🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
02-07-1445 ᴴ | 14-01-2024 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
02-07-1445 ᴴ | 14-01-2024 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
02-07-1445 ᴴ | 14-01-2024 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
02-07-1445 ᴴ | 14-01-2024 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
फ़रमाने अअ़्ला ह़ज़रत علیہ‌الرحمہ
उ़ल्मा ए किराम का अदब अ़वाम पर बाप से ज़्यादह फ़र्ज़ है! [फ़तावा रज़विया, जि²⁵, स़²¹⁶]
فرمانِ اعلیٰ حضرت علیہ‌الرحمہ:
علمائے کرام کا ادب عوام پر باپ سے زیادہ فرض ہے ـ [فتاویٰ رضویہ، جِـ²⁵، صَـ²¹⁶]
Farmane A'ala Hazrat:
Ulamaa e Kiram Ka Adab Awaam Par Baap Se Ziyaada Farz Hai.
[Fatãwã Razaviyyah, J²⁵, P²¹⁶]
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت خواجہ ناصر الدین ابو یوسف چشتی سرمدی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
آپ سلسلہ چشتیہ کے بڑے مشائخ میں سے تھے۔ جمالِ طریقت اور کمال حقیقت کے مالک تھے۔ آپ کی کرامتیں اور کمالات ظاہر و باہر تھیں۔ آپ کر خرقۂ خلافت اپنے ماموں خواجہ ابومحمد چشتی سے ملا۔ والد کا اسم گرامی سید محمد سمعان تھا۔ خواجہ ابومحمد آپ کو اپنا بیٹا ہی جانتے تھے اور آپ نے آپ کی تربیت کی۔ آپ کی عمر چھتیس سال کی تھی کہ آپ کے ماموں کا انتقال ہوگیا اور آپ ان کی جگہ جلوہ فرما ہوئے، آپ کا نسبِ پاک حضرت امام حسین سے اس طرح جاملتا ہے۔ سید یوسف چشتی بن محمد سمعان بن سید ابراہیم بن سید محمد بن سید حسین بن سید عبداللہ علی اکبر بن امام حسن اصغری بن امام علی تقی بن امام التقی بن علی رضا بن موسیٰ کاظم بن جعفر صادق بن محمد باقر بن زین العابدین بن امیرالمومنین امام حسین رضی اللہ عنہ، خواجہ ابو محمد کی وفات کے بعد خواجہ ابویوسف ہرات میں تشریف لے آئے، راستے میں ایک گاؤں آیا جس کا نام کنک تھا وہاں ایک ایسا درویش رہتا تھا جو نہایت ہی متقی تھا اس کی ایک بیٹی تھی جو بڑی ہی نیک پارسا اور خوبصورت تھی، رات کے وقت اُس لڑکی نے خواب میں دیکھا کہ چودھویں کا چاند آسمان سے اُتر کر میرے پاس آگیا ہے اور وہ چاند مجھے کہنے لگا کہ تم میری بیوی ہو، میں نے تمہیں خدا سے چاہا ہے۔ صبح ہوئی تو لڑکی نے اپنے والد سے خواب بیان کی او رپوچھا کہ اس کی تعبیر کیا ہے اس کے والد حضرت خواجہ ابویوسف کی خدمت میں گئے تاکہ خواب کی تعبیر دریافت کریں ابھی انہوں نے کچھ نہ پوچھا تھا تو خواجہا بویوسف نے لڑکی کے خواب کا تمام احوال سنادیا اور درویش کو تسلی دی کہ چودھویں کا چاند میں ہی ہوں اور میں نے تمہاری لڑکی کو خدا سے مانگا ہے درویش اُٹھا اور اپنی لڑ کی کا نکاح حضرت خواجہ سے کردیا حضرت خواجہ اپنی بیوی کو لے کر اپنے گاؤں چشت آگئے، اُس پارسا بی بی کے بطن سے خواجہ مودود چشتی اور خواجہ تاج الدین ابوالفتح پیدا ہوئے۔

ایک دن گرمیوں کے موسم میں خواجہ ابویوسف اپنےد وستوں کے ساتھ گھر سے نکلے ایک ایسے جنگل میں پہنچے جہاں دور دور تک پانی نہ تھا، تمام دوستوں کو پیاس نے تنگ کیا آپ سے پانی کی التجاء کی حضرات خواجہ ابویوسف نے اپنا عصاء ایک پتھر پر مارا جس سے پانی کا چشمہ جاری ہوگیا۔ آپ نے سب سے پہلے خود پانی پیا، پھر تمام لوگ سیراب ہوئے، یہ چشمہ اب تک جاری ہے اُس کی خاصیت یہ ہے کہ سردیوں اُس اُس کا پانی گرم ہوتا ہے اور گرمیوں میں یخ ٹھنڈا۔ اگر کوئی بخار میں مبتلاء شخص وہ پانی پی لے تو اُسی وقت صحت یاب ہوجاتا ہے۔

خواجہ یوسف کے گھر میں ایک بہت بڑا پتھر تھا آپ اکثر اوقات اس پر نماز پڑھا کرتے تھے۔ ایک دن حضرت خواجہ نماز پڑھنے کے بعد اپنے گھر سے نکلے آپ نے دیکھا کہ وہ پتھر بھی آپ کے پیچھے چلا آ رہا ہے۔ گاؤں کے سارے لوگ پتھر کو چلتا دیکھ کر جمع ہوگئے اور یہ تماشا دیکھنے لگے، حضرت خواجہ نے لوگوں کو شور مچاتے اور تالیاں بجاتے دیکھا تو پتھر کو دیکھ کر فرمایا یہاں رک جاؤ، اس دن کے بعد کئی اولیاء اللہ نے دیکھا کہ حضرت خضر علیہ السلام اُس پتھر پر بیٹھے نظر آتے ہیں۔ اندھیری راتوں میں اُس پتھر سے نور کی شعاعیں نکلتی ہیں۔ جس سے تمام گاؤں روشن ہوجاتاہے۔

حضرت خواجہ یوسف رحمۃ اللہ علیہ سماع کے بڑے شوقین تھے۔ سماع کے وقت آپ کی پیشانی سے ایسا نور نکلتا جو آسمان کی بلندیوں کو چھوتا، خواجہ ابوبکر شبلی اکثر آپ کی مجلس سماع میں شامل ہوتے تھے۔ ایک شخص نے خواجہ سے پوچھا! اگر سماع اللہ کے رازوں سے ایک راز ہےتو حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ، اِسے سننے سے کیوں منع فرمایا کرے تھے، آپ نے فرمایا خواجہ جنید بغدادی کے دوست اور خلیفہ شبلی ہماری محفل میں آنے والے ہیں اُن سے پوچھ لینا ابوبکر شبلی نے کہا کہ اگر سماع سننا مشکل ہو تو اس سے توبہ کرلو جو شخص سماع سننا نہیں جانتا اُسے توبہ کرنا ضروری ہے اگر آج خواجہ جنید بغدادی ہماری مجلس میں ہوتے تو توبہ کرتے۔

ایک دن حضرت ِ خواجہ کہیں جا رہے تھے۔ آپ نے دیکھا کہ لوگ مسجد بنا رہے ہیں ایک لکڑی کا شہتیر مسجد کی چھت پر رکھنا چاہتے ہیں مگر وہ ایک گز چھوٹا ہے۔دیواروں پر پورا نہیں آتا۔ حضرت خواجہ نے دیکھا تو گھوڑے سے اُترے شہتیر کو اٹھا کر دیوار پر رکھا لوگوں نے دیکھا کہ وہ شہتیرا ایک گز بڑا ہے۔

حضرت خواجہ یوسف کو قرآن پاک کا پہلا حصّہ یاد تھا۔ وہ دل میں سوچتے کہ اگر مجھے سارا یاد ہوتا تو پورا ثواب ملتا۔ رات خواجہ ابومحمد خواب میں تشریف لائے، فرمایا ابویوسف سو بار سورۃ فاتحہ پڑھو، تمہیں قرآن یاد ہوجائے گا۔ آپ نے ایسا ہی کیا سارا قرآن یاد ہوگیا۔ آپ ہر روز پانچ بار قرآن شریف ختم کیا کرتے تھے۔

حضرت خواجہ پچاس سال کی عمر میں حضرت خواجہ ابواسحاق شامی رحمۃ اللہ علیہ کے ایک خلیفہ حضرت خواجہ حاجی کے مقبرہ کے پاس ایک ایسا حجرہ بنایا جس میں آپ اعتکاف بیٹھ سکیں۔ یہ اعتکاف کدہ ایک تہہ خانہ میں بنایا گیا۔ آپ تقریباً بارہ سال وہاں معتکف رہے۔
1