🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت مولانا عبداللہ بہاری ٹونکی علیہ الرحمہ

آپ کے بزرگ عظیم آباد وصوبہ بہار کے تھے، وہاں سے ریاست ٹونک میں گور کھپوریوں کے محلہ میں آکر آباد ہوئے، یہیں آپ پیدا ہوئے، محمد عبداللہ نام رکھا گیا، والد کا نام شیخ صابر علی تھا ـ

ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد حضرت مولانا مفتی محمد لطف اللہ علی گڑھی سے درسیات پڑھی، مولوی احمد علی سہارن پوری سے حدیث کا دور کیا، مولانا فیض الحسن سہارنپوری سے ادبیات عربی حاصل کیا، محلہ مدرسہ عبد الرب دھلی سے تدریس کی ابتداء کی، بعہدٗ اور نٹیل کالج لاہور میں عربی کے پروفیسر ہوگئے، یہاں انجمن مستشار العلماء قائم کی، جو دارالافتاء کی حیثیت رکھتی تھی، ایک زمانہ تیک وہاں مقیم رہے، اس کے بعد مدرسہ عالیہ کلکتہ کے صدر مدرس ہوئے ـ

آپ اپنے استاذ مولانا فیض الحسن کی طرح عربی کے عمدہ ناظم و ناثر تھے،عربی درس گاہوں کی قدیم تعلیم کا بہترین نمونہ تھے، ہندوستان کے مشاہیر علماء میں آپ کا شمار ہوتا تھا، آپ کی تصانیف میں مندرجہ ذیل کتابوں کے نام مرتب اوراق کو معلوم ہو سکے ہیں،(۱) عجالۃ الراکب فی امتناع کذب الواجب یہ رسالہ آپ نے ۱۳۰۸ھ ۱۵ جمادی الاولیٰ میں مولوی محمود حسن صدر المدرسین دیوبند کے رسالہ جھد المقل کےجواب میں تحریر فرمایا، مولوی محمود حسن نےاپنی کتاب حضرت مولانا شاہ احمد حسن کان پوری کے رسالہ تنزیہ الرحمٰن عن تقدیس الرحمٰن کے جواب وردمیں لکھا تھا، اسی مبحث پر ۱۹ رمضان المبارک ۱۳۰۶ھ میں آپ نےمولوی محمود حسن دیوبندی سےلاہور میں مناظرہ کیا، اس مناظرہ میں مولوی محمود حسن کو سخت ذہت آمیر شکست ہوئی، آپ کے قاہر دلائل و سوالات سے وہ اتنےمرعوب ہوئے کہ ادھر اُدھر کی کہنےلگے ـ

(۲) تعلیقات المفتی ‘‘شرح مسلم المولوی حمداللہ کا حاشیہ شرح مسلم کے ساتھ مطبع اسلامیہ لاہور میں طبع ہوا ـ

(۳)عقد الدر فی جید نزھۃ النظر’’ نزہۃ النظر کاحاشیہ ہے، جو ۱۳۲۰ھ میں مطبع بھتبائی دہلی میں ۱۲۲صفحات میں طبع ہوا ـ

(۴)الکلام الرشیق ـ

وصال:
کلکتہ میں آپ پر فالج کا حملہ ہوا، وہاں سےبھوپال اپنے بیٹے مولوی انوار الحق ایم ۔ اے ناظم تعلیمات بھوپال و مرتب دیوان غالب نسخۂ حمیدیہ کے پاس چلے آئے اور کچھ مدت صاحب فراش رہ کر رجب میں ۷ نومبر۱۹۳۰ھ میں انتقال کیا، مولوی عبد الحئی صاحب نزہۃ الخواطر نےسال وفات ۱۳۳۹ھ لکھا ہے، جو ۱۵؍ستمبر ۱۹۲۰ء سے شروع ہو کر ۳ ستمبر ۱۹۲۱ء پر ختم ہوتا ہے، اس طرح انہوں نے پورے دس برس کا فرق کر دیا ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-abdullah-bihari-tonki
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
قاضی عزیز الدین ہکڑو رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

مولانا قاضی حکیم عزیز اللہ فقیر امان اللہ ہکڑو ، گوٹھ بٹھی ہکڑا تحصیل میرو خان ضلع لاڑکانہ میں تولد ہوئے۔

تعلیم و تربیت:
شہداد کوٹ کی عظیم دینی درسگاہ میں داخلہ لیا اور غوث الزمان مفتی اعظم استاد الاساتذہ حضرت علامہ الحاج خواجہ غلام صدیق شہداد کوٹی قدس سرہٗ سے نصابی کتب پڑھ کر فارغ التحصیل ہوئے۔

بیعت:
آپ عظیم صوفی بزرگ حضرت علامہ سید احمد خالد شامی قدس سرہ السامی (مدفون بمبئی انڈیا) سے دست بیعت تھے۔ اور حضرت مولانا حکیم سید عبدالغفار شاہ راشدی کے پیر بھائی اور گہرے دوست تھے۔ اسی نسبت سے آپ نے پیر صاحب عبدالغفار کی نماز جنازہ پڑھائی تھی۔ اس کا مطلب آپ ۱۹۶۱ء تک حیات تھے اس کے بعد آپ کا انتقا ل ہوا۔

شادی و اولاد:
دو شادیاں کیں ۔ پہلی بیوی سے ایک بیٹا مولوی حسن اللہ پیدا ہوا۔ دوسری بیوی سے تین بیٹیاں تولد اور دو بیٹے تولد ہوئے ۔

۱۔ اس اللہ: جس کا دس سال کی عمر میں انتقال ہوا۔

۲۔ امان اللہ جو کہ صاحب اولاد ہوئے

عادات و خصائل:
آپ کے پوتے احسان اللہ ہکڑو بن امان اللہ مرحوم کی روایت کے مطابق قاضی صاحب سیر و سفر کو پسند نہ کرتے تھے، اپنے گوٹھ میں زیادہ تر قیام کرتے تھے، شریعت مطہرہ کے پابند ، نماز ، روزہ، اوراد و وظائف کے پابند اور اپنے معمولات میں دن رات مشغول رہا کرتے تھے ۔ مطالعہ کے نہایت شائق تھے باہر سے کتب منگوا کر مطالعہ کرتے تھے۔

حکیم محمد مراد شیخ (صدیقی دواخانہ لاڑکانہ) نے بتایا کہ قاضی عزیز اللہ ہکڑو حکیم تھے ہمارے پنسار کی دکان پر دوائیں خریدنے تشریف لاتے تھے اور حاجی محمد سعید شیخ (مالک شیخ حاجی عنایت اللہ، کتب فروش اینڈ سنز ، لاڑکانہ) کے پاس اور ان کی بیٹھک میں قیام بھی کرتے تھے۔ ان کی گفتگو عالمانہ ہوتی تھی، انتہائی نیک صالح تہجد گزار، نرم خو، اکثر خاموش رہتے لیکن جب گفتگو کرتے تو دھیمی آواز میں بولتے، سفید لباس زیب رن ، سر پر سفید عمامہ شریف، جسم نحیف اور چہرہ نورانی تھا۔

وصال:
مولانا حکیم قاضی عزیز اللہ ہکڑو کے تدریس سے متعلق روایت تو نہ مل سکی لیکن قرائن سے یہ پتہ چلتا ہے کہ انہوں نے تدریس اور حکمت کے ذریعے انسانوں کی خدمت کرکے صحت مند معاشرہ بنانے میں کام کیا۔

بدھ کے روز قاضی صاحب گوٹھ والوں کے گھر گھر جاکر سب سے ملے ان سے کہا مجھ سے کوئی تکلیف پہنچی ہو تو معافی چاہتا ہوں، کسی کی رقم امانت رکھی ہوئی تھی تو واپس کردی، تمام حساب کتاب برابر کئے۔ اہل خانہ سے ملے سب پر شفقت محبت نچھاور کی نصیحت و وصیت کی، رات کو مولانا شاہ محمد ہکڑو کو بلوایا وہ آئے تو انہیں کہا کہ آج ہم سفر پر روانہ ہورہے ہیں۔

جمعرات کو صاف کپڑے پہننے کے بعد دوران وضو ۷ رجب المرجب ۱۴۰۰ھ/ مئی ۱۹۸۰ء کو تقریباً ستر سال کی عمر میں انتقال کیا۔ مولانا شاہ محمد ہکڑو نے وصیت کے مطابق نماز جنازہ کی امامت فرمائی اور گوٹھ بٹھی ہکڑو کے قبرستان میں تدفین عمل میں آئی۔

(حافظ عبدالستار نے قاضی مرحوم کے پوتے احسان اللہ سے مل کر معلومات حاصل کی فقیر نے دیگر مواد ملا کر مضمون ترتیب دیا ، فقیر دونوں حضرات کا مشکور ہے) ـ

( انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-qazi-azizuddin-hakro
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت میراں سید شاہ بھیکہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

حضرت میران شاہ بھیکہ شیخ وقت تھےاورقطب زماں تھے۔

حسب و نسب:
آپ کانسب نامہ پدری کئی واسطوں سےحضرت امام حسین پرمنتہی ہوتاہے۔۱؎پس آپ حسینی ہیں، آپ کا سلسلہ مادری سید زیدکے لشکر سے جا ملتا ہے ۔

خاندانی حالات:
سرورعال حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نےزیدکوجوآپ کےاجدادسےتھے،ہندوستان جانےکی بشارت دی۔حسب اشارت بربشارت حضرت زید مع متعلقین ترمذ سےہندوستان آئےاور سیانامیں قیام فرمایا۔سیاناکوایک برہمن رئیس نےاپنےنام پرآبادکیاتھااوروہی اس شہرکاحاکم تھا۔

حضرت زید نے معرکہ جنگ میں وفات پائی،ان کی وفات کےبعدسیدسلیمان نےسیاناپرچڑھائی کی۔ سیاناکوفتح کرنےکےبعداس کانام سیوانہ رکھا۔۱؎

والدماجد:
آپ کےوالدماجدکانام سیدیوسف ہے،وہ سیدقطب الدین کےصاحب زادےتھے۔

والدہ ماجدہ:
آپ کی والدہ ماجدہ کانام بی بی ملکوہے۔۲؎

ولادت:
آپ ۷ رجب ۱۰۴۶ھ کوپیداہوئے۔۳؎

نام:
آپ کانام محمدسعیدہے۔

کنیت:
آپ کی کنیت"میران سیدشاہ بھیکہ ہے"اورآپ اسی کنیت سے مشہورہیں۔

بچپن کا صدمہ:
آپ کی عمرجب سات سال کی ہوئی،آپ کےوالدنےجام شہادت نوش فرمایا۔

ترک سکونت:
آپ کےوالدکےانتقال کےبعدخاندانی جھگڑوں اوراہل خاندان کےحسدکےباعث آپ کی والدہ ماجدہ آپ کوہمراہ لےکرسیوانہ سےکہرام آئیں اورکہرام میں سکونت پذیرہوئیں۔

تیر عشق:
آپ کی والدہ نےکہرام پہنچ کرآپ کو ایک مکتب میں داخل فرمایا۔وہاں آپ کوایک ہندولڑکےسے محبت ہوگئی۔محبت چھپنےوالی چیزنہیں۔مکتب میں چرچاہونےلگا۔ایک دن مکتب کےلڑکوں نےاس ہندولڑکےکوملامت کی اوراسےکہاکہ فقیرکےلڑکےسےمحبت کرنامناسب نہیں ہے۔۴؎جب آپ کویہ معلوم ہواتوآپ کوان کایہ کہناناگوارگزرا۔آپ نےایک لڑکےکوجوسب کاسرغنہ تھا،ایسے زوردارطمانچہ ماراکہ اس کےجبڑے ٹوٹ گئے۔

سزا:
معلم کےپاس آپ کی شکایت گئی۔معلم نےآپ کومکتب سے نکال دیا۔

کھیل کود:
مکتب سے نام کٹ جانےکےبعدآپ نےلکھناپڑھناچھوڑدیا،دن بھرلڑکوں کےساتھ گلی کوچوں میں کھیلتے پھرتےتھے۔

غیبی امداد:
آپ اسی طرح گلی کوچوں میں کھیلتےپھرتےتھےکہ ایک دن شاہ جلال جوشاہ فاضل مجذوب کےبھائی تھے۔مریدوں کی تعلیم وتربیت کےواسطےکہرام میں تشریف لائے،انہوں نےآپ کودیکھ کرآپ کے متعلق دریافت فرمایا،جب ان کو یہ معلوم ہواکہ آپ سیدیوسف کےفرزند ہیں توان کوآپ سے ہمدردی پیداہوئی،بہت محبت سےآپ پیش آئے۔

انہوں نےآپ کوسمجھاتےہوئےفرمایا۔۵؎

"میاں صاحب زادے!یہ کھیل کودکانہیں ہے،یہ زمانہ لکھنےپڑھنےکاہے"۔

آپ نےجواب دیا۔

"اس سے قبل میں پڑھتاتھا،اب کیاکروں کہ معلم نےمجھ کومکتب سے نکال دیا"۔

حضرت شاہ جلال نےیہ سن کرآپ کی تسلی و تشفی کی اورآپ سےفرمایاکہ گھبرانےکی کوئی بات نہیں ہے،وہ ہرطرح کی سہولت پہنچانےکی کوشش کریں گےاورمعلم کو بھی آپ کی تعلیم کے متعلق ہدایت فرمائیں گے۔

اسی رات کوانہوں نےاپنے چارمریدوں کوہدایت فرمائی کہ وہ آپ کی ہرطرح کی خبرگیری کریں اور آپ کے خورد و نوش ،پوشش اورخرچ کاغذ وغیرہ کامعقول انتظام کریں اورآپ کی تعلیم سے کسی طرح کی غفلت نہ برتیں۔

آپ کوبلاکرحضرت شاہ جلال نےاپنےساتھ کھاناکھلایااورتھوڑاکھاناآپ کودیاکہ اپنی والدہ کوجاکر دیں،اس پرآپ نےشاہ جلال سے کہا۔

"ان کارزاق حق تعالیٰ ہے"۔

دوسرےدن علی الصبح حضرت شاہ جلال مٹھائی،کاغذ اورپوشاک لےکرآپ کےیہاں آئے،آپ سورہےتھے،آپ کوجگایا،کپڑےپہناکرآپ کومعلم کےپاس مکتب میں لےگئے۔

سفارش:
وہاں پہنچ کرانہوں نےمعلم سے فرمایاکہ۔

"تمہارےپاس ایک سفارش لےکرآیاہوں"۔

معلم سمجھ گیاکہ کس کی سفارش کےواسطےتشریف لائے ہیں۔اس نےشاہ جلال سے عرض کیا:

"جوکچھ آپ فرمائیں،دل و جان سےقبول ہے،لیکن سیدشاہ بھیکہ کےبارے میں سفارش نہ کریں"۔

اس پرشاہ جلال کو غصہ آیااورانہوں نےمعلم سے فرمایا:

"تومردودہےکہ پیرکےحکم سے سرتابی کرتاہے"۔

معلم نےمعافی مانگی اورحضرت شاہ جلال کاحکم بجالانےپرآمادہ ہوگیا۔

حضرت شاہ جلال نےمعلم کوتاکیدکرتےہوئےفرمایا:

"یہ تمہارےپاس قرآن مجید،گلستان اوربوستان پڑھیں گےاورکچھ ہی دنوں میں خلیفہ مکتب ہوجائیں گے"۔

حضرت شاہ جلال نےمعلم کےکان میں آہستہ سے کہاکہ۔

"تم نہیں جانتےہوکہ سیدزادہ قطب زمان ہے،تم کو چاہیےکہ اس کی خدمت خوب کرواوراس کی تعلیم میں کسی قسم کی غفلت یاتغافل نہ برتو"۔

تعلیم:
اسی روزسےمعلم نےآپ کی تعلیم پرخاص توجہ دی،آپ نےچھ مہینےمیں"کلام اللہ"،گلستاں" اور "بوستاں"ختم کرکےخلیفہ مکتب کےفرائض بحسن وخوبی انجام دئیے۔۶؎
1
معلمی:
کہرام کےایک شخص کاعہدہ فوجداری پرتقررہوا،جب وہ اپنےعہدہ کاچارج لینےکی غرض سے

کہرام سے روانہ ہواتواس نےاپنےلڑکےکی تعلیم کےواسطے آپ کواپنےہمراہ لیا۔۔۔۔کچھ عرصے تک آپ اس لڑکےکوپڑھاتے رہے،لیکن جب اس نےیہ دیکھاکہ آپ ہرمذہب و ملت کے فقیروں کےپاس جاتے ہیں اوران سے طالب ہوتےہیں،اس شخص کویہ خیال ہواکہ معرفت الٰہی کے شوق میں آپ ان فقیروں میں سے کسی کے ساتھ نہ چلےجائیں،اس لئےآپ کوآپ کی والدہ کے پاس کہرام پہنچادیا۔

ملوی میں قیام:
کہرام سےپندرہ کوس کےفاصلےپرموضع ملوی واقع ہے،وہاں ایک درویش مسمی بےنواشاہ قاسم رہتےتھے۔آپ ان کےپاس موضع ملوی چلےگئےاوروہاں قریب ایک سال قیام فرمایا،آپ کے سپرد خدمت تھی کہ بھاڑ کےلئےلکڑیاں جمع کیاکریں۔

ایک دن کا واقعہ ہےکہ بےنواشاہ قاسم نےاپنےگھرکی چھت پاٹنےکےلئے شہتیربنوایا،انہوں نے اپنےمریدوں سےاس شہتیرکےاٹھانےکےلئےفرمایا،وہ شہتیراتناوزنی تھاکہ کسی سےنہیں اٹھا، سب زورکرکےرہ گئے۔آپ نے اس شہتیرکوتن تنہااٹھاکردیوارپر رکھ دیا،وہ شہتیرکسی قدر چھوٹا تھا،آپ کاہاتھ لگنےسےوہ پوراہوگیا۔

یہ بات بےنواشاہ قاسم کےمریدوں کوناگوارگزری۔انہوں نےشکایت کی کہ وہ اتنےدنوں سے ہیں، انہیں کچھ حاصل نہیں ہوااورآپ کےمتعلق کہاکہ اس شخص کواتنی کم مدت میں صاحب تصرف کردیا۔

حضرت شاہ قاسم نےان لوگوں کواس طرح سمجھایاکہ۔۷؎

"قاسم حقیقی حق تعالیٰ ہے،یہ خود سیدزادہ ہیں،باپ داداان کےصاحب کمال تھے،مجھ کودخل اس میں نہیں ہے"۔

رخصت:
اتفاق سےبےنواشاہ قاسم کے پیر و مرشد بھی وہاں مقیم تھے، انہوں نےبےنواشاہ قاسم سےفرمایا کہ:

"ہم اورتم حوض صغیرکےہیں اورمیران جی ماننددریائےعظیم کےہیں،ان کی سیرابی ہم سے نہ ہوگی،ان کو رخصت کرو"۔

بےنواشاہ قاسم نےاپنےپیرومرشدکااشارہ پاک رخصت کیا۔

رہنمائی:
اب آپ کےسامنےسوال یہ تھاکہ کہاں جائیں۔۔شاہ بھاول نےآپ کی رہنمائی کی اورآپ سے حضرت شاہ ابوالمعالی کےپاس چلنےکوکہا،آپ نےشاہ بھاول کامشورہ قبول کیااورآپ اورشاہ بھاول اینٹہ روانہ ہوئے،جہاں حضرت شاہ ابوالمعالی رہتےتھے۔

بیعت:
جب اینٹہ کےقریب پہنچے،آپ ایک جگہ بیٹھ کرحقہ پینےلگےاورشاہ بھاول آپ سےپہلے حضرت شاہ ابوالمعالی کی خدمت میں حاضرہوئے۔

حضرت شاہ ابوالمعالی نےان سے پوچھا:

"رفیق کوکہاں چھوڑا"۔

انہوں نےعرض کیاکہ پیچھےآتےہیں۔

تھوڑی دیرکےبعدشاہ بھاول آپ کولینےکی غرض سے وہاں سے اٹھے،آپ راستہ میں مل گئے، دونوں باتیں کرتےہوئےحضرت شاہ ابوالمعالی کےپاس روانہ ہوئے۔راستے میں شاہ بھاول نےآپ کو بتایاکہ حضرت شاہ ابوالمعالی بہ طرف پائیں چارپائی پربیٹھے ہیں۔

آپ جب حضرت شاہ ابوالعالی کی خدمت میں حاضرہوئےتوانہوں نےآپ کودیکھتے ہی فرمایا:

"بیامیران۔من رفیق توکجاست یعنی حقہ"

(آؤ میرےمیران۔تمہارارفیق کہاں ہے،یعنی حقہ)

آپ نےعرض کیاکہ اس کو میں نےچھوڑدیا،اس وقت سے آپ نےحقہ پیناچھوڑدیا۔بعدازاں حضرت ابوالمعالی نےآپ کومریدکیا۔آپ کوتعلیم فرمائی اورذکرکی تلقین کی۔

واپسی:
آپ کےپیرومرشدنےآپ کورخصت کیا۔وہاں سے روانہ ہوکرآپ ملوی پہنچےاوروہاں تین دن بے ہوش رہے۔آپ کےمنہ سے کف جاری تھا۔تین دن کےبعدآپ کوہوش آیا۔

وہاں سےروانہ ہوکرآپ کہرام پہنچےاورمحمد فاضل قانون گوکی مسجدمیں رہنےلگے،کچھ عرصےاس میں قیام کیا،پھرایک دوسری مسجدمیں جوآپ کےمزارکےقریب ہے،رہناشروع کیا۔

آپ نےایک شخص سے کھانےکےواسطے فرمایا،وہ روزانہ آپ کےواسطےکھانالاتاتھا،لیکن آپ چھ سات روزکےبعدایک روٹی پانی میں ترکرکےتناول فرماتےتھے۔

کشف:
ایک دن آپ کوبذریعہ کشف معلوم ہواکہ آپ کےپیرومرشدحضرت شاہ ابوالمعالی کی داڑھی کا ایک بال بوریہ پر گراہے،آپ اس بال کولینےکی غرض سے اینٹہ آئے،تلاش کرکےوہ بال بوریہ پر سے اٹھاکراپنےپاس رکھا۔

آپ کےپیرومرشدکوآپ کی اس بات سے یہ خیال پیداہواکہ کہیں ایسانہ ہو کہ آپ اس قسم کی مکشوفات میں الجھ کررہ جائیں اورمقصد حقیقی سے دوررہ جائیں،چنانچہ آپ کےپیرومرشد نےآپ سے فرمایاکہ۔۸؎

"میران!یہ فقرنہیں ہے،فقردوسری چیزہے"۔

آپ کےپیرومرشدنےآپ کوایک مرغ مرغن تین روزتک بھون کرکھلایا،اس کےکھانےسے آپ کو صفائی قلب حاصل ہوئی،پھرانہوں نےآپ کو رخصت کیااورآپ کوخداکےساتھ مشغول

رہنےکی ہدایت فرمائی۔

پس آپ کہرام واپس آئےاوریادحق میں مشغول ہوئے۔
1
طلبی:
چنددنوں کےبعدآپ کےپیرومرشدنےآپ کوایک رقعہ بھیجا۔آپ کواینٹہ طلب فرمایاتھا۔آپ کثرت مجاہدہ،ریاضت اورکم کھانےاورکم سونےکی وجہ سے اتنےکمزورہوگئےتھےکہ آپ کا سفرکرنا دشوارتھا،چنانچہ آپ نےاپنےپیرومرشدکویہی لکھاتھاکہ کمزوری اتنی ہے کہ سفرکی ہمت نہیں،البتہ جلد ہی خدمت بابرکت میں حاضرہوں گے۔

آپ کےرقعہ کاجواب لےکرجب آدمی روانہ ہوگیاتوآپ کو خیال آیا کہ پیرومرشد کےبلانے پر ضرور جاناچاہیے۔اس خیال کےآتے ہی آپ اس آدمی کے پیچھےاینٹہ روانہ ہوگئےاورآفتاب غروب ہونےسے ذراپہلےآپ اینٹہ پہنچ کراپنےپیرومرشدکی قدم بوسی سےمشرف ہوئے۔

آپ کےپیرومرشدجےآپ سے دریافت فرمایاکہ کہرام سےکب چلےتھے۔

آپ نےسب قصہ بیان کیااورعرض کیاکہ آج ہی دوپہرکہرام سے روانہ ہوئے تھے۔پھرآپ کے پیرومرشدنےپوچھاکہ یہ توبتاؤ کہ دریاکس طرح پارکیا؟

آپ نےعرض کیا۔

"پانی کےاوپرچلاآیااورپاؤں میرے ترنہیں ہوئے"۔

سوال وجواب  ختم ہوئے،آپ کےپیرومرشدنےآپ کو رخصت کیااورآپ سےفرمایا۔۹؎

"اسباب ظاہرکی رعایت ضروری ہے"۔

عبادت و مجاہدہ:
اینٹہ سے کہرام واپس ہوتے ہوئے کشتی سے دریاپارکیا۔کہرام پہنچ کرعبادت و ریاضت و مجاہدہ میں مشغول ہوئے،رات کو کنویں پرایک تختہ بچھاکراس پربیٹھ کرعبادت کرتےاوراپنے نفس کو آگاہ کرتےکہ اگرسویاتوکنویں میں گرےگا،پوشاک کایہ حال تھاکہ پرانےکپڑے گلیوں میں سے اٹھاکر پانی سےدھوکراورسی کر پہنتے تھے۔

خرقہ خلافت:
آپ کےپیرومرشدنےرخصت کرتے وقت آپ کوہدایت فرمائی تھی کہ اینٹہ نہ آئیں،جب مناسب ہوگا،وہ خودہی کہرام آئیں گے۔کچھ عرصےکےبعدآپ کےپیرروشن ضمیرکہرام میں رونق افروزہوئےاورآپ کوپیراہن،کلاہ،جامہ اورچادرعنایت فرمائی۔

آپ نےبصد عاجزی عرض کیا۔۱۰؎

"بندہ کواس لباس کےپہننےکی لیاقت نہیں ہے"۔

آپ کے پیر و مرشد نے فرمایا کہ:
"میں کہتا ہوں اور تم عذر کرتے ہو"۔

بحکم پیرومرشدآپ نےوہ لباس پہنا،آپ کےپیرومرشدنےآپ کو خلافت سے سرفرازفرمایا۔

شاہی دربار سے تعلقات:
محمدشاہ کےعہدمیں ایک سال بارش نہ ہونےکی وجہ سے مخلوق بہت پریشان تھی۔بادشاہ کوآپ کانام بتایاگیاکہ اگرآپ دعاکریں تویقیناًبارش ہو۔محمدشاہ نےسرہندکےحاکم کےنام ایک فرمان جاری کیا، جس میں اس نےآپ کو دہلی لانے کی تاکیدکی اورایک عریضہ آپ کی خدمت میں بھیجا۔آپ نے معذرت چاہی،جس وقت آپ کوخط ملاوہاں خوب بارش ہوئی،محمدشاہ نےآپ کو نذرانہ بھیجا،جوآپ نے بہ مشکل قبول فرمایا۔

ایک مرتبہ محمدشاہ نےنواب روشن الدولہ کوآپ کی خدمت میں بھیجا،آپ کی خدمت میں کچھ مٹھائی اورکچھ کپڑے محتاجوں کوتقسیم کرنےکےلئےبھیجےاورآپ سے اس امرکی دعاچاہی کہ اس کی اولاد میں ہمیشہ سلطنت رہے۔آپ نےمراقبہ کیااورفرمایاکہ محمدشاہ کوحضرت نظام الدین اولیاء رحمتہ اللہ علیہ کی سفارش سلطنت ملی ہےاورحضرت نظام الدین اولیاءرحمتہ اللہ علیہ نےدوپشت سفارش کی تھی ،اس میں کس کی مجال کہ دخل دے۔

وفات:
آپ ۵ رمضان المبارک ۱۱۳۱ ھ کو واصل بحق ہوئے۔ مزار پر انوار کہرام میں حاجت روائے خلق ہے۔

خلفاء:
آپ کے بیالیس خلیفہ تھے، آپ کے مشہور خلفاءحسب ذیل ہیں۔۱۱؎

شاہ محمد باقر،شاہ نظام الدین،سید فاضل،سیدعبدالمومن،شیخ نعمت اللہ۔۔۔۔میاں شاہ اورنگ، خواجہ مظفر،غلام محمد،محمدافضل شاہ لطف اللہ جالندھری،سیدمحمد سالم ترمذی روپڑی۔

سیرت:
آپ اپنےوقت کےقطب تھے۔عبادت،ریاضت اورمجاہدہ میں مشغول رہتے تھے۔نذرانہ جو آتا، اس میں سےخادموں کےخرچ کےواسطے نکال کرباقی اپنے پیر و مرشد کوپیش کرتے،آپ کالنگرعام تھا۔
1
تعلیمات:
ایک مرتبہ آپ کی مجلس میں آیت کریمہ: لا یمسہ الا المطھرون ـ
کےمعنی ومضمرات پربحث شروع ہوئی۔ایک عالم جو وہاں موجودتھا،اس نےکہا کہ:

"اس جگہ معنی انشاء میں ہے (یعنی یہ ہیں چاہےکہ نہ چھوئیں قرآشریف کو،لیکن پاک لوگ"جو حدث اصغرسےپاک ہوں")۔

آپ نےیہ سن کرفرمایاکہ"کیاضرورت ہےکہ اخبارکومعنی انشاءمیں حمل کرین،یہ کیوں نہیں کہتے، مس نہیں کرے(قرآن وادراک معنی واسرارکےکو)مگرپاک لوگ(کہ پاک ہوں آلائش بشری سے"۱۲؎

آپ اپنےمریدوں کوآدھی رات سےزیادہ سونےکی اجازت نہیں دیتےتھے۔

فرمان:
پیر کو مرید شناسی چاہیے ۔

درود و وظیفہ:
آپ اپنےمریدوں کو ذکر اسم ذات جہر کے ساتھ تلقین کرتےتھے۔آپ فرماتے ہیں کہ۔

"فقیرکوچاہیے کہ ایک لاکھ مرتبہ ذکراسم ذات کیاکرکے،اگرچالیس مرتبہ ہرروزانہ کرے تواس کو لقمہ درویشی ودلق حرام ہے"۔

کشف و کرامات:
آپ کےپیرومرشدکےحجرےکی چھت خراب ہوگئی۔سب مریدوں نےچھت کی مرمت کی، لیکن  چھت ٹھیک نہیں ہوئی،آپ کےپیرومرشدنےمسکراکرفرمایاکہ "میران جی سے چھت درست ہوگی۔آپ اس زمانےمیں چلہ میں تھے۔آپ کوبلایاگیا۔آپ چلہ سے باہر آئےاورچھت درست کرنےمیں مصروف ہوئے۔آپ نےگھاس اکھاڑی،پھرمٹی اورپانی ڈال کرچھت کوکوٹنا شروع کیا،جتنی بارکوٹتےتھے،ہربارہرضرب پرایک مقام ظاہرہوتاتھا۔

آپ کاایک مریدموضع نوندھن میں رہتاتھا،اس کاایک لڑکاتھا،جس کی عمردس سال کی تھی۔ایک دن اس لڑکےکاانتقال ہوگیا،اتفاق سے اسی دن آپ اس موضع میں رونق افروزہوئے۔اس مریدکو جب یہ معلوم ہوا،آپ کواپنےگھرلایااورلڑکےکی نعش کوایک کوٹھری میں بندکردیا،جب آپ کے سامنےکھانالایاگیاتوآپ نےکھانےسے انکارکیااورفرمایا"جب تک اس کالڑکا نہ آئےگااورکھانانہ کھائےگا،آپ بھی کھانانہیں کھائیں گے۔مریدنےبہانہ کیااورعرض کیاکہ لڑکاکہیں کھیلتاہوگا، معلوم نہیں کب آئے۔اس کاانتظار بےکار،آپ نےفرمایاکہ جب بھی آئےگا،تب ہی کھاناکھائیں گے۔ اب اس مریدنے مجبورہوکرعرض کیاکہ"لڑکاآپ کےآنےسے دوساعت پہلےمرگیا، اس کی نعش کوٹھری میں رکھی ہے"آپ نے فرمایا "لڑکا مرا نہیں ہے، جاکر دیکھو، اگر سوتا ہوگا تو جگا کر لاؤ" وہ شخص جب کوٹھری میں گیاتودیکھاکہ لڑکاسانس لیتاہے،اس کو ہلایا،وہ اٹھ بیٹھا اوراپنےباپ کے ساتھ باہر آکرآپ کا قدم بوس ہوا۔

حواشی:
۱؎انوارالعارفین(فارسی)ص۴۱۳
۲؎انوارالعارفین(فارسی)ص۴۱۳
۳؎انوارالعارفین(فارسی)ص۴۱۳
۴؎ بستان معرفت ص۱۰۹
۵؎انوارالعارفین(فارسی)ص۴۱۴
۶؎انوارالعارفین(فارسی)ص۴۱۴
۷؎انوارالعارفین(فارسی)ص۴۱۵
۸؎انوارالعارفین(فارسی)ص۴۵
۹؎بستان معرفت ص۱۱۱
۱۰؎ انوارالعارفین (فارسی)ص۴۱۶
۱۱؎انوارالعارفین(فارسی)ص۴۱۶
۱۲؎انوارالعارفین(فارسی)ص۴۱۷
۱۳؎انوارالعارفین(فارسی)ص۴۱۷
۱۴؎انوارالعارفین(فارسی)ص۴۲۰،۴۱۴
۱۵؎ بستان معرفت ص۱۱۴

( تذکرہ اولیاءِ پاک و ہند )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-meeran-syed-shah-bheka
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
مظہر حق و صداقت ، حضرت مولانا مظہر حسن رضوی بدایونی علیہ الرحمہ

مہتمم مدرسہ قاسمیہ برکاتیہ محلہ ناگران بدایوں

ولادت:
مجاہد سنیت صوفی باصفا حضرت مولانا مظہر حسن قادری رضوی ۷؍ رجب المرجب ۱۳۵۵ھ کو کمالی حویلی محلہ ناگران بدایوں شریف میں پیدا ہوئے اور والدین کریمین نے پرورش فرمائی۔

مولانا مظہر حسن شیخ انصاری برادری سے تعلق رکھتے ہیں۔ تادمِ تحریر یہیں پر مولانا قیام پذیر ہیں۔

خاندانی حالات:
حضرت مولانا مظہر حسن کے والد ماجد ایک معزز خاندان میں پیدا ہوئے۔ ایک ایسا خاندان جس میں ایک ہی وقت میں متعدد حافظ قرآن دیکھنے میں آئے۔ آپ کے جد اعلیٰ خود قرآن پاک کے بہترین حافظ تھے۔ اسی وجہ مولانا مظہر حسن کے والد ماجد عہد طفلی سے ہی صوم و صلوٰۃ کے پابند وردینی کتب کے شائق، تبلیغ فی سبیل اللہ میں مشغول و منہمک رہتے تھے۔ تقویٰ وطہارت اس حد تک تھا کہ اخیر عمر تک اپنے گھر والوں کو نماز کی تلقین اور منکرات سے اجتناب کی تنبیہہ فرماتے رہے۔ اور خود بھی تاوقت اجل اپنی نماز کو ترک نہیں فرمایا۔ حتیٰ کہ شدت ضعف و نقاہت کی وجہ سے چارپائی پر لیٹے لیٹے ہی اشاروں سے نما ادا فرمائی۔

تسمیہ خوانی:
مولانا مظہر حسن رضوی کی عمر جب چار سال چار ماہ، چار دن کی ہوئی تو والد گرامی نے بسم اللہ خوانی کے لیے اعزاز واقرباء علماء وصوفیا کو بلایا۔ ان علماء وفضلا کے جھر مٹ میں بسم اللہ خوانی کی رسم حاجی امداد اللہ بدایونی رحمۃ اللہ علیہ نے ادا کی [1]۔

تعلیم و تربیت:
مولانا صوفی مظہر حسن کی تعلیم کا آغاز بسم اللہ خوانی کے بعد ہی سے ہوگیا۔ چونکہ آپ کو بچپن کے زمانے سے تعلیم کا شوق تھا۔ حاجی امداد اللہ بدایونی نے بہت محنت وشفت اور رافت سے قرآن پاک کا ناظرہ۔ مولانا بھی بہت ہی محنت اور لگن سے پڑھا۔ ختم قرآن پاک کے بعد اسکول میں داخلہ لیا۔ اور آٹھویں کلاس کے بعد والد ماجد نے دینی تعلیم کی رغبت دلائی۔

مولانا مظہر حسن کے والد ماجد نے درد نظامیہ کے علوم کی تحصیل کے لیے مدرسہ شمس العلوم گھنٹہ گھر بدایوں میں داخلہ کرادیا۔ ابتدائی کتب فارسی، عربی شمس العلوم بدایوں میں پڑھیں اور پھر مدرسہ ظہیر الاسلام بدایوں شریف میں حصول علم کےلیے چلے گئے۔ اسی درمیان کچھ ن اگفتہ بہ باتوں کی وجہ سے دوسری جگہ کا تعلیمی سفر طے کیا۔ بعدہٗ جامعہ اہلسنت بدر العلوم جسپورضلع نینی تال، مدرسہ بحرل العلوم بہیڑی ضلع بریلی شریف میں اکتساب فیض کیا۔ حدیث، تفسیر وغیرہ کی اعلیٰ کتابوں کے درس کے لیے دار العلوم منظر اسلام بریلی تشریف لائے۔

کافی عرصہ تک دار العلوم منظر اسلام ک ے ماہرین اساتذہ سے اکتساب علوم و فنون کرتے رہے۔ ۱۳۸۲ھ میں جلسہ دستار فضیلت کے عظیم الشان مجمع عام میں دستار فراغت سے نوازے گئے۔

اساتذۂ کرام:
۱۔ مفسر اعظم ہند مولانا محمد ابراہیم رضا جیلانی بریلوی
۲۔ حضرت مولانا مفتی محمد ابراہیم رضوی فریدی سمستی پوری
۳۔ حضرت علامہ مولانا احسان علی رضی محدث منظر اسلام
۴۔ حضرت مولانا مفتی محمد جہانگیر خاں رضوی فتحپوری
۵۔ حضرت مولانا عبدالتواب مہاجر مصری
۶۔ حضرت مولانا محمد محبوب بدایونی
۷۔ حضرت مولانا حاجی امداد اللہ بدایونی
۸۔ مولوی خلیل احمد خاں بجنوری ثم بدایونی

درس و تدریس اور خطابت:
مولانا مظہر حسن قادری فراغت کے بعد درس و تدریس میں مشغول ہوگئے۔ ۱۳۸۲ھ سے ۱۳۸۷ھ تک مسجد ایک مینارہ کراچی (پاکستان) میں امامت وخطابت اور تدریس کے فرائضانجام دیئے لگے۔ پھر پاکستان سے وطن مالوف تشریف لائے اور بعض اصحاب کے اصرار پر مدرسہ نور الاسلام شیر پور کلاں ضلع پیلی بھیت میں ۱۳۸۸ھ تک صدر مدرس کے اعلیٰ عہدے پر فائز رہے۔ بعد ہٗ مدرسہ رحمانیہ کھٹیمہ ضلع ن ینی تال میں ۱۳۹۰ھ تک فرائض درس وتدریس سر انجام دیتے رہے۔ مولانا مظہر حسن نے مذکورہ مدارس کی خدمت میں للٰہیت اور خلوص سے کام لیا ہے۔

بیعت و خلافت:
۲۲؍صفر المظفر ۱۳۸۲ھ کو مولانا مظہر حسن نے تاج العلماء مولانا سید اولاد رسول محمد میاں برکاتی مارہروی علیہ الرحمہ کے دست حق پرست پر بیعت واردات کا شرف حاصل کیا۔ ۱۸؍ذیقعدہ ۱۳۹۷ھ کو حضور مفتی اعظم الشاہ مصطفیٰ رضا بریلوی قدس سرہٗ نے سلسلہ قادریہ برکاتیہ رضویہ نوریہ میں اجازت وخلافت عطا فرمائی۔

مزید یرآں حضرت مولانا وجیہہ الدین رضوی پیلی بھیتی علیہ الرحمۃ اور جانشین مفتی اعظم فقیہہ الاسلام مفتی محمد اختر رضا خاں ازہری قادریہ بریلوی دامت برکاتہم القدسیہ نے جمیع سلاسل کی اجازت وخلافت سے سر فراز فرمایا۔

فتویٰ نویسی:
حضرت مولانا مظہر حسن نے باضابطہ ۱۳۸۳ سے فتویٰن ویسی کا آغاز کیا۔ اور سب سے پہلا فتویٰ مسئلہ طلاق پر تحریر فرمایا۔ آپ کے فتاویٰ کثیر تعداد میں ہیں جو ابھی نشنۂ طباعت ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے یہ دعا ہے کہ یہ ذخیرہ بہت جلد قوم کے سامنے آئے تاکہ امت مسلمہ سے فائدہ اٹھا سکے ۔
1
عقد مسنون:
مولانا مظہر حسن کا عقد مسنون ۲۸ شوال المکرم ۱۳۷۸ھ بروز چہار شنبہ مجلہ سید باڑہ بدایوں میں ایک باوقار خاندان ہوا۔۔۔۔ ماشاء اللہ آپ کے تین صاحبزادے اور ایک صاحبزادی ہے۔ جن کے اسماء درج ذیل ہیں۔

۱۔ مولانا صفدر حسن نوری فاضل الجامعۃ الاسلامیہ گنج قدیم رامپور (۱۴۱۰ھ؍ ۱۹۹۰ء)
۲۔ محمد منظر حسن نوری
۳۔ محمد اظہر حسن برکاتی
۴۔ صالحہ خاتون

سادگی:
مولانا مظہر حسن سادگی، تقویٰ وطہارت کے جمیل پیکر ہیں۔ بڑے عمدہ اخلاق، پاکیزہ صفات، شریف النفس انسان ہیں۔ آپ نے مسلک امام احمد رضا بریلوی کی اشاعت کے لیے اپنے کو وقف کردیا ہے۔ مولانا بلالوم ولائم کے تبلیغ دین متین میں سر گرم عمل ہیں۔

تالیفات و مرتبات:
مولانا مظہر حسن تحریری دنیا میں طبع آزمائی کی اور ایک گرانقدر ذخیرہ مہیا فرمایا ہے۔آپ کی تالیفی وتربیتی کتابیں مندرجہ ذیل ہیں۔

۱۔ اظہار حق
۲۔ پیغام حق
۳۔ فتاویٰ مظہر علی مذہب حنفی
۴۔ فضائل رمضان شریف
۵۔ حضور مفتی اعظم ہند قرآن وحدیث کی روشنی میں
۶۔ تاثرات و جذبات
۷۔ شرعی فیصلہ

مفتی اعظم کے متعلق:
حضرت مولانا مظہر حسن رضوی بدایونی حضور مفتی اعظم مولانا مصطفیٰ رضا نوری بریلوی قدس سرہٗ کی ادا کے متعلق راقم کے نام ایک تحریر میں فرماتے ہیں:۔

‘‘مجھے حضرت کی یہ ادا بہت پسند تھی کہ بحالت جلال کسی پر غبضاک ہوتے تو اس پر بہت جلد نسیم سحر کی طرح مشفق و مہربان ہوجایا کرتے تھے۔

نمونۂ کلام:
مولانا مظہر حسن کو شعر و سخن سے بھی شغف ہے۔ شاعری کے اُستاد جناب عابد حسین عابد ایونی ہیں۔ نمونہ کے طور پر چند شعر ملاحظہ ہوں؎

جھلک روئے انور کی اپنے دکھادے
نگاہوں سے ایک جام اپنی پلادے
گنہگار عاصی کا تو ہے سہارا
شفاعت سے اپنی مجھے بخشوادے
مری کشتئ غم لگا پارمولا
مدینے بلا سبز گنبد دکھادے
ہے دنیا عقبیٰ حقیقت میں اسکی
جسے اپنا دیوانہ مولابنالے
مظہرؔ کی تمنا ہے روضے کو دیکھ
مدینے میں مٹی ٹھکانے لگا دے

تلامذہ و خلفاء:
۱۔ مولانا محمد عثمان رضوی مظہری مظفر پوری
۲۔ مولانا عظیم الدین مظہری بھوجی پورا بریلی
۳۔ مولانا انوار کاں رضوی پیلی بھیتی
۴۔ حافظ نذراللہ پیلی بھیتی
۵۔ مولانا یعقوب حسین بدایونی
۶۔ حافظ حبیب الرحمٰن رضوی پیلی بھیتی
۷۔ حافظ حبیب الرحمٰن رضوی پیلی بھیتی
۸۔ حافظ شرف الدین رضوی مظہری خیر پور ضلع پیلی بھیت [2]

[1] ۔ حاجی امداد اللہ بدایونی جو اپنے عصر کے مشہور بزرگ تھے جن کا مزار پر انوار محلہ قبول پورہ بدایوں شریف میں آج بھی مرجع خلائق ہے۔ ۱۲،رضوی غفرلہٗ

[2] ۔ مکتوب گرامی حضرت مولانا مظہر حسن رضوی بدایونی ، بنام راقم محررہ ۲۲ فروری ۱۹۸۹ء ۱۲، رضوی غفرلہٗ

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-mazhar-hassan-rizvi-badayuni
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
زینت القراء قاری غلام محی الدین رضوی رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
اسم گرامی:
قاری غلام محی الدین رضوی ۔ لقب: زینت القراء ۔ والد کا اسم گرامی: حضرت حافظ قاری غلام جیلانی رضوی پیلی بھیتی ۔

ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت "پیلی بھیت" کےایک علمی گھرانےمیں ہوئی۔ آپ کی پیدائش کے وقت ولی کامل حضرت شاہ جی محمد شیرمیاں رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے لعاب دہن سے نوازا ، دعا دی اور فرمایا: کہ "یہ بچہ قران حکیم کا ماہر اور متجر عالمِ دین ہوگا"۔

تحصیل علم:
قاری غلام محی الدین نے دس سال کی عمر میں حفظ قرآن کرلیا اور لکھنؤ کے مدرسہ فرقانیہ میں داخلہ لے کر قاری محمد نذر سے تلمذ حاصل کیا اور بہت کم عمری میں آپ کا شمار مشاہیر قراء میں ہونے لگا۔ قرأت کی تکمیل کے بعد قاری غلام محی الدین نے مولانا وصی احمد محدث سورتی پیلی بھیتی علیہ الرحمۃ کے مدرسۃ الحدیث میں داخہ لیا، حضرت محدث سورتی نے آپ کو میزان شروع کراکے اپنے داماد امین الفتویٰ مولانا محمد شفیع رضوی، بیسلپوری کے سپرد کردیااوروہ خصوصی توجہ فرماتے تھے کیونکہ آپ نہایت ذہین اور حصول علم دین کی لگن سے سرشار تھے۔

حضرت قاری غلام محی الدین کا بیان ہے:کہ "میری بسم اللہ بھی حضرت محدث سورتی نے پڑھائی تھی اس لیے مجھے روز اوّل سے ہی حضرت محدث سورتی سے تلمذ کا شرف حاصل ہے"۔حضرت محدث سورتی علیہ الرحمہ کے وصال سے کچھ قبل قاری غلام محی الدین خیر آباد چلے گئے جہاں آپ نے مدرسہ نیازیہ میں معقول ومنقولات کی کتابیں پڑھیں اور مدرسہ عالیہ رام پور سے درسِ نظامیہ کی سند کی تکمیل حاصل کی۔

دورۂ حدیث شریف کے لیے بریلی شریف حاضر ہوئے اور حجۃ الاسلام مولانا محمد حامد رضا بریلوی سے شرف تلمذ حاصل کیا ۔قاری غلام محئ الدین کا بیان ہے فرماتے ہیں: میں واحد طالب علم تھا جس نے حضرت محدث سورتی سے کتابیں شروع کر کے ان کے ہی شاگرد عزیز مولانا امجد علی سے تکملہ کیا اور دستارِ فضیلت حاصل کی۔اساتذۂ کرام: حجۃ الاسلام حضرت مولانا مفتی حامد رضا بریلوی۔امام المحدثین حضرت مولانا وصی احمد محدث سورتی۔ صدالشریعہ حضرت مولانا محمد امجد علی رضوی اعظمی ۔والد ماجد حضرت حافظ قاری غلام جیلانی رضوی پیلی بھیتی۔ امین الفتویٰ حضرت مولانا محمد شفیع رضوی بیسلپوری۔حضرت مولانا حکیم محمد بشیر خاں مدفون گولڑہ شریف راولپنڈی ۔علیہم الرحمہ۔

بیعت و خلافت:
قاری غلام محی الدین نے حضرت شاہ جی محمد شیر میاں پیلی بھیتی کےہاتھ پر بیعت حاصل کی، اور حضور مفتی اعظم علامہ مولانا مصطفیٰ رضا نوری بریلوی قدس سرہ،اوروالد ماجد حضرت حافظ غلام جیلانی پیلی بھیتی نے اجازت وخلافت عطا فرمائی۔ پاک وہند میں قاری غلام محی الدین کے بیشمار مریدین موجود ہیں۔

سیرت و خصائص:
زینت القراء، فخرالقراء، عالم باعمل، شیخ کامل، فیض یافتہ حضرت شیر میاں، حضرت نوری میاں، حضرت قاری غلام محی الدین رضوی رحمۃ اللہ علیہ ۔ آپ علیہ الرحمہ بہترین قاری اور ایک جید عالم دین تھے ۔ ساری زندگی قرآن وسنت کے فروغ و اشاعت میں گزاری ۔ آپ ایک علمی خاندان کے چشم و چراغ تھے۔ آپ کے والد حافظ قاری غلام جیلانی علیہ الرحمۃ خطیب جامع مسجد پیلی بھیت ایک متجر عالم دین اور حضرت شاہ جی محمد شیر میاں کے خلیفہ تھے۔ پیلی بھیت اور گرد و نواح میں آپ کی شخصیت کو بڑے احترام کی نظر سے دیکھا جاتا تھا۔

خصوصاً اعلیٰ حضرت امام احمد رضا فاضل بریلوی قدس سرہٗ سے ایک خاص نسبت تھی۔ اور دونوں بزرگوں کے درمیان برادرانہ مراسم تھے۔ یہی وجہ ہے کہ اس خاندان کا آج بھی بریلی شریف ارو خاندانِ اعلی ٰحضرت سے روحانی رشتہ استوار ہے۔

مولانا قاری غلام محی الدین بیک وقت شیخ الحدیث، شاعر شیریں مقال، واعظ بے مثال، اور پیر طریقت تھے۔ آپ نے درس و تدریس کا آغاز اپنے بھائی حکیم حبیب الرحمٰن پیلی بھیتی کے قائم کردہ مدرسہ آستانہ شیریہ سے کیا۔ اور پھر دادوں ضلع علی گڑھ میں نواب احمد جان کے مدرسہ میں مدرس ہوئے۔ اور برسوں تشنگان علم کی پیاس بجھاتے رہے۔مولانا عبد الشاہد خاں شیروانی، (مصنف باغئ ہندوستان) مولانا مفتی مسعود علی قادری آپ کے نامور شاگرد ہیں۔ تمام خوبیوں کے ساتھ ایک اچھے شاعر بھی تھے۔ حمد و نعت اور منقبت آپ کا موضوعِ سخن رہا۔ قاری غلام محی الدین علیہ الرحمہ شعبان المعظم 1399ھ کو کراچی پاکستان تشریف لائےاور کچھ عرصہ قیام کے بعد واپس تشریف لائے۔ قاری غلام محی الدین نے اپنا مستقل مسکن ہلدوانی ضلع نینی تال کو بنالیا تھا اور وہیں پر ایک مدرسہ بنام اشاعت الحق قائم کیا۔ اس کےعلاوہ آپ پیلی بھیت میں بھی آستانہ شیریہ کو دیکھ بھال کا فریضہ انجام دیتے تھے۔

تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 7 رجب المرجب 1405ھ / مطابق 28 فروری 1985ء بروز جمعرات کو ہوا ۔ مزار شریف ہلدوانی ضلع نینی تال میں مرجع خلائق ہے۔

ماخذ و مراجع:
مفتی اعظم ہند اور ان کےخلفاء

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-qari-ghulam-mohiuddin-rizvi
3
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2