علم کا نام نبوت ہے۔ نیز شیخ محی الدین ابن عربی قدس سرہٗ نے فصوص الحکم میں فرمایا ہے کہ نبی حق تعالیٰ کی طرف سے اس لیے مبعوث کیا جاتا ہے کہ خلق خدا کی ان کمالات کی طرف راہنمائی کرے جو انکے اعیان ثابتہ کےمطابق علم حق تعالیٰ میں انکےلیے مقرر ہوچکی ہے۔ لہٰذا عقل کا تقاضا یہ ہے کہ معرفت توحید کے بغیر یہ کام انبیاء علیہمالسلام سے نہیں ہوسکتا۔( یعنی معرفت توحید بالضرور انبیاء علیہم السلام کو حاصل ہے) دوسری بات یہ ہے کہ اولیاء مقدمین اور متاخرین کا اس بات پر اتفق ہے کہ تمام اولیاء کرام کو مشکوٰۃ نبوت سے نور معرفت حاصل ہوتا ہے۔ پس اگر انبیاء علیہم السلام کو معرفت توحید نہ ہو تو اولیاء کو کس طرح حاصل ہوگی۔ اب چونکہ یہ چیز اولیاء کرام کو حاصل ہے اس لیے انبیاء علیہم السلام جو اُن محتاج الیہ میں بدرجہ اولی یہ دولت حاصل ہوتی ہے۔
پانچواں سوال
تصور کا اعتبار ہے یا نہیں؟
جواب
و ہ تصوور جو اغراض نفسانی سےمنسوب نہیں اور حق تعالیٰ کی طرف لے جانے والا ہےمعتبر ہے اور جو اسکے خلاف ہے درجۂ اعتبار سے ساقطہ ہے۔ اگر غور سے دیکھا جائے تو چیز ذات بحت پر زائد نظر آئے غیرمعتبر ہے۔
چھٹا سوال
جب موجود کامعدوم ہونا محال ہے تو اشیاء کو کس طرح معدوم کہا جاسکتاہے۔
جواب
اشیاء کی صورتیں جو اعتباری اور اضافی ہیں تبدیل ہوسکتی ہیں لیکن حقیقت اشیاء جو و احد ہے ہر حال (ہر صورت) میں موجود رہتی ہے معدوم نہیں ہوتی مثلاً لکڑی جل جانے کے بعد راکھ بن جاتیہے اور راکھ دوسرے عناصر میں تبدیل ہوجاتی ہے۔ حتیٰ کہ نور ذات پر منتہیٰ ہوتی ہے جو تمام صورتوں اور شکلوں کی حامل ہے۔
ساتواں سوال
ترقی کی کوئی انتہا بھی ہے یا نہیں (یعنی ترقئ مدارج قریب)
جواب
سالک کی ترقی اسکےموسوم (وہمی۔ غیر حقیقی) وجودِ کے حق میں گم ہوجانے سے ممکن ہے۔ اور اس چیز کو فنافی اللہ کہتے ہیں اور چونکہ سالک کو اس مقام پر ذات الٰہی میں وصول (وصال) حاصل ہے اور چونکہ ذات الٰہی کی کوئی حد نہیں اس لیے ترقی کی بھی کوئی حد نہیں۔ کل یوم ھو فی شان (اسی ہر تجلیکین ئی شان ہے)سے یہی مراد ہے۔ بیت؎
اے تجلئ تو تکرار نہ
دے کہ زحسن تو پدیدارنہ
(اے دوست تیری تجلیات کو تکرار نہیں ہے یعنی ہر بار نئی تجلی نمودار ہوتی ایک تجلی دوبارہ نہیں آتی۔ اور تو اپنے حسن و تجلیات اور شدت ظہور کی س جہ سے نظر نہیں آتا یعنی آنکھیں چند دھیا گئی ہیں۔)
آٹھواں سوال
قرآن مجید کے الفاظ ظلوماً جھولاً انسان کی تعریف میں آئے ہیں یا مذمت میں۔
جواب
اگر انسان کو اِنَّا عرضنا الا مانتہ وحملھا الانسان انہ کان ظلوماً جھولاً میں مذکور امانت قبول کرنے کا اختیار تو ظلوماً جہولاً مذمت ہے۔ کہ اس نے آرام گاہ اطلاق سے تقید کی آشوب گاہ مین اپنے آپکو گرفتار کر کے غایب جہل سے اپنے آپ پر ظلم کیا۔ لیکن یہ عوام کا عقیدہ ہے۔ اگر یہ نہ ہوتا تو پیغمبر علیہ السلام یہ نہ فرماتےکہ یا لیت رب محمد لم یخلق محمداً ( کاش کہ محمد کا رب محمد کو پیدا نہ کرتا) اگر انسان کو اختیار نہ تھا اور حق تعالیٰ نے اُسے فعل مختار بنایا اور امانت قبول کرنے کی قابلیت عطا فرمائی تو ظلوماً جہولاً اسکی مدح (تعریف) ہے۔ اور چونکہ انسان کے افعال حق تعالی سے منسوب ہوتے ہیں ان افعال (یعنی امانت قبول کرنے) کی نسبت بھی حق تعالیی سے ہوگی۔ اور حق تعالیٰ جو کچھ کرتاہے عدل ہے نہ کہ ظلم ۔ یہ خواص عقیدہ ہے۔
نانواں سوال
کیا ارواح (یعنی کسی بزرگ کی روحانیت) سے تربیت حاصل کر کے معرفت حاصل کی جاسکتی ہے۔
جواب
کسی سالک کو ذاتی استعداد اور فطری قابلیت کے بغیر ارواح کی تربیت سے معرفت حاصل نہیں ہوتی اور جب یہ دونوں جمع ہوجائیں (یعنی ذاتی قابلیت بھی ہو اور ارواح کی تربیت بھی مل جائے) تو شاید آیہ اِنَّکَ لا تھدی من اَحْبَتَتْ (اے پیغمبر تو جسے چاہے ہدایت نہیں دے سکتا) کے مطابق کمال ونقصان حضرت علمیہ الٰہیہ سے منسوب ہوتا ہے اور اسکا ظاہری فاعل سے کوئی تعلق نہیں (فاعل حقیقی یعنی حق تعالیٰ سے تعلق ہے)
❤1
دسواں سوال
طالب کو موت کے بعد وصل ممکن ہے یا نہیں
جواب
عارفین کے نزدک طالب اور غیر طالب بلکہ ہر شی معدوم ہے (یعنی کسی چیز کا حقیقی و جود نہیں ہے) اور ذات بحت کے سوا کوئی چیز موجود نہیں ہےاور آیۂ کُلَّ اِلَیْنَا رَاجِعُون کے مطابق طالب بلکہ تمام موجودات اپنی ذات کی طرف (یعنی ذات حق کی طرف) رجوع کر رہے ہیں خواہ جمال کے راستے خواہ جلال کے راستے جس طرح کہ پاک اورپلید پانی بحر محیط میں ہمرنگ ہوجاتے ہیں؎
ہر چیز کہ درکان نمک رفت نمک شد
جو چیز نمک کی کان میں رکھی جائے نمک بن جاتی ہے
اور صفت جمال اور جلال کی ذات حق کے ساتھ یکساں نسبت ہے اس وجہ سے کہ وحدت ساذج (ذات بحت) تعد اور تکثر سے پاک اور منزہ ہے۔ ایبات:
گر گمرہ ور زاہل شہودی ایدل
یک قطرہ زدریائے وجودی ایدل
زیں پیش نبودے از تو تا دریا فرق
ناگاہ چناں مشوی کہ بودی ایدل
خلق از چہ بہ رہِ مختلف آسار فتند
بیشی وکمی بعالم وحدت نیست
چہ رود چہ قطرہ چوں بدریا فتند
(۱۔ اگر تو گمراہ ہے یا اہل شہود ہے تو دریائے وجود میں سے ایک قطرہ ہے۔
۲۔ اب تک تم میں اور دریا میں کوئی فرق نہیں تھا چنانچہ اب بھی کوئی فرق پیدا نہ کرو۔
۳۔ اگر چہ مخلوقات نے مختلف راستے اختیار کر رکھے ہیں تاہم جب حقیقت کو پہچنتے ہیں ایک ہوجاتے ہیں۔
۴۔ عالم وحدت میں کمی وبیشی نہیں ہے خواہ ندی ہے خواہ قطرہ جب دریا میں جاتے ہیں ایک ہوجاتے ہیں)
گیارہواں سوال
طالب فانی ہوجاتا ہے یا مطلوب (یعنی مقام فنافی اللہ میں) اگر حدیث کُنْتُ کَنزاً مخفیا ً فاحْیَتُ اَنْ اُعْرَفَ فخلقت الخلق (حق تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میں ایک مخفی خزانہ تھا مجھے خواہش ہوئی کہ مجھے کوئی دیکھے اس لیے مخلوق کو پیدا کیا) کے مطابق حق تعالیٰ کو طالب فرض کیا جائے تو فانی ہونا مطلوب کیلئے درست آتا ہے جس نے نقاب بشری اوڑھ رکھ تھا۔ اور اگر انسان کو طالب قرر دیا جائے تو نفسانیہ سے اور صفات بشریہ سے باہر نکل سکتا تو اس صورت میں طالب فانی ہےمطلوب میں۔ لہذا قاعدہ کلیہ یہ ہوا کہ انسان اپنی صفت حدوث (حادث ہونا) اور خلق (مخلوق ہونا) کی وجہ سے فانی ہے خواہ اس حیثیت سے وہ طالب کہلائے یامطلوب۔ لیکن جب صفت حدوث وخلق سے باہر آجاتا ہے وہ بقی بن جاتا ہے (فانی نہیں رہتا) اورصفت خلق سےمعرا اور پاک ہوجاتا ہے جیسا کہ کسی نےکہا ہے؎
عارف خدا ندارد
اونیست آفریدہ[6]
(عارف نہیں رکھتا نہ وہ کسی کا پیدا کیا ہوا ہے)
حضرت شیخ ابو الحسن خرقانی کا یہ قول اسی حقیقت کو ظاہر کرتا ہے الصوفی غیر مخلوق (صوفی غیر مخلوق ہے[7])
بارہوں سوال
درد اور عشق میں تفرقہ کیوں ہے۔
جواب
درد اور عشق دونوں لازم و ملزم ہیں۔ لیکن عاشق صفات (صفات کا طالب) ہمیشہ درد واندوہ میں مبتلا رہتا ہے۔ اس لیے کہ عالم صفات میں کبھی جلوہ گری ہوتی ہے کبھی پردہ پوشی جسکی وجہ سے عاشق صفات درد والم، حیرانی و پریشانی سے فارغ نہیں رہتا۔ اسکے بعد برعکس عاشق ذات ہمیشہ سکون واطمینان سے رہتا ہے کیونکہ عاشق ذات جس طرح دیکھتا ہے حق تعالیٰ کے جمال کے سوا کچھ نہیں دیکھتا؎
محقق ہماں بیند اندر ابلِ
کہ درخوبر و یان چین و چگل
(جو لوگ محقق ہیں محبوبان مجازی کے حسن و جمال میں حسن ازلی وجمالی لم یزلی کا مشاہدہ کرتے ہیں) اگر چہ ذات حق کے مختلف شیون (جمع شان) عین وصل میں اُسے نیم مردہ کردیتے ہیں اس وجہ سے عاشق جب تک محو مطلق نہیں ہوتا اور اپنے معشوق کے تعین سے فارغ نہیں ہوتا جو متقاضی دوئی ہے درد اور طلب اور سوز گذار اسکے اندر باقی رہتا ہے۔
خاصیت سیماب بود عاشق را
تاکشتہ نہ گردو اضطرابش نہ رود
(عاشق پارے کی طرح ہمیشہ بے چین رہتا ہے لیکن جب پارہ کشتہ ہوجاتا ہے اضطراب ختم ہوجاتا ہے)
تیرہواں سوال
وہ کونشا شغل ہے جو شغل کے اختیار کے بغیر (بے اختیار) شروع ہوجاتا ہے۔
جواب
یہ وہی شغل ہے جو ذکر اور ریاضت کی مداومت کی وجہ سے حاصل ہوتا ہے۔ جسے ذکر قلبی اور نطق القلب کے نام سے بھی موسوم کرتے ہیں۔ لیکن اس پر اکتفا نہیں کرنا چاہیے کیونکہ اس سے اوپر بے شمار مراتب ہیں اور انسان کا کمال یہ نہیں ہے۔
چودھوں سوال
نماز بے خطرہ (یعنی بغیر وساوس) کب میسر آتی ہے۔
جواب
یہ نماز اس وقت میسر آتی ہے جب اشیاء کا وجود نمازی کی ظاہری وباطنی آنکھوں سے گم اور فنا ہوجاتا ہے اور اسکے قلب میں ذات حق بس جاتی ہے۔
پندرھواں سوال
غیر متناہی (لامحدود یعنی ذات حق) متنا ہی (محدود یعنی انسان) میں کس طرح سما سکتا ہے۔
جواب
اس اعتبار سے کہ ذات حق بحسب اطلاق اشارات، عبارات، قیودو اعتبارات سے پاک اور منزہ ہے۔ چشم سر اسکے اوراک سے قاصر ہے۔ اِنَّ اللہَ تَعَالیٰ احتجب عن العقول کما احتجب عن الابصار ان الملا الا علی یطلبونہ کما یطلبونہ انتم (تحقیق اللہ تعالیٰ عقول سے بھی اُسی حجاب میں ہے جس طرح عیون یعنی آنکھوں سے ہے۔ ذات حق تمہاری تلاش میں اُسی طرح سر گرم ہے جس طرح تم اسکی تلاش میں سر گرم ہو) اور اس اعتبار سے کہ تقیدات ظہور اور مراتب و ج
طالب کو موت کے بعد وصل ممکن ہے یا نہیں
جواب
عارفین کے نزدک طالب اور غیر طالب بلکہ ہر شی معدوم ہے (یعنی کسی چیز کا حقیقی و جود نہیں ہے) اور ذات بحت کے سوا کوئی چیز موجود نہیں ہےاور آیۂ کُلَّ اِلَیْنَا رَاجِعُون کے مطابق طالب بلکہ تمام موجودات اپنی ذات کی طرف (یعنی ذات حق کی طرف) رجوع کر رہے ہیں خواہ جمال کے راستے خواہ جلال کے راستے جس طرح کہ پاک اورپلید پانی بحر محیط میں ہمرنگ ہوجاتے ہیں؎
ہر چیز کہ درکان نمک رفت نمک شد
جو چیز نمک کی کان میں رکھی جائے نمک بن جاتی ہے
اور صفت جمال اور جلال کی ذات حق کے ساتھ یکساں نسبت ہے اس وجہ سے کہ وحدت ساذج (ذات بحت) تعد اور تکثر سے پاک اور منزہ ہے۔ ایبات:
گر گمرہ ور زاہل شہودی ایدل
یک قطرہ زدریائے وجودی ایدل
زیں پیش نبودے از تو تا دریا فرق
ناگاہ چناں مشوی کہ بودی ایدل
خلق از چہ بہ رہِ مختلف آسار فتند
بیشی وکمی بعالم وحدت نیست
چہ رود چہ قطرہ چوں بدریا فتند
(۱۔ اگر تو گمراہ ہے یا اہل شہود ہے تو دریائے وجود میں سے ایک قطرہ ہے۔
۲۔ اب تک تم میں اور دریا میں کوئی فرق نہیں تھا چنانچہ اب بھی کوئی فرق پیدا نہ کرو۔
۳۔ اگر چہ مخلوقات نے مختلف راستے اختیار کر رکھے ہیں تاہم جب حقیقت کو پہچنتے ہیں ایک ہوجاتے ہیں۔
۴۔ عالم وحدت میں کمی وبیشی نہیں ہے خواہ ندی ہے خواہ قطرہ جب دریا میں جاتے ہیں ایک ہوجاتے ہیں)
گیارہواں سوال
طالب فانی ہوجاتا ہے یا مطلوب (یعنی مقام فنافی اللہ میں) اگر حدیث کُنْتُ کَنزاً مخفیا ً فاحْیَتُ اَنْ اُعْرَفَ فخلقت الخلق (حق تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میں ایک مخفی خزانہ تھا مجھے خواہش ہوئی کہ مجھے کوئی دیکھے اس لیے مخلوق کو پیدا کیا) کے مطابق حق تعالیٰ کو طالب فرض کیا جائے تو فانی ہونا مطلوب کیلئے درست آتا ہے جس نے نقاب بشری اوڑھ رکھ تھا۔ اور اگر انسان کو طالب قرر دیا جائے تو نفسانیہ سے اور صفات بشریہ سے باہر نکل سکتا تو اس صورت میں طالب فانی ہےمطلوب میں۔ لہذا قاعدہ کلیہ یہ ہوا کہ انسان اپنی صفت حدوث (حادث ہونا) اور خلق (مخلوق ہونا) کی وجہ سے فانی ہے خواہ اس حیثیت سے وہ طالب کہلائے یامطلوب۔ لیکن جب صفت حدوث وخلق سے باہر آجاتا ہے وہ بقی بن جاتا ہے (فانی نہیں رہتا) اورصفت خلق سےمعرا اور پاک ہوجاتا ہے جیسا کہ کسی نےکہا ہے؎
عارف خدا ندارد
اونیست آفریدہ[6]
(عارف نہیں رکھتا نہ وہ کسی کا پیدا کیا ہوا ہے)
حضرت شیخ ابو الحسن خرقانی کا یہ قول اسی حقیقت کو ظاہر کرتا ہے الصوفی غیر مخلوق (صوفی غیر مخلوق ہے[7])
بارہوں سوال
درد اور عشق میں تفرقہ کیوں ہے۔
جواب
درد اور عشق دونوں لازم و ملزم ہیں۔ لیکن عاشق صفات (صفات کا طالب) ہمیشہ درد واندوہ میں مبتلا رہتا ہے۔ اس لیے کہ عالم صفات میں کبھی جلوہ گری ہوتی ہے کبھی پردہ پوشی جسکی وجہ سے عاشق صفات درد والم، حیرانی و پریشانی سے فارغ نہیں رہتا۔ اسکے بعد برعکس عاشق ذات ہمیشہ سکون واطمینان سے رہتا ہے کیونکہ عاشق ذات جس طرح دیکھتا ہے حق تعالیٰ کے جمال کے سوا کچھ نہیں دیکھتا؎
محقق ہماں بیند اندر ابلِ
کہ درخوبر و یان چین و چگل
(جو لوگ محقق ہیں محبوبان مجازی کے حسن و جمال میں حسن ازلی وجمالی لم یزلی کا مشاہدہ کرتے ہیں) اگر چہ ذات حق کے مختلف شیون (جمع شان) عین وصل میں اُسے نیم مردہ کردیتے ہیں اس وجہ سے عاشق جب تک محو مطلق نہیں ہوتا اور اپنے معشوق کے تعین سے فارغ نہیں ہوتا جو متقاضی دوئی ہے درد اور طلب اور سوز گذار اسکے اندر باقی رہتا ہے۔
خاصیت سیماب بود عاشق را
تاکشتہ نہ گردو اضطرابش نہ رود
(عاشق پارے کی طرح ہمیشہ بے چین رہتا ہے لیکن جب پارہ کشتہ ہوجاتا ہے اضطراب ختم ہوجاتا ہے)
تیرہواں سوال
وہ کونشا شغل ہے جو شغل کے اختیار کے بغیر (بے اختیار) شروع ہوجاتا ہے۔
جواب
یہ وہی شغل ہے جو ذکر اور ریاضت کی مداومت کی وجہ سے حاصل ہوتا ہے۔ جسے ذکر قلبی اور نطق القلب کے نام سے بھی موسوم کرتے ہیں۔ لیکن اس پر اکتفا نہیں کرنا چاہیے کیونکہ اس سے اوپر بے شمار مراتب ہیں اور انسان کا کمال یہ نہیں ہے۔
چودھوں سوال
نماز بے خطرہ (یعنی بغیر وساوس) کب میسر آتی ہے۔
جواب
یہ نماز اس وقت میسر آتی ہے جب اشیاء کا وجود نمازی کی ظاہری وباطنی آنکھوں سے گم اور فنا ہوجاتا ہے اور اسکے قلب میں ذات حق بس جاتی ہے۔
پندرھواں سوال
غیر متناہی (لامحدود یعنی ذات حق) متنا ہی (محدود یعنی انسان) میں کس طرح سما سکتا ہے۔
جواب
اس اعتبار سے کہ ذات حق بحسب اطلاق اشارات، عبارات، قیودو اعتبارات سے پاک اور منزہ ہے۔ چشم سر اسکے اوراک سے قاصر ہے۔ اِنَّ اللہَ تَعَالیٰ احتجب عن العقول کما احتجب عن الابصار ان الملا الا علی یطلبونہ کما یطلبونہ انتم (تحقیق اللہ تعالیٰ عقول سے بھی اُسی حجاب میں ہے جس طرح عیون یعنی آنکھوں سے ہے۔ ذات حق تمہاری تلاش میں اُسی طرح سر گرم ہے جس طرح تم اسکی تلاش میں سر گرم ہو) اور اس اعتبار سے کہ تقیدات ظہور اور مراتب و ج
❤1