🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
03-07-1445 ᴴ | 15-01-2024 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬ #فیضان_خواجہ_غریب_نواز ⓲ خواجہ معین الدین چشتیاجمیری رَضِیَ الـلّٰـهُ تَـبَـارَڪَ وَ تَـعَـالیٰ عَـنۡـهٗ
06-07-1445 ᴴ | 18-01-2024 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
#فیضان_خواجہ_غریب_نواز ⓴
خواجہ معین الدین چشتیاجمیری
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَـبَـارَڪَ وَ تَـعَـالیٰ عَـنۡـهٗ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
#فیضان_خواجہ_غریب_نواز ⓴
خواجہ معین الدین چشتیاجمیری
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَـبَـارَڪَ وَ تَـعَـالیٰ عَـنۡـهٗ
❤2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
06-07-1445 ᴴ | 18-01-2024 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
06-07-1445 ᴴ | 18-01-2024 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
ہمیں ہر سنی عالم سے پیار ہے...
हमें हर सुन्नी आ़लिम से प्यार है...
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
ہمیں ہر سنی عالم سے پیار ہے...
हमें हर सुन्नी आ़लिम से प्यार है...
❤2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤2
حضرت شیخ جلال الدین تبریزی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
آپ کا شمار بڑے کامل بزرگوں میں سے تھا، چشتی خاندان کے بزرگوں کی کتابوں میں آپ کے حالات و مناقب لکھے ہیں جو دیکھے جاسکتے ہیں۔
فوائد الفوائد:
میں سلطان المشائخ کے حوالہ سے لکھا ہے کہ شیخ جلال الدین تبریزی! شیخ ابوسعید تبریزی کے مُریدوں میں سے تھے، آپ اپنے شیخ ابوسعید کی وفات کے بعد شیخ شہاب الدین سہروردی کی خدمت میں گئے اور ان کی اتنی خدمت کی کہ کسی دوسرے مرید اور ارادت مند کو یہ بات نصیب نہ ہوئی تھی۔
خدمتِ مُرشد کا انوکھا انداز:
شیخ شہاب الدین ہر سال حج کے لیے تشریف لے جایا کرتے تھے، چونکہ بوڑھے اور کمزور ہوگئے تھے اور اشیاء خوردنی جو آپ کے ساتھ ہوتی تھیں بوجہ باسی ہوجانے کے آپ کے مزاج کے موافق نہ ہوتی تھیں، اس لیے شیخ جلال تبریزی نے یہ ترکیب کی کہ ایک چولہا اور برتن اپنے ساتھ رکھتے تھے اور چولہے میں اتنی آگ جلاتے تھے جس سے اس کی گرمی کا اثر سر پر نہ ہوتا تھا اور ان کے مرشد جب کھانا طلب کرتے تو ان کے سامنے گرم گرم کھانا لاتے، خواجہ قطب الدین اور شیخ بہاؤ الدین سے آپ کے دوستانہ مراسم تھے جن کا تذکرہ چشتیہ خاندان کے بزرگوں کی کتابوں میں بکثرت موجود ہے، شیخ جلال الدین تبریزی اپنے دوست خواجہ قطب الدین بختیار کاکی کے دہلی کے زمانہ میں دہلی آئے تھے، شیخ نجم الدین صغری جو دہلی کے شیخ الاسلام تھے جن کی مزار بُرہان الدین بلخی کے مزار کے پاس ہے، یہ شیخ الاسلام معلوم نہیں آپ کے کیوں مخالف ہوگئے اور آپ پر ایک بہت بُرے کام کی تہمت لگائی اور ایسی سازش کی جس کی وجہ سے آپ کو وطن ترک کرکے بنگال جانا پڑا، بنگال میں قیام کے زمانے میں آپ ایک دن دریا کے کنارے بیٹھے تھے کہ اچانک اٹھ کر تازہ وضو کرنے لگے، اور حاضرین سے فرمایا کہ آؤ شیخ الاسلام دہلوی کی نماز جنازہ پڑھ لیں جن کا حال ہی میں انتقال ہوگیا ہے، دہلی اور بنگال میں اتنی طویل مسافت کے باوجود شیخ جلال الدین تبریزی نے اپنی زبان میں شیخ الاسلام کی وفات کی اطلاع دی، اور شیخ کی غائبانہ نماز جنازہ پڑھی، پھر لوگوں کی طرف مخاطب ہوکر فرمانے لگے، شیخ الاسلام نے ہم کو دہلی سے نکالا اور ہمارے مرشد شیخ شہاب الدین سہروردی نے ان کو دنیا سے نکال دیا، نیز فوائدالفوائد میں بحوالہ سلطان المشائخ لکھا ہے کہ شیخ جلال الدین نے دہلی میں بہت کم عرصہ قیام کیا اور پھر وہاں سے چلے گئے وہ خود فرمایا کرتے تھے کہ میں جب دہلی آیا تھا تو خالص سونا تھا اور اب چاندی ہوں معلوم نہیں آئندہ چل کر کیا بن جاؤں، اسی موقع پر یہ بھی لکھا ہے کہ شیخ جلال الدین تبریزی، بدایوں کے قیام کے زمانے میں ایک روز اپنے مکان کی چوکھٹ پر بیٹھے تھے اور سامنے ایک دہی بیچنے والا دہی کا مٹکہ اپنے سر پر رکھ ہوئے گزرا جو فی الواقع چور اور ڈاکو تھا اور اس کی جماعت کے دوسرے افراد بدایوں کے گرد و نواح میں رہا کرتے تھے، اس نے ایک نظر شیخ جلال الدین تبریزی کے چہرے کو دیکھا ور ایک ہی بار دیکھنے سے اس کا باطن تبدیل ہوگیا اور جب شیخ نے اس کو غور سے دیکھا تو وہ چور کہنے لگا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی اُمت میں ایسے لوگ بھی ہیں۔
نگاہِ ولی میں یہ تاثیر دیکھی
بدلتی ہزاروں کی تقدیر دیکھی
اور آپ کے دستِ اقدس پر فوراً مسلمان ہوگیا، آپ نے اس کا پہلا نام بدل کر اسلامی نام ’’علی‘‘ رکھ دیا، وہ مسلمان ہونے کے بعد اپنے گھر گیا اور گھر سے ایک لاکھ جتیل (ایک قسم کا سکہ ہے) لایا اور شیخ کی خدمت میں پیش کیا، شیخ نے اس کا نذرانۂ محبت قبول فرمایا او رحکم دیا کہ اس نقدی کو اپنے پاس رکھو اور میں جسے کہوں دیتے جاؤ، غرض یہ کہ آپ نے یہ نقدی تقسیم کرنا شروع فرمادی، کسی کو سو، کسی کو پچاس، کسی کو کم کسی کو زیادہ اور پانچ جتیل سے کم کسی کو نہ دیتے تھے۔ تھوڑی ہی دیر میں تمام رقم ختم ہوگئی اور قاسم کے پاس ایک جتیل باقی بچا، اس علی کا بیان ہے کہ میرے دل میں آیا کہ میرے پاس تو صرف ایک جیتل باقی بچا ہے اور شیخ پانچ سے کم کا کسی کو دینے کا حکم نہیں دیتے، اگر اب کے آپ کسی کو دینے کا حکم دیں گے تو کیا کروں گا، سوچ رہا تھا کہ ایک فقیر نے آکر سوال کیا اور شیخ نے مجھے حکم دیا کہ اسے ایک جتیل دیدو، اسی کتاب میں یہ بھی لکھا ہے کہ شیخ شہاب الدین سہروردی، جب حج سے واپس تشریف لائے تو اہل بغداد کا آپ کے پاس ہجوم اکٹھا ہوگیا اور ہر ایک نے اپنی اپنی ہمت و طاقت کے موافق زر، نقد و اجناس وغیرہ بہت کچھ آپ کی خدمت میں پیش کیا، اسی اثناء میں ایک بوڑھی عورت حاضر ہوئی اور اس نے شیخ کی خدمت میں ایک درہم پیش کیا جس کو اس بڑھیا نے شیخ کے سامنے اپنی پُرانی چادر کی گرہ سے کھول کر نکالا تھا، شیخ نے بڑھیا کا پیش کردہ درہم تمام تحفوں کے اوپر نمایاں طور پر رکھ دیا، پھر تمام حاضرین سے مخاطب ہوکر فرمانے لگے آپ میں سے ہر ایک اپنی اپنی پسند کے موافق ان تحفوں کے ڈھیر میں سے جو چاہے اٹھالے چنانچہ سب آدمیوں نے اپنی اپنی پسند کے موافق زر و نقد، روپوں کی
آپ کا شمار بڑے کامل بزرگوں میں سے تھا، چشتی خاندان کے بزرگوں کی کتابوں میں آپ کے حالات و مناقب لکھے ہیں جو دیکھے جاسکتے ہیں۔
فوائد الفوائد:
میں سلطان المشائخ کے حوالہ سے لکھا ہے کہ شیخ جلال الدین تبریزی! شیخ ابوسعید تبریزی کے مُریدوں میں سے تھے، آپ اپنے شیخ ابوسعید کی وفات کے بعد شیخ شہاب الدین سہروردی کی خدمت میں گئے اور ان کی اتنی خدمت کی کہ کسی دوسرے مرید اور ارادت مند کو یہ بات نصیب نہ ہوئی تھی۔
خدمتِ مُرشد کا انوکھا انداز:
شیخ شہاب الدین ہر سال حج کے لیے تشریف لے جایا کرتے تھے، چونکہ بوڑھے اور کمزور ہوگئے تھے اور اشیاء خوردنی جو آپ کے ساتھ ہوتی تھیں بوجہ باسی ہوجانے کے آپ کے مزاج کے موافق نہ ہوتی تھیں، اس لیے شیخ جلال تبریزی نے یہ ترکیب کی کہ ایک چولہا اور برتن اپنے ساتھ رکھتے تھے اور چولہے میں اتنی آگ جلاتے تھے جس سے اس کی گرمی کا اثر سر پر نہ ہوتا تھا اور ان کے مرشد جب کھانا طلب کرتے تو ان کے سامنے گرم گرم کھانا لاتے، خواجہ قطب الدین اور شیخ بہاؤ الدین سے آپ کے دوستانہ مراسم تھے جن کا تذکرہ چشتیہ خاندان کے بزرگوں کی کتابوں میں بکثرت موجود ہے، شیخ جلال الدین تبریزی اپنے دوست خواجہ قطب الدین بختیار کاکی کے دہلی کے زمانہ میں دہلی آئے تھے، شیخ نجم الدین صغری جو دہلی کے شیخ الاسلام تھے جن کی مزار بُرہان الدین بلخی کے مزار کے پاس ہے، یہ شیخ الاسلام معلوم نہیں آپ کے کیوں مخالف ہوگئے اور آپ پر ایک بہت بُرے کام کی تہمت لگائی اور ایسی سازش کی جس کی وجہ سے آپ کو وطن ترک کرکے بنگال جانا پڑا، بنگال میں قیام کے زمانے میں آپ ایک دن دریا کے کنارے بیٹھے تھے کہ اچانک اٹھ کر تازہ وضو کرنے لگے، اور حاضرین سے فرمایا کہ آؤ شیخ الاسلام دہلوی کی نماز جنازہ پڑھ لیں جن کا حال ہی میں انتقال ہوگیا ہے، دہلی اور بنگال میں اتنی طویل مسافت کے باوجود شیخ جلال الدین تبریزی نے اپنی زبان میں شیخ الاسلام کی وفات کی اطلاع دی، اور شیخ کی غائبانہ نماز جنازہ پڑھی، پھر لوگوں کی طرف مخاطب ہوکر فرمانے لگے، شیخ الاسلام نے ہم کو دہلی سے نکالا اور ہمارے مرشد شیخ شہاب الدین سہروردی نے ان کو دنیا سے نکال دیا، نیز فوائدالفوائد میں بحوالہ سلطان المشائخ لکھا ہے کہ شیخ جلال الدین نے دہلی میں بہت کم عرصہ قیام کیا اور پھر وہاں سے چلے گئے وہ خود فرمایا کرتے تھے کہ میں جب دہلی آیا تھا تو خالص سونا تھا اور اب چاندی ہوں معلوم نہیں آئندہ چل کر کیا بن جاؤں، اسی موقع پر یہ بھی لکھا ہے کہ شیخ جلال الدین تبریزی، بدایوں کے قیام کے زمانے میں ایک روز اپنے مکان کی چوکھٹ پر بیٹھے تھے اور سامنے ایک دہی بیچنے والا دہی کا مٹکہ اپنے سر پر رکھ ہوئے گزرا جو فی الواقع چور اور ڈاکو تھا اور اس کی جماعت کے دوسرے افراد بدایوں کے گرد و نواح میں رہا کرتے تھے، اس نے ایک نظر شیخ جلال الدین تبریزی کے چہرے کو دیکھا ور ایک ہی بار دیکھنے سے اس کا باطن تبدیل ہوگیا اور جب شیخ نے اس کو غور سے دیکھا تو وہ چور کہنے لگا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی اُمت میں ایسے لوگ بھی ہیں۔
نگاہِ ولی میں یہ تاثیر دیکھی
بدلتی ہزاروں کی تقدیر دیکھی
اور آپ کے دستِ اقدس پر فوراً مسلمان ہوگیا، آپ نے اس کا پہلا نام بدل کر اسلامی نام ’’علی‘‘ رکھ دیا، وہ مسلمان ہونے کے بعد اپنے گھر گیا اور گھر سے ایک لاکھ جتیل (ایک قسم کا سکہ ہے) لایا اور شیخ کی خدمت میں پیش کیا، شیخ نے اس کا نذرانۂ محبت قبول فرمایا او رحکم دیا کہ اس نقدی کو اپنے پاس رکھو اور میں جسے کہوں دیتے جاؤ، غرض یہ کہ آپ نے یہ نقدی تقسیم کرنا شروع فرمادی، کسی کو سو، کسی کو پچاس، کسی کو کم کسی کو زیادہ اور پانچ جتیل سے کم کسی کو نہ دیتے تھے۔ تھوڑی ہی دیر میں تمام رقم ختم ہوگئی اور قاسم کے پاس ایک جتیل باقی بچا، اس علی کا بیان ہے کہ میرے دل میں آیا کہ میرے پاس تو صرف ایک جیتل باقی بچا ہے اور شیخ پانچ سے کم کا کسی کو دینے کا حکم نہیں دیتے، اگر اب کے آپ کسی کو دینے کا حکم دیں گے تو کیا کروں گا، سوچ رہا تھا کہ ایک فقیر نے آکر سوال کیا اور شیخ نے مجھے حکم دیا کہ اسے ایک جتیل دیدو، اسی کتاب میں یہ بھی لکھا ہے کہ شیخ شہاب الدین سہروردی، جب حج سے واپس تشریف لائے تو اہل بغداد کا آپ کے پاس ہجوم اکٹھا ہوگیا اور ہر ایک نے اپنی اپنی ہمت و طاقت کے موافق زر، نقد و اجناس وغیرہ بہت کچھ آپ کی خدمت میں پیش کیا، اسی اثناء میں ایک بوڑھی عورت حاضر ہوئی اور اس نے شیخ کی خدمت میں ایک درہم پیش کیا جس کو اس بڑھیا نے شیخ کے سامنے اپنی پُرانی چادر کی گرہ سے کھول کر نکالا تھا، شیخ نے بڑھیا کا پیش کردہ درہم تمام تحفوں کے اوپر نمایاں طور پر رکھ دیا، پھر تمام حاضرین سے مخاطب ہوکر فرمانے لگے آپ میں سے ہر ایک اپنی اپنی پسند کے موافق ان تحفوں کے ڈھیر میں سے جو چاہے اٹھالے چنانچہ سب آدمیوں نے اپنی اپنی پسند کے موافق زر و نقد، روپوں کی