🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
01-07-1445 ᴴ | 13-01-2024 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
01-07-1445 ᴴ | 13-01-2024 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
حضرت پیر محمد حسن جان سرہندی مجددی علیہ الرحمہ
بقیۃ السلف حجۃ الخلف حضرت مولانا خواجہ محمد حسن جان فاروقی مجددی ابن حضرت خواجہ عبد الرحمن قدس سرہ(م ۱۳۱۵ھ؍۱۸۹۷ئ) ابن حضرت شیخ عبد القیوم سر ہندی قدس سرہ (۱۲۷۲ھ؍۱۸۵۵ئ) ۶؍شوال / ۶؍اپریل (۱۲۷۸ھ؍۱۸۶۲ئ) کو قندھار میں پیدا ہوئے[1]آپ کا سلسلۂ نس حضرت امام ربانی مجدد الف ثانی قدس سرہ تک پہنچتا ہے۔آپ کے والد ماجد حالات کی پراگندگی اور طوائف الملوکی کے سبب ۱۲۸۱ھ؍۱۸۶۵ء میں قندھار سے ارغستان چلے گئے۔جب امیر عبد الرحمن نے خراسان پر تسلط کر قتل و غارت کا بازار گرم کیا تو حضرت خواجہ عبد الرحمن قدس سرہ نے ۱۲۹۷ھ میں شریفین کی طرف ہجرت کرنے کے لئے رخت سفر باندھا،سندھ،کراچی اور بمبئی سے ہوتے ہوئے عرب شریف پہنچتے،۱۳۰۰ھ سے ۱۳۰۲ھ تک تین سال مکہ مکرمہ اور طارف میں قیام کیا،بعد ازاں مدینہ طیبہ دربار رسالت میں حاضر ہوئے اور ایک سال چار ماہ تک وہیں قیام پذیر رہے۔آپ کے مخلص دوستوں اور خاص طور پر مولانا رحمت اللہ مہاجر مکی قدس سرہ نے مشورہ دیا کہ آپ وطن مالوف کو واپس تشریف لے جائیں کیونکہ آپ کے وجود مسعود سے خلق خدا کو فائدہ پہنچے گا۔چنانچہ پانچ سال تک بلا وطیبہ میں رہ کر وطر کو تشریف لے جاتے ہوئے جب سندھ سے گزرے تو معتقدین نے بصد اصرار گزارش کیکہ خراسا ن جانے کی بجائے ہمارے پاس تشریف رکھیں،چنانچہ آپ ٹکہڑ (مضافات حیدر آباد) میں قیام پذیر ہو گئے اور پھر یہیں جان جاں آفرین کے سپرد کی اور کوہ گنجہ کے دامن میں مدفون ہوئے بعد ازاں اولاد امجاد نے ٹند و سائیں داد کو مسکن بنا لیا[2]
حضرت مولانا خواجہ محمد حسن جان قدس سرہ نے قرآن مجید پڑھنے کے بعد قندھا ر میں مولانا باز محمد سے فارسی کی کتابیں پڑھیں۔جب ۱۲۹۷ء میں والد ماجد کے ہمراہ سندھ تشریف لائے تو قصبہ ٹکٹر میں دوسال تک قیام کے دوران مولانا الحاج لعل محمد متعلوی سے کسب فیض کرتے رہے،بعد ازاں جب مکہ مکرمہ گئے تو مولانا رحمت اللہ مہاجرمکی قدس سرہ کے قائم کردہ ’’مدرسہ صولتیہ‘‘ میں تعلیم حاصل کرتے رہے اور حضرت بانی مدرسہ کی صحبت سے بھی فیضیاب ہوتے رہے۔اسی مدرسہ میں مولانا حضرت نور سے سراجی پڑھی،۱۳۰۱ھ میں درس حدیث مفتئی مکہ حضرت مولانا شیخ سید احمد وحلان رحمہ اللہ تعالیٰ سے لیا۔والد ماجد سے دیگر کتب کے علاوہ بخاری شریف سبقا پڑھی اور سند فراغت حاصل کی[3]
ابتداء ہی سے آپ کو حفظ قرآن مجید کا بہت شوق تھا۔مکہ مکرمہ میں تعلیم حاسل کرنے،گھر کے تمام کام کاج کرنے،ہر روز عمرہ ادا کرنے اور عبادت و ریاضت کی بے پناہ مصروفیات کے با وجود قرآن مجید حفظ کرنا شروع کیا اور احتیاطاً والد ماجد کو نہ بتایا کہ بے انداز مصروفیات کی بنا پرکہیں ممانعت نہ فرمادیں،والد ماجد کو اس وقت پتہ چلا جب آپ بائیس پارے حفظ کر چکے تھے،اس پر انہوں نے بڑی مسرت کا اظہار فرمایا اور ختم قرآن کے موقع پر وسیع دعوت کا اہتمام فرمایا[4]
حضرت مولانا محمد حسن رحمہ اللہ تعالیٰ علوم دینیہ کو بہت اہمیت دیتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ قرآن و حدیث میں جو فضائل علم وار د ہیں وہ صرف علوم دینیہ سے متعلق ہیں،مساجد اور مدارس دینیہ کی تعمیر و ترقی میں خود بھی حصہ لیتے تھے اور مریدین کو بھی بیش از بیش حصہ لینے کی تلقین کیا کرتے تھے[5] اتباع شریعت،سادگی اور اخلاق حمیدہ میں بے مثل تھے صبر و تسلیم کا یہ عالم تھا کہ ۱۳۵۴ھ میں آپ اہل وعیال سمیت کوئٹہ میں تشریف فرما تھے کہ ۲۷ صفر کو ہولناک زلزلے قیامت صغریٰ قائم کردی،پورا علاقہ تہ و بالا ہوگیا،لاتعداد افراد شہید ہوئے۔ حضرت مولانا کے اہل و عیال اور ہمراہیوں میں سے گیارہ افراد جام شہادت نوش کر گئے لیکن آپ نے حیرت انگیز ہمت و استقامت کا مظاہرہ کیا اور چند معاونین کے ہمراہ ایک ایک فرد کو ملبے کے نیچے سے نکالا اور کفن و دفن کا انتظام کیا[6] ۱۳۳۲ھ میں حرمین شریفین،کربال،نجف اشرف،شام اور بیت المقدس کی زیارات کی نیت سے تقریباً بیس افراد کے ہمراہ بغداد شریف حاضر ہوئے۔یہ آپ کا چوتھا سفر زیارت تھا۔اسی دوران جنگ عظیم چھڑ گئی اور آپ بہ ہزار مشقت حرمین شریفین پہنچے اور مختلف مقامات کی سیر کرتے ہوئے واپس تشریف لائے [7]
بقیۃ السلف حجۃ الخلف حضرت مولانا خواجہ محمد حسن جان فاروقی مجددی ابن حضرت خواجہ عبد الرحمن قدس سرہ(م ۱۳۱۵ھ؍۱۸۹۷ئ) ابن حضرت شیخ عبد القیوم سر ہندی قدس سرہ (۱۲۷۲ھ؍۱۸۵۵ئ) ۶؍شوال / ۶؍اپریل (۱۲۷۸ھ؍۱۸۶۲ئ) کو قندھار میں پیدا ہوئے[1]آپ کا سلسلۂ نس حضرت امام ربانی مجدد الف ثانی قدس سرہ تک پہنچتا ہے۔آپ کے والد ماجد حالات کی پراگندگی اور طوائف الملوکی کے سبب ۱۲۸۱ھ؍۱۸۶۵ء میں قندھار سے ارغستان چلے گئے۔جب امیر عبد الرحمن نے خراسان پر تسلط کر قتل و غارت کا بازار گرم کیا تو حضرت خواجہ عبد الرحمن قدس سرہ نے ۱۲۹۷ھ میں شریفین کی طرف ہجرت کرنے کے لئے رخت سفر باندھا،سندھ،کراچی اور بمبئی سے ہوتے ہوئے عرب شریف پہنچتے،۱۳۰۰ھ سے ۱۳۰۲ھ تک تین سال مکہ مکرمہ اور طارف میں قیام کیا،بعد ازاں مدینہ طیبہ دربار رسالت میں حاضر ہوئے اور ایک سال چار ماہ تک وہیں قیام پذیر رہے۔آپ کے مخلص دوستوں اور خاص طور پر مولانا رحمت اللہ مہاجر مکی قدس سرہ نے مشورہ دیا کہ آپ وطن مالوف کو واپس تشریف لے جائیں کیونکہ آپ کے وجود مسعود سے خلق خدا کو فائدہ پہنچے گا۔چنانچہ پانچ سال تک بلا وطیبہ میں رہ کر وطر کو تشریف لے جاتے ہوئے جب سندھ سے گزرے تو معتقدین نے بصد اصرار گزارش کیکہ خراسا ن جانے کی بجائے ہمارے پاس تشریف رکھیں،چنانچہ آپ ٹکہڑ (مضافات حیدر آباد) میں قیام پذیر ہو گئے اور پھر یہیں جان جاں آفرین کے سپرد کی اور کوہ گنجہ کے دامن میں مدفون ہوئے بعد ازاں اولاد امجاد نے ٹند و سائیں داد کو مسکن بنا لیا[2]
حضرت مولانا خواجہ محمد حسن جان قدس سرہ نے قرآن مجید پڑھنے کے بعد قندھا ر میں مولانا باز محمد سے فارسی کی کتابیں پڑھیں۔جب ۱۲۹۷ء میں والد ماجد کے ہمراہ سندھ تشریف لائے تو قصبہ ٹکٹر میں دوسال تک قیام کے دوران مولانا الحاج لعل محمد متعلوی سے کسب فیض کرتے رہے،بعد ازاں جب مکہ مکرمہ گئے تو مولانا رحمت اللہ مہاجرمکی قدس سرہ کے قائم کردہ ’’مدرسہ صولتیہ‘‘ میں تعلیم حاصل کرتے رہے اور حضرت بانی مدرسہ کی صحبت سے بھی فیضیاب ہوتے رہے۔اسی مدرسہ میں مولانا حضرت نور سے سراجی پڑھی،۱۳۰۱ھ میں درس حدیث مفتئی مکہ حضرت مولانا شیخ سید احمد وحلان رحمہ اللہ تعالیٰ سے لیا۔والد ماجد سے دیگر کتب کے علاوہ بخاری شریف سبقا پڑھی اور سند فراغت حاصل کی[3]
ابتداء ہی سے آپ کو حفظ قرآن مجید کا بہت شوق تھا۔مکہ مکرمہ میں تعلیم حاسل کرنے،گھر کے تمام کام کاج کرنے،ہر روز عمرہ ادا کرنے اور عبادت و ریاضت کی بے پناہ مصروفیات کے با وجود قرآن مجید حفظ کرنا شروع کیا اور احتیاطاً والد ماجد کو نہ بتایا کہ بے انداز مصروفیات کی بنا پرکہیں ممانعت نہ فرمادیں،والد ماجد کو اس وقت پتہ چلا جب آپ بائیس پارے حفظ کر چکے تھے،اس پر انہوں نے بڑی مسرت کا اظہار فرمایا اور ختم قرآن کے موقع پر وسیع دعوت کا اہتمام فرمایا[4]
حضرت مولانا محمد حسن رحمہ اللہ تعالیٰ علوم دینیہ کو بہت اہمیت دیتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ قرآن و حدیث میں جو فضائل علم وار د ہیں وہ صرف علوم دینیہ سے متعلق ہیں،مساجد اور مدارس دینیہ کی تعمیر و ترقی میں خود بھی حصہ لیتے تھے اور مریدین کو بھی بیش از بیش حصہ لینے کی تلقین کیا کرتے تھے[5] اتباع شریعت،سادگی اور اخلاق حمیدہ میں بے مثل تھے صبر و تسلیم کا یہ عالم تھا کہ ۱۳۵۴ھ میں آپ اہل وعیال سمیت کوئٹہ میں تشریف فرما تھے کہ ۲۷ صفر کو ہولناک زلزلے قیامت صغریٰ قائم کردی،پورا علاقہ تہ و بالا ہوگیا،لاتعداد افراد شہید ہوئے۔ حضرت مولانا کے اہل و عیال اور ہمراہیوں میں سے گیارہ افراد جام شہادت نوش کر گئے لیکن آپ نے حیرت انگیز ہمت و استقامت کا مظاہرہ کیا اور چند معاونین کے ہمراہ ایک ایک فرد کو ملبے کے نیچے سے نکالا اور کفن و دفن کا انتظام کیا[6] ۱۳۳۲ھ میں حرمین شریفین،کربال،نجف اشرف،شام اور بیت المقدس کی زیارات کی نیت سے تقریباً بیس افراد کے ہمراہ بغداد شریف حاضر ہوئے۔یہ آپ کا چوتھا سفر زیارت تھا۔اسی دوران جنگ عظیم چھڑ گئی اور آپ بہ ہزار مشقت حرمین شریفین پہنچے اور مختلف مقامات کی سیر کرتے ہوئے واپس تشریف لائے [7]
❤1
حضرت مولانا علم و فضل کے ساتھ ساتھ بے باک مجاہد اور مرد میدان بھی تھے چنانچہ جب ۱۲۹۶ھ میں انگریزوں نے افغانستان پر حملہ کیا تو آپ بھی والد ماجد کے ہمراہ شریک کاراز ہوئے۔آپ بیدار مغز اور صاحب بصیرت قومی راہنما تھے۔ ترکی کے سلطان عبد الحمید خان کو خلیفۃ المسلمین تصور کرتے تھے اور جب انگریز ستوں نے سلطان کو معزول کیا تو آپ برے رنجیدہ ہوئے،جنگ بلقان اور اطالیہ کے طرابلس پر حملے کے موقع پر معتقدین اور سندھ کے مسلمانوں سے خطیر رقم اکھٹی کر کے ہلال احمر کے ذریعہ مجاہدین کے لئے بھجوائی[8] تحریک خلافت میں گم کردہ راہ لیڈروں کی کجروی پر بہت افسوس کیا کرتے تھے۔ آپ نے کھل کر بعض مسائل میں شرعی نقطۂ نظر سے اختلاف کیا اور طعن و تشنیع کی پرواہ کئے بغیر اپنے موقف کو واضح طور پر پیش کیا۔آپ گاندھی ی قیادت کو سخت نا پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھتے تھے اور فرمایا کرتے تھے،ان لوگوں پر تعجب ہے کہ ایک طرف تو انگریزوں سے لاتعلقی کرتے ہیں اور دوسری طرف مشرکین ہنود سے اتحاد اور داد کے حامی ہیں جو انگریزوں سے بھی زیادہ دشمن اسلام ہیں۔اسی طرح جب لیڈروں نے ہندئوں کے فریب میں آکر سادہ لوح مسلمانوں کو انگریز کے مقبوضہ علاقوں سے ہجرت کر کے افغانستان چلے جان ے کا مشورہ دیا اور لوگ جوق در جوق ترک وطن کرنے لگے تو اس موقع پر بھی آپ نے قوم کی صحیح رہنمائی کی اور ترک وطن سے ممانعت کی[9]
اور فرمایا:۔
’’وہاں اتنی گنجائش کہاں ہے کہ سب لوگ سما سکیں،خواہ مخواہ خود بھی پیرشان ہوں گے اور مسلمانون کے بادشاہ کو بھی تکلیف دیں گے اس سے مسلمانون کے دشمنوں کو خوشی ہوگی۔‘‘
اسی دوران سندھ میں فتنۂ نجدیت نے سر اٹھایا،اس کی سر کوبی کے لئے بھی آپ نے گراں قدر خدمات انجام دیں [10] غرض اعتقادی،عملی،اخلاقی اور سیاسی امور مین قوم کی بر وقت راہنمائی کی اور ایک روشن دماغ،صائب الرأی قائد کے فرائض انجام دئے۔
حضرت مولانا محمد حسن جان رحمہ اللہ تعالیٰ اسلام اور مسلمانوں کی خدمت کا بے پناہ جذبہ رکھتے تھے۔ہر اس تحریک میں بڑھ کر حصہ لیتے جو اسلام اور مسلمانوں کی بہتری کے لئے شروع کی جاتی۔تحریک خلافت کے دور کا ایک واقعہ آپ کے فرزند ارجمند مولان پیر ہاشم جان رحمۃ اللہ تعالیٰ نے اس طرح بیان کیا:
