🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
حضرت سید محمد گیسو دراز رحمۃ اللہ علیہ

نام ونسب:
اسمِ گرامی:
محمد ۔ کنیت: ابوالفتح ۔القاب: صدر الدین، ولی الاکبر، الصادق، اور زیادہ " خواجہ بندہ نواز گیسو دراز " کے لقب سے مشہور ہیں ۔

والد کا اسمِ گرامی:
سید یوسف حسینی رحمۃ اللہ علیہ ۔ آپ حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء محبوب الہی رحمۃ اللہ علیہ سے بیعت تھے، اور حضرت خواجہ نصیر الدین محمود رحمۃ اللہ علیہ کے روحانی فیوض سے بھی مستفید ہوئے تھے ۔ سید راجہ کہلا تھے ۔

آپ ہر وقت عبادت و ریاضت میں مصروف رہتے تھے ۔ اپنے نفس کے ساتھ جہاد کی وجہ سے دکن میں " راجو قتال " مشہور ہوئے ۔

آپ کا سلسلۂ نسب حضرت امام زین العابدین کے توسط سے مولائے کائنات سے جاکر ملتا ہے ۔ اس لحاظ سے آپ حسینی  سید ہیں ۔

گیسو دراز کہلانے کی وجہ تسمیہ:
آپ علیہ الرحمہ ایک دن اپنے دوسرے ساتھیوں کے ساتھ اپنے پیر و مرشد شیخ نصیر الدین محمود چراغ دہلوی کی پالکی اٹھائے دہلی کے پر رونق بازار سے گزر رہے تھے ۔

آپ کے "گیسو" (زلفیں) پالکی کے نیچے پھنس گئے ۔ آپ ادب و احترام کے پیش نظر ان بالوں کو نکالنے کی بجائے پالکی کے ساتھ ساتھ دوڑتے رہے، اور ایک لمبا فاصلہ طے کر گئے ۔ حضرت شیخ چراغ دہلوی کو آپ کی اس کیفیت کا علم ہوا تو آپ نہایت خوش ہوئے اور حضرت گیسو دراز کی اس جانثاری اور ادب پر یہ شعر کہا ۔

؏: ہر کہ مرید سید گیسو دراز شد
واللہ خلاف نیست کہ او عشق بازشد

اسی دن سے آپ " گیسو دراز " کے لقب سے مشہور ہو گئے ۔

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 4 رجب المرجب 720ھ / بمطابق 9 اگست 1320ء بروز جمعۃ المبارک دہلی میں ہوئی ۔

تحصیلِ علم:
آپ کی ابتدائی تعلیم و تربیت آپ کے والد ماجد اور نانا کے زیر سایہ ہوئی ۔ آپ نے قرآن شریف حفظ کیا، اس کے علاوہ خلد آباد کے قیام کے زمانے میں آپ نے علومِ دینیہ کی تحصیل شروع  کر دی تھی ۔ جب آپ اپنی والدہ محترمہ کے ہمراہ دہلی آئے تو آپ نے علوم ظاہری حاصل کرنے میں کافی محنت و کوشش کی ۔ آپ کو مولانا شرف الدین کیتھلی، مولانا تاج الدین بہادر، اور قاضی عبد المقتدر سے علوم متداولہ کی بہت سی کتابیں پڑھیں ۔

علومِ دینیہ کی تحصیل سے انیس سال کی عمر میں فراغت پائی ۔ علومِ دینیہ  کی تکمیل کے بعد عبادت و ریاضت اور تزکیۂ نفس کی طرف متوجہ ہوئے ۔

بیعت و خلافت:
آپ 16 رجب 736ھ کو شیخ الاسلام حضرت خواجہ نصیر الدین چراغ دہلی کے دست حق پرست پر بیعت ہوئے اور کچھ مدت کے بعد خرقہ خلافت سے سرفراز ہوئے ۔

سیرت و خصائص:
امام العاشقین، زبدۃ العارفین، قدوۃ السالکین، برہان الواصلین، شیخِ کامل، عارف باللہ حضرت خواجہ سید محمد گیسو دراز بندہ نواز رحمۃ اللہ علیہ ۔

آپ سیادت علم و ولایت کے جامع تھے ۔ آپ اعلیٰ شان کے مالک تھے ۔ آپ کا رتبہ سچ، احوال قوی، مشرب وسیع، بلند ہمت، عارفانہ کلام، صوفیانہ احوال، اور شیریں مقال رکھتے تھے ۔

مشائخِ چشت اہلِ بہشت میں آپ کا مشرب خاص، اور رموزِحقیقت کے بیان میں آپ کا طریقہ مخصوص ہے ۔ آپ زہد و تقویٰ، تحمل و برد باری، سخاوت و فیاضی، عطاء و بخشش، قناعت و توکل، ترک و تجرید، عبادات و مجاہدات میں یگانۂ عَصر تھے ۔

آپ کو اپنے پیر و مرشد شیخ الاسلام حضرت نصیر الدین محمود چراغ دہلوی سے والہانہ محبت تھی ۔ حضرت چراغ دہلوی رحمۃ اللہ علیہ جو حکم فرماتے تھے، آپ اس کو بجا لاتے ۔ آپ پانچوں وقت کی نماز باجماعت ادا کرتے تھے ۔ روزے پابندی سے رکھتے تھے ۔ تمام سنن و نوافل ادا کرتے تھے ۔ کم سونا، کم کھانا، کم پینا، اور ہر وقت ذکر و فکر، مراقبۂ و مشاہدہ، اور مریدین کو وعظ و نصیحت میں ہمہ وقت مصروف رہتے تھے ۔
آپ کو تمام علوم پر مہارتِ تامہ حاصل تھی ۔ قرآن و حدیث اور تصوف و فقہ پر آپ درس دیا کرتے تھے ۔ آپ نے مختلف موضوعات پر عربی اور فارسی زبان  میں تقریباً ایک سو پانچ کتب تصنیف فرمائی ہیں، اور کچھ کتب کے حواشی   اور شروح بھی تحریر فرمائے ہیں، جیسے " شرح رسالہ قشیریہ " شرح فقہ الاکبر " اور قرآنِ مجید کے پانچ پاروں کی تفسیر  بھی لکھی ہے ۔ آپ کے ایک مرید نے آپ کے ملفوظات " جوامع الکلم " کے نام سے جمع کیے ہیں ۔ مشائخِ چشتیہ میں ان ملفوظات کی بہت اہمیت ہے ۔

آپ کے نزدیک شریعت کی پاسداری سب سے مقدم ہے ۔ آپ اپنے ملفوظات میں فرماتے ہیں: "یہ عقیدہ نہ رکھو کہ شریعت، طریقت اور حقیقت ایک دوسرے سے جدا ہیں ۔ (فی زمانہ جس طرح جاہل پیر کہتے پھرتے ہیں) بلکہ ایک ہیں ۔ دیکھو بادام کے اندر تین چیزیں ہیں ۔پوست، مغز اور روغن، تینوں ایک دوسرے سے جدا نہیں بلکہ ایک دوسرے کا خلاصہ ہیں ۔ یعنی پوست کا خلاصہ مغز ہے اور مغز کا خلاصہ روغن، اسی طرح شریعت کا خلاصہ طریقت اور طریقت کا خلاصہ حقیقت ہے " ۔ آپ کے نزدیک وقت سے زیادہ کوئی چیز قیمتی نہ تھی ۔ اس لئے آپ وقت کی بہت قدر کرتے تھے، اپنے مریدین کو بھی اسی کی تلقین کرتے تھے، کہ تمھارا ایک لمحہ بھی غفلت میں نہ گزرے، بلکہ اللہ جل شانہ کی یاد میں گزرے ۔

وصال:
آپ نے 16 ذیقعدہ 825ھ / بمطابق 1422ء کو اس عالم سے پردہ فرمایا ۔

مزار گلبرگہ (دکن، انڈیا) میں قبلہ حاجات خلائق ہے، بوقتِ وفات آپ کی عمر ایک سو پانچ سال تھی ۔

ماخذ و مراجع:
تذکرہ اولیائے پاک و ہند ۔ خزینۃ الاصفیاء ۔ تذکرہ بزرگانِ چشت ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-meer-syed-muhamamd-gaisu-daraz
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
یوم خواجگان سلاطین اربعہ ⁴ رجب

¹حضرت خواجہ عبد الکریم مشرقی
²حضرت خواجہ عبد الرحیم شمالی
³حضرت خواجہ عبد الرشید جنوبی
⁴حضرت خواجہ عبد الجلیل مغربی
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَـبَـارَڪَ وَ تَـعَـالیٰ عَـنۡـهُمۡ

یہ بزرگ رِزق کی تقسیم پر معمور ہیں، 4 رجب المرجب کو اِن کے نام کی فاتحہ دِلا کر اِن کے وسیلے سے دعا کی جائے - تو اللہ پاک رِزق میں برکتیں عطا فرماتا ہے! [ جواہر خمسہ وغیرہ ]
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
سرکارِ اعلیٰ حضرت ، امام احمد رضا خان محدث بریلوی رَضِیَ الـلّٰـهُ تَـبَـارَڪَ وَ تَعَالیٰ عَنۡهٗ انہیں خواجگان سلاطین اربعہ کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں فتاویٰ رضویہ شریف میں فرماتے ہیں:

وہ سوال اور جواب 📜 یہ ⇩ ہے :

اوراد و وظائف و عملیات :
 
مسئلہ ۳۱۶ ⇩
السلام علیکم یا خواجہ عبدالکریم جانب مشرق، السلام علیك یا خواجہ عبدالرحیم جانب شمال، السلام علیك یا خواجہ عبدالرشید جانب جنوب، السلام علیك یاخواجہ عبدالجلیل جانب مغرب

بعدہ یہ پڑھنا:
اللّھم انت قدیم ازلی تنزیل العلل ولم تزل ولا تزال ارحمنی برحمتك یا ارحم الراحمین، اللّٰھم اغفرلامۃ سیدنا محمد صلی ﷲ علیہ وسلم، اللّٰھم ارحم امۃ سیّدنا محمد صلی ﷲ علیہ وسلم۔

بعدہ پڑھنا درود شریف کا بعددِ طاق جائز ہے یانہیں؟

اس کو امام غزالی رحمۃ ﷲ علیہ نے احیاء العلوم میں بھی لکھا ہے اور نیز کیمیائے سعادت میں ہے۔

الجواب ⇩
دعائے مذکور جائز ہے اور اس میں بہت برکات ہیں۔ یہ چاروں حضرات جہات اربعہ میں اوتادِ اربعہ ہیں۔ یہ اسمائے طیبہ ان کے اشخاص کے نہیں بلکہ عہدہ کے ہیں۔ جس طرح ہر غوث کا نام عبد ﷲ اور اس کے دونوں وزیروں کے نام عبد الملك اور عبد الرب ہیں۔ جو اس عہدہ پر مقرر ہوگا ظاہر میں کچھ نام رکھتا ہو یا باطن میں اس کا یہ نام رکھا جائے گا۔ وﷲ تعالٰی اعلم

[ فتاویٰ رضویہ جِلد ²⁶ صَفحہ ⁶⁰⁵ ]

🤲 طالبِ دُعا 🤲
عُـبَیۡدِ غَوۡثُ‌ؔوخَواجَہؔ، رَضَاؔ وَکُـل اَولِـیَآء
مُحَمَّدۡ جَمَالُ‌الـدِّیۡنۡ خَانۡ قَادِرِیۡ رَضَـوِیۡ
ضِـلَـعۡ بَـہۡـرَائِـچ شَـرِیۡف یُوۡ. پِیۡ. اَلـہِـنۡـدۡ
مُوۡبَائِل نَمبَر +917860520899 📱
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
03-07-1445 ᴴ | 15-01-2024 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
04-07-1445 ᴴ | 16-01-2024 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
2