بادشاہ اٹھا امام کے پاؤں سے اُس کا جوتا اُتروایا اور اُس کو پھاڑا گیا اس میں سے ایک کاغذ نکلا جس میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا نام لکھا ہوا تھا شہر والوں نے آپ کی یہ کرامت دیکھی تو امام کو وہیں قتل کردیا تمام حضرت شیخ رحمۃ اللہ علیہ کے مرید بن گئے۔
ایک بار حضرت شیخ بلخ کے پہاڑ کے دامن میں گئے وہاں پانی نہ تھا نماز ظہر کا وقت آیا تو آپ کو وضو کے لیے پانی نہ ملا اپنا عصا پکڑ کر ایک پتھر پر مارا جس سے خوشگوار پانی کا چشمہ جاری ہوگیا یہ بات بلخ شہر میں ایک نجومی نے سُنی وہ کہنے لگا اس میں شیخ کا کیا کمال ہے اُس وقت آبی ستارے بُرجِ سرطان میں تھے اُس کی وجہ سے پتھر سے پانی نکل آیا اس کو شیخ کی کرامت نہیں سمجھنا چاہیئے۔ کسی مرید نے آپ کو اس نجومی کی بات سنائی آپ خاموش رہے کچھ دنوں بعد شیخ بلخ کے جنگل میں سیر کرنے تشریف لے گئے اور اُس نجومی کو بھی ساتھ لے لیا جنگل میں پانی نہیں تھا آپ نے نجومی سے پوچھا کہ کیا اس وقت ستارے برج سرطان میں ہیں یا نہیں نجومی نے اپنے علم کی وجہ سے غور کیا کہ اس وقت تو آتشی ستارے آتشی برج میں ہیں کہیں سے پانی برآمد ہونا نا ممکن ہے حضرت شیخ نے اپنا عصا زمین پر مارا اور پانی کا ایک میٹھا چشمہ جاری ہوگیا نجومی حیران رہ گیا اور آپ کے پاؤں میں گر پڑا۔
ایک دن ایک گڈریا جو بالکل جاہل تھا طلبِ حق کے لیے حضرت شیخ کی خدمت میں آیا شیخ نے اُس پر توجہ کی اُسے جامئے کمال بنادیا اُس پر دینی اور دنیوی علوم کے اسرار ظاہر ہونے لگے۔
حضرت شیخ ۸ ماہ رجب المرجب بروز جمعہ ۱۰۳۶ ہجری میں فوت ہوئے آپ کا مزار بلخ میں ہے۔
شیخ بڑے صاحب اولاد تھے آپ کے دو بیٹے خواجہ محمد سعید اور عبدالحق ہندوستان میں آگئے محمد سعید تھانیسر میں اور عبدالحق کرنال میں رہنے لگے اگرچہ شیخ کے خلفاء کی تعداد حد سے زیادہ ہے مگر ہم چند بزرگوں کے نام لکھتے ہیں خواجہ ابو سعید گنگوہی، شیخ حسین بہوہری، شیخ ولی محمد نارنولی، شیخ پایندہ سنوری، سیّد الہ بخش لاہوری بمکری، شیخ عبد الکریم لاہوری(آپ کا مزار نواں کوٹ لاہور میں ہے)، حضرت شیخ بندگی، شیخ الہ داد لاہوی، شیخ دوست محمد لاہوری، شیخ مصطفےٰ، شیخ عبدالفتاح اندری، شیخ عبد الرحمان کشمیری، سید قاسم برہانپوری، قاضی عبد الحی ولد قاضی سالم، شیخ برہانپوری، شیخ فتحی، اور اسماعیل اکبر آبادی، شیخ جان اللہ لاہوری (آپ کا مزار مہان سنگھ کے باغ میں ہے) یہ سب بزرگ آپ کے نامور خلفاء تھے۔ [۱]
[۱۔ صاحب اقتباس الانوار(مواطع الانوار) شیخ محمد اکرم قدوسی(مرتبہ ۱۱۳۰ھ) نے حضرت خواجہ نظام الدین بلخی قدس سرہ کی زندگی کے کوائف کو بڑی تفصیل سے بیان کیا ہے آپ نے مفتی غلام سرور لاہوری رحمۃ اللہ علیہ کے بیان کردہ خلفاء کے علاوہ شیخ محمد مرزا سرہندی کا نام بھی لکھا ہے اور پھر یہ بتایا ہے کہ ہندوستان کا کوئی شہر یا قصبہ ایسا نہ تھا جہاں نظام الدین بلخی کا کوئی تربیت یافتہ خلیفہ سے خالی ہوتا برصغیر کے باہر توران عربستان میں بھی آپ کے کئی خلفاء کام کر رہے تھے آپ کے خلیفہ شیخ اللہ بخش لاہوری کے کمالات کو خصوصی طور پر سپرد قلم کیا گیا ہے شیخ نظام الدین بلخی رحمۃ اللہ علیہ نے مسئلہ وحدت الوجود حضرت شیخ اکبر ابن عربی کے نکات سے اعلیٰ اسرار کا اظہار فرمایا ہے اور شرحی لمعات مکی اور مدنی میں ایسے اسرار کا اظہار کیا ہے رویت باری تعالیٰ پر آپ کے خیالات سالکان تصوّف کے لیے باعث اطمینان ہیں آپ کی تصانیف میں سے صاحب خزینۃ الااصفیاء کی بیان کردہ کے علادہ رسالہ حقیہّ دریباں ہفت باطن ریاض القدس شرح مشکوٰۃ شریف اور مصباح الولایت کا بھی ذکر ہے۔]
نظام الدین ولی بلخی!!
چو از دنیا بجنت راہی
وصالش ناظم پاکیزہ جُستم
دوبارہ شد عیان نظم الٰہی ۱۰۳۶ھ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-nizamuddin-sabri-thanesri-balkhi
ایک بار حضرت شیخ بلخ کے پہاڑ کے دامن میں گئے وہاں پانی نہ تھا نماز ظہر کا وقت آیا تو آپ کو وضو کے لیے پانی نہ ملا اپنا عصا پکڑ کر ایک پتھر پر مارا جس سے خوشگوار پانی کا چشمہ جاری ہوگیا یہ بات بلخ شہر میں ایک نجومی نے سُنی وہ کہنے لگا اس میں شیخ کا کیا کمال ہے اُس وقت آبی ستارے بُرجِ سرطان میں تھے اُس کی وجہ سے پتھر سے پانی نکل آیا اس کو شیخ کی کرامت نہیں سمجھنا چاہیئے۔ کسی مرید نے آپ کو اس نجومی کی بات سنائی آپ خاموش رہے کچھ دنوں بعد شیخ بلخ کے جنگل میں سیر کرنے تشریف لے گئے اور اُس نجومی کو بھی ساتھ لے لیا جنگل میں پانی نہیں تھا آپ نے نجومی سے پوچھا کہ کیا اس وقت ستارے برج سرطان میں ہیں یا نہیں نجومی نے اپنے علم کی وجہ سے غور کیا کہ اس وقت تو آتشی ستارے آتشی برج میں ہیں کہیں سے پانی برآمد ہونا نا ممکن ہے حضرت شیخ نے اپنا عصا زمین پر مارا اور پانی کا ایک میٹھا چشمہ جاری ہوگیا نجومی حیران رہ گیا اور آپ کے پاؤں میں گر پڑا۔
ایک دن ایک گڈریا جو بالکل جاہل تھا طلبِ حق کے لیے حضرت شیخ کی خدمت میں آیا شیخ نے اُس پر توجہ کی اُسے جامئے کمال بنادیا اُس پر دینی اور دنیوی علوم کے اسرار ظاہر ہونے لگے۔
حضرت شیخ ۸ ماہ رجب المرجب بروز جمعہ ۱۰۳۶ ہجری میں فوت ہوئے آپ کا مزار بلخ میں ہے۔
شیخ بڑے صاحب اولاد تھے آپ کے دو بیٹے خواجہ محمد سعید اور عبدالحق ہندوستان میں آگئے محمد سعید تھانیسر میں اور عبدالحق کرنال میں رہنے لگے اگرچہ شیخ کے خلفاء کی تعداد حد سے زیادہ ہے مگر ہم چند بزرگوں کے نام لکھتے ہیں خواجہ ابو سعید گنگوہی، شیخ حسین بہوہری، شیخ ولی محمد نارنولی، شیخ پایندہ سنوری، سیّد الہ بخش لاہوری بمکری، شیخ عبد الکریم لاہوری(آپ کا مزار نواں کوٹ لاہور میں ہے)، حضرت شیخ بندگی، شیخ الہ داد لاہوی، شیخ دوست محمد لاہوری، شیخ مصطفےٰ، شیخ عبدالفتاح اندری، شیخ عبد الرحمان کشمیری، سید قاسم برہانپوری، قاضی عبد الحی ولد قاضی سالم، شیخ برہانپوری، شیخ فتحی، اور اسماعیل اکبر آبادی، شیخ جان اللہ لاہوری (آپ کا مزار مہان سنگھ کے باغ میں ہے) یہ سب بزرگ آپ کے نامور خلفاء تھے۔ [۱]
[۱۔ صاحب اقتباس الانوار(مواطع الانوار) شیخ محمد اکرم قدوسی(مرتبہ ۱۱۳۰ھ) نے حضرت خواجہ نظام الدین بلخی قدس سرہ کی زندگی کے کوائف کو بڑی تفصیل سے بیان کیا ہے آپ نے مفتی غلام سرور لاہوری رحمۃ اللہ علیہ کے بیان کردہ خلفاء کے علاوہ شیخ محمد مرزا سرہندی کا نام بھی لکھا ہے اور پھر یہ بتایا ہے کہ ہندوستان کا کوئی شہر یا قصبہ ایسا نہ تھا جہاں نظام الدین بلخی کا کوئی تربیت یافتہ خلیفہ سے خالی ہوتا برصغیر کے باہر توران عربستان میں بھی آپ کے کئی خلفاء کام کر رہے تھے آپ کے خلیفہ شیخ اللہ بخش لاہوری کے کمالات کو خصوصی طور پر سپرد قلم کیا گیا ہے شیخ نظام الدین بلخی رحمۃ اللہ علیہ نے مسئلہ وحدت الوجود حضرت شیخ اکبر ابن عربی کے نکات سے اعلیٰ اسرار کا اظہار فرمایا ہے اور شرحی لمعات مکی اور مدنی میں ایسے اسرار کا اظہار کیا ہے رویت باری تعالیٰ پر آپ کے خیالات سالکان تصوّف کے لیے باعث اطمینان ہیں آپ کی تصانیف میں سے صاحب خزینۃ الااصفیاء کی بیان کردہ کے علادہ رسالہ حقیہّ دریباں ہفت باطن ریاض القدس شرح مشکوٰۃ شریف اور مصباح الولایت کا بھی ذکر ہے۔]
نظام الدین ولی بلخی!!
چو از دنیا بجنت راہی
وصالش ناظم پاکیزہ جُستم
دوبارہ شد عیان نظم الٰہی ۱۰۳۶ھ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-nizamuddin-sabri-thanesri-balkhi
❤1
حضرت خواجہ فیض محمد شاہ جمالی چشتی نظامی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
نام و نسب:
عالمِ کبیر محدثِ جلیل خواجہ فیض محمد شاہ جمالی بن مولانا نور الدین علیہما الرحمہ ۔
تاریخِ ولادت:
16 ذیقعدہ 1290ھ 5 جنوری بمطابق 1874ء بروز جمعرات بوقتِ سحر اپنے وقت کے ممتاز عالم و عارف حضرت مولانا نور الدین علیہ الرحمتہ کے گھر قصبہ شاہ جمال (ڈیرہ غازی خان) میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
آپ نے ابتدائی تعلیم قر آنِ پاک اور ابتدائی درسی کتب اپنے والد گرامی سے حاصل کی، اس کے بعد علوم متد اولہ کی کتب حضرت مولانا نصیر بخش چشتی سے پڑھیں ۔ بعدازاں مولانا خلیل احمد (قصبہ روہیلا انوالی) ضلع مظفر گڑھ ،اور حضرت حافظ صاحب سیلا نوالی ضلع میانوالی سے دیگر کتب متداولہ اور درس حدیث شریف کی تحصیل و تکمیل کی ۔
بیعت و خلافت:
آپ حضرت خواجہ عبد الرحمن ملتانی چشتی نظامی علیہ الرحمہ کے دست حق پر بیعت سے سر فراز ہو ئے اور انہیں سے خرقہ خلافت حاصل کرکے صاحبِ ارشاد ہوئے ۔ اور حضرت خواجہ اللہ بخش تونسوی علیہ الرحمۃ نے بھی اُن کو خلافت عطا کی ۔
سیرت و خصائص:
آپ علیہ الرحمہ عالم باعمل، فاضل بے بدل، غوثِ یگانہ، مرشدِ زمانہ، پیکر علم و عرفان، محد ث و جد و پیمان، استاذ العلماء اور قدوۃ الاخیار ہیں ۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ ساری زندگی درس و تدریس، قال اللہ اور قال رسول اللہ ﷺ کا ورد فرماتے رہے ۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ اس علاقے میں رسول اللہ ﷺ کے سچے نائب، اور علومِ نبویہ کے وارثِ کامل تھے ۔ آپکی ساری زندگی اسوۂ رسول اللہ ﷺ کی پیکر تھی ۔ آپ کی تعلیم و تربیت اور رشد و ہدایت، وعظ ونصیحت ، اور مجالسِ خیر میں رسول اللہ ﷺ کے عشق و محبت کے جام پلائے جاتے تھے ۔ آپ اپنے مریدین و متوسلین اور عوامِ اہلسنت کوبد مذہبوں کی صحبت و مجالس سے سختی سے منع فرماتے تھے۔
حضرت مولانا مفتی محمد ظریف صاحب فیضی فرماتے ہیں:
ایک سال کا واقعہ ہے کہ مرشدنا حضرت قبلہ شاہجمالی "حاجی پور شریف" حضرت خواجہ نور محمد نارو والے علیہ الرحمہ کے عرس پہ تشریف لے گئے تو سجادہ نشین میاں اللہ ڈیوایا صاحب سے حضرت قبلہ شاہجمالی کی رہائش اور کھانے کا انتظام نہ ہو سکا، رات کو میاں اللہ ڈیوایا صاحب کو سرکارِ دو عالم ﷺ کے زیارت ہوئی، دیکھا کہ حضرت شاہجمالی سرکار ﷺ کے سامنے بیٹھے ہوئے ہیں ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جن کے صدقہ میں تمہیں سب کچھ مل رہا ہے ان سے بے پرواہی کی ہے؟" میاں اللہ ڈیوایا نے عرض کی یا رسول اللہ ﷺ! ان کے متعلق مولوی صاحبان(دیوبندی،وہابی) کہتے ہیں کہ یہ بدعتی ہے ،حضور اکرم ﷺ نے فرمایا : "جو مولوی ان پہ اعتراض کرتے ہیں وہ ان کے شاگردوں کے برابر بھی نہیں" ۔ (درج اللالی فی حیاتِ خواجہ شاہجمالی، ص:54)
وصال:
آپ کا وصال 8 رجب المرجب 1364 ہجری / 11 جون بمطابق 1945 بروز پیر کو ہوا، مزار پر انوار" سند یلہ شریف "ضلع ڈیرہ غازی خان میں مرجع خاص و عام ہے ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-faiz-muhammad-shah-jamali
نام و نسب:
عالمِ کبیر محدثِ جلیل خواجہ فیض محمد شاہ جمالی بن مولانا نور الدین علیہما الرحمہ ۔
تاریخِ ولادت:
16 ذیقعدہ 1290ھ 5 جنوری بمطابق 1874ء بروز جمعرات بوقتِ سحر اپنے وقت کے ممتاز عالم و عارف حضرت مولانا نور الدین علیہ الرحمتہ کے گھر قصبہ شاہ جمال (ڈیرہ غازی خان) میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
آپ نے ابتدائی تعلیم قر آنِ پاک اور ابتدائی درسی کتب اپنے والد گرامی سے حاصل کی، اس کے بعد علوم متد اولہ کی کتب حضرت مولانا نصیر بخش چشتی سے پڑھیں ۔ بعدازاں مولانا خلیل احمد (قصبہ روہیلا انوالی) ضلع مظفر گڑھ ،اور حضرت حافظ صاحب سیلا نوالی ضلع میانوالی سے دیگر کتب متداولہ اور درس حدیث شریف کی تحصیل و تکمیل کی ۔
بیعت و خلافت:
آپ حضرت خواجہ عبد الرحمن ملتانی چشتی نظامی علیہ الرحمہ کے دست حق پر بیعت سے سر فراز ہو ئے اور انہیں سے خرقہ خلافت حاصل کرکے صاحبِ ارشاد ہوئے ۔ اور حضرت خواجہ اللہ بخش تونسوی علیہ الرحمۃ نے بھی اُن کو خلافت عطا کی ۔
سیرت و خصائص:
