🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
03-07-1445 ᴴ | 15-01-2024 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
03-07-1445 ᴴ | 15-01-2024 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
03-07-1445 ᴴ | 15-01-2024 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
03-07-1445 ᴴ | 15-01-2024 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
#فیضان_خواجہ_غریب_نواز ⓲
خواجہ معین الدین چشتیاجمیری
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَـبَـارَڪَ وَ تَـعَـالیٰ عَـنۡـهٗ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
#فیضان_خواجہ_غریب_نواز ⓲
خواجہ معین الدین چشتیاجمیری
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَـبَـارَڪَ وَ تَـعَـالیٰ عَـنۡـهٗ
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
حضرت شیخ ابو ذر ابوزجانی علیہ الرحمہ
شیخ الاسلام کہتےہیں کہ میں نے ایک شخص کو دیکھا ہے کہ جس نے بو ذر بوزجانی کو دیکھا صیاد گور گیر کہتے ہیں کہ بونر جان میںمجھے بڑی تکلیف پہنچی تھی میں نے بہت ہی طلب کیا تب جا کر ان کو پایا میں نے بوذر کو دیکھا کہ وہ کرامات ظاہرہ والے ہیں ۔
کہتے ہیں کہ بوذر جان میں ایک مدرسہ تھا جس میں کہ شیخ ابو ذر وہاں کے رہنے والوں کو اولیاء کہتے تھے۔ ایک دن اس مدرسہ کے دروازہ پر سوتے تھے۔مدرسہ کا چپڑاسی آیا کہنے لگا کہ آج طلباء کو کھانا نہیں ملا۔اس مدرسہ میں ایک توت کا درخت تھا۔ چپڑاسی سے کہا کہ جااس درخت کو جھاڑ۔ چپڑاسی نے اس درخت کو جھاڑا جو پتھر جھڑا وہ خالص سونا تھے اور شیخ کے سامنے لایا۔کہا کہ جاؤ ان کے لیے کھانا خرید لاؤ ۔
ایک دن سبکتگین سلطان محمود کا باپ جس کی وفات ۳۸۷ ھ میں ہوئی ہے آپ کی زیارت کو آیا ۔ آپ نے اس کو سخت نصیحتیں فرمائیں ۔ سلطان محمود ابھی بچہ تھا ۔
اس کو شیخ کے سامنے لائے ۔ شیخ نے بڑی مہربانی کی اور اپنی گود میں بٹھلایا ۔ آپ کے اشعار میں سے یہ شعر ہے ۔
لعرفنا من کان من حسبنا وسائرالناس لنا منکرون
یعنی البتہ ہم کو وہ لوگ پہچانتے ہیں جو کہ ہمارے حسب کے ہیں لیکن عام لوگ ہمارے منکر ہیں اور یہ بھی ان ے اشعار میں سے ہیں۔
تو بعلم ازل مرا دیدی دیدی آنگہ بعیب بحزیدی
تو بعلم آن و من بعیب ہماں رومکن آنچہخود پسندیدی
( نفحاتُ الاُنس )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-abu-muhammad-abu-umar
شیخ الاسلام کہتےہیں کہ میں نے ایک شخص کو دیکھا ہے کہ جس نے بو ذر بوزجانی کو دیکھا صیاد گور گیر کہتے ہیں کہ بونر جان میںمجھے بڑی تکلیف پہنچی تھی میں نے بہت ہی طلب کیا تب جا کر ان کو پایا میں نے بوذر کو دیکھا کہ وہ کرامات ظاہرہ والے ہیں ۔
کہتے ہیں کہ بوذر جان میں ایک مدرسہ تھا جس میں کہ شیخ ابو ذر وہاں کے رہنے والوں کو اولیاء کہتے تھے۔ ایک دن اس مدرسہ کے دروازہ پر سوتے تھے۔مدرسہ کا چپڑاسی آیا کہنے لگا کہ آج طلباء کو کھانا نہیں ملا۔اس مدرسہ میں ایک توت کا درخت تھا۔ چپڑاسی سے کہا کہ جااس درخت کو جھاڑ۔ چپڑاسی نے اس درخت کو جھاڑا جو پتھر جھڑا وہ خالص سونا تھے اور شیخ کے سامنے لایا۔کہا کہ جاؤ ان کے لیے کھانا خرید لاؤ ۔
