نے آج رات میری موافقت کی تو دو رکعت میں ایک ختم قرآن کرونگا۔ اس رات نفس نے موافقت نہ کی۔ اور آپ سے دو رکعت نماز فوت ہوگئی۔ یہ کالی اس وجہ سے تھی کہ اس روز آپ نے پیٹ بھر کھانا کھالیا تھا۔ اس کی سزا کے طور پر آپ نے بیس سال تک نفس کو پانی نہ دیا۔ غرضیکہ آپ کے کمالات وکرامات اس قدر ہیں کہ دائرہ تحریر سے باہر ہیں۔
وصال
جب آپ کے وصال کا وقت قریب آیا تو آپ نے اپے بڑے بیٹے حضرت خواجہ قطب الدین مودود چشتی قدس سرہٗ کو وصیت فرمائی اور اپنا قائم مقام مقرر فرمایا۔ آپ کا وصال تین ماہ رجب ۴۵۹ھ کو خلیفہ ابو جعفر عبداللہ لقب قائم بن قادر کے عہد حکومت میں ہوا جو سلطان طغرل بیک بن میکائل بن سلجوق کا بیٹا تھا صاحب سیر الاقطاب نے آپ کی تاریخ وصال یوں نکالی ہے ’’عارف کامل بود‘‘ رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ۔
اللّٰھمّ صلّ علیٰ محمد والہٖ واصحابہٖ اجمعین۔
ازرہگذرِ خاکِ سرکوئے شمابود
ہر نافہ کہ دردستِ نسیم سحر افتاد
(اقتباس الانوار)
علماء کے تاج، اولیا کے سردار، اذکیاء کے مقتدا، صوفیوں کے پیشوا، ملت و مذہب کے معاون و مدد گار طریقت کے دوسرے بازو، حقیقت کے کمال خواجہ ابو یوسف چشتی ہیں۔ آپ کی معجز نما کرامتیں عالم میں ظاہر اور حکیمانہ ہدایتیں واضح ہیں (خدا تعالیٰ آپ کے روضہ مقدس کو منور اور قبر شریف کو ٹھنڈا رکھے) اس بزرگ نے خرقہ ارادت خواجہ محمد چشتی قدس اللہ سرہ العزیز سے زیب تن کیا تھا منقول ہے کہ ایک دن خواجہ ابو یوسف چشتی رستہ میں چلے جاتے تھے اثناء میں چند لوگ نظر پڑے جو ایک مسجد کی تعمیر میں مصروف تھے لیکن جو کڑیاں مسجد کی چھت پاٹنے کے لیے اوپر لے جاتے تھے وہ موازنہ عمارت سے چھوٹی نکلتی ہیں لوگ حیرت میں تھے کہ اب کیا کرنا چاہیے اسی حیرت اور پریشانی کے وقت خواجہ وہاں پہنچ گئے اور ان کی پریشانی کی وجہ دریافت کی جب یہ واقعہ معلوم ہوا تو آپ فوراً گھوڑے سے اتر آئے اور مسجد کی دیوار پر تشریف لے جا کر کڑی کا سرا اپنے مبارک ہاتھ سے پکڑ اور بسم اللہ الرحمٰن الرحیم کہہ کر دیوار پر رکھا اب جو اندازہ کیا جاتا ہے تو کڑی اس طرف سے پوری گز بہر مسجد کی عمارت سے بڑھ گئی جس طرف سے خواجہ نے ہاتھ لگایا تھا چنانچہ اس وقت تک وہ کڑی گز بہر مسجد کی عمارت سے باہر نکلی ہوئی ہے۔ کاتب حروف نے اپنے والد بزرگوار سید مبارک محمد کرمانی رحمۃ اللہ علیہ سے سنا ہے آپ فرماتے تھے کہ اس مسجد میں خود اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے جو اس وقت علی حالہ موجود ہے۔ منقول ہے کہ خواجہ ابو یوسف چشتی قدس سرہ کو قرآن مجید یاد نہیں ہوتا تھا اور اس وجہ سے اکثر اوقات نہایت متردد و متفکر رہتے تھے یہاں تک کہ ایک رات آپ اسی تردد میں مبتلا تھے کہ نہایت بے چینی کے ساتھ نیند آگئی۔ خواب میں دیکھتے ہیں کہ آپ کے پیر خواجہ محمد چشتی قدس اللہ سرہ العزیز کھڑے فر ما رہے ہیں کہ ابو یوسف تمہارا کیا حال ہے مجھے تم بہت متردد معلوم ہوتے ہو۔ خواجہ ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ نے کہا بے شک مجھے سخت تردد ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ مجھے کلام اللہ یاد نہیں ہوتا ہے فرمایا تم رنج نہ کرو سو مرتبہ سورہ فاتحہ پڑھ لو اس کی برکت سے تمہیں کلام اللہ یاد ہوجائے گا۔ خواجہ ابو یوسف جب بیدار ہوئے تو پیر کے ارشاد کے مطابق سو دفعہ سورہ فاتحہ پڑھی خدا کے فضل و کرم اور سورہ فاتحہ کی برکت سے آپ کو تمام کلام اللہ از بر ہوگیا چنانچہ اس کے بعد آپ ہر روز قرآن مجید کے پانچ ختم کرنے لگے۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-nasiruddin-abu-yousuf-chishti-sarmadi
وصال
جب آپ کے وصال کا وقت قریب آیا تو آپ نے اپے بڑے بیٹے حضرت خواجہ قطب الدین مودود چشتی قدس سرہٗ کو وصیت فرمائی اور اپنا قائم مقام مقرر فرمایا۔ آپ کا وصال تین ماہ رجب ۴۵۹ھ کو خلیفہ ابو جعفر عبداللہ لقب قائم بن قادر کے عہد حکومت میں ہوا جو سلطان طغرل بیک بن میکائل بن سلجوق کا بیٹا تھا صاحب سیر الاقطاب نے آپ کی تاریخ وصال یوں نکالی ہے ’’عارف کامل بود‘‘ رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ۔
اللّٰھمّ صلّ علیٰ محمد والہٖ واصحابہٖ اجمعین۔
ازرہگذرِ خاکِ سرکوئے شمابود
ہر نافہ کہ دردستِ نسیم سحر افتاد
(اقتباس الانوار)
علماء کے تاج، اولیا کے سردار، اذکیاء کے مقتدا، صوفیوں کے پیشوا، ملت و مذہب کے معاون و مدد گار طریقت کے دوسرے بازو، حقیقت کے کمال خواجہ ابو یوسف چشتی ہیں۔ آپ کی معجز نما کرامتیں عالم میں ظاہر اور حکیمانہ ہدایتیں واضح ہیں (خدا تعالیٰ آپ کے روضہ مقدس کو منور اور قبر شریف کو ٹھنڈا رکھے) اس بزرگ نے خرقہ ارادت خواجہ محمد چشتی قدس اللہ سرہ العزیز سے زیب تن کیا تھا منقول ہے کہ ایک دن خواجہ ابو یوسف چشتی رستہ میں چلے جاتے تھے اثناء میں چند لوگ نظر پڑے جو ایک مسجد کی تعمیر میں مصروف تھے لیکن جو کڑیاں مسجد کی چھت پاٹنے کے لیے اوپر لے جاتے تھے وہ موازنہ عمارت سے چھوٹی نکلتی ہیں لوگ حیرت میں تھے کہ اب کیا کرنا چاہیے اسی حیرت اور پریشانی کے وقت خواجہ وہاں پہنچ گئے اور ان کی پریشانی کی وجہ دریافت کی جب یہ واقعہ معلوم ہوا تو آپ فوراً گھوڑے سے اتر آئے اور مسجد کی دیوار پر تشریف لے جا کر کڑی کا سرا اپنے مبارک ہاتھ سے پکڑ اور بسم اللہ الرحمٰن الرحیم کہہ کر دیوار پر رکھا اب جو اندازہ کیا جاتا ہے تو کڑی اس طرف سے پوری گز بہر مسجد کی عمارت سے بڑھ گئی جس طرف سے خواجہ نے ہاتھ لگایا تھا چنانچہ اس وقت تک وہ کڑی گز بہر مسجد کی عمارت سے باہر نکلی ہوئی ہے۔ کاتب حروف نے اپنے والد بزرگوار سید مبارک محمد کرمانی رحمۃ اللہ علیہ سے سنا ہے آپ فرماتے تھے کہ اس مسجد میں خود اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے جو اس وقت علی حالہ موجود ہے۔ منقول ہے کہ خواجہ ابو یوسف چشتی قدس سرہ کو قرآن مجید یاد نہیں ہوتا تھا اور اس وجہ سے اکثر اوقات نہایت متردد و متفکر رہتے تھے یہاں تک کہ ایک رات آپ اسی تردد میں مبتلا تھے کہ نہایت بے چینی کے ساتھ نیند آگئی۔ خواب میں دیکھتے ہیں کہ آپ کے پیر خواجہ محمد چشتی قدس اللہ سرہ العزیز کھڑے فر ما رہے ہیں کہ ابو یوسف تمہارا کیا حال ہے مجھے تم بہت متردد معلوم ہوتے ہو۔ خواجہ ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ نے کہا بے شک مجھے سخت تردد ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ مجھے کلام اللہ یاد نہیں ہوتا ہے فرمایا تم رنج نہ کرو سو مرتبہ سورہ فاتحہ پڑھ لو اس کی برکت سے تمہیں کلام اللہ یاد ہوجائے گا۔ خواجہ ابو یوسف جب بیدار ہوئے تو پیر کے ارشاد کے مطابق سو دفعہ سورہ فاتحہ پڑھی خدا کے فضل و کرم اور سورہ فاتحہ کی برکت سے آپ کو تمام کلام اللہ از بر ہوگیا چنانچہ اس کے بعد آپ ہر روز قرآن مجید کے پانچ ختم کرنے لگے۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-nasiruddin-abu-yousuf-chishti-sarmadi
❤1
حضرت خواجہ یوسف بن محمد بن سمعان علیہ الرحمہ
آپ محمد بن ابی احمد کے ہمشیرہ زاد اور ان کے مرید و ترتیب یافتہ ہیں۔ خواجہ محمد ۶۵ سال تک عیالدار نہیں ہوئے۔ایک ان کی ہمشیرہ تھی جن کی وہ خدمت کیا کرتے تھے۔ان کا کھا نا پہننا ان کے ہاتھ کے کاتے ہوئے سے ہوتا تھا ۔ آپ کا سن چالیس سال تک پہنچا تھا ۔ بھائی کی خدمت اور خدا کی بندگی کی وجہ سے نکاح کی خواہش نہ رکھی تھی ۔
آپ رات خواجہ محمد ان کے پدر بزرگوار نے خواجہ ابو احمد کو خواب میں دیکھا کہ یوں کہتے ہیں۔تمہاری ولایت میں فلاں شخص ہے۔محمد بن سمعان اس کا نام ہے۔جس نے علم تحصیل کیا ہے اور زمانہ کی اصلاح کردی ہے۔ تم اپنی ہمشیرہ کا نکاح کردو۔خواجہ نے ان کو طلب کیا اور اپنی ہمشیرہ کا نکاح ان سے کردیا۔پھر وہ بھی چشت میں رہ گئے تھے ۔ خواجہ یوسف انہیں کے فرزند ہیں ۔
خواجہ محمد ۶۵ سال کے بعد عیالدار ہوئے تھے لیکن کوئی لڑکا بزرگ نہ ہوا تھا۔ خواجہ یوسف کو بمنزلہ فرزند کو پرورش کرتے تھے۔علم اور راہ خدا کے سلوک کی طرف اشارہ کرتے تھے۔ ان کے وفات کے بعد وہی ان کے قائم مقام ہوئے۔خواجہ یوسف کو پچاس سال کے بعد گوشہ نشینی اور قطع تعلق ہوا۔
انہوں نے چاہا کہ خواجہ حاجیمکئی کے مزار کے نزدیک کہ جو بڑے بزرگ گزرے ہیں اور شیخ ابو اسحٰق ان کی زیارت کیا کرتے تھے۔ایک چلہ زمین میں کریں ہاتف غیبی کے اشارہ سے اس موضع کو کہ اب ان کا چلہ خانہ ہے اختیار کیا۔جب بیل کلہاڑا لائے تو زمین بہت سخت تھی۔چناچہ کوئی اس کو توڑنہ سکتا تھا۔خواجہ نے کلہاڑا ہاتھ میں لیا اور اپنے دست مبارک سے دس بجے سے لے کر نماز ظہر تک اس کو کھود کر پورا کردیا۔بارہ سال تک وہاں قیام کیا اس قدر و حشت و حیرت و شیفتگی ان پر غالب ہوئی کہ کبھی ایسا ہوتا جب خادم وضو کا پانی ان کے ہاتھ پر ڈالتے تو وضو کی حالت میں اپنے آپ سے غائب ہو جاتے۔
ایک گھٹی کم و بیش اس وقت غیبت کی حالت میں رہتے پھر موجود ہوجاتے اور وضو کو پوراکرتے۔اس وقت میں کہ شیخ الاسلامابو اسمعیل عبداللہ انصاری قدس اللہ تعالی سرہ چشت کہ مزار پر گئےتھے تو ان سے ملاقات کی تھی۔بعد واپسی کے ہرات میں مجالس اور محفلوں میں ان کی تعریف کیا کرتے ۔
وہ رحمۃ اللہ علیہ ۴۵۹ھ میں فوت ہوئےاور ان کی عمر ۸۴ سال تھی۔انتقال کے وقت اپنے چھوٹے صاجزادہ قطب الدین مودود چشتی کو تحصیل علوم کی وصیت فرمائی اور اپنا قائم مقام کیا ۔
( نفحاتُ الاُنس )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-yousuf-bin-muhammad-samaani
آپ محمد بن ابی احمد کے ہمشیرہ زاد اور ان کے مرید و ترتیب یافتہ ہیں۔ خواجہ محمد ۶۵ سال تک عیالدار نہیں ہوئے۔ایک ان کی ہمشیرہ تھی جن کی وہ خدمت کیا کرتے تھے۔ان کا کھا نا پہننا ان کے ہاتھ کے کاتے ہوئے سے ہوتا تھا ۔ آپ کا سن چالیس سال تک پہنچا تھا ۔ بھائی کی خدمت اور خدا کی بندگی کی وجہ سے نکاح کی خواہش نہ رکھی تھی ۔
آپ رات خواجہ محمد ان کے پدر بزرگوار نے خواجہ ابو احمد کو خواب میں دیکھا کہ یوں کہتے ہیں۔تمہاری ولایت میں فلاں شخص ہے۔محمد بن سمعان اس کا نام ہے۔جس نے علم تحصیل کیا ہے اور زمانہ کی اصلاح کردی ہے۔ تم اپنی ہمشیرہ کا نکاح کردو۔خواجہ نے ان کو طلب کیا اور اپنی ہمشیرہ کا نکاح ان سے کردیا۔پھر وہ بھی چشت میں رہ گئے تھے ۔ خواجہ یوسف انہیں کے فرزند ہیں ۔
خواجہ محمد ۶۵ سال کے بعد عیالدار ہوئے تھے لیکن کوئی لڑکا بزرگ نہ ہوا تھا۔ خواجہ یوسف کو بمنزلہ فرزند کو پرورش کرتے تھے۔علم اور راہ خدا کے سلوک کی طرف اشارہ کرتے تھے۔ ان کے وفات کے بعد وہی ان کے قائم مقام ہوئے۔خواجہ یوسف کو پچاس سال کے بعد گوشہ نشینی اور قطع تعلق ہوا۔
انہوں نے چاہا کہ خواجہ حاجیمکئی کے مزار کے نزدیک کہ جو بڑے بزرگ گزرے ہیں اور شیخ ابو اسحٰق ان کی زیارت کیا کرتے تھے۔ایک چلہ زمین میں کریں ہاتف غیبی کے اشارہ سے اس موضع کو کہ اب ان کا چلہ خانہ ہے اختیار کیا۔جب بیل کلہاڑا لائے تو زمین بہت سخت تھی۔چناچہ کوئی اس کو توڑنہ سکتا تھا۔خواجہ نے کلہاڑا ہاتھ میں لیا اور اپنے دست مبارک سے دس بجے سے لے کر نماز ظہر تک اس کو کھود کر پورا کردیا۔بارہ سال تک وہاں قیام کیا اس قدر و حشت و حیرت و شیفتگی ان پر غالب ہوئی کہ کبھی ایسا ہوتا جب خادم وضو کا پانی ان کے ہاتھ پر ڈالتے تو وضو کی حالت میں اپنے آپ سے غائب ہو جاتے۔
ایک گھٹی کم و بیش اس وقت غیبت کی حالت میں رہتے پھر موجود ہوجاتے اور وضو کو پوراکرتے۔اس وقت میں کہ شیخ الاسلامابو اسمعیل عبداللہ انصاری قدس اللہ تعالی سرہ چشت کہ مزار پر گئےتھے تو ان سے ملاقات کی تھی۔بعد واپسی کے ہرات میں مجالس اور محفلوں میں ان کی تعریف کیا کرتے ۔
وہ رحمۃ اللہ علیہ ۴۵۹ھ میں فوت ہوئےاور ان کی عمر ۸۴ سال تھی۔انتقال کے وقت اپنے چھوٹے صاجزادہ قطب الدین مودود چشتی کو تحصیل علوم کی وصیت فرمائی اور اپنا قائم مقام کیا ۔
( نفحاتُ الاُنس )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-yousuf-bin-muhammad-samaani
❤1
حضرت اخون پنجو بابا افغان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
سید عبدالوہاب المعروف آخوند پنجوبابا
نام و نسب:
آپ کا نام سید عبد الوہاب ہے ۔ اور والد کا نام سید غازی بابا ہے ۔ جن کے ہاں آپ 945ھ میں موضع الکائے علاقہ یوسف زئی پیدا ہوئے آپ آخوند پنجو بابا کے نام سے مشہور ہیں ۔ آپ کو کتب تاریخ و سیر میں شیخ پنجو سنبھلی لکھتے ہیں ۔ نیز آپ بھی اپنی نسبت سنبھل سے کرتے، آپ کے آباؤ اجداد وہاں سے ہی آئے تھے ، اسی لئے آئین اکبری میں شیخ ابو الفضل نے (جو کہ جلال الدین اکبر کا وزیر تھا) آپ کو شیخ پنجو سنبھلی لکھا ہے ۔
تحصیلِ علم:
آپ علم لدنی رکھتے تھے ۔ مگر پھر بھی ظاہر ی طور پر آپ نے علوم ظاہری سے فراغت حاصل کی۔ موضع چوہا گجر میں ان دنوں ایک بڑے عالم دین قاضی تھے ۔ ان کی خدمت میں پہنچ کر علوم متداولہ کو پڑھا ۔اس کے بعد ہندوستان تشریف لے گئے اور کافی عرصہ تک علماء سے پڑھتے رہے۔ ان ایام میں آپ زیادہ عرصہ روہیل کھنڈ میں مقیم رہے۔ تحصیل علم کے بعد واپس صوبہ سرحد لوٹے ۔
990ھ میں بعمر 45 سال اپنے چھوٹے بھائی کے ہمراہ موضع اکبر پورہ میں مستقل قیام اختیار کیا اور مسند تدریس پر جلوہ افروز ہوئے علامہ شمس العلما ء قاضی میر احمد شاہ رضوانی تحفۃ الاولیاء میں فرماتے ہیں کہ تقریباً علما و مشاہیر وقت نے آپ سے علوم ظاہری میں دستار فضلیت یعنی سند حاصل کی ۔ آپ نے کافی عرصہ تفسیر ، حدیث، فقہ ، اصول ، منطق اور اخلاق کا درس دیا اور انتہائی جان فشانی کے ساتھ تبلیغ و اشاعت شریعت مطہرہ میں منہمک رہے.
بیعت و خلافت:
جناب میر ابوالفتح صاحب اقنپاچی (جو کہ شیخ المشائخ جلال الدین تھانیسری کے خلیفہ تھے) پشاور شہر سے ہوتے ہوئے اکبر پورہ تشریف لائے اور آپ نے طریقہ چشتیہ میں ان کے ہاتھ پر بیعت کی ۔ اور خلافت سے نوازا ۔
سیرت و خصائص:
آپ کے رخ انور سے ہر وقت انوار الٰہی کی بارش رہتی اس لئے کوئی بھی جی بھر کر آپ کے چہرۂ ا نور کو نہ دیکھ سکتا ، اور جو بھی آپ کے رخ اقدس کو ’’ توجہ‘‘ اور ہمت سے دیکھ لیتا، تو عارف کامل ہو جاتا ۔ اگر کسی بھی مشرک کی نظر آپ کے نورانی چہر ہ پر پڑجاتی تو فوراً کلمہ توحید پڑھ لیتا ۔ یہی وجہ تھی کہ ہندو آپ کا نام سنتے ہی چھپ جاتے ۔
ایک بار ہشتنگر سے ہندوؤں کی ایک برات اکبر پورہ آئی ۔ اس برات سے تقریباً دس نوجوان آپ کی مسجد میں آکر آپ سے ملاقی ہوئے ۔ آپ کا چہرہ دیکھ کر بیہوش ہوگئے اور تڑپنے لگے ، جب ان کو ہوش آیا تو مسلمان ہو گئے ۔ اور آج تک اس شیخ کا گھر اکبر پورہ میں آباد ہے۔ گویا کہ آپ کی ذات والا صفات میں اتنی ثاثیر اور اتنا جذبہ تھا کہ جو بھی اس وقت آپ کے سامنے آتا وہ بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا تھا ۔
جب آپ کے علم ظاہری و فیوضات باطنی کا شہر ہ چاروں طرف پھیل گیا۔ تو معاصر علماء اور مشائخ نے آپ کی مخالفت کی اور آپ سے بحث و مناظرہ کی ٹھانی اور اکٹھے ہو کر فیصلہ کیا کہ آپ کی مسجد میں جا کر آپ سے مناظرہ کریں اور کسی قسم کی آپ کی تعظیم و تکریم نہ کریں ۔ جب وہ آپ کی مسجد میں پہنچے تو اس وقت آپ گھر میں تشریف رکھتے تھے۔ آپ کے فرزند ارجمند سید عثمان صاحب نے آپ کو ان کے آنے کی خبر دی ۔ آپ تشریف لائے ۔ ان علماء نے آپ کا رخ انور دیکھتے ہی فوراً قدم بوسی کی ۔ اور یک بارگی لاالہٰ کا نعرہ لگا کر بے ہوش ہوگئے، حتی کہ نماز ظہر کا وقت آگیا ، جب ظہر کے نوافل سے فارغ ہوئے تو میاں علی صاحب نے عرض کیا کہ حضور اگر ان کی یہی حالت رہی تو شریعت اور علم کی بہت بے قدری ہوگی اور بے حرمتی ۔ آپ نے ان پر توجہ کر کے ’’ الا اللہ‘‘ کا نعرہ لگایا تو وہ سب ہوش میں آگئے اور تائب ہو کر مرید ہوئے۔
استغناء کا عالم:
آپ میں اتنی سخاوت تھی کہ جو بھی آپ کے پاس حاجت مند آیا خالی نہیں لوٹا ۔ آپ کے لنگر سے امیر و غریب سب کوبرابر کھانا ملتا ، مفلوک الحال اور غربا کی امداد کرنا آپ کا خاص وصف تھا۔ استغناء کا یہ عالم تھا کہ امیر وحکام سے تحفے قبول نہ فرماتے ۔ بادشاہ مغلیہ کی طرف سے کئی بار لنگر کے مصارف کے لئے پیش کش کی گئی ۔ مگر آپ نے قبول کرنے سے انکار کر دیا ۔
وصال:
آپ کی وفات شاہ جہاں بادشاہ کے عہد میں بعمر 95 سال 1040ھ میں ہوئی ۔اکبر پورہ سے تقریباً ایک میل سڑک شاہی کی طرف سپرد خاک کیا گیا ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-aankhon-panju-baba-afghan
سید عبدالوہاب المعروف آخوند پنجوبابا
نام و نسب:
آپ کا نام سید عبد الوہاب ہے ۔ اور والد کا نام سید غازی بابا ہے ۔ جن کے ہاں آپ 945ھ میں موضع الکائے علاقہ یوسف زئی پیدا ہوئے آپ آخوند پنجو بابا کے نام سے مشہور ہیں ۔ آپ کو کتب تاریخ و سیر میں شیخ پنجو سنبھلی لکھتے ہیں ۔ نیز آپ بھی اپنی نسبت سنبھل سے کرتے، آپ کے آباؤ اجداد وہاں سے ہی آئے تھے ، اسی لئے آئین اکبری میں شیخ ابو الفضل نے (جو کہ جلال الدین اکبر کا وزیر تھا) آپ کو شیخ پنجو سنبھلی لکھا ہے ۔
تحصیلِ علم:
آپ علم لدنی رکھتے تھے ۔ مگر پھر بھی ظاہر ی طور پر آپ نے علوم ظاہری سے فراغت حاصل کی۔ موضع چوہا گجر میں ان دنوں ایک بڑے عالم دین قاضی تھے ۔ ان کی خدمت میں پہنچ کر علوم متداولہ کو پڑھا ۔اس کے بعد ہندوستان تشریف لے گئے اور کافی عرصہ تک علماء سے پڑھتے رہے۔ ان ایام میں آپ زیادہ عرصہ روہیل کھنڈ میں مقیم رہے۔ تحصیل علم کے بعد واپس صوبہ سرحد لوٹے ۔
990ھ میں بعمر 45 سال اپنے چھوٹے بھائی کے ہمراہ موضع اکبر پورہ میں مستقل قیام اختیار کیا اور مسند تدریس پر جلوہ افروز ہوئے علامہ شمس العلما ء قاضی میر احمد شاہ رضوانی تحفۃ الاولیاء میں فرماتے ہیں کہ تقریباً علما و مشاہیر وقت نے آپ سے علوم ظاہری میں دستار فضلیت یعنی سند حاصل کی ۔ آپ نے کافی عرصہ تفسیر ، حدیث، فقہ ، اصول ، منطق اور اخلاق کا درس دیا اور انتہائی جان فشانی کے ساتھ تبلیغ و اشاعت شریعت مطہرہ میں منہمک رہے.
بیعت و خلافت:
جناب میر ابوالفتح صاحب اقنپاچی (جو کہ شیخ المشائخ جلال الدین تھانیسری کے خلیفہ تھے) پشاور شہر سے ہوتے ہوئے اکبر پورہ تشریف لائے اور آپ نے طریقہ چشتیہ میں ان کے ہاتھ پر بیعت کی ۔ اور خلافت سے نوازا ۔
سیرت و خصائص:
آپ کے رخ انور سے ہر وقت انوار الٰہی کی بارش رہتی اس لئے کوئی بھی جی بھر کر آپ کے چہرۂ ا نور کو نہ دیکھ سکتا ، اور جو بھی آپ کے رخ اقدس کو ’’ توجہ‘‘ اور ہمت سے دیکھ لیتا، تو عارف کامل ہو جاتا ۔ اگر کسی بھی مشرک کی نظر آپ کے نورانی چہر ہ پر پڑجاتی تو فوراً کلمہ توحید پڑھ لیتا ۔ یہی وجہ تھی کہ ہندو آپ کا نام سنتے ہی چھپ جاتے ۔
ایک بار ہشتنگر سے ہندوؤں کی ایک برات اکبر پورہ آئی ۔ اس برات سے تقریباً دس نوجوان آپ کی مسجد میں آکر آپ سے ملاقی ہوئے ۔ آپ کا چہرہ دیکھ کر بیہوش ہوگئے اور تڑپنے لگے ، جب ان کو ہوش آیا تو مسلمان ہو گئے ۔ اور آج تک اس شیخ کا گھر اکبر پورہ میں آباد ہے۔ گویا کہ آپ کی ذات والا صفات میں اتنی ثاثیر اور اتنا جذبہ تھا کہ جو بھی اس وقت آپ کے سامنے آتا وہ بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا تھا ۔
جب آپ کے علم ظاہری و فیوضات باطنی کا شہر ہ چاروں طرف پھیل گیا۔ تو معاصر علماء اور مشائخ نے آپ کی مخالفت کی اور آپ سے بحث و مناظرہ کی ٹھانی اور اکٹھے ہو کر فیصلہ کیا کہ آپ کی مسجد میں جا کر آپ سے مناظرہ کریں اور کسی قسم کی آپ کی تعظیم و تکریم نہ کریں ۔ جب وہ آپ کی مسجد میں پہنچے تو اس وقت آپ گھر میں تشریف رکھتے تھے۔ آپ کے فرزند ارجمند سید عثمان صاحب نے آپ کو ان کے آنے کی خبر دی ۔ آپ تشریف لائے ۔ ان علماء نے آپ کا رخ انور دیکھتے ہی فوراً قدم بوسی کی ۔ اور یک بارگی لاالہٰ کا نعرہ لگا کر بے ہوش ہوگئے، حتی کہ نماز ظہر کا وقت آگیا ، جب ظہر کے نوافل سے فارغ ہوئے تو میاں علی صاحب نے عرض کیا کہ حضور اگر ان کی یہی حالت رہی تو شریعت اور علم کی بہت بے قدری ہوگی اور بے حرمتی ۔ آپ نے ان پر توجہ کر کے ’’ الا اللہ‘‘ کا نعرہ لگایا تو وہ سب ہوش میں آگئے اور تائب ہو کر مرید ہوئے۔
استغناء کا عالم:
آپ میں اتنی سخاوت تھی کہ جو بھی آپ کے پاس حاجت مند آیا خالی نہیں لوٹا ۔ آپ کے لنگر سے امیر و غریب سب کوبرابر کھانا ملتا ، مفلوک الحال اور غربا کی امداد کرنا آپ کا خاص وصف تھا۔ استغناء کا یہ عالم تھا کہ امیر وحکام سے تحفے قبول نہ فرماتے ۔ بادشاہ مغلیہ کی طرف سے کئی بار لنگر کے مصارف کے لئے پیش کش کی گئی ۔ مگر آپ نے قبول کرنے سے انکار کر دیا ۔
وصال:
آپ کی وفات شاہ جہاں بادشاہ کے عہد میں بعمر 95 سال 1040ھ میں ہوئی ۔اکبر پورہ سے تقریباً ایک میل سڑک شاہی کی طرف سپرد خاک کیا گیا ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-aankhon-panju-baba-afghan
❤1👍1
حضرت مولانا مفتی تقدس علی خان رضوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
نام و نسب:
مفتی تقدس علی خان بن الحاج سردار ولی خاں بن مولانا ہادی علی خاں بن مولانا رضا علی خاں (علیہم الرحمہ) ۔
اعلیٰ حضرت سے رشتہ:
آپ اعلیٰ علیہ الرحمہ کے چچا زاد بھائی کے فرزندِ ارجمند تھے، اس رشتے سے آپ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کے بھتیجے ہوتے ہیں ۔ آپ کی نانی صاحبہ کی بہن اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کی زوجہ محترمہ تھیں ۔ اس لئے آپ پاکستان میں " نواسۂ اعلیٰ حضرت " کی حیثیت سے مشہور ہیں ۔
تاریخِ ولادت:
ماہِ رجب المرجب 1325ھ / بمطابق اگست 1907ء میں بمقام آستانہ عالیہ رضویہ محلہ سودا گران بریلی شریف میں پیدا ہوئے ۔ مولانا حسن رضا خان نے آپ کا تاریخی نام تقدس علی خاں، 1325ھ استخراج فرمایا ۔
تحصیلِ علم:
آپ نے ابتدائی تعلیم مولانا خلیل الرحمٰن بہاری، مولانا ظہور الحسن فاروقی مجددی (صدر مدرس مدرسہ عالیہ رام پور و دار العلوم منظر اسلام بریلی شریف) اور ان کے صاحبزادے مولانا نور الحسین رامپوری سے حاصل کی ۔ متوسط کتب درس نظامی برادر زادہ اعلیٰ حضرت مولانا حسنین رضا خاں قدس سرہٗ سے پڑھیں اور اعلیٰ تعلیم حضرت مولانا رحم الٰہی، مولانا عبد المنان (مردان) مولانا عبد العزیز خاں محدث بریلی، اور حضرت صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی سے حاصل کی اور تکمیل حضرت حجۃ الاسلام مولانا حامد رضا خاں رحمۃ اللہ سے کی ۔ 1345ھ میں آپ نے دار العلوم منظر اسلام بریلی شریف سے سند فراغت حاصل کی ۔
آپ شاگردِ اعلیٰ حضرت ہیں:
اعلیٰ حضرت مولانا شاہ امام احمد رضا خاں بریلوی سے آپ نے شرح جامی کا خطبہ پڑھا ۔ چنانچہ اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی علیہ الرحمہ سے بالواسط شرف تلمذ حاصل کرنے کے لیے مدارس کے منتہی طلباء آپ سے شرح جامی کا خطبہ پڑھتے تھے، جن میں محدث اعظم پاکستان حضرت مولانا محمد سردار احمد رضوی رحمۃ اللہ بھی ہیں ۔
بیعت و خلافت:
سات سال کی عمر میں اعلیٰ حضرت مجددِ اعظم علیہ الرحمہ سے بیعت ہوئے تھے ۔ حجۃ الاسلام حضرت مولانا حامد رضا خان علیہ الرحمہ نے سلسلۂ عالیہ قادریہ میں خرقۂ خلافت عطا فرمایا ۔قطبِ مدینہ شیخ المشائخ حضرت مولانا ضیاء الدین مدنی علیہ الرحمہ نے بھی اجازت و خلافت سے سرفراز فرمایا ۔
سیرت و خصائص:
آپ کے فضائل و خصائل کیا بیان کیے جائیں ۔ آپ بلند پایہ مفسر محدث اور فقیہ تھے ۔ شہرت و ناموری سے کوسوں دور، اور صلہ و ستائش سے ہمیشہ بے نیاز تھے ۔ دینِ متین کی خدمت میں ہمیشہ سرشار رہتے ۔ سادہ لباس، شگفتہ مزاج، اعلیٰ گفتار، سراپا شفقت و کرم، سراپا اخلاص و محبت، علم دوست، الغرض آپ صفاتِ حسنہ کا ایک حسین گلدستہ تھے ۔ آپ سچے عاشقِ رسول ﷺ تھے ۔ ساری زندگی درس و تدریس، وعظ و نصیحت، تصنیف و تالیف کے ذریعے اسی عشقِ مصطفیٰ ﷺ کے چراغ ہر سو روشن کیے ۔ یہی عشقِ مصطفیٰ ﷺ آپ کا عقیدہ، مسلک و مذہب تھا ۔ آپ کی تمام حیات عشقِ مصطفیٰ ﷺ سے عبارت تھی، اور سفرِ آخرت بھی اسی کا آئینہ دار تھا، کہ وقتِ رخصت آخری غذا مدینہ شریف کی کھجور اور آبِ زمزم تناول فرمایا، زبان پر درودِ سرورِ عالم ﷺ جاری تھا کہ واصل بحق ہوئے ۔
وصال:
بروز پیر 3 رجب المرجب 1408ھ، بمطابق 22 فروری 1988، بوقت 12:10 منٹ پر اس دارِ فنا سے رخصت ہوئے ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-mufti-taqaddus-ali-khan-rizvi
نام و نسب:
مفتی تقدس علی خان بن الحاج سردار ولی خاں بن مولانا ہادی علی خاں بن مولانا رضا علی خاں (علیہم الرحمہ) ۔
اعلیٰ حضرت سے رشتہ:
آپ اعلیٰ علیہ الرحمہ کے چچا زاد بھائی کے فرزندِ ارجمند تھے، اس رشتے سے آپ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کے بھتیجے ہوتے ہیں ۔ آپ کی نانی صاحبہ کی بہن اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کی زوجہ محترمہ تھیں ۔ اس لئے آپ پاکستان میں " نواسۂ اعلیٰ حضرت " کی حیثیت سے مشہور ہیں ۔
تاریخِ ولادت:
ماہِ رجب المرجب 1325ھ / بمطابق اگست 1907ء میں بمقام آستانہ عالیہ رضویہ محلہ سودا گران بریلی شریف میں پیدا ہوئے ۔ مولانا حسن رضا خان نے آپ کا تاریخی نام تقدس علی خاں، 1325ھ استخراج فرمایا ۔
تحصیلِ علم:
آپ نے ابتدائی تعلیم مولانا خلیل الرحمٰن بہاری، مولانا ظہور الحسن فاروقی مجددی (صدر مدرس مدرسہ عالیہ رام پور و دار العلوم منظر اسلام بریلی شریف) اور ان کے صاحبزادے مولانا نور الحسین رامپوری سے حاصل کی ۔ متوسط کتب درس نظامی برادر زادہ اعلیٰ حضرت مولانا حسنین رضا خاں قدس سرہٗ سے پڑھیں اور اعلیٰ تعلیم حضرت مولانا رحم الٰہی، مولانا عبد المنان (مردان) مولانا عبد العزیز خاں محدث بریلی، اور حضرت صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی سے حاصل کی اور تکمیل حضرت حجۃ الاسلام مولانا حامد رضا خاں رحمۃ اللہ سے کی ۔ 1345ھ میں آپ نے دار العلوم منظر اسلام بریلی شریف سے سند فراغت حاصل کی ۔
آپ شاگردِ اعلیٰ حضرت ہیں:
اعلیٰ حضرت مولانا شاہ امام احمد رضا خاں بریلوی سے آپ نے شرح جامی کا خطبہ پڑھا ۔ چنانچہ اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی علیہ الرحمہ سے بالواسط شرف تلمذ حاصل کرنے کے لیے مدارس کے منتہی طلباء آپ سے شرح جامی کا خطبہ پڑھتے تھے، جن میں محدث اعظم پاکستان حضرت مولانا محمد سردار احمد رضوی رحمۃ اللہ بھی ہیں ۔
بیعت و خلافت:
سات سال کی عمر میں اعلیٰ حضرت مجددِ اعظم علیہ الرحمہ سے بیعت ہوئے تھے ۔ حجۃ الاسلام حضرت مولانا حامد رضا خان علیہ الرحمہ نے سلسلۂ عالیہ قادریہ میں خرقۂ خلافت عطا فرمایا ۔قطبِ مدینہ شیخ المشائخ حضرت مولانا ضیاء الدین مدنی علیہ الرحمہ نے بھی اجازت و خلافت سے سرفراز فرمایا ۔
سیرت و خصائص:
آپ کے فضائل و خصائل کیا بیان کیے جائیں ۔ آپ بلند پایہ مفسر محدث اور فقیہ تھے ۔ شہرت و ناموری سے کوسوں دور، اور صلہ و ستائش سے ہمیشہ بے نیاز تھے ۔ دینِ متین کی خدمت میں ہمیشہ سرشار رہتے ۔ سادہ لباس، شگفتہ مزاج، اعلیٰ گفتار، سراپا شفقت و کرم، سراپا اخلاص و محبت، علم دوست، الغرض آپ صفاتِ حسنہ کا ایک حسین گلدستہ تھے ۔ آپ سچے عاشقِ رسول ﷺ تھے ۔ ساری زندگی درس و تدریس، وعظ و نصیحت، تصنیف و تالیف کے ذریعے اسی عشقِ مصطفیٰ ﷺ کے چراغ ہر سو روشن کیے ۔ یہی عشقِ مصطفیٰ ﷺ آپ کا عقیدہ، مسلک و مذہب تھا ۔ آپ کی تمام حیات عشقِ مصطفیٰ ﷺ سے عبارت تھی، اور سفرِ آخرت بھی اسی کا آئینہ دار تھا، کہ وقتِ رخصت آخری غذا مدینہ شریف کی کھجور اور آبِ زمزم تناول فرمایا، زبان پر درودِ سرورِ عالم ﷺ جاری تھا کہ واصل بحق ہوئے ۔
وصال:
بروز پیر 3 رجب المرجب 1408ھ، بمطابق 22 فروری 1988، بوقت 12:10 منٹ پر اس دارِ فنا سے رخصت ہوئے ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-mufti-taqaddus-ali-khan-rizvi
scholars.pk
Hazrat Molana Mufti Taqaddus Ali Khan Rizvi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
حضرت سید صفی الدین صوفی گیلانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
نام و نسب:
اسم گرامی: سید صفی الدین گیلانی ۔ کنیت: ابو نصر ۔ لقب: جمال الفقہاء، زین الصلحا، سید الاتقیاء ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت شیخ سید صفی الدین گیلانی بن سیدسیف الدین عبد الوہاب گیلانی بن غوث الاعظم سیدنا شیخ عبد القادر جیلانی ۔ علیہم الرحمہ ۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت بوقتِ صبح صادق 8 ذو الحج 548ھ / مطابق 22 فروری 1154ء کو بغداد میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
آپ نے اپنے جد امجد حضرت غوث الثقلین رحمۃ اللہ علیہ اور اپنے والد بزرگوار سے تفقہ کیا اور حدیث سُنی ۔ نیز شیخ ابی الحسن محمد بن اسحاق بن العتابی رحمۃ اللہ علیہ اور ابو الفتح محمد بن عبد الباقی احمد وغیرہ سے بھی استماعِ حدیث کیا ۔ اپنے زمانہ کے فقہاء و محدثین کے سردار اور علمائے زمان کے سالار ہوئے ۔ آپ نے اپنے چچا سید ابو اسحاق ابراہیم رحمۃ اللہ علیہ اور شیخ ابو طالب عبد الرحمٰن بن محمد ہاشمی واسطی رحمۃ اللہ علیہ سے روایت کی ہے ۔ آپ نے حدیث کا بکثرت مطالعہ کیا اور اپنے قلم سے احادیث لکھیں، اور بیان کیں اور فتوے دئیے ۔ اہل بغداد کی ایک جماعت آپ کے علوم سے مستفید ہوئی ۔ آپ بڑے ادیب، متین، سنجیدہ اور منطق، فلسفہ وغیرہ علوم میں کامل تھے ۔
بیعت و خلافت:
اپنے والدِ گرامی سید سیف الدین عبد الرزاق علیہ الرحمہ سے بیعت ہوئے اور انہوں نے تمام اسانید اور سلسلۂ عالیہ قادریہ کی اجازت عطا فرمائی ۔
سیرت و خصائص:
قدوۃ الفقہاء و المحدثین، زبدۃ العلما ءو المفسرین، فخر المشائخ والاصفیاء، ابرار الاولیاء والاتقیاء، سید الاقطاب، فرد الاحباب صاحبِ مقاماتِ بلند و کرامات، حضرت سید سیف الدین عبد الوہاب گیلانی رحمۃ اللہ علیہ کے فرزند اکبر و مرید و خلیفہ اعظم و سجادہ نشین سید صفی الدین صوفی گیلانی رحمۃ اللہ علیہ ۔ آپ اپنے جد بزرگوار کی طرح مادر زاد ولی کامل تھے ۔
تحفہ قادریہ میں ہے:
جب تک آپ والدہ ماجدہ کے شکم میں رہے حضرت سید عبد الوہاب رحمۃ اللہ علیہ آپ کی طرف پشت نہ کرتے تھے ۔ اسی طرح آپ کی تعلیم و تربیت آپ کے حضرت جد بزرگوار غوث الاعظم رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے کنارِ عاطفت میں فرمائی ۔ آپ کو گود میں لے کر آپ کی پشت کو بوسے دیا کرتے ۔ اکثر اوقات حضور غوثیہ کو وجد ہو جایا کرتا اور بے اختیار فرمایا کرتے الحمد للہ ۔ آپ اخلاق عالیہ سے متصف تھے ۔ زیادہ تر خاموش رہنے والے، علم کو دوست رکھنے والے، کثیر الحلم، پسندیدہ اخلاق والے، اہلِ علم کا احترام کرنے والے اور صلحا کی عزت کرنے والے ۔ اپنے قول و فعل میں ثقہ تھے ۔ آثار جذب ابتداء سے ہی آپ کی طبیعت میں آثارِ جذب و ولایت پائے جاتے تھے ۔ آپ اکثر غیبی احوال بیان فرمایا کرتے جس طرح زبان مبارک پر آتا اُسی طرح ظہور میں آ جاتا تھا ۔
آپ اپنے آبا و اجداد کی طرح حنبلی مذہب کے پیروکار تھے، اور اسی مذہب کے مطابق فتویٰ دیا کرتے تھے ۔ بہت مدت تک بغداد شریف کے مفتی رہے ۔ آپ اپنے والدِ اکرم رحمۃ اللہ علیہ کے بعد سجادہ نشینِ درگاہِ عالیہ غوثیہ ہوئے اور مسند ارشاد پر متمکن ہوکر طالبانِ خدا کو منزل مقصود پر پہنچاتے رہے ۔ چونکہ آپ ہمیشہ خدا کی طرف دھیان رکھتے اور دِل کو بُری باتوں یعنی ماسوی اللہ سے پاک رکھتے تھے اس لیے آپ کا لقب صوفی پڑ گیا تھا ۔ آپ مدت دراز تک مدرسہ عالیہ غوثیہ میں درس و تدریس کرتے رہے اور خدمتِ وعظ و نصیحت کو انجام دیا اور کمالاتِ صوری و معنوی سے مالا مال ہوئے ۔ اسی طرح سیاحت بھی خوب فرمائی، بلاد عرب، افغانستان، اور پھر ہند میں بمقام ملتان تشریف لائے، اور یہاں فیضِ غوثیہ تقسیم کرنے کے بعد واپس بغداد معلیٰ تشریف لے گئے، اور پھر وہیں انتقال ہوا ۔
طالبانِ حق کو نصیحت:
آپ نصیحت فرماتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں: ظاہر شریعت پر عمل کرو، اور کتاب اللہ و سنت رسول اللہ ﷺ سے تمسک رکھو، سلفِ صالحین کے طریق پر چلنا اپنا شِعار بناؤ، اعتقاد اہل سنت جماعت رکھو، نفس کو ریاضت سے مطیع کرو ۔ طلبِ مولا میں صبر جمیل اختیار کرو، بلاؤں پر تحمل کرو، خدائے تعالیٰ کی قضا و قدر پر راضی رہو، اللہ تعالیٰ کے افعال میں فنا حاصل کرو، سنت کا اتباع کرو، بدعت سے اجتناب رکھو، اللہ تعالیٰ پر ہر کام میں توکل رکھو، اُسی سے مدد مانگو اور ہر حال و ہر وقت اُسی سے نصرت طلب کرو ۔
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 3 رجب المرجب 611ھ، مطابق 8 نومبر 1214ء بروز ہفتہ کو ہوا ۔ آپ کو مقبرہ حلبیہ بغداد معلی عراق میں دفن کیا گیا ۔
ماخذ و مراجع: شریف التواریخ ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-safiuddin-sufi-gilani
نام و نسب:
اسم گرامی: سید صفی الدین گیلانی ۔ کنیت: ابو نصر ۔ لقب: جمال الفقہاء، زین الصلحا، سید الاتقیاء ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت شیخ سید صفی الدین گیلانی بن سیدسیف الدین عبد الوہاب گیلانی بن غوث الاعظم سیدنا شیخ عبد القادر جیلانی ۔ علیہم الرحمہ ۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت بوقتِ صبح صادق 8 ذو الحج 548ھ / مطابق 22 فروری 1154ء کو بغداد میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
آپ نے اپنے جد امجد حضرت غوث الثقلین رحمۃ اللہ علیہ اور اپنے والد بزرگوار سے تفقہ کیا اور حدیث سُنی ۔ نیز شیخ ابی الحسن محمد بن اسحاق بن العتابی رحمۃ اللہ علیہ اور ابو الفتح محمد بن عبد الباقی احمد وغیرہ سے بھی استماعِ حدیث کیا ۔ اپنے زمانہ کے فقہاء و محدثین کے سردار اور علمائے زمان کے سالار ہوئے ۔ آپ نے اپنے چچا سید ابو اسحاق ابراہیم رحمۃ اللہ علیہ اور شیخ ابو طالب عبد الرحمٰن بن محمد ہاشمی واسطی رحمۃ اللہ علیہ سے روایت کی ہے ۔ آپ نے حدیث کا بکثرت مطالعہ کیا اور اپنے قلم سے احادیث لکھیں، اور بیان کیں اور فتوے دئیے ۔ اہل بغداد کی ایک جماعت آپ کے علوم سے مستفید ہوئی ۔ آپ بڑے ادیب، متین، سنجیدہ اور منطق، فلسفہ وغیرہ علوم میں کامل تھے ۔
بیعت و خلافت:
اپنے والدِ گرامی سید سیف الدین عبد الرزاق علیہ الرحمہ سے بیعت ہوئے اور انہوں نے تمام اسانید اور سلسلۂ عالیہ قادریہ کی اجازت عطا فرمائی ۔
سیرت و خصائص:
قدوۃ الفقہاء و المحدثین، زبدۃ العلما ءو المفسرین، فخر المشائخ والاصفیاء، ابرار الاولیاء والاتقیاء، سید الاقطاب، فرد الاحباب صاحبِ مقاماتِ بلند و کرامات، حضرت سید سیف الدین عبد الوہاب گیلانی رحمۃ اللہ علیہ کے فرزند اکبر و مرید و خلیفہ اعظم و سجادہ نشین سید صفی الدین صوفی گیلانی رحمۃ اللہ علیہ ۔ آپ اپنے جد بزرگوار کی طرح مادر زاد ولی کامل تھے ۔
تحفہ قادریہ میں ہے:
جب تک آپ والدہ ماجدہ کے شکم میں رہے حضرت سید عبد الوہاب رحمۃ اللہ علیہ آپ کی طرف پشت نہ کرتے تھے ۔ اسی طرح آپ کی تعلیم و تربیت آپ کے حضرت جد بزرگوار غوث الاعظم رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے کنارِ عاطفت میں فرمائی ۔ آپ کو گود میں لے کر آپ کی پشت کو بوسے دیا کرتے ۔ اکثر اوقات حضور غوثیہ کو وجد ہو جایا کرتا اور بے اختیار فرمایا کرتے الحمد للہ ۔ آپ اخلاق عالیہ سے متصف تھے ۔ زیادہ تر خاموش رہنے والے، علم کو دوست رکھنے والے، کثیر الحلم، پسندیدہ اخلاق والے، اہلِ علم کا احترام کرنے والے اور صلحا کی عزت کرنے والے ۔ اپنے قول و فعل میں ثقہ تھے ۔ آثار جذب ابتداء سے ہی آپ کی طبیعت میں آثارِ جذب و ولایت پائے جاتے تھے ۔ آپ اکثر غیبی احوال بیان فرمایا کرتے جس طرح زبان مبارک پر آتا اُسی طرح ظہور میں آ جاتا تھا ۔
آپ اپنے آبا و اجداد کی طرح حنبلی مذہب کے پیروکار تھے، اور اسی مذہب کے مطابق فتویٰ دیا کرتے تھے ۔ بہت مدت تک بغداد شریف کے مفتی رہے ۔ آپ اپنے والدِ اکرم رحمۃ اللہ علیہ کے بعد سجادہ نشینِ درگاہِ عالیہ غوثیہ ہوئے اور مسند ارشاد پر متمکن ہوکر طالبانِ خدا کو منزل مقصود پر پہنچاتے رہے ۔ چونکہ آپ ہمیشہ خدا کی طرف دھیان رکھتے اور دِل کو بُری باتوں یعنی ماسوی اللہ سے پاک رکھتے تھے اس لیے آپ کا لقب صوفی پڑ گیا تھا ۔ آپ مدت دراز تک مدرسہ عالیہ غوثیہ میں درس و تدریس کرتے رہے اور خدمتِ وعظ و نصیحت کو انجام دیا اور کمالاتِ صوری و معنوی سے مالا مال ہوئے ۔ اسی طرح سیاحت بھی خوب فرمائی، بلاد عرب، افغانستان، اور پھر ہند میں بمقام ملتان تشریف لائے، اور یہاں فیضِ غوثیہ تقسیم کرنے کے بعد واپس بغداد معلیٰ تشریف لے گئے، اور پھر وہیں انتقال ہوا ۔
طالبانِ حق کو نصیحت:
آپ نصیحت فرماتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں: ظاہر شریعت پر عمل کرو، اور کتاب اللہ و سنت رسول اللہ ﷺ سے تمسک رکھو، سلفِ صالحین کے طریق پر چلنا اپنا شِعار بناؤ، اعتقاد اہل سنت جماعت رکھو، نفس کو ریاضت سے مطیع کرو ۔ طلبِ مولا میں صبر جمیل اختیار کرو، بلاؤں پر تحمل کرو، خدائے تعالیٰ کی قضا و قدر پر راضی رہو، اللہ تعالیٰ کے افعال میں فنا حاصل کرو، سنت کا اتباع کرو، بدعت سے اجتناب رکھو، اللہ تعالیٰ پر ہر کام میں توکل رکھو، اُسی سے مدد مانگو اور ہر حال و ہر وقت اُسی سے نصرت طلب کرو ۔
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 3 رجب المرجب 611ھ، مطابق 8 نومبر 1214ء بروز ہفتہ کو ہوا ۔ آپ کو مقبرہ حلبیہ بغداد معلی عراق میں دفن کیا گیا ۔
ماخذ و مراجع: شریف التواریخ ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-safiuddin-sufi-gilani
scholars.pk
Hazrat Syed Safiuddin Sufi Gilani
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
جمادی الاخریٰ مِیںۡ وِصَالۡ ( اِنتِقالۡ ) فرمانے وَالے چند مُنتَخبۡ بُزرگانِ دِینۡ Join @islaamic_Knowledge 🗓️ ماہ جمادی الاخرٰی کے ایام 🗓️ یوم وصال | یوم وفات | یوم اعراس Muhammad_Jamaluddin_Khan
رجب المرجب مِیںۡ وِصَالۡ ( اِنتِقالۡ )
فرمانے وَالے چند مُنتَخبۡ بُزرگانِ دِینۡ
Join @islaamic_Knowledge
🗓️ ماہ رجب المرجب کے ایام 🗓️
یوم وصال | یوم وفات | یوم اعراس
Muhammad_Jamaluddin_Khan
فرمانے وَالے چند مُنتَخبۡ بُزرگانِ دِینۡ
Join @islaamic_Knowledge
🗓️ ماہ رجب المرجب کے ایام 🗓️
یوم وصال | یوم وفات | یوم اعراس
Muhammad_Jamaluddin_Khan
❤3👍2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
02-07-1445 ᴴ | 14-01-2024 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
03-07-1445 ᴴ | 15-01-2024 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1