🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
05-07-1445 ᴴ | 17-01-2024 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
05-07-1445 ᴴ | 17-01-2024 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
05-07-1445 ᴴ | 17-01-2024 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
05-07-1445 ᴴ | 17-01-2024 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
حضرت مولانا پیر غلام مجدد سرہندی رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: پیر غلام جان مجددی ۔ لقب: مجددی ، سرہندی ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
علامہ مولانا پیر غلام مجدد بن عبد الحلیم بن عبد الرحیم بن خواجہ محمد ضیاء الحق بن خواجہ غلام نبی بن خواجہ غلام حسن بن خواجہ غلام محمد بن خواجہ غلام معصوم بن خواجہ محمد اسماعیل بن خواجہ محمد بن خواجہ محمد معصوم بن امام ربانی شیخ احمد سرہندی ۔ علیہم الرحمۃ والرضوان۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 6 رجب المرجب 1300ھ / مطابق 14 مئی 1883ء، بروز پیر بوقتِ صبح صادق علاقہ "مٹیاری" ضلع حیدر آباد میں ہوئی ۔ اب مٹیاری خود ایک ضلع بن چکا ہے ۔
تحصیلِ علم:
چار سال کی عمر میں آپ کی رسم بسم اللہ آپ کے جد امجد خواجہ عبدالرحیم نے کرائی، قرآن پاک آپ نے قاری عبد الرحمن متعلوی سے پڑھا، فارسی کی تعلیم جناب عزیز اللہ خان سلیمان خیل قندھاری سے اور عربی کی تعلیم علامہ محمد حسن اللہ صدیقی پاٹائی سے مٹیاری کی درگاہ شریف میں ہی حاصل کی ، سترہ سال کی عمر میں فارغ التحصیل ہوگئے۔ آپ کے والد گرامی نے تین سو علماء کی موجودگی میں آپ کو دستار فضیلت عطا فرمائی۔ اسی (80) علماء کے اجتماع میں آپ نےپہلی بارتقریرفرمائی جس کو سن کرعلماءبھی عش عش کراٹھے۔ مکۃ المکرمہ میں علامہ سید علی بن ظاہروتری اور حضرت مولانا عبدالحق الہ آبادی مہاجر مکی سے بطورِ برکت کتب حدیث پڑھیں اور سند حاصل کی۔عمدہ عمدہ کتابوں کا آپ کو بہت شوق تھا، یہی شوق تھا جس کے باعث آپ نے مدینہ منورہ سے اسی ہزار روپے کی نایاب کتابیں خرید فرمائیں۔ آج بھی آپ کے کتب خانے پرآپ کی خریدی ہوئی نایاب کتابوں کا ایک عظیم ذخیرہ موجود ہے۔
بیعت و خلافت:
آپ کو اپنے جد امجد خواجہ عبد الرحیم سے شرف بیعت حاصل تھا، اور اجازت و خلافت اپنے والد گرامی خواجہ عبد الحلیم سے حاصل تھی آپ کا سلسلہ طریقت اور سلسلہ نسب ایک ہی ہے جو اوپر مذکور ہوا۔
سیرت و خصائص:
شیخ الوقت، عالمِ ربانی، عارف اسرار یزدانی، صاحبِ علم و تقویٰ، خانوادۂ مجدد الفِ ثانی کے بطلِ جلیل حضرت علامہ مولانا پیر غلام جان سرہندی نقشبندی مجددی رحمۃ اللہ علیہ ۔ آپ ایک ہمہ گیر اور ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے ۔ آپ کی زندگی ایک مومنانہ و مجاہدانہ تھی ۔ سیرت و کردار، علم و عمل، تقویٰ وطہارت، ہمدردی و اخوت تمام معاملات میں یادگارِاسلاف تھے۔جذبۂ حریت وغیرت آپ کی رگ وخون میں شامل تھا۔ یہی وجہ ہےکہ آپ نےانگریزوں کےخلاف اورمسلمانوں کی حمایت میں تمام تحریکوں میں قائدانہ کردار ادا کیا۔
فرنگیوں سے نفرت:
آپ کو فرنگیوں اور انگریزوں سے اور ان کی حکومت سے سخت نفرت تھی ۔ آپ کو بڑی بڑی پیشکشیں کی گئیں، لیکن آپ نے سب کو ٹھکرا دیا ۔ تحریکِ خلافت کے دوران آپ بذریعہ ریل دورے پر جا رہے تھے کہ راستے میں انگریز کلکٹر مسٹر گپس نے آپ کو دیکھ کر آپ کے لئے شربت منگوایا لیکن آپ نے اس کا منگایا ہوا شربت پینے سےانکار کر دیا اور فرمایا: "کہ اگر اس گلاس میں شربت کی جگہ تمہارا خون ہوتا تو میں ضرور پیتا اس لئے کے تم ہمارے ترک بھائیوں کا خون پی رہے ہو" یہ سن کر انگریز کلکٹر کھسیانا سا ہو کر کہنے لگا کہ "شاید ان پر مذہبی جنون غالب آ گیا ہے ۔ "
قید و بند:
ترک موالات کی تحریک میں آپ نے بھر پور حصہ لیا اور سندھ کے چپہ چپہ پر جلسے کرکے انگریزوں کے مکرو فریب سے لوگوں کو آگاہ کیا ۔ کراچی کی عظیم کانفرنس میں انگریزوں کے خلاف جو فتویٰ صاد ر کیا گیا تھا اس میں علی برادران ، مولانا نثار احمد کانپوری کے علاوہ چھٹے نمبر پر آپ کے دستخط بھی تھے۔
اس جرم کی پاداش میں خالق دینا ہال کراچی میں آپ پر مقدمہ چلایا گیا اور آپ کو دو سال قید کی سزا سنائی گئی سزا سننے کے بعد آپ نے فرمایا کہ قید تو میرا ورثہ ہے کیوں کہ میں غلامِ مجدد اور اولادِ مجدد ہوں جن کو جہانگیر بادشاہ نے قلعہ گوالیار میں نظر بند کر دیا تھا ۔ پھر ارشاد فرمایا:" کاش! آج مجھ پر یہ مقدمہ ہوتاکہ میں نے وقت کے انگریز بادشاہ جارج پنجم کو قتل کیا ہے اور اس کے خون سے میرے ہاتھ رنگے ہوتے"۔آپ نے بڑے تحمل سے یہ دوسال کا عرصہ جیل میں گزارا اور اس عرصہ میں قرآن پاک پورا حفظ کر لیا۔ آپ نے جیل میں بڑی بڑی صعوبتیں برداشت کیں ، سردی کی راتوں میں آپ کی کوٹھڑی کے اندر ٹھنڈا پانی چھوڑ دیا جاتا تھا۔ تاکہ آپ ساری رات کھڑے ہو کر گزاریں اور نماز نہ پڑھ سکیں، بتیاں بند کر دی جاتی تھیں تاکہ آپ تلاوت قرآن پاک نہ کر سکیں ۔
نام و نسب:
اسمِ گرامی: پیر غلام جان مجددی ۔ لقب: مجددی ، سرہندی ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
علامہ مولانا پیر غلام مجدد بن عبد الحلیم بن عبد الرحیم بن خواجہ محمد ضیاء الحق بن خواجہ غلام نبی بن خواجہ غلام حسن بن خواجہ غلام محمد بن خواجہ غلام معصوم بن خواجہ محمد اسماعیل بن خواجہ محمد بن خواجہ محمد معصوم بن امام ربانی شیخ احمد سرہندی ۔ علیہم الرحمۃ والرضوان۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 6 رجب المرجب 1300ھ / مطابق 14 مئی 1883ء، بروز پیر بوقتِ صبح صادق علاقہ "مٹیاری" ضلع حیدر آباد میں ہوئی ۔ اب مٹیاری خود ایک ضلع بن چکا ہے ۔
تحصیلِ علم:
چار سال کی عمر میں آپ کی رسم بسم اللہ آپ کے جد امجد خواجہ عبدالرحیم نے کرائی، قرآن پاک آپ نے قاری عبد الرحمن متعلوی سے پڑھا، فارسی کی تعلیم جناب عزیز اللہ خان سلیمان خیل قندھاری سے اور عربی کی تعلیم علامہ محمد حسن اللہ صدیقی پاٹائی سے مٹیاری کی درگاہ شریف میں ہی حاصل کی ، سترہ سال کی عمر میں فارغ التحصیل ہوگئے۔ آپ کے والد گرامی نے تین سو علماء کی موجودگی میں آپ کو دستار فضیلت عطا فرمائی۔ اسی (80) علماء کے اجتماع میں آپ نےپہلی بارتقریرفرمائی جس کو سن کرعلماءبھی عش عش کراٹھے۔ مکۃ المکرمہ میں علامہ سید علی بن ظاہروتری اور حضرت مولانا عبدالحق الہ آبادی مہاجر مکی سے بطورِ برکت کتب حدیث پڑھیں اور سند حاصل کی۔عمدہ عمدہ کتابوں کا آپ کو بہت شوق تھا، یہی شوق تھا جس کے باعث آپ نے مدینہ منورہ سے اسی ہزار روپے کی نایاب کتابیں خرید فرمائیں۔ آج بھی آپ کے کتب خانے پرآپ کی خریدی ہوئی نایاب کتابوں کا ایک عظیم ذخیرہ موجود ہے۔
بیعت و خلافت:
آپ کو اپنے جد امجد خواجہ عبد الرحیم سے شرف بیعت حاصل تھا، اور اجازت و خلافت اپنے والد گرامی خواجہ عبد الحلیم سے حاصل تھی آپ کا سلسلہ طریقت اور سلسلہ نسب ایک ہی ہے جو اوپر مذکور ہوا۔
سیرت و خصائص:
شیخ الوقت، عالمِ ربانی، عارف اسرار یزدانی، صاحبِ علم و تقویٰ، خانوادۂ مجدد الفِ ثانی کے بطلِ جلیل حضرت علامہ مولانا پیر غلام جان سرہندی نقشبندی مجددی رحمۃ اللہ علیہ ۔ آپ ایک ہمہ گیر اور ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے ۔ آپ کی زندگی ایک مومنانہ و مجاہدانہ تھی ۔ سیرت و کردار، علم و عمل، تقویٰ وطہارت، ہمدردی و اخوت تمام معاملات میں یادگارِاسلاف تھے۔جذبۂ حریت وغیرت آپ کی رگ وخون میں شامل تھا۔ یہی وجہ ہےکہ آپ نےانگریزوں کےخلاف اورمسلمانوں کی حمایت میں تمام تحریکوں میں قائدانہ کردار ادا کیا۔
فرنگیوں سے نفرت:
آپ کو فرنگیوں اور انگریزوں سے اور ان کی حکومت سے سخت نفرت تھی ۔ آپ کو بڑی بڑی پیشکشیں کی گئیں، لیکن آپ نے سب کو ٹھکرا دیا ۔ تحریکِ خلافت کے دوران آپ بذریعہ ریل دورے پر جا رہے تھے کہ راستے میں انگریز کلکٹر مسٹر گپس نے آپ کو دیکھ کر آپ کے لئے شربت منگوایا لیکن آپ نے اس کا منگایا ہوا شربت پینے سےانکار کر دیا اور فرمایا: "کہ اگر اس گلاس میں شربت کی جگہ تمہارا خون ہوتا تو میں ضرور پیتا اس لئے کے تم ہمارے ترک بھائیوں کا خون پی رہے ہو" یہ سن کر انگریز کلکٹر کھسیانا سا ہو کر کہنے لگا کہ "شاید ان پر مذہبی جنون غالب آ گیا ہے ۔ "
قید و بند:
ترک موالات کی تحریک میں آپ نے بھر پور حصہ لیا اور سندھ کے چپہ چپہ پر جلسے کرکے انگریزوں کے مکرو فریب سے لوگوں کو آگاہ کیا ۔ کراچی کی عظیم کانفرنس میں انگریزوں کے خلاف جو فتویٰ صاد ر کیا گیا تھا اس میں علی برادران ، مولانا نثار احمد کانپوری کے علاوہ چھٹے نمبر پر آپ کے دستخط بھی تھے۔
اس جرم کی پاداش میں خالق دینا ہال کراچی میں آپ پر مقدمہ چلایا گیا اور آپ کو دو سال قید کی سزا سنائی گئی سزا سننے کے بعد آپ نے فرمایا کہ قید تو میرا ورثہ ہے کیوں کہ میں غلامِ مجدد اور اولادِ مجدد ہوں جن کو جہانگیر بادشاہ نے قلعہ گوالیار میں نظر بند کر دیا تھا ۔ پھر ارشاد فرمایا:" کاش! آج مجھ پر یہ مقدمہ ہوتاکہ میں نے وقت کے انگریز بادشاہ جارج پنجم کو قتل کیا ہے اور اس کے خون سے میرے ہاتھ رنگے ہوتے"۔آپ نے بڑے تحمل سے یہ دوسال کا عرصہ جیل میں گزارا اور اس عرصہ میں قرآن پاک پورا حفظ کر لیا۔ آپ نے جیل میں بڑی بڑی صعوبتیں برداشت کیں ، سردی کی راتوں میں آپ کی کوٹھڑی کے اندر ٹھنڈا پانی چھوڑ دیا جاتا تھا۔ تاکہ آپ ساری رات کھڑے ہو کر گزاریں اور نماز نہ پڑھ سکیں، بتیاں بند کر دی جاتی تھیں تاکہ آپ تلاوت قرآن پاک نہ کر سکیں ۔
❤2👍1