ایک دن سبکتگین سلطان محمود کا باپ جس کی وفات ۳۸۷ ھ میں ہوئی ہے آپ کی زیارت کو آیا ۔ آپ نے اس کو سخت نصیحتیں فرمائیں ۔ سلطان محمود ابھی بچہ تھا ۔
اس کو شیخ کے سامنے لائے ۔ شیخ نے بڑی مہربانی کی اور اپنی گود میں بٹھلایا ۔ آپ کے اشعار میں سے یہ شعر ہے ۔
لعرفنا من کان من حسبنا وسائرالناس لنا منکرون
یعنی البتہ ہم کو وہ لوگ پہچانتے ہیں جو کہ ہمارے حسب کے ہیں لیکن عام لوگ ہمارے منکر ہیں اور یہ بھی ان ے اشعار میں سے ہیں۔
تو بعلم ازل مرا دیدی دیدی آنگہ بعیب بحزیدی
تو بعلم آن و من بعیب ہماں رومکن آنچہخود پسندیدی
( نفحاتُ الاُنس )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-abu-muhammad-abu-umar
scholars.pk
Hazrat Abu Muhammad Abu Umar
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
👍2❤1
حضرت مولانا شاہ عبد الباری فرنگی محلی رحمۃ اللہ علیہ
نام ونسب:
اسم گرامی: شاہ عبدالباری ۔ لقب: امام العلماء، فرنگی محلی، لکھنوی ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت شاہ عبد الباری بن حضرت شاہ مولانا عبد الوہاب بن حضرت مولانا شاہ محمد عبد الرزاق بن مہلک الوہابیین حضرت مولانا شاہ محمد جمال الدین فرنگی محلی ۔ علیہم الرحمہ ۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 1295ھ / مطابق 1878ء کو "فرنگی محل" لکھنؤ (ہند) میں ہوئی ۔
تحصیل علم:
حضرت مولانا شاہ عبد الباقی فرنگی محلی مدنی علیہ الرحمۃ سے اکثر علوم کا درس لیا، چند کتابیں حضرت مولانا عین القضاۃ حیدر آبادی و لکھنوی تلمیذ مولانا ابو الحسنات عبد الحئی فرنگی محلی سے پڑھیں ۔
1322ھ میں حرمین طیبین کا سفر کیا ۔ اور حج کے بعد مدینہ طیّبہ میں حضرت علامہ سید علی بن ظاہر الوتری المدنی اور شیخ الدلائل علامہ سید امین رضوان اور علامہ شیخ سید احمد برزنجی مدنی اور حضرت شیخ المشائخ سید عبد الرحمٰن بغدادی نقیب الاشراف قدس اللہ اسرارہم سے سند و اجازت حدیث و سلاسل طریقت حاصل کی، آپ کو تمام علوم میں تبحر تام حاصل تھا، امام اہلسنت الشاہ امام احمد رضا خان قادری علیہ الرحمہ آپ کو " فاضلِ اکمل " کہتے تھے ۔ (تذکرہ علمائے اہلسنت: 173) ـ
بیعت و خلافت:
حضرت شیخ المشائخ سید عبد الرحمٰن بغدادی نقیب الاشراف درگاہِ غوثیہ کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے، اور خلافت سے سر فراز کیے گئے ۔
سیرت و خصائص:
نمونۂ سلف، حجۃ الخلف، امام العلماء، رئیس الاتقیاء، جامع علوم عقلیہ و نقلیہ، صاحبِ اوصاف کثیرہ، فاضلِ اکمل، عالمِ متبحر، حامیِ سنت، ماحی بدعت، غیظ المنافقین، مہلک الوہابیین، حضرت علامہ مولانا الشاہ عبد الباری فرنگی محلی لکھنوی رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ کا شمار ہندوستان (پاک و ہند) کے اعاظم علماء میں ہوتا ہے ۔ آپ منقول و معقول کے امام اور خاندانِ فرنگی محل کی علمی و روحانی اور اعتقادی امانتوں کے وارثِ اکمل تھے ۔ تمام درسی کتب پر یکساں مہارت حاصل تھی ۔
آپ کی کوشش سے فرنگی محل لکھنؤ میں مدرسہ نظامیہ میں احیائے دین اسلام کے لئے درس و تدریس کا سلسلہ شروع ہوا ۔ پوری قوت کے ساتھ درس و تدریس میں مصروف ہو گئے، ابتداً معقولات کی طرف زیادہ توجہ تھی، لیکن بعد میں آپ کی مشغولیت تمام کی تمام قرآن و حدیث کی تدریس کی طرف ہو گئی ۔ اس کے علاوہ گھر میں مثنوی مولانا روم کا درس دیتےتھے ۔ جس میں بڑے بڑے فضلاء کرام، اور عوام شرکت فرماتےتھے ۔ آپ کے علمی فیضان سے کثیر لوگوں نے استفادہ کیا ۔ آپ علیہ الرحمہ تمام دینی و دنیاوی امور پر بڑی گہری نظر رکھتے تھے ۔
آپ نے ان آزمائشی حالات میں جب خطۂ ہندوستان پر انگریز قابض ہو چکا تھا، اور خلافتِ عثمانیہ کے خلاف سازشیں عروج پر تھیں، حجاز مقدس میں انگریزوں کے ایماء پر وہابی یلغار میں مصروف تھے، اور مقاماتِ مقدسہ کی بے حرمتی کی جا رہی تھی، اس وقت آپ نے " انجمن خدام کعبہ " کی بنیاد رکھی ، جس نے وہابیوں کے مظالم اور مقامتِ مقدسہ کی بے حرمتی کا سختی سے نوٹس لیا ۔
اسی طرح تحریکِ خلافت میں بھی پیش پیش رہے ۔ بلکہ آپ قائدین میں سے تھے ۔ ہر طریقے سے اس کی تائید پر عام لوگوں کو آمادہ، اور اس کی اعانت، اس کے حق میں مختلف شہروں میں جلسے منعقد کرتے تھے ۔ انگریز اور اس کء حامیوں کے زبردست مخالف تھے ۔ جہاں موقع ملتا اچانک حملہ کرتے، اللہ جل شانہ نے آپ کو مقبولیت عامہ عطاء فرمائی تھی ۔
نام ونسب:
اسم گرامی: شاہ عبدالباری ۔ لقب: امام العلماء، فرنگی محلی، لکھنوی ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت شاہ عبد الباری بن حضرت شاہ مولانا عبد الوہاب بن حضرت مولانا شاہ محمد عبد الرزاق بن مہلک الوہابیین حضرت مولانا شاہ محمد جمال الدین فرنگی محلی ۔ علیہم الرحمہ ۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 1295ھ / مطابق 1878ء کو "فرنگی محل" لکھنؤ (ہند) میں ہوئی ۔
تحصیل علم:
حضرت مولانا شاہ عبد الباقی فرنگی محلی مدنی علیہ الرحمۃ سے اکثر علوم کا درس لیا، چند کتابیں حضرت مولانا عین القضاۃ حیدر آبادی و لکھنوی تلمیذ مولانا ابو الحسنات عبد الحئی فرنگی محلی سے پڑھیں ۔
1322ھ میں حرمین طیبین کا سفر کیا ۔ اور حج کے بعد مدینہ طیّبہ میں حضرت علامہ سید علی بن ظاہر الوتری المدنی اور شیخ الدلائل علامہ سید امین رضوان اور علامہ شیخ سید احمد برزنجی مدنی اور حضرت شیخ المشائخ سید عبد الرحمٰن بغدادی نقیب الاشراف قدس اللہ اسرارہم سے سند و اجازت حدیث و سلاسل طریقت حاصل کی، آپ کو تمام علوم میں تبحر تام حاصل تھا، امام اہلسنت الشاہ امام احمد رضا خان قادری علیہ الرحمہ آپ کو " فاضلِ اکمل " کہتے تھے ۔ (تذکرہ علمائے اہلسنت: 173) ـ
بیعت و خلافت:
حضرت شیخ المشائخ سید عبد الرحمٰن بغدادی نقیب الاشراف درگاہِ غوثیہ کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے، اور خلافت سے سر فراز کیے گئے ۔
سیرت و خصائص:
نمونۂ سلف، حجۃ الخلف، امام العلماء، رئیس الاتقیاء، جامع علوم عقلیہ و نقلیہ، صاحبِ اوصاف کثیرہ، فاضلِ اکمل، عالمِ متبحر، حامیِ سنت، ماحی بدعت، غیظ المنافقین، مہلک الوہابیین، حضرت علامہ مولانا الشاہ عبد الباری فرنگی محلی لکھنوی رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ کا شمار ہندوستان (پاک و ہند) کے اعاظم علماء میں ہوتا ہے ۔ آپ منقول و معقول کے امام اور خاندانِ فرنگی محل کی علمی و روحانی اور اعتقادی امانتوں کے وارثِ اکمل تھے ۔ تمام درسی کتب پر یکساں مہارت حاصل تھی ۔
آپ کی کوشش سے فرنگی محل لکھنؤ میں مدرسہ نظامیہ میں احیائے دین اسلام کے لئے درس و تدریس کا سلسلہ شروع ہوا ۔ پوری قوت کے ساتھ درس و تدریس میں مصروف ہو گئے، ابتداً معقولات کی طرف زیادہ توجہ تھی، لیکن بعد میں آپ کی مشغولیت تمام کی تمام قرآن و حدیث کی تدریس کی طرف ہو گئی ۔ اس کے علاوہ گھر میں مثنوی مولانا روم کا درس دیتےتھے ۔ جس میں بڑے بڑے فضلاء کرام، اور عوام شرکت فرماتےتھے ۔ آپ کے علمی فیضان سے کثیر لوگوں نے استفادہ کیا ۔ آپ علیہ الرحمہ تمام دینی و دنیاوی امور پر بڑی گہری نظر رکھتے تھے ۔
آپ نے ان آزمائشی حالات میں جب خطۂ ہندوستان پر انگریز قابض ہو چکا تھا، اور خلافتِ عثمانیہ کے خلاف سازشیں عروج پر تھیں، حجاز مقدس میں انگریزوں کے ایماء پر وہابی یلغار میں مصروف تھے، اور مقاماتِ مقدسہ کی بے حرمتی کی جا رہی تھی، اس وقت آپ نے " انجمن خدام کعبہ " کی بنیاد رکھی ، جس نے وہابیوں کے مظالم اور مقامتِ مقدسہ کی بے حرمتی کا سختی سے نوٹس لیا ۔
اسی طرح تحریکِ خلافت میں بھی پیش پیش رہے ۔ بلکہ آپ قائدین میں سے تھے ۔ ہر طریقے سے اس کی تائید پر عام لوگوں کو آمادہ، اور اس کی اعانت، اس کے حق میں مختلف شہروں میں جلسے منعقد کرتے تھے ۔ انگریز اور اس کء حامیوں کے زبردست مخالف تھے ۔ جہاں موقع ملتا اچانک حملہ کرتے، اللہ جل شانہ نے آپ کو مقبولیت عامہ عطاء فرمائی تھی ۔
❤2
آپ کا گھر مسلمانوں کا سیاسی مرکز تھا ۔ جہاں ہر وقت عوام و خواص کا ایک جم غفیر موجود رہتا تھا ۔ ان کا طعام و قیام کا مکمل بند و بست آپ کے ہاں سے ہوتا تھا ۔ آپ بہت سخی، اور مہمان نواز تھے ۔آپ کا گھر کبھی مہمانوں سے خالی نہ دیکھا گیا ۔ ہر آنے والی کی بڑی توقیر کرتے تھے، غریب مسلمانوں کی مدد و اعانت آپ کا شیوہ تھا ۔
آپ بہت نڈر اور با وقار تھے ۔ کبھی بھی کسی سے مرعوب نہیں ہوئے، اگر کہیں اسلام اور مسلمانوں کی عزت، وقار کی بات آتی تو جواب دینے والوں میں اول ہوتے تھے ۔ یہی وجہ ہے کہ مسٹر گاندھی آپ سے مرعوب رہتا تھا ۔
علماء و مشائخ کی عزت مبالغے کی حد تک کرتے تھے ۔ فرماتے علماء و مشائخ کی عزت و توقیر اسلام کی توقیر ہے ۔ لیکن بد مذہبوں اور اسلام دشمنوں کے خلاف ننگی تلوار تھے ۔ وہابیوں، دیوبندیوں کے سخت مخالف تھے ۔ یہی وجہ ہے کہ آپ ہی کے حکم سے مولوی اشرف علی تھانوی کی بہشتی زیور اور حفظ الایمان فرنگی محل میں جلائی گئی تھی، آپ نے تھانوی صاحب کو حفظ الایمان کی کفریہ عبارت سے توبہ کے لیے بار بار متوجہ کیا، مگر ان کو توبہ کی توفیق نصیب نہ ہو سکی ۔
نماز با جماعت ادا کرنے کی بہت حفاظت فرماتے تھے، خواہ سفر کی حالت میں ہوں یا حضر کی حالت میں، نماز با جماعت ادا کرتے تھے ۔ سفر کی حالت میں کم از کم دو رفیق ساتھ ہوتے تھے ۔ ان کا تمام خرچہ آپ صرف اس لئے برداشت کرتے تھے، ان کی وجہ سے نماز باجماعت کی سعادت میسر ہوتی تھی ۔ اللہ اکبر ۔ (یہ آج کے نوجوان علماء کرام کے لئے ایک بہت بڑی نصیحت ہے، کہ ہمارے اکابرین کا تقویٰ کتنا بلند تھا، ہمیں ان کے نقش قدم پر چلنا چاہئے) ۔
اسی طرح فرصت سے فارغ وقت میں اوراد و وظائف اور نوافل میں مشغول رہتے تھے ۔ آپ کے وصال سے فرنگی محل کا ایک عہد ختم ہو گیا، اور علم کا باب بند ہو گیا ۔ آپ علمائے فرنگی محل کے سرتاج تھے ۔
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 4 رجب المرجب 1344ھ / مطابق 15 جنوری 1926ء کو فالج کے حملے سے ہوا ۔ آپ نےصدقۂ جاریہ میں کثیر عمدہ تصانیف اور جید علماء کرام چھوڑے ہیں ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ علمائے اہلسنت ۔ نزہۃ الخواطر ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-abdul-bari-farangi-mahal-lakhnavi
آپ بہت نڈر اور با وقار تھے ۔ کبھی بھی کسی سے مرعوب نہیں ہوئے، اگر کہیں اسلام اور مسلمانوں کی عزت، وقار کی بات آتی تو جواب دینے والوں میں اول ہوتے تھے ۔ یہی وجہ ہے کہ مسٹر گاندھی آپ سے مرعوب رہتا تھا ۔
علماء و مشائخ کی عزت مبالغے کی حد تک کرتے تھے ۔ فرماتے علماء و مشائخ کی عزت و توقیر اسلام کی توقیر ہے ۔ لیکن بد مذہبوں اور اسلام دشمنوں کے خلاف ننگی تلوار تھے ۔ وہابیوں، دیوبندیوں کے سخت مخالف تھے ۔ یہی وجہ ہے کہ آپ ہی کے حکم سے مولوی اشرف علی تھانوی کی بہشتی زیور اور حفظ الایمان فرنگی محل میں جلائی گئی تھی، آپ نے تھانوی صاحب کو حفظ الایمان کی کفریہ عبارت سے توبہ کے لیے بار بار متوجہ کیا، مگر ان کو توبہ کی توفیق نصیب نہ ہو سکی ۔
نماز با جماعت ادا کرنے کی بہت حفاظت فرماتے تھے، خواہ سفر کی حالت میں ہوں یا حضر کی حالت میں، نماز با جماعت ادا کرتے تھے ۔ سفر کی حالت میں کم از کم دو رفیق ساتھ ہوتے تھے ۔ ان کا تمام خرچہ آپ صرف اس لئے برداشت کرتے تھے، ان کی وجہ سے نماز باجماعت کی سعادت میسر ہوتی تھی ۔ اللہ اکبر ۔ (یہ آج کے نوجوان علماء کرام کے لئے ایک بہت بڑی نصیحت ہے، کہ ہمارے اکابرین کا تقویٰ کتنا بلند تھا، ہمیں ان کے نقش قدم پر چلنا چاہئے) ۔
اسی طرح فرصت سے فارغ وقت میں اوراد و وظائف اور نوافل میں مشغول رہتے تھے ۔ آپ کے وصال سے فرنگی محل کا ایک عہد ختم ہو گیا، اور علم کا باب بند ہو گیا ۔ آپ علمائے فرنگی محل کے سرتاج تھے ۔
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 4 رجب المرجب 1344ھ / مطابق 15 جنوری 1926ء کو فالج کے حملے سے ہوا ۔ آپ نےصدقۂ جاریہ میں کثیر عمدہ تصانیف اور جید علماء کرام چھوڑے ہیں ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ علمائے اہلسنت ۔ نزہۃ الخواطر ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-abdul-bari-farangi-mahal-lakhnavi
scholars.pk
Hazrat Molana Abdul Bari Farangi Mahal Lakhnavi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤2