🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
04-07-1445 ᴴ | 16-01-2024 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
04-07-1445 ᴴ | 16-01-2024 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
04-07-1445 ᴴ | 16-01-2024 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
04-07-1445 ᴴ | 16-01-2024 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
5
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
ڈاکٹر سید حامد حسن بلگرامی رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
اسم گرامی:
مولانا ڈاکٹر حامد حسن بلگرامی ۔ لقب: مفسرِ قرآن، جامع علوم جدیدہ و قدیمہ ۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
مولانا ڈاکٹر سید حامد حسن بلگرامی بن سید محمود بلگرامی ۔ علیہما الرحمہ ۔ آپ کا آبائی علاقہ بلگرام (ہند) ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ وطن کی نسبت نام کا جزو بن گئی۔آپ خاندانی طور پر زیدی واسطی سادات خاندان سے تعلق رکھتے تھے ۔ ساداتِ بلگرام کا سلسلۂ نسب حضرت امام زین العابدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ تک منتہی ہوتا ہے ۔ اس خاندان میں بڑے بڑے اولیاءِ عظام، اور نامور علماء کرام پیدا ہوئے ہیں ۔ میر سید عبد الواحد بلگرامی (صاحبِ سبع سنابل شریف) سلسلۂ عالیہ چشتیہ کے بڑے عظیم بزرگ گزرے ہیں ۔

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 5 رجب المرجب 1326ھ / مطابق 2 اگست 1908ء کو بلگرام (ضلع ہردوئی، یوپی، ہند) میں ساداتِ کرام کے عظیم علمی و روحانی گھرانے میں ہوئی ۔

تحصیلِ علم:
ابتدائی عمر میں والدین کا سایۂ شفقت سر سے اٹھ گیا ۔ یتیمی کے عالم میں تعلیمی سفر کا آغاز کیا ۔ الہ آباد یونیورسٹی (انڈیا) سے بی۔ اے۔ ایم۔ اے اردو کیا ۔ اس کے بعد اسی درس گاہ سے اردو میں علامہ اقبال پر مقالہ لکھ کر ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی ۔ علماء و مشائخ اہل سنت سے استفادہ اور مطالعہ کو تاحیات جاری رکھا اور جامعہ بہاولپور میں بھی علماء کی صحبت سے بہت کچھ حاصل کیا ۔ بالخصوص جامعہ اسلامیہ بہاول پور کے زمانے میں حضرت غزالیِ زماں سید احمد سعید شاہ کاظمی علیہ الرحمہ اور شیخ العلماء حضرت علامہ مولانا سید محمد ہاشم فاضل شمسی سے خوب علمی استفادہ کیا ۔

بیعت و خلافت:
آپ 1987ء کو سلسلہ عالیہ چشتیہ کے نامور صوفی بزرگ حضرت بابا عبید اللہ خان درانی سے بیعت ہوئے ۔ بابا درانی حضرت بابا تاج الدین ناگپوری اور ان کے خلیفہ و جیا نگرم یاوجے نگرم کے حضرت بابا قادر اولیاء سےصحبت یافتہ و فیض یافتہ اور کئی کتابوں کے مصنف تھے ۔ آپ نے اپنی تمام تصنیف و تالیف میں تصوف کا پیغام دیا ہے ۔ مثلاًً کن فیکون، حیاتِ قادر، صبح اسلام، سالارِ زماں، رخسارِ دوست، بساطِ فقر، عاشق اور عارف وغیرہ ۔ ان تمام کتابوں کی اشاعت کا اعزاز ’’ نشرح فاؤنڈیشن حسن اسکوائر کراچی ‘‘ نے حاصل کیا ۔ آپ نے 1990ء میں انتقال کیا اور آخری آرام گاہ آستانہ قادر نگر ضلع سوات بونیر (صوبہ سرحد) میں پیر بابا گاؤں سے پانچ کلو میٹر دور پہاڑ وں میں واقع ہے ۔ (انوار علمائے اہل سنت سندھ، ص:203) ـ

سیرت و خصائص:
جامع علوم قدیمہ و جدیدہ، مفسر قرآن، جامع کمالات علمیہ و عملیہ، حضرت علامہ مولانا پروفیسر ڈاکٹر سید حامد حسن بلگرامی علیہ الرحمہ ـ

آپ ایک علمی و روحانی خاندان کے چشم و چراغ تھے ۔ خاندان ساداتِ بلگرام کے علمی و روحانی کمالات اور ان کی امانتوں کے وارثِ کامل تھے ۔ یتیمی میں پروان چڑھے محنتِ شاقہ سے علمی دنیا میں ایک مقام پیدا کیا ۔ تمام زندگی فروغِ علم میں کوشاں رہے ۔ آپ اخلاق کریمانہ اور دل ربا شخصیت کے حامل انسان تھے ۔ غرور، نخوت، اور عجب پسندی سے دور کا واسطہ بھی نہیں تھا ۔ علم و حکمت میں گہرائی اور معرفت و حقیقت کی وسعت حاصل تھی ۔ ان کے دل میں عشق مصطفیٰ ﷺ کا چراغ روشن تھا ۔ جس کی وجہ سے ان کی فکر و نظر سے علم و حکمت کی شعائیں پھوٹتی تھیں ۔ آپ کا سب سے بڑا احسان ترجمہ و تفسیر ’’ فیوض القرآن ‘‘ ہے ۔ جس سے مطالب قرآن تک قاری براہ راست عام فہم اور دلنشیں انداز میں رسائی حاصل کر سکتا ہے ۔ یہ تفسیر جدید اذہان کے لئے مینارۂ نور ہے ۔

درس و تدریس:
1937ء کو بھارت کی نامور درس گاہ ڈون پبلک اسکول ڈیرہ ڈون سے اپنی ملازمت کا آغاز کیا ۔ اس اسکول میں آپ واحد مسلمان استاد تھے ۔ 1948ء کو پاکستان تشریف لائے اور کچھ ہی روز قیام کے بعد اسی سال لندن یونیورسٹی لندن (برطانیہ) میں پاکستان کی زبان، تہذیب اور کلچر کے لیکچرار مقرر ہوئے اور پانچ سال بعد 1953ء میں وطن واپس آئے ۔ 1960ء تک حکومت پاکستان کے تحت مرکزی پلاننگ بورڈ میں پہلے ڈپٹی چیف اور پھر سربراہ محکمہ تعلیمات کی حیثیت سے خدمات انجام دیں ـ

1960ء کو محکمہ اوقاف پنجاب کی جانب سے آئمہ و خطباء مساجد کی تربیت کے لئے ’’ علماء اکیڈمی ‘‘ کا قیام عمل میں آیا جس میں آپ کو ڈائریکٹر مقرر کیا گیا ۔ اس کے بعد فیلڈ مارشل جنرل ایوب خان نے بہاول پور کی ’’ جامعہ عباسیہ ‘‘ کا نام ختم کرکے ’’ اسلامیہ یونیورسٹی ‘‘ نام تجویز کیا اور آپ نے وہاں پانچ سال تک وائس چانسلر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں ۔ تقریباً ڈیڑھ برس مَلک عبد العزیز یونیورسٹی جدہ میں اسلامی تعلیمات کے پروفیسر رہے ۔ اس کے بعد کچھ عرصہ مرکز تعلیمات اسلامی کے مشیر کی حیثیت سے کام کیا ۔
3
1981ء میں پاکستان واپسی ہوئی اور بقیہ زندگی کراچی میں لے پالک لڑکے جناب سہیل حامد کے ساتھ صائمہ گارڈن خالد بن ولید روڈ میں بسر فرمائی ـ 1951ء میں ڈاکٹر صاحب نے حج بیت اللہ اور مدینہ منورہ کا سفر اختیار کرکے نبی اکرم ﷺ کے نورانی دربار کی زیارت سے بہرہ مند ہوئے ۔ آپ نے شادی کی لیکن اولاد نہیں ہوئی ۔ جس کی وجہ سے ایک بچہ سہیل حامد کو پالا تھا جو کہ اس وقت بیلجیئم میں برسرِ روزگار ہیں ۔ آپ کی اہلیہ کا انتقال 1975ء کو حیدر آباد سندھ میں ہوا اور وہیں مدفون ہیں ۔ (انوار علمائے اہل سنت سندھ، ص:203) ـ

عادات و خصائل:
مولانا راشدی زید مجدہ فرماتے ہیں: بریگیڈیئر ڈاکٹر الحاج محمد اسلم ملک صاحب نے راقم راشدی غفرلہ کو ایک ملاقات میں بتایا کہ ڈاکٹر بلگرامی ’’ سچے عاشق رسول ﷺ تھے ‘‘ عجز و انکساری، وضع داری، تحمل و بردباری، اخلاق وآداب، محبت و خلوص، شیریں بیانی اور نکتہ سنجی آپ کی شخصیت کاخاصہ تھا۔اکثر صوفیانہ لٹریچر کا مطالعہ کرتے تھے اور صوفیانہ طبیعت رکھتے تھے اوراپنے پیر و مرشد سے بے حد عقیدت رکھتے تھے ان کی صحبت اور ان کے خلیفہ بابا صوفی محمد برکت علی (فیصل آباد) کی صحبت کیلئے پیرانہ سالی کے باوجود دور دراز کا سفر اختیار کرتے تھے۔

آپ صحیح العقیدہ سنی تھے، ایک بار آپ سےاستفسار کیا گیا کہ آپ کا تعلق اہل سنت و جماعت سے ہے اور آپ بزرگان دین کا تذکرہ جس محبت سے کرتے ہیں وہ یقیناً قابل رشک ہے مگر یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ اس کے باجود مخالفین اہل سنت کا آپ نے اچھے اندازمیں ذکر کیا ہے اور اپنی تصانیف پر ان سے تقاریظ بھی لکھوائی ہیں؟

آپ نے فرمایا:
میں نےمخالفین اہل سنت علماء کےعلم کی تعریف کی ہوگی لیکن ان کے عقیدے ونظریےکوکبھی بھی پسند نہیں کیا۔ان کی تقاریظ و تبصروں کی اشاعت میں بھی یہ حکمت پوشیدہ رہی ہےکہ ان کے حلقۂ ارادت تک پیغامِ عشقِ رسولﷺ اورعظمت اولیاء اللہ کو فروغ دوں تاکہ وہ بے چارے جو اب تک ایمان کی حلاوت سےمحروم ہیں اور یہ محرومی اگر نا وقفیت کی وجہ سے ہے تو انقلاب برپا ہوگا۔(انوارعلمائے اہل سنت سندھ:205)

ڈاکٹر حماد بلگرامی دوسرے مقام پر اپنے ایک مضمون ’’اسلام کا نظریہ تعلیم‘‘ میں لکھتے ہیں:’’اسلامی تعلیم کا مقصد بھی بچہ کی فطری صلاحیتوں کو اجاگر کرنا اور ان کو نشونما دیناہے۔نظم و ضبط، تعلیم کی لازمی کڑیاں ہیں۔

دراصل تربیت تعلیم سے پہلے بھی ہے اور تربیت تعلیم کا نتیجہ بھی۔البتہ مغرب کے اس نظریہ تعلیم میں اسلام اس ناگزیر حقیقت کااضافہ کرتا ہےکہ ہربچہ کی فطرت میں وجود باری تعالیٰ کے اقرارکا ایک احساس موجود ہے۔ بچہ وجود میں آتےہی اس ’’نور وحدت‘‘کی تلاش اس دنیا میں شروع کردیتا ہے۔پہلےفطری معصومیت سےپھر تجسس اور حیرت سے اوراس کے بعدعلم و معرفت سے، وجودِ باری کایہ احساس تمام بنی نوع انسان میں موجود ہے اور یہی احساس ان میں ایک اخوت پیدا کرت اہے اور یہی نکتہ اتحاد ہے جسے ’’ وحدت ‘‘ یا نور وحدت ‘‘ سےتعبیر کیا گیا ہے۔

یہی اسلامی تعلیم کا مرکزی تصور ہے اس مرکزی تصور کو لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کہا گیا ہے ۔ اسلامی نظام تعلیم میں اسی مرکزی تصور کوشخصیت کی نشو و نما اور تنظیم کے لئے بنیاد قرار دیا گیا ہے۔ ہر نظام تعلیم کا ایک مرکزی تصور ہوتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کے سوا جو تصور ہے وہ محدود ہے، نہ اس میں دوامیت ہو سکتی ہے، نہ وسعت جو جملہ بنی نوع انسان کو ایک ملک وحدت میں پرو سکے۔ یہ وہ وسعت ہے جو انسان انسان میں فرق نہیں کرتی۔ مساوات و اخوت کا یہ سبق نہ اشتراکیت دے سکتی ہے نہ جمہوریت۔ اسلام میں شخصیت کی ترقی کا منشاء خود اس کی زندگی کو پورے طور سے با معنی بنانا اور دوسروں کیلئے اس کی شخصیت کو مبدء فیض بنانا ہے۔ (اسلام کا نظریہ تعلیم: ماہنامہ ضیائے حرم، بھرہ ضلع سرگودھا، اکتوبر ۱۹۷۰ء ص:۲۳) ـ

تصنیف و تالیف:
آپ صاحب تصنیف بزرگ تھے ۔ انگریزی اور اردو میں بہت سی کتب آپ کی یادگار ہیں لیکن وہ اپنی دو تصانیف کو امت مصطفویہ کیلئے امانت تصور کرتے تھے جن میں ایک (۱) فیوض القرآن (۲) نور مبین ۔ آپ کی تخلیقات میں سے بعض کے نام درج ذیل ہیں:

1۔ تفسیر فیوض القرآن (اردو) دو جلدیں بہاول پور کے قیام کے دوران تحریر فرمائی اس پر علامہ کاظمی کی تقریظ بھی ثبت ہے۔

2۔ نور مبین حضور پاک ﷺ کے انوار و تجلیات وکمالات فضائل و معجزات پر مشتمل ہے ۔

3۔ اسلامی نظریہ تعلیم
4۔ درود تاج (ترجمہ تشریح)
5۔ سائبان رحمت
6۔ تنویر سحر
7۔ ندائے حرم
8۔ زادراہ
9۔ حرف آخر

آخری دنوں میں دوران علالت زندگی کی کچھ یاد داشت رقم کرائیں ـ

تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 2 ذیقعدہ 1421ھ / مطابق 28 جنوری 2001ء بروز اتوار93سال کی عمر میں کراچی میں ہوا ۔ نور مسجد حالی روڈ پر نماز جنازہ ادا کی گئی اور پاپوش نگر قبرستان ناظم آباد کراچی میں آخری آرام گاہ ہے ۔

ماخذ و مراجع:
انوار علمائے اہل سنت سندھ ۔ مقدمہ فیوض القرآن ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/doctor-hamid-hasan-balgrami
3