🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
زینت القراء قاری غلام محی الدین رضوی رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
اسم گرامی:
قاری غلام محی الدین رضوی ۔ لقب: زینت القراء ۔ والد کا اسم گرامی: حضرت حافظ قاری غلام جیلانی رضوی پیلی بھیتی ۔

ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت "پیلی بھیت" کےایک علمی گھرانےمیں ہوئی۔ آپ کی پیدائش کے وقت ولی کامل حضرت شاہ جی محمد شیرمیاں رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے لعاب دہن سے نوازا ، دعا دی اور فرمایا: کہ "یہ بچہ قران حکیم کا ماہر اور متجر عالمِ دین ہوگا"۔

تحصیل علم:
قاری غلام محی الدین نے دس سال کی عمر میں حفظ قرآن کرلیا اور لکھنؤ کے مدرسہ فرقانیہ میں داخلہ لے کر قاری محمد نذر سے تلمذ حاصل کیا اور بہت کم عمری میں آپ کا شمار مشاہیر قراء میں ہونے لگا۔ قرأت کی تکمیل کے بعد قاری غلام محی الدین نے مولانا وصی احمد محدث سورتی پیلی بھیتی علیہ الرحمۃ کے مدرسۃ الحدیث میں داخہ لیا، حضرت محدث سورتی نے آپ کو میزان شروع کراکے اپنے داماد امین الفتویٰ مولانا محمد شفیع رضوی، بیسلپوری کے سپرد کردیااوروہ خصوصی توجہ فرماتے تھے کیونکہ آپ نہایت ذہین اور حصول علم دین کی لگن سے سرشار تھے۔

حضرت قاری غلام محی الدین کا بیان ہے:کہ "میری بسم اللہ بھی حضرت محدث سورتی نے پڑھائی تھی اس لیے مجھے روز اوّل سے ہی حضرت محدث سورتی سے تلمذ کا شرف حاصل ہے"۔حضرت محدث سورتی علیہ الرحمہ کے وصال سے کچھ قبل قاری غلام محی الدین خیر آباد چلے گئے جہاں آپ نے مدرسہ نیازیہ میں معقول ومنقولات کی کتابیں پڑھیں اور مدرسہ عالیہ رام پور سے درسِ نظامیہ کی سند کی تکمیل حاصل کی۔

دورۂ حدیث شریف کے لیے بریلی شریف حاضر ہوئے اور حجۃ الاسلام مولانا محمد حامد رضا بریلوی سے شرف تلمذ حاصل کیا ۔قاری غلام محئ الدین کا بیان ہے فرماتے ہیں: میں واحد طالب علم تھا جس نے حضرت محدث سورتی سے کتابیں شروع کر کے ان کے ہی شاگرد عزیز مولانا امجد علی سے تکملہ کیا اور دستارِ فضیلت حاصل کی۔اساتذۂ کرام: حجۃ الاسلام حضرت مولانا مفتی حامد رضا بریلوی۔امام المحدثین حضرت مولانا وصی احمد محدث سورتی۔ صدالشریعہ حضرت مولانا محمد امجد علی رضوی اعظمی ۔والد ماجد حضرت حافظ قاری غلام جیلانی رضوی پیلی بھیتی۔ امین الفتویٰ حضرت مولانا محمد شفیع رضوی بیسلپوری۔حضرت مولانا حکیم محمد بشیر خاں مدفون گولڑہ شریف راولپنڈی ۔علیہم الرحمہ۔

بیعت و خلافت:
قاری غلام محی الدین نے حضرت شاہ جی محمد شیر میاں پیلی بھیتی کےہاتھ پر بیعت حاصل کی، اور حضور مفتی اعظم علامہ مولانا مصطفیٰ رضا نوری بریلوی قدس سرہ،اوروالد ماجد حضرت حافظ غلام جیلانی پیلی بھیتی نے اجازت وخلافت عطا فرمائی۔ پاک وہند میں قاری غلام محی الدین کے بیشمار مریدین موجود ہیں۔

