🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
03-07-1445 ᴴ | 15-01-2024 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
03-07-1445 ᴴ | 15-01-2024 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
#فیضان_خواجہ_غریب_نواز ⓲
خواجہ معین الدین چشتیاجمیری
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَـبَـارَڪَ وَ تَـعَـالیٰ عَـنۡـهٗ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
#فیضان_خواجہ_غریب_نواز ⓲
خواجہ معین الدین چشتیاجمیری
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَـبَـارَڪَ وَ تَـعَـالیٰ عَـنۡـهٗ
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
حضرت شیخ ابو ذر ابوزجانی علیہ الرحمہ
شیخ الاسلام کہتےہیں کہ میں نے ایک شخص کو دیکھا ہے کہ جس نے بو ذر بوزجانی کو دیکھا صیاد گور گیر کہتے ہیں کہ بونر جان میںمجھے بڑی تکلیف پہنچی تھی میں نے بہت ہی طلب کیا تب جا کر ان کو پایا میں نے بوذر کو دیکھا کہ وہ کرامات ظاہرہ والے ہیں ۔
کہتے ہیں کہ بوذر جان میں ایک مدرسہ تھا جس میں کہ شیخ ابو ذر وہاں کے رہنے والوں کو اولیاء کہتے تھے۔ ایک دن اس مدرسہ کے دروازہ پر سوتے تھے۔مدرسہ کا چپڑاسی آیا کہنے لگا کہ آج طلباء کو کھانا نہیں ملا۔اس مدرسہ میں ایک توت کا درخت تھا۔ چپڑاسی سے کہا کہ جااس درخت کو جھاڑ۔ چپڑاسی نے اس درخت کو جھاڑا جو پتھر جھڑا وہ خالص سونا تھے اور شیخ کے سامنے لایا۔کہا کہ جاؤ ان کے لیے کھانا خرید لاؤ ۔
ایک دن سبکتگین سلطان محمود کا باپ جس کی وفات ۳۸۷ ھ میں ہوئی ہے آپ کی زیارت کو آیا ۔ آپ نے اس کو سخت نصیحتیں فرمائیں ۔ سلطان محمود ابھی بچہ تھا ۔
اس کو شیخ کے سامنے لائے ۔ شیخ نے بڑی مہربانی کی اور اپنی گود میں بٹھلایا ۔ آپ کے اشعار میں سے یہ شعر ہے ۔
لعرفنا من کان من حسبنا وسائرالناس لنا منکرون
یعنی البتہ ہم کو وہ لوگ پہچانتے ہیں جو کہ ہمارے حسب کے ہیں لیکن عام لوگ ہمارے منکر ہیں اور یہ بھی ان ے اشعار میں سے ہیں۔
تو بعلم ازل مرا دیدی دیدی آنگہ بعیب بحزیدی
تو بعلم آن و من بعیب ہماں رومکن آنچہخود پسندیدی
( نفحاتُ الاُنس )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-abu-muhammad-abu-umar
شیخ الاسلام کہتےہیں کہ میں نے ایک شخص کو دیکھا ہے کہ جس نے بو ذر بوزجانی کو دیکھا صیاد گور گیر کہتے ہیں کہ بونر جان میںمجھے بڑی تکلیف پہنچی تھی میں نے بہت ہی طلب کیا تب جا کر ان کو پایا میں نے بوذر کو دیکھا کہ وہ کرامات ظاہرہ والے ہیں ۔
کہتے ہیں کہ بوذر جان میں ایک مدرسہ تھا جس میں کہ شیخ ابو ذر وہاں کے رہنے والوں کو اولیاء کہتے تھے۔ ایک دن اس مدرسہ کے دروازہ پر سوتے تھے۔مدرسہ کا چپڑاسی آیا کہنے لگا کہ آج طلباء کو کھانا نہیں ملا۔اس مدرسہ میں ایک توت کا درخت تھا۔ چپڑاسی سے کہا کہ جااس درخت کو جھاڑ۔ چپڑاسی نے اس درخت کو جھاڑا جو پتھر جھڑا وہ خالص سونا تھے اور شیخ کے سامنے لایا۔کہا کہ جاؤ ان کے لیے کھانا خرید لاؤ ۔
ایک دن سبکتگین سلطان محمود کا باپ جس کی وفات ۳۸۷ ھ میں ہوئی ہے آپ کی زیارت کو آیا ۔ آپ نے اس کو سخت نصیحتیں فرمائیں ۔ سلطان محمود ابھی بچہ تھا ۔
اس کو شیخ کے سامنے لائے ۔ شیخ نے بڑی مہربانی کی اور اپنی گود میں بٹھلایا ۔ آپ کے اشعار میں سے یہ شعر ہے ۔
لعرفنا من کان من حسبنا وسائرالناس لنا منکرون
یعنی البتہ ہم کو وہ لوگ پہچانتے ہیں جو کہ ہمارے حسب کے ہیں لیکن عام لوگ ہمارے منکر ہیں اور یہ بھی ان ے اشعار میں سے ہیں۔
تو بعلم ازل مرا دیدی دیدی آنگہ بعیب بحزیدی
تو بعلم آن و من بعیب ہماں رومکن آنچہخود پسندیدی
( نفحاتُ الاُنس )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-abu-muhammad-abu-umar
scholars.pk
Hazrat Abu Muhammad Abu Umar
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
👍2❤1
حضرت مولانا شاہ عبد الباری فرنگی محلی رحمۃ اللہ علیہ
نام ونسب:
اسم گرامی: شاہ عبدالباری ۔ لقب: امام العلماء، فرنگی محلی، لکھنوی ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت شاہ عبد الباری بن حضرت شاہ مولانا عبد الوہاب بن حضرت مولانا شاہ محمد عبد الرزاق بن مہلک الوہابیین حضرت مولانا شاہ محمد جمال الدین فرنگی محلی ۔ علیہم الرحمہ ۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 1295ھ / مطابق 1878ء کو "فرنگی محل" لکھنؤ (ہند) میں ہوئی ۔
تحصیل علم:
حضرت مولانا شاہ عبد الباقی فرنگی محلی مدنی علیہ الرحمۃ سے اکثر علوم کا درس لیا، چند کتابیں حضرت مولانا عین القضاۃ حیدر آبادی و لکھنوی تلمیذ مولانا ابو الحسنات عبد الحئی فرنگی محلی سے پڑھیں ۔
1322ھ میں حرمین طیبین کا سفر کیا ۔ اور حج کے بعد مدینہ طیّبہ میں حضرت علامہ سید علی بن ظاہر الوتری المدنی اور شیخ الدلائل علامہ سید امین رضوان اور علامہ شیخ سید احمد برزنجی مدنی اور حضرت شیخ المشائخ سید عبد الرحمٰن بغدادی نقیب الاشراف قدس اللہ اسرارہم سے سند و اجازت حدیث و سلاسل طریقت حاصل کی، آپ کو تمام علوم میں تبحر تام حاصل تھا، امام اہلسنت الشاہ امام احمد رضا خان قادری علیہ الرحمہ آپ کو " فاضلِ اکمل " کہتے تھے ۔ (تذکرہ علمائے اہلسنت: 173) ـ
بیعت و خلافت:
حضرت شیخ المشائخ سید عبد الرحمٰن بغدادی نقیب الاشراف درگاہِ غوثیہ کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے، اور خلافت سے سر فراز کیے گئے ۔
سیرت و خصائص:
نمونۂ سلف، حجۃ الخلف، امام العلماء، رئیس الاتقیاء، جامع علوم عقلیہ و نقلیہ، صاحبِ اوصاف کثیرہ، فاضلِ اکمل، عالمِ متبحر، حامیِ سنت، ماحی بدعت، غیظ المنافقین، مہلک الوہابیین، حضرت علامہ مولانا الشاہ عبد الباری فرنگی محلی لکھنوی رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ کا شمار ہندوستان (پاک و ہند) کے اعاظم علماء میں ہوتا ہے ۔ آپ منقول و معقول کے امام اور خاندانِ فرنگی محل کی علمی و روحانی اور اعتقادی امانتوں کے وارثِ اکمل تھے ۔ تمام درسی کتب پر یکساں مہارت حاصل تھی ۔
آپ کی کوشش سے فرنگی محل لکھنؤ میں مدرسہ نظامیہ میں احیائے دین اسلام کے لئے درس و تدریس کا سلسلہ شروع ہوا ۔ پوری قوت کے ساتھ درس و تدریس میں مصروف ہو گئے، ابتداً معقولات کی طرف زیادہ توجہ تھی، لیکن بعد میں آپ کی مشغولیت تمام کی تمام قرآن و حدیث کی تدریس کی طرف ہو گئی ۔ اس کے علاوہ گھر میں مثنوی مولانا روم کا درس دیتےتھے ۔ جس میں بڑے بڑے فضلاء کرام، اور عوام شرکت فرماتےتھے ۔ آپ کے علمی فیضان سے کثیر لوگوں نے استفادہ کیا ۔ آپ علیہ الرحمہ تمام دینی و دنیاوی امور پر بڑی گہری نظر رکھتے تھے ۔
آپ نے ان آزمائشی حالات میں جب خطۂ ہندوستان پر انگریز قابض ہو چکا تھا، اور خلافتِ عثمانیہ کے خلاف سازشیں عروج پر تھیں، حجاز مقدس میں انگریزوں کے ایماء پر وہابی یلغار میں مصروف تھے، اور مقاماتِ مقدسہ کی بے حرمتی کی جا رہی تھی، اس وقت آپ نے " انجمن خدام کعبہ " کی بنیاد رکھی ، جس نے وہابیوں کے مظالم اور مقامتِ مقدسہ کی بے حرمتی کا سختی سے نوٹس لیا ۔
اسی طرح تحریکِ خلافت میں بھی پیش پیش رہے ۔ بلکہ آپ قائدین میں سے تھے ۔ ہر طریقے سے اس کی تائید پر عام لوگوں کو آمادہ، اور اس کی اعانت، اس کے حق میں مختلف شہروں میں جلسے منعقد کرتے تھے ۔ انگریز اور اس کء حامیوں کے زبردست مخالف تھے ۔ جہاں موقع ملتا اچانک حملہ کرتے، اللہ جل شانہ نے آپ کو مقبولیت عامہ عطاء فرمائی تھی ۔
نام ونسب:
اسم گرامی: شاہ عبدالباری ۔ لقب: امام العلماء، فرنگی محلی، لکھنوی ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت شاہ عبد الباری بن حضرت شاہ مولانا عبد الوہاب بن حضرت مولانا شاہ محمد عبد الرزاق بن مہلک الوہابیین حضرت مولانا شاہ محمد جمال الدین فرنگی محلی ۔ علیہم الرحمہ ۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 1295ھ / مطابق 1878ء کو "فرنگی محل" لکھنؤ (ہند) میں ہوئی ۔
تحصیل علم:
حضرت مولانا شاہ عبد الباقی فرنگی محلی مدنی علیہ الرحمۃ سے اکثر علوم کا درس لیا، چند کتابیں حضرت مولانا عین القضاۃ حیدر آبادی و لکھنوی تلمیذ مولانا ابو الحسنات عبد الحئی فرنگی محلی سے پڑھیں ۔
1322ھ میں حرمین طیبین کا سفر کیا ۔ اور حج کے بعد مدینہ طیّبہ میں حضرت علامہ سید علی بن ظاہر الوتری المدنی اور شیخ الدلائل علامہ سید امین رضوان اور علامہ شیخ سید احمد برزنجی مدنی اور حضرت شیخ المشائخ سید عبد الرحمٰن بغدادی نقیب الاشراف قدس اللہ اسرارہم سے سند و اجازت حدیث و سلاسل طریقت حاصل کی، آپ کو تمام علوم میں تبحر تام حاصل تھا، امام اہلسنت الشاہ امام احمد رضا خان قادری علیہ الرحمہ آپ کو " فاضلِ اکمل " کہتے تھے ۔ (تذکرہ علمائے اہلسنت: 173) ـ
بیعت و خلافت:
حضرت شیخ المشائخ سید عبد الرحمٰن بغدادی نقیب الاشراف درگاہِ غوثیہ کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے، اور خلافت سے سر فراز کیے گئے ۔
سیرت و خصائص:
نمونۂ سلف، حجۃ الخلف، امام العلماء، رئیس الاتقیاء، جامع علوم عقلیہ و نقلیہ، صاحبِ اوصاف کثیرہ، فاضلِ اکمل، عالمِ متبحر، حامیِ سنت، ماحی بدعت، غیظ المنافقین، مہلک الوہابیین، حضرت علامہ مولانا الشاہ عبد الباری فرنگی محلی لکھنوی رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ کا شمار ہندوستان (پاک و ہند) کے اعاظم علماء میں ہوتا ہے ۔ آپ منقول و معقول کے امام اور خاندانِ فرنگی محل کی علمی و روحانی اور اعتقادی امانتوں کے وارثِ اکمل تھے ۔ تمام درسی کتب پر یکساں مہارت حاصل تھی ۔
آپ کی کوشش سے فرنگی محل لکھنؤ میں مدرسہ نظامیہ میں احیائے دین اسلام کے لئے درس و تدریس کا سلسلہ شروع ہوا ۔ پوری قوت کے ساتھ درس و تدریس میں مصروف ہو گئے، ابتداً معقولات کی طرف زیادہ توجہ تھی، لیکن بعد میں آپ کی مشغولیت تمام کی تمام قرآن و حدیث کی تدریس کی طرف ہو گئی ۔ اس کے علاوہ گھر میں مثنوی مولانا روم کا درس دیتےتھے ۔ جس میں بڑے بڑے فضلاء کرام، اور عوام شرکت فرماتےتھے ۔ آپ کے علمی فیضان سے کثیر لوگوں نے استفادہ کیا ۔ آپ علیہ الرحمہ تمام دینی و دنیاوی امور پر بڑی گہری نظر رکھتے تھے ۔
آپ نے ان آزمائشی حالات میں جب خطۂ ہندوستان پر انگریز قابض ہو چکا تھا، اور خلافتِ عثمانیہ کے خلاف سازشیں عروج پر تھیں، حجاز مقدس میں انگریزوں کے ایماء پر وہابی یلغار میں مصروف تھے، اور مقاماتِ مقدسہ کی بے حرمتی کی جا رہی تھی، اس وقت آپ نے " انجمن خدام کعبہ " کی بنیاد رکھی ، جس نے وہابیوں کے مظالم اور مقامتِ مقدسہ کی بے حرمتی کا سختی سے نوٹس لیا ۔
اسی طرح تحریکِ خلافت میں بھی پیش پیش رہے ۔ بلکہ آپ قائدین میں سے تھے ۔ ہر طریقے سے اس کی تائید پر عام لوگوں کو آمادہ، اور اس کی اعانت، اس کے حق میں مختلف شہروں میں جلسے منعقد کرتے تھے ۔ انگریز اور اس کء حامیوں کے زبردست مخالف تھے ۔ جہاں موقع ملتا اچانک حملہ کرتے، اللہ جل شانہ نے آپ کو مقبولیت عامہ عطاء فرمائی تھی ۔
❤2
آپ کا گھر مسلمانوں کا سیاسی مرکز تھا ۔ جہاں ہر وقت عوام و خواص کا ایک جم غفیر موجود رہتا تھا ۔ ان کا طعام و قیام کا مکمل بند و بست آپ کے ہاں سے ہوتا تھا ۔ آپ بہت سخی، اور مہمان نواز تھے ۔آپ کا گھر کبھی مہمانوں سے خالی نہ دیکھا گیا ۔ ہر آنے والی کی بڑی توقیر کرتے تھے، غریب مسلمانوں کی مدد و اعانت آپ کا شیوہ تھا ۔
آپ بہت نڈر اور با وقار تھے ۔ کبھی بھی کسی سے مرعوب نہیں ہوئے، اگر کہیں اسلام اور مسلمانوں کی عزت، وقار کی بات آتی تو جواب دینے والوں میں اول ہوتے تھے ۔ یہی وجہ ہے کہ مسٹر گاندھی آپ سے مرعوب رہتا تھا ۔
علماء و مشائخ کی عزت مبالغے کی حد تک کرتے تھے ۔ فرماتے علماء و مشائخ کی عزت و توقیر اسلام کی توقیر ہے ۔ لیکن بد مذہبوں اور اسلام دشمنوں کے خلاف ننگی تلوار تھے ۔ وہابیوں، دیوبندیوں کے سخت مخالف تھے ۔ یہی وجہ ہے کہ آپ ہی کے حکم سے مولوی اشرف علی تھانوی کی بہشتی زیور اور حفظ الایمان فرنگی محل میں جلائی گئی تھی، آپ نے تھانوی صاحب کو حفظ الایمان کی کفریہ عبارت سے توبہ کے لیے بار بار متوجہ کیا، مگر ان کو توبہ کی توفیق نصیب نہ ہو سکی ۔
نماز با جماعت ادا کرنے کی بہت حفاظت فرماتے تھے، خواہ سفر کی حالت میں ہوں یا حضر کی حالت میں، نماز با جماعت ادا کرتے تھے ۔ سفر کی حالت میں کم از کم دو رفیق ساتھ ہوتے تھے ۔ ان کا تمام خرچہ آپ صرف اس لئے برداشت کرتے تھے، ان کی وجہ سے نماز باجماعت کی سعادت میسر ہوتی تھی ۔ اللہ اکبر ۔ (یہ آج کے نوجوان علماء کرام کے لئے ایک بہت بڑی نصیحت ہے، کہ ہمارے اکابرین کا تقویٰ کتنا بلند تھا، ہمیں ان کے نقش قدم پر چلنا چاہئے) ۔
اسی طرح فرصت سے فارغ وقت میں اوراد و وظائف اور نوافل میں مشغول رہتے تھے ۔ آپ کے وصال سے فرنگی محل کا ایک عہد ختم ہو گیا، اور علم کا باب بند ہو گیا ۔ آپ علمائے فرنگی محل کے سرتاج تھے ۔
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 4 رجب المرجب 1344ھ / مطابق 15 جنوری 1926ء کو فالج کے حملے سے ہوا ۔ آپ نےصدقۂ جاریہ میں کثیر عمدہ تصانیف اور جید علماء کرام چھوڑے ہیں ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ علمائے اہلسنت ۔ نزہۃ الخواطر ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-abdul-bari-farangi-mahal-lakhnavi
آپ بہت نڈر اور با وقار تھے ۔ کبھی بھی کسی سے مرعوب نہیں ہوئے، اگر کہیں اسلام اور مسلمانوں کی عزت، وقار کی بات آتی تو جواب دینے والوں میں اول ہوتے تھے ۔ یہی وجہ ہے کہ مسٹر گاندھی آپ سے مرعوب رہتا تھا ۔
علماء و مشائخ کی عزت مبالغے کی حد تک کرتے تھے ۔ فرماتے علماء و مشائخ کی عزت و توقیر اسلام کی توقیر ہے ۔ لیکن بد مذہبوں اور اسلام دشمنوں کے خلاف ننگی تلوار تھے ۔ وہابیوں، دیوبندیوں کے سخت مخالف تھے ۔ یہی وجہ ہے کہ آپ ہی کے حکم سے مولوی اشرف علی تھانوی کی بہشتی زیور اور حفظ الایمان فرنگی محل میں جلائی گئی تھی، آپ نے تھانوی صاحب کو حفظ الایمان کی کفریہ عبارت سے توبہ کے لیے بار بار متوجہ کیا، مگر ان کو توبہ کی توفیق نصیب نہ ہو سکی ۔
نماز با جماعت ادا کرنے کی بہت حفاظت فرماتے تھے، خواہ سفر کی حالت میں ہوں یا حضر کی حالت میں، نماز با جماعت ادا کرتے تھے ۔ سفر کی حالت میں کم از کم دو رفیق ساتھ ہوتے تھے ۔ ان کا تمام خرچہ آپ صرف اس لئے برداشت کرتے تھے، ان کی وجہ سے نماز باجماعت کی سعادت میسر ہوتی تھی ۔ اللہ اکبر ۔ (یہ آج کے نوجوان علماء کرام کے لئے ایک بہت بڑی نصیحت ہے، کہ ہمارے اکابرین کا تقویٰ کتنا بلند تھا، ہمیں ان کے نقش قدم پر چلنا چاہئے) ۔
اسی طرح فرصت سے فارغ وقت میں اوراد و وظائف اور نوافل میں مشغول رہتے تھے ۔ آپ کے وصال سے فرنگی محل کا ایک عہد ختم ہو گیا، اور علم کا باب بند ہو گیا ۔ آپ علمائے فرنگی محل کے سرتاج تھے ۔
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 4 رجب المرجب 1344ھ / مطابق 15 جنوری 1926ء کو فالج کے حملے سے ہوا ۔ آپ نےصدقۂ جاریہ میں کثیر عمدہ تصانیف اور جید علماء کرام چھوڑے ہیں ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ علمائے اہلسنت ۔ نزہۃ الخواطر ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-abdul-bari-farangi-mahal-lakhnavi
scholars.pk
Hazrat Molana Abdul Bari Farangi Mahal Lakhnavi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤2
حضرت سید محمد گیسو دراز رحمۃ اللہ علیہ
نام ونسب:
اسمِ گرامی: محمد ۔ کنیت: ابوالفتح ۔القاب: صدر الدین، ولی الاکبر، الصادق، اور زیادہ " خواجہ بندہ نواز گیسو دراز " کے لقب سے مشہور ہیں ۔
والد کا اسمِ گرامی:
سید یوسف حسینی رحمۃ اللہ علیہ ۔ آپ حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء محبوب الہی رحمۃ اللہ علیہ سے بیعت تھے، اور حضرت خواجہ نصیر الدین محمود رحمۃ اللہ علیہ کے روحانی فیوض سے بھی مستفید ہوئے تھے ۔ سید راجہ کہلا تھے ۔
آپ ہر وقت عبادت و ریاضت میں مصروف رہتے تھے ۔ اپنے نفس کے ساتھ جہاد کی وجہ سے دکن میں " راجو قتال " مشہور ہوئے ۔
آپ کا سلسلۂ نسب حضرت امام زین العابدین کے توسط سے مولائے کائنات سے جاکر ملتا ہے ۔ اس لحاظ سے آپ حسینی سید ہیں ۔
گیسو دراز کہلانے کی وجہ تسمیہ:
آپ علیہ الرحمہ ایک دن اپنے دوسرے ساتھیوں کے ساتھ اپنے پیر و مرشد شیخ نصیر الدین محمود چراغ دہلوی کی پالکی اٹھائے دہلی کے پر رونق بازار سے گزر رہے تھے ۔
آپ کے "گیسو" (زلفیں) پالکی کے نیچے پھنس گئے ۔ آپ ادب و احترام کے پیش نظر ان بالوں کو نکالنے کی بجائے پالکی کے ساتھ ساتھ دوڑتے رہے، اور ایک لمبا فاصلہ طے کر گئے ۔ حضرت شیخ چراغ دہلوی کو آپ کی اس کیفیت کا علم ہوا تو آپ نہایت خوش ہوئے اور حضرت گیسو دراز کی اس جانثاری اور ادب پر یہ شعر کہا ۔
؏: ہر کہ مرید سید گیسو دراز شد
واللہ خلاف نیست کہ او عشق بازشد
اسی دن سے آپ " گیسو دراز " کے لقب سے مشہور ہو گئے ۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 4 رجب المرجب 720ھ / بمطابق 9 اگست 1320ء بروز جمعۃ المبارک دہلی میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
آپ کی ابتدائی تعلیم و تربیت آپ کے والد ماجد اور نانا کے زیر سایہ ہوئی ۔ آپ نے قرآن شریف حفظ کیا، اس کے علاوہ خلد آباد کے قیام کے زمانے میں آپ نے علومِ دینیہ کی تحصیل شروع کر دی تھی ۔ جب آپ اپنی والدہ محترمہ کے ہمراہ دہلی آئے تو آپ نے علوم ظاہری حاصل کرنے میں کافی محنت و کوشش کی ۔ آپ کو مولانا شرف الدین کیتھلی، مولانا تاج الدین بہادر، اور قاضی عبد المقتدر سے علوم متداولہ کی بہت سی کتابیں پڑھیں ۔
علومِ دینیہ کی تحصیل سے انیس سال کی عمر میں فراغت پائی ۔ علومِ دینیہ کی تکمیل کے بعد عبادت و ریاضت اور تزکیۂ نفس کی طرف متوجہ ہوئے ۔
بیعت و خلافت:
آپ 16 رجب 736ھ کو شیخ الاسلام حضرت خواجہ نصیر الدین چراغ دہلی کے دست حق پرست پر بیعت ہوئے اور کچھ مدت کے بعد خرقہ خلافت سے سرفراز ہوئے ۔
سیرت و خصائص:
امام العاشقین، زبدۃ العارفین، قدوۃ السالکین، برہان الواصلین، شیخِ کامل، عارف باللہ حضرت خواجہ سید محمد گیسو دراز بندہ نواز رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ سیادت علم و ولایت کے جامع تھے ۔ آپ اعلیٰ شان کے مالک تھے ۔ آپ کا رتبہ سچ، احوال قوی، مشرب وسیع، بلند ہمت، عارفانہ کلام، صوفیانہ احوال، اور شیریں مقال رکھتے تھے ۔
مشائخِ چشت اہلِ بہشت میں آپ کا مشرب خاص، اور رموزِحقیقت کے بیان میں آپ کا طریقہ مخصوص ہے ۔ آپ زہد و تقویٰ، تحمل و برد باری، سخاوت و فیاضی، عطاء و بخشش، قناعت و توکل، ترک و تجرید، عبادات و مجاہدات میں یگانۂ عَصر تھے ۔
آپ کو اپنے پیر و مرشد شیخ الاسلام حضرت نصیر الدین محمود چراغ دہلوی سے والہانہ محبت تھی ۔ حضرت چراغ دہلوی رحمۃ اللہ علیہ جو حکم فرماتے تھے، آپ اس کو بجا لاتے ۔ آپ پانچوں وقت کی نماز باجماعت ادا کرتے تھے ۔ روزے پابندی سے رکھتے تھے ۔ تمام سنن و نوافل ادا کرتے تھے ۔ کم سونا، کم کھانا، کم پینا، اور ہر وقت ذکر و فکر، مراقبۂ و مشاہدہ، اور مریدین کو وعظ و نصیحت میں ہمہ وقت مصروف رہتے تھے ۔
نام ونسب:
اسمِ گرامی: محمد ۔ کنیت: ابوالفتح ۔القاب: صدر الدین، ولی الاکبر، الصادق، اور زیادہ " خواجہ بندہ نواز گیسو دراز " کے لقب سے مشہور ہیں ۔
والد کا اسمِ گرامی:
سید یوسف حسینی رحمۃ اللہ علیہ ۔ آپ حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء محبوب الہی رحمۃ اللہ علیہ سے بیعت تھے، اور حضرت خواجہ نصیر الدین محمود رحمۃ اللہ علیہ کے روحانی فیوض سے بھی مستفید ہوئے تھے ۔ سید راجہ کہلا تھے ۔
آپ ہر وقت عبادت و ریاضت میں مصروف رہتے تھے ۔ اپنے نفس کے ساتھ جہاد کی وجہ سے دکن میں " راجو قتال " مشہور ہوئے ۔
آپ کا سلسلۂ نسب حضرت امام زین العابدین کے توسط سے مولائے کائنات سے جاکر ملتا ہے ۔ اس لحاظ سے آپ حسینی سید ہیں ۔
گیسو دراز کہلانے کی وجہ تسمیہ:
آپ علیہ الرحمہ ایک دن اپنے دوسرے ساتھیوں کے ساتھ اپنے پیر و مرشد شیخ نصیر الدین محمود چراغ دہلوی کی پالکی اٹھائے دہلی کے پر رونق بازار سے گزر رہے تھے ۔
آپ کے "گیسو" (زلفیں) پالکی کے نیچے پھنس گئے ۔ آپ ادب و احترام کے پیش نظر ان بالوں کو نکالنے کی بجائے پالکی کے ساتھ ساتھ دوڑتے رہے، اور ایک لمبا فاصلہ طے کر گئے ۔ حضرت شیخ چراغ دہلوی کو آپ کی اس کیفیت کا علم ہوا تو آپ نہایت خوش ہوئے اور حضرت گیسو دراز کی اس جانثاری اور ادب پر یہ شعر کہا ۔
؏: ہر کہ مرید سید گیسو دراز شد
واللہ خلاف نیست کہ او عشق بازشد
اسی دن سے آپ " گیسو دراز " کے لقب سے مشہور ہو گئے ۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 4 رجب المرجب 720ھ / بمطابق 9 اگست 1320ء بروز جمعۃ المبارک دہلی میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
آپ کی ابتدائی تعلیم و تربیت آپ کے والد ماجد اور نانا کے زیر سایہ ہوئی ۔ آپ نے قرآن شریف حفظ کیا، اس کے علاوہ خلد آباد کے قیام کے زمانے میں آپ نے علومِ دینیہ کی تحصیل شروع کر دی تھی ۔ جب آپ اپنی والدہ محترمہ کے ہمراہ دہلی آئے تو آپ نے علوم ظاہری حاصل کرنے میں کافی محنت و کوشش کی ۔ آپ کو مولانا شرف الدین کیتھلی، مولانا تاج الدین بہادر، اور قاضی عبد المقتدر سے علوم متداولہ کی بہت سی کتابیں پڑھیں ۔
علومِ دینیہ کی تحصیل سے انیس سال کی عمر میں فراغت پائی ۔ علومِ دینیہ کی تکمیل کے بعد عبادت و ریاضت اور تزکیۂ نفس کی طرف متوجہ ہوئے ۔
بیعت و خلافت:
آپ 16 رجب 736ھ کو شیخ الاسلام حضرت خواجہ نصیر الدین چراغ دہلی کے دست حق پرست پر بیعت ہوئے اور کچھ مدت کے بعد خرقہ خلافت سے سرفراز ہوئے ۔
سیرت و خصائص:
امام العاشقین، زبدۃ العارفین، قدوۃ السالکین، برہان الواصلین، شیخِ کامل، عارف باللہ حضرت خواجہ سید محمد گیسو دراز بندہ نواز رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ سیادت علم و ولایت کے جامع تھے ۔ آپ اعلیٰ شان کے مالک تھے ۔ آپ کا رتبہ سچ، احوال قوی، مشرب وسیع، بلند ہمت، عارفانہ کلام، صوفیانہ احوال، اور شیریں مقال رکھتے تھے ۔
مشائخِ چشت اہلِ بہشت میں آپ کا مشرب خاص، اور رموزِحقیقت کے بیان میں آپ کا طریقہ مخصوص ہے ۔ آپ زہد و تقویٰ، تحمل و برد باری، سخاوت و فیاضی، عطاء و بخشش، قناعت و توکل، ترک و تجرید، عبادات و مجاہدات میں یگانۂ عَصر تھے ۔
آپ کو اپنے پیر و مرشد شیخ الاسلام حضرت نصیر الدین محمود چراغ دہلوی سے والہانہ محبت تھی ۔ حضرت چراغ دہلوی رحمۃ اللہ علیہ جو حکم فرماتے تھے، آپ اس کو بجا لاتے ۔ آپ پانچوں وقت کی نماز باجماعت ادا کرتے تھے ۔ روزے پابندی سے رکھتے تھے ۔ تمام سنن و نوافل ادا کرتے تھے ۔ کم سونا، کم کھانا، کم پینا، اور ہر وقت ذکر و فکر، مراقبۂ و مشاہدہ، اور مریدین کو وعظ و نصیحت میں ہمہ وقت مصروف رہتے تھے ۔
آپ کو تمام علوم پر مہارتِ تامہ حاصل تھی ۔ قرآن و حدیث اور تصوف و فقہ پر آپ درس دیا کرتے تھے ۔ آپ نے مختلف موضوعات پر عربی اور فارسی زبان میں تقریباً ایک سو پانچ کتب تصنیف فرمائی ہیں، اور کچھ کتب کے حواشی اور شروح بھی تحریر فرمائے ہیں، جیسے " شرح رسالہ قشیریہ " شرح فقہ الاکبر " اور قرآنِ مجید کے پانچ پاروں کی تفسیر بھی لکھی ہے ۔ آپ کے ایک مرید نے آپ کے ملفوظات " جوامع الکلم " کے نام سے جمع کیے ہیں ۔ مشائخِ چشتیہ میں ان ملفوظات کی بہت اہمیت ہے ۔
آپ کے نزدیک شریعت کی پاسداری سب سے مقدم ہے ۔ آپ اپنے ملفوظات میں فرماتے ہیں: "یہ عقیدہ نہ رکھو کہ شریعت، طریقت اور حقیقت ایک دوسرے سے جدا ہیں ۔ (فی زمانہ جس طرح جاہل پیر کہتے پھرتے ہیں) بلکہ ایک ہیں ۔ دیکھو بادام کے اندر تین چیزیں ہیں ۔پوست، مغز اور روغن، تینوں ایک دوسرے سے جدا نہیں بلکہ ایک دوسرے کا خلاصہ ہیں ۔ یعنی پوست کا خلاصہ مغز ہے اور مغز کا خلاصہ روغن، اسی طرح شریعت کا خلاصہ طریقت اور طریقت کا خلاصہ حقیقت ہے " ۔ آپ کے نزدیک وقت سے زیادہ کوئی چیز قیمتی نہ تھی ۔ اس لئے آپ وقت کی بہت قدر کرتے تھے، اپنے مریدین کو بھی اسی کی تلقین کرتے تھے، کہ تمھارا ایک لمحہ بھی غفلت میں نہ گزرے، بلکہ اللہ جل شانہ کی یاد میں گزرے ۔
وصال:
آپ نے 16 ذیقعدہ 825ھ / بمطابق 1422ء کو اس عالم سے پردہ فرمایا ۔
مزار گلبرگہ (دکن، انڈیا) میں قبلہ حاجات خلائق ہے، بوقتِ وفات آپ کی عمر ایک سو پانچ سال تھی ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ اولیائے پاک و ہند ۔ خزینۃ الاصفیاء ۔ تذکرہ بزرگانِ چشت ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-meer-syed-muhamamd-gaisu-daraz
آپ کے نزدیک شریعت کی پاسداری سب سے مقدم ہے ۔ آپ اپنے ملفوظات میں فرماتے ہیں: "یہ عقیدہ نہ رکھو کہ شریعت، طریقت اور حقیقت ایک دوسرے سے جدا ہیں ۔ (فی زمانہ جس طرح جاہل پیر کہتے پھرتے ہیں) بلکہ ایک ہیں ۔ دیکھو بادام کے اندر تین چیزیں ہیں ۔پوست، مغز اور روغن، تینوں ایک دوسرے سے جدا نہیں بلکہ ایک دوسرے کا خلاصہ ہیں ۔ یعنی پوست کا خلاصہ مغز ہے اور مغز کا خلاصہ روغن، اسی طرح شریعت کا خلاصہ طریقت اور طریقت کا خلاصہ حقیقت ہے " ۔ آپ کے نزدیک وقت سے زیادہ کوئی چیز قیمتی نہ تھی ۔ اس لئے آپ وقت کی بہت قدر کرتے تھے، اپنے مریدین کو بھی اسی کی تلقین کرتے تھے، کہ تمھارا ایک لمحہ بھی غفلت میں نہ گزرے، بلکہ اللہ جل شانہ کی یاد میں گزرے ۔
وصال:
آپ نے 16 ذیقعدہ 825ھ / بمطابق 1422ء کو اس عالم سے پردہ فرمایا ۔
مزار گلبرگہ (دکن، انڈیا) میں قبلہ حاجات خلائق ہے، بوقتِ وفات آپ کی عمر ایک سو پانچ سال تھی ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ اولیائے پاک و ہند ۔ خزینۃ الاصفیاء ۔ تذکرہ بزرگانِ چشت ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-meer-syed-muhamamd-gaisu-daraz
scholars.pk
Hazrat Khawaja Meer Syed Muhamamd Gaisu Daraz
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
یوم خواجگان سلاطین اربعہ ⁴ رجب
¹حضرت خواجہ عبد الکریم مشرقی
²حضرت خواجہ عبد الرحیم شمالی
³حضرت خواجہ عبد الرشید جنوبی
⁴حضرت خواجہ عبد الجلیل مغربی
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَـبَـارَڪَ وَ تَـعَـالیٰ عَـنۡـهُمۡ
یہ بزرگ رِزق کی تقسیم پر معمور ہیں، 4 رجب المرجب کو اِن کے نام کی فاتحہ دِلا کر اِن کے وسیلے سے دعا کی جائے - تو اللہ پاک رِزق میں برکتیں عطا فرماتا ہے! [ جواہر خمسہ وغیرہ ]
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
سرکارِ اعلیٰ حضرت ، امام احمد رضا خان محدث بریلوی رَضِیَ الـلّٰـهُ تَـبَـارَڪَ وَ تَعَالیٰ عَنۡهٗ انہیں خواجگان سلاطین اربعہ کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں فتاویٰ رضویہ شریف میں فرماتے ہیں:
وہ سوال اور جواب 📜 یہ ⇩ ہے :
اوراد و وظائف و عملیات :
مسئلہ ۳۱۶ ⇩
السلام علیکم یا خواجہ عبدالکریم جانب مشرق، السلام علیك یا خواجہ عبدالرحیم جانب شمال، السلام علیك یا خواجہ عبدالرشید جانب جنوب، السلام علیك یاخواجہ عبدالجلیل جانب مغرب
بعدہ یہ پڑھنا:
اللّھم انت قدیم ازلی تنزیل العلل ولم تزل ولا تزال ارحمنی برحمتك یا ارحم الراحمین، اللّٰھم اغفرلامۃ سیدنا محمد صلی ﷲ علیہ وسلم، اللّٰھم ارحم امۃ سیّدنا محمد صلی ﷲ علیہ وسلم۔
بعدہ پڑھنا درود شریف کا بعددِ طاق جائز ہے یانہیں؟
اس کو امام غزالی رحمۃ ﷲ علیہ نے احیاء العلوم میں بھی لکھا ہے اور نیز کیمیائے سعادت میں ہے۔
الجواب ⇩
دعائے مذکور جائز ہے اور اس میں بہت برکات ہیں۔ یہ چاروں حضرات جہات اربعہ میں اوتادِ اربعہ ہیں۔ یہ اسمائے طیبہ ان کے اشخاص کے نہیں بلکہ عہدہ کے ہیں۔ جس طرح ہر غوث کا نام عبد ﷲ اور اس کے دونوں وزیروں کے نام عبد الملك اور عبد الرب ہیں۔ جو اس عہدہ پر مقرر ہوگا ظاہر میں کچھ نام رکھتا ہو یا باطن میں اس کا یہ نام رکھا جائے گا۔ وﷲ تعالٰی اعلم
[ فتاویٰ رضویہ جِلد ²⁶ صَفحہ ⁶⁰⁵ ]
🤲 طالبِ دُعا 🤲
عُـبَیۡدِ غَوۡثُؔوخَواجَہؔ، رَضَاؔ وَکُـل اَولِـیَآء
مُحَمَّدۡ جَمَالُالـدِّیۡنۡ خَانۡ قَادِرِیۡ رَضَـوِیۡ
ضِـلَـعۡ بَـہۡـرَائِـچ شَـرِیۡف یُوۡ. پِیۡ. اَلـہِـنۡـدۡ
مُوۡبَائِل نَمبَر +917860520899 📱
¹حضرت خواجہ عبد الکریم مشرقی
²حضرت خواجہ عبد الرحیم شمالی
³حضرت خواجہ عبد الرشید جنوبی
⁴حضرت خواجہ عبد الجلیل مغربی
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَـبَـارَڪَ وَ تَـعَـالیٰ عَـنۡـهُمۡ
یہ بزرگ رِزق کی تقسیم پر معمور ہیں، 4 رجب المرجب کو اِن کے نام کی فاتحہ دِلا کر اِن کے وسیلے سے دعا کی جائے - تو اللہ پاک رِزق میں برکتیں عطا فرماتا ہے! [ جواہر خمسہ وغیرہ ]
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
سرکارِ اعلیٰ حضرت ، امام احمد رضا خان محدث بریلوی رَضِیَ الـلّٰـهُ تَـبَـارَڪَ وَ تَعَالیٰ عَنۡهٗ انہیں خواجگان سلاطین اربعہ کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں فتاویٰ رضویہ شریف میں فرماتے ہیں:
وہ سوال اور جواب 📜 یہ ⇩ ہے :
اوراد و وظائف و عملیات :
مسئلہ ۳۱۶ ⇩
السلام علیکم یا خواجہ عبدالکریم جانب مشرق، السلام علیك یا خواجہ عبدالرحیم جانب شمال، السلام علیك یا خواجہ عبدالرشید جانب جنوب، السلام علیك یاخواجہ عبدالجلیل جانب مغرب
بعدہ یہ پڑھنا:
اللّھم انت قدیم ازلی تنزیل العلل ولم تزل ولا تزال ارحمنی برحمتك یا ارحم الراحمین، اللّٰھم اغفرلامۃ سیدنا محمد صلی ﷲ علیہ وسلم، اللّٰھم ارحم امۃ سیّدنا محمد صلی ﷲ علیہ وسلم۔
بعدہ پڑھنا درود شریف کا بعددِ طاق جائز ہے یانہیں؟
اس کو امام غزالی رحمۃ ﷲ علیہ نے احیاء العلوم میں بھی لکھا ہے اور نیز کیمیائے سعادت میں ہے۔
الجواب ⇩
دعائے مذکور جائز ہے اور اس میں بہت برکات ہیں۔ یہ چاروں حضرات جہات اربعہ میں اوتادِ اربعہ ہیں۔ یہ اسمائے طیبہ ان کے اشخاص کے نہیں بلکہ عہدہ کے ہیں۔ جس طرح ہر غوث کا نام عبد ﷲ اور اس کے دونوں وزیروں کے نام عبد الملك اور عبد الرب ہیں۔ جو اس عہدہ پر مقرر ہوگا ظاہر میں کچھ نام رکھتا ہو یا باطن میں اس کا یہ نام رکھا جائے گا۔ وﷲ تعالٰی اعلم
[ فتاویٰ رضویہ جِلد ²⁶ صَفحہ ⁶⁰⁵ ]
🤲 طالبِ دُعا 🤲
عُـبَیۡدِ غَوۡثُؔوخَواجَہؔ، رَضَاؔ وَکُـل اَولِـیَآء
مُحَمَّدۡ جَمَالُالـدِّیۡنۡ خَانۡ قَادِرِیۡ رَضَـوِیۡ
ضِـلَـعۡ بَـہۡـرَائِـچ شَـرِیۡف یُوۡ. پِیۡ. اَلـہِـنۡـدۡ
مُوۡبَائِل نَمبَر +917860520899 📱
❤2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
یوم خواجگان سلاطین اربعہ ⁴ رجب ¹حضرت خواجہ عبد الکریم مشرقی ²حضرت خواجہ عبد الرحیم شمالی ³حضرت خواجہ عبد الرشید جنوبی ⁴حضرت خواجہ عبد الجلیل مغربی رَضِیَ الـلّٰـهُ تَـبَـارَڪَ وَ تَـعَـالیٰ عَـنۡـهُمۡ یہ بزرگ رِزق کی تقسیم پر معمور ہیں، 4 رجب المرجب کو اِن…
یوم سلاطین اربعہ 4 رجب
یوم خواجگان اربعہ ⁴رجب
https://t.me/islaamic_Knowledge/44300
یوم سلاطین خواجگان اربعہ
یوم خواجگان اربعہ ⁴رجب
https://t.me/islaamic_Knowledge/44300
یوم سلاطین خواجگان اربعہ
❤2