سجادہ نشین دام برکاتہٗ اندرون محلات سے نہایت تزک و احتشام کے ساتھ نماز جمعہ کے واسطے مسجد میں تشریف لاتے ہیں، اِس وقت مسجد گیلانیہ کے خطیب مولی حکیم محمد قطب الدین صاحب آلہ آبادی فاضلِ دیوبند ہیں۔ سلمہ اللہ۔
دار العلوم قادریہ:
یہ دار العلوم شروع سے ہی مخادیمِ گیلانیہ رحمۃ اللہ علیہ کے اہتمام سے جاری ہے، جامع مسجد گیلانی سے شرقی جانب، اور درگاہ شریف غوثیہ سے شمالی جانب دروازہ کے سامنے ہے، وسیع اور بلند گنبد ہے، اس کے دو دروازے ہیں، ایک جنوب کو جو درگاہِ غوثیہ کو سامنا ہے، دوسرا مشرق کو جو بازار میں ہے اس دروازہ پر یہ تاریخ تحریر ہے ’’رب العٰلمین فیاض‘‘ اور یہ بھی ہے، ’’استقلال دار العلوم قادریہ‘‘
اکثر طلبہ اس مدرسہ میں پڑھتے ہیں، جن ایام میں فقیر شرافت عافاہ اللہ درگاہِ غوثیہ میں معتکف رہا، اُن دنوں مندرجہ ذیل طالب علم پڑھتے تھے، مولوی عبد الغنی خوانندہ شرح عبد الغفور، مولوی محمد ظریف خوانندہ مشکوٰۃ شریف، مولوی رحیم بخش خوانندہ کتب حدیث، میاں فیض بخش، سید غلام محی الدین وغیرہم۔
خدامِ درگاہ:
زمانہ حاضرہ میں درگاہِ غوثیہ کے سجادہ نشین حضرت مخدوم سید حامد محمد شمس المدین ثامن گیلانی ہیں، اور مدار المہام وزارت پناہ سید غلام زین العابدین شاہ ہیں، سب کاروبار جاگیرات و انتظامِ خانگی و درگاہ شریف انہیں کے اہتمام سے ہو رہا ہے، اور خلفائے مقربین میں سے خلیفہ دائم خاں، اور خلیفہ واحد بخش، اور خلیفہ احمد بخش قابل شخص ہیں، اور منشیان میں سے منشی حسن بخش، اور منشی بقا محمد ہیں، مخدوم صاحب کے اتالیق مولوی غلام رسول صاحب بہاولپوری ہیں، جامع گیلانی کے امام اور مدرسہ قادریہ کے مدرس مولوی محمد قطب الدین آلہ آبادی ہیں، درگاہِ غوثیہ کے مجاوران خلیفہ قادر بخش، اور خلیفہ اللہ بچایا خاں ہیں، اور جاروب کش کا نام میاں حاجی، اور لانگری کا نام میاں پیارا ہے۔
لنگر شریف:
لنگر ہر ایک مسافر شب باش کو دو وقت ملتا ہے، رات کو شکر چاول اور دن کو دال روٹی، اور ہفتہ کے بعد ایک دن گوشت بھی ملتا ہے۔
عرس مبارک:
جو عُرس قمری تاریخ کو ہوتا ہے، و ساتویں محرم کو ہر سال ہوتا ہے اور جو میلہ شمسی تاریخ کو ہوتا ہے، وہ ہر سال ماہِ چیت کے اندر چاروں جمعہ کے دن ہوتا ہے، خصوصًا آخری جمعہ کو بہت ہجوم ہوتا ہے، میلہ کے دنوں میں گوشت روٹی کا لنگر ملتا ہے۔
قطعہ تاریخ:
از حضرت مولانا شاہ غلام مصطفٰے صاحب نوشاہی دام برکاتہٗ
چو حضرت شاہ محمد غوث اوچی رفت درجنت
چو نوشاہی زہاتف جست تاریخ ولی گفتا
بقربِ غوثِ اعظم یافت منزل خوب سلطانی
بگو محبوب سبحانی و گیلانی(۹۳۳) ولی ثانی
منہ
چوں ز دنیا شاہ محمد غوث رفت
انتقال پیر نو شاہی چو جست
درجناں فائز بشد پیرِ منیر
گفت ہاتف۔ پیر زاہد (۹۲۳) دستگیر
منہ
جناب شاہ محمد غوث حسنی
منور گشت نوشاہی از و خُلد
ز دنیا رفت درجنت بہ ابرار
سرو شم گفت رحلت قطبِ اخیار(۹۲۳)
منہ
چوں رفت پیر ازما اعلیٰ بیافت جنت
تاریخِ رحلت او گفتم۔ شہِ حقیقت (۹۲۳)
منہ
بجنات چوں رفت شاہ بے ملال
ز۔ مخدومِ (۹۲۳) عالم محمد۔ وصال
منہ
رحلتِ شاہ ولی مادری
ہادیٔ زہّاد (۹۲۳) شاعر قادری
منہ
بے سر اندیشہ نوشاہی بگفت
شیخ اچی (۹۲۳) گوہر تاریخ سُفت
دیگر
از اسماء الحسنیٰ
قابض ودود (۹۲۳)
قابض ھادی (۹۲۳)
قابض بدوح (۹۲۳)
خبیر اعلٰی (۹۲۳)
خبیر عالی (۹۲۳)
خبیر کافی (۹۲۳)
خیر باقی (۹۲۳)
اٰخر معبود (۹۲۳)
متکبر اکرم (۹۲۳)
ستار اکرام (۹۲۳)
منتقم صابر (۹۲۳)
مستعان بصیر (۹۲۳)
باعث نصیر (۹۲۳)
رشید توّاب (۹۲۳)
( شریف التواریخ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-muhammad-ghaus-gilani
دار العلوم قادریہ:
یہ دار العلوم شروع سے ہی مخادیمِ گیلانیہ رحمۃ اللہ علیہ کے اہتمام سے جاری ہے، جامع مسجد گیلانی سے شرقی جانب، اور درگاہ شریف غوثیہ سے شمالی جانب دروازہ کے سامنے ہے، وسیع اور بلند گنبد ہے، اس کے دو دروازے ہیں، ایک جنوب کو جو درگاہِ غوثیہ کو سامنا ہے، دوسرا مشرق کو جو بازار میں ہے اس دروازہ پر یہ تاریخ تحریر ہے ’’رب العٰلمین فیاض‘‘ اور یہ بھی ہے، ’’استقلال دار العلوم قادریہ‘‘
اکثر طلبہ اس مدرسہ میں پڑھتے ہیں، جن ایام میں فقیر شرافت عافاہ اللہ درگاہِ غوثیہ میں معتکف رہا، اُن دنوں مندرجہ ذیل طالب علم پڑھتے تھے، مولوی عبد الغنی خوانندہ شرح عبد الغفور، مولوی محمد ظریف خوانندہ مشکوٰۃ شریف، مولوی رحیم بخش خوانندہ کتب حدیث، میاں فیض بخش، سید غلام محی الدین وغیرہم۔
خدامِ درگاہ:
زمانہ حاضرہ میں درگاہِ غوثیہ کے سجادہ نشین حضرت مخدوم سید حامد محمد شمس المدین ثامن گیلانی ہیں، اور مدار المہام وزارت پناہ سید غلام زین العابدین شاہ ہیں، سب کاروبار جاگیرات و انتظامِ خانگی و درگاہ شریف انہیں کے اہتمام سے ہو رہا ہے، اور خلفائے مقربین میں سے خلیفہ دائم خاں، اور خلیفہ واحد بخش، اور خلیفہ احمد بخش قابل شخص ہیں، اور منشیان میں سے منشی حسن بخش، اور منشی بقا محمد ہیں، مخدوم صاحب کے اتالیق مولوی غلام رسول صاحب بہاولپوری ہیں، جامع گیلانی کے امام اور مدرسہ قادریہ کے مدرس مولوی محمد قطب الدین آلہ آبادی ہیں، درگاہِ غوثیہ کے مجاوران خلیفہ قادر بخش، اور خلیفہ اللہ بچایا خاں ہیں، اور جاروب کش کا نام میاں حاجی، اور لانگری کا نام میاں پیارا ہے۔
لنگر شریف:
لنگر ہر ایک مسافر شب باش کو دو وقت ملتا ہے، رات کو شکر چاول اور دن کو دال روٹی، اور ہفتہ کے بعد ایک دن گوشت بھی ملتا ہے۔
عرس مبارک:
جو عُرس قمری تاریخ کو ہوتا ہے، و ساتویں محرم کو ہر سال ہوتا ہے اور جو میلہ شمسی تاریخ کو ہوتا ہے، وہ ہر سال ماہِ چیت کے اندر چاروں جمعہ کے دن ہوتا ہے، خصوصًا آخری جمعہ کو بہت ہجوم ہوتا ہے، میلہ کے دنوں میں گوشت روٹی کا لنگر ملتا ہے۔
قطعہ تاریخ:
از حضرت مولانا شاہ غلام مصطفٰے صاحب نوشاہی دام برکاتہٗ
چو حضرت شاہ محمد غوث اوچی رفت درجنت
چو نوشاہی زہاتف جست تاریخ ولی گفتا
بقربِ غوثِ اعظم یافت منزل خوب سلطانی
بگو محبوب سبحانی و گیلانی(۹۳۳) ولی ثانی
منہ
چوں ز دنیا شاہ محمد غوث رفت
انتقال پیر نو شاہی چو جست
درجناں فائز بشد پیرِ منیر
گفت ہاتف۔ پیر زاہد (۹۲۳) دستگیر
منہ
جناب شاہ محمد غوث حسنی
منور گشت نوشاہی از و خُلد
ز دنیا رفت درجنت بہ ابرار
سرو شم گفت رحلت قطبِ اخیار(۹۲۳)
منہ
چوں رفت پیر ازما اعلیٰ بیافت جنت
تاریخِ رحلت او گفتم۔ شہِ حقیقت (۹۲۳)
منہ
بجنات چوں رفت شاہ بے ملال
ز۔ مخدومِ (۹۲۳) عالم محمد۔ وصال
منہ
رحلتِ شاہ ولی مادری
ہادیٔ زہّاد (۹۲۳) شاعر قادری
منہ
بے سر اندیشہ نوشاہی بگفت
شیخ اچی (۹۲۳) گوہر تاریخ سُفت
دیگر
از اسماء الحسنیٰ
قابض ودود (۹۲۳)
قابض ھادی (۹۲۳)
قابض بدوح (۹۲۳)
خبیر اعلٰی (۹۲۳)
خبیر عالی (۹۲۳)
خبیر کافی (۹۲۳)
خیر باقی (۹۲۳)
اٰخر معبود (۹۲۳)
متکبر اکرم (۹۲۳)
ستار اکرام (۹۲۳)
منتقم صابر (۹۲۳)
مستعان بصیر (۹۲۳)
باعث نصیر (۹۲۳)
رشید توّاب (۹۲۳)
( شریف التواریخ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-muhammad-ghaus-gilani
❤2
حضرت شیخ عبد الکریم چشتی صابری لاہوری
نا م و نسب:
اسم گرامی: شیخ عبد الکریم چشتی صابری ۔ لقب: شیخ الاولیاء والعلماء ۔
سلسلۂ نسب:
شیخ عبد الکریم چشتی صابری بن شیخ الاسلام مخدوم المُلک عبد اللہ انصاری ۔ خاندانی تعلق قبیلہ انصار سے تھا ۔
آپ اپنے وقت کے جید عالم و عارف باللہ تھے۔ہمایوں بادشاہ نے شیخ عبد اللہ انصاری کو ان کی عظیم خدمات کے پیش نظر ’’ شیخ الاسلام، اورمخدوم المُلک‘‘ کا خطاب دیا تھا۔آپ تمام عمر کفر و الحاد کے خلاف معرکہ آراء رہے۔(تذکرہ اولیائے لاہور،ص355) ۔
اللہ تعالیٰ نےشیخ کو دولتِ علم و عرفان کے ساتھ ساتھ ظاہری مال و متاع سےبھی خوب نوازا تھا۔لیکن اس کے باوجود آپ نےساری زندگی فقیرانہ گزاری،ا ور دین کی خدمت میں مصروف عمل رہے، بلکہ آپ کی اولاد بھی آپ کے طریقے پرقائم رہی۔آپ کی حق گوئی و بےباکی اور کفر و الحاد اور بالخصوص ’’دین اکبری‘‘ کے خلاف جہادپر ’’اکبر بادشاہ‘‘ نے آپ کو ملک بدرکردیاتھا۔آپ حرمین شریفین چلے گئے تھے۔پھر ہندوستان واپس آئے تو آپ کو زہر دے کرشہید کردیا گیا۔ (تذکرہ اولیائے لاہور، ص356/ خزینۃ الاصفیاء، ص423)
تحصیل علم:
حضرت شیخ عبد الکریم چشتی لاہورینے اپنے والد گرامی شیخ عبد اللہ انصاری سے تمام علوم عقلیہ و نقلیہ کی تحصیل و تکمیل کی۔آپ کو علوم میں مہارت تامہ حاصل تھی۔خصوصی شغف قرآن و حدیث اور تفسیر و فقہ سےتھا۔
بیعت و خلافت:
سلسلہ عالیہ چشتیہ صابریہ میں قطبِ وقت حضرت شیخ نظام الدین بلخی چشتی صابری سے بیعت ہوئے، اور مجاہدات و ریاضات کے بعد اجازت و خلافت سے مشرف ہوئے۔(اقتباس الانوار،ص727)
سیرت و خصائص:
امام الاولیاء والعلماء، سند الاتقیاء، صاحبِ علم و عرفاں، محدث وجد و پیماں،حضرت شیخ حاجی عبد الکریم چشتی صابری لاہوری۔آپجامع علوم عقلیہ ونقلیہ تھے۔ سلسلہ عالیہ چشتیہ صابریہ کے فروغ میں آپ کا بہت بڑا کردارہے۔ساری زندگی علم و عرفاں کی آب یاری فرمائی۔ آپایک بہترین مدرس تھے۔آپ کا اکثر وقت درس و تدریس اورتصنیف و تالیف میں بسر ہوتا تھا۔آپ نے ورودِ لاہور کےبعد سب سے پہلے ایک دارالعلوم قائم فرمایا۔ خانقاہ اور دارالعلوم ایک ساتھ تھا۔دارالعلوم اور خانقاہ ’’نواں کوٹ‘‘ لاہور میں افضل خان علامی کے باغ میں تھا۔نواں کوٹ میں ہی آپ کا مزار ہے۔
حج کی سعادت:
جس زمانے میں اکبر بادشاہ نے آپ کے والد گرامی کو ہندوستان سے ملک بدر کردیا تھا۔ تو آپ کے والد گرامی آپ کو اپنے ہمراہ لےکر مکہ مکرمہ چلے گئے اور کافی عرصہ تک وہاں سکونت پذیر رہے اس دوران آپ نے مکہ مکرمہ میں حج کی سعادت بھی حاصل کی۔ اس کے بعد آپ واپس ہندوستان اپنے والد گرامی کے ہمراہ تشریف لے آئے۔مگر اس کے کچھ عرصہ بعد آپ کے والد گرامی کو زہر دے کر شہید کر دیا گیا۔ اس کے بعد لاہورتشریف لے آئے اور اسی جگہ جہاں آج کل آپ کا مزار پر انوار ہےکو تبلیغ اسلام کا مرکز قرار دےکر رشد و ہدایت کا سلسلہ شروع کردیا۔ جہاں آپ کے پاس عوام و خواص کا ایک جم غفیر جمع رہتا تھا۔ اور آپ کی ذات ولا صفات سے ہزاروں افراد نے فیوض و برکات حاصل کئے۔کثیر غیر مسلم آپ کے دست حق پرست پر مشرف بہ اسلام ہوئے۔
دوسری مرتبہ حج:
جب آپ دوسری مرتبہ حج کی ادائیگی کے لیے اپنے دوستوں کے ہمراہ پاپیادہ خشکی کے راستے سے گئے تو ایک مقام پر جاکر راستہ بھول گئے اور ایک ویران جنگل بیابان میں جانکلے۔جہاں دور دور تک پانی کا نام و نشان نہ تھا۔جب آپ کے دوستوں کو پیاس نے ستایا تو آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر پانی کے لیے دعا چاہی آپ نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے تو اسی وقت دعا قبول ہوگئی۔اس وقت ایک تیتر آپ کے سر پر اڑتا ہوا آیا اور آواز دیتا ہوا ایک طرف چلا گیا۔ آپ سمجھ گئے کہ جہاں پرندے ہوتے ہیں وہاں پانی ضرور ہوتا ہے۔ آپ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ اس طرف گئے تو میٹھے پانی کا ایک چشمہ ملا۔ سب نے پانی پیا وضو کیا غسل کیا اور کپڑے دھوئے۔ اس کے بعد آپ نے فرمایا چونکہ ہمیں تیتر کی وجہ سے پانی ملا ہے۔ چنانچہ جو بھی میرا مرید ہے نہ ہی وہ تیتر کا شکار کرے گا اور نہ ہی اسکا گوشت کھائے گا آپ کے اس فرمان کے بعد آپ کے مریدین نے تیتر کا شکار اور اس کا گوشت کھانا بند کردیا۔(خزینۃ الاصفیاء، ص423/تذکرہ اولیاء لاہور، ص357) ـ
نا م و نسب:
اسم گرامی: شیخ عبد الکریم چشتی صابری ۔ لقب: شیخ الاولیاء والعلماء ۔
سلسلۂ نسب:
شیخ عبد الکریم چشتی صابری بن شیخ الاسلام مخدوم المُلک عبد اللہ انصاری ۔ خاندانی تعلق قبیلہ انصار سے تھا ۔
آپ اپنے وقت کے جید عالم و عارف باللہ تھے۔ہمایوں بادشاہ نے شیخ عبد اللہ انصاری کو ان کی عظیم خدمات کے پیش نظر ’’ شیخ الاسلام، اورمخدوم المُلک‘‘ کا خطاب دیا تھا۔آپ تمام عمر کفر و الحاد کے خلاف معرکہ آراء رہے۔(تذکرہ اولیائے لاہور،ص355) ۔
اللہ تعالیٰ نےشیخ کو دولتِ علم و عرفان کے ساتھ ساتھ ظاہری مال و متاع سےبھی خوب نوازا تھا۔لیکن اس کے باوجود آپ نےساری زندگی فقیرانہ گزاری،ا ور دین کی خدمت میں مصروف عمل رہے، بلکہ آپ کی اولاد بھی آپ کے طریقے پرقائم رہی۔آپ کی حق گوئی و بےباکی اور کفر و الحاد اور بالخصوص ’’دین اکبری‘‘ کے خلاف جہادپر ’’اکبر بادشاہ‘‘ نے آپ کو ملک بدرکردیاتھا۔آپ حرمین شریفین چلے گئے تھے۔پھر ہندوستان واپس آئے تو آپ کو زہر دے کرشہید کردیا گیا۔ (تذکرہ اولیائے لاہور، ص356/ خزینۃ الاصفیاء، ص423)
تحصیل علم:
حضرت شیخ عبد الکریم چشتی لاہورینے اپنے والد گرامی شیخ عبد اللہ انصاری سے تمام علوم عقلیہ و نقلیہ کی تحصیل و تکمیل کی۔آپ کو علوم میں مہارت تامہ حاصل تھی۔خصوصی شغف قرآن و حدیث اور تفسیر و فقہ سےتھا۔
بیعت و خلافت:
سلسلہ عالیہ چشتیہ صابریہ میں قطبِ وقت حضرت شیخ نظام الدین بلخی چشتی صابری سے بیعت ہوئے، اور مجاہدات و ریاضات کے بعد اجازت و خلافت سے مشرف ہوئے۔(اقتباس الانوار،ص727)
سیرت و خصائص:
امام الاولیاء والعلماء، سند الاتقیاء، صاحبِ علم و عرفاں، محدث وجد و پیماں،حضرت شیخ حاجی عبد الکریم چشتی صابری لاہوری۔آپجامع علوم عقلیہ ونقلیہ تھے۔ سلسلہ عالیہ چشتیہ صابریہ کے فروغ میں آپ کا بہت بڑا کردارہے۔ساری زندگی علم و عرفاں کی آب یاری فرمائی۔ آپایک بہترین مدرس تھے۔آپ کا اکثر وقت درس و تدریس اورتصنیف و تالیف میں بسر ہوتا تھا۔آپ نے ورودِ لاہور کےبعد سب سے پہلے ایک دارالعلوم قائم فرمایا۔ خانقاہ اور دارالعلوم ایک ساتھ تھا۔دارالعلوم اور خانقاہ ’’نواں کوٹ‘‘ لاہور میں افضل خان علامی کے باغ میں تھا۔نواں کوٹ میں ہی آپ کا مزار ہے۔
حج کی سعادت:
جس زمانے میں اکبر بادشاہ نے آپ کے والد گرامی کو ہندوستان سے ملک بدر کردیا تھا۔ تو آپ کے والد گرامی آپ کو اپنے ہمراہ لےکر مکہ مکرمہ چلے گئے اور کافی عرصہ تک وہاں سکونت پذیر رہے اس دوران آپ نے مکہ مکرمہ میں حج کی سعادت بھی حاصل کی۔ اس کے بعد آپ واپس ہندوستان اپنے والد گرامی کے ہمراہ تشریف لے آئے۔مگر اس کے کچھ عرصہ بعد آپ کے والد گرامی کو زہر دے کر شہید کر دیا گیا۔ اس کے بعد لاہورتشریف لے آئے اور اسی جگہ جہاں آج کل آپ کا مزار پر انوار ہےکو تبلیغ اسلام کا مرکز قرار دےکر رشد و ہدایت کا سلسلہ شروع کردیا۔ جہاں آپ کے پاس عوام و خواص کا ایک جم غفیر جمع رہتا تھا۔ اور آپ کی ذات ولا صفات سے ہزاروں افراد نے فیوض و برکات حاصل کئے۔کثیر غیر مسلم آپ کے دست حق پرست پر مشرف بہ اسلام ہوئے۔
دوسری مرتبہ حج:
جب آپ دوسری مرتبہ حج کی ادائیگی کے لیے اپنے دوستوں کے ہمراہ پاپیادہ خشکی کے راستے سے گئے تو ایک مقام پر جاکر راستہ بھول گئے اور ایک ویران جنگل بیابان میں جانکلے۔جہاں دور دور تک پانی کا نام و نشان نہ تھا۔جب آپ کے دوستوں کو پیاس نے ستایا تو آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر پانی کے لیے دعا چاہی آپ نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے تو اسی وقت دعا قبول ہوگئی۔اس وقت ایک تیتر آپ کے سر پر اڑتا ہوا آیا اور آواز دیتا ہوا ایک طرف چلا گیا۔ آپ سمجھ گئے کہ جہاں پرندے ہوتے ہیں وہاں پانی ضرور ہوتا ہے۔ آپ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ اس طرف گئے تو میٹھے پانی کا ایک چشمہ ملا۔ سب نے پانی پیا وضو کیا غسل کیا اور کپڑے دھوئے۔ اس کے بعد آپ نے فرمایا چونکہ ہمیں تیتر کی وجہ سے پانی ملا ہے۔ چنانچہ جو بھی میرا مرید ہے نہ ہی وہ تیتر کا شکار کرے گا اور نہ ہی اسکا گوشت کھائے گا آپ کے اس فرمان کے بعد آپ کے مریدین نے تیتر کا شکار اور اس کا گوشت کھانا بند کردیا۔(خزینۃ الاصفیاء، ص423/تذکرہ اولیاء لاہور، ص357) ـ
❤1
یکدم لاہور سے عرفات:
ایک دن آپ اپنی خانقاہ سے اٹھ کر حضرت پیر زیدی کے مزار پر انوار کی زیارت کے لیے تشریف لے جارہے تھے کہ راستے میں شیرا نامی ایک مرید ملا اور عرض کرنے لگا حضور آج حج کا دن ہے بہت سے خوش نصیب آج عرفات میں حج پڑھ رہے ہوں گے اور ہم کس قدر بدنصیب ہیں کہ ہم اس نعمت سے محروم ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ اپنی آنکھیں بند کر کے میرے کندھے پر اپنا ہاتھ رکھو اور میرے ساتھ چلو۔ ابھی تھوڑا ہی وقت گزرا ہوگا کہ آپ نے فرمایا کہ شیرا آنکھیں کھولو۔جب اس نے آنکھیں کھولیں تو دیکھ کر حیران رہ گیا کہ وہ میدان عرفات میں کھڑے ہیں۔ حج کیا اور حج سے فارغ ہو کر جس طرح گئے اسی طرح واپس پھر لاہوربھی پہنچ گئے۔(ایضا)
تصنیف:
حضرت شیخ عبد الکریم لاہوری ایک جید عالم اور اپنے وقت کے نامورفاضل انسان تھے۔باطنی علوم کے ساتھ ظاہری علوم میں بھی بڑے فضل و کمال کے مالک تھے۔آپ نے بہت کتب تصنیف کیں،جن میں ’’شرح فصوص الحکم‘‘ تصنیف لطیف شیخ اکبر محی الدین ابن العربی، کی فارسی شرح ہے،بہت عمدہ ہے، اور مشہور ہے۔اسی طرح ایک رسالہ بنام ’’اسرار عجیبہ‘‘ پیرانِ چشت اہل بہشت کے ذکر و شغل کے بارے میں ہے۔(تذکرہ علماء ہند، ص279) ـ
آپ کے والد شیخ مخدوم الملک عبداللہ انصاری رحمۃ اللہ علیہ تھے آپ خاندانِ عالیہ چشتیہ صابریہ میں شیخ نظام الدین بلخی رحمۃ اللہ علیہ کے مرید تھے جب آپ کے والد بزرگوار کو اکبر بادشاہ نے ہندوستان سے نکال دیا تو وہ کعبۃ اللہ میں چلے گئے شیخ عبدالکریم بھی آپ کے ساتھ گئے حج کیا اور والد کے ساتھ ہی ہندوستان واپس آگئے جن دنوں آپ کے والد کو زہر دے کر شہید کردیا گیا آپ لاہور آگئے اوریہیں قیام فرمایا ہدایت خلق میں مشغول ہوگئے بہت بڑی دنیا آپ کے حلقۂ ارادت میں آئی اور آپ سے بڑی کرامات سامنے آئیں۔
کتابوں میں لکھا ہے کہ حاجی عبدالکریم دو بار حج کے سفر پر گئے ایک دفعہ اپنے والد بزرگوار کے ساتھ اور دوسری بار چند دوستوں کے ساتھ پیادہ خشکی کے راستے بیت اللہ کی طرف چل پڑے سفر میں راستہ بھول گئے اور ایک ویران بیابان میں جانکلے جہاں دُور دُور تک پانی کا نام و نشان نہ تھا سب دوستوں پر پیاس طاری ہوگئی آپ نے آسمان کی طرف منہ کرکے دعا فرمائی تو قبول ہوگئی اُسی وقت ایک تیتر آپ کے سر پر اُڑتا ہوا آیا تو آواز دیتا ہوا ایک طرف چلاگیا آپ سمجھ گئے کہ جہاں پرندے ہوتے ہیں وہاں پانی ضرور ہوتا ہے تھوڑی دُور اُسی طرف گئے تو میٹھے پانی کا ایک چشمہ ملا سب نے پانی پیا وضو کیا غسل کیا اور کپڑے دھوئے فرمایا کہ چونکہ تیتر کی وجہ سے ہمیں پانی ملا چنانچہ جو بھی میرا مرید ہوگا نہ تیتر کا شکار کرے گا اور نہ گوشت کھائے گا چنانچہ اس دن سے آپ کے مریدوں نے تیتر کا گوشت کھانا بند کردیا۔
یہ بات پائیہ ثبوتِ کو پہنچی ہوئی ہے کہ حضرت حاجی رحمۃ اللہ علیہ کے چار بیٹے تھے ایک کا نام شیخ یحییٰ دوسرے کا نام اعلیٰ نور تیسرے کا نام عبدالحق اور چوتھے کا اعلیٰ حضور تھا اِن چاروں میں شیخ یحییٰ بڑے صاحبِ کمال اور صاحب علم بزرگ تھے اُن سے بڑے لوگوں نے فیض پایا یہ بات مشہور تھی کہ ایک دن خیر و نامی ڈاکو موضع سید والا سے اُٹھ کر لاہور ڈاکہ ڈالنے آیا وہ لاہور کے بازاروں میں گھومتا رہا لیکن اُس کو کوئی موقعہ نہ ملا رات ہوئی تو شخ یحیٰ کی خانقاہ میں آپہنچا وہاں اُس نے دو بیل دیکھے اُنہی کو چُرا کر روانہ ہوگیا لیکن تھوڑی دُورجاکر اندھا ہوگیا بیلوں کو لے کر پھر واپس آیا تو پھر آنکھیں ٹھیک ہوگئیں اِس طرح اُس نے کئی بار کیا آخر کار بیلوں کو آپ کی خانقاہ کے پاس باندھا اور اندھا ہوکر ایک کونے میں بیٹھ گیا دن چڑھا تو خانقاہ کے ملازمین نے خیرو کو دیکھا تو شیخ یحییٰ کو بتایا اب خیرو بھی اُٹھ کر آپ کی خدمت میں آیا تو رات کا سارا واقعہ عرض کرکے معافی مانگنے لگا آپ نے فرمایا تو نے سچ کہا ہے اس لیے تم رحم کے قابل ہو۔ پھر اپنا ہاتھ اُس کی آنکھوں پر مارا وہ اُسی وقت بینا ہوگیا اور شیخ کے مریدوں میں شامل ہوکر مرتبۂ کمال کو پہنچا۔
ایک دن آپ اپنی خانقاہ سے اٹھ کر حضرت پیر زیدی کے مزار پر انوار کی زیارت کے لیے تشریف لے جارہے تھے کہ راستے میں شیرا نامی ایک مرید ملا اور عرض کرنے لگا حضور آج حج کا دن ہے بہت سے خوش نصیب آج عرفات میں حج پڑھ رہے ہوں گے اور ہم کس قدر بدنصیب ہیں کہ ہم اس نعمت سے محروم ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ اپنی آنکھیں بند کر کے میرے کندھے پر اپنا ہاتھ رکھو اور میرے ساتھ چلو۔ ابھی تھوڑا ہی وقت گزرا ہوگا کہ آپ نے فرمایا کہ شیرا آنکھیں کھولو۔جب اس نے آنکھیں کھولیں تو دیکھ کر حیران رہ گیا کہ وہ میدان عرفات میں کھڑے ہیں۔ حج کیا اور حج سے فارغ ہو کر جس طرح گئے اسی طرح واپس پھر لاہوربھی پہنچ گئے۔(ایضا)
تصنیف:
حضرت شیخ عبد الکریم لاہوری ایک جید عالم اور اپنے وقت کے نامورفاضل انسان تھے۔باطنی علوم کے ساتھ ظاہری علوم میں بھی بڑے فضل و کمال کے مالک تھے۔آپ نے بہت کتب تصنیف کیں،جن میں ’’شرح فصوص الحکم‘‘ تصنیف لطیف شیخ اکبر محی الدین ابن العربی، کی فارسی شرح ہے،بہت عمدہ ہے، اور مشہور ہے۔اسی طرح ایک رسالہ بنام ’’اسرار عجیبہ‘‘ پیرانِ چشت اہل بہشت کے ذکر و شغل کے بارے میں ہے۔(تذکرہ علماء ہند، ص279) ـ
آپ کے والد شیخ مخدوم الملک عبداللہ انصاری رحمۃ اللہ علیہ تھے آپ خاندانِ عالیہ چشتیہ صابریہ میں شیخ نظام الدین بلخی رحمۃ اللہ علیہ کے مرید تھے جب آپ کے والد بزرگوار کو اکبر بادشاہ نے ہندوستان سے نکال دیا تو وہ کعبۃ اللہ میں چلے گئے شیخ عبدالکریم بھی آپ کے ساتھ گئے حج کیا اور والد کے ساتھ ہی ہندوستان واپس آگئے جن دنوں آپ کے والد کو زہر دے کر شہید کردیا گیا آپ لاہور آگئے اوریہیں قیام فرمایا ہدایت خلق میں مشغول ہوگئے بہت بڑی دنیا آپ کے حلقۂ ارادت میں آئی اور آپ سے بڑی کرامات سامنے آئیں۔
کتابوں میں لکھا ہے کہ حاجی عبدالکریم دو بار حج کے سفر پر گئے ایک دفعہ اپنے والد بزرگوار کے ساتھ اور دوسری بار چند دوستوں کے ساتھ پیادہ خشکی کے راستے بیت اللہ کی طرف چل پڑے سفر میں راستہ بھول گئے اور ایک ویران بیابان میں جانکلے جہاں دُور دُور تک پانی کا نام و نشان نہ تھا سب دوستوں پر پیاس طاری ہوگئی آپ نے آسمان کی طرف منہ کرکے دعا فرمائی تو قبول ہوگئی اُسی وقت ایک تیتر آپ کے سر پر اُڑتا ہوا آیا تو آواز دیتا ہوا ایک طرف چلاگیا آپ سمجھ گئے کہ جہاں پرندے ہوتے ہیں وہاں پانی ضرور ہوتا ہے تھوڑی دُور اُسی طرف گئے تو میٹھے پانی کا ایک چشمہ ملا سب نے پانی پیا وضو کیا غسل کیا اور کپڑے دھوئے فرمایا کہ چونکہ تیتر کی وجہ سے ہمیں پانی ملا چنانچہ جو بھی میرا مرید ہوگا نہ تیتر کا شکار کرے گا اور نہ گوشت کھائے گا چنانچہ اس دن سے آپ کے مریدوں نے تیتر کا گوشت کھانا بند کردیا۔
یہ بات پائیہ ثبوتِ کو پہنچی ہوئی ہے کہ حضرت حاجی رحمۃ اللہ علیہ کے چار بیٹے تھے ایک کا نام شیخ یحییٰ دوسرے کا نام اعلیٰ نور تیسرے کا نام عبدالحق اور چوتھے کا اعلیٰ حضور تھا اِن چاروں میں شیخ یحییٰ بڑے صاحبِ کمال اور صاحب علم بزرگ تھے اُن سے بڑے لوگوں نے فیض پایا یہ بات مشہور تھی کہ ایک دن خیر و نامی ڈاکو موضع سید والا سے اُٹھ کر لاہور ڈاکہ ڈالنے آیا وہ لاہور کے بازاروں میں گھومتا رہا لیکن اُس کو کوئی موقعہ نہ ملا رات ہوئی تو شخ یحیٰ کی خانقاہ میں آپہنچا وہاں اُس نے دو بیل دیکھے اُنہی کو چُرا کر روانہ ہوگیا لیکن تھوڑی دُورجاکر اندھا ہوگیا بیلوں کو لے کر پھر واپس آیا تو پھر آنکھیں ٹھیک ہوگئیں اِس طرح اُس نے کئی بار کیا آخر کار بیلوں کو آپ کی خانقاہ کے پاس باندھا اور اندھا ہوکر ایک کونے میں بیٹھ گیا دن چڑھا تو خانقاہ کے ملازمین نے خیرو کو دیکھا تو شیخ یحییٰ کو بتایا اب خیرو بھی اُٹھ کر آپ کی خدمت میں آیا تو رات کا سارا واقعہ عرض کرکے معافی مانگنے لگا آپ نے فرمایا تو نے سچ کہا ہے اس لیے تم رحم کے قابل ہو۔ پھر اپنا ہاتھ اُس کی آنکھوں پر مارا وہ اُسی وقت بینا ہوگیا اور شیخ کے مریدوں میں شامل ہوکر مرتبۂ کمال کو پہنچا۔
❤1
یاد رہے کہ شیخ عبدالکریم لاہوری رحمۃ اللہ علیہ بڑے عالم فاضل انسان تھے ظاہری علوم میں بھی بڑے فضل و کمال کے مالک تھے آپ کی تصانیف میں سے شرح فصوص الحکم بڑی مقبول ہوئی اسی طرح آپ نے ایک اور کتاب اسرار عجیبہ لکھی جس میں چشتیہ سلسلے کے اذکار و مشاغل درج ہیں۔)۱
۱۔ صاحب اقتباس الانوار نے آپ کے ایک اور رسالے مصباح العارفین کا ذکر بھی کیا ہے جس میں سلسلہ چشتیہ قدوسیہ کے مشاغل درج ہیں اس رسالے میں شیخ عبدالقدوس گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ کے حالات و مقامات بھی تفصیل سے لکھے گئے ہیں۔
شیخ اکرم کریم با اکرام
مکرمت یافت چون بخلد بریں
مقتدای شفیق دان سالش
نیز برحق کریم کاشف دین
حضرت شیخ نظام الدین تھانیسری ثمہ بلخی قدس سرہٗ کے پانچویں خلیفہ حضرت شیخ عبدالکریم لاہوری قدس سرہٗ ہیں جنہوں نے فصوص الحکم کی شرح بزبان فارسی معتبر اور اعلیٰ لکھی ہے۔ آپ نے اذکار، اشغال اور اسرر پر بڑے شاندان اور عجیب رسائل بھی تحریر فرمائے ہیں سلسلۂ قدوسیہ کے اذکار ومشاغل پر مشتمل ایک رسالہ لکھا ہے جسکا نام مصباح العارفین ہے اسکے حاشیہ پر لکھتے ہیں کہ آج تمام کمالات ولایت و نبوت کا جامع علی اللہ حضرت قطب العالم شیخ عبدالقدوس گنگوہی الحنفی کے سلسلے کے سوا کہیں نہیں ہے۔ اور اس سلسلۂ عالیہ کی شان و شوکت (غلغلہ) قیامت تک افزوں وزیادہ ہوتی رہے گی شیخ عبدالکریم کا مزار لاہور میں زیارت گاہ خلائق ہے۔ رحمۃ اللہ علیہ۔
حضرت شیخ اللہ داد لاہوری اور حضرت شیخ دوست محمد صوفی لاہوری حضرت شیخ نظام الدین بلخی قدس سرہٗ کے چھٹے اور ساتویں خلفاء حضرت شیخ اللہ داد لاہوری اور حضرت شیخ دوست محمد صوفی لاہوری ہیں۔ ان دونوں حضرات کے حسن تربیت سے بےشمار طالبان حق مرتبہ تکمیل و ہدایت کو پہنچے جنکے ذریعے مزید خلفاء وجود میں آئے اور ہدایت خلق میں مشغول رہے۔ ان دونوں حضرات کے مزارات لاہور میں زیارت گاہ خلائق ہیں۔ رحمۃ اللہ علیہما۔) اقتباس الانوار(
اولاد:
شیخ عبد الکریم لاہوری کے چار فرزند تھے ۔ شیخ یحیٰ، اللہ نور، عبد الحق،اعلیٰ حضور۔ ان میں سے شیخ یحیٰ بہت صاحبِ کمال اور اہل اللہ میں سے تھے۔(تذکرہ اولیائے لاہور، ص358)
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال باکمال 7 یا 27 رجب المرجب 1045ھ مطابق 1635ءکو ہوا۔ مزار پر انوار متصل باغ زیب النساء نواں کوٹ یتیم خانہ روڈ پر چھپر اسٹاپ پر بائیں جانب گلی نما بازار جس کا راستہ سمن آباد کو جاتا ہے۔ اس کے بائیں کونے پر مزار پر انوار متصل موضع نواں کوٹ لاہور میں واقع ہے ـ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-abdul-karim-chishti-sabri
۱۔ صاحب اقتباس الانوار نے آپ کے ایک اور رسالے مصباح العارفین کا ذکر بھی کیا ہے جس میں سلسلہ چشتیہ قدوسیہ کے مشاغل درج ہیں اس رسالے میں شیخ عبدالقدوس گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ کے حالات و مقامات بھی تفصیل سے لکھے گئے ہیں۔
شیخ اکرم کریم با اکرام
مکرمت یافت چون بخلد بریں
مقتدای شفیق دان سالش
نیز برحق کریم کاشف دین
حضرت شیخ نظام الدین تھانیسری ثمہ بلخی قدس سرہٗ کے پانچویں خلیفہ حضرت شیخ عبدالکریم لاہوری قدس سرہٗ ہیں جنہوں نے فصوص الحکم کی شرح بزبان فارسی معتبر اور اعلیٰ لکھی ہے۔ آپ نے اذکار، اشغال اور اسرر پر بڑے شاندان اور عجیب رسائل بھی تحریر فرمائے ہیں سلسلۂ قدوسیہ کے اذکار ومشاغل پر مشتمل ایک رسالہ لکھا ہے جسکا نام مصباح العارفین ہے اسکے حاشیہ پر لکھتے ہیں کہ آج تمام کمالات ولایت و نبوت کا جامع علی اللہ حضرت قطب العالم شیخ عبدالقدوس گنگوہی الحنفی کے سلسلے کے سوا کہیں نہیں ہے۔ اور اس سلسلۂ عالیہ کی شان و شوکت (غلغلہ) قیامت تک افزوں وزیادہ ہوتی رہے گی شیخ عبدالکریم کا مزار لاہور میں زیارت گاہ خلائق ہے۔ رحمۃ اللہ علیہ۔
حضرت شیخ اللہ داد لاہوری اور حضرت شیخ دوست محمد صوفی لاہوری حضرت شیخ نظام الدین بلخی قدس سرہٗ کے چھٹے اور ساتویں خلفاء حضرت شیخ اللہ داد لاہوری اور حضرت شیخ دوست محمد صوفی لاہوری ہیں۔ ان دونوں حضرات کے حسن تربیت سے بےشمار طالبان حق مرتبہ تکمیل و ہدایت کو پہنچے جنکے ذریعے مزید خلفاء وجود میں آئے اور ہدایت خلق میں مشغول رہے۔ ان دونوں حضرات کے مزارات لاہور میں زیارت گاہ خلائق ہیں۔ رحمۃ اللہ علیہما۔) اقتباس الانوار(
اولاد:
شیخ عبد الکریم لاہوری کے چار فرزند تھے ۔ شیخ یحیٰ، اللہ نور، عبد الحق،اعلیٰ حضور۔ ان میں سے شیخ یحیٰ بہت صاحبِ کمال اور اہل اللہ میں سے تھے۔(تذکرہ اولیائے لاہور، ص358)
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال باکمال 7 یا 27 رجب المرجب 1045ھ مطابق 1635ءکو ہوا۔ مزار پر انوار متصل باغ زیب النساء نواں کوٹ یتیم خانہ روڈ پر چھپر اسٹاپ پر بائیں جانب گلی نما بازار جس کا راستہ سمن آباد کو جاتا ہے۔ اس کے بائیں کونے پر مزار پر انوار متصل موضع نواں کوٹ لاہور میں واقع ہے ـ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-abdul-karim-chishti-sabri
❤1
حضرت مولانا عبداللہ بہاری ٹونکی علیہ الرحمہ
آپ کے بزرگ عظیم آباد وصوبہ بہار کے تھے، وہاں سے ریاست ٹونک میں گور کھپوریوں کے محلہ میں آکر آباد ہوئے، یہیں آپ پیدا ہوئے، محمد عبداللہ نام رکھا گیا، والد کا نام شیخ صابر علی تھا ـ
ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد حضرت مولانا مفتی محمد لطف اللہ علی گڑھی سے درسیات پڑھی، مولوی احمد علی سہارن پوری سے حدیث کا دور کیا، مولانا فیض الحسن سہارنپوری سے ادبیات عربی حاصل کیا، محلہ مدرسہ عبد الرب دھلی سے تدریس کی ابتداء کی، بعہدٗ اور نٹیل کالج لاہور میں عربی کے پروفیسر ہوگئے، یہاں انجمن مستشار العلماء قائم کی، جو دارالافتاء کی حیثیت رکھتی تھی، ایک زمانہ تیک وہاں مقیم رہے، اس کے بعد مدرسہ عالیہ کلکتہ کے صدر مدرس ہوئے ـ
آپ اپنے استاذ مولانا فیض الحسن کی طرح عربی کے عمدہ ناظم و ناثر تھے،عربی درس گاہوں کی قدیم تعلیم کا بہترین نمونہ تھے، ہندوستان کے مشاہیر علماء میں آپ کا شمار ہوتا تھا، آپ کی تصانیف میں مندرجہ ذیل کتابوں کے نام مرتب اوراق کو معلوم ہو سکے ہیں،(۱) عجالۃ الراکب فی امتناع کذب الواجب یہ رسالہ آپ نے ۱۳۰۸ھ ۱۵ جمادی الاولیٰ میں مولوی محمود حسن صدر المدرسین دیوبند کے رسالہ جھد المقل کےجواب میں تحریر فرمایا، مولوی محمود حسن نےاپنی کتاب حضرت مولانا شاہ احمد حسن کان پوری کے رسالہ تنزیہ الرحمٰن عن تقدیس الرحمٰن کے جواب وردمیں لکھا تھا، اسی مبحث پر ۱۹ رمضان المبارک ۱۳۰۶ھ میں آپ نےمولوی محمود حسن دیوبندی سےلاہور میں مناظرہ کیا، اس مناظرہ میں مولوی محمود حسن کو سخت ذہت آمیر شکست ہوئی، آپ کے قاہر دلائل و سوالات سے وہ اتنےمرعوب ہوئے کہ ادھر اُدھر کی کہنےلگے ـ
(۲) تعلیقات المفتی ‘‘شرح مسلم المولوی حمداللہ کا حاشیہ شرح مسلم کے ساتھ مطبع اسلامیہ لاہور میں طبع ہوا ـ
(۳)عقد الدر فی جید نزھۃ النظر’’ نزہۃ النظر کاحاشیہ ہے، جو ۱۳۲۰ھ میں مطبع بھتبائی دہلی میں ۱۲۲صفحات میں طبع ہوا ـ
(۴)الکلام الرشیق ـ
وصال:
کلکتہ میں آپ پر فالج کا حملہ ہوا، وہاں سےبھوپال اپنے بیٹے مولوی انوار الحق ایم ۔ اے ناظم تعلیمات بھوپال و مرتب دیوان غالب نسخۂ حمیدیہ کے پاس چلے آئے اور کچھ مدت صاحب فراش رہ کر رجب میں ۷ نومبر۱۹۳۰ھ میں انتقال کیا، مولوی عبد الحئی صاحب نزہۃ الخواطر نےسال وفات ۱۳۳۹ھ لکھا ہے، جو ۱۵؍ستمبر ۱۹۲۰ء سے شروع ہو کر ۳ ستمبر ۱۹۲۱ء پر ختم ہوتا ہے، اس طرح انہوں نے پورے دس برس کا فرق کر دیا ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-abdullah-bihari-tonki
آپ کے بزرگ عظیم آباد وصوبہ بہار کے تھے، وہاں سے ریاست ٹونک میں گور کھپوریوں کے محلہ میں آکر آباد ہوئے، یہیں آپ پیدا ہوئے، محمد عبداللہ نام رکھا گیا، والد کا نام شیخ صابر علی تھا ـ
ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد حضرت مولانا مفتی محمد لطف اللہ علی گڑھی سے درسیات پڑھی، مولوی احمد علی سہارن پوری سے حدیث کا دور کیا، مولانا فیض الحسن سہارنپوری سے ادبیات عربی حاصل کیا، محلہ مدرسہ عبد الرب دھلی سے تدریس کی ابتداء کی، بعہدٗ اور نٹیل کالج لاہور میں عربی کے پروفیسر ہوگئے، یہاں انجمن مستشار العلماء قائم کی، جو دارالافتاء کی حیثیت رکھتی تھی، ایک زمانہ تیک وہاں مقیم رہے، اس کے بعد مدرسہ عالیہ کلکتہ کے صدر مدرس ہوئے ـ
آپ اپنے استاذ مولانا فیض الحسن کی طرح عربی کے عمدہ ناظم و ناثر تھے،عربی درس گاہوں کی قدیم تعلیم کا بہترین نمونہ تھے، ہندوستان کے مشاہیر علماء میں آپ کا شمار ہوتا تھا، آپ کی تصانیف میں مندرجہ ذیل کتابوں کے نام مرتب اوراق کو معلوم ہو سکے ہیں،(۱) عجالۃ الراکب فی امتناع کذب الواجب یہ رسالہ آپ نے ۱۳۰۸ھ ۱۵ جمادی الاولیٰ میں مولوی محمود حسن صدر المدرسین دیوبند کے رسالہ جھد المقل کےجواب میں تحریر فرمایا، مولوی محمود حسن نےاپنی کتاب حضرت مولانا شاہ احمد حسن کان پوری کے رسالہ تنزیہ الرحمٰن عن تقدیس الرحمٰن کے جواب وردمیں لکھا تھا، اسی مبحث پر ۱۹ رمضان المبارک ۱۳۰۶ھ میں آپ نےمولوی محمود حسن دیوبندی سےلاہور میں مناظرہ کیا، اس مناظرہ میں مولوی محمود حسن کو سخت ذہت آمیر شکست ہوئی، آپ کے قاہر دلائل و سوالات سے وہ اتنےمرعوب ہوئے کہ ادھر اُدھر کی کہنےلگے ـ
(۲) تعلیقات المفتی ‘‘شرح مسلم المولوی حمداللہ کا حاشیہ شرح مسلم کے ساتھ مطبع اسلامیہ لاہور میں طبع ہوا ـ
(۳)عقد الدر فی جید نزھۃ النظر’’ نزہۃ النظر کاحاشیہ ہے، جو ۱۳۲۰ھ میں مطبع بھتبائی دہلی میں ۱۲۲صفحات میں طبع ہوا ـ
(۴)الکلام الرشیق ـ
وصال:
کلکتہ میں آپ پر فالج کا حملہ ہوا، وہاں سےبھوپال اپنے بیٹے مولوی انوار الحق ایم ۔ اے ناظم تعلیمات بھوپال و مرتب دیوان غالب نسخۂ حمیدیہ کے پاس چلے آئے اور کچھ مدت صاحب فراش رہ کر رجب میں ۷ نومبر۱۹۳۰ھ میں انتقال کیا، مولوی عبد الحئی صاحب نزہۃ الخواطر نےسال وفات ۱۳۳۹ھ لکھا ہے، جو ۱۵؍ستمبر ۱۹۲۰ء سے شروع ہو کر ۳ ستمبر ۱۹۲۱ء پر ختم ہوتا ہے، اس طرح انہوں نے پورے دس برس کا فرق کر دیا ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-abdullah-bihari-tonki
❤1
قاضی عزیز الدین ہکڑو رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
مولانا قاضی حکیم عزیز اللہ فقیر امان اللہ ہکڑو ، گوٹھ بٹھی ہکڑا تحصیل میرو خان ضلع لاڑکانہ میں تولد ہوئے۔
تعلیم و تربیت:
شہداد کوٹ کی عظیم دینی درسگاہ میں داخلہ لیا اور غوث الزمان مفتی اعظم استاد الاساتذہ حضرت علامہ الحاج خواجہ غلام صدیق شہداد کوٹی قدس سرہٗ سے نصابی کتب پڑھ کر فارغ التحصیل ہوئے۔
بیعت:
آپ عظیم صوفی بزرگ حضرت علامہ سید احمد خالد شامی قدس سرہ السامی (مدفون بمبئی انڈیا) سے دست بیعت تھے۔ اور حضرت مولانا حکیم سید عبدالغفار شاہ راشدی کے پیر بھائی اور گہرے دوست تھے۔ اسی نسبت سے آپ نے پیر صاحب عبدالغفار کی نماز جنازہ پڑھائی تھی۔ اس کا مطلب آپ ۱۹۶۱ء تک حیات تھے اس کے بعد آپ کا انتقا ل ہوا۔
شادی و اولاد:
دو شادیاں کیں ۔ پہلی بیوی سے ایک بیٹا مولوی حسن اللہ پیدا ہوا۔ دوسری بیوی سے تین بیٹیاں تولد اور دو بیٹے تولد ہوئے ۔
۱۔ اس اللہ: جس کا دس سال کی عمر میں انتقال ہوا۔
۲۔ امان اللہ جو کہ صاحب اولاد ہوئے
عادات و خصائل:
آپ کے پوتے احسان اللہ ہکڑو بن امان اللہ مرحوم کی روایت کے مطابق قاضی صاحب سیر و سفر کو پسند نہ کرتے تھے، اپنے گوٹھ میں زیادہ تر قیام کرتے تھے، شریعت مطہرہ کے پابند ، نماز ، روزہ، اوراد و وظائف کے پابند اور اپنے معمولات میں دن رات مشغول رہا کرتے تھے ۔ مطالعہ کے نہایت شائق تھے باہر سے کتب منگوا کر مطالعہ کرتے تھے۔
حکیم محمد مراد شیخ (صدیقی دواخانہ لاڑکانہ) نے بتایا کہ قاضی عزیز اللہ ہکڑو حکیم تھے ہمارے پنسار کی دکان پر دوائیں خریدنے تشریف لاتے تھے اور حاجی محمد سعید شیخ (مالک شیخ حاجی عنایت اللہ، کتب فروش اینڈ سنز ، لاڑکانہ) کے پاس اور ان کی بیٹھک میں قیام بھی کرتے تھے۔ ان کی گفتگو عالمانہ ہوتی تھی، انتہائی نیک صالح تہجد گزار، نرم خو، اکثر خاموش رہتے لیکن جب گفتگو کرتے تو دھیمی آواز میں بولتے، سفید لباس زیب رن ، سر پر سفید عمامہ شریف، جسم نحیف اور چہرہ نورانی تھا۔
وصال:
مولانا حکیم قاضی عزیز اللہ ہکڑو کے تدریس سے متعلق روایت تو نہ مل سکی لیکن قرائن سے یہ پتہ چلتا ہے کہ انہوں نے تدریس اور حکمت کے ذریعے انسانوں کی خدمت کرکے صحت مند معاشرہ بنانے میں کام کیا۔
بدھ کے روز قاضی صاحب گوٹھ والوں کے گھر گھر جاکر سب سے ملے ان سے کہا مجھ سے کوئی تکلیف پہنچی ہو تو معافی چاہتا ہوں، کسی کی رقم امانت رکھی ہوئی تھی تو واپس کردی، تمام حساب کتاب برابر کئے۔ اہل خانہ سے ملے سب پر شفقت محبت نچھاور کی نصیحت و وصیت کی، رات کو مولانا شاہ محمد ہکڑو کو بلوایا وہ آئے تو انہیں کہا کہ آج ہم سفر پر روانہ ہورہے ہیں۔
جمعرات کو صاف کپڑے پہننے کے بعد دوران وضو ۷ رجب المرجب ۱۴۰۰ھ/ مئی ۱۹۸۰ء کو تقریباً ستر سال کی عمر میں انتقال کیا۔ مولانا شاہ محمد ہکڑو نے وصیت کے مطابق نماز جنازہ کی امامت فرمائی اور گوٹھ بٹھی ہکڑو کے قبرستان میں تدفین عمل میں آئی۔
(حافظ عبدالستار نے قاضی مرحوم کے پوتے احسان اللہ سے مل کر معلومات حاصل کی فقیر نے دیگر مواد ملا کر مضمون ترتیب دیا ، فقیر دونوں حضرات کا مشکور ہے) ـ
( انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-qazi-azizuddin-hakro
مولانا قاضی حکیم عزیز اللہ فقیر امان اللہ ہکڑو ، گوٹھ بٹھی ہکڑا تحصیل میرو خان ضلع لاڑکانہ میں تولد ہوئے۔
تعلیم و تربیت:
شہداد کوٹ کی عظیم دینی درسگاہ میں داخلہ لیا اور غوث الزمان مفتی اعظم استاد الاساتذہ حضرت علامہ الحاج خواجہ غلام صدیق شہداد کوٹی قدس سرہٗ سے نصابی کتب پڑھ کر فارغ التحصیل ہوئے۔
بیعت:
آپ عظیم صوفی بزرگ حضرت علامہ سید احمد خالد شامی قدس سرہ السامی (مدفون بمبئی انڈیا) سے دست بیعت تھے۔ اور حضرت مولانا حکیم سید عبدالغفار شاہ راشدی کے پیر بھائی اور گہرے دوست تھے۔ اسی نسبت سے آپ نے پیر صاحب عبدالغفار کی نماز جنازہ پڑھائی تھی۔ اس کا مطلب آپ ۱۹۶۱ء تک حیات تھے اس کے بعد آپ کا انتقا ل ہوا۔
شادی و اولاد:
دو شادیاں کیں ۔ پہلی بیوی سے ایک بیٹا مولوی حسن اللہ پیدا ہوا۔ دوسری بیوی سے تین بیٹیاں تولد اور دو بیٹے تولد ہوئے ۔
۱۔ اس اللہ: جس کا دس سال کی عمر میں انتقال ہوا۔
۲۔ امان اللہ جو کہ صاحب اولاد ہوئے
عادات و خصائل:
آپ کے پوتے احسان اللہ ہکڑو بن امان اللہ مرحوم کی روایت کے مطابق قاضی صاحب سیر و سفر کو پسند نہ کرتے تھے، اپنے گوٹھ میں زیادہ تر قیام کرتے تھے، شریعت مطہرہ کے پابند ، نماز ، روزہ، اوراد و وظائف کے پابند اور اپنے معمولات میں دن رات مشغول رہا کرتے تھے ۔ مطالعہ کے نہایت شائق تھے باہر سے کتب منگوا کر مطالعہ کرتے تھے۔
حکیم محمد مراد شیخ (صدیقی دواخانہ لاڑکانہ) نے بتایا کہ قاضی عزیز اللہ ہکڑو حکیم تھے ہمارے پنسار کی دکان پر دوائیں خریدنے تشریف لاتے تھے اور حاجی محمد سعید شیخ (مالک شیخ حاجی عنایت اللہ، کتب فروش اینڈ سنز ، لاڑکانہ) کے پاس اور ان کی بیٹھک میں قیام بھی کرتے تھے۔ ان کی گفتگو عالمانہ ہوتی تھی، انتہائی نیک صالح تہجد گزار، نرم خو، اکثر خاموش رہتے لیکن جب گفتگو کرتے تو دھیمی آواز میں بولتے، سفید لباس زیب رن ، سر پر سفید عمامہ شریف، جسم نحیف اور چہرہ نورانی تھا۔
وصال:
مولانا حکیم قاضی عزیز اللہ ہکڑو کے تدریس سے متعلق روایت تو نہ مل سکی لیکن قرائن سے یہ پتہ چلتا ہے کہ انہوں نے تدریس اور حکمت کے ذریعے انسانوں کی خدمت کرکے صحت مند معاشرہ بنانے میں کام کیا۔
بدھ کے روز قاضی صاحب گوٹھ والوں کے گھر گھر جاکر سب سے ملے ان سے کہا مجھ سے کوئی تکلیف پہنچی ہو تو معافی چاہتا ہوں، کسی کی رقم امانت رکھی ہوئی تھی تو واپس کردی، تمام حساب کتاب برابر کئے۔ اہل خانہ سے ملے سب پر شفقت محبت نچھاور کی نصیحت و وصیت کی، رات کو مولانا شاہ محمد ہکڑو کو بلوایا وہ آئے تو انہیں کہا کہ آج ہم سفر پر روانہ ہورہے ہیں۔
جمعرات کو صاف کپڑے پہننے کے بعد دوران وضو ۷ رجب المرجب ۱۴۰۰ھ/ مئی ۱۹۸۰ء کو تقریباً ستر سال کی عمر میں انتقال کیا۔ مولانا شاہ محمد ہکڑو نے وصیت کے مطابق نماز جنازہ کی امامت فرمائی اور گوٹھ بٹھی ہکڑو کے قبرستان میں تدفین عمل میں آئی۔
(حافظ عبدالستار نے قاضی مرحوم کے پوتے احسان اللہ سے مل کر معلومات حاصل کی فقیر نے دیگر مواد ملا کر مضمون ترتیب دیا ، فقیر دونوں حضرات کا مشکور ہے) ـ
( انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-qazi-azizuddin-hakro
❤1
حضرت میراں سید شاہ بھیکہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
حضرت میران شاہ بھیکہ شیخ وقت تھےاورقطب زماں تھے۔
حسب و نسب:
آپ کانسب نامہ پدری کئی واسطوں سےحضرت امام حسین پرمنتہی ہوتاہے۔۱؎پس آپ حسینی ہیں، آپ کا سلسلہ مادری سید زیدکے لشکر سے جا ملتا ہے ۔
خاندانی حالات:
سرورعال حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نےزیدکوجوآپ کےاجدادسےتھے،ہندوستان جانےکی بشارت دی۔حسب اشارت بربشارت حضرت زید مع متعلقین ترمذ سےہندوستان آئےاور سیانامیں قیام فرمایا۔سیاناکوایک برہمن رئیس نےاپنےنام پرآبادکیاتھااوروہی اس شہرکاحاکم تھا۔
حضرت زید نے معرکہ جنگ میں وفات پائی،ان کی وفات کےبعدسیدسلیمان نےسیاناپرچڑھائی کی۔ سیاناکوفتح کرنےکےبعداس کانام سیوانہ رکھا۔۱؎
والدماجد:
آپ کےوالدماجدکانام سیدیوسف ہے،وہ سیدقطب الدین کےصاحب زادےتھے۔
والدہ ماجدہ:
آپ کی والدہ ماجدہ کانام بی بی ملکوہے۔۲؎
ولادت:
آپ ۷ رجب ۱۰۴۶ھ کوپیداہوئے۔۳؎
نام:
آپ کانام محمدسعیدہے۔
کنیت:
آپ کی کنیت"میران سیدشاہ بھیکہ ہے"اورآپ اسی کنیت سے مشہورہیں۔
بچپن کا صدمہ:
آپ کی عمرجب سات سال کی ہوئی،آپ کےوالدنےجام شہادت نوش فرمایا۔
ترک سکونت:
آپ کےوالدکےانتقال کےبعدخاندانی جھگڑوں اوراہل خاندان کےحسدکےباعث آپ کی والدہ ماجدہ آپ کوہمراہ لےکرسیوانہ سےکہرام آئیں اورکہرام میں سکونت پذیرہوئیں۔
تیر عشق:
آپ کی والدہ نےکہرام پہنچ کرآپ کو ایک مکتب میں داخل فرمایا۔وہاں آپ کوایک ہندولڑکےسے محبت ہوگئی۔محبت چھپنےوالی چیزنہیں۔مکتب میں چرچاہونےلگا۔ایک دن مکتب کےلڑکوں نےاس ہندولڑکےکوملامت کی اوراسےکہاکہ فقیرکےلڑکےسےمحبت کرنامناسب نہیں ہے۔۴؎جب آپ کویہ معلوم ہواتوآپ کوان کایہ کہناناگوارگزرا۔آپ نےایک لڑکےکوجوسب کاسرغنہ تھا،ایسے زوردارطمانچہ ماراکہ اس کےجبڑے ٹوٹ گئے۔
سزا:
معلم کےپاس آپ کی شکایت گئی۔معلم نےآپ کومکتب سے نکال دیا۔
کھیل کود:
مکتب سے نام کٹ جانےکےبعدآپ نےلکھناپڑھناچھوڑدیا،دن بھرلڑکوں کےساتھ گلی کوچوں میں کھیلتے پھرتےتھے۔
غیبی امداد:
آپ اسی طرح گلی کوچوں میں کھیلتےپھرتےتھےکہ ایک دن شاہ جلال جوشاہ فاضل مجذوب کےبھائی تھے۔مریدوں کی تعلیم وتربیت کےواسطےکہرام میں تشریف لائے،انہوں نےآپ کودیکھ کرآپ کے متعلق دریافت فرمایا،جب ان کو یہ معلوم ہواکہ آپ سیدیوسف کےفرزند ہیں توان کوآپ سے ہمدردی پیداہوئی،بہت محبت سےآپ پیش آئے۔
انہوں نےآپ کوسمجھاتےہوئےفرمایا۔۵؎
"میاں صاحب زادے!یہ کھیل کودکانہیں ہے،یہ زمانہ لکھنےپڑھنےکاہے"۔
آپ نےجواب دیا۔
"اس سے قبل میں پڑھتاتھا،اب کیاکروں کہ معلم نےمجھ کومکتب سے نکال دیا"۔
حضرت شاہ جلال نےیہ سن کرآپ کی تسلی و تشفی کی اورآپ سےفرمایاکہ گھبرانےکی کوئی بات نہیں ہے،وہ ہرطرح کی سہولت پہنچانےکی کوشش کریں گےاورمعلم کو بھی آپ کی تعلیم کے متعلق ہدایت فرمائیں گے۔
اسی رات کوانہوں نےاپنے چارمریدوں کوہدایت فرمائی کہ وہ آپ کی ہرطرح کی خبرگیری کریں اور آپ کے خورد و نوش ،پوشش اورخرچ کاغذ وغیرہ کامعقول انتظام کریں اورآپ کی تعلیم سے کسی طرح کی غفلت نہ برتیں۔
آپ کوبلاکرحضرت شاہ جلال نےاپنےساتھ کھاناکھلایااورتھوڑاکھاناآپ کودیاکہ اپنی والدہ کوجاکر دیں،اس پرآپ نےشاہ جلال سے کہا۔
"ان کارزاق حق تعالیٰ ہے"۔
دوسرےدن علی الصبح حضرت شاہ جلال مٹھائی،کاغذ اورپوشاک لےکرآپ کےیہاں آئے،آپ سورہےتھے،آپ کوجگایا،کپڑےپہناکرآپ کومعلم کےپاس مکتب میں لےگئے۔
سفارش:
وہاں پہنچ کرانہوں نےمعلم سے فرمایاکہ۔
"تمہارےپاس ایک سفارش لےکرآیاہوں"۔
معلم سمجھ گیاکہ کس کی سفارش کےواسطےتشریف لائے ہیں۔اس نےشاہ جلال سے عرض کیا:
"جوکچھ آپ فرمائیں،دل و جان سےقبول ہے،لیکن سیدشاہ بھیکہ کےبارے میں سفارش نہ کریں"۔
اس پرشاہ جلال کو غصہ آیااورانہوں نےمعلم سے فرمایا:
"تومردودہےکہ پیرکےحکم سے سرتابی کرتاہے"۔
معلم نےمعافی مانگی اورحضرت شاہ جلال کاحکم بجالانےپرآمادہ ہوگیا۔
حضرت شاہ جلال نےمعلم کوتاکیدکرتےہوئےفرمایا:
"یہ تمہارےپاس قرآن مجید،گلستان اوربوستان پڑھیں گےاورکچھ ہی دنوں میں خلیفہ مکتب ہوجائیں گے"۔
حضرت شاہ جلال نےمعلم کےکان میں آہستہ سے کہاکہ۔
"تم نہیں جانتےہوکہ سیدزادہ قطب زمان ہے،تم کو چاہیےکہ اس کی خدمت خوب کرواوراس کی تعلیم میں کسی قسم کی غفلت یاتغافل نہ برتو"۔
تعلیم:
اسی روزسےمعلم نےآپ کی تعلیم پرخاص توجہ دی،آپ نےچھ مہینےمیں"کلام اللہ"،گلستاں" اور "بوستاں"ختم کرکےخلیفہ مکتب کےفرائض بحسن وخوبی انجام دئیے۔۶؎
حضرت میران شاہ بھیکہ شیخ وقت تھےاورقطب زماں تھے۔
حسب و نسب:
آپ کانسب نامہ پدری کئی واسطوں سےحضرت امام حسین پرمنتہی ہوتاہے۔۱؎پس آپ حسینی ہیں، آپ کا سلسلہ مادری سید زیدکے لشکر سے جا ملتا ہے ۔
خاندانی حالات:
سرورعال حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نےزیدکوجوآپ کےاجدادسےتھے،ہندوستان جانےکی بشارت دی۔حسب اشارت بربشارت حضرت زید مع متعلقین ترمذ سےہندوستان آئےاور سیانامیں قیام فرمایا۔سیاناکوایک برہمن رئیس نےاپنےنام پرآبادکیاتھااوروہی اس شہرکاحاکم تھا۔
حضرت زید نے معرکہ جنگ میں وفات پائی،ان کی وفات کےبعدسیدسلیمان نےسیاناپرچڑھائی کی۔ سیاناکوفتح کرنےکےبعداس کانام سیوانہ رکھا۔۱؎
والدماجد:
آپ کےوالدماجدکانام سیدیوسف ہے،وہ سیدقطب الدین کےصاحب زادےتھے۔
والدہ ماجدہ:
آپ کی والدہ ماجدہ کانام بی بی ملکوہے۔۲؎
ولادت:
آپ ۷ رجب ۱۰۴۶ھ کوپیداہوئے۔۳؎
نام:
آپ کانام محمدسعیدہے۔
کنیت:
آپ کی کنیت"میران سیدشاہ بھیکہ ہے"اورآپ اسی کنیت سے مشہورہیں۔
بچپن کا صدمہ:
آپ کی عمرجب سات سال کی ہوئی،آپ کےوالدنےجام شہادت نوش فرمایا۔
ترک سکونت:
آپ کےوالدکےانتقال کےبعدخاندانی جھگڑوں اوراہل خاندان کےحسدکےباعث آپ کی والدہ ماجدہ آپ کوہمراہ لےکرسیوانہ سےکہرام آئیں اورکہرام میں سکونت پذیرہوئیں۔
تیر عشق:
آپ کی والدہ نےکہرام پہنچ کرآپ کو ایک مکتب میں داخل فرمایا۔وہاں آپ کوایک ہندولڑکےسے محبت ہوگئی۔محبت چھپنےوالی چیزنہیں۔مکتب میں چرچاہونےلگا۔ایک دن مکتب کےلڑکوں نےاس ہندولڑکےکوملامت کی اوراسےکہاکہ فقیرکےلڑکےسےمحبت کرنامناسب نہیں ہے۔۴؎جب آپ کویہ معلوم ہواتوآپ کوان کایہ کہناناگوارگزرا۔آپ نےایک لڑکےکوجوسب کاسرغنہ تھا،ایسے زوردارطمانچہ ماراکہ اس کےجبڑے ٹوٹ گئے۔
سزا:
معلم کےپاس آپ کی شکایت گئی۔معلم نےآپ کومکتب سے نکال دیا۔
کھیل کود:
مکتب سے نام کٹ جانےکےبعدآپ نےلکھناپڑھناچھوڑدیا،دن بھرلڑکوں کےساتھ گلی کوچوں میں کھیلتے پھرتےتھے۔
غیبی امداد:
آپ اسی طرح گلی کوچوں میں کھیلتےپھرتےتھےکہ ایک دن شاہ جلال جوشاہ فاضل مجذوب کےبھائی تھے۔مریدوں کی تعلیم وتربیت کےواسطےکہرام میں تشریف لائے،انہوں نےآپ کودیکھ کرآپ کے متعلق دریافت فرمایا،جب ان کو یہ معلوم ہواکہ آپ سیدیوسف کےفرزند ہیں توان کوآپ سے ہمدردی پیداہوئی،بہت محبت سےآپ پیش آئے۔
انہوں نےآپ کوسمجھاتےہوئےفرمایا۔۵؎
"میاں صاحب زادے!یہ کھیل کودکانہیں ہے،یہ زمانہ لکھنےپڑھنےکاہے"۔
آپ نےجواب دیا۔
"اس سے قبل میں پڑھتاتھا،اب کیاکروں کہ معلم نےمجھ کومکتب سے نکال دیا"۔
حضرت شاہ جلال نےیہ سن کرآپ کی تسلی و تشفی کی اورآپ سےفرمایاکہ گھبرانےکی کوئی بات نہیں ہے،وہ ہرطرح کی سہولت پہنچانےکی کوشش کریں گےاورمعلم کو بھی آپ کی تعلیم کے متعلق ہدایت فرمائیں گے۔
اسی رات کوانہوں نےاپنے چارمریدوں کوہدایت فرمائی کہ وہ آپ کی ہرطرح کی خبرگیری کریں اور آپ کے خورد و نوش ،پوشش اورخرچ کاغذ وغیرہ کامعقول انتظام کریں اورآپ کی تعلیم سے کسی طرح کی غفلت نہ برتیں۔
آپ کوبلاکرحضرت شاہ جلال نےاپنےساتھ کھاناکھلایااورتھوڑاکھاناآپ کودیاکہ اپنی والدہ کوجاکر دیں،اس پرآپ نےشاہ جلال سے کہا۔
"ان کارزاق حق تعالیٰ ہے"۔
دوسرےدن علی الصبح حضرت شاہ جلال مٹھائی،کاغذ اورپوشاک لےکرآپ کےیہاں آئے،آپ سورہےتھے،آپ کوجگایا،کپڑےپہناکرآپ کومعلم کےپاس مکتب میں لےگئے۔
سفارش:
وہاں پہنچ کرانہوں نےمعلم سے فرمایاکہ۔
"تمہارےپاس ایک سفارش لےکرآیاہوں"۔
معلم سمجھ گیاکہ کس کی سفارش کےواسطےتشریف لائے ہیں۔اس نےشاہ جلال سے عرض کیا:
"جوکچھ آپ فرمائیں،دل و جان سےقبول ہے،لیکن سیدشاہ بھیکہ کےبارے میں سفارش نہ کریں"۔
اس پرشاہ جلال کو غصہ آیااورانہوں نےمعلم سے فرمایا:
"تومردودہےکہ پیرکےحکم سے سرتابی کرتاہے"۔
معلم نےمعافی مانگی اورحضرت شاہ جلال کاحکم بجالانےپرآمادہ ہوگیا۔
حضرت شاہ جلال نےمعلم کوتاکیدکرتےہوئےفرمایا:
"یہ تمہارےپاس قرآن مجید،گلستان اوربوستان پڑھیں گےاورکچھ ہی دنوں میں خلیفہ مکتب ہوجائیں گے"۔
حضرت شاہ جلال نےمعلم کےکان میں آہستہ سے کہاکہ۔
"تم نہیں جانتےہوکہ سیدزادہ قطب زمان ہے،تم کو چاہیےکہ اس کی خدمت خوب کرواوراس کی تعلیم میں کسی قسم کی غفلت یاتغافل نہ برتو"۔
تعلیم:
اسی روزسےمعلم نےآپ کی تعلیم پرخاص توجہ دی،آپ نےچھ مہینےمیں"کلام اللہ"،گلستاں" اور "بوستاں"ختم کرکےخلیفہ مکتب کےفرائض بحسن وخوبی انجام دئیے۔۶؎
❤1
معلمی:
کہرام کےایک شخص کاعہدہ فوجداری پرتقررہوا،جب وہ اپنےعہدہ کاچارج لینےکی غرض سے
کہرام سے روانہ ہواتواس نےاپنےلڑکےکی تعلیم کےواسطے آپ کواپنےہمراہ لیا۔۔۔۔کچھ عرصے تک آپ اس لڑکےکوپڑھاتے رہے،لیکن جب اس نےیہ دیکھاکہ آپ ہرمذہب و ملت کے فقیروں کےپاس جاتے ہیں اوران سے طالب ہوتےہیں،اس شخص کویہ خیال ہواکہ معرفت الٰہی کے شوق میں آپ ان فقیروں میں سے کسی کے ساتھ نہ چلےجائیں،اس لئےآپ کوآپ کی والدہ کے پاس کہرام پہنچادیا۔
ملوی میں قیام:
کہرام سےپندرہ کوس کےفاصلےپرموضع ملوی واقع ہے،وہاں ایک درویش مسمی بےنواشاہ قاسم رہتےتھے۔آپ ان کےپاس موضع ملوی چلےگئےاوروہاں قریب ایک سال قیام فرمایا،آپ کے سپرد خدمت تھی کہ بھاڑ کےلئےلکڑیاں جمع کیاکریں۔
ایک دن کا واقعہ ہےکہ بےنواشاہ قاسم نےاپنےگھرکی چھت پاٹنےکےلئے شہتیربنوایا،انہوں نے اپنےمریدوں سےاس شہتیرکےاٹھانےکےلئےفرمایا،وہ شہتیراتناوزنی تھاکہ کسی سےنہیں اٹھا، سب زورکرکےرہ گئے۔آپ نے اس شہتیرکوتن تنہااٹھاکردیوارپر رکھ دیا،وہ شہتیرکسی قدر چھوٹا تھا،آپ کاہاتھ لگنےسےوہ پوراہوگیا۔
یہ بات بےنواشاہ قاسم کےمریدوں کوناگوارگزری۔انہوں نےشکایت کی کہ وہ اتنےدنوں سے ہیں، انہیں کچھ حاصل نہیں ہوااورآپ کےمتعلق کہاکہ اس شخص کواتنی کم مدت میں صاحب تصرف کردیا۔
حضرت شاہ قاسم نےان لوگوں کواس طرح سمجھایاکہ۔۷؎
"قاسم حقیقی حق تعالیٰ ہے،یہ خود سیدزادہ ہیں،باپ داداان کےصاحب کمال تھے،مجھ کودخل اس میں نہیں ہے"۔
رخصت:
اتفاق سےبےنواشاہ قاسم کے پیر و مرشد بھی وہاں مقیم تھے، انہوں نےبےنواشاہ قاسم سےفرمایا کہ:
"ہم اورتم حوض صغیرکےہیں اورمیران جی ماننددریائےعظیم کےہیں،ان کی سیرابی ہم سے نہ ہوگی،ان کو رخصت کرو"۔
بےنواشاہ قاسم نےاپنےپیرومرشدکااشارہ پاک رخصت کیا۔
رہنمائی:
اب آپ کےسامنےسوال یہ تھاکہ کہاں جائیں۔۔شاہ بھاول نےآپ کی رہنمائی کی اورآپ سے حضرت شاہ ابوالمعالی کےپاس چلنےکوکہا،آپ نےشاہ بھاول کامشورہ قبول کیااورآپ اورشاہ بھاول اینٹہ روانہ ہوئے،جہاں حضرت شاہ ابوالمعالی رہتےتھے۔
بیعت:
جب اینٹہ کےقریب پہنچے،آپ ایک جگہ بیٹھ کرحقہ پینےلگےاورشاہ بھاول آپ سےپہلے حضرت شاہ ابوالمعالی کی خدمت میں حاضرہوئے۔
حضرت شاہ ابوالمعالی نےان سے پوچھا:
"رفیق کوکہاں چھوڑا"۔
انہوں نےعرض کیاکہ پیچھےآتےہیں۔
تھوڑی دیرکےبعدشاہ بھاول آپ کولینےکی غرض سے وہاں سے اٹھے،آپ راستہ میں مل گئے، دونوں باتیں کرتےہوئےحضرت شاہ ابوالمعالی کےپاس روانہ ہوئے۔راستے میں شاہ بھاول نےآپ کو بتایاکہ حضرت شاہ ابوالمعالی بہ طرف پائیں چارپائی پربیٹھے ہیں۔
آپ جب حضرت شاہ ابوالعالی کی خدمت میں حاضرہوئےتوانہوں نےآپ کودیکھتے ہی فرمایا:
"بیامیران۔من رفیق توکجاست یعنی حقہ"
(آؤ میرےمیران۔تمہارارفیق کہاں ہے،یعنی حقہ)
آپ نےعرض کیاکہ اس کو میں نےچھوڑدیا،اس وقت سے آپ نےحقہ پیناچھوڑدیا۔بعدازاں حضرت ابوالمعالی نےآپ کومریدکیا۔آپ کوتعلیم فرمائی اورذکرکی تلقین کی۔
واپسی:
آپ کےپیرومرشدنےآپ کورخصت کیا۔وہاں سے روانہ ہوکرآپ ملوی پہنچےاوروہاں تین دن بے ہوش رہے۔آپ کےمنہ سے کف جاری تھا۔تین دن کےبعدآپ کوہوش آیا۔
وہاں سےروانہ ہوکرآپ کہرام پہنچےاورمحمد فاضل قانون گوکی مسجدمیں رہنےلگے،کچھ عرصےاس میں قیام کیا،پھرایک دوسری مسجدمیں جوآپ کےمزارکےقریب ہے،رہناشروع کیا۔
آپ نےایک شخص سے کھانےکےواسطے فرمایا،وہ روزانہ آپ کےواسطےکھانالاتاتھا،لیکن آپ چھ سات روزکےبعدایک روٹی پانی میں ترکرکےتناول فرماتےتھے۔
کشف:
ایک دن آپ کوبذریعہ کشف معلوم ہواکہ آپ کےپیرومرشدحضرت شاہ ابوالمعالی کی داڑھی کا ایک بال بوریہ پر گراہے،آپ اس بال کولینےکی غرض سے اینٹہ آئے،تلاش کرکےوہ بال بوریہ پر سے اٹھاکراپنےپاس رکھا۔
آپ کےپیرومرشدکوآپ کی اس بات سے یہ خیال پیداہواکہ کہیں ایسانہ ہو کہ آپ اس قسم کی مکشوفات میں الجھ کررہ جائیں اورمقصد حقیقی سے دوررہ جائیں،چنانچہ آپ کےپیرومرشد نےآپ سے فرمایاکہ۔۸؎
"میران!یہ فقرنہیں ہے،فقردوسری چیزہے"۔
آپ کےپیرومرشدنےآپ کوایک مرغ مرغن تین روزتک بھون کرکھلایا،اس کےکھانےسے آپ کو صفائی قلب حاصل ہوئی،پھرانہوں نےآپ کو رخصت کیااورآپ کوخداکےساتھ مشغول
رہنےکی ہدایت فرمائی۔
پس آپ کہرام واپس آئےاوریادحق میں مشغول ہوئے۔
کہرام کےایک شخص کاعہدہ فوجداری پرتقررہوا،جب وہ اپنےعہدہ کاچارج لینےکی غرض سے
کہرام سے روانہ ہواتواس نےاپنےلڑکےکی تعلیم کےواسطے آپ کواپنےہمراہ لیا۔۔۔۔کچھ عرصے تک آپ اس لڑکےکوپڑھاتے رہے،لیکن جب اس نےیہ دیکھاکہ آپ ہرمذہب و ملت کے فقیروں کےپاس جاتے ہیں اوران سے طالب ہوتےہیں،اس شخص کویہ خیال ہواکہ معرفت الٰہی کے شوق میں آپ ان فقیروں میں سے کسی کے ساتھ نہ چلےجائیں،اس لئےآپ کوآپ کی والدہ کے پاس کہرام پہنچادیا۔
ملوی میں قیام:
کہرام سےپندرہ کوس کےفاصلےپرموضع ملوی واقع ہے،وہاں ایک درویش مسمی بےنواشاہ قاسم رہتےتھے۔آپ ان کےپاس موضع ملوی چلےگئےاوروہاں قریب ایک سال قیام فرمایا،آپ کے سپرد خدمت تھی کہ بھاڑ کےلئےلکڑیاں جمع کیاکریں۔
ایک دن کا واقعہ ہےکہ بےنواشاہ قاسم نےاپنےگھرکی چھت پاٹنےکےلئے شہتیربنوایا،انہوں نے اپنےمریدوں سےاس شہتیرکےاٹھانےکےلئےفرمایا،وہ شہتیراتناوزنی تھاکہ کسی سےنہیں اٹھا، سب زورکرکےرہ گئے۔آپ نے اس شہتیرکوتن تنہااٹھاکردیوارپر رکھ دیا،وہ شہتیرکسی قدر چھوٹا تھا،آپ کاہاتھ لگنےسےوہ پوراہوگیا۔
یہ بات بےنواشاہ قاسم کےمریدوں کوناگوارگزری۔انہوں نےشکایت کی کہ وہ اتنےدنوں سے ہیں، انہیں کچھ حاصل نہیں ہوااورآپ کےمتعلق کہاکہ اس شخص کواتنی کم مدت میں صاحب تصرف کردیا۔
حضرت شاہ قاسم نےان لوگوں کواس طرح سمجھایاکہ۔۷؎
"قاسم حقیقی حق تعالیٰ ہے،یہ خود سیدزادہ ہیں،باپ داداان کےصاحب کمال تھے،مجھ کودخل اس میں نہیں ہے"۔
رخصت:
اتفاق سےبےنواشاہ قاسم کے پیر و مرشد بھی وہاں مقیم تھے، انہوں نےبےنواشاہ قاسم سےفرمایا کہ:
"ہم اورتم حوض صغیرکےہیں اورمیران جی ماننددریائےعظیم کےہیں،ان کی سیرابی ہم سے نہ ہوگی،ان کو رخصت کرو"۔
بےنواشاہ قاسم نےاپنےپیرومرشدکااشارہ پاک رخصت کیا۔
رہنمائی:
اب آپ کےسامنےسوال یہ تھاکہ کہاں جائیں۔۔شاہ بھاول نےآپ کی رہنمائی کی اورآپ سے حضرت شاہ ابوالمعالی کےپاس چلنےکوکہا،آپ نےشاہ بھاول کامشورہ قبول کیااورآپ اورشاہ بھاول اینٹہ روانہ ہوئے،جہاں حضرت شاہ ابوالمعالی رہتےتھے۔
بیعت:
جب اینٹہ کےقریب پہنچے،آپ ایک جگہ بیٹھ کرحقہ پینےلگےاورشاہ بھاول آپ سےپہلے حضرت شاہ ابوالمعالی کی خدمت میں حاضرہوئے۔
حضرت شاہ ابوالمعالی نےان سے پوچھا:
"رفیق کوکہاں چھوڑا"۔
انہوں نےعرض کیاکہ پیچھےآتےہیں۔
تھوڑی دیرکےبعدشاہ بھاول آپ کولینےکی غرض سے وہاں سے اٹھے،آپ راستہ میں مل گئے، دونوں باتیں کرتےہوئےحضرت شاہ ابوالمعالی کےپاس روانہ ہوئے۔راستے میں شاہ بھاول نےآپ کو بتایاکہ حضرت شاہ ابوالمعالی بہ طرف پائیں چارپائی پربیٹھے ہیں۔
آپ جب حضرت شاہ ابوالعالی کی خدمت میں حاضرہوئےتوانہوں نےآپ کودیکھتے ہی فرمایا:
"بیامیران۔من رفیق توکجاست یعنی حقہ"
(آؤ میرےمیران۔تمہارارفیق کہاں ہے،یعنی حقہ)
آپ نےعرض کیاکہ اس کو میں نےچھوڑدیا،اس وقت سے آپ نےحقہ پیناچھوڑدیا۔بعدازاں حضرت ابوالمعالی نےآپ کومریدکیا۔آپ کوتعلیم فرمائی اورذکرکی تلقین کی۔
واپسی:
آپ کےپیرومرشدنےآپ کورخصت کیا۔وہاں سے روانہ ہوکرآپ ملوی پہنچےاوروہاں تین دن بے ہوش رہے۔آپ کےمنہ سے کف جاری تھا۔تین دن کےبعدآپ کوہوش آیا۔
وہاں سےروانہ ہوکرآپ کہرام پہنچےاورمحمد فاضل قانون گوکی مسجدمیں رہنےلگے،کچھ عرصےاس میں قیام کیا،پھرایک دوسری مسجدمیں جوآپ کےمزارکےقریب ہے،رہناشروع کیا۔
آپ نےایک شخص سے کھانےکےواسطے فرمایا،وہ روزانہ آپ کےواسطےکھانالاتاتھا،لیکن آپ چھ سات روزکےبعدایک روٹی پانی میں ترکرکےتناول فرماتےتھے۔
کشف:
ایک دن آپ کوبذریعہ کشف معلوم ہواکہ آپ کےپیرومرشدحضرت شاہ ابوالمعالی کی داڑھی کا ایک بال بوریہ پر گراہے،آپ اس بال کولینےکی غرض سے اینٹہ آئے،تلاش کرکےوہ بال بوریہ پر سے اٹھاکراپنےپاس رکھا۔
آپ کےپیرومرشدکوآپ کی اس بات سے یہ خیال پیداہواکہ کہیں ایسانہ ہو کہ آپ اس قسم کی مکشوفات میں الجھ کررہ جائیں اورمقصد حقیقی سے دوررہ جائیں،چنانچہ آپ کےپیرومرشد نےآپ سے فرمایاکہ۔۸؎
"میران!یہ فقرنہیں ہے،فقردوسری چیزہے"۔
آپ کےپیرومرشدنےآپ کوایک مرغ مرغن تین روزتک بھون کرکھلایا،اس کےکھانےسے آپ کو صفائی قلب حاصل ہوئی،پھرانہوں نےآپ کو رخصت کیااورآپ کوخداکےساتھ مشغول
رہنےکی ہدایت فرمائی۔
پس آپ کہرام واپس آئےاوریادحق میں مشغول ہوئے۔
❤1
طلبی:
چنددنوں کےبعدآپ کےپیرومرشدنےآپ کوایک رقعہ بھیجا۔آپ کواینٹہ طلب فرمایاتھا۔آپ کثرت مجاہدہ،ریاضت اورکم کھانےاورکم سونےکی وجہ سے اتنےکمزورہوگئےتھےکہ آپ کا سفرکرنا دشوارتھا،چنانچہ آپ نےاپنےپیرومرشدکویہی لکھاتھاکہ کمزوری اتنی ہے کہ سفرکی ہمت نہیں،البتہ جلد ہی خدمت بابرکت میں حاضرہوں گے۔
آپ کےرقعہ کاجواب لےکرجب آدمی روانہ ہوگیاتوآپ کو خیال آیا کہ پیرومرشد کےبلانے پر ضرور جاناچاہیے۔اس خیال کےآتے ہی آپ اس آدمی کے پیچھےاینٹہ روانہ ہوگئےاورآفتاب غروب ہونےسے ذراپہلےآپ اینٹہ پہنچ کراپنےپیرومرشدکی قدم بوسی سےمشرف ہوئے۔
آپ کےپیرومرشدجےآپ سے دریافت فرمایاکہ کہرام سےکب چلےتھے۔
آپ نےسب قصہ بیان کیااورعرض کیاکہ آج ہی دوپہرکہرام سے روانہ ہوئے تھے۔پھرآپ کے پیرومرشدنےپوچھاکہ یہ توبتاؤ کہ دریاکس طرح پارکیا؟
آپ نےعرض کیا۔
"پانی کےاوپرچلاآیااورپاؤں میرے ترنہیں ہوئے"۔
سوال وجواب ختم ہوئے،آپ کےپیرومرشدنےآپ کو رخصت کیااورآپ سےفرمایا۔۹؎
"اسباب ظاہرکی رعایت ضروری ہے"۔
عبادت و مجاہدہ:
اینٹہ سے کہرام واپس ہوتے ہوئے کشتی سے دریاپارکیا۔کہرام پہنچ کرعبادت و ریاضت و مجاہدہ میں مشغول ہوئے،رات کو کنویں پرایک تختہ بچھاکراس پربیٹھ کرعبادت کرتےاوراپنے نفس کو آگاہ کرتےکہ اگرسویاتوکنویں میں گرےگا،پوشاک کایہ حال تھاکہ پرانےکپڑے گلیوں میں سے اٹھاکر پانی سےدھوکراورسی کر پہنتے تھے۔
خرقہ خلافت:
آپ کےپیرومرشدنےرخصت کرتے وقت آپ کوہدایت فرمائی تھی کہ اینٹہ نہ آئیں،جب مناسب ہوگا،وہ خودہی کہرام آئیں گے۔کچھ عرصےکےبعدآپ کےپیرروشن ضمیرکہرام میں رونق افروزہوئےاورآپ کوپیراہن،کلاہ،جامہ اورچادرعنایت فرمائی۔
آپ نےبصد عاجزی عرض کیا۔۱۰؎
"بندہ کواس لباس کےپہننےکی لیاقت نہیں ہے"۔
آپ کے پیر و مرشد نے فرمایا کہ:
"میں کہتا ہوں اور تم عذر کرتے ہو"۔
بحکم پیرومرشدآپ نےوہ لباس پہنا،آپ کےپیرومرشدنےآپ کو خلافت سے سرفرازفرمایا۔
شاہی دربار سے تعلقات:
محمدشاہ کےعہدمیں ایک سال بارش نہ ہونےکی وجہ سے مخلوق بہت پریشان تھی۔بادشاہ کوآپ کانام بتایاگیاکہ اگرآپ دعاکریں تویقیناًبارش ہو۔محمدشاہ نےسرہندکےحاکم کےنام ایک فرمان جاری کیا، جس میں اس نےآپ کو دہلی لانے کی تاکیدکی اورایک عریضہ آپ کی خدمت میں بھیجا۔آپ نے معذرت چاہی،جس وقت آپ کوخط ملاوہاں خوب بارش ہوئی،محمدشاہ نےآپ کو نذرانہ بھیجا،جوآپ نے بہ مشکل قبول فرمایا۔
ایک مرتبہ محمدشاہ نےنواب روشن الدولہ کوآپ کی خدمت میں بھیجا،آپ کی خدمت میں کچھ مٹھائی اورکچھ کپڑے محتاجوں کوتقسیم کرنےکےلئےبھیجےاورآپ سے اس امرکی دعاچاہی کہ اس کی اولاد میں ہمیشہ سلطنت رہے۔آپ نےمراقبہ کیااورفرمایاکہ محمدشاہ کوحضرت نظام الدین اولیاء رحمتہ اللہ علیہ کی سفارش سلطنت ملی ہےاورحضرت نظام الدین اولیاءرحمتہ اللہ علیہ نےدوپشت سفارش کی تھی ،اس میں کس کی مجال کہ دخل دے۔
وفات:
آپ ۵ رمضان المبارک ۱۱۳۱ ھ کو واصل بحق ہوئے۔ مزار پر انوار کہرام میں حاجت روائے خلق ہے۔
خلفاء:
آپ کے بیالیس خلیفہ تھے، آپ کے مشہور خلفاءحسب ذیل ہیں۔۱۱؎
شاہ محمد باقر،شاہ نظام الدین،سید فاضل،سیدعبدالمومن،شیخ نعمت اللہ۔۔۔۔میاں شاہ اورنگ، خواجہ مظفر،غلام محمد،محمدافضل شاہ لطف اللہ جالندھری،سیدمحمد سالم ترمذی روپڑی۔
سیرت:
آپ اپنےوقت کےقطب تھے۔عبادت،ریاضت اورمجاہدہ میں مشغول رہتے تھے۔نذرانہ جو آتا، اس میں سےخادموں کےخرچ کےواسطے نکال کرباقی اپنے پیر و مرشد کوپیش کرتے،آپ کالنگرعام تھا۔
چنددنوں کےبعدآپ کےپیرومرشدنےآپ کوایک رقعہ بھیجا۔آپ کواینٹہ طلب فرمایاتھا۔آپ کثرت مجاہدہ،ریاضت اورکم کھانےاورکم سونےکی وجہ سے اتنےکمزورہوگئےتھےکہ آپ کا سفرکرنا دشوارتھا،چنانچہ آپ نےاپنےپیرومرشدکویہی لکھاتھاکہ کمزوری اتنی ہے کہ سفرکی ہمت نہیں،البتہ جلد ہی خدمت بابرکت میں حاضرہوں گے۔
آپ کےرقعہ کاجواب لےکرجب آدمی روانہ ہوگیاتوآپ کو خیال آیا کہ پیرومرشد کےبلانے پر ضرور جاناچاہیے۔اس خیال کےآتے ہی آپ اس آدمی کے پیچھےاینٹہ روانہ ہوگئےاورآفتاب غروب ہونےسے ذراپہلےآپ اینٹہ پہنچ کراپنےپیرومرشدکی قدم بوسی سےمشرف ہوئے۔
آپ کےپیرومرشدجےآپ سے دریافت فرمایاکہ کہرام سےکب چلےتھے۔
آپ نےسب قصہ بیان کیااورعرض کیاکہ آج ہی دوپہرکہرام سے روانہ ہوئے تھے۔پھرآپ کے پیرومرشدنےپوچھاکہ یہ توبتاؤ کہ دریاکس طرح پارکیا؟
آپ نےعرض کیا۔
"پانی کےاوپرچلاآیااورپاؤں میرے ترنہیں ہوئے"۔
سوال وجواب ختم ہوئے،آپ کےپیرومرشدنےآپ کو رخصت کیااورآپ سےفرمایا۔۹؎
"اسباب ظاہرکی رعایت ضروری ہے"۔
عبادت و مجاہدہ:
اینٹہ سے کہرام واپس ہوتے ہوئے کشتی سے دریاپارکیا۔کہرام پہنچ کرعبادت و ریاضت و مجاہدہ میں مشغول ہوئے،رات کو کنویں پرایک تختہ بچھاکراس پربیٹھ کرعبادت کرتےاوراپنے نفس کو آگاہ کرتےکہ اگرسویاتوکنویں میں گرےگا،پوشاک کایہ حال تھاکہ پرانےکپڑے گلیوں میں سے اٹھاکر پانی سےدھوکراورسی کر پہنتے تھے۔
خرقہ خلافت:
آپ کےپیرومرشدنےرخصت کرتے وقت آپ کوہدایت فرمائی تھی کہ اینٹہ نہ آئیں،جب مناسب ہوگا،وہ خودہی کہرام آئیں گے۔کچھ عرصےکےبعدآپ کےپیرروشن ضمیرکہرام میں رونق افروزہوئےاورآپ کوپیراہن،کلاہ،جامہ اورچادرعنایت فرمائی۔
آپ نےبصد عاجزی عرض کیا۔۱۰؎
"بندہ کواس لباس کےپہننےکی لیاقت نہیں ہے"۔
آپ کے پیر و مرشد نے فرمایا کہ:
"میں کہتا ہوں اور تم عذر کرتے ہو"۔
بحکم پیرومرشدآپ نےوہ لباس پہنا،آپ کےپیرومرشدنےآپ کو خلافت سے سرفرازفرمایا۔
شاہی دربار سے تعلقات:
محمدشاہ کےعہدمیں ایک سال بارش نہ ہونےکی وجہ سے مخلوق بہت پریشان تھی۔بادشاہ کوآپ کانام بتایاگیاکہ اگرآپ دعاکریں تویقیناًبارش ہو۔محمدشاہ نےسرہندکےحاکم کےنام ایک فرمان جاری کیا، جس میں اس نےآپ کو دہلی لانے کی تاکیدکی اورایک عریضہ آپ کی خدمت میں بھیجا۔آپ نے معذرت چاہی،جس وقت آپ کوخط ملاوہاں خوب بارش ہوئی،محمدشاہ نےآپ کو نذرانہ بھیجا،جوآپ نے بہ مشکل قبول فرمایا۔
ایک مرتبہ محمدشاہ نےنواب روشن الدولہ کوآپ کی خدمت میں بھیجا،آپ کی خدمت میں کچھ مٹھائی اورکچھ کپڑے محتاجوں کوتقسیم کرنےکےلئےبھیجےاورآپ سے اس امرکی دعاچاہی کہ اس کی اولاد میں ہمیشہ سلطنت رہے۔آپ نےمراقبہ کیااورفرمایاکہ محمدشاہ کوحضرت نظام الدین اولیاء رحمتہ اللہ علیہ کی سفارش سلطنت ملی ہےاورحضرت نظام الدین اولیاءرحمتہ اللہ علیہ نےدوپشت سفارش کی تھی ،اس میں کس کی مجال کہ دخل دے۔
وفات:
آپ ۵ رمضان المبارک ۱۱۳۱ ھ کو واصل بحق ہوئے۔ مزار پر انوار کہرام میں حاجت روائے خلق ہے۔
خلفاء:
آپ کے بیالیس خلیفہ تھے، آپ کے مشہور خلفاءحسب ذیل ہیں۔۱۱؎
شاہ محمد باقر،شاہ نظام الدین،سید فاضل،سیدعبدالمومن،شیخ نعمت اللہ۔۔۔۔میاں شاہ اورنگ، خواجہ مظفر،غلام محمد،محمدافضل شاہ لطف اللہ جالندھری،سیدمحمد سالم ترمذی روپڑی۔
سیرت:
آپ اپنےوقت کےقطب تھے۔عبادت،ریاضت اورمجاہدہ میں مشغول رہتے تھے۔نذرانہ جو آتا، اس میں سےخادموں کےخرچ کےواسطے نکال کرباقی اپنے پیر و مرشد کوپیش کرتے،آپ کالنگرعام تھا۔
❤1
تعلیمات:
ایک مرتبہ آپ کی مجلس میں آیت کریمہ: لا یمسہ الا المطھرون ـ
کےمعنی ومضمرات پربحث شروع ہوئی۔ایک عالم جو وہاں موجودتھا،اس نےکہا کہ:
"اس جگہ معنی انشاء میں ہے (یعنی یہ ہیں چاہےکہ نہ چھوئیں قرآشریف کو،لیکن پاک لوگ"جو حدث اصغرسےپاک ہوں")۔
آپ نےیہ سن کرفرمایاکہ"کیاضرورت ہےکہ اخبارکومعنی انشاءمیں حمل کرین،یہ کیوں نہیں کہتے، مس نہیں کرے(قرآن وادراک معنی واسرارکےکو)مگرپاک لوگ(کہ پاک ہوں آلائش بشری سے"۱۲؎
آپ اپنےمریدوں کوآدھی رات سےزیادہ سونےکی اجازت نہیں دیتےتھے۔
فرمان:
پیر کو مرید شناسی چاہیے ۔
درود و وظیفہ:
آپ اپنےمریدوں کو ذکر اسم ذات جہر کے ساتھ تلقین کرتےتھے۔آپ فرماتے ہیں کہ۔
"فقیرکوچاہیے کہ ایک لاکھ مرتبہ ذکراسم ذات کیاکرکے،اگرچالیس مرتبہ ہرروزانہ کرے تواس کو لقمہ درویشی ودلق حرام ہے"۔
کشف و کرامات:
آپ کےپیرومرشدکےحجرےکی چھت خراب ہوگئی۔سب مریدوں نےچھت کی مرمت کی، لیکن چھت ٹھیک نہیں ہوئی،آپ کےپیرومرشدنےمسکراکرفرمایاکہ "میران جی سے چھت درست ہوگی۔آپ اس زمانےمیں چلہ میں تھے۔آپ کوبلایاگیا۔آپ چلہ سے باہر آئےاورچھت درست کرنےمیں مصروف ہوئے۔آپ نےگھاس اکھاڑی،پھرمٹی اورپانی ڈال کرچھت کوکوٹنا شروع کیا،جتنی بارکوٹتےتھے،ہربارہرضرب پرایک مقام ظاہرہوتاتھا۔
آپ کاایک مریدموضع نوندھن میں رہتاتھا،اس کاایک لڑکاتھا،جس کی عمردس سال کی تھی۔ایک دن اس لڑکےکاانتقال ہوگیا،اتفاق سے اسی دن آپ اس موضع میں رونق افروزہوئے۔اس مریدکو جب یہ معلوم ہوا،آپ کواپنےگھرلایااورلڑکےکی نعش کوایک کوٹھری میں بندکردیا،جب آپ کے سامنےکھانالایاگیاتوآپ نےکھانےسے انکارکیااورفرمایا"جب تک اس کالڑکا نہ آئےگااورکھانانہ کھائےگا،آپ بھی کھانانہیں کھائیں گے۔مریدنےبہانہ کیااورعرض کیاکہ لڑکاکہیں کھیلتاہوگا، معلوم نہیں کب آئے۔اس کاانتظار بےکار،آپ نےفرمایاکہ جب بھی آئےگا،تب ہی کھاناکھائیں گے۔ اب اس مریدنے مجبورہوکرعرض کیاکہ"لڑکاآپ کےآنےسے دوساعت پہلےمرگیا، اس کی نعش کوٹھری میں رکھی ہے"آپ نے فرمایا "لڑکا مرا نہیں ہے، جاکر دیکھو، اگر سوتا ہوگا تو جگا کر لاؤ" وہ شخص جب کوٹھری میں گیاتودیکھاکہ لڑکاسانس لیتاہے،اس کو ہلایا،وہ اٹھ بیٹھا اوراپنےباپ کے ساتھ باہر آکرآپ کا قدم بوس ہوا۔
حواشی:
۱؎انوارالعارفین(فارسی)ص۴۱۳
۲؎انوارالعارفین(فارسی)ص۴۱۳
۳؎انوارالعارفین(فارسی)ص۴۱۳
۴؎ بستان معرفت ص۱۰۹
۵؎انوارالعارفین(فارسی)ص۴۱۴
۶؎انوارالعارفین(فارسی)ص۴۱۴
۷؎انوارالعارفین(فارسی)ص۴۱۵
۸؎انوارالعارفین(فارسی)ص۴۵
۹؎بستان معرفت ص۱۱۱
۱۰؎ انوارالعارفین (فارسی)ص۴۱۶
۱۱؎انوارالعارفین(فارسی)ص۴۱۶
۱۲؎انوارالعارفین(فارسی)ص۴۱۷
۱۳؎انوارالعارفین(فارسی)ص۴۱۷
۱۴؎انوارالعارفین(فارسی)ص۴۲۰،۴۱۴
۱۵؎ بستان معرفت ص۱۱۴
( تذکرہ اولیاءِ پاک و ہند )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-meeran-syed-shah-bheka
ایک مرتبہ آپ کی مجلس میں آیت کریمہ: لا یمسہ الا المطھرون ـ
کےمعنی ومضمرات پربحث شروع ہوئی۔ایک عالم جو وہاں موجودتھا،اس نےکہا کہ:
"اس جگہ معنی انشاء میں ہے (یعنی یہ ہیں چاہےکہ نہ چھوئیں قرآشریف کو،لیکن پاک لوگ"جو حدث اصغرسےپاک ہوں")۔
آپ نےیہ سن کرفرمایاکہ"کیاضرورت ہےکہ اخبارکومعنی انشاءمیں حمل کرین،یہ کیوں نہیں کہتے، مس نہیں کرے(قرآن وادراک معنی واسرارکےکو)مگرپاک لوگ(کہ پاک ہوں آلائش بشری سے"۱۲؎
آپ اپنےمریدوں کوآدھی رات سےزیادہ سونےکی اجازت نہیں دیتےتھے۔
فرمان:
پیر کو مرید شناسی چاہیے ۔
درود و وظیفہ:
آپ اپنےمریدوں کو ذکر اسم ذات جہر کے ساتھ تلقین کرتےتھے۔آپ فرماتے ہیں کہ۔
"فقیرکوچاہیے کہ ایک لاکھ مرتبہ ذکراسم ذات کیاکرکے،اگرچالیس مرتبہ ہرروزانہ کرے تواس کو لقمہ درویشی ودلق حرام ہے"۔
کشف و کرامات:
آپ کےپیرومرشدکےحجرےکی چھت خراب ہوگئی۔سب مریدوں نےچھت کی مرمت کی، لیکن چھت ٹھیک نہیں ہوئی،آپ کےپیرومرشدنےمسکراکرفرمایاکہ "میران جی سے چھت درست ہوگی۔آپ اس زمانےمیں چلہ میں تھے۔آپ کوبلایاگیا۔آپ چلہ سے باہر آئےاورچھت درست کرنےمیں مصروف ہوئے۔آپ نےگھاس اکھاڑی،پھرمٹی اورپانی ڈال کرچھت کوکوٹنا شروع کیا،جتنی بارکوٹتےتھے،ہربارہرضرب پرایک مقام ظاہرہوتاتھا۔
آپ کاایک مریدموضع نوندھن میں رہتاتھا،اس کاایک لڑکاتھا،جس کی عمردس سال کی تھی۔ایک دن اس لڑکےکاانتقال ہوگیا،اتفاق سے اسی دن آپ اس موضع میں رونق افروزہوئے۔اس مریدکو جب یہ معلوم ہوا،آپ کواپنےگھرلایااورلڑکےکی نعش کوایک کوٹھری میں بندکردیا،جب آپ کے سامنےکھانالایاگیاتوآپ نےکھانےسے انکارکیااورفرمایا"جب تک اس کالڑکا نہ آئےگااورکھانانہ کھائےگا،آپ بھی کھانانہیں کھائیں گے۔مریدنےبہانہ کیااورعرض کیاکہ لڑکاکہیں کھیلتاہوگا، معلوم نہیں کب آئے۔اس کاانتظار بےکار،آپ نےفرمایاکہ جب بھی آئےگا،تب ہی کھاناکھائیں گے۔ اب اس مریدنے مجبورہوکرعرض کیاکہ"لڑکاآپ کےآنےسے دوساعت پہلےمرگیا، اس کی نعش کوٹھری میں رکھی ہے"آپ نے فرمایا "لڑکا مرا نہیں ہے، جاکر دیکھو، اگر سوتا ہوگا تو جگا کر لاؤ" وہ شخص جب کوٹھری میں گیاتودیکھاکہ لڑکاسانس لیتاہے،اس کو ہلایا،وہ اٹھ بیٹھا اوراپنےباپ کے ساتھ باہر آکرآپ کا قدم بوس ہوا۔
حواشی:
۱؎انوارالعارفین(فارسی)ص۴۱۳
۲؎انوارالعارفین(فارسی)ص۴۱۳
۳؎انوارالعارفین(فارسی)ص۴۱۳
۴؎ بستان معرفت ص۱۰۹
۵؎انوارالعارفین(فارسی)ص۴۱۴
۶؎انوارالعارفین(فارسی)ص۴۱۴
۷؎انوارالعارفین(فارسی)ص۴۱۵
۸؎انوارالعارفین(فارسی)ص۴۵
۹؎بستان معرفت ص۱۱۱
۱۰؎ انوارالعارفین (فارسی)ص۴۱۶
۱۱؎انوارالعارفین(فارسی)ص۴۱۶
۱۲؎انوارالعارفین(فارسی)ص۴۱۷
۱۳؎انوارالعارفین(فارسی)ص۴۱۷
۱۴؎انوارالعارفین(فارسی)ص۴۲۰،۴۱۴
۱۵؎ بستان معرفت ص۱۱۴
( تذکرہ اولیاءِ پاک و ہند )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-meeran-syed-shah-bheka
❤1
مظہر حق و صداقت ، حضرت مولانا مظہر حسن رضوی بدایونی علیہ الرحمہ
مہتمم مدرسہ قاسمیہ برکاتیہ محلہ ناگران بدایوں
ولادت:
مجاہد سنیت صوفی باصفا حضرت مولانا مظہر حسن قادری رضوی ۷؍ رجب المرجب ۱۳۵۵ھ کو کمالی حویلی محلہ ناگران بدایوں شریف میں پیدا ہوئے اور والدین کریمین نے پرورش فرمائی۔
مولانا مظہر حسن شیخ انصاری برادری سے تعلق رکھتے ہیں۔ تادمِ تحریر یہیں پر مولانا قیام پذیر ہیں۔
خاندانی حالات:
حضرت مولانا مظہر حسن کے والد ماجد ایک معزز خاندان میں پیدا ہوئے۔ ایک ایسا خاندان جس میں ایک ہی وقت میں متعدد حافظ قرآن دیکھنے میں آئے۔ آپ کے جد اعلیٰ خود قرآن پاک کے بہترین حافظ تھے۔ اسی وجہ مولانا مظہر حسن کے والد ماجد عہد طفلی سے ہی صوم و صلوٰۃ کے پابند وردینی کتب کے شائق، تبلیغ فی سبیل اللہ میں مشغول و منہمک رہتے تھے۔ تقویٰ وطہارت اس حد تک تھا کہ اخیر عمر تک اپنے گھر والوں کو نماز کی تلقین اور منکرات سے اجتناب کی تنبیہہ فرماتے رہے۔ اور خود بھی تاوقت اجل اپنی نماز کو ترک نہیں فرمایا۔ حتیٰ کہ شدت ضعف و نقاہت کی وجہ سے چارپائی پر لیٹے لیٹے ہی اشاروں سے نما ادا فرمائی۔
تسمیہ خوانی:
مولانا مظہر حسن رضوی کی عمر جب چار سال چار ماہ، چار دن کی ہوئی تو والد گرامی نے بسم اللہ خوانی کے لیے اعزاز واقرباء علماء وصوفیا کو بلایا۔ ان علماء وفضلا کے جھر مٹ میں بسم اللہ خوانی کی رسم حاجی امداد اللہ بدایونی رحمۃ اللہ علیہ نے ادا کی [1]۔
تعلیم و تربیت:
مولانا صوفی مظہر حسن کی تعلیم کا آغاز بسم اللہ خوانی کے بعد ہی سے ہوگیا۔ چونکہ آپ کو بچپن کے زمانے سے تعلیم کا شوق تھا۔ حاجی امداد اللہ بدایونی نے بہت محنت وشفت اور رافت سے قرآن پاک کا ناظرہ۔ مولانا بھی بہت ہی محنت اور لگن سے پڑھا۔ ختم قرآن پاک کے بعد اسکول میں داخلہ لیا۔ اور آٹھویں کلاس کے بعد والد ماجد نے دینی تعلیم کی رغبت دلائی۔
مولانا مظہر حسن کے والد ماجد نے درد نظامیہ کے علوم کی تحصیل کے لیے مدرسہ شمس العلوم گھنٹہ گھر بدایوں میں داخلہ کرادیا۔ ابتدائی کتب فارسی، عربی شمس العلوم بدایوں میں پڑھیں اور پھر مدرسہ ظہیر الاسلام بدایوں شریف میں حصول علم کےلیے چلے گئے۔ اسی درمیان کچھ ن اگفتہ بہ باتوں کی وجہ سے دوسری جگہ کا تعلیمی سفر طے کیا۔ بعدہٗ جامعہ اہلسنت بدر العلوم جسپورضلع نینی تال، مدرسہ بحرل العلوم بہیڑی ضلع بریلی شریف میں اکتساب فیض کیا۔ حدیث، تفسیر وغیرہ کی اعلیٰ کتابوں کے درس کے لیے دار العلوم منظر اسلام بریلی تشریف لائے۔
کافی عرصہ تک دار العلوم منظر اسلام ک ے ماہرین اساتذہ سے اکتساب علوم و فنون کرتے رہے۔ ۱۳۸۲ھ میں جلسہ دستار فضیلت کے عظیم الشان مجمع عام میں دستار فراغت سے نوازے گئے۔
اساتذۂ کرام:
۱۔ مفسر اعظم ہند مولانا محمد ابراہیم رضا جیلانی بریلوی
۲۔ حضرت مولانا مفتی محمد ابراہیم رضوی فریدی سمستی پوری
۳۔ حضرت علامہ مولانا احسان علی رضی محدث منظر اسلام
۴۔ حضرت مولانا مفتی محمد جہانگیر خاں رضوی فتحپوری
۵۔ حضرت مولانا عبدالتواب مہاجر مصری
۶۔ حضرت مولانا محمد محبوب بدایونی
۷۔ حضرت مولانا حاجی امداد اللہ بدایونی
۸۔ مولوی خلیل احمد خاں بجنوری ثم بدایونی
درس و تدریس اور خطابت:
مولانا مظہر حسن قادری فراغت کے بعد درس و تدریس میں مشغول ہوگئے۔ ۱۳۸۲ھ سے ۱۳۸۷ھ تک مسجد ایک مینارہ کراچی (پاکستان) میں امامت وخطابت اور تدریس کے فرائضانجام دیئے لگے۔ پھر پاکستان سے وطن مالوف تشریف لائے اور بعض اصحاب کے اصرار پر مدرسہ نور الاسلام شیر پور کلاں ضلع پیلی بھیت میں ۱۳۸۸ھ تک صدر مدرس کے اعلیٰ عہدے پر فائز رہے۔ بعد ہٗ مدرسہ رحمانیہ کھٹیمہ ضلع ن ینی تال میں ۱۳۹۰ھ تک فرائض درس وتدریس سر انجام دیتے رہے۔ مولانا مظہر حسن نے مذکورہ مدارس کی خدمت میں للٰہیت اور خلوص سے کام لیا ہے۔
بیعت و خلافت:
۲۲؍صفر المظفر ۱۳۸۲ھ کو مولانا مظہر حسن نے تاج العلماء مولانا سید اولاد رسول محمد میاں برکاتی مارہروی علیہ الرحمہ کے دست حق پرست پر بیعت واردات کا شرف حاصل کیا۔ ۱۸؍ذیقعدہ ۱۳۹۷ھ کو حضور مفتی اعظم الشاہ مصطفیٰ رضا بریلوی قدس سرہٗ نے سلسلہ قادریہ برکاتیہ رضویہ نوریہ میں اجازت وخلافت عطا فرمائی۔
مزید یرآں حضرت مولانا وجیہہ الدین رضوی پیلی بھیتی علیہ الرحمۃ اور جانشین مفتی اعظم فقیہہ الاسلام مفتی محمد اختر رضا خاں ازہری قادریہ بریلوی دامت برکاتہم القدسیہ نے جمیع سلاسل کی اجازت وخلافت سے سر فراز فرمایا۔
فتویٰ نویسی:
حضرت مولانا مظہر حسن نے باضابطہ ۱۳۸۳ سے فتویٰن ویسی کا آغاز کیا۔ اور سب سے پہلا فتویٰ مسئلہ طلاق پر تحریر فرمایا۔ آپ کے فتاویٰ کثیر تعداد میں ہیں جو ابھی نشنۂ طباعت ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے یہ دعا ہے کہ یہ ذخیرہ بہت جلد قوم کے سامنے آئے تاکہ امت مسلمہ سے فائدہ اٹھا سکے ۔
مہتمم مدرسہ قاسمیہ برکاتیہ محلہ ناگران بدایوں
ولادت:
مجاہد سنیت صوفی باصفا حضرت مولانا مظہر حسن قادری رضوی ۷؍ رجب المرجب ۱۳۵۵ھ کو کمالی حویلی محلہ ناگران بدایوں شریف میں پیدا ہوئے اور والدین کریمین نے پرورش فرمائی۔
مولانا مظہر حسن شیخ انصاری برادری سے تعلق رکھتے ہیں۔ تادمِ تحریر یہیں پر مولانا قیام پذیر ہیں۔
خاندانی حالات:
حضرت مولانا مظہر حسن کے والد ماجد ایک معزز خاندان میں پیدا ہوئے۔ ایک ایسا خاندان جس میں ایک ہی وقت میں متعدد حافظ قرآن دیکھنے میں آئے۔ آپ کے جد اعلیٰ خود قرآن پاک کے بہترین حافظ تھے۔ اسی وجہ مولانا مظہر حسن کے والد ماجد عہد طفلی سے ہی صوم و صلوٰۃ کے پابند وردینی کتب کے شائق، تبلیغ فی سبیل اللہ میں مشغول و منہمک رہتے تھے۔ تقویٰ وطہارت اس حد تک تھا کہ اخیر عمر تک اپنے گھر والوں کو نماز کی تلقین اور منکرات سے اجتناب کی تنبیہہ فرماتے رہے۔ اور خود بھی تاوقت اجل اپنی نماز کو ترک نہیں فرمایا۔ حتیٰ کہ شدت ضعف و نقاہت کی وجہ سے چارپائی پر لیٹے لیٹے ہی اشاروں سے نما ادا فرمائی۔
تسمیہ خوانی:
مولانا مظہر حسن رضوی کی عمر جب چار سال چار ماہ، چار دن کی ہوئی تو والد گرامی نے بسم اللہ خوانی کے لیے اعزاز واقرباء علماء وصوفیا کو بلایا۔ ان علماء وفضلا کے جھر مٹ میں بسم اللہ خوانی کی رسم حاجی امداد اللہ بدایونی رحمۃ اللہ علیہ نے ادا کی [1]۔
تعلیم و تربیت:
مولانا صوفی مظہر حسن کی تعلیم کا آغاز بسم اللہ خوانی کے بعد ہی سے ہوگیا۔ چونکہ آپ کو بچپن کے زمانے سے تعلیم کا شوق تھا۔ حاجی امداد اللہ بدایونی نے بہت محنت وشفت اور رافت سے قرآن پاک کا ناظرہ۔ مولانا بھی بہت ہی محنت اور لگن سے پڑھا۔ ختم قرآن پاک کے بعد اسکول میں داخلہ لیا۔ اور آٹھویں کلاس کے بعد والد ماجد نے دینی تعلیم کی رغبت دلائی۔
مولانا مظہر حسن کے والد ماجد نے درد نظامیہ کے علوم کی تحصیل کے لیے مدرسہ شمس العلوم گھنٹہ گھر بدایوں میں داخلہ کرادیا۔ ابتدائی کتب فارسی، عربی شمس العلوم بدایوں میں پڑھیں اور پھر مدرسہ ظہیر الاسلام بدایوں شریف میں حصول علم کےلیے چلے گئے۔ اسی درمیان کچھ ن اگفتہ بہ باتوں کی وجہ سے دوسری جگہ کا تعلیمی سفر طے کیا۔ بعدہٗ جامعہ اہلسنت بدر العلوم جسپورضلع نینی تال، مدرسہ بحرل العلوم بہیڑی ضلع بریلی شریف میں اکتساب فیض کیا۔ حدیث، تفسیر وغیرہ کی اعلیٰ کتابوں کے درس کے لیے دار العلوم منظر اسلام بریلی تشریف لائے۔
کافی عرصہ تک دار العلوم منظر اسلام ک ے ماہرین اساتذہ سے اکتساب علوم و فنون کرتے رہے۔ ۱۳۸۲ھ میں جلسہ دستار فضیلت کے عظیم الشان مجمع عام میں دستار فراغت سے نوازے گئے۔
اساتذۂ کرام:
۱۔ مفسر اعظم ہند مولانا محمد ابراہیم رضا جیلانی بریلوی
۲۔ حضرت مولانا مفتی محمد ابراہیم رضوی فریدی سمستی پوری
۳۔ حضرت علامہ مولانا احسان علی رضی محدث منظر اسلام
۴۔ حضرت مولانا مفتی محمد جہانگیر خاں رضوی فتحپوری
۵۔ حضرت مولانا عبدالتواب مہاجر مصری
۶۔ حضرت مولانا محمد محبوب بدایونی
۷۔ حضرت مولانا حاجی امداد اللہ بدایونی
۸۔ مولوی خلیل احمد خاں بجنوری ثم بدایونی
درس و تدریس اور خطابت:
مولانا مظہر حسن قادری فراغت کے بعد درس و تدریس میں مشغول ہوگئے۔ ۱۳۸۲ھ سے ۱۳۸۷ھ تک مسجد ایک مینارہ کراچی (پاکستان) میں امامت وخطابت اور تدریس کے فرائضانجام دیئے لگے۔ پھر پاکستان سے وطن مالوف تشریف لائے اور بعض اصحاب کے اصرار پر مدرسہ نور الاسلام شیر پور کلاں ضلع پیلی بھیت میں ۱۳۸۸ھ تک صدر مدرس کے اعلیٰ عہدے پر فائز رہے۔ بعد ہٗ مدرسہ رحمانیہ کھٹیمہ ضلع ن ینی تال میں ۱۳۹۰ھ تک فرائض درس وتدریس سر انجام دیتے رہے۔ مولانا مظہر حسن نے مذکورہ مدارس کی خدمت میں للٰہیت اور خلوص سے کام لیا ہے۔
بیعت و خلافت:
۲۲؍صفر المظفر ۱۳۸۲ھ کو مولانا مظہر حسن نے تاج العلماء مولانا سید اولاد رسول محمد میاں برکاتی مارہروی علیہ الرحمہ کے دست حق پرست پر بیعت واردات کا شرف حاصل کیا۔ ۱۸؍ذیقعدہ ۱۳۹۷ھ کو حضور مفتی اعظم الشاہ مصطفیٰ رضا بریلوی قدس سرہٗ نے سلسلہ قادریہ برکاتیہ رضویہ نوریہ میں اجازت وخلافت عطا فرمائی۔
مزید یرآں حضرت مولانا وجیہہ الدین رضوی پیلی بھیتی علیہ الرحمۃ اور جانشین مفتی اعظم فقیہہ الاسلام مفتی محمد اختر رضا خاں ازہری قادریہ بریلوی دامت برکاتہم القدسیہ نے جمیع سلاسل کی اجازت وخلافت سے سر فراز فرمایا۔
فتویٰ نویسی:
حضرت مولانا مظہر حسن نے باضابطہ ۱۳۸۳ سے فتویٰن ویسی کا آغاز کیا۔ اور سب سے پہلا فتویٰ مسئلہ طلاق پر تحریر فرمایا۔ آپ کے فتاویٰ کثیر تعداد میں ہیں جو ابھی نشنۂ طباعت ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے یہ دعا ہے کہ یہ ذخیرہ بہت جلد قوم کے سامنے آئے تاکہ امت مسلمہ سے فائدہ اٹھا سکے ۔
❤1