سیرت و خصائص:
زینت القراء، فخرالقراء، عالم باعمل، شیخ کامل، فیض یافتہ حضرت شیر میاں، حضرت نوری میاں، حضرت قاری غلام محی الدین رضوی رحمۃ اللہ علیہ ۔ آپ علیہ الرحمہ بہترین قاری اور ایک جید عالم دین تھے ۔ ساری زندگی قرآن وسنت کے فروغ و اشاعت میں گزاری ۔ آپ ایک علمی خاندان کے چشم و چراغ تھے۔ آپ کے والد حافظ قاری غلام جیلانی علیہ الرحمۃ خطیب جامع مسجد پیلی بھیت ایک متجر عالم دین اور حضرت شاہ جی محمد شیر میاں کے خلیفہ تھے۔ پیلی بھیت اور گرد و نواح میں آپ کی شخصیت کو بڑے احترام کی نظر سے دیکھا جاتا تھا۔

خصوصاً اعلیٰ حضرت امام احمد رضا فاضل بریلوی قدس سرہٗ سے ایک خاص نسبت تھی۔ اور دونوں بزرگوں کے درمیان برادرانہ مراسم تھے۔ یہی وجہ ہے کہ اس خاندان کا آج بھی بریلی شریف ارو خاندانِ اعلی ٰحضرت سے روحانی رشتہ استوار ہے۔

مولانا قاری غلام محی الدین بیک وقت شیخ الحدیث، شاعر شیریں مقال، واعظ بے مثال، اور پیر طریقت تھے۔ آپ نے درس و تدریس کا آغاز اپنے بھائی حکیم حبیب الرحمٰن پیلی بھیتی کے قائم کردہ مدرسہ آستانہ شیریہ سے کیا۔ اور پھر دادوں ضلع علی گڑھ میں نواب احمد جان کے مدرسہ میں مدرس ہوئے۔ اور برسوں تشنگان علم کی پیاس بجھاتے رہے۔مولانا عبد الشاہد خاں شیروانی، (مصنف باغئ ہندوستان) مولانا مفتی مسعود علی قادری آپ کے نامور شاگرد ہیں۔ تمام خوبیوں کے ساتھ ایک اچھے شاعر بھی تھے۔ حمد و نعت اور منقبت آپ کا موضوعِ سخن رہا۔ قاری غلام محی الدین علیہ الرحمہ شعبان المعظم 1399ھ کو کراچی پاکستان تشریف لائےاور کچھ عرصہ قیام کے بعد واپس تشریف لائے۔ قاری غلام محی الدین نے اپنا مستقل مسکن ہلدوانی ضلع نینی تال کو بنالیا تھا اور وہیں پر ایک مدرسہ بنام اشاعت الحق قائم کیا۔ اس کےعلاوہ آپ پیلی بھیت میں بھی آستانہ شیریہ کو دیکھ بھال کا فریضہ انجام دیتے تھے۔

تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 7 رجب المرجب 1405ھ / مطابق 28 فروری 1985ء بروز جمعرات کو ہوا ۔ مزار شریف ہلدوانی ضلع نینی تال میں مرجع خلائق ہے۔

ماخذ و مراجع:
مفتی اعظم ہند اور ان کےخلفاء

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-qari-ghulam-mohiuddin-rizvi
3
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
حضرت ابو حفص عمرو بن اسحاق غزنوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

عمرو بن اسحٰق بن احمد غزنوی: ابو حفص کنیت،سراج الہندی لقب تھا۔ ۷۰۴ھ میں پیدا ہوئے، بڑے عالم فاضل، اصولی، مفسر، فقیہ، محدث، وسیع العلم، کثیر المہابۃ، ذی وجابت، شیخ الحنفیہ تھے۔

فقہ کو وجیہ رازی و سراج ثقفی اور زین بدایونی وگیرہ علمائے ہند سے ھاسل کیا اور حج کیا اور قاہرہ میں قاضی حنفیہ مقرر ہوئے۔ ابن ابی عجلہ کو ابن الفارض کے حق میں کلام کرنے کے باعث تعزیردی، لیکن صوفیوں سے تعصب رکھا کرتے تھے۔

وصال:
۷ رجب کی رات ۷۷۳ھ کو وفات پائی۔قرآن شریف کی ایک تفسیر آپ کی عمدہ تالیفات سے یادگار ہے۔’’ستارۂ زمین‘‘ تاریخ وفات ہے۔

حدائق الحنفیہ

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-abu-hafs-amr-bin-ishaq-ghaznavi
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
مؤرخ اہل سنت حضرت مولانا پیر غلام دستگیر نامی رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
اسم گرامی:
حضرت علامہ مولانا غلام دستگیر رحمۃ اللہ علیہ ۔ کنیت: ابو الافضل ۔ لقب: مؤرخ اہلسنت ۔ تخلص: نامی ۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت مولانا پیر غلام دستگیر نامی بن پیر حامد شاہ رحمہا اللہ تعالی۔آپ کانام نامی اسم گرامی محسن اہلسنت حضرت علامہ مولانا غلام دستگیر قصوری دائم الحضوری علیہ الرحمہ کےنام پررکھاگیا۔ آپ اپنےنام کےبارےمیں خودفرماتےہیں:

زادم و گشتم غلام دستگیر
من شدم نامی بنام دستگیر

بنام نیک مولانا قصوری
غلام دستگیر نام کر دند

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 23 جمادی الاخری 1300ھ / مطابق یکم مئی 1883ء بروز منگل، بوقت گیارہ بجے دن، اپنے نانا غلام محی الدین کے گھر "رتہ پیراں" ضلع شیخو پورہ پاکستان میں ہوئی ۔

تحصیل علم:
نومبر 1890ء میں مولانا کو مسجد ملا مجید محلہ چلہ بیبیاں لاہور میں مولانا محمد بخش بلبل برادر اکبر مولانا غلام دستگیر قصوری کے پاس قرآن مجید پڑھنے کے لئے بٹھایا گیا ، نومبر 1891ء میں آپ نے قرآن ختم کرلیا ، پھر والد ماجد نے اسلامیہ سکول کی برانچ واقع حویلی کا بلی مل کی دوسری جماعت میں دخل کرا دیا ۔ کچھ عرصہ بعد پیر حامد شاہ کا تبادلہ قصور ہو گیا چنانچہ مولانا نامی 1894ء کے درمیانی ربع میں گورنمنٹ اسکو ل میں پڑھتے رہے ، وہیں 11اکتوبر 1894ء میں آپ کے والد گرامی کا وصال ہو گیا اور آپ داغ یتیمی لیکر رتہّ پیراں چلے گئے ۔

1895ء میں آپ اسلامیہ سکول شیرا نوالہ گیٹ لاہور میں پانچویں جماعت میں داخل ہوئے اور 1903ء میں فرسٹ ڈویژن میں انٹرنس پاس کیا ، اسکول کی تعلیم کے دوران لاہور کےممتاز فضلاء مثلاً پروفیسر شجاع الدین صدر شعبۂ تاریخ دیال سنگھ کالج لاہورکے نانا محمد نجم الدین اور مولانا علامہ اصغر علی روحی سے اکتساب فیض کیا ، ان کے علاوہ دیگر متعد د اہل علم کے فیض صحبت سے مستفید ہوئے جن کی صحبت نے آپ کے ذوق علمی کو نکھار عطا کیا۔اسی طرح علماء سے استفادہ کرتے رہے۔

مولانا نامی نے کسی دینی درس گاہ میں باقاعدہ تعلیم حاصل نہیں کی تھی،لیکن اس کے با وجود اردو،فارسی اور انگریزی میں مہارت کے ساتھ ساتھ عربی سے بھی اچھی طرح آشنا تھے ، چونکہ قدرت نے آپ کو ابتداء سے ہی ذہانت و فطانت کے جوہر اعلیٰ سے نوازا تھا اس لئے بہت جلد بہترین مضمون نگار، مصنف، شاعر، تاریخ گو، ماہر قانون وراثت اور ماہر علم الانساب کی حیثیت سے مشہور ہو گئے۔

بیعت و خلافت:
آپ اپنے والد گرامی کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے، اور ان کے بعد سجادہ نشین منتخب ہوئے ۔

سیرت و خصائص:
مؤرخ اہل سنت، محسن اہل سنت، مصنفِ کتبِ کثیر، عارف اسرار ربانی حضرت علامہ مولانا پیر غلام دستگیر نامی رحمۃ اللہ علیہ ۔

آپ علیہ الرحمہ کو تاریخ و انساب پر کامل دسترس حاصل تھی ۔ اسکول کی تعلیم باقاعدہ حاصل فرمائی تھی، لیکن دینی تعلیم باقاعدہ کسی مدرسےمیں حاصل نہیں کی البتہ مختلف علمی شخصیات سے استفادہ کرتے رہے ۔ اسی طرح مطالعے کا بچپن سے شوق تھا، اسی مطالعے اور سچی لگن کی بدولت وقت کے عظیم مؤرخین اور ماہرین علم الانساب میں شمار ہونے لگے ۔

آپ لاہور کے قدیم علمی و روحانی خاندان سے تعلق رکھتے تھے ۔ آپ کے مورث اعلیٰ قطب العالم حضرت شیخ عبد الجلیل چوہڑ بندگی علیہ الرحمہ لاہور کے اولین مبلغ اسلام سہر وردی بزرگ ہیں جن کی بدولت پنجاب میں سلسلۂ عالیہ سہر وریہ کو بہت فروغ حاصل ہوا اور کئی قبائل مشرف بہ اسلام ہوئے۔ ان کے علاوہ اس خاندان میں اور بھی متعدد صاحب علم و فضل روحانی پیشوا ہوئے ہیں۔

مولانا نامی کو بچپن ہی سے اپنے خاندانی بزرگوں کے حالات،علمی کمالات اور نسب معلوم کرنے کا شو ق تھا ۔اس سلسلے میں آپ نے اپنے بزرگوں کے نادر مخطوطات اور دیگر کتب تاریخ کا بڑی دلچسپی سے مطالعہ کیا حتٰی کے تاریخی تجسس اور کتب بینی کا ذوق لازمی زندگی بن گیا ، بارہا رکاوٹیں پیدا ہوئیں مگر ہر بار آپ کے پہاڑ جیسے عزم و اسقلال سےٹکراکر پسپا ہوگئیں اور آپ کے تصنیف و تالیف اور مطالعہ کے ذوق میں بدستور اضافہ ہی ہوتا رہا۔ ملازمت کے زمانہ میں فارغ وقت تالیف اور مضامین نویسی میں صرف کرتے اور ریٹائرڈ ہونے کے بعد تو گویا آپ اس کام کے لئے وقف ہو گئے۔ آپ نے ایک سو سے زائد کتابیں اور رسائل لکھے جنہیں قدرو وقعت کی نگاہ سے دیکھا گیا۔

ان میں سے بعض تصانیف تو لازوال اہمیت کی حامل ہیں ۔ مختلف اخبارات و رسائل میں شائع ہونے والے مضامین کی تعداد ہزاروں تک پہنچتی ہے ۔جناب نامی کو شعر گوئی کا ملکہ ورثے میں ملاتھا ۔ابتداءً غزل نگاری کی جانب میلان تھا پھر نعت ، منقبت اور تاریخ گوئی سے لگاؤ پیدا ہو گیا، تاریخ گوئی میں آپ کو کمال حاصل تھا ، بلاشبہ آ پ نے اپنی زندگی میں ہزاروں منظوم تاریخیں کہی ہیں۔
2
شرفِ ملت حضرت علامہ عبدالحکیم شرف قادری علیہ الرحمہ فرماتےہیں: جب آپ شیخ عبدالجلیل بندگی علیہ الرحمہ کےمزارشریف کےاوقاف کےمتولی ہوئے توآپ نے اس ذمہ داری کو بڑی خوش اسلوبی سے نبھایا اور نہ صرف بزرگوں کے مزارات کی دیکھ بھال کی بلکہ ان کے علمی تبر کات کو شائع کر کے ہمیشہ کے لئے محفوظ کردیا،الغرض جناب نامی نے ایک پیر زادہ او مزارات کا متولی ہونے کی حیثیت سے وہ کارہائے نمایا ں انجام دئے کہ ان کا طرزعمل موجودہ دور کے بعض مشائخ کے لئے مشعل راہ کی حیثیت رکھتا ہے۔

تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 7 رجب المرجب 1381ھ / مطابق 16 دسمبر 1961ء کو ہوا ۔ آپ کی تدفین "رتہ پیراں" ضلع شیخو پورہ میں حضرت قلندر شاہ کے مزار کے احاطے میں ہوئی ۔

ماخذ و مراجع: تذکرہ اکابر اہلسنت ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-peer-ghulam-dastageer-nami
2💯1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
3
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
06-07-1445 ᴴ | 18-01-2024 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
07-07-1445 ᴴ | 19-01-2024 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1