’’جب تحریک خلافت شروع ہوئی تو اس وقت مولانا محمد علی جو ہر کی ہدایت پر سندھ میں اہل ثروت لوگوں سے چندہ جمع کرنے کے لئے حاجی عبد اللہ ہارون کی قیادت میں ایک کمیٹی تشکیل دی گئی،اس کیمیٹی کے افراد حاجی صاحب خود،حکیم فتح محمد اور مولانا صادق وغیرہ میرے والد ماجد محمد حسن جان سر ہدنی کی خدمت میں پہنچے اور اپنا مقصد بیان کیا۔والد محترم نے فرمایاکہ خلافت اسلامیہ کے احیاء اور انگریز حکومت سے مسلمان ممالک کی آزادی کے لئے ضرورت بات کی ہے وہ جسمانی جہاد کی ہے،مالی جہاد جسمانی جہاد سے بہت فروتر ہے۔
اس کے بعد فرمایا کہ م یں گھر جاکر دیکھتا ہوں،گھر میں جو رقم ہوگی وہ لاکر پیش کرودوں گھا،اس وقت کا غذ کے نوٹ نہیں تھے، اشرفیوں کی صورت میں روپیہ جمع رہتا تھا چنانچہ والد محترم بھری ہوئی تھیلیاں اٹھواکر لائے،کمیٹی کے ممبروں کے حوالے کردیں اور فرمایا: میرے گھر میں دس ہزار روپیہ سے کچھ زائدتھے وہ سب آپ کے حوالے کر رہا ہوں،انہوں نے ایک آنہ بھی گھر میں نہیں چھوڑا تھا، پورے برصغیر میں یہ مالی قربانی کی اس طرح کی پہلی مثال تھی جو والد محترم نے پیش کی[11]
مولانا محمد حسن جان رحمہ اللہ تعالیٰ نے تحریک پاکستان کے سلسلے میں مسلم لیگ کی بھر پور امداد کی،مریدین کو مسلم لیگ کے حق میں ووٹ ڈالنے کا حکم دیا اور با اثر لوگوں کو خطوط لکھ کر مسلم لیگ کی حمایت کا حکم دیا۔ذیل میں ااپ کے ایک فارسی مکتوب کا ترجہ پیش کیا جا رہا ہے:
مخلصین مکرمین و ڈیر ہ محمد قاسم،وڈیرہ عبد اللہ وقاضی جان محمد سلمہم ربہم بعد از دعائے خیر تم مخلصین کو بہ طور نصیحت لکھا جاتو ہے کہ الیکشن کے سلسلہ میں اسلام کے مددگار بنو اور کافر ہندئووں کی رفاقت سے الگ ہو جائو کیونکہ یہ ہندئووں کا مسلمانون سے مقابلہ ہے۔سید اکبر علی شاہ کو مسلم لیگ کا ٹکٹ دے دیا گیا ہے اس لئے تم پر لازم ہے کہ ان کی مخالفت سے دستبردار ہو جائو اور جس قدر ممکن ہو امداد کرو۔ والسلام
۶؍ماہ صفر ۲۵ھ فقیر محمد حسن جان عفی عنہ[12]
سندھ میں یہ مقولہ مشہور تھا کہ:
’’پیر سر ہندی سندھ کا بے تاج بادشاہ ہے۔‘‘
چناچنہ آپ کی امداد واعانت سے مسلم لیگ نے سندھ میں زبر دست کامیابی حاصل کی۔
مسجد منزل گاہ،سکھر کو ہندئووں کے قبضے سے واگزار کرانے کی تحریک چلی تو آپ نے دو صاحبزادوں،مولانا عبد اللہ جان اور مولانا عبد الستار جان کی قیادت میں ہزاروں مریدین کو سکھر بھیجدیا جنہوں نے مسجد کی واپسی تک تحریک میں پر جوش حصہ لیا۔
اور فرمایا:۔
’’وہاں اتنی گنجائش کہاں ہے کہ سب لوگ سما سکیں،خواہ مخواہ خود بھی پیرشان ہوں گے اور مسلمانون کے بادشاہ کو بھی تکلیف دیں گے اس سے مسلمانون کے دشمنوں کو خوشی ہوگی۔‘‘
اسی دوران سندھ میں فتنۂ نجدیت نے سر اٹھایا،اس کی سر کوبی کے لئے بھی آپ نے گراں قدر خدمات انجام دیں [10] غرض اعتقادی،عملی،اخلاقی اور سیاسی امور مین قوم کی بر وقت راہنمائی کی اور ایک روشن دماغ،صائب الرأی قائد کے فرائض انجام دئے۔
حضرت مولانا محمد حسن جان رحمہ اللہ تعالیٰ اسلام اور مسلمانوں کی خدمت کا بے پناہ جذبہ رکھتے تھے۔ہر اس تحریک میں بڑھ کر حصہ لیتے جو اسلام اور مسلمانوں کی بہتری کے لئے شروع کی جاتی۔تحریک خلافت کے دور کا ایک واقعہ آپ کے فرزند ارجمند مولان پیر ہاشم جان رحمۃ اللہ تعالیٰ نے اس طرح بیان کیا:
’’جب تحریک خلافت شروع ہوئی تو اس وقت مولانا محمد علی جو ہر کی ہدایت پر سندھ میں اہل ثروت لوگوں سے چندہ جمع کرنے کے لئے حاجی عبد اللہ ہارون کی قیادت میں ایک کمیٹی تشکیل دی گئی،اس کیمیٹی کے افراد حاجی صاحب خود،حکیم فتح محمد اور مولانا صادق وغیرہ میرے والد ماجد محمد حسن جان سر ہدنی کی خدمت میں پہنچے اور اپنا مقصد بیان کیا۔والد محترم نے فرمایاکہ خلافت اسلامیہ کے احیاء اور انگریز حکومت سے مسلمان ممالک کی آزادی کے لئے ضرورت بات کی ہے وہ جسمانی جہاد کی ہے،مالی جہاد جسمانی جہاد سے بہت فروتر ہے۔
اس کے بعد فرمایا کہ م یں گھر جاکر دیکھتا ہوں،گھر میں جو رقم ہوگی وہ لاکر پیش کرودوں گھا،اس وقت کا غذ کے نوٹ نہیں تھے، اشرفیوں کی صورت میں روپیہ جمع رہتا تھا چنانچہ والد محترم بھری ہوئی تھیلیاں اٹھواکر لائے،کمیٹی کے ممبروں کے حوالے کردیں اور فرمایا: میرے گھر میں دس ہزار روپیہ سے کچھ زائدتھے وہ سب آپ کے حوالے کر رہا ہوں،انہوں نے ایک آنہ بھی گھر میں نہیں چھوڑا تھا، پورے برصغیر میں یہ مالی قربانی کی اس طرح کی پہلی مثال تھی جو والد محترم نے پیش کی[11]
مولانا محمد حسن جان رحمہ اللہ تعالیٰ نے تحریک پاکستان کے سلسلے میں مسلم لیگ کی بھر پور امداد کی،مریدین کو مسلم لیگ کے حق میں ووٹ ڈالنے کا حکم دیا اور با اثر لوگوں کو خطوط لکھ کر مسلم لیگ کی حمایت کا حکم دیا۔ذیل میں ااپ کے ایک فارسی مکتوب کا ترجہ پیش کیا جا رہا ہے:
مخلصین مکرمین و ڈیر ہ محمد قاسم،وڈیرہ عبد اللہ وقاضی جان محمد سلمہم ربہم بعد از دعائے خیر تم مخلصین کو بہ طور نصیحت لکھا جاتو ہے کہ الیکشن کے سلسلہ میں اسلام کے مددگار بنو اور کافر ہندئووں کی رفاقت سے الگ ہو جائو کیونکہ یہ ہندئووں کا مسلمانون سے مقابلہ ہے۔سید اکبر علی شاہ کو مسلم لیگ کا ٹکٹ دے دیا گیا ہے اس لئے تم پر لازم ہے کہ ان کی مخالفت سے دستبردار ہو جائو اور جس قدر ممکن ہو امداد کرو۔ والسلام
۶؍ماہ صفر ۲۵ھ فقیر محمد حسن جان عفی عنہ[12]
سندھ میں یہ مقولہ مشہور تھا کہ:
’’پیر سر ہندی سندھ کا بے تاج بادشاہ ہے۔‘‘
چناچنہ آپ کی امداد واعانت سے مسلم لیگ نے سندھ میں زبر دست کامیابی حاصل کی۔
مسجد منزل گاہ،سکھر کو ہندئووں کے قبضے سے واگزار کرانے کی تحریک چلی تو آپ نے دو صاحبزادوں،مولانا عبد اللہ جان اور مولانا عبد الستار جان کی قیادت میں ہزاروں مریدین کو سکھر بھیجدیا جنہوں نے مسجد کی واپسی تک تحریک میں پر جوش حصہ لیا۔
❤1
سندھ میں لواری بہت بڑی گدی ہے،وہاں کے مشائخ دینی اور قومی خدمات کی بنا پر زبر دست شہرت کے حامل رہے ہیں۔قیام پاکستان سے کچھ عرصہ قبل بعض لوگوں نے مشہور کردیا کہ جناب احمد زمان سجادہ نشین لواری شریف نے عرس کے موقع پر حج کا سلسلہ شروع کردیا ہے اور مریدین کو یہ تاثر دیا ہے کہ مکہ،مدینہ جانے کی بجائے یہیں حج کرلیا کریں،مکہ کا سارا نور لواری شریف میں منتقل ہوگیاہے،حضرت خواجہ محمد حسن جان رحمہ اللہ علیہ کو یہ اطلاع پہنچی تو انکے ایماء پر ہزاروں مریدین کفن بردوش میدان میں نکل آئے۔جب انگریز حکومت نے دیکھا کہ مسلمان اس مسئلہ پر خون بہانے کے لئے تیار ہیں تو سرکاری طور پر پابندی کا اعلان کردیا[13]
حضرت مولانا کو دینی اور علمی کتب کے مطالعہ سے بے حد شغف تھا،اپنے اکثر اوقات تصنیف و تالیف میں صرف فرماتے تھے۔آپ کا ذاتی کتب خانہ مطبوعہ اور غیر مطبوعہ نادرو نایاب کتب کا بہترین ذخیرہ ہے۔آپ نے اس دور کی اعقادی آویزش کو ختم کرنے کے لئے نہایت اہم کتابیں لکھیں۔آپ نے دیگر موضوعات پر بھی قلم اٹھایا اور فضیلت علمی کے قابل قدر جواہر پارے یادگار چھوڑے۔ آپ کی تصانیف یہ ہیں:۔
۱۔ شفاء الامراض (عربی) جملہ امراض کے لئے کتب طبیہ کی ترتیب پر تعویذات اور وظائف پر مشتمل ہے۔
۲۔ انیس الارواح والد ماجد حضرت خواجہ عبد الرحمن فاروقی قدس سرہ کی سوانح حیات ہے ۔اس میں مشائخ عظام کا اجمالی تذکرہ اور سلوک طریقۂ نقشبندیہ کے ابحاث شریفہ درج ہیں۔(مطبوعہ مطبع مجددی امر تسر ۱۳۲۸ھ)
۳۔ انساب الانجاب : کاندان مجددیہ کا تذکرہ (مطبوعہ مطبع مشہور عالم،لاہور)
۴۔ انساب الانجاب : خاندان مجددیہ کا تذکرہ(مطبوعہ مطبع مشہور عالم ،لاہور)
۵۔ الاصوال[14]
۶۔ طریق النجاۃ مع رسالہ التنوری فی اثبات التقدیر (عربی) رد نیچریت۔
۷۔ العقائد الصحیحہ فی بیان مذہب اہل السنۃ والجماعۃ: علماء بریلی اور دیوبند کے اختلافی مسائل پر تبصرہ اور مسلک اہل سنت و جماع کی تائید۔
(مطبوعہ مطبع الفقیہ امر تسر)
۸۔ رسالہ تہلیلیہ: کلمۂ طیبہ کی شرح (مطبوعہ مطبع الفقیہ امر تسر)
۹۔ تذکرۃ الصلحاء فی بیان الاتقیاء : ان اولیاء و صالحین کا تذکرہ جن سے عرب شریف، سندھ،خراسان اور ہند میں آپ کی ملاقات ہوئی(مطبوعہ مطبع نظامی کانپور ۱۳۴۸ھ)
۱۰۔ شرح حکم شیخ عطاء اللہ سنکدری (مطبوعہ ۱۳۵۷ھ) علم توحید اور سندے کے اپنے رب کے ساتھ تعلقات کی مکمل تشریح۔
۱۱۔ پنج گنج: اس میں پانچ رسالے ہیں،
(۱)سفر حجاز کی تفصیلات۔
(۲)شرح چہل کاف۔
(۳) مناسک حج۔
(۴)مجموعۂ احادیث،جو آپ کو مکہ مکرمہ میں شیخ سید محمد ابو نصر و مشقی سے