آپ علیہ الرحمہ عالم باعمل، فاضل بے بدل، غوثِ یگانہ، مرشدِ زمانہ، پیکر علم و عرفان، محد ث و جد و پیمان، استاذ العلماء اور قدوۃ الاخیار ہیں ۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ ساری زندگی درس و تدریس، قال اللہ اور قال رسول اللہ ﷺ کا ورد فرماتے رہے ۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ اس علاقے میں رسول اللہ ﷺ کے سچے نائب، اور علومِ نبویہ کے وارثِ کامل تھے ۔ آپکی ساری زندگی اسوۂ رسول اللہ ﷺ کی پیکر تھی ۔ آپ کی تعلیم و تربیت اور رشد و ہدایت، وعظ ونصیحت ، اور مجالسِ خیر میں رسول اللہ ﷺ کے عشق و محبت کے جام پلائے جاتے تھے ۔ آپ اپنے مریدین و متوسلین اور عوامِ اہلسنت کوبد مذہبوں کی صحبت و مجالس سے سختی سے منع فرماتے تھے۔
حضرت مولانا مفتی محمد ظریف صاحب فیضی فرماتے ہیں:
ایک سال کا واقعہ ہے کہ مرشدنا حضرت قبلہ شاہجمالی "حاجی پور شریف" حضرت خواجہ نور محمد نارو والے علیہ الرحمہ کے عرس پہ تشریف لے گئے تو سجادہ نشین میاں اللہ ڈیوایا صاحب سے حضرت قبلہ شاہجمالی کی رہائش اور کھانے کا انتظام نہ ہو سکا، رات کو میاں اللہ ڈیوایا صاحب کو سرکارِ دو عالم ﷺ کے زیارت ہوئی، دیکھا کہ حضرت شاہجمالی سرکار ﷺ کے سامنے بیٹھے ہوئے ہیں ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جن کے صدقہ میں تمہیں سب کچھ مل رہا ہے ان سے بے پرواہی کی ہے؟" میاں اللہ ڈیوایا نے عرض کی یا رسول اللہ ﷺ! ان کے متعلق مولوی صاحبان(دیوبندی،وہابی) کہتے ہیں کہ یہ بدعتی ہے ،حضور اکرم ﷺ نے فرمایا : "جو مولوی ان پہ اعتراض کرتے ہیں وہ ان کے شاگردوں کے برابر بھی نہیں" ۔ (درج اللالی فی حیاتِ خواجہ شاہجمالی، ص:54)
وصال:
آپ کا وصال 8 رجب المرجب 1364 ہجری / 11 جون بمطابق 1945 بروز پیر کو ہوا، مزار پر انوار" سند یلہ شریف "ضلع ڈیرہ غازی خان میں مرجع خاص و عام ہے ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-faiz-muhammad-shah-jamali
❤2
حضرت خواجہ قاضی عاقل محمد چشتی رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسم گرامی: حضرت خواجہ قاضی عاقل محمد چشتی فاروقی رحمۃ اللہ علیہ ـ لقب: قاضی الحاجات، صاحب الروضہ ۔ صاحب الروضہ اس لئے کہتے ہیں کہ سب سے پہلے آپ نے ہی حضرت قبلۂ عالم علیہ الرحمہ کے روضۂ مقدسہ کی تعمیر کرائی تھی ۔ فاروقی النسل ہونے کی وجہ سے آپ "فاروقی" کہلاتے ہیں ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت قاضی محمد عاقل بن خواجہ مولانا محمد شریف بن محمد یعقوب بن مخدوم نور محمد بن محمد زکریا ۔ علیہم الرحمہ ۔ آپ فاروقی النسل ہیں، آپ کا سلسلۂ نسب حضرت فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ تک منتہی ہوتا ہے ۔ ان کے جد اعلیٰ میں سے شیخ مالک بن یحیٰ ہجرت کرکے سندھ آ گئے تھے ۔ انہیں سے پھر یہ سلسلہ آگے چلا ۔ سندھ میں قوم کو ریجہ سے رشتے داری ہونے کی وجہ سے "کُورِیجَہ" کہلاتے ہیں ۔ آپ کے جد امجد حضرت مخدوم نور محمد علیہ الرحمہ اپنے وقت کے ولی کامل، اور جید عالم دین تھے ۔ ان کے مدرسے اور خانقاہ کے لئے شاہ جہاں کے وزیر ارادت خان نے پانچ ہزار ایکڑ زمین بطور نذر دی تھی ۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 1149ھ / مطابق 1736ء کو "کوٹ مٹھن شریف" پنجاب پاکستان میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
سب سے پہلے قرآن مجید حفظ کیا اس کے بعد قراءت میں دِلچسپی لی اس کے حصول کے بعد اپنے والد ماجد مخدوم محمد شریف کے پاس درسی نصاب سے فراغت پائی ۔ حضرت خواجہ فخر الدین دہلوی سے بعض صوفیانہ کتب کا درس لیا اور خواجہ نور محمد مہاروی سے سند حدیث حاصل کی ۔
بعد فراغت کوٹ مٹھن میں ایک دینی درسگاہ کی بنیاد رکھی جس میں زندگی بھر درس و تدریس سے وابستہ رہے ۔ چولستان ریگستان میں جہالت کے خلاف سینہ سپر ہو کر علم کے چراغ اپنے خون پسینہ سے جلاتے رہے ۔ یہ مدرسہ ایک عام مدرسہ نہیں تھا بلکہ ایک یونیورسٹی تھی، جہاں تمام علوم وفنون کی تعلیم اور طلباء کو ماہانہ وظیفہ، اور اساتذہ کا بہترین قیام و طعام کے ساتھ مناسب مشاہرے کا انتظام بھی تھا ۔ اس مدرسے کے طالب علموں میں سے ایک طالب علم غوث زماں حضرت خواجہ شاہ محمد سلیمان تونسوی علیہ الرحمہ کی ذات گرامی بھی ہے ۔
بیعت و خلافت:
آپ سلسلہ عالیہ چشتیہ نظامیہ میں قبلۂ عالم حضرت خواجہ نور محمد مہاروی رحمۃ اللہ علیہ کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے، اور خلافت و اجازت سے مشرف ہوئے ۔
سیرت و خصائص:
منبع الحسنات، صاحبِ کمالات، قاضی الحاجات، حامیِ سنت، ماحیِ بدعت، مقتدائے اہل سنت، فخر زمانہ، امام الاولیاء، زبدۃ الاتقیاء، جامع شریعت و طریقت، حضرت خواجہ قاضی عاقل محمد چشتی فاروقی رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ علیہ الرحمہ ایک جید عالم دین اور صوفیِ باصفا تھے ۔ آپ کا خاندان علم و عمل، شرافت و دیانت، زہد و تقویٰ، اخلاص و محبت، صبر و رضا، توکل و غناء، سخاوت و عنایت اور دیگر صفاتِ عالیہ سے متصف چلا آ رہا ہے ۔ سب سے بڑھ کراس خاندان کا علمی ذوق اور علمی خدمات ہیں ۔ یہی علمی ذوق کوٹ مٹھن میں ایک بلند پایہ دار العلوم کی صورت میں ظاہر ہوا، جہاں علماء کی ایک کہکشاں افق دار العلوم پر روشن تھی، جس میں روشن ترستارہ خود قاضی محمد عاقل علیہ الرحمہ کی ذاتِ مبارکہ تھی ۔
ایک ایسا دار العلوم جہاں علم کے ساتھ عمل، فتویٰ کے ساتھ تقویٰ، عبارت کے ساتھ ریاضت، اور قیام و طعام کے ساتھ روحانی غذا کا بھی وافر حصہ ملتا تھا ۔ وہاں کے فاضلین میں ایک نام بحرِ بے کنار، فردِ وحید حضرت خواجہ غلام فرید علیہ الرحمہ کا بھی ہے ۔
شریعتِ مطہرہ کی پابندی کایہ عالم تھا، کہ یہ عالم بے بدل، جس قدر وابستۂ علم و حکمت تھا، اس سے بڑھ کر وارفتۂ شریعت تھا ۔ قاضی صاحب کے فیضان سے صرف جنوبی پنجاب ہی نہیں بلکہ پورا ہندوستان مستفیض ہوا ۔
جناب خلیق نظامی فرماتے ہیں:
آپ کے تبحر علمی، پابندی شرع، بزرگانہ شفقت، اخلاق و مروت، کا دور دور تک شہرہ تھا ۔ لوگ بڑی عقیدت سے ان کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے، یہ ان ہی کی کوششوں کا نتیجہ تھا کہ پنجاب کے نہایت دور افتادہ اور غیر معروف علاقوں میں مذہبی اور روحانی تعلیم کا چرچا ہونے لگا، اور ان کے خرمن کمال کے خوشہ چیں دور دور تک پھیل گئے ۔ (تذکرہ خواجگانِ تونسہ:83) ـ
نام و نسب:
اسم گرامی: حضرت خواجہ قاضی عاقل محمد چشتی فاروقی رحمۃ اللہ علیہ ـ لقب: قاضی الحاجات، صاحب الروضہ ۔ صاحب الروضہ اس لئے کہتے ہیں کہ سب سے پہلے آپ نے ہی حضرت قبلۂ عالم علیہ الرحمہ کے روضۂ مقدسہ کی تعمیر کرائی تھی ۔ فاروقی النسل ہونے کی وجہ سے آپ "فاروقی" کہلاتے ہیں ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت قاضی محمد عاقل بن خواجہ مولانا محمد شریف بن محمد یعقوب بن مخدوم نور محمد بن محمد زکریا ۔ علیہم الرحمہ ۔ آپ فاروقی النسل ہیں، آپ کا سلسلۂ نسب حضرت فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ تک منتہی ہوتا ہے ۔ ان کے جد اعلیٰ میں سے شیخ مالک بن یحیٰ ہجرت کرکے سندھ آ گئے تھے ۔ انہیں سے پھر یہ سلسلہ آگے چلا ۔ سندھ میں قوم کو ریجہ سے رشتے داری ہونے کی وجہ سے "کُورِیجَہ" کہلاتے ہیں ۔ آپ کے جد امجد حضرت مخدوم نور محمد علیہ الرحمہ اپنے وقت کے ولی کامل، اور جید عالم دین تھے ۔ ان کے مدرسے اور خانقاہ کے لئے شاہ جہاں کے وزیر ارادت خان نے پانچ ہزار ایکڑ زمین بطور نذر دی تھی ۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 1149ھ / مطابق 1736ء کو "کوٹ مٹھن شریف" پنجاب پاکستان میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
سب سے پہلے قرآن مجید حفظ کیا اس کے بعد قراءت میں دِلچسپی لی اس کے حصول کے بعد اپنے والد ماجد مخدوم محمد شریف کے پاس درسی نصاب سے فراغت پائی ۔ حضرت خواجہ فخر الدین دہلوی سے بعض صوفیانہ کتب کا درس لیا اور خواجہ نور محمد مہاروی سے سند حدیث حاصل کی ۔
بعد فراغت کوٹ مٹھن میں ایک دینی درسگاہ کی بنیاد رکھی جس میں زندگی بھر درس و تدریس سے وابستہ رہے ۔ چولستان ریگستان میں جہالت کے خلاف سینہ سپر ہو کر علم کے چراغ اپنے خون پسینہ سے جلاتے رہے ۔ یہ مدرسہ ایک عام مدرسہ نہیں تھا بلکہ ایک یونیورسٹی تھی، جہاں تمام علوم وفنون کی تعلیم اور طلباء کو ماہانہ وظیفہ، اور اساتذہ کا بہترین قیام و طعام کے ساتھ مناسب مشاہرے کا انتظام بھی تھا ۔ اس مدرسے کے طالب علموں میں سے ایک طالب علم غوث زماں حضرت خواجہ شاہ محمد سلیمان تونسوی علیہ الرحمہ کی ذات گرامی بھی ہے ۔
بیعت و خلافت:
آپ سلسلہ عالیہ چشتیہ نظامیہ میں قبلۂ عالم حضرت خواجہ نور محمد مہاروی رحمۃ اللہ علیہ کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے، اور خلافت و اجازت سے مشرف ہوئے ۔
سیرت و خصائص:
منبع الحسنات، صاحبِ کمالات، قاضی الحاجات، حامیِ سنت، ماحیِ بدعت، مقتدائے اہل سنت، فخر زمانہ، امام الاولیاء، زبدۃ الاتقیاء، جامع شریعت و طریقت، حضرت خواجہ قاضی عاقل محمد چشتی فاروقی رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ علیہ الرحمہ ایک جید عالم دین اور صوفیِ باصفا تھے ۔ آپ کا خاندان علم و عمل، شرافت و دیانت، زہد و تقویٰ، اخلاص و محبت، صبر و رضا، توکل و غناء، سخاوت و عنایت اور دیگر صفاتِ عالیہ سے متصف چلا آ رہا ہے ۔ سب سے بڑھ کراس خاندان کا علمی ذوق اور علمی خدمات ہیں ۔ یہی علمی ذوق کوٹ مٹھن میں ایک بلند پایہ دار العلوم کی صورت میں ظاہر ہوا، جہاں علماء کی ایک کہکشاں افق دار العلوم پر روشن تھی، جس میں روشن ترستارہ خود قاضی محمد عاقل علیہ الرحمہ کی ذاتِ مبارکہ تھی ۔
ایک ایسا دار العلوم جہاں علم کے ساتھ عمل، فتویٰ کے ساتھ تقویٰ، عبارت کے ساتھ ریاضت، اور قیام و طعام کے ساتھ روحانی غذا کا بھی وافر حصہ ملتا تھا ۔ وہاں کے فاضلین میں ایک نام بحرِ بے کنار، فردِ وحید حضرت خواجہ غلام فرید علیہ الرحمہ کا بھی ہے ۔
شریعتِ مطہرہ کی پابندی کایہ عالم تھا، کہ یہ عالم بے بدل، جس قدر وابستۂ علم و حکمت تھا، اس سے بڑھ کر وارفتۂ شریعت تھا ۔ قاضی صاحب کے فیضان سے صرف جنوبی پنجاب ہی نہیں بلکہ پورا ہندوستان مستفیض ہوا ۔
جناب خلیق نظامی فرماتے ہیں:
آپ کے تبحر علمی، پابندی شرع، بزرگانہ شفقت، اخلاق و مروت، کا دور دور تک شہرہ تھا ۔ لوگ بڑی عقیدت سے ان کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے، یہ ان ہی کی کوششوں کا نتیجہ تھا کہ پنجاب کے نہایت دور افتادہ اور غیر معروف علاقوں میں مذہبی اور روحانی تعلیم کا چرچا ہونے لگا، اور ان کے خرمن کمال کے خوشہ چیں دور دور تک پھیل گئے ۔ (تذکرہ خواجگانِ تونسہ:83) ـ
❤1
ایک مرتبہ اپنے پیر و مرشد قبلۂ عالم حضرت خواجہ نور محمد مہاروی رحمۃ اللہ علیہ کی زیارت کے لئے کوٹ مٹھن سے مہار شریف تشریف لے گئے، جب وہاں پہنچے تو معلوم ہوا کہ حضرت قبلۂ عالم تو اپنے شیخ حضرت مولانا خواجہ فخر جہاں دہلوی علیہ الرحمہ کی زیارت کے لئےدہلی تشریف لے گئے ہیں، آپ وہاں سے دہلی کی طرف روانہ ہو گئے، اور حضرت فخر جہاں دہلوی علیہ الرحمہ کے آستانے پہ حاضر ہوئے، اور ان کی زیارت سے مستفیض ہوئے ۔ جب علمی نشست قائم ہوئی تو حضرت خواجہ فخر جہاں آپ کی فصاحت و بلاغت، قوتِ استدلال، علمی ثقاہت سے بہت خوش ہوئے اور آپ کے علمی ذوق کی تحسین فرمائی ۔
آپ کی علمی رغبت اور مطالعے کے شوق کا مشاہدہ کرتے ہوئے چار کتابیں بطور تحفہ عنایت فرمائیں ۔ جن میں مکتوبات حضرت شیخ عبد القدوس گنگوہی، مطول معروف درسی کتاب، سواء السبیل، اور ایک مجموعہ کتب تھا ۔ جب وطن واپس آنے لگے تو حضرت فخر جہاں نے اپنے مرید قبلۂ عالم کو ارشاد فرمایا: "میاں صاحب! قاضی صاحب پر پہلے جو آپ شفقت کرتے تھے اپنی جانب سے کرتے تھے، اب ہماری جانب سے بھی ان پر کرم فرمائیں" ۔ (بہار چشت، ص:135) ـ
حضرت قاضی صاحب اپنے وقت کی بڑی قدر کرتے تھے، ان کا ایک ایک لمحہ یادِ خدا و خدمتِ دین مصطفیٰ ﷺ میں بسر ہوتا تھا ۔ آپ نماز باجماعت ادا فرماتے بعد نماز مغرب ذکر شریف میں مشغول ہوتے ۔ بعدِ فراغت کھانا تناول فرماتے اس کے بعد نمازِ عشاء ادا فرماتے ۔ اس کے بعد فقراء طالبان حق کے حلقہ قائم ہوتے جس میں باطنی تربیت کا سامان ہوتا ۔ آدھی رات کو اٹھ کر نمازِ تہجد ادا فرماتے ۔ اس کے بعد تلاوتِ قرآن مجید میں مشغول ہو جاتے ۔ نمازِ فجر تا نمازِ عصر مدرسہ کے طلباء کو درس دیتے تھے ۔ اس طرح شب و روز عبادت الہی میں مصروف رہتے تھے ۔ آپ انتہائی سخی تھے شب و روز لنگر جاری تھا ۔ مدرسہ کے تمام اخراجات خود برداشت کرتے تھے ۔
آپ فنا فی الرسول ﷺ کے مقام پر فائز تھے ۔ رسول اللہ ﷺ کی سنتوں سے بڑی محبت تھی، ہر فعل سنتِ رسول ﷺ کے مطابق ہوتا تھا ۔ یہی وجہ ہے کہ وصال سے تقریباً چھ ماہ قبل رسول اللہ ﷺ کے دیدار کی دولت سے مشرف ہوئے، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: "تو مارا بسیار خوش کر دی کہ ھمگین سنت ہائے مارا زندہ کر دے" ۔ یعنی میں تم سے بہت خوش ہوں کہ تم نے میری سنتوں کی حفاظت، اور ان کو نافذ کیا ہے ۔ جو مانگنا ہو مانگو: آپ نے عرض کی! یارسول اللہ ﷺ اللہ جل شانہ کی محبت اور آپ کی اطاعت کی بھیک مانگتا ہوں" ۔ (انسائیکلوپیڈیا اولیائے کرام، ص:113) ـ
مغل بادشاہ و شہزادے آپ کے نہایت عقیدت مند تھے ۔ آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کو بھی آپ سے انتہائی عقیدت تھی وہ اس عقیدت کا ایک شعر میں اظہار کرتے ہیں:
دل فدا کرتے ہیں نام فخر دیں پر اے ظفر
ہم ہیں عاقل ربط "عاقل" سے دلی رکھتے ہیں ہم
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 8 رجب المرجب 1229ھ / مطابق 25 جون 1814ء کو ہوا ۔ آپ کا مزار پر انوار " کوٹ مٹھن شریف " جنوبی پنجاب میں مرجعِ خلائق ہے ۔
ماخذ و مراجع:
بہار چشت ۔ انوار علمائے اہلسنت سندھ ۔ ہفت اقطاب ۔انسائیکلو پیڈیا اولیائے کرام ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-makhdoom-qazi-muhammad-aqil-farooqi-chishti
آپ کی علمی رغبت اور مطالعے کے شوق کا مشاہدہ کرتے ہوئے چار کتابیں بطور تحفہ عنایت فرمائیں ۔ جن میں مکتوبات حضرت شیخ عبد القدوس گنگوہی، مطول معروف درسی کتاب، سواء السبیل، اور ایک مجموعہ کتب تھا ۔ جب وطن واپس آنے لگے تو حضرت فخر جہاں نے اپنے مرید قبلۂ عالم کو ارشاد فرمایا: "میاں صاحب! قاضی صاحب پر پہلے جو آپ شفقت کرتے تھے اپنی جانب سے کرتے تھے، اب ہماری جانب سے بھی ان پر کرم فرمائیں" ۔ (بہار چشت، ص:135) ـ
حضرت قاضی صاحب اپنے وقت کی بڑی قدر کرتے تھے، ان کا ایک ایک لمحہ یادِ خدا و خدمتِ دین مصطفیٰ ﷺ میں بسر ہوتا تھا ۔ آپ نماز باجماعت ادا فرماتے بعد نماز مغرب ذکر شریف میں مشغول ہوتے ۔ بعدِ فراغت کھانا تناول فرماتے اس کے بعد نمازِ عشاء ادا فرماتے ۔ اس کے بعد فقراء طالبان حق کے حلقہ قائم ہوتے جس میں باطنی تربیت کا سامان ہوتا ۔ آدھی رات کو اٹھ کر نمازِ تہجد ادا فرماتے ۔ اس کے بعد تلاوتِ قرآن مجید میں مشغول ہو جاتے ۔ نمازِ فجر تا نمازِ عصر مدرسہ کے طلباء کو درس دیتے تھے ۔ اس طرح شب و روز عبادت الہی میں مصروف رہتے تھے ۔ آپ انتہائی سخی تھے شب و روز لنگر جاری تھا ۔ مدرسہ کے تمام اخراجات خود برداشت کرتے تھے ۔
آپ فنا فی الرسول ﷺ کے مقام پر فائز تھے ۔ رسول اللہ ﷺ کی سنتوں سے بڑی محبت تھی، ہر فعل سنتِ رسول ﷺ کے مطابق ہوتا تھا ۔ یہی وجہ ہے کہ وصال سے تقریباً چھ ماہ قبل رسول اللہ ﷺ کے دیدار کی دولت سے مشرف ہوئے، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: "تو مارا بسیار خوش کر دی کہ ھمگین سنت ہائے مارا زندہ کر دے" ۔ یعنی میں تم سے بہت خوش ہوں کہ تم نے میری سنتوں کی حفاظت، اور ان کو نافذ کیا ہے ۔ جو مانگنا ہو مانگو: آپ نے عرض کی! یارسول اللہ ﷺ اللہ جل شانہ کی محبت اور آپ کی اطاعت کی بھیک مانگتا ہوں" ۔ (انسائیکلوپیڈیا اولیائے کرام، ص:113) ـ
مغل بادشاہ و شہزادے آپ کے نہایت عقیدت مند تھے ۔ آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کو بھی آپ سے انتہائی عقیدت تھی وہ اس عقیدت کا ایک شعر میں اظہار کرتے ہیں:
دل فدا کرتے ہیں نام فخر دیں پر اے ظفر
ہم ہیں عاقل ربط "عاقل" سے دلی رکھتے ہیں ہم
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 8 رجب المرجب 1229ھ / مطابق 25 جون 1814ء کو ہوا ۔ آپ کا مزار پر انوار " کوٹ مٹھن شریف " جنوبی پنجاب میں مرجعِ خلائق ہے ۔
ماخذ و مراجع:
بہار چشت ۔ انوار علمائے اہلسنت سندھ ۔ ہفت اقطاب ۔انسائیکلو پیڈیا اولیائے کرام ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-makhdoom-qazi-muhammad-aqil-farooqi-chishti
scholars.pk
Hazrat Makhdoom Qazi Muhammad Aqil Farooqi Chishti
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
خلیفۂ اعلی حضرت ، عارف ربانی حضرت مولانا سید فتح علی شاہ قادری رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: سید فتح علی شاہ علیہ الرحمہ ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
شیخ المشائخ حضرت مولانا سید فتح علی شاہ بن سید امیر شاہ بن قیوم زمان شاہ ۔ (علیہم الرحمہ والرضوان) ـ
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 11 ربیع الاول 1296ھ / مطابق 1879ء کو "کھروٹہ سیداں" ضلع سیالکوٹ میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
آپ کے والد ماجد اور جدا امجد اپنے دور کے مقتدرفضلاء میں شمار کئے جاتے تھے ، آپ نے پرائمری پاس کرنے کے بعد درس نظامی کی ابتدائی کتابیں جد امجد سے پڑھیں پھرحضرت مولانا عبد الرحمن کوٹلوی (والد گرامی فقیہ اعظم مولانا محمد شریف کوٹلوی) سے فقہ و حدیث کا درس لیا، بعدازاں "جامعہ حنفیہ "گجرات میں مولانا محمد عبد اللہ سے اکتساب فیض کیا، کچھ عرصہ "جامعہ مولانا عبد الحکیم سیالکوٹی" میں رہے ۔پھر "مدرسہ منظر اسلام بریلی شریف "میں دورۂ حدیث کیا اور 1914ء میں سند حدیث حاصل کی ، 1917 میں"جامعہ طبیہ،دہلی" سے طب کی سند حاصل کی ۔
بیعت و خلافت:
1918ء میں دوبارہ بریلی شریف حاضر ہو کر سلسلۂ عالیہ قادریہ میں اعلیٰ حضرت امام احمد رضا بریلوی قدس سرہ سے بیعت ہوئے اور 1920ء میں اجازت و خلافت سے مشرف ہوئے۔
سیرت و خصائص:
شیخ المشائخ، عارفِ کامل، مجاہدِ اسلام، حامیِ دینِ متین، واقفِ شرع متین، غیظ المنافقین خلیفۂ اعلی حضرت مولانا سید فتح علی شاہ قادری رحمۃ اللہ علیہ ـ
آپ کا شمار اعلیٰ حضرت امامِ اہلِ سنت کے اجلہ خلفاء تلامذہ میں ہوتا ہے ۔ تکمیلِ علوم کے بعد اپنی زندگی تبلیغ اسلام کے لئے وقف کر دی ۔ آپ نے امامِ اہلِ سنت کی تعلیمات کو پنجاب، آزاد، وجموں کشمیر میں عام کیا ۔ ان علاقوں میں عوامِ اہلِ سنت تک اعلیٰ حضرت کی ذاتِ مبارکہ کو متعارف کرایا ۔ کہ اس صدی میں معیارِ حق امام احمد رضاخان علیہ الرحمہ ہیں ۔
بالخصوص ان علاقوں میں نائبِ اعلیٰ حضرت نے بدمذہبی وبدعقیدگی کے خلاف بند باندھا،اور عوامِ اہلِ سنت کے ایمان کو محفوظ کیا۔ 1926ء سے 1940ء تک سیالکوٹ چھاؤنی کی جامع مسجد میں فرائض خطابت انجام دیتے رہے اور فوجی جوانوں کے دلوں کو حب مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اور جذبۂ جہاد سے گرماتے رہے ۔ 1935ء میں" مسجد شہید گنج "کی تحریک میں امیرملت حضرت پیر سید جماعت علی شاہ قدس سرہ کی قیادت میں شاہی مسجد لاہور کے تاریخی اجلاس میں شریک ہوئے ۔
4 اکتوبر 1939ء کو مراد آباد میں حجۃ الاسلام مولانا حامد بریلوی قدس سرہ کی صدار ت میں" مو تمر العلماء" کا اجلاس ہوا ۔آپ علماء سیالکوٹ کےساتھ اس عظیم الشان اجلاس میں شریک ہوئے۔
اپریل 1946ء میں آل انڈیاسنی کانفرنس بنارس کے فقید المثال اجلاس میں شریک ہوئے ،قصبہ قصبہ، گاؤں گاؤں "نظریۂ پاکستان "کی تبلیغ کی اور قیام پاکستان کے بعد مہاجرین کی آباد کاری کے لئے زبردست جدو جہد فرمائی 1953ء میں سیالکوٹ میں "تحریک ختم نبوت" کو بڑی کامیابی سے چلایا ۔ الغرض یہ کہ ملک و ملت کی بہتری کے لئے جو تحریک بھی اٹھی ،حضرت شاہ صاحب نے دل و جان سے اس کے لئے کام کیا ۔
تاریخِ وصال:
8 رجب المرجب 1377ھ / مطابق 18 جنوری 1958ء کو آپ کا وصال ہوا ۔ " کھروٹہ سیداں " ضلع سیالکوٹ میں آپ کا مزار ہے ۔
ماخذ و مراجع: تذکرہ اکابرِ اہلِ سنت
https://scholars.pk/ur/scholar/khalifa-e-ala-hazrat-molana-syed-fatah-ali-shah-qadri
نام و نسب:
اسمِ گرامی: سید فتح علی شاہ علیہ الرحمہ ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
شیخ المشائخ حضرت مولانا سید فتح علی شاہ بن سید امیر شاہ بن قیوم زمان شاہ ۔ (علیہم الرحمہ والرضوان) ـ
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 11 ربیع الاول 1296ھ / مطابق 1879ء کو "کھروٹہ سیداں" ضلع سیالکوٹ میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
آپ کے والد ماجد اور جدا امجد اپنے دور کے مقتدرفضلاء میں شمار کئے جاتے تھے ، آپ نے پرائمری پاس کرنے کے بعد درس نظامی کی ابتدائی کتابیں جد امجد سے پڑھیں پھرحضرت مولانا عبد الرحمن کوٹلوی (والد گرامی فقیہ اعظم مولانا محمد شریف کوٹلوی) سے فقہ و حدیث کا درس لیا، بعدازاں "جامعہ حنفیہ "گجرات میں مولانا محمد عبد اللہ سے اکتساب فیض کیا، کچھ عرصہ "جامعہ مولانا عبد الحکیم سیالکوٹی" میں رہے ۔پھر "مدرسہ منظر اسلام بریلی شریف "میں دورۂ حدیث کیا اور 1914ء میں سند حدیث حاصل کی ، 1917 میں"جامعہ طبیہ،دہلی" سے طب کی سند حاصل کی ۔
بیعت و خلافت:
1918ء میں دوبارہ بریلی شریف حاضر ہو کر سلسلۂ عالیہ قادریہ میں اعلیٰ حضرت امام احمد رضا بریلوی قدس سرہ سے بیعت ہوئے اور 1920ء میں اجازت و خلافت سے مشرف ہوئے۔
سیرت و خصائص:
شیخ المشائخ، عارفِ کامل، مجاہدِ اسلام، حامیِ دینِ متین، واقفِ شرع متین، غیظ المنافقین خلیفۂ اعلی حضرت مولانا سید فتح علی شاہ قادری رحمۃ اللہ علیہ ـ
آپ کا شمار اعلیٰ حضرت امامِ اہلِ سنت کے اجلہ خلفاء تلامذہ میں ہوتا ہے ۔ تکمیلِ علوم کے بعد اپنی زندگی تبلیغ اسلام کے لئے وقف کر دی ۔ آپ نے امامِ اہلِ سنت کی تعلیمات کو پنجاب، آزاد، وجموں کشمیر میں عام کیا ۔ ان علاقوں میں عوامِ اہلِ سنت تک اعلیٰ حضرت کی ذاتِ مبارکہ کو متعارف کرایا ۔ کہ اس صدی میں معیارِ حق امام احمد رضاخان علیہ الرحمہ ہیں ۔
بالخصوص ان علاقوں میں نائبِ اعلیٰ حضرت نے بدمذہبی وبدعقیدگی کے خلاف بند باندھا،اور عوامِ اہلِ سنت کے ایمان کو محفوظ کیا۔ 1926ء سے 1940ء تک سیالکوٹ چھاؤنی کی جامع مسجد میں فرائض خطابت انجام دیتے رہے اور فوجی جوانوں کے دلوں کو حب مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اور جذبۂ جہاد سے گرماتے رہے ۔ 1935ء میں" مسجد شہید گنج "کی تحریک میں امیرملت حضرت پیر سید جماعت علی شاہ قدس سرہ کی قیادت میں شاہی مسجد لاہور کے تاریخی اجلاس میں شریک ہوئے ۔
4 اکتوبر 1939ء کو مراد آباد میں حجۃ الاسلام مولانا حامد بریلوی قدس سرہ کی صدار ت میں" مو تمر العلماء" کا اجلاس ہوا ۔آپ علماء سیالکوٹ کےساتھ اس عظیم الشان اجلاس میں شریک ہوئے۔
اپریل 1946ء میں آل انڈیاسنی کانفرنس بنارس کے فقید المثال اجلاس میں شریک ہوئے ،قصبہ قصبہ، گاؤں گاؤں "نظریۂ پاکستان "کی تبلیغ کی اور قیام پاکستان کے بعد مہاجرین کی آباد کاری کے لئے زبردست جدو جہد فرمائی 1953ء میں سیالکوٹ میں "تحریک ختم نبوت" کو بڑی کامیابی سے چلایا ۔ الغرض یہ کہ ملک و ملت کی بہتری کے لئے جو تحریک بھی اٹھی ،حضرت شاہ صاحب نے دل و جان سے اس کے لئے کام کیا ۔
تاریخِ وصال:
8 رجب المرجب 1377ھ / مطابق 18 جنوری 1958ء کو آپ کا وصال ہوا ۔ " کھروٹہ سیداں " ضلع سیالکوٹ میں آپ کا مزار ہے ۔
ماخذ و مراجع: تذکرہ اکابرِ اہلِ سنت
https://scholars.pk/ur/scholar/khalifa-e-ala-hazrat-molana-syed-fatah-ali-shah-qadri
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
07-07-1445 ᴴ | 19-01-2024 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
08-07-1445 ᴴ | 20-01-2024 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1