حضرت خواجہ محمد الدین سیالوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
ولادت:
حضرت خواجہ محمد الدین سیالوی ابن حضرت خواجہ شمس العارفین شمس الدین سیالوی (قدس سرہما) ۱۲۵۳ھ / ۱۸۳۷ء میں سیال شریف ضلع سرگودھا میں پیدا ہوئے ـ
آپ صورت و سیرت میں اپنے والد مکرم کا عکس جمیل تھے ۔حضرت خواجہ شمس العارفین سیالوی قدس سرہ کے وصال کے بعد تونسہ شریف حاضر ہوئے تو حضرت خواجہ اللہ بخش تونسوی قدس سرہ نے آپ کو خرقۂ خلافت سے نوازا، ایک عالم آپ کی نظر کیمیا اثر سے مستفیض ہوا [1] مولانا محمد ذکر بگوی ثم لاہور رحمہ اللہ تعالیٰ آپ کے مرید اور مجاز تھے ۔
حضرت خواجہ محمد الدین سیالوی اخلاق عالیہاور اصاف حمیدہ کے مالک تھے لنگر میں بری فراخ ولی سے خرچ کرتے ،متعلقین کی خبر گیری میں کوئی وقیقہ فروگزاشت نہ کرتے،احباب کے غم اور خوشی میں بہ نفس نفیس شریک ہوتے،ایک شخص نے یہ باتیں آپ کی شان کے خلاف سمجھیں اور حضرت خواجہ اللہ بخش تونسوی قدس سرہ کی خدمت میں خفیہ عریضہ ارسال کر کے درخواست کی کہ آپ انہیں ان امور سے منع فرمائیں،حضرت خواجہ تونسوی جواب دیا:۔
’’اللہ تعالیٰ تجھے ہدایت دے یہ کام تو اسلام اور سید الانام کی متابعت ہے،ایسے کاموں میں کسر شان نہیں بلکہ نہ کرنے میں نقصان ہے۔ادب تجھے لازم ہے کہ اگر توان کے والد کامرید ہے تو تجدید بیعت کر اور یہ خیال دل سے نکال دے[2] ‘‘
حضرت پیر سید مہر علی شاہ گولڑوی قدس سرہ آپ سے بری عقیدت و محبت رکھتے تھے،آپ ہی کے ارشاد پر حضرت اعلیٰ گولڑوی تونسہ شریف گئے تھے۔آپ ہی کے ایماء پر انہوں نے ابتداء پاکپتن شریف کا سفر شروع کیا تھا،آپ ہی کے کہنے پر پیر صاحب نے حضرت دیوان غیاث الدین اجمیری کی تائد و معاونت کے لئے مسئلۂ سماع پر سرحدی علماء سے پشاور میں مناظرہ کیا تھا،حضرت اعلیٰ گولڑوی کے اس شعر ؎
آکھیں خواجہ شمس دیں دے لعل نوں
گوڑھے نیناں والرے لجپال نوں
اور حضرت خواجہ محمد الدین سیالوی کیا صلاح دادہ اس شعر ؎
پیت کا وعدہ کر کے پیانے، پیت نبھانا چھوڑ دیا
مہرؔ نے اکھیاں پھر لئیں، دم دم کا آنا چھوڑ دیا
کو دیکھنے سے دونوں حضرات باہمی تعلق کا اندازہ ہوتاہے۔
حضرت خواجہ محمد الدین سیالوی قدس رہ کی مساعئی جمیلہ سے خواجہ شمس العارفین سیالوی کے مزار شریف کا بلند و بالا گنبد، وسیع و عریض مجلس خانہ، تالاب، عالی شان بنگلہ اور کنواں تعمیر ہوا، آپ کو اپنے پیر خانہ سے اس قدر محبت تھی کہ ہر سال تین چار مرتبہ ضرور حاضری دیتے اور جب علالت کی وجہ سے نقابت بہت بڑھ گئی تو چار پائی پر سفر کیا اور تونسہ شریف حاضری دی [3]
آپ کثیر الکرامات بزرگ تھے،ایک دفعہ پاکپتن شریف سے واپسی پر خدام کو کھانا پکانے کا حکم دیا اور آنے سوالیہر قافلیکو کھانا کھلاتے رہے یہاں تک کہ تین سو افراد نیکھاناکھایا جبکی اس وقت بیس سیرآٹا،آٹھ آنے کا گی اور ایک روپے کی شکر پاس تھی،
آپ کو اللہ تعالیٰ نے چار فرزند عطا فرمائے جو سب کے سب عالم اور حافظ تھے،
۱۔ صاحبزادہ محمد امین (م۳۳۳۱ھ)
۲۔ صاحبزادہ محمد ضیاء الدین ۔
۳۔ صاحبزادہ محمد عبد اللہ (رحمہم اللہ تعالیٰ)
۴۔ صاحبزادہ محمد سعد اللہ مدظلہٗ
وصال:
۲ رجب المرجب (۱۳۲۷ھ؍۱۹۰۹ئ) کو حضرت خواجہ محمد الدین سیالوی قدس سرہ کا وصال ہوا اور والد گرامی حضرت خواجہ شمس العارفین سیالوی قدس سرہ کے پہلو میں آرام فرما ہوئے ۔ آپ کے وصال کے بعد حضرت خواجہ ضیاء الدین سیالوی مسند نشین ہوئے [4]
مولانا امیر بخش مؤلف انوار شمسیہ نیایک ہی شر میں عمر شریف اور سن ولادت و وصال کو ـذکر کیاہے ؎
میلاد ’’مظہر حق‘‘ عمر ش ’’جمال گشتہ‘‘
’’مظہر جمال حق‘‘ شد تاریخ انتقال [5]
[1] امیر بخش ،مولانا: انوار شمسیہ المعروف بہ خطبہ چشتیہ(۱۹۱۶ئ)، ص ۸۷۔۸۸۔
[2] سلطان احمد فاروقی،مولانا: ماہنامہ الحبیب،جمیعت نمبر ،اکتوبر۰ ۱۹۷ء ص،۳۔
[3] امیر بخش،مولانا: انوار شمعیہ،ص ۹۸۔
[4] سلطان احمد فاروقی،مولانا: تذکرہاولیائے چشت،(طبع ثانی،سن ندارد ) ص۱۔ ۲۴۰۔
[5] امیر بخش،مولانا: انوار شمسیہ،ص۱۰۳
( تذکرہ اکابرِ اہلسنت )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-muhammad-din-sialvi
ولادت:
حضرت خواجہ محمد الدین سیالوی ابن حضرت خواجہ شمس العارفین شمس الدین سیالوی (قدس سرہما) ۱۲۵۳ھ / ۱۸۳۷ء میں سیال شریف ضلع سرگودھا میں پیدا ہوئے ـ
آپ صورت و سیرت میں اپنے والد مکرم کا عکس جمیل تھے ۔حضرت خواجہ شمس العارفین سیالوی قدس سرہ کے وصال کے بعد تونسہ شریف حاضر ہوئے تو حضرت خواجہ اللہ بخش تونسوی قدس سرہ نے آپ کو خرقۂ خلافت سے نوازا، ایک عالم آپ کی نظر کیمیا اثر سے مستفیض ہوا [1] مولانا محمد ذکر بگوی ثم لاہور رحمہ اللہ تعالیٰ آپ کے مرید اور مجاز تھے ۔
حضرت خواجہ محمد الدین سیالوی اخلاق عالیہاور اصاف حمیدہ کے مالک تھے لنگر میں بری فراخ ولی سے خرچ کرتے ،متعلقین کی خبر گیری میں کوئی وقیقہ فروگزاشت نہ کرتے،احباب کے غم اور خوشی میں بہ نفس نفیس شریک ہوتے،ایک شخص نے یہ باتیں آپ کی شان کے خلاف سمجھیں اور حضرت خواجہ اللہ بخش تونسوی قدس سرہ کی خدمت میں خفیہ عریضہ ارسال کر کے درخواست کی کہ آپ انہیں ان امور سے منع فرمائیں،حضرت خواجہ تونسوی جواب دیا:۔
’’اللہ تعالیٰ تجھے ہدایت دے یہ کام تو اسلام اور سید الانام کی متابعت ہے،ایسے کاموں میں کسر شان نہیں بلکہ نہ کرنے میں نقصان ہے۔ادب تجھے لازم ہے کہ اگر توان کے والد کامرید ہے تو تجدید بیعت کر اور یہ خیال دل سے نکال دے[2] ‘‘
حضرت پیر سید مہر علی شاہ گولڑوی قدس سرہ آپ سے بری عقیدت و محبت رکھتے تھے،آپ ہی کے ارشاد پر حضرت اعلیٰ گولڑوی تونسہ شریف گئے تھے۔آپ ہی کے ایماء پر انہوں نے ابتداء پاکپتن شریف کا سفر شروع کیا تھا،آپ ہی کے کہنے پر پیر صاحب نے حضرت دیوان غیاث الدین اجمیری کی تائد و معاونت کے لئے مسئلۂ سماع پر سرحدی علماء سے پشاور میں مناظرہ کیا تھا،حضرت اعلیٰ گولڑوی کے اس شعر ؎
آکھیں خواجہ شمس دیں دے لعل نوں
گوڑھے نیناں والرے لجپال نوں
اور حضرت خواجہ محمد الدین سیالوی کیا صلاح دادہ اس شعر ؎
پیت کا وعدہ کر کے پیانے، پیت نبھانا چھوڑ دیا
مہرؔ نے اکھیاں پھر لئیں، دم دم کا آنا چھوڑ دیا
کو دیکھنے سے دونوں حضرات باہمی تعلق کا اندازہ ہوتاہے۔
حضرت خواجہ محمد الدین سیالوی قدس رہ کی مساعئی جمیلہ سے خواجہ شمس العارفین سیالوی کے مزار شریف کا بلند و بالا گنبد، وسیع و عریض مجلس خانہ، تالاب، عالی شان بنگلہ اور کنواں تعمیر ہوا، آپ کو اپنے پیر خانہ سے اس قدر محبت تھی کہ ہر سال تین چار مرتبہ ضرور حاضری دیتے اور جب علالت کی وجہ سے نقابت بہت بڑھ گئی تو چار پائی پر سفر کیا اور تونسہ شریف حاضری دی [3]
آپ کثیر الکرامات بزرگ تھے،ایک دفعہ پاکپتن شریف سے واپسی پر خدام کو کھانا پکانے کا حکم دیا اور آنے سوالیہر قافلیکو کھانا کھلاتے رہے یہاں تک کہ تین سو افراد نیکھاناکھایا جبکی اس وقت بیس سیرآٹا،آٹھ آنے کا گی اور ایک روپے کی شکر پاس تھی،
آپ کو اللہ تعالیٰ نے چار فرزند عطا فرمائے جو سب کے سب عالم اور حافظ تھے،
۱۔ صاحبزادہ محمد امین (م۳۳۳۱ھ)
۲۔ صاحبزادہ محمد ضیاء الدین ۔
۳۔ صاحبزادہ محمد عبد اللہ (رحمہم اللہ تعالیٰ)
۴۔ صاحبزادہ محمد سعد اللہ مدظلہٗ
وصال:
۲ رجب المرجب (۱۳۲۷ھ؍۱۹۰۹ئ) کو حضرت خواجہ محمد الدین سیالوی قدس سرہ کا وصال ہوا اور والد گرامی حضرت خواجہ شمس العارفین سیالوی قدس سرہ کے پہلو میں آرام فرما ہوئے ۔ آپ کے وصال کے بعد حضرت خواجہ ضیاء الدین سیالوی مسند نشین ہوئے [4]
مولانا امیر بخش مؤلف انوار شمسیہ نیایک ہی شر میں عمر شریف اور سن ولادت و وصال کو ـذکر کیاہے ؎
میلاد ’’مظہر حق‘‘ عمر ش ’’جمال گشتہ‘‘
’’مظہر جمال حق‘‘ شد تاریخ انتقال [5]
[1] امیر بخش ،مولانا: انوار شمسیہ المعروف بہ خطبہ چشتیہ(۱۹۱۶ئ)، ص ۸۷۔۸۸۔
[2] سلطان احمد فاروقی،مولانا: ماہنامہ الحبیب،جمیعت نمبر ،اکتوبر۰ ۱۹۷ء ص،۳۔
[3] امیر بخش،مولانا: انوار شمعیہ،ص ۹۸۔
[4] سلطان احمد فاروقی،مولانا: تذکرہاولیائے چشت،(طبع ثانی،سن ندارد ) ص۱۔ ۲۴۰۔
[5] امیر بخش،مولانا: انوار شمسیہ،ص۱۰۳
( تذکرہ اکابرِ اہلسنت )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-muhammad-din-sialvi
❤1
حضرت شیخ حبیب اللہ کافی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
شیخ صاحب موصوف کے حالات زندگی کافی تگ و دو اور تلاش و جستجو کے بعد بھی نہ مل سکے ۔
لاہور میں آمد:
خزینتھ الاصفیاء،میں مفتی غلام سرور صاحب لکھتے ہیں،حقانی فیض کامل حاصل کردہ خرقہ خلافت یافت بعد ازاں لاہور تشریف آ رودہ خرقہ خلا فت سلسلہ قادریہ عظیمہ از حضرت میاں میر رحمتہ اللہ علیہ بالا پیر لاہوری یافت،
آپ ساری عمر خلق خدا کی راہنمائی و ہدایت میں مصروف رہے اور استحکام واتباع کےلیئے بہت کام کیا ایک دفعہ کشمیر بھی تشریف لے گئے۔
وصال:
کشمیر میں محلہ قطب دین ۱۰۸۰ ھ مطابق ۱۶۶۹ء بعہد محی الدین اورنگزیب عالمگیر ہوئی اور وہی دفن ہوئے ۔
( لاہور کے اولیائے سہروردیہ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-habibullah-kafi-soharwardi
شیخ صاحب موصوف کے حالات زندگی کافی تگ و دو اور تلاش و جستجو کے بعد بھی نہ مل سکے ۔
لاہور میں آمد:
خزینتھ الاصفیاء،میں مفتی غلام سرور صاحب لکھتے ہیں،حقانی فیض کامل حاصل کردہ خرقہ خلافت یافت بعد ازاں لاہور تشریف آ رودہ خرقہ خلا فت سلسلہ قادریہ عظیمہ از حضرت میاں میر رحمتہ اللہ علیہ بالا پیر لاہوری یافت،
آپ ساری عمر خلق خدا کی راہنمائی و ہدایت میں مصروف رہے اور استحکام واتباع کےلیئے بہت کام کیا ایک دفعہ کشمیر بھی تشریف لے گئے۔
وصال:
کشمیر میں محلہ قطب دین ۱۰۸۰ ھ مطابق ۱۶۶۹ء بعہد محی الدین اورنگزیب عالمگیر ہوئی اور وہی دفن ہوئے ۔
( لاہور کے اولیائے سہروردیہ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-habibullah-kafi-soharwardi
❤1
غلام یاسین شاہ جمالی،امام الواصلین قدوۃ السالکین، خواجہ پیر، رحمۃ اللہ تعالی علیہ
حضرت علامہ خواجہ پیر غلام یٰسین شاہ جمالی بن حضرت فیض محمد شاہ جمالی بن خواجہ نور الدین شاہ جمالی رحمۃ اللہ علیہم
ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 4 صفر المظفر 1336ھ بمطابق 18 نومبر 1917ء بروز اتوار شاہجمال میں ہوئی ۔
تعلیم:
ایک سال کی عمر تھی کہ والدہ ماجدہ کا انتقال ہو گیا مکمل تربیت والد گرامی حضرت خواجہ فیض محمد شاہ جمالی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمائی اورمکمل دینی تعلیم بمع دورۂ حدیث اپنے والد ماجد حضرت خواجہ فیض محمد شاہ جمالی رحمۃ اللہ علیہ سے حاصل کی ۔
بیعت و خلافت:
اپنے والد ماجد حضرت خواجہ فیض محمد شاہ جمالی رحمۃ اللہ علیہ سے بیعت ہوئے ۔ نیز خلافت بھی آپ نے عطا فرمائی ۔
سیرت و خصائص:
والد گرامی حضرت خواجہ فیض محمد شاہ جمالی علیہ الرحمہ کے وصال کے بعد آپ سجا دہ نشین مقرر ہو ئے آپ انتہائی سادہ طبیعت کے مالک تھے آپ پر اکثر و بیشتر جذب کی کیفیت طاری رہتی اپنے والد ماجد کی طرح خطاب فرماتے اور عشق حبیب صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے جام پلاتے ۔آپ کو اپنے نانا حضرت خواجہ نصیر بخش چشتی رحمۃ اللہ علیہ (جو کہ حضرت خواجہ خدابخش چشتی رحمۃ اللہ علیہ کےشاگردو مرید وخلیفہ اور حضرت خواجہ غلام فرید علیہ الرحمہ کے استاذ تھے) اور دادا جان حضرت خواجہ نور الدین شاہ جمالی رحمۃ اللہ علیہ کا بھی فیض ملا ۔
آپ کی زبان لوح محفوظ کی سیاہی تھی جیسا آپ فرماتے ویسا ہو تا ۔آپ کی کرامات شمار سے باہر ہیں جس نے بھی آپ کی زیارت کی وہ ہمیشہ آپ کا دیوانہ ہو گیا ۔آپ کے بارے میں مشہور ہے اور ان چشم دید گو اہوں میں سے بعض اہل علم و عرفان آج بھی زندہ ہیں کہ جنہوں نے حضرت کو بید اری کی حالت میں مدینہ منورہ میں حضور علیہ السلام کی بارگاہ میں سلام پیش کرتے اور مکہ مکرمہ میں طواف ِ بیت اللہ شریف کرتے دیکھا ہے،جبکہ بظاہر اپنے آستانے پر بھی موجود ہوتے تھے ۔
احقر کے جد امجد شیخ الحدیث والتفسیر بیہقی وقت امام المناظرین علامہ مفتی منظور احمد فیضی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: خواجہ غلام یٰسین قلندر کی نگاہ میں دنیا کی کوئی قدروقیمت نہ تھی واللہ باللہ ثم تاللہ ایسا تارک الدنیا ہم نے نہ دیکھا ،جائز طریقے سے دنیا آتی تھی تو بھی ٹھوکر مارتے تھے ۔ سادگی کایہ عالم تھا کہ ذرہ برابر بھی تصنع اور بناوٹ ونمود نہیں بڑی سادہ اور پیاری طبیعت تھی ۔
(مرج البحرین فی ذکر غوثین ص37،38)
علم و فضل:
شیخ الحدیث والتفسیر بیہقی وقت امام المناظرین علامہ مفتی محمد منظور احمد فیضی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:حضرت خواجہ غلام یٰسین صاحب رحمہ اللہ تعالی چونکہ پیدائشی طور پر مستوار تھے ،بحر مشاہدہ میں غرق رہتے تھے اور علوم وفنون واسرار کے جامع تھے ظاہر طور پر نہ مطالعہ کتب نہ سبق کو دہراتے اگر چہ ظاہری طور پر آپ کے والد خواجہ فیض محمد شاہجمالی نے آپ کو تمام علوم ظاہرہ واسرار باطنہ پڑھائے تھے اور فارغ التحصیل علامہ بنادیا بس والد حضور کے آگے کتاب کھول کر پڑھتے رہتے نہ پہلے مطالعہ نہ پھر کتاب بینی ۔ ایک دن تمام علماء وفضلاء تلمیذان شاہجمالی نے طے کیا کہ استاذ شاہجمالی محقق عالم ہیں آسمان علوم کے نیر اعظم ہیں اور ان کے بیٹے غلام یٰسین کا یہ حال ہے نہ مطالعہ نہ سبق دہرانا ، آج ان سے مناظرہ کریں منقول والے منقول میں خواجہ غلام یٰسین کو پکڑیں اور معقول والے علم معقول میں مواخذے اور سوالات کی بوچھاڑ کردیں چنانچہ علماء وفضلاء ایک طرف سے اور خواجہ غلام یٰسین اکیلے ایک طرف تھے آپ نے سب کو لاجواب کردیا پھر پتہ چلا یہ سب کچھ پڑھے ہوئے اور تمام علوم کے حافظ ہیں ۔
ایک دن فقیر فیضی سے خواجہ غلام یٰسین نے فرمایا میں نے ملاں دوست محمد قریشی دیوبندی سے مناظرہ کیا اور اس کو لاجواب کر دیا ۔
(مرج البحرین فی ذکر غوثین ص 22،23)
اولاد:
اللہ تعالی نے آپ کو تین صاحبزادے اور آٹھ صاحبزادیوں سے نوازا ـ
فرزند اکبر:
پیر طریقت رہبر شریعت خواجہ خواجگان عمدۃ الواصلین حضرت علامہ صاحبزادہ خواجہ پیر محمد عبدالحی شاہجمالی رحمۃ اللہ علیہ سجادہ نشین دربار شاہجمالیہ سندیلہ شریف ڈیرہ غازی خان آپ کا وصال 17 شعبان المعظم 1433ھ میں ہوا اپنے جد امجد کے پہلو میں آخری آرام گاہ بنی ۔
فرزند اوسط:
پیر طریقت جگر گوشہ قلندر وقت مستوار حافظ خواجہ پیر محمد فیض رسول شاہجمالی دامت برکاتہم موجودہ سجادہ نشین دربار شاہجمالیہ سندیلہ شریف
فرزند اصغر:
قلندر ابن قلندر پیر طریقت نوردیدہ شاہجمالی کریم تارک الدنیا حضرت خواجہ پیر تاج رسول شاہجمالی دامت برکاتہم
وصال:
آپ کا وصال پرملال 2 رجب المرجب 1412ھ سندیلہ شریف ضلع ڈیرہ غازی خان میں ہوا اپنے والد گرامی کے پہلو میں آرام فرمارہے ہیں ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/ghaus-e-zaman-hazrat-khuwaja-ghulam-yaseen-shah-jamali
حضرت علامہ خواجہ پیر غلام یٰسین شاہ جمالی بن حضرت فیض محمد شاہ جمالی بن خواجہ نور الدین شاہ جمالی رحمۃ اللہ علیہم
ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 4 صفر المظفر 1336ھ بمطابق 18 نومبر 1917ء بروز اتوار شاہجمال میں ہوئی ۔
تعلیم:
ایک سال کی عمر تھی کہ والدہ ماجدہ کا انتقال ہو گیا مکمل تربیت والد گرامی حضرت خواجہ فیض محمد شاہ جمالی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمائی اورمکمل دینی تعلیم بمع دورۂ حدیث اپنے والد ماجد حضرت خواجہ فیض محمد شاہ جمالی رحمۃ اللہ علیہ سے حاصل کی ۔
بیعت و خلافت:
اپنے والد ماجد حضرت خواجہ فیض محمد شاہ جمالی رحمۃ اللہ علیہ سے بیعت ہوئے ۔ نیز خلافت بھی آپ نے عطا فرمائی ۔
سیرت و خصائص:
والد گرامی حضرت خواجہ فیض محمد شاہ جمالی علیہ الرحمہ کے وصال کے بعد آپ سجا دہ نشین مقرر ہو ئے آپ انتہائی سادہ طبیعت کے مالک تھے آپ پر اکثر و بیشتر جذب کی کیفیت طاری رہتی اپنے والد ماجد کی طرح خطاب فرماتے اور عشق حبیب صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے جام پلاتے ۔آپ کو اپنے نانا حضرت خواجہ نصیر بخش چشتی رحمۃ اللہ علیہ (جو کہ حضرت خواجہ خدابخش چشتی رحمۃ اللہ علیہ کےشاگردو مرید وخلیفہ اور حضرت خواجہ غلام فرید علیہ الرحمہ کے استاذ تھے) اور دادا جان حضرت خواجہ نور الدین شاہ جمالی رحمۃ اللہ علیہ کا بھی فیض ملا ۔
آپ کی زبان لوح محفوظ کی سیاہی تھی جیسا آپ فرماتے ویسا ہو تا ۔آپ کی کرامات شمار سے باہر ہیں جس نے بھی آپ کی زیارت کی وہ ہمیشہ آپ کا دیوانہ ہو گیا ۔آپ کے بارے میں مشہور ہے اور ان چشم دید گو اہوں میں سے بعض اہل علم و عرفان آج بھی زندہ ہیں کہ جنہوں نے حضرت کو بید اری کی حالت میں مدینہ منورہ میں حضور علیہ السلام کی بارگاہ میں سلام پیش کرتے اور مکہ مکرمہ میں طواف ِ بیت اللہ شریف کرتے دیکھا ہے،جبکہ بظاہر اپنے آستانے پر بھی موجود ہوتے تھے ۔
احقر کے جد امجد شیخ الحدیث والتفسیر بیہقی وقت امام المناظرین علامہ مفتی منظور احمد فیضی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: خواجہ غلام یٰسین قلندر کی نگاہ میں دنیا کی کوئی قدروقیمت نہ تھی واللہ باللہ ثم تاللہ ایسا تارک الدنیا ہم نے نہ دیکھا ،جائز طریقے سے دنیا آتی تھی تو بھی ٹھوکر مارتے تھے ۔ سادگی کایہ عالم تھا کہ ذرہ برابر بھی تصنع اور بناوٹ ونمود نہیں بڑی سادہ اور پیاری طبیعت تھی ۔
(مرج البحرین فی ذکر غوثین ص37،38)
علم و فضل:
شیخ الحدیث والتفسیر بیہقی وقت امام المناظرین علامہ مفتی محمد منظور احمد فیضی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:حضرت خواجہ غلام یٰسین صاحب رحمہ اللہ تعالی چونکہ پیدائشی طور پر مستوار تھے ،بحر مشاہدہ میں غرق رہتے تھے اور علوم وفنون واسرار کے جامع تھے ظاہر طور پر نہ مطالعہ کتب نہ سبق کو دہراتے اگر چہ ظاہری طور پر آپ کے والد خواجہ فیض محمد شاہجمالی نے آپ کو تمام علوم ظاہرہ واسرار باطنہ پڑھائے تھے اور فارغ التحصیل علامہ بنادیا بس والد حضور کے آگے کتاب کھول کر پڑھتے رہتے نہ پہلے مطالعہ نہ پھر کتاب بینی ۔ ایک دن تمام علماء وفضلاء تلمیذان شاہجمالی نے طے کیا کہ استاذ شاہجمالی محقق عالم ہیں آسمان علوم کے نیر اعظم ہیں اور ان کے بیٹے غلام یٰسین کا یہ حال ہے نہ مطالعہ نہ سبق دہرانا ، آج ان سے مناظرہ کریں منقول والے منقول میں خواجہ غلام یٰسین کو پکڑیں اور معقول والے علم معقول میں مواخذے اور سوالات کی بوچھاڑ کردیں چنانچہ علماء وفضلاء ایک طرف سے اور خواجہ غلام یٰسین اکیلے ایک طرف تھے آپ نے سب کو لاجواب کردیا پھر پتہ چلا یہ سب کچھ پڑھے ہوئے اور تمام علوم کے حافظ ہیں ۔
ایک دن فقیر فیضی سے خواجہ غلام یٰسین نے فرمایا میں نے ملاں دوست محمد قریشی دیوبندی سے مناظرہ کیا اور اس کو لاجواب کر دیا ۔
(مرج البحرین فی ذکر غوثین ص 22،23)
اولاد:
اللہ تعالی نے آپ کو تین صاحبزادے اور آٹھ صاحبزادیوں سے نوازا ـ
فرزند اکبر:
پیر طریقت رہبر شریعت خواجہ خواجگان عمدۃ الواصلین حضرت علامہ صاحبزادہ خواجہ پیر محمد عبدالحی شاہجمالی رحمۃ اللہ علیہ سجادہ نشین دربار شاہجمالیہ سندیلہ شریف ڈیرہ غازی خان آپ کا وصال 17 شعبان المعظم 1433ھ میں ہوا اپنے جد امجد کے پہلو میں آخری آرام گاہ بنی ۔
فرزند اوسط:
پیر طریقت جگر گوشہ قلندر وقت مستوار حافظ خواجہ پیر محمد فیض رسول شاہجمالی دامت برکاتہم موجودہ سجادہ نشین دربار شاہجمالیہ سندیلہ شریف
فرزند اصغر:
قلندر ابن قلندر پیر طریقت نوردیدہ شاہجمالی کریم تارک الدنیا حضرت خواجہ پیر تاج رسول شاہجمالی دامت برکاتہم
وصال:
آپ کا وصال پرملال 2 رجب المرجب 1412ھ سندیلہ شریف ضلع ڈیرہ غازی خان میں ہوا اپنے والد گرامی کے پہلو میں آرام فرمارہے ہیں ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/ghaus-e-zaman-hazrat-khuwaja-ghulam-yaseen-shah-jamali
scholars.pk
Ghaus E Zaman Hazrat Khuwaja Ghulam Yaseen Shah Jamali
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤2
رفیق ملت حضرت سید شاہ نجیب حیدر میاں نوری مد ظلہ العالی
سجادہ نشین، خانقاہ برکاتیہ، مارہرہ مطہرہ
تاریخ پیدائش:
حضرت سید نجیب حیدر میاں کی پیدائش 2 رجب المرجب 1396ھ بمطابق یکم جولائی 1976ء کو سنیچر کے دن ہوئی۔
تحصیلِ علم:
ابتدائی دینی تعلیم اپنے والد ماجد حضور احسن العلماء اور اپنی پھوپھیوں سے جبکہ بی۔اے اور ایم۔اے مارہرہ شریف سے کیا۔
بیعت و خلافت:
حضور رفیقِ ملت کے پیر و مرشد شہزادۂ اعلی حضرت حضور مفتی اعظم ہند قدس سرہٗ ہیں جبکہ اپنے والد ماجد حضور احسن العلماء سے خلافت حاصل ہے۔ وارث پنجتن حضرت سید یحییٰ حسن میاں نے بھی آپ کو خلافت عطا فرمائی۔
لقب:
حضور رفیق ملت کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے ۔
گدی:
حضرت نجیب میاں کو وارث پنجتن حضرت یحییٰ میاں نے اپنی حیات میں نوری گدی کا وارث بنا دیا تھا اس لیے آپ سجادۂ نوریہ پر متمکن ہیں۔ نوری گدی ملنے سے پہلے آپ حضور امین ملت کے نائب سجادہ نشین تھے۔
ولی عہد :
فرزند اکبر سید محمد حسن حیدر۔
خلفاء:
(۱)بڑے صاحب زادے سید حسن حیدر(۲)مفتی آفاق احمد صاحب مجددی ، قنوج (۳) مفتی محمد حنیف برکاتی، کانپور (۴)محمد اویس رضا صاحب قادری، پاکستان (۵ ) حاجی عبد الغفار پردیسی (۶) حاجی محمد عارف پردیسی (۷) مولانا مجیب اشرف صاحب (۸) مولانا صغیر احمد جوکھن پوری (۹) مفتی قلندر صاحب، کرناٹک وغیرہم۔
اہم خدمات:
❶ سلسلۂ برکاتیہ کا تبلیغی دوروں کے ذریعہ وسیع پیمانے پر اجراء ❷ ۲۰۰۲ء میںمارہرہ پبلک اسکول کا قیام ❸ ۲۰۱۲ میں مارہرہ شریف میں جامعہ احسن البرکات کا قیام ❹ ہند و بیرون ہند دعوتی و تبلیغی اسفار
بہ شکریہ:
البرکات اسلامک ریسرچ اینڈ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ، انوپ شہر روڈ،علی گڑھ
دعاؤں کا طالب:
محمد حسین مُشاہد رضوی
https://scholars.pk/ur/scholar/rafeeq-e-millat-syed-shah-najeeb-haider-miyan-barkati-qadri
سجادہ نشین، خانقاہ برکاتیہ، مارہرہ مطہرہ
تاریخ پیدائش:
حضرت سید نجیب حیدر میاں کی پیدائش 2 رجب المرجب 1396ھ بمطابق یکم جولائی 1976ء کو سنیچر کے دن ہوئی۔
تحصیلِ علم:
ابتدائی دینی تعلیم اپنے والد ماجد حضور احسن العلماء اور اپنی پھوپھیوں سے جبکہ بی۔اے اور ایم۔اے مارہرہ شریف سے کیا۔
بیعت و خلافت:
حضور رفیقِ ملت کے پیر و مرشد شہزادۂ اعلی حضرت حضور مفتی اعظم ہند قدس سرہٗ ہیں جبکہ اپنے والد ماجد حضور احسن العلماء سے خلافت حاصل ہے۔ وارث پنجتن حضرت سید یحییٰ حسن میاں نے بھی آپ کو خلافت عطا فرمائی۔
لقب:
حضور رفیق ملت کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے ۔
گدی:
حضرت نجیب میاں کو وارث پنجتن حضرت یحییٰ میاں نے اپنی حیات میں نوری گدی کا وارث بنا دیا تھا اس لیے آپ سجادۂ نوریہ پر متمکن ہیں۔ نوری گدی ملنے سے پہلے آپ حضور امین ملت کے نائب سجادہ نشین تھے۔
ولی عہد :
فرزند اکبر سید محمد حسن حیدر۔
خلفاء:
(۱)بڑے صاحب زادے سید حسن حیدر(۲)مفتی آفاق احمد صاحب مجددی ، قنوج (۳) مفتی محمد حنیف برکاتی، کانپور (۴)محمد اویس رضا صاحب قادری، پاکستان (۵ ) حاجی عبد الغفار پردیسی (۶) حاجی محمد عارف پردیسی (۷) مولانا مجیب اشرف صاحب (۸) مولانا صغیر احمد جوکھن پوری (۹) مفتی قلندر صاحب، کرناٹک وغیرہم۔
اہم خدمات:
❶ سلسلۂ برکاتیہ کا تبلیغی دوروں کے ذریعہ وسیع پیمانے پر اجراء ❷ ۲۰۰۲ء میںمارہرہ پبلک اسکول کا قیام ❸ ۲۰۱۲ میں مارہرہ شریف میں جامعہ احسن البرکات کا قیام ❹ ہند و بیرون ہند دعوتی و تبلیغی اسفار
بہ شکریہ:
البرکات اسلامک ریسرچ اینڈ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ، انوپ شہر روڈ،علی گڑھ
دعاؤں کا طالب:
محمد حسین مُشاہد رضوی
https://scholars.pk/ur/scholar/rafeeq-e-millat-syed-shah-najeeb-haider-miyan-barkati-qadri
scholars.pk
Rafeeq e Millat Syed Shah Najeeb Haider Miyan Barkati Qadri
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
مولانا احمد بخش صادق تونسوی
مولانا احمد بخش بن مولانا دین محمد بن مولانا عطاء اللہ بن مولانا حافظ محمد شفیع بن مولانا عبد الکریم بن مولانا عبد اللہ۔(علیہم الرحمہ) ـ
ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 1262ھ کو ڈیرہ غازی خاں میں ہوئی ۔ آپ کے مورث اعلیٰ بنوں سے نقل مکانی کرکے ڈیرہ غازی خاں تشریف لائے، آپ ’’بہلیم ‘‘ قوم سے تعلق رکھتے تھے۔ آپ نے ہوش سنبھالنے کےبعد اپنے نانا مولانا رحمت اللہ (مرید خاص حضرت خواجہ شاہ محمد سلیمان تونسوی) اور والد ماجدکے حضور زانوئے تلمذ تہ کیا، اور چودہ برس کی عمر میں تمام علوم نقلیہ و عقلیہ سے فراغت پائی ـ
آپ کو فقہ حنفی اور عربی ادب میں ید طولیٰ حاصل تھا ۔ چنانچہ ایک نعتیہ قصیدہ عربی زبان میں لکھ کر اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں کی خدمت میں ارسال کیا اور استدعا کی کہ اس قصیدہ کا پہلا شعر اپنے قلم سے تحریر فرما دیں، چنانچہ اعلیٰ حضرت نے آپ کی خواہش کی تکمیل فرماتے ہوئے، کئی اشعار میں بھی اصلاح بھی فرما دی ۔ یہ قصیدہ آپ کے کتب خانے میں بطورِ یادگار موجود ہے ۔
بیعت:
آپ کی بیعت حضرت خواجہ شاہ اللہ بخش تونسوی سے تھی، اور عرصے تک اپنے مرشد کے صاحبزادے حضرت خواجہ محمود کے ساتھ رہے ۔ آپ ان کے مشہور ’’مقدمہ تونسہ شریف‘‘ میں مختار خاص تھے ۔
1912ء کو جب خواجہ محمود صاحب نے ’’مدرسہ محمودیہ‘‘ کی بنیاد رکھی، تو آپ مدرسہ کے مہتممِ اول بنے،اور کئی سال تک دینِ متین کی خدمت سر انجام دیتے رہے ۔ بعد ازاں واپس گھر آکر ایک عظیم الشان مسجد کی بنیاد رکھی، اور اپنی تمام جائیداد فروخت کرکےمسجد کو پایۂ تکمیل تک پہنچایا۔
اجازت و خلافت:
آپ نے سند حدیث اور اجازت و خلافت کا شرف اعلیٰ حضرت امام اہل سنت امام احمد رضا خان محدث بریلوی رضی اللہ تعالی عنہ سے حاصل کیا، اور مسلک اہل سنت کی ترویج و اشاعت میں بھر پور سعی فرمائی ـ
آپ شعر و ادب سے خاص شغف رکھتے تھے۔’’صادقؔ‘‘ تخلص تھا۔’’ارضاء الجواد الکریم‘‘ اور ’’ہدیۃ الاعزۃ والاشراف بجواز تعمل بتلغراف‘‘ متعدد رسائل بھی تحریر فرمائے، جو شائع نہ ہو سکے ۔
وصال:
آپ کا وصال 2 رجب المرجب 1364ھ مطابق 13 جون 1945ء بروز کو ہوا، اور اپنی تعمیر کردہ مسجد کے صحن میں مدفون ہیں ۔ آپ کا مزار پر انوار’’جامع مسجد احمد بخش‘‘ بلاک 12، ڈیرہ غازی خاں میں زیارت گاہ ِ خاص و عام ہے ۔
ماخوذ از:
تذکرہ خلفائےاعلیٰ حضرت، ص:125، از مولانا محمد صادق قصوری ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/molana-ahmad-bakhsh-sadique-tunsvi
مولانا احمد بخش بن مولانا دین محمد بن مولانا عطاء اللہ بن مولانا حافظ محمد شفیع بن مولانا عبد الکریم بن مولانا عبد اللہ۔(علیہم الرحمہ) ـ
ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 1262ھ کو ڈیرہ غازی خاں میں ہوئی ۔ آپ کے مورث اعلیٰ بنوں سے نقل مکانی کرکے ڈیرہ غازی خاں تشریف لائے، آپ ’’بہلیم ‘‘ قوم سے تعلق رکھتے تھے۔ آپ نے ہوش سنبھالنے کےبعد اپنے نانا مولانا رحمت اللہ (مرید خاص حضرت خواجہ شاہ محمد سلیمان تونسوی) اور والد ماجدکے حضور زانوئے تلمذ تہ کیا، اور چودہ برس کی عمر میں تمام علوم نقلیہ و عقلیہ سے فراغت پائی ـ
آپ کو فقہ حنفی اور عربی ادب میں ید طولیٰ حاصل تھا ۔ چنانچہ ایک نعتیہ قصیدہ عربی زبان میں لکھ کر اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں کی خدمت میں ارسال کیا اور استدعا کی کہ اس قصیدہ کا پہلا شعر اپنے قلم سے تحریر فرما دیں، چنانچہ اعلیٰ حضرت نے آپ کی خواہش کی تکمیل فرماتے ہوئے، کئی اشعار میں بھی اصلاح بھی فرما دی ۔ یہ قصیدہ آپ کے کتب خانے میں بطورِ یادگار موجود ہے ۔
بیعت:
آپ کی بیعت حضرت خواجہ شاہ اللہ بخش تونسوی سے تھی، اور عرصے تک اپنے مرشد کے صاحبزادے حضرت خواجہ محمود کے ساتھ رہے ۔ آپ ان کے مشہور ’’مقدمہ تونسہ شریف‘‘ میں مختار خاص تھے ۔
1912ء کو جب خواجہ محمود صاحب نے ’’مدرسہ محمودیہ‘‘ کی بنیاد رکھی، تو آپ مدرسہ کے مہتممِ اول بنے،اور کئی سال تک دینِ متین کی خدمت سر انجام دیتے رہے ۔ بعد ازاں واپس گھر آکر ایک عظیم الشان مسجد کی بنیاد رکھی، اور اپنی تمام جائیداد فروخت کرکےمسجد کو پایۂ تکمیل تک پہنچایا۔
اجازت و خلافت:
آپ نے سند حدیث اور اجازت و خلافت کا شرف اعلیٰ حضرت امام اہل سنت امام احمد رضا خان محدث بریلوی رضی اللہ تعالی عنہ سے حاصل کیا، اور مسلک اہل سنت کی ترویج و اشاعت میں بھر پور سعی فرمائی ـ
آپ شعر و ادب سے خاص شغف رکھتے تھے۔’’صادقؔ‘‘ تخلص تھا۔’’ارضاء الجواد الکریم‘‘ اور ’’ہدیۃ الاعزۃ والاشراف بجواز تعمل بتلغراف‘‘ متعدد رسائل بھی تحریر فرمائے، جو شائع نہ ہو سکے ۔
وصال:
آپ کا وصال 2 رجب المرجب 1364ھ مطابق 13 جون 1945ء بروز کو ہوا، اور اپنی تعمیر کردہ مسجد کے صحن میں مدفون ہیں ۔ آپ کا مزار پر انوار’’جامع مسجد احمد بخش‘‘ بلاک 12، ڈیرہ غازی خاں میں زیارت گاہ ِ خاص و عام ہے ۔
ماخوذ از:
تذکرہ خلفائےاعلیٰ حضرت، ص:125، از مولانا محمد صادق قصوری ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/molana-ahmad-bakhsh-sadique-tunsvi
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
01-07-1445 ᴴ | 13-01-2024 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
02-07-1445 ᴴ | 14-01-2024 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤2