شیخ الاسلام مخدوم محمد ہاشم ٹھٹوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
نام و نسب:
آپ کا اسمِ گرامی محمد ہاشم ـ کنیت: ابو عبد الرحمن ـ القاب: شیخ الاسلام ، شمس الملت والدین ، اور مخدوم المخادیم ہیں ۔
آپ کا شجرۂ نسب اس طرح ہے:
محمد ہاشم بن عبد الغفور بن عبد الرحمن بن عبد اللطیف بن عبد الرحمن بن خیر الدین حارثی (رحمہم اللہ تعالیٰ) ۔
تاریخِ ولادت:
بروز جمعرات 10 ربیع الاول 1104ھ بمطابق 1292ء کو بٹھورہ شہر ( ضلع ٹھٹھہ ، سندھ ) میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
ابتدائی تعلیم اپنے والدِ ماجد سے حاصل کی، صرف 6 ماہ میں قرآنِ مجید مکمل کیا، باقی علوم کی تکمیل حضرت مخدوم محمد سعید اور مولانا محمد ضیاء الدین سے کی ۔ علومِ حدیث آپ نے مخدوم محمد معین ٹھٹھوی سے حاصل کیے ۔ تمام علوم و فنون 9 سال کے مختصر عرصے میں حاصل کیے ۔
بیعت و خلافت:
قطبِ ربانی سید سعد اللہ قادری بن سید غلام محمد سورتی قادری علیہ الرحمہ (المتوفیٰ 1138ھ) کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے ۔ حضرت نے آپ کو خرقۂ خلافت عطا فرمایا ۔
سیرت و خصائص:
شیخ الاسلام مخدوم محمد ہاشم ٹھٹوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ مخدوم المخادیم ، سند الاقالیم ، ملجأ الفقھاء والمحدثین نسباً حارثی (پنھور ) مسلکا حنفی ، مشربًا قادری اور مولدًا سندھی تھے ـ
شیخ الاسلام علامہ مخدوم محمد ہاشم ٹھٹوی علم و فضل، معرفت و عرفان اور تصوف و ایقان کے بے تاج بادشاہ تھے ۔
حضرت مخدوم صاحب قدس سرہ العزیز کو علمی دنیا اور مذہبی تاریخ میں ایک خاص اہمیت اور عظمت حاصل ہے ۔ وہ ذاتِ فرشتہ صفات ایک رحمت کا خورشید تھا جو خلقِ خدا کو بہم روشنی پہنچاتا تھا، اور رحمت کا ایک بادل تھا کہ دنیا اس عنایت کی بارش سے فیض حاصل کرتی تھی ۔
تقریبًا نصف صدی تک ان کی خانقاہ علم و فضل کا گہوارہ اور ارشاد و تلقین کا مرکز رہی ۔ ہزاروں تشنگانِ علم نے وہاں آ کر اپنی پیاس بجھائی اور سینکڑوں گم گشتگان علم نے وہاں آکر روشنی حاصل کی ۔
آپ بتاریخ ۹ رجب المرجب بروز جمعرات ۱۱۳۶ھ مدینہ طیبہ میں سر کار دو عالم ﷺ کی زیارت سے مشرف ہوئے جس کو آپ نے بطور یاد داشت ایک کتاب کے حاشیہ میں تحریر فرمایا ۔ " بندہ روضۂ رسول اکرم ﷺ پر حاضر ہوا اور صلوۃ و سلام کا نذرانہ پیش کیا تو سرکار دو عالم ﷺ نے اس حقیر کو جواب دیا اور فرمایا: " وعلیکم السلام یا محمد ھاشم التتوی ۔ " اس سے بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ آپ کو دربارِ رسالت مآب ﷺ میں کیا مرتبہ حاصل ہے ۔
حضرت شیخ الاسلام قدس سرہ العزیز کی زندگی کا تخصص ہی عشق رسول اکرم ﷺ تھا ۔ عشق رسالت مآب ﷺ آپ کو ورثہ میں ملا تھا ۔ جس کا اثر آپ کی زندگی پر نمایاں نظر آتا تھا ۔ آپ کا سب کچھ سنت رسول ﷺ کے مطابق ہوتا تھا ۔
آپ سنت مطہرہ کا بہترین نمونہ تھے ۔ آپ کی تعلیمات و ارشادات سے غیر مسلمین کی کثیر تعداد دائرہ اسلام میں داخل ہوئی ۔ اسی طرح سندھ کے عوام اہلِ سنت کے عقائد آپ کی ذاتِ والا صفات سے محفوظ ہوئے ۔ آپ نے اہلِ اسلام کے لئے تصانیف کا مفید ذخیرہ یاد گار چھوڑا ہے ۔
وصال:
بروز جمعرات 6 رجب المرجب 1174ھ / بمطابق 1716ء کو آپ کا وصال ہوا ـ
مزار مبارک:
شہر مکلی ( ضلع ٹھٹھہ ) میں آپ کا مزار مبارک مرجع خلائق ہے ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/sheikh-ul-islam-allama-makhdoom-hashim-thathwi
نام و نسب:
آپ کا اسمِ گرامی محمد ہاشم ـ کنیت: ابو عبد الرحمن ـ القاب: شیخ الاسلام ، شمس الملت والدین ، اور مخدوم المخادیم ہیں ۔
آپ کا شجرۂ نسب اس طرح ہے:
محمد ہاشم بن عبد الغفور بن عبد الرحمن بن عبد اللطیف بن عبد الرحمن بن خیر الدین حارثی (رحمہم اللہ تعالیٰ) ۔
تاریخِ ولادت:
بروز جمعرات 10 ربیع الاول 1104ھ بمطابق 1292ء کو بٹھورہ شہر ( ضلع ٹھٹھہ ، سندھ ) میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
ابتدائی تعلیم اپنے والدِ ماجد سے حاصل کی، صرف 6 ماہ میں قرآنِ مجید مکمل کیا، باقی علوم کی تکمیل حضرت مخدوم محمد سعید اور مولانا محمد ضیاء الدین سے کی ۔ علومِ حدیث آپ نے مخدوم محمد معین ٹھٹھوی سے حاصل کیے ۔ تمام علوم و فنون 9 سال کے مختصر عرصے میں حاصل کیے ۔
بیعت و خلافت:
قطبِ ربانی سید سعد اللہ قادری بن سید غلام محمد سورتی قادری علیہ الرحمہ (المتوفیٰ 1138ھ) کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے ۔ حضرت نے آپ کو خرقۂ خلافت عطا فرمایا ۔
سیرت و خصائص:
شیخ الاسلام مخدوم محمد ہاشم ٹھٹوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ مخدوم المخادیم ، سند الاقالیم ، ملجأ الفقھاء والمحدثین نسباً حارثی (پنھور ) مسلکا حنفی ، مشربًا قادری اور مولدًا سندھی تھے ـ
شیخ الاسلام علامہ مخدوم محمد ہاشم ٹھٹوی علم و فضل، معرفت و عرفان اور تصوف و ایقان کے بے تاج بادشاہ تھے ۔
حضرت مخدوم صاحب قدس سرہ العزیز کو علمی دنیا اور مذہبی تاریخ میں ایک خاص اہمیت اور عظمت حاصل ہے ۔ وہ ذاتِ فرشتہ صفات ایک رحمت کا خورشید تھا جو خلقِ خدا کو بہم روشنی پہنچاتا تھا، اور رحمت کا ایک بادل تھا کہ دنیا اس عنایت کی بارش سے فیض حاصل کرتی تھی ۔
تقریبًا نصف صدی تک ان کی خانقاہ علم و فضل کا گہوارہ اور ارشاد و تلقین کا مرکز رہی ۔ ہزاروں تشنگانِ علم نے وہاں آ کر اپنی پیاس بجھائی اور سینکڑوں گم گشتگان علم نے وہاں آکر روشنی حاصل کی ۔
آپ بتاریخ ۹ رجب المرجب بروز جمعرات ۱۱۳۶ھ مدینہ طیبہ میں سر کار دو عالم ﷺ کی زیارت سے مشرف ہوئے جس کو آپ نے بطور یاد داشت ایک کتاب کے حاشیہ میں تحریر فرمایا ۔ " بندہ روضۂ رسول اکرم ﷺ پر حاضر ہوا اور صلوۃ و سلام کا نذرانہ پیش کیا تو سرکار دو عالم ﷺ نے اس حقیر کو جواب دیا اور فرمایا: " وعلیکم السلام یا محمد ھاشم التتوی ۔ " اس سے بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ آپ کو دربارِ رسالت مآب ﷺ میں کیا مرتبہ حاصل ہے ۔
حضرت شیخ الاسلام قدس سرہ العزیز کی زندگی کا تخصص ہی عشق رسول اکرم ﷺ تھا ۔ عشق رسالت مآب ﷺ آپ کو ورثہ میں ملا تھا ۔ جس کا اثر آپ کی زندگی پر نمایاں نظر آتا تھا ۔ آپ کا سب کچھ سنت رسول ﷺ کے مطابق ہوتا تھا ۔
آپ سنت مطہرہ کا بہترین نمونہ تھے ۔ آپ کی تعلیمات و ارشادات سے غیر مسلمین کی کثیر تعداد دائرہ اسلام میں داخل ہوئی ۔ اسی طرح سندھ کے عوام اہلِ سنت کے عقائد آپ کی ذاتِ والا صفات سے محفوظ ہوئے ۔ آپ نے اہلِ اسلام کے لئے تصانیف کا مفید ذخیرہ یاد گار چھوڑا ہے ۔
وصال:
بروز جمعرات 6 رجب المرجب 1174ھ / بمطابق 1716ء کو آپ کا وصال ہوا ـ
مزار مبارک:
شہر مکلی ( ضلع ٹھٹھہ ) میں آپ کا مزار مبارک مرجع خلائق ہے ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/sheikh-ul-islam-allama-makhdoom-hashim-thathwi
scholars.pk
Hazrat Sheikh-ul-Islam Allama Makhdoom Hashim Thathwi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤2
معین الدین حسن سَنجری یا سِجزی ؟
تحقیق وتحریر ✍ لقمان شاہد
ہندستان کے مشہور صوفی بزرگ حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمہ اللہ کا نامِ پاک حسن ہے ، اور عوام وخواص آپ کو " حسن سنجری " کہتے ، لکھتے ہیں -
آپ کو سنجری کہنا ، لکھنا درست نہیں ؛ اصل لفظ سجز ( سِ جْ ز ) ہے ، جس کے ساتھ یائے نسبتی لگانے سے سِجزی بنا -
اِس کی وجہ یہ ہے کہ آپ رحمہ اللہ کا تعلق علاقہ " سجز " سے تھا ، جو کہ سجستان کامخفف اور سیستان کا معرب ہے -
(دیکھیے: مناقب الحبیب مترجم ، حاجی خواجہ نجم الدین ، م 1287 ھ ، ص 51 ، دارالاسلام لاہور )
{ ایک بات یاد رہے کہ:
مناقب الحبیب کا کچھ ماہ پہلے دارالاسلام سے ترجمہ چھپا ہے ، جس میں لفظ سجز کو کاتب نے سنجر کر دیا ہے ، جوکہ غلط ہے ؛ حضرتِ مصنف قدس سرہ نے با قاعدہ اس کا تلفظ اِن الفاظ میں لکھا ہے : سین مہملہ کی کسرہ ، جیم کے سکون اور رائے معجمہ - ( ص 51 )
مصنف نے راے معجمہ ، نقطے والے ز کو کہا ہے جسے کاتب ر سمجھتا رہا }
اِس علاقے سے منسوب کو " سنجری " کہنا بالکل غلط ہے ، درست سجزی ہے -
حافظ ابوبکر حازمی کہتے ہیں :
سجز ، سجستان کانام ہے ، جس سے منسوب سجزی کہلاتا ہے -
( انظر: تھذیب الاسماء واللغات ، امام نووی ، فصل فی اسماءالمواضع ، ج 3 ، ص 159 ، دارالکتب العلمیہ بیروت )
ثقہ مورخ علامہ یاقوت حموی م 626 ھ ، کہتے ہیں :
سجز کے سین پر زیر ، جیم ساکن اور آخر میں ز ہے...........اس سے منسوب سجزی کہلاتاہے -
( معجم البلدان ، ج 3 ، ص 189 ، دارصادر بیروت )
لہٰذا آپ کا نام پاک ہوا :
حضرت خواجہ معین الدین حسن سِجۡزِیۡ نوراللہ مرقدہ
☀️ خواجہ عثمان ہارونی یا ہرونی؟ ☀️
حضور خواجہ غریب نواز معین الدین اجمیری کے مرشد گرامی ، خواجہ عثمان رحمہ اللہ کے متعلق فیض ملت مفتی فیض احمد اویسی قدس سرہ کہتے ہیں:
حضرت عثمان ہرونی ملک خراسان کے قصبہ ہرون میں پیداہوئے..........ہرونی کو لوگ ہارونی کہتے ہیں جوبالکل غلط ہے -
( حاشیہ: اخبارالاخیارمترجم ، طبقہ اول ، ص 86 ، زاویہ پبلشرز لاہور )
( لقمان شاہد )
https://t.me/FaizaneAlaHazrat/364853
تحقیق وتحریر ✍ لقمان شاہد
ہندستان کے مشہور صوفی بزرگ حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمہ اللہ کا نامِ پاک حسن ہے ، اور عوام وخواص آپ کو " حسن سنجری " کہتے ، لکھتے ہیں -
آپ کو سنجری کہنا ، لکھنا درست نہیں ؛ اصل لفظ سجز ( سِ جْ ز ) ہے ، جس کے ساتھ یائے نسبتی لگانے سے سِجزی بنا -
اِس کی وجہ یہ ہے کہ آپ رحمہ اللہ کا تعلق علاقہ " سجز " سے تھا ، جو کہ سجستان کامخفف اور سیستان کا معرب ہے -
(دیکھیے: مناقب الحبیب مترجم ، حاجی خواجہ نجم الدین ، م 1287 ھ ، ص 51 ، دارالاسلام لاہور )
{ ایک بات یاد رہے کہ:
مناقب الحبیب کا کچھ ماہ پہلے دارالاسلام سے ترجمہ چھپا ہے ، جس میں لفظ سجز کو کاتب نے سنجر کر دیا ہے ، جوکہ غلط ہے ؛ حضرتِ مصنف قدس سرہ نے با قاعدہ اس کا تلفظ اِن الفاظ میں لکھا ہے : سین مہملہ کی کسرہ ، جیم کے سکون اور رائے معجمہ - ( ص 51 )
مصنف نے راے معجمہ ، نقطے والے ز کو کہا ہے جسے کاتب ر سمجھتا رہا }
اِس علاقے سے منسوب کو " سنجری " کہنا بالکل غلط ہے ، درست سجزی ہے -
حافظ ابوبکر حازمی کہتے ہیں :
سجز ، سجستان کانام ہے ، جس سے منسوب سجزی کہلاتا ہے -
( انظر: تھذیب الاسماء واللغات ، امام نووی ، فصل فی اسماءالمواضع ، ج 3 ، ص 159 ، دارالکتب العلمیہ بیروت )
ثقہ مورخ علامہ یاقوت حموی م 626 ھ ، کہتے ہیں :
سجز کے سین پر زیر ، جیم ساکن اور آخر میں ز ہے...........اس سے منسوب سجزی کہلاتاہے -
( معجم البلدان ، ج 3 ، ص 189 ، دارصادر بیروت )
لہٰذا آپ کا نام پاک ہوا :
حضرت خواجہ معین الدین حسن سِجۡزِیۡ نوراللہ مرقدہ
☀️ خواجہ عثمان ہارونی یا ہرونی؟ ☀️
حضور خواجہ غریب نواز معین الدین اجمیری کے مرشد گرامی ، خواجہ عثمان رحمہ اللہ کے متعلق فیض ملت مفتی فیض احمد اویسی قدس سرہ کہتے ہیں:
حضرت عثمان ہرونی ملک خراسان کے قصبہ ہرون میں پیداہوئے..........ہرونی کو لوگ ہارونی کہتے ہیں جوبالکل غلط ہے -
( حاشیہ: اخبارالاخیارمترجم ، طبقہ اول ، ص 86 ، زاویہ پبلشرز لاہور )
( لقمان شاہد )
https://t.me/FaizaneAlaHazrat/364853
❤2
سلطان الہند، خواجہ غریب نواز، خواجہ معین الدین حسن چشتی اجمیری، رضی اللہ تعالی عنہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: سید محمد حسن ـ کنیت: معین الدین، لقب: سلطان الہند ، خواجہ غریب نواز، عطائے رسول، نائب النبی فی الہند معروف ہیں ۔ آپ نجیب الطرفین سید ہیں ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
خواجہ معین الدین بن سید غیاث الدین حسن سنجری بن کمال الدین سید احمد حسن بن سید نجم الدین طاہر بن سید عبد العزیز بن سید ابراہیم بن امام علی رضا بن امام موسی کاظم بن امام جعفر صادق بن امام محمد باقر بن امام زین العابدین بن امام حسین بن علی المرتضی ۔ (علیہم الرحمہ) ـ
تاریخِ ولادت:
آپ 14 رجب ۵۳۰ھ / بمطابق ۱۱۳۵ء میں بمقام "سنجر" (ایران) سید غیاث الدین کے گھر پیدا ہوئے ۔ آپ کی نشو و نما "خراسان" میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
ابتدائی تعلیم اپنے گھر پر ہوئی ۔ مزید حصولِ علم کے لئے ”سمرقند“ اور ”بخارا“ کی طرف سفر کیا کیونکہ ان ایام میں یہی بلاد علوم و فنون کے مراکز تھے ۔حفظ القرآن، اور چند ابتدائی علوم و فنون کی کتب مولانا شرف الدین علیہ الرحمہ سے پڑھیں ۔ جمیع علومِ نقلیہ و عقلیہ کی تکمیل مولانا حسام الدین بخاری علیہ الرحمہ ہوئی ۔
بیعت و خلافت:
شیخ الاسلام حضرت خواجہ عثمان ہارونی علیہ الرحمہ سے ۵۵۸ ھ میں بیعت و خلافت حاصل ہوئی ۔
سیرت و خصائص:
حضرت سلطان الہند محسن ہند ہیں ۔ بر صغیر میں اسلام کی دلکش بہاریں آپ کی دعوت و تبلیغ اور رشد و ہدایت کا نتیجہ ہیں ۔ آپ کے خلفاء و متوسلین خاکِ ہند کے جس خطے پر پہنچے، اسلام کا بول بالا ہوتا چلا گیا ۔ نورِ ہدایت پھیلتا چلا گیا اور کفر کا اندھیرا چھٹتا چلا گیا ۔ آپ کی کرامت آثار نگاہِ فیض سے بِالکل پہلی بار دہلی اور اجمیر کے ایوانوں میں مسلمانوں کی حکومت کا پرچم لہرایا ۔
سیر الاولیاء کے مصنف سید
کرمانی (م ۷۷۰ھ) رقم طراز ہیں:
اس آفتاب (خواجہ) کے طلوع ہونے سے قبل پورے ہندستان میں کفر و بت پرستی کا رواج تھا اور ہند کا ہر سر کش ”انا ربکم الاعلٰی“ کا دعوی کرتا تھا، اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کا شریک کہتا تھا، وہ پتھر، ڈھیلے، گھر، درخت، چوپایوں اور گائے اور ان کے گوبر کو سجدہ کرتے تھے ۔ اور کفر کی تاریکی سے ان کے دلوں کے تالے اور بھی مضبوط ہو رہے تھے ۔ اہل یقین کے اس آفتاب کے مبارک قدموں کی برکت سے جو در حقیقت معین الدین تھے، اس ملک کی تاریکی اسلام کے نور سے جگمگا اٹھی ۔ [سیر الاولیاء ص ۴۷] ـ
آپ کی نگاہِ ولایت جس شخص پر پڑتی دل کی دنیا بدل جاتی، رہزن آتا رہبر بن جاتا، قاتل آتا محافظ بن جاتا، سرکش آتا غلام بن جاتا، کافر آتا مسلمان بن جاتا، فاسق آتا متقی بن جاتا، دشمن آتا حاشیہ بردار بن جاتا، جادوگر آتا تائب ہوکر عاملِ قرآن بن جاتا ۔
رسالہ ”احوال پیران ِچشت“ میں ہے:
”نظر شیخ معین الدین بر فاسق کہ افتادے در زمان تائب شدے، باز دگر معصیت نہ کردے“ یعنی حضرت خواجہ معین الدین چشتی کی نگاہ جس فاسق پر پڑ جاتی اسی وقت توبہ کر لیتا اور پھر گناہ کے قریب نہ بھٹکتا ۔
برادرِ اعلی حضرت ، اُستاذ زمن
علامہ حسن رضا بریلوی فرماتے ہیں:
؎ خفتگانِ شب ِغفلت کوجگا دیتا ہے
سالہا سال وہ راتوں کو نہ سونا تیرا
حضرت سلطان الہند نے ہندوستان میں بلا شبہ کفر شکن تحریک برپا کی تھی ۔ جو کام ہزاروں تلواریں نہیں کر سکیں، وہ ایک عارف باللہ کی خاموش اور اخلاقی تحریک نے کر دِکھایا ۔ آپ کی کوششوں سے ہندوستان ”دار الاسلام“ بن گیا ۔
وصال:
سلطان الہند کا وصال پر ملال 6 رجب المرجب ٦٣٣ ھ / بمطابق ۱۲۲۹ء میں ہوا ۔
وقتِ وصال آپ کی مقدس پیشانی پر یہ نقشِ جمیل ظاہر ہوا: ھذا حبیب اللہ مات فی حب اللہ ۔ [اخبارالا خیار، ص،٦٦] ۔
مزار مبارک:
آپ کا مزارِ مبارک، اجمیر شریف (انڈیا) میں منبع فیوض و برکات ہے ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-moinuddin-chishti-ajmeri
نام و نسب:
اسمِ گرامی: سید محمد حسن ـ کنیت: معین الدین، لقب: سلطان الہند ، خواجہ غریب نواز، عطائے رسول، نائب النبی فی الہند معروف ہیں ۔ آپ نجیب الطرفین سید ہیں ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
خواجہ معین الدین بن سید غیاث الدین حسن سنجری بن کمال الدین سید احمد حسن بن سید نجم الدین طاہر بن سید عبد العزیز بن سید ابراہیم بن امام علی رضا بن امام موسی کاظم بن امام جعفر صادق بن امام محمد باقر بن امام زین العابدین بن امام حسین بن علی المرتضی ۔ (علیہم الرحمہ) ـ
تاریخِ ولادت:
آپ 14 رجب ۵۳۰ھ / بمطابق ۱۱۳۵ء میں بمقام "سنجر" (ایران) سید غیاث الدین کے گھر پیدا ہوئے ۔ آپ کی نشو و نما "خراسان" میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
ابتدائی تعلیم اپنے گھر پر ہوئی ۔ مزید حصولِ علم کے لئے ”سمرقند“ اور ”بخارا“ کی طرف سفر کیا کیونکہ ان ایام میں یہی بلاد علوم و فنون کے مراکز تھے ۔حفظ القرآن، اور چند ابتدائی علوم و فنون کی کتب مولانا شرف الدین علیہ الرحمہ سے پڑھیں ۔ جمیع علومِ نقلیہ و عقلیہ کی تکمیل مولانا حسام الدین بخاری علیہ الرحمہ ہوئی ۔
بیعت و خلافت:
شیخ الاسلام حضرت خواجہ عثمان ہارونی علیہ الرحمہ سے ۵۵۸ ھ میں بیعت و خلافت حاصل ہوئی ۔
سیرت و خصائص:
حضرت سلطان الہند محسن ہند ہیں ۔ بر صغیر میں اسلام کی دلکش بہاریں آپ کی دعوت و تبلیغ اور رشد و ہدایت کا نتیجہ ہیں ۔ آپ کے خلفاء و متوسلین خاکِ ہند کے جس خطے پر پہنچے، اسلام کا بول بالا ہوتا چلا گیا ۔ نورِ ہدایت پھیلتا چلا گیا اور کفر کا اندھیرا چھٹتا چلا گیا ۔ آپ کی کرامت آثار نگاہِ فیض سے بِالکل پہلی بار دہلی اور اجمیر کے ایوانوں میں مسلمانوں کی حکومت کا پرچم لہرایا ۔
سیر الاولیاء کے مصنف سید
کرمانی (م ۷۷۰ھ) رقم طراز ہیں:
اس آفتاب (خواجہ) کے طلوع ہونے سے قبل پورے ہندستان میں کفر و بت پرستی کا رواج تھا اور ہند کا ہر سر کش ”انا ربکم الاعلٰی“ کا دعوی کرتا تھا، اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کا شریک کہتا تھا، وہ پتھر، ڈھیلے، گھر، درخت، چوپایوں اور گائے اور ان کے گوبر کو سجدہ کرتے تھے ۔ اور کفر کی تاریکی سے ان کے دلوں کے تالے اور بھی مضبوط ہو رہے تھے ۔ اہل یقین کے اس آفتاب کے مبارک قدموں کی برکت سے جو در حقیقت معین الدین تھے، اس ملک کی تاریکی اسلام کے نور سے جگمگا اٹھی ۔ [سیر الاولیاء ص ۴۷] ـ
آپ کی نگاہِ ولایت جس شخص پر پڑتی دل کی دنیا بدل جاتی، رہزن آتا رہبر بن جاتا، قاتل آتا محافظ بن جاتا، سرکش آتا غلام بن جاتا، کافر آتا مسلمان بن جاتا، فاسق آتا متقی بن جاتا، دشمن آتا حاشیہ بردار بن جاتا، جادوگر آتا تائب ہوکر عاملِ قرآن بن جاتا ۔
رسالہ ”احوال پیران ِچشت“ میں ہے:
”نظر شیخ معین الدین بر فاسق کہ افتادے در زمان تائب شدے، باز دگر معصیت نہ کردے“ یعنی حضرت خواجہ معین الدین چشتی کی نگاہ جس فاسق پر پڑ جاتی اسی وقت توبہ کر لیتا اور پھر گناہ کے قریب نہ بھٹکتا ۔
برادرِ اعلی حضرت ، اُستاذ زمن
علامہ حسن رضا بریلوی فرماتے ہیں:
؎ خفتگانِ شب ِغفلت کوجگا دیتا ہے
سالہا سال وہ راتوں کو نہ سونا تیرا
حضرت سلطان الہند نے ہندوستان میں بلا شبہ کفر شکن تحریک برپا کی تھی ۔ جو کام ہزاروں تلواریں نہیں کر سکیں، وہ ایک عارف باللہ کی خاموش اور اخلاقی تحریک نے کر دِکھایا ۔ آپ کی کوششوں سے ہندوستان ”دار الاسلام“ بن گیا ۔
وصال:
سلطان الہند کا وصال پر ملال 6 رجب المرجب ٦٣٣ ھ / بمطابق ۱۲۲۹ء میں ہوا ۔
وقتِ وصال آپ کی مقدس پیشانی پر یہ نقشِ جمیل ظاہر ہوا: ھذا حبیب اللہ مات فی حب اللہ ۔ [اخبارالا خیار، ص،٦٦] ۔
مزار مبارک:
آپ کا مزارِ مبارک، اجمیر شریف (انڈیا) میں منبع فیوض و برکات ہے ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-moinuddin-chishti-ajmeri
❤3👍2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
05-07-1445 ᴴ | 17-01-2024 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
06-07-1445 ᴴ | 18-01-2024 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤2