🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
02-07-1445 ᴴ | 14-01-2024 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
02-07-1445 ᴴ | 14-01-2024 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
फ़रमाने अअ़्ला ह़ज़रत علیہالرحمہ
उ़ल्मा ए किराम का अदब अ़वाम पर बाप से ज़्यादह फ़र्ज़ है! [फ़तावा रज़विया, जि²⁵, स़²¹⁶]
فرمانِ اعلیٰ حضرت علیہالرحمہ:
علمائے کرام کا ادب عوام پر باپ سے زیادہ فرض ہے ـ [فتاویٰ رضویہ، جِـ²⁵، صَـ²¹⁶]
Farmane A'ala Hazrat:
Ulamaa e Kiram Ka Adab Awaam Par Baap Se Ziyaada Farz Hai.
[Fatãwã Razaviyyah, J²⁵, P²¹⁶]
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
फ़रमाने अअ़्ला ह़ज़रत علیہالرحمہ
उ़ल्मा ए किराम का अदब अ़वाम पर बाप से ज़्यादह फ़र्ज़ है! [फ़तावा रज़विया, जि²⁵, स़²¹⁶]
فرمانِ اعلیٰ حضرت علیہالرحمہ:
علمائے کرام کا ادب عوام پر باپ سے زیادہ فرض ہے ـ [فتاویٰ رضویہ، جِـ²⁵، صَـ²¹⁶]
Farmane A'ala Hazrat:
Ulamaa e Kiram Ka Adab Awaam Par Baap Se Ziyaada Farz Hai.
[Fatãwã Razaviyyah, J²⁵, P²¹⁶]
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
حضرت خواجہ ناصر الدین ابو یوسف چشتی سرمدی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
آپ سلسلہ چشتیہ کے بڑے مشائخ میں سے تھے۔ جمالِ طریقت اور کمال حقیقت کے مالک تھے۔ آپ کی کرامتیں اور کمالات ظاہر و باہر تھیں۔ آپ کر خرقۂ خلافت اپنے ماموں خواجہ ابومحمد چشتی سے ملا۔ والد کا اسم گرامی سید محمد سمعان تھا۔ خواجہ ابومحمد آپ کو اپنا بیٹا ہی جانتے تھے اور آپ نے آپ کی تربیت کی۔ آپ کی عمر چھتیس سال کی تھی کہ آپ کے ماموں کا انتقال ہوگیا اور آپ ان کی جگہ جلوہ فرما ہوئے، آپ کا نسبِ پاک حضرت امام حسین سے اس طرح جاملتا ہے۔ سید یوسف چشتی بن محمد سمعان بن سید ابراہیم بن سید محمد بن سید حسین بن سید عبداللہ علی اکبر بن امام حسن اصغری بن امام علی تقی بن امام التقی بن علی رضا بن موسیٰ کاظم بن جعفر صادق بن محمد باقر بن زین العابدین بن امیرالمومنین امام حسین رضی اللہ عنہ، خواجہ ابو محمد کی وفات کے بعد خواجہ ابویوسف ہرات میں تشریف لے آئے، راستے میں ایک گاؤں آیا جس کا نام کنک تھا وہاں ایک ایسا درویش رہتا تھا جو نہایت ہی متقی تھا اس کی ایک بیٹی تھی جو بڑی ہی نیک پارسا اور خوبصورت تھی، رات کے وقت اُس لڑکی نے خواب میں دیکھا کہ چودھویں کا چاند آسمان سے اُتر کر میرے پاس آگیا ہے اور وہ چاند مجھے کہنے لگا کہ تم میری بیوی ہو، میں نے تمہیں خدا سے چاہا ہے۔ صبح ہوئی تو لڑکی نے اپنے والد سے خواب بیان کی او رپوچھا کہ اس کی تعبیر کیا ہے اس کے والد حضرت خواجہ ابویوسف کی خدمت میں گئے تاکہ خواب کی تعبیر دریافت کریں ابھی انہوں نے کچھ نہ پوچھا تھا تو خواجہا بویوسف نے لڑکی کے خواب کا تمام احوال سنادیا اور درویش کو تسلی دی کہ چودھویں کا چاند میں ہی ہوں اور میں نے تمہاری لڑکی کو خدا سے مانگا ہے درویش اُٹھا اور اپنی لڑ کی کا نکاح حضرت خواجہ سے کردیا حضرت خواجہ اپنی بیوی کو لے کر اپنے گاؤں چشت آگئے، اُس پارسا بی بی کے بطن سے خواجہ مودود چشتی اور خواجہ تاج الدین ابوالفتح پیدا ہوئے۔
ایک دن گرمیوں کے موسم میں خواجہ ابویوسف اپنےد وستوں کے ساتھ گھر سے نکلے ایک ایسے جنگل میں پہنچے جہاں دور دور تک پانی نہ تھا، تمام دوستوں کو پیاس نے تنگ کیا آپ سے پانی کی التجاء کی حضرات خواجہ ابویوسف نے اپنا عصاء ایک پتھر پر مارا جس سے پانی کا چشمہ جاری ہوگیا۔ آپ نے سب سے پہلے خود پانی پیا، پھر تمام لوگ سیراب ہوئے، یہ چشمہ اب تک جاری ہے اُس کی خاصیت یہ ہے کہ سردیوں اُس اُس کا پانی گرم ہوتا ہے اور گرمیوں میں یخ ٹھنڈا۔ اگر کوئی بخار میں مبتلاء شخص وہ پانی پی لے تو اُسی وقت صحت یاب ہوجاتا ہے۔
خواجہ یوسف کے گھر میں ایک بہت بڑا پتھر تھا آپ اکثر اوقات اس پر نماز پڑھا کرتے تھے۔ ایک دن حضرت خواجہ نماز پڑھنے کے بعد اپنے گھر سے نکلے آپ نے دیکھا کہ وہ پتھر بھی آپ کے پیچھے چلا آ رہا ہے۔ گاؤں کے سارے لوگ پتھر کو چلتا دیکھ کر جمع ہوگئے اور یہ تماشا دیکھنے لگے، حضرت خواجہ نے لوگوں کو شور مچاتے اور تالیاں بجاتے دیکھا تو پتھر کو دیکھ کر فرمایا یہاں رک جاؤ، اس دن کے بعد کئی اولیاء اللہ نے دیکھا کہ حضرت خضر علیہ السلام اُس پتھر پر بیٹھے نظر آتے ہیں۔ اندھیری راتوں میں اُس پتھر سے نور کی شعاعیں نکلتی ہیں۔ جس سے تمام گاؤں روشن ہوجاتاہے۔
حضرت خواجہ یوسف رحمۃ اللہ علیہ سماع کے بڑے شوقین تھے۔ سماع کے وقت آپ کی پیشانی سے ایسا نور نکلتا جو آسمان کی بلندیوں کو چھوتا، خواجہ ابوبکر شبلی اکثر آپ کی مجلس سماع میں شامل ہوتے تھے۔ ایک شخص نے خواجہ سے پوچھا! اگر سماع اللہ کے رازوں سے ایک راز ہےتو حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ، اِسے سننے سے کیوں منع فرمایا کرے تھے، آپ نے فرمایا خواجہ جنید بغدادی کے دوست اور خلیفہ شبلی ہماری محفل میں آنے والے ہیں اُن سے پوچھ لینا ابوبکر شبلی نے کہا کہ اگر سماع سننا مشکل ہو تو اس سے توبہ کرلو جو شخص سماع سننا نہیں جانتا اُسے توبہ کرنا ضروری ہے اگر آج خواجہ جنید بغدادی ہماری مجلس میں ہوتے تو توبہ کرتے۔
ایک دن حضرت ِ خواجہ کہیں جا رہے تھے۔ آپ نے دیکھا کہ لوگ مسجد بنا رہے ہیں ایک لکڑی کا شہتیر مسجد کی چھت پر رکھنا چاہتے ہیں مگر وہ ایک گز چھوٹا ہے۔دیواروں پر پورا نہیں آتا۔ حضرت خواجہ نے دیکھا تو گھوڑے سے اُترے شہتیر کو اٹھا کر دیوار پر رکھا لوگوں نے دیکھا کہ وہ شہتیرا ایک گز بڑا ہے۔
حضرت خواجہ یوسف کو قرآن پاک کا پہلا حصّہ یاد تھا۔ وہ دل میں سوچتے کہ اگر مجھے سارا یاد ہوتا تو پورا ثواب ملتا۔ رات خواجہ ابومحمد خواب میں تشریف لائے، فرمایا ابویوسف سو بار سورۃ فاتحہ پڑھو، تمہیں قرآن یاد ہوجائے گا۔ آپ نے ایسا ہی کیا سارا قرآن یاد ہوگیا۔ آپ ہر روز پانچ بار قرآن شریف ختم کیا کرتے تھے۔
حضرت خواجہ پچاس سال کی عمر میں حضرت خواجہ ابواسحاق شامی رحمۃ اللہ علیہ کے ایک خلیفہ حضرت خواجہ حاجی کے مقبرہ کے پاس ایک ایسا حجرہ بنایا جس میں آپ اعتکاف بیٹھ سکیں۔ یہ اعتکاف کدہ ایک تہہ خانہ میں بنایا گیا۔ آپ تقریباً بارہ سال وہاں معتکف رہے۔
آپ سلسلہ چشتیہ کے بڑے مشائخ میں سے تھے۔ جمالِ طریقت اور کمال حقیقت کے مالک تھے۔ آپ کی کرامتیں اور کمالات ظاہر و باہر تھیں۔ آپ کر خرقۂ خلافت اپنے ماموں خواجہ ابومحمد چشتی سے ملا۔ والد کا اسم گرامی سید محمد سمعان تھا۔ خواجہ ابومحمد آپ کو اپنا بیٹا ہی جانتے تھے اور آپ نے آپ کی تربیت کی۔ آپ کی عمر چھتیس سال کی تھی کہ آپ کے ماموں کا انتقال ہوگیا اور آپ ان کی جگہ جلوہ فرما ہوئے، آپ کا نسبِ پاک حضرت امام حسین سے اس طرح جاملتا ہے۔ سید یوسف چشتی بن محمد سمعان بن سید ابراہیم بن سید محمد بن سید حسین بن سید عبداللہ علی اکبر بن امام حسن اصغری بن امام علی تقی بن امام التقی بن علی رضا بن موسیٰ کاظم بن جعفر صادق بن محمد باقر بن زین العابدین بن امیرالمومنین امام حسین رضی اللہ عنہ، خواجہ ابو محمد کی وفات کے بعد خواجہ ابویوسف ہرات میں تشریف لے آئے، راستے میں ایک گاؤں آیا جس کا نام کنک تھا وہاں ایک ایسا درویش رہتا تھا جو نہایت ہی متقی تھا اس کی ایک بیٹی تھی جو بڑی ہی نیک پارسا اور خوبصورت تھی، رات کے وقت اُس لڑکی نے خواب میں دیکھا کہ چودھویں کا چاند آسمان سے اُتر کر میرے پاس آگیا ہے اور وہ چاند مجھے کہنے لگا کہ تم میری بیوی ہو، میں نے تمہیں خدا سے چاہا ہے۔ صبح ہوئی تو لڑکی نے اپنے والد سے خواب بیان کی او رپوچھا کہ اس کی تعبیر کیا ہے اس کے والد حضرت خواجہ ابویوسف کی خدمت میں گئے تاکہ خواب کی تعبیر دریافت کریں ابھی انہوں نے کچھ نہ پوچھا تھا تو خواجہا بویوسف نے لڑکی کے خواب کا تمام احوال سنادیا اور درویش کو تسلی دی کہ چودھویں کا چاند میں ہی ہوں اور میں نے تمہاری لڑکی کو خدا سے مانگا ہے درویش اُٹھا اور اپنی لڑ کی کا نکاح حضرت خواجہ سے کردیا حضرت خواجہ اپنی بیوی کو لے کر اپنے گاؤں چشت آگئے، اُس پارسا بی بی کے بطن سے خواجہ مودود چشتی اور خواجہ تاج الدین ابوالفتح پیدا ہوئے۔
ایک دن گرمیوں کے موسم میں خواجہ ابویوسف اپنےد وستوں کے ساتھ گھر سے نکلے ایک ایسے جنگل میں پہنچے جہاں دور دور تک پانی نہ تھا، تمام دوستوں کو پیاس نے تنگ کیا آپ سے پانی کی التجاء کی حضرات خواجہ ابویوسف نے اپنا عصاء ایک پتھر پر مارا جس سے پانی کا چشمہ جاری ہوگیا۔ آپ نے سب سے پہلے خود پانی پیا، پھر تمام لوگ سیراب ہوئے، یہ چشمہ اب تک جاری ہے اُس کی خاصیت یہ ہے کہ سردیوں اُس اُس کا پانی گرم ہوتا ہے اور گرمیوں میں یخ ٹھنڈا۔ اگر کوئی بخار میں مبتلاء شخص وہ پانی پی لے تو اُسی وقت صحت یاب ہوجاتا ہے۔
خواجہ یوسف کے گھر میں ایک بہت بڑا پتھر تھا آپ اکثر اوقات اس پر نماز پڑھا کرتے تھے۔ ایک دن حضرت خواجہ نماز پڑھنے کے بعد اپنے گھر سے نکلے آپ نے دیکھا کہ وہ پتھر بھی آپ کے پیچھے چلا آ رہا ہے۔ گاؤں کے سارے لوگ پتھر کو چلتا دیکھ کر جمع ہوگئے اور یہ تماشا دیکھنے لگے، حضرت خواجہ نے لوگوں کو شور مچاتے اور تالیاں بجاتے دیکھا تو پتھر کو دیکھ کر فرمایا یہاں رک جاؤ، اس دن کے بعد کئی اولیاء اللہ نے دیکھا کہ حضرت خضر علیہ السلام اُس پتھر پر بیٹھے نظر آتے ہیں۔ اندھیری راتوں میں اُس پتھر سے نور کی شعاعیں نکلتی ہیں۔ جس سے تمام گاؤں روشن ہوجاتاہے۔
حضرت خواجہ یوسف رحمۃ اللہ علیہ سماع کے بڑے شوقین تھے۔ سماع کے وقت آپ کی پیشانی سے ایسا نور نکلتا جو آسمان کی بلندیوں کو چھوتا، خواجہ ابوبکر شبلی اکثر آپ کی مجلس سماع میں شامل ہوتے تھے۔ ایک شخص نے خواجہ سے پوچھا! اگر سماع اللہ کے رازوں سے ایک راز ہےتو حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ، اِسے سننے سے کیوں منع فرمایا کرے تھے، آپ نے فرمایا خواجہ جنید بغدادی کے دوست اور خلیفہ شبلی ہماری محفل میں آنے والے ہیں اُن سے پوچھ لینا ابوبکر شبلی نے کہا کہ اگر سماع سننا مشکل ہو تو اس سے توبہ کرلو جو شخص سماع سننا نہیں جانتا اُسے توبہ کرنا ضروری ہے اگر آج خواجہ جنید بغدادی ہماری مجلس میں ہوتے تو توبہ کرتے۔
ایک دن حضرت ِ خواجہ کہیں جا رہے تھے۔ آپ نے دیکھا کہ لوگ مسجد بنا رہے ہیں ایک لکڑی کا شہتیر مسجد کی چھت پر رکھنا چاہتے ہیں مگر وہ ایک گز چھوٹا ہے۔دیواروں پر پورا نہیں آتا۔ حضرت خواجہ نے دیکھا تو گھوڑے سے اُترے شہتیر کو اٹھا کر دیوار پر رکھا لوگوں نے دیکھا کہ وہ شہتیرا ایک گز بڑا ہے۔
حضرت خواجہ یوسف کو قرآن پاک کا پہلا حصّہ یاد تھا۔ وہ دل میں سوچتے کہ اگر مجھے سارا یاد ہوتا تو پورا ثواب ملتا۔ رات خواجہ ابومحمد خواب میں تشریف لائے، فرمایا ابویوسف سو بار سورۃ فاتحہ پڑھو، تمہیں قرآن یاد ہوجائے گا۔ آپ نے ایسا ہی کیا سارا قرآن یاد ہوگیا۔ آپ ہر روز پانچ بار قرآن شریف ختم کیا کرتے تھے۔
حضرت خواجہ پچاس سال کی عمر میں حضرت خواجہ ابواسحاق شامی رحمۃ اللہ علیہ کے ایک خلیفہ حضرت خواجہ حاجی کے مقبرہ کے پاس ایک ایسا حجرہ بنایا جس میں آپ اعتکاف بیٹھ سکیں۔ یہ اعتکاف کدہ ایک تہہ خانہ میں بنایا گیا۔ آپ تقریباً بارہ سال وہاں معتکف رہے۔
❤1
حضرت خواجہ عبداللہ انصاری رحمۃ اللہ علیہ بھی حضرت خواجہ کو ملنے حاضر ہوا کرتے تھے۔ رات کو رجال الغیب بھی آتے تھے۔ پریاں اور جن بھی حاضری دیا کرتے تھے ان کی تعداد ہزاروں تک پہنچتی تھی۔ حضرت خواجہ کے مریدوں میں سے دو جن ایسے بھی تھے۔ جو سانپ کی شکل میں حجرے کے سامنے رہا کرتے تھے اور عام آدمیوں کو حجرے کے نزدیک نہیں آنے دیتے تھے۔
آپ کی وفات سوم رجب المرجب ۴۵۹ھ کو ہوئی تھی۔
خواجہ وقت یوسف ثانی
مثل او مادر زمانہ نزاد
صاحب حسن یوسف است بداں
۳۷۵ھ
سالِ تولید آں شہِ اوتاد
رحلتش شدعیاں زعارف حق
۴۵۹ھ
نیز یوسف ولی مادر زاد
۴۵۹ھ
علماء کے تاج، اولیا کے سردار، اذکیاء کے مقتدا، صوفیوں کے پیشوا، ملت و مذہب کے معاون و مدد گار طریقت کے دوسرے بازو، حقیقت کے کمال خواجہ ابو یوسف چشتی ہیں۔ آپ کی معجز نما کرامتیں عالم میں ظاہر اور حکیمانہ ہدایتیں واضح ہیں (خدا تعالیٰ آپ کے روضہ مقدس کو منور اور قبر شریف کو ٹھنڈا رکھے) اس بزرگ نے خرقہ ارادت خواجہ محمد چشتی قدس اللہ سرہ العزیز سے زیب تن کیا تھا منقول ہے کہ ایک دن خواجہ ابو یوسف چشتی رستہ میں چلے جاتے تھے اثناء میں چند لوگ نظر پڑے جو ایک مسجد کی تعمیر میں مصروف تھے لیکن جو کڑیاں مسجد کی چھت پاٹنے کے لیے اوپر لے جاتے تھے وہ موازنہ عمارت سے چھوٹی نکلتی ہیں لوگ حیرت میں تھے کہ اب کیا کرنا چاہیے اسی حیرت اور پریشانی کے وقت خواجہ وہاں پہنچ گئے اور ان کی پریشانی کی وجہ دریافت کی جب یہ واقعہ معلوم ہوا تو آپ فوراً گھوڑے سے اتر آئے اور مسجد کی دیوار پر تشریف لے جا کر کڑی کا سرا اپنے مبارک ہاتھ سے پکڑ اور بسم اللہ الرحمٰن الرحیم کہہ کر دیوار پر رکھا اب جو اندازہ کیا جاتا ہے تو کڑی اس طرف سے پوری گز بہر مسجد کی عمارت سے بڑھ گئی جس طرف سے خواجہ نے ہاتھ لگایا تھا چنانچہ اس وقت تک وہ کڑی گز بہر مسجد کی عمارت سے باہر نکلی ہوئی ہے۔ کاتب حروف نے اپنے والد بزرگوار سید مبارک محمد کرمانی رحمۃ اللہ علیہ سے سنا ہے آپ فرماتے تھے کہ اس مسجد میں خود اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے جو اس وقت علی حالہ موجود ہے۔ منقول ہے کہ خواجہ ابو یوسف چشتی قدس سرہ کو قرآن مجید یاد نہیں ہوتا تھا اور اس وجہ سے اکثر اوقات نہایت متردد و متفکر رہتے تھے یہاں تک کہ ایک رات آپ اسی تردد میں مبتلا تھے کہ نہایت بے چینی کے ساتھ نیند آگئی۔ خواب میں دیکھتے ہیں کہ آپ کے پیر خواجہ محمد چشتی قدس اللہ سرہ العزیز کھڑے فر ما رہے ہیں کہ ابو یوسف تمہارا کیا حال ہے مجھے تم بہت متردد معلوم ہوتے ہو۔ خواجہ ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ نے کہا بے شک مجھے سخت تردد ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ مجھے کلام اللہ یاد نہیں ہوتا ہے فرمایا تم رنج نہ کرو سو مرتبہ سورہ فاتحہ پڑھ لو اس کی برکت سے تمہیں کلام اللہ یاد ہوجائے گا۔ خواجہ ابو یوسف جب بیدار ہوئے تو پیر کے ارشاد کے مطابق سو دفعہ سورہ فاتحہ پڑھی خدا کے فضل و کرم اور سورہ فاتحہ کی برکت سے آپ کو تمام کلام اللہ از بر ہوگیا چنانچہ اس کے بعد آپ ہر روز قرآن مجید کے پانچ ختم کرنے لگے۔
(سیر الاولیاء)
آں موصوف بہ کمالات استقامت ودرستی، قطب الاقطاب، خواجہ ناصر الدین ابو یوسف چشتی قدس سرہٗ بن محمد سمعان جمال معرفت و کمال حقیقت سے آراستہ تھے۔ آپ غایت حضور کی وجہ سے دریائے احدیت میں غرق تھے اور مجاہدات وریاضات، وکرامات میں ثانی نہیں رکھتے تھے۔ آپ اپنے ماموں حضرت خواجہ ابو محمد چشتی قدس سرہٗ کے مرید وخلیفہ تھے۔ آپ کی عمر چوراسی سال تھی۔ حضرت خواجہ ابو محمد چشتی نے آپکی اپنے فرزند کی طرح پرورش فرمائی اور ظاہری وباطنی تربیت فرمائی۔آپ کی عمر چھتیس سال تھی آپ کے ماموں اور پیر ومرشد کا وصال ہوگیا۔ اور آپ ان کی مسند پر بیٹھے۔ اس کے بعد آپ پر ایسے اسرار ورموز منکشف ہوئے کہ بشر کے دہم وہم گمان میں بھی ن ہیں آسکتے۔ آپ صحیح النسب سید حسنی وحسینی ہیں۔ آپ کا نسب نامہ یہ ہے حضرت خواجہ ناصر الدین ابو یوسف بن حضرت خواجہ سمعان بن سید ابراہیم، بن سید محمد بن سید حسن بن سید عبداللہ الملقب علی اکبر ابن امام علی نقی ابن امام محمد تقی الجواد بن امام علی رضا بن امام موسیٰ کاظم بن امام جعفر صادق، بن امام محمد باقر، بن امام زین العابدین بن امیر المومنین امام حسین سید الشہداء ابن امیر المومنین وامام المتقین اسداللہ الغالب علی ان ابی طالب کرم اللہ وجہہ۔
کمال ترک
سیر الاقطاب میں مرقوم ہے کہ آپ ہمیشہ فقراء وغربا کے ساتھ رہتے تھے اور ان کے ساتھ کھاتے پیتے تھے۔ آپ فقراء کی بہت تعظیم کرتے تھے اور اہل دنیا کی طرف بالکل توجہ نہیں فرماتے تھے۔ جب کوئی اہل دیناآپ کی خدمت میں حاضر ہوتا تو آپ کا چہرہ متغیر ہوجاتا تھا۔ اور رونے لگتے تھے۔ آپ کی صحبت میں وہ اثر تھا کہ جو شخص آپ کی خدمت میں حاضر ہوتا تھا۔ صاحب کرامت اور اہل ولایت ہوجاتا تھا۔ اس وجہ سے آپ کی خدمت میں خلقت کا ہجوم رہتا تھا۔ آپ کی خدمت میں جس قدر نذر نذرانے پیش ہوتےتھے جب تک آپ فقراء میں تقسیم نہیں
آپ کی وفات سوم رجب المرجب ۴۵۹ھ کو ہوئی تھی۔
خواجہ وقت یوسف ثانی
مثل او مادر زمانہ نزاد
صاحب حسن یوسف است بداں
۳۷۵ھ
سالِ تولید آں شہِ اوتاد
رحلتش شدعیاں زعارف حق
۴۵۹ھ
نیز یوسف ولی مادر زاد
۴۵۹ھ
علماء کے تاج، اولیا کے سردار، اذکیاء کے مقتدا، صوفیوں کے پیشوا، ملت و مذہب کے معاون و مدد گار طریقت کے دوسرے بازو، حقیقت کے کمال خواجہ ابو یوسف چشتی ہیں۔ آپ کی معجز نما کرامتیں عالم میں ظاہر اور حکیمانہ ہدایتیں واضح ہیں (خدا تعالیٰ آپ کے روضہ مقدس کو منور اور قبر شریف کو ٹھنڈا رکھے) اس بزرگ نے خرقہ ارادت خواجہ محمد چشتی قدس اللہ سرہ العزیز سے زیب تن کیا تھا منقول ہے کہ ایک دن خواجہ ابو یوسف چشتی رستہ میں چلے جاتے تھے اثناء میں چند لوگ نظر پڑے جو ایک مسجد کی تعمیر میں مصروف تھے لیکن جو کڑیاں مسجد کی چھت پاٹنے کے لیے اوپر لے جاتے تھے وہ موازنہ عمارت سے چھوٹی نکلتی ہیں لوگ حیرت میں تھے کہ اب کیا کرنا چاہیے اسی حیرت اور پریشانی کے وقت خواجہ وہاں پہنچ گئے اور ان کی پریشانی کی وجہ دریافت کی جب یہ واقعہ معلوم ہوا تو آپ فوراً گھوڑے سے اتر آئے اور مسجد کی دیوار پر تشریف لے جا کر کڑی کا سرا اپنے مبارک ہاتھ سے پکڑ اور بسم اللہ الرحمٰن الرحیم کہہ کر دیوار پر رکھا اب جو اندازہ کیا جاتا ہے تو کڑی اس طرف سے پوری گز بہر مسجد کی عمارت سے بڑھ گئی جس طرف سے خواجہ نے ہاتھ لگایا تھا چنانچہ اس وقت تک وہ کڑی گز بہر مسجد کی عمارت سے باہر نکلی ہوئی ہے۔ کاتب حروف نے اپنے والد بزرگوار سید مبارک محمد کرمانی رحمۃ اللہ علیہ سے سنا ہے آپ فرماتے تھے کہ اس مسجد میں خود اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے جو اس وقت علی حالہ موجود ہے۔ منقول ہے کہ خواجہ ابو یوسف چشتی قدس سرہ کو قرآن مجید یاد نہیں ہوتا تھا اور اس وجہ سے اکثر اوقات نہایت متردد و متفکر رہتے تھے یہاں تک کہ ایک رات آپ اسی تردد میں مبتلا تھے کہ نہایت بے چینی کے ساتھ نیند آگئی۔ خواب میں دیکھتے ہیں کہ آپ کے پیر خواجہ محمد چشتی قدس اللہ سرہ العزیز کھڑے فر ما رہے ہیں کہ ابو یوسف تمہارا کیا حال ہے مجھے تم بہت متردد معلوم ہوتے ہو۔ خواجہ ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ نے کہا بے شک مجھے سخت تردد ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ مجھے کلام اللہ یاد نہیں ہوتا ہے فرمایا تم رنج نہ کرو سو مرتبہ سورہ فاتحہ پڑھ لو اس کی برکت سے تمہیں کلام اللہ یاد ہوجائے گا۔ خواجہ ابو یوسف جب بیدار ہوئے تو پیر کے ارشاد کے مطابق سو دفعہ سورہ فاتحہ پڑھی خدا کے فضل و کرم اور سورہ فاتحہ کی برکت سے آپ کو تمام کلام اللہ از بر ہوگیا چنانچہ اس کے بعد آپ ہر روز قرآن مجید کے پانچ ختم کرنے لگے۔
(سیر الاولیاء)
آں موصوف بہ کمالات استقامت ودرستی، قطب الاقطاب، خواجہ ناصر الدین ابو یوسف چشتی قدس سرہٗ بن محمد سمعان جمال معرفت و کمال حقیقت سے آراستہ تھے۔ آپ غایت حضور کی وجہ سے دریائے احدیت میں غرق تھے اور مجاہدات وریاضات، وکرامات میں ثانی نہیں رکھتے تھے۔ آپ اپنے ماموں حضرت خواجہ ابو محمد چشتی قدس سرہٗ کے مرید وخلیفہ تھے۔ آپ کی عمر چوراسی سال تھی۔ حضرت خواجہ ابو محمد چشتی نے آپکی اپنے فرزند کی طرح پرورش فرمائی اور ظاہری وباطنی تربیت فرمائی۔آپ کی عمر چھتیس سال تھی آپ کے ماموں اور پیر ومرشد کا وصال ہوگیا۔ اور آپ ان کی مسند پر بیٹھے۔ اس کے بعد آپ پر ایسے اسرار ورموز منکشف ہوئے کہ بشر کے دہم وہم گمان میں بھی ن ہیں آسکتے۔ آپ صحیح النسب سید حسنی وحسینی ہیں۔ آپ کا نسب نامہ یہ ہے حضرت خواجہ ناصر الدین ابو یوسف بن حضرت خواجہ سمعان بن سید ابراہیم، بن سید محمد بن سید حسن بن سید عبداللہ الملقب علی اکبر ابن امام علی نقی ابن امام محمد تقی الجواد بن امام علی رضا بن امام موسیٰ کاظم بن امام جعفر صادق، بن امام محمد باقر، بن امام زین العابدین بن امیر المومنین امام حسین سید الشہداء ابن امیر المومنین وامام المتقین اسداللہ الغالب علی ان ابی طالب کرم اللہ وجہہ۔
کمال ترک
سیر الاقطاب میں مرقوم ہے کہ آپ ہمیشہ فقراء وغربا کے ساتھ رہتے تھے اور ان کے ساتھ کھاتے پیتے تھے۔ آپ فقراء کی بہت تعظیم کرتے تھے اور اہل دنیا کی طرف بالکل توجہ نہیں فرماتے تھے۔ جب کوئی اہل دیناآپ کی خدمت میں حاضر ہوتا تو آپ کا چہرہ متغیر ہوجاتا تھا۔ اور رونے لگتے تھے۔ آپ کی صحبت میں وہ اثر تھا کہ جو شخص آپ کی خدمت میں حاضر ہوتا تھا۔ صاحب کرامت اور اہل ولایت ہوجاتا تھا۔ اس وجہ سے آپ کی خدمت میں خلقت کا ہجوم رہتا تھا۔ آپ کی خدمت میں جس قدر نذر نذرانے پیش ہوتےتھے جب تک آپ فقراء میں تقسیم نہیں
❤1
کرتے تھے آپ کو چین نہیں آتا تھا۔
کرامت
اس کتاب میں یہ بھی مروی ہے کہ بیس سال کی عمر میں ایک دن حضرت اقدس کا گزر ایک امیر گھر کے قریب ہوا۔ اس گھر کے کا دروازہ کھلا تھا اندر اس کی صاحب جمال لڑکی بیٹھی تھی۔ اور خدمت گار گردو پیش کھڑے تھے۔ آپ کو وہ لڑکی بہت پسند آئی آپ نے دربان سے کہا کہ لڑکی کے والد سے جاکر کہو کہ اپنی لڑکی کی شادی میرے ساتھ کردو۔ دربان نے فوراً اندر جاکر پیغام دیا۔ امیر نے کہا کس قدر سعادت کی بات ہے کہ میری لڑکی کو حضرت خواجہ اپنی خدمت میں قبول فرمادیں۔ لیکن پہلے میں ایک خادمہ کو حضرت اقدس کی خدمت میں بھیجونگا حضرت شیخ خطبہ پڑہیں اس کے بعد لڑکی دوں گا۔ جب دربان نے باہر آکر آپ کو یہ پیام دیا تو آپ سمجھ گئے میری خاطر امیر چالاکی کر رہا ہے آپ نے فرمایا میں اس امیر کا امتحان لے رہا تھا کہ میرے ساتھ اُسے کتنی عقیدت ہے ورنہ مجھے شادی کی بالکل خواہش نہیں ہے یہ کہہ کر آپ گھر چلے گئے۔ ابھی آپ گھر نہیں پہنچے تھے کہ لڑکی کے پیٹ میں شدید در اٹھا امیر نے خدام کو حضرت اقدس کی خدمت میں بھیج کر معافی طلب کی اور عرض کرائی کہ آپ واپس آجائیں میں لڑکی فوراً آپ کے پیش کردوں گا۔ لیکن حضرت اقدس نے قبول نہ فرمایا اور توجہی سے کام لیا۔ابھی رات نہ ہونے پائی تھی کہ لڑکی کا انتقال ہوگیا۔
شادی کا واقعہ
روایت ہے کہ ایک دفعہ حضرت خواجہ ابو یوسف قدس سرہٗ ا پنے شیخ کے وصال کے بعد ہرات شریف لے گئے۔ واپسی پر آپ ایک قصبۂ میں ٹھہرے جس کا نام کنک تھا۔ وہاں ایک درویش رہتے تھے جو برے بزرگ تھے۔ آپ نے اُن کے ہاں قیام فرمایا۔ اس درویش کی ایک لڑکی تھی جو نہایت ہی متقی وپرہیز گار تھی۔ لڑکی نے اُسی رات خواب میں دیکھا کہ چودہویں کا چاند آسمان سے اُتر کر میری بغل میں آگیا ہے اور مجھے کہہ رہا ہے کہ میں نے تجھے اپنی زوجگی کے لیے پسند کیا ہے اور قبول کیا ہے۔ علی الصبح جب درویش حضرت خواجہ کی خدمت میں آیا تو آپ نے اسکی لڑکی کا خواب اُسے بتادیا اور فرمایا کہ چاند سے میں خود مراد ہوں تم اپنی لڑکی کو فوراً خدا کے حکم سے مجھے دو دو۔ درویش بطون کے حال سے بے خبر تھا اس کو فکر لاحق ہوئی اور کہنے لگا کہ ہماری کیا مجال ہے کہ آپ جیسے سید اور بزرگ کے ساتھ قرابت داری کرسکیں۔ حضرت اقدس نے فرمایا کہ قضا امر الذی فیہ تسغیتان۔ تمہاری لڑکی خداتعالیٰ کے حکم سے میری بیوی ہوگی اور اس کے بطن سے ایسے فرزند وجود میں آئیں گے جو قطب وقت ہوں گے۔ درویش اٹھ کر اپنی لڑکی کے پاس گیا تاکہ یہ معلوم کرسکے کہ لڑکی کا ارادہ کیا ہے۔ اور اس خواب کی کیا تعبیر کرتی ہے۔ لڑکی نے باپ کے سامنے بغیہ وہی خواب بیان کردیا جو حضرت اقدس نے فرمایا تھا۔ یہ سنکر باپ کے لیے رضا مندی کے سوا کوئی چارہ نہ رہا۔ اس کے دل سے تمام شکوک رفع ہوگئے۔چنانچہ اس نے اپنی لڑکی سے کہا کہ تجھے مبارک ہے وہ چاند جو تم نے رات کو خواب میں دیکھا ہے تمہارے گھر میں آیا ہوا ہے۔ اس کے بعد اس نے فوراً حضرت خواجہ کی خدمت میں آکر رضا مندی کا اظہار کیا اور شادی ہوگئی۔ چند دن وہاں قیام کرنے کے بعد آپ چشت تشریف لائے تو اصحاب نے ٹھنڈے پانی کی درخواست کی کہ اگر آپ کی دعا کی برکت سے یہاں کوئی پانی کا چشمہ جاری ہوجائے تو خلق خدا کو گرمی کی شدت سے نجاب مل جائے گی۔ آپ نے فوراً انا عصا پتھر پر مارا جس سے صاف وشفاف پانی کا چشمہ جاری ہوگیا۔ اصحاب نے جی بھر پانی پیا، وضو کیا اور خدا تعالیٰ کا شکرانہ بجالائے۔ وہ چشمہ آج تک جاری ہے جسکا پانی موسم گرما میں نہایت سرد ہوجاتا ہے اور موسم سرما میں معتدل ہوجاتا ہے۔ نیز اس چشمہ پر جاکر لوگ جو حاجت طلب کرتے ہیں۔ خدا تعالیٰ پوری کرتا ہے۔
کرامت
سیر الاقطاب میں لکھا ہے کہ آپ کے گھر کے سامنے ایک پتھر کی بہت بڑی چٹان پڑی تھی جس پر آپ اکثر بیٹھا کرتے تھے ۔ اور عبادت کرتے تھے۔ ایک دن آپ اس پر بیٹھے تھے۔ جب اُتر کر ایک بستی کی طرف جانے لگے تو چٹان بھی پیچھے چلنے لگی۔ یہ دیکھ کر خلقت بھی پیچھے پیچھے چلنے لگی۔ آپ نے لوگوں کے غلو سے مطلع ہوکر چٹان کو حکم دیا کہ اس جگہ رک جاؤ۔ چٹان فوراً رک گئی۔ اور آج تک وہاں کھڑی ہے جہاں آپ نے حکم دیا تھا۔ اس کے بعد لوگوں نے اکثر حضرت اقدس کو خضر علیہ السلام کے ساتھ اس چٹان پر بیٹے دیکھا۔ وہاں سے اس قدر نور نکلتا تھا کہ سارا گاؤں روشن ہوجاتا تھا وہ چٹان آج تک زیارت گاہ خلائق بنی ہوئی ہے۔
واقعہ خلافت
اس کتاب میں یہ بھی مرقوم ہے کہ جب حضرت اقدس حضرت خواجہ ابو محمد چشتی قدس سرہٗ سے بیعت ہوئے تو حضرت شیخ نے فرمایا کہ سات مرتبہ میرا نام لے کر زمین کی طرف دیکھو۔ آپ نے حکم کی تعمیل کی تو تحت الشریٰ تک مکشوف ہوگیا۔ حضرت شیخ نے اُسی وقت خرقۂ خلافت عطا فرمایا اور اپنے سامنے مسند نشین فرمایا:۔
نقل ہےکہ پچاس سال کی عمر میں آپ نے ارادہ کیا کہ حضرت خواجہ حاجی مکی جواپنے وقت کے بزرگ تھے اور حسن کے مزار پر حضرت خواجہ ابو اسحاق چشتی قدس جایا کرتے تھے۔ ان کی مزار کے ساتھ ایک زمین دوز حجرہ بنایا
کرامت
اس کتاب میں یہ بھی مروی ہے کہ بیس سال کی عمر میں ایک دن حضرت اقدس کا گزر ایک امیر گھر کے قریب ہوا۔ اس گھر کے کا دروازہ کھلا تھا اندر اس کی صاحب جمال لڑکی بیٹھی تھی۔ اور خدمت گار گردو پیش کھڑے تھے۔ آپ کو وہ لڑکی بہت پسند آئی آپ نے دربان سے کہا کہ لڑکی کے والد سے جاکر کہو کہ اپنی لڑکی کی شادی میرے ساتھ کردو۔ دربان نے فوراً اندر جاکر پیغام دیا۔ امیر نے کہا کس قدر سعادت کی بات ہے کہ میری لڑکی کو حضرت خواجہ اپنی خدمت میں قبول فرمادیں۔ لیکن پہلے میں ایک خادمہ کو حضرت اقدس کی خدمت میں بھیجونگا حضرت شیخ خطبہ پڑہیں اس کے بعد لڑکی دوں گا۔ جب دربان نے باہر آکر آپ کو یہ پیام دیا تو آپ سمجھ گئے میری خاطر امیر چالاکی کر رہا ہے آپ نے فرمایا میں اس امیر کا امتحان لے رہا تھا کہ میرے ساتھ اُسے کتنی عقیدت ہے ورنہ مجھے شادی کی بالکل خواہش نہیں ہے یہ کہہ کر آپ گھر چلے گئے۔ ابھی آپ گھر نہیں پہنچے تھے کہ لڑکی کے پیٹ میں شدید در اٹھا امیر نے خدام کو حضرت اقدس کی خدمت میں بھیج کر معافی طلب کی اور عرض کرائی کہ آپ واپس آجائیں میں لڑکی فوراً آپ کے پیش کردوں گا۔ لیکن حضرت اقدس نے قبول نہ فرمایا اور توجہی سے کام لیا۔ابھی رات نہ ہونے پائی تھی کہ لڑکی کا انتقال ہوگیا۔
شادی کا واقعہ
روایت ہے کہ ایک دفعہ حضرت خواجہ ابو یوسف قدس سرہٗ ا پنے شیخ کے وصال کے بعد ہرات شریف لے گئے۔ واپسی پر آپ ایک قصبۂ میں ٹھہرے جس کا نام کنک تھا۔ وہاں ایک درویش رہتے تھے جو برے بزرگ تھے۔ آپ نے اُن کے ہاں قیام فرمایا۔ اس درویش کی ایک لڑکی تھی جو نہایت ہی متقی وپرہیز گار تھی۔ لڑکی نے اُسی رات خواب میں دیکھا کہ چودہویں کا چاند آسمان سے اُتر کر میری بغل میں آگیا ہے اور مجھے کہہ رہا ہے کہ میں نے تجھے اپنی زوجگی کے لیے پسند کیا ہے اور قبول کیا ہے۔ علی الصبح جب درویش حضرت خواجہ کی خدمت میں آیا تو آپ نے اسکی لڑکی کا خواب اُسے بتادیا اور فرمایا کہ چاند سے میں خود مراد ہوں تم اپنی لڑکی کو فوراً خدا کے حکم سے مجھے دو دو۔ درویش بطون کے حال سے بے خبر تھا اس کو فکر لاحق ہوئی اور کہنے لگا کہ ہماری کیا مجال ہے کہ آپ جیسے سید اور بزرگ کے ساتھ قرابت داری کرسکیں۔ حضرت اقدس نے فرمایا کہ قضا امر الذی فیہ تسغیتان۔ تمہاری لڑکی خداتعالیٰ کے حکم سے میری بیوی ہوگی اور اس کے بطن سے ایسے فرزند وجود میں آئیں گے جو قطب وقت ہوں گے۔ درویش اٹھ کر اپنی لڑکی کے پاس گیا تاکہ یہ معلوم کرسکے کہ لڑکی کا ارادہ کیا ہے۔ اور اس خواب کی کیا تعبیر کرتی ہے۔ لڑکی نے باپ کے سامنے بغیہ وہی خواب بیان کردیا جو حضرت اقدس نے فرمایا تھا۔ یہ سنکر باپ کے لیے رضا مندی کے سوا کوئی چارہ نہ رہا۔ اس کے دل سے تمام شکوک رفع ہوگئے۔چنانچہ اس نے اپنی لڑکی سے کہا کہ تجھے مبارک ہے وہ چاند جو تم نے رات کو خواب میں دیکھا ہے تمہارے گھر میں آیا ہوا ہے۔ اس کے بعد اس نے فوراً حضرت خواجہ کی خدمت میں آکر رضا مندی کا اظہار کیا اور شادی ہوگئی۔ چند دن وہاں قیام کرنے کے بعد آپ چشت تشریف لائے تو اصحاب نے ٹھنڈے پانی کی درخواست کی کہ اگر آپ کی دعا کی برکت سے یہاں کوئی پانی کا چشمہ جاری ہوجائے تو خلق خدا کو گرمی کی شدت سے نجاب مل جائے گی۔ آپ نے فوراً انا عصا پتھر پر مارا جس سے صاف وشفاف پانی کا چشمہ جاری ہوگیا۔ اصحاب نے جی بھر پانی پیا، وضو کیا اور خدا تعالیٰ کا شکرانہ بجالائے۔ وہ چشمہ آج تک جاری ہے جسکا پانی موسم گرما میں نہایت سرد ہوجاتا ہے اور موسم سرما میں معتدل ہوجاتا ہے۔ نیز اس چشمہ پر جاکر لوگ جو حاجت طلب کرتے ہیں۔ خدا تعالیٰ پوری کرتا ہے۔
کرامت
سیر الاقطاب میں لکھا ہے کہ آپ کے گھر کے سامنے ایک پتھر کی بہت بڑی چٹان پڑی تھی جس پر آپ اکثر بیٹھا کرتے تھے ۔ اور عبادت کرتے تھے۔ ایک دن آپ اس پر بیٹھے تھے۔ جب اُتر کر ایک بستی کی طرف جانے لگے تو چٹان بھی پیچھے چلنے لگی۔ یہ دیکھ کر خلقت بھی پیچھے پیچھے چلنے لگی۔ آپ نے لوگوں کے غلو سے مطلع ہوکر چٹان کو حکم دیا کہ اس جگہ رک جاؤ۔ چٹان فوراً رک گئی۔ اور آج تک وہاں کھڑی ہے جہاں آپ نے حکم دیا تھا۔ اس کے بعد لوگوں نے اکثر حضرت اقدس کو خضر علیہ السلام کے ساتھ اس چٹان پر بیٹے دیکھا۔ وہاں سے اس قدر نور نکلتا تھا کہ سارا گاؤں روشن ہوجاتا تھا وہ چٹان آج تک زیارت گاہ خلائق بنی ہوئی ہے۔
واقعہ خلافت
اس کتاب میں یہ بھی مرقوم ہے کہ جب حضرت اقدس حضرت خواجہ ابو محمد چشتی قدس سرہٗ سے بیعت ہوئے تو حضرت شیخ نے فرمایا کہ سات مرتبہ میرا نام لے کر زمین کی طرف دیکھو۔ آپ نے حکم کی تعمیل کی تو تحت الشریٰ تک مکشوف ہوگیا۔ حضرت شیخ نے اُسی وقت خرقۂ خلافت عطا فرمایا اور اپنے سامنے مسند نشین فرمایا:۔
نقل ہےکہ پچاس سال کی عمر میں آپ نے ارادہ کیا کہ حضرت خواجہ حاجی مکی جواپنے وقت کے بزرگ تھے اور حسن کے مزار پر حضرت خواجہ ابو اسحاق چشتی قدس جایا کرتے تھے۔ ان کی مزار کے ساتھ ایک زمین دوز حجرہ بنایا
❤1
جائے اور اس کے اندر اعتکاف کیا جائے لیکن وہاں زمین اس قدر سخت تھی کہ کھدائی مشکل سے ہوتی تھی آپ نے غیب سے اشارہ پاکر پھاوڑہ ہاتھ میں لیا اور نماز چاشت سے عصر تک حجرہ مکمل کردیا۔ یہ حجرہ آج تک زیارت گاہِ خلائق بنا ہوا ہے۔ آپ بارہ سال تک اس حجرہ میں رہے حجرہ کے اندر آپ پر سکر وستغراق کا اس قدر غلبہ ہوتا تھا کہ جب خادم آپ کو وضو کراتا تھا تو اکثر اوقات آپ نظروں سے غائب ہوجاتے تھے۔ اور کچھ دیر بعد حاضر ہوکر وضو مکمل کرتے تھے۔ اس زمانے میں حضرت خواجہ عبداللہ انصاری جو پیر انصار اور شیخ الاسلام کے نام سے مشہور ہیں آپ کی خدمت میں حاضر ہوکر ہر قسم کے مواجید وھالات سے مطلع ہوتے تھے اور بہت محفوظ ہوتے تھے اور فرماتے تھے کہ تمام مشائخ چشت کا یہی حال رہا ہے۔ یعنی خلق سے بے پروا اور باطن کے بادشاہ رہے ہیں۔ اس حالت میں حضرت اقدس کی خدمت میں کثرت سے رجال الغیب حاضر ہوا کرتے تھے۔ اور خلق خدا از قسم مرد وزن کا ہر وقت ہجوم رہتا تھا اور فیض صحبت حاصل کرتے تھے۔ ان میں سے دو جن آپ کے مرید ہوگئے تھے جو سانپ کی شکل اختیار کر کے آپ کے دروازہ پر پڑے رہتے تھے اور پاسبانی کرتے تھے۔ حتیٰ کہ آپ وصال کے بعد بھی وہاں موجود رہے اور جو شخص صدق دل سے اس حجرہ کی زیارت کے لیے آتا تھا۔ اُسے کوئی نقصان نہیں پہنچاتے تھے۔ لیکن جس شخص کی نیت میں فقر ہوتا تھا اس پر حملہ کرتے تھے اور اندر نہیں جانے دیتے تھے جب اس علاقے میں کفار کا غلبہ ہوا اس وقت بھی وہ موجود تھے۔ بعد میں غیب ہوگئے۔
شیخ شبلی کا حاضر ہونا
معتبر روایت میں آیا ہے کہ محفل سماع میں آپ کی پیشانی مبارک سے ایسا نور ظاہر ہوتا تھا۔ جو آسمان تک پہنچ جاتا تھا۔ اور لوگ اِسے دیکھتے تھے۔ نیز جو مریض آپ کی مجلس سماع میں حاضر ہوتا تھا اُسی وقت تندرست ہوجاتا تھا۔ آپ کے سماع سے کسی کو انکار کی جرأت نہیں ہوتی تھی۔ خواجہ شبلی اکثر آپ کی خدمت میں آیا کرتے تھے اور حضرت اقدس کا چہرہ مبارک دیکھتے ہی وجد میں آجاتے تھے جب لوگوں نے اس کا سب جب لوگوں نے ان کا سبب دریافت کیا تو فرمایا کہ ‘‘اے نادانو! تم کیا جانو۔ جو کچھ حضرت شیخ کے دیدار میں مجھے نظر آتا ہے اگر تم لوگوں کو نظر آئے تو تم بے قرار اور دیوانے ہوجاؤ۔ شبلی خواجہ ابو یوسف کے دیدار سے حق تعالیٰ تک پہنچ جاتا ہے غرضیکہ حک تعالیٰ نے حضرت شیخ پر جس قدر کرم فرمایا تھا بیان سے باہر ہے۔
خواجہ جنید نے کیوں سماع سے توبہ کی
روایت ہے کہ کسی نے آپ سے دریافت کیا کہ جب سماع اسرار الٰہی ہے تو خواجہ جنید بغدادی نے اس سے کیوں انکار فرمایا۔ آپ نے فرمایا کہ شبلی جو ان کے خلیفہ اور حجت میں ہمیشہ میری مجلس میں آتے ہیں اور سماع سنتے ہیں۔ چونکہ جنید کو اخوان سماع نہ میسر ہوئے اس نے توبہ کی۔ کیونکہ جس شخص کو اخوان سماع میسر نہ ہوں اُسے سماع سے توبہ لازم ہے۔ والہ اگر جنید میری مجلس میں حاضر ہوتا۔ ہر گز توبہ نہ کرتا۔ اے عزیزی جو چیز کہ سماع میں حاصل ہوتی ہے سو سال کی عبادت سے بھی حاصل نہیں ہوتی۔
یہ بھ ی روایت آئی ہے کہ حضرت اقدس چار فاقوں کے بعد تین لقموں سے زیادہ تناول نہیں فرماتے تھے۔ آپ پیوند جامہ زیب تن فرماتے تھے۔ اور مجلس سماع میں فقراء، علماء، صلحاء اور مشائخ کے سوا کسی کو اجازت نہیں دیتے تھے۔ اگر کوئی اہل دنیا مجلس شیرک ہوتا تو مجلس بے ذوق ہوجاتی تھی۔ یہ دیکھ کر آپ لوگوں کو مجسل سے نکال دیتے تھے اور صرف چند درویشوں کو شریک ہونے کی اجازت دیتے تھے۔ اگر اتفاق سے کوئی اہل دنیا مجلس سماع میں باقی رہ جاتا تو وہ مجذوب اور تارک دینا ہوجاتا تھا۔ مجلس میں تمام لوگوں پر عجیب کیفیت طاری رہتی تھی۔ اگر گناہ گار بھی شرک مجلس ہوتا تو صاحب نعمت ہوجاتا تھا۔ دوسروں کا کیا کہنا۔
کرامت
یہ بھی روایت ہے کہ ایک دفعہ آپ راستے میں جارہے تھے۔ آپ نے دیکھا کہ لوگ مسجد تعمیر کر رہے ہیں اورمسجد کی چھت پر شہتیر رکھ رہے ہیں حضرت خواجہ کھڑے ہوکر تماشا دیکھنے لگے۔ جب شہتیر اوپر لے گئے تو ایک گز کم نکلا۔ لوگوں نے جس قدر کوشش کی کام نہ بن سکا۔ یہ دیکھ کر آپ گھوڑے سے اُتر کر مسجد پر چڑھ گئے اور بسم اللہ پڑھ کر جونہی شہتیر کو پکڑا اور چھت پر رکھا شہتیر برابر ہوگیا وہ مسجد چشت اور ہر یوکے درمیان اب تک باقی ہے اور زیارت گاہ خلائق ہے۔
سو مرتبہ سورت فاتحہ پڑھنے سے قرآن حفظ
سیر الاقطاب میں لکھا ہے کہ حضرت اقدس کو شروع میں قرآن مجید یا نہ تھا۔ اس وجہ سے آپ اکثر پریشان رہتے تھے۔ ایک رات خواب میں اپنے شیخ کی زیارت ہوئی۔ انہوں نے دریافت فرمایا کہ اے ابو یوسف کس وجہ سے فکر میں ہو آپ نے عرض کیا کہ اس وجہ سے کہ مجھے قرآن حفظ نہیں ہے۔ آپ نے فرمایا کہ ایک سو مرتبہ سورت فاتحہ پڑھو قرآن یاد ہوجائے گا۔ بیدار ہونے کے بعد آپ نے حکم کی تعمیل کی تو فوراً ب پورا قرآن یاد ہوگیا۔ چنانچہ آپ ہر شب وروز پانچ ختم قرآن مجید کیا کرتے تھے۔
اس کتاب میں یہ بھی مرقوم ہے کہ ایک رات آپ اپنے نفس کو مخاطب کر کے فرمارہے تھے کہ اے نفس اگر تو
شیخ شبلی کا حاضر ہونا
معتبر روایت میں آیا ہے کہ محفل سماع میں آپ کی پیشانی مبارک سے ایسا نور ظاہر ہوتا تھا۔ جو آسمان تک پہنچ جاتا تھا۔ اور لوگ اِسے دیکھتے تھے۔ نیز جو مریض آپ کی مجلس سماع میں حاضر ہوتا تھا اُسی وقت تندرست ہوجاتا تھا۔ آپ کے سماع سے کسی کو انکار کی جرأت نہیں ہوتی تھی۔ خواجہ شبلی اکثر آپ کی خدمت میں آیا کرتے تھے اور حضرت اقدس کا چہرہ مبارک دیکھتے ہی وجد میں آجاتے تھے جب لوگوں نے اس کا سب جب لوگوں نے ان کا سبب دریافت کیا تو فرمایا کہ ‘‘اے نادانو! تم کیا جانو۔ جو کچھ حضرت شیخ کے دیدار میں مجھے نظر آتا ہے اگر تم لوگوں کو نظر آئے تو تم بے قرار اور دیوانے ہوجاؤ۔ شبلی خواجہ ابو یوسف کے دیدار سے حق تعالیٰ تک پہنچ جاتا ہے غرضیکہ حک تعالیٰ نے حضرت شیخ پر جس قدر کرم فرمایا تھا بیان سے باہر ہے۔
خواجہ جنید نے کیوں سماع سے توبہ کی
روایت ہے کہ کسی نے آپ سے دریافت کیا کہ جب سماع اسرار الٰہی ہے تو خواجہ جنید بغدادی نے اس سے کیوں انکار فرمایا۔ آپ نے فرمایا کہ شبلی جو ان کے خلیفہ اور حجت میں ہمیشہ میری مجلس میں آتے ہیں اور سماع سنتے ہیں۔ چونکہ جنید کو اخوان سماع نہ میسر ہوئے اس نے توبہ کی۔ کیونکہ جس شخص کو اخوان سماع میسر نہ ہوں اُسے سماع سے توبہ لازم ہے۔ والہ اگر جنید میری مجلس میں حاضر ہوتا۔ ہر گز توبہ نہ کرتا۔ اے عزیزی جو چیز کہ سماع میں حاصل ہوتی ہے سو سال کی عبادت سے بھی حاصل نہیں ہوتی۔
یہ بھ ی روایت آئی ہے کہ حضرت اقدس چار فاقوں کے بعد تین لقموں سے زیادہ تناول نہیں فرماتے تھے۔ آپ پیوند جامہ زیب تن فرماتے تھے۔ اور مجلس سماع میں فقراء، علماء، صلحاء اور مشائخ کے سوا کسی کو اجازت نہیں دیتے تھے۔ اگر کوئی اہل دنیا مجلس شیرک ہوتا تو مجلس بے ذوق ہوجاتی تھی۔ یہ دیکھ کر آپ لوگوں کو مجسل سے نکال دیتے تھے اور صرف چند درویشوں کو شریک ہونے کی اجازت دیتے تھے۔ اگر اتفاق سے کوئی اہل دنیا مجلس سماع میں باقی رہ جاتا تو وہ مجذوب اور تارک دینا ہوجاتا تھا۔ مجلس میں تمام لوگوں پر عجیب کیفیت طاری رہتی تھی۔ اگر گناہ گار بھی شرک مجلس ہوتا تو صاحب نعمت ہوجاتا تھا۔ دوسروں کا کیا کہنا۔
کرامت
یہ بھی روایت ہے کہ ایک دفعہ آپ راستے میں جارہے تھے۔ آپ نے دیکھا کہ لوگ مسجد تعمیر کر رہے ہیں اورمسجد کی چھت پر شہتیر رکھ رہے ہیں حضرت خواجہ کھڑے ہوکر تماشا دیکھنے لگے۔ جب شہتیر اوپر لے گئے تو ایک گز کم نکلا۔ لوگوں نے جس قدر کوشش کی کام نہ بن سکا۔ یہ دیکھ کر آپ گھوڑے سے اُتر کر مسجد پر چڑھ گئے اور بسم اللہ پڑھ کر جونہی شہتیر کو پکڑا اور چھت پر رکھا شہتیر برابر ہوگیا وہ مسجد چشت اور ہر یوکے درمیان اب تک باقی ہے اور زیارت گاہ خلائق ہے۔
سو مرتبہ سورت فاتحہ پڑھنے سے قرآن حفظ
سیر الاقطاب میں لکھا ہے کہ حضرت اقدس کو شروع میں قرآن مجید یا نہ تھا۔ اس وجہ سے آپ اکثر پریشان رہتے تھے۔ ایک رات خواب میں اپنے شیخ کی زیارت ہوئی۔ انہوں نے دریافت فرمایا کہ اے ابو یوسف کس وجہ سے فکر میں ہو آپ نے عرض کیا کہ اس وجہ سے کہ مجھے قرآن حفظ نہیں ہے۔ آپ نے فرمایا کہ ایک سو مرتبہ سورت فاتحہ پڑھو قرآن یاد ہوجائے گا۔ بیدار ہونے کے بعد آپ نے حکم کی تعمیل کی تو فوراً ب پورا قرآن یاد ہوگیا۔ چنانچہ آپ ہر شب وروز پانچ ختم قرآن مجید کیا کرتے تھے۔
اس کتاب میں یہ بھی مرقوم ہے کہ ایک رات آپ اپنے نفس کو مخاطب کر کے فرمارہے تھے کہ اے نفس اگر تو
❤1
نے آج رات میری موافقت کی تو دو رکعت میں ایک ختم قرآن کرونگا۔ اس رات نفس نے موافقت نہ کی۔ اور آپ سے دو رکعت نماز فوت ہوگئی۔ یہ کالی اس وجہ سے تھی کہ اس روز آپ نے پیٹ بھر کھانا کھالیا تھا۔ اس کی سزا کے طور پر آپ نے بیس سال تک نفس کو پانی نہ دیا۔ غرضیکہ آپ کے کمالات وکرامات اس قدر ہیں کہ دائرہ تحریر سے باہر ہیں۔
وصال
جب آپ کے وصال کا وقت قریب آیا تو آپ نے اپے بڑے بیٹے حضرت خواجہ قطب الدین مودود چشتی قدس سرہٗ کو وصیت فرمائی اور اپنا قائم مقام مقرر فرمایا۔ آپ کا وصال تین ماہ رجب ۴۵۹ھ کو خلیفہ ابو جعفر عبداللہ لقب قائم بن قادر کے عہد حکومت میں ہوا جو سلطان طغرل بیک بن میکائل بن سلجوق کا بیٹا تھا صاحب سیر الاقطاب نے آپ کی تاریخ وصال یوں نکالی ہے ’’عارف کامل بود‘‘ رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ۔
اللّٰھمّ صلّ علیٰ محمد والہٖ واصحابہٖ اجمعین۔
ازرہگذرِ خاکِ سرکوئے شمابود
ہر نافہ کہ دردستِ نسیم سحر افتاد
(اقتباس الانوار)
علماء کے تاج، اولیا کے سردار، اذکیاء کے مقتدا، صوفیوں کے پیشوا، ملت و مذہب کے معاون و مدد گار طریقت کے دوسرے بازو، حقیقت کے کمال خواجہ ابو یوسف چشتی ہیں۔ آپ کی معجز نما کرامتیں عالم میں ظاہر اور حکیمانہ ہدایتیں واضح ہیں (خدا تعالیٰ آپ کے روضہ مقدس کو منور اور قبر شریف کو ٹھنڈا رکھے) اس بزرگ نے خرقہ ارادت خواجہ محمد چشتی قدس اللہ سرہ العزیز سے زیب تن کیا تھا منقول ہے کہ ایک دن خواجہ ابو یوسف چشتی رستہ میں چلے جاتے تھے اثناء میں چند لوگ نظر پڑے جو ایک مسجد کی تعمیر میں مصروف تھے لیکن جو کڑیاں مسجد کی چھت پاٹنے کے لیے اوپر لے جاتے تھے وہ موازنہ عمارت سے چھوٹی نکلتی ہیں لوگ حیرت میں تھے کہ اب کیا کرنا چاہیے اسی حیرت اور پریشانی کے وقت خواجہ وہاں پہنچ گئے اور ان کی پریشانی کی وجہ دریافت کی جب یہ واقعہ معلوم ہوا تو آپ فوراً گھوڑے سے اتر آئے اور مسجد کی دیوار پر تشریف لے جا کر کڑی کا سرا اپنے مبارک ہاتھ سے پکڑ اور بسم اللہ الرحمٰن الرحیم کہہ کر دیوار پر رکھا اب جو اندازہ کیا جاتا ہے تو کڑی اس طرف سے پوری گز بہر مسجد کی عمارت سے بڑھ گئی جس طرف سے خواجہ نے ہاتھ لگایا تھا چنانچہ اس وقت تک وہ کڑی گز بہر مسجد کی عمارت سے باہر نکلی ہوئی ہے۔ کاتب حروف نے اپنے والد بزرگوار سید مبارک محمد کرمانی رحمۃ اللہ علیہ سے سنا ہے آپ فرماتے تھے کہ اس مسجد میں خود اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے جو اس وقت علی حالہ موجود ہے۔ منقول ہے کہ خواجہ ابو یوسف چشتی قدس سرہ کو قرآن مجید یاد نہیں ہوتا تھا اور اس وجہ سے اکثر اوقات نہایت متردد و متفکر رہتے تھے یہاں تک کہ ایک رات آپ اسی تردد میں مبتلا تھے کہ نہایت بے چینی کے ساتھ نیند آگئی۔ خواب میں دیکھتے ہیں کہ آپ کے پیر خواجہ محمد چشتی قدس اللہ سرہ العزیز کھڑے فر ما رہے ہیں کہ ابو یوسف تمہارا کیا حال ہے مجھے تم بہت متردد معلوم ہوتے ہو۔ خواجہ ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ نے کہا بے شک مجھے سخت تردد ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ مجھے کلام اللہ یاد نہیں ہوتا ہے فرمایا تم رنج نہ کرو سو مرتبہ سورہ فاتحہ پڑھ لو اس کی برکت سے تمہیں کلام اللہ یاد ہوجائے گا۔ خواجہ ابو یوسف جب بیدار ہوئے تو پیر کے ارشاد کے مطابق سو دفعہ سورہ فاتحہ پڑھی خدا کے فضل و کرم اور سورہ فاتحہ کی برکت سے آپ کو تمام کلام اللہ از بر ہوگیا چنانچہ اس کے بعد آپ ہر روز قرآن مجید کے پانچ ختم کرنے لگے۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-nasiruddin-abu-yousuf-chishti-sarmadi
وصال
جب آپ کے وصال کا وقت قریب آیا تو آپ نے اپے بڑے بیٹے حضرت خواجہ قطب الدین مودود چشتی قدس سرہٗ کو وصیت فرمائی اور اپنا قائم مقام مقرر فرمایا۔ آپ کا وصال تین ماہ رجب ۴۵۹ھ کو خلیفہ ابو جعفر عبداللہ لقب قائم بن قادر کے عہد حکومت میں ہوا جو سلطان طغرل بیک بن میکائل بن سلجوق کا بیٹا تھا صاحب سیر الاقطاب نے آپ کی تاریخ وصال یوں نکالی ہے ’’عارف کامل بود‘‘ رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ۔
اللّٰھمّ صلّ علیٰ محمد والہٖ واصحابہٖ اجمعین۔
ازرہگذرِ خاکِ سرکوئے شمابود
ہر نافہ کہ دردستِ نسیم سحر افتاد
(اقتباس الانوار)
علماء کے تاج، اولیا کے سردار، اذکیاء کے مقتدا، صوفیوں کے پیشوا، ملت و مذہب کے معاون و مدد گار طریقت کے دوسرے بازو، حقیقت کے کمال خواجہ ابو یوسف چشتی ہیں۔ آپ کی معجز نما کرامتیں عالم میں ظاہر اور حکیمانہ ہدایتیں واضح ہیں (خدا تعالیٰ آپ کے روضہ مقدس کو منور اور قبر شریف کو ٹھنڈا رکھے) اس بزرگ نے خرقہ ارادت خواجہ محمد چشتی قدس اللہ سرہ العزیز سے زیب تن کیا تھا منقول ہے کہ ایک دن خواجہ ابو یوسف چشتی رستہ میں چلے جاتے تھے اثناء میں چند لوگ نظر پڑے جو ایک مسجد کی تعمیر میں مصروف تھے لیکن جو کڑیاں مسجد کی چھت پاٹنے کے لیے اوپر لے جاتے تھے وہ موازنہ عمارت سے چھوٹی نکلتی ہیں لوگ حیرت میں تھے کہ اب کیا کرنا چاہیے اسی حیرت اور پریشانی کے وقت خواجہ وہاں پہنچ گئے اور ان کی پریشانی کی وجہ دریافت کی جب یہ واقعہ معلوم ہوا تو آپ فوراً گھوڑے سے اتر آئے اور مسجد کی دیوار پر تشریف لے جا کر کڑی کا سرا اپنے مبارک ہاتھ سے پکڑ اور بسم اللہ الرحمٰن الرحیم کہہ کر دیوار پر رکھا اب جو اندازہ کیا جاتا ہے تو کڑی اس طرف سے پوری گز بہر مسجد کی عمارت سے بڑھ گئی جس طرف سے خواجہ نے ہاتھ لگایا تھا چنانچہ اس وقت تک وہ کڑی گز بہر مسجد کی عمارت سے باہر نکلی ہوئی ہے۔ کاتب حروف نے اپنے والد بزرگوار سید مبارک محمد کرمانی رحمۃ اللہ علیہ سے سنا ہے آپ فرماتے تھے کہ اس مسجد میں خود اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے جو اس وقت علی حالہ موجود ہے۔ منقول ہے کہ خواجہ ابو یوسف چشتی قدس سرہ کو قرآن مجید یاد نہیں ہوتا تھا اور اس وجہ سے اکثر اوقات نہایت متردد و متفکر رہتے تھے یہاں تک کہ ایک رات آپ اسی تردد میں مبتلا تھے کہ نہایت بے چینی کے ساتھ نیند آگئی۔ خواب میں دیکھتے ہیں کہ آپ کے پیر خواجہ محمد چشتی قدس اللہ سرہ العزیز کھڑے فر ما رہے ہیں کہ ابو یوسف تمہارا کیا حال ہے مجھے تم بہت متردد معلوم ہوتے ہو۔ خواجہ ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ نے کہا بے شک مجھے سخت تردد ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ مجھے کلام اللہ یاد نہیں ہوتا ہے فرمایا تم رنج نہ کرو سو مرتبہ سورہ فاتحہ پڑھ لو اس کی برکت سے تمہیں کلام اللہ یاد ہوجائے گا۔ خواجہ ابو یوسف جب بیدار ہوئے تو پیر کے ارشاد کے مطابق سو دفعہ سورہ فاتحہ پڑھی خدا کے فضل و کرم اور سورہ فاتحہ کی برکت سے آپ کو تمام کلام اللہ از بر ہوگیا چنانچہ اس کے بعد آپ ہر روز قرآن مجید کے پانچ ختم کرنے لگے۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-nasiruddin-abu-yousuf-chishti-sarmadi
❤1
حضرت خواجہ یوسف بن محمد بن سمعان علیہ الرحمہ
آپ محمد بن ابی احمد کے ہمشیرہ زاد اور ان کے مرید و ترتیب یافتہ ہیں۔ خواجہ محمد ۶۵ سال تک عیالدار نہیں ہوئے۔ایک ان کی ہمشیرہ تھی جن کی وہ خدمت کیا کرتے تھے۔ان کا کھا نا پہننا ان کے ہاتھ کے کاتے ہوئے سے ہوتا تھا ۔ آپ کا سن چالیس سال تک پہنچا تھا ۔ بھائی کی خدمت اور خدا کی بندگی کی وجہ سے نکاح کی خواہش نہ رکھی تھی ۔
آپ رات خواجہ محمد ان کے پدر بزرگوار نے خواجہ ابو احمد کو خواب میں دیکھا کہ یوں کہتے ہیں۔تمہاری ولایت میں فلاں شخص ہے۔محمد بن سمعان اس کا نام ہے۔جس نے علم تحصیل کیا ہے اور زمانہ کی اصلاح کردی ہے۔ تم اپنی ہمشیرہ کا نکاح کردو۔خواجہ نے ان کو طلب کیا اور اپنی ہمشیرہ کا نکاح ان سے کردیا۔پھر وہ بھی چشت میں رہ گئے تھے ۔ خواجہ یوسف انہیں کے فرزند ہیں ۔
خواجہ محمد ۶۵ سال کے بعد عیالدار ہوئے تھے لیکن کوئی لڑکا بزرگ نہ ہوا تھا۔ خواجہ یوسف کو بمنزلہ فرزند کو پرورش کرتے تھے۔علم اور راہ خدا کے سلوک کی طرف اشارہ کرتے تھے۔ ان کے وفات کے بعد وہی ان کے قائم مقام ہوئے۔خواجہ یوسف کو پچاس سال کے بعد گوشہ نشینی اور قطع تعلق ہوا۔
انہوں نے چاہا کہ خواجہ حاجیمکئی کے مزار کے نزدیک کہ جو بڑے بزرگ گزرے ہیں اور شیخ ابو اسحٰق ان کی زیارت کیا کرتے تھے۔ایک چلہ زمین میں کریں ہاتف غیبی کے اشارہ سے اس موضع کو کہ اب ان کا چلہ خانہ ہے اختیار کیا۔جب بیل کلہاڑا لائے تو زمین بہت سخت تھی۔چناچہ کوئی اس کو توڑنہ سکتا تھا۔خواجہ نے کلہاڑا ہاتھ میں لیا اور اپنے دست مبارک سے دس بجے سے لے کر نماز ظہر تک اس کو کھود کر پورا کردیا۔بارہ سال تک وہاں قیام کیا اس قدر و حشت و حیرت و شیفتگی ان پر غالب ہوئی کہ کبھی ایسا ہوتا جب خادم وضو کا پانی ان کے ہاتھ پر ڈالتے تو وضو کی حالت میں اپنے آپ سے غائب ہو جاتے۔
ایک گھٹی کم و بیش اس وقت غیبت کی حالت میں رہتے پھر موجود ہوجاتے اور وضو کو پوراکرتے۔اس وقت میں کہ شیخ الاسلامابو اسمعیل عبداللہ انصاری قدس اللہ تعالی سرہ چشت کہ مزار پر گئےتھے تو ان سے ملاقات کی تھی۔بعد واپسی کے ہرات میں مجالس اور محفلوں میں ان کی تعریف کیا کرتے ۔
وہ رحمۃ اللہ علیہ ۴۵۹ھ میں فوت ہوئےاور ان کی عمر ۸۴ سال تھی۔انتقال کے وقت اپنے چھوٹے صاجزادہ قطب الدین مودود چشتی کو تحصیل علوم کی وصیت فرمائی اور اپنا قائم مقام کیا ۔
( نفحاتُ الاُنس )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-yousuf-bin-muhammad-samaani
آپ محمد بن ابی احمد کے ہمشیرہ زاد اور ان کے مرید و ترتیب یافتہ ہیں۔ خواجہ محمد ۶۵ سال تک عیالدار نہیں ہوئے۔ایک ان کی ہمشیرہ تھی جن کی وہ خدمت کیا کرتے تھے۔ان کا کھا نا پہننا ان کے ہاتھ کے کاتے ہوئے سے ہوتا تھا ۔ آپ کا سن چالیس سال تک پہنچا تھا ۔ بھائی کی خدمت اور خدا کی بندگی کی وجہ سے نکاح کی خواہش نہ رکھی تھی ۔
آپ رات خواجہ محمد ان کے پدر بزرگوار نے خواجہ ابو احمد کو خواب میں دیکھا کہ یوں کہتے ہیں۔تمہاری ولایت میں فلاں شخص ہے۔محمد بن سمعان اس کا نام ہے۔جس نے علم تحصیل کیا ہے اور زمانہ کی اصلاح کردی ہے۔ تم اپنی ہمشیرہ کا نکاح کردو۔خواجہ نے ان کو طلب کیا اور اپنی ہمشیرہ کا نکاح ان سے کردیا۔پھر وہ بھی چشت میں رہ گئے تھے ۔ خواجہ یوسف انہیں کے فرزند ہیں ۔
خواجہ محمد ۶۵ سال کے بعد عیالدار ہوئے تھے لیکن کوئی لڑکا بزرگ نہ ہوا تھا۔ خواجہ یوسف کو بمنزلہ فرزند کو پرورش کرتے تھے۔علم اور راہ خدا کے سلوک کی طرف اشارہ کرتے تھے۔ ان کے وفات کے بعد وہی ان کے قائم مقام ہوئے۔خواجہ یوسف کو پچاس سال کے بعد گوشہ نشینی اور قطع تعلق ہوا۔
انہوں نے چاہا کہ خواجہ حاجیمکئی کے مزار کے نزدیک کہ جو بڑے بزرگ گزرے ہیں اور شیخ ابو اسحٰق ان کی زیارت کیا کرتے تھے۔ایک چلہ زمین میں کریں ہاتف غیبی کے اشارہ سے اس موضع کو کہ اب ان کا چلہ خانہ ہے اختیار کیا۔جب بیل کلہاڑا لائے تو زمین بہت سخت تھی۔چناچہ کوئی اس کو توڑنہ سکتا تھا۔خواجہ نے کلہاڑا ہاتھ میں لیا اور اپنے دست مبارک سے دس بجے سے لے کر نماز ظہر تک اس کو کھود کر پورا کردیا۔بارہ سال تک وہاں قیام کیا اس قدر و حشت و حیرت و شیفتگی ان پر غالب ہوئی کہ کبھی ایسا ہوتا جب خادم وضو کا پانی ان کے ہاتھ پر ڈالتے تو وضو کی حالت میں اپنے آپ سے غائب ہو جاتے۔
ایک گھٹی کم و بیش اس وقت غیبت کی حالت میں رہتے پھر موجود ہوجاتے اور وضو کو پوراکرتے۔اس وقت میں کہ شیخ الاسلامابو اسمعیل عبداللہ انصاری قدس اللہ تعالی سرہ چشت کہ مزار پر گئےتھے تو ان سے ملاقات کی تھی۔بعد واپسی کے ہرات میں مجالس اور محفلوں میں ان کی تعریف کیا کرتے ۔
وہ رحمۃ اللہ علیہ ۴۵۹ھ میں فوت ہوئےاور ان کی عمر ۸۴ سال تھی۔انتقال کے وقت اپنے چھوٹے صاجزادہ قطب الدین مودود چشتی کو تحصیل علوم کی وصیت فرمائی اور اپنا قائم مقام کیا ۔
( نفحاتُ الاُنس )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-yousuf-bin-muhammad-samaani
❤1
حضرت اخون پنجو بابا افغان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
سید عبدالوہاب المعروف آخوند پنجوبابا
نام و نسب:
آپ کا نام سید عبد الوہاب ہے ۔ اور والد کا نام سید غازی بابا ہے ۔ جن کے ہاں آپ 945ھ میں موضع الکائے علاقہ یوسف زئی پیدا ہوئے آپ آخوند پنجو بابا کے نام سے مشہور ہیں ۔ آپ کو کتب تاریخ و سیر میں شیخ پنجو سنبھلی لکھتے ہیں ۔ نیز آپ بھی اپنی نسبت سنبھل سے کرتے، آپ کے آباؤ اجداد وہاں سے ہی آئے تھے ، اسی لئے آئین اکبری میں شیخ ابو الفضل نے (جو کہ جلال الدین اکبر کا وزیر تھا) آپ کو شیخ پنجو سنبھلی لکھا ہے ۔
تحصیلِ علم:
آپ علم لدنی رکھتے تھے ۔ مگر پھر بھی ظاہر ی طور پر آپ نے علوم ظاہری سے فراغت حاصل کی۔ موضع چوہا گجر میں ان دنوں ایک بڑے عالم دین قاضی تھے ۔ ان کی خدمت میں پہنچ کر علوم متداولہ کو پڑھا ۔اس کے بعد ہندوستان تشریف لے گئے اور کافی عرصہ تک علماء سے پڑھتے رہے۔ ان ایام میں آپ زیادہ عرصہ روہیل کھنڈ میں مقیم رہے۔ تحصیل علم کے بعد واپس صوبہ سرحد لوٹے ۔
990ھ میں بعمر 45 سال اپنے چھوٹے بھائی کے ہمراہ موضع اکبر پورہ میں مستقل قیام اختیار کیا اور مسند تدریس پر جلوہ افروز ہوئے علامہ شمس العلما ء قاضی میر احمد شاہ رضوانی تحفۃ الاولیاء میں فرماتے ہیں کہ تقریباً علما و مشاہیر وقت نے آپ سے علوم ظاہری میں دستار فضلیت یعنی سند حاصل کی ۔ آپ نے کافی عرصہ تفسیر ، حدیث، فقہ ، اصول ، منطق اور اخلاق کا درس دیا اور انتہائی جان فشانی کے ساتھ تبلیغ و اشاعت شریعت مطہرہ میں منہمک رہے.
بیعت و خلافت:
جناب میر ابوالفتح صاحب اقنپاچی (جو کہ شیخ المشائخ جلال الدین تھانیسری کے خلیفہ تھے) پشاور شہر سے ہوتے ہوئے اکبر پورہ تشریف لائے اور آپ نے طریقہ چشتیہ میں ان کے ہاتھ پر بیعت کی ۔ اور خلافت سے نوازا ۔
سیرت و خصائص:
آپ کے رخ انور سے ہر وقت انوار الٰہی کی بارش رہتی اس لئے کوئی بھی جی بھر کر آپ کے چہرۂ ا نور کو نہ دیکھ سکتا ، اور جو بھی آپ کے رخ اقدس کو ’’ توجہ‘‘ اور ہمت سے دیکھ لیتا، تو عارف کامل ہو جاتا ۔ اگر کسی بھی مشرک کی نظر آپ کے نورانی چہر ہ پر پڑجاتی تو فوراً کلمہ توحید پڑھ لیتا ۔ یہی وجہ تھی کہ ہندو آپ کا نام سنتے ہی چھپ جاتے ۔
ایک بار ہشتنگر سے ہندوؤں کی ایک برات اکبر پورہ آئی ۔ اس برات سے تقریباً دس نوجوان آپ کی مسجد میں آکر آپ سے ملاقی ہوئے ۔ آپ کا چہرہ دیکھ کر بیہوش ہوگئے اور تڑپنے لگے ، جب ان کو ہوش آیا تو مسلمان ہو گئے ۔ اور آج تک اس شیخ کا گھر اکبر پورہ میں آباد ہے۔ گویا کہ آپ کی ذات والا صفات میں اتنی ثاثیر اور اتنا جذبہ تھا کہ جو بھی اس وقت آپ کے سامنے آتا وہ بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا تھا ۔
جب آپ کے علم ظاہری و فیوضات باطنی کا شہر ہ چاروں طرف پھیل گیا۔ تو معاصر علماء اور مشائخ نے آپ کی مخالفت کی اور آپ سے بحث و مناظرہ کی ٹھانی اور اکٹھے ہو کر فیصلہ کیا کہ آپ کی مسجد میں جا کر آپ سے مناظرہ کریں اور کسی قسم کی آپ کی تعظیم و تکریم نہ کریں ۔ جب وہ آپ کی مسجد میں پہنچے تو اس وقت آپ گھر میں تشریف رکھتے تھے۔ آپ کے فرزند ارجمند سید عثمان صاحب نے آپ کو ان کے آنے کی خبر دی ۔ آپ تشریف لائے ۔ ان علماء نے آپ کا رخ انور دیکھتے ہی فوراً قدم بوسی کی ۔ اور یک بارگی لاالہٰ کا نعرہ لگا کر بے ہوش ہوگئے، حتی کہ نماز ظہر کا وقت آگیا ، جب ظہر کے نوافل سے فارغ ہوئے تو میاں علی صاحب نے عرض کیا کہ حضور اگر ان کی یہی حالت رہی تو شریعت اور علم کی بہت بے قدری ہوگی اور بے حرمتی ۔ آپ نے ان پر توجہ کر کے ’’ الا اللہ‘‘ کا نعرہ لگایا تو وہ سب ہوش میں آگئے اور تائب ہو کر مرید ہوئے۔
استغناء کا عالم:
آپ میں اتنی سخاوت تھی کہ جو بھی آپ کے پاس حاجت مند آیا خالی نہیں لوٹا ۔ آپ کے لنگر سے امیر و غریب سب کوبرابر کھانا ملتا ، مفلوک الحال اور غربا کی امداد کرنا آپ کا خاص وصف تھا۔ استغناء کا یہ عالم تھا کہ امیر وحکام سے تحفے قبول نہ فرماتے ۔ بادشاہ مغلیہ کی طرف سے کئی بار لنگر کے مصارف کے لئے پیش کش کی گئی ۔ مگر آپ نے قبول کرنے سے انکار کر دیا ۔
وصال:
آپ کی وفات شاہ جہاں بادشاہ کے عہد میں بعمر 95 سال 1040ھ میں ہوئی ۔اکبر پورہ سے تقریباً ایک میل سڑک شاہی کی طرف سپرد خاک کیا گیا ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-aankhon-panju-baba-afghan
سید عبدالوہاب المعروف آخوند پنجوبابا
نام و نسب:
آپ کا نام سید عبد الوہاب ہے ۔ اور والد کا نام سید غازی بابا ہے ۔ جن کے ہاں آپ 945ھ میں موضع الکائے علاقہ یوسف زئی پیدا ہوئے آپ آخوند پنجو بابا کے نام سے مشہور ہیں ۔ آپ کو کتب تاریخ و سیر میں شیخ پنجو سنبھلی لکھتے ہیں ۔ نیز آپ بھی اپنی نسبت سنبھل سے کرتے، آپ کے آباؤ اجداد وہاں سے ہی آئے تھے ، اسی لئے آئین اکبری میں شیخ ابو الفضل نے (جو کہ جلال الدین اکبر کا وزیر تھا) آپ کو شیخ پنجو سنبھلی لکھا ہے ۔
تحصیلِ علم:
آپ علم لدنی رکھتے تھے ۔ مگر پھر بھی ظاہر ی طور پر آپ نے علوم ظاہری سے فراغت حاصل کی۔ موضع چوہا گجر میں ان دنوں ایک بڑے عالم دین قاضی تھے ۔ ان کی خدمت میں پہنچ کر علوم متداولہ کو پڑھا ۔اس کے بعد ہندوستان تشریف لے گئے اور کافی عرصہ تک علماء سے پڑھتے رہے۔ ان ایام میں آپ زیادہ عرصہ روہیل کھنڈ میں مقیم رہے۔ تحصیل علم کے بعد واپس صوبہ سرحد لوٹے ۔
990ھ میں بعمر 45 سال اپنے چھوٹے بھائی کے ہمراہ موضع اکبر پورہ میں مستقل قیام اختیار کیا اور مسند تدریس پر جلوہ افروز ہوئے علامہ شمس العلما ء قاضی میر احمد شاہ رضوانی تحفۃ الاولیاء میں فرماتے ہیں کہ تقریباً علما و مشاہیر وقت نے آپ سے علوم ظاہری میں دستار فضلیت یعنی سند حاصل کی ۔ آپ نے کافی عرصہ تفسیر ، حدیث، فقہ ، اصول ، منطق اور اخلاق کا درس دیا اور انتہائی جان فشانی کے ساتھ تبلیغ و اشاعت شریعت مطہرہ میں منہمک رہے.
بیعت و خلافت:
جناب میر ابوالفتح صاحب اقنپاچی (جو کہ شیخ المشائخ جلال الدین تھانیسری کے خلیفہ تھے) پشاور شہر سے ہوتے ہوئے اکبر پورہ تشریف لائے اور آپ نے طریقہ چشتیہ میں ان کے ہاتھ پر بیعت کی ۔ اور خلافت سے نوازا ۔
سیرت و خصائص:
آپ کے رخ انور سے ہر وقت انوار الٰہی کی بارش رہتی اس لئے کوئی بھی جی بھر کر آپ کے چہرۂ ا نور کو نہ دیکھ سکتا ، اور جو بھی آپ کے رخ اقدس کو ’’ توجہ‘‘ اور ہمت سے دیکھ لیتا، تو عارف کامل ہو جاتا ۔ اگر کسی بھی مشرک کی نظر آپ کے نورانی چہر ہ پر پڑجاتی تو فوراً کلمہ توحید پڑھ لیتا ۔ یہی وجہ تھی کہ ہندو آپ کا نام سنتے ہی چھپ جاتے ۔
ایک بار ہشتنگر سے ہندوؤں کی ایک برات اکبر پورہ آئی ۔ اس برات سے تقریباً دس نوجوان آپ کی مسجد میں آکر آپ سے ملاقی ہوئے ۔ آپ کا چہرہ دیکھ کر بیہوش ہوگئے اور تڑپنے لگے ، جب ان کو ہوش آیا تو مسلمان ہو گئے ۔ اور آج تک اس شیخ کا گھر اکبر پورہ میں آباد ہے۔ گویا کہ آپ کی ذات والا صفات میں اتنی ثاثیر اور اتنا جذبہ تھا کہ جو بھی اس وقت آپ کے سامنے آتا وہ بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا تھا ۔
جب آپ کے علم ظاہری و فیوضات باطنی کا شہر ہ چاروں طرف پھیل گیا۔ تو معاصر علماء اور مشائخ نے آپ کی مخالفت کی اور آپ سے بحث و مناظرہ کی ٹھانی اور اکٹھے ہو کر فیصلہ کیا کہ آپ کی مسجد میں جا کر آپ سے مناظرہ کریں اور کسی قسم کی آپ کی تعظیم و تکریم نہ کریں ۔ جب وہ آپ کی مسجد میں پہنچے تو اس وقت آپ گھر میں تشریف رکھتے تھے۔ آپ کے فرزند ارجمند سید عثمان صاحب نے آپ کو ان کے آنے کی خبر دی ۔ آپ تشریف لائے ۔ ان علماء نے آپ کا رخ انور دیکھتے ہی فوراً قدم بوسی کی ۔ اور یک بارگی لاالہٰ کا نعرہ لگا کر بے ہوش ہوگئے، حتی کہ نماز ظہر کا وقت آگیا ، جب ظہر کے نوافل سے فارغ ہوئے تو میاں علی صاحب نے عرض کیا کہ حضور اگر ان کی یہی حالت رہی تو شریعت اور علم کی بہت بے قدری ہوگی اور بے حرمتی ۔ آپ نے ان پر توجہ کر کے ’’ الا اللہ‘‘ کا نعرہ لگایا تو وہ سب ہوش میں آگئے اور تائب ہو کر مرید ہوئے۔
استغناء کا عالم:
آپ میں اتنی سخاوت تھی کہ جو بھی آپ کے پاس حاجت مند آیا خالی نہیں لوٹا ۔ آپ کے لنگر سے امیر و غریب سب کوبرابر کھانا ملتا ، مفلوک الحال اور غربا کی امداد کرنا آپ کا خاص وصف تھا۔ استغناء کا یہ عالم تھا کہ امیر وحکام سے تحفے قبول نہ فرماتے ۔ بادشاہ مغلیہ کی طرف سے کئی بار لنگر کے مصارف کے لئے پیش کش کی گئی ۔ مگر آپ نے قبول کرنے سے انکار کر دیا ۔
وصال:
آپ کی وفات شاہ جہاں بادشاہ کے عہد میں بعمر 95 سال 1040ھ میں ہوئی ۔اکبر پورہ سے تقریباً ایک میل سڑک شاہی کی طرف سپرد خاک کیا گیا ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-aankhon-panju-baba-afghan
❤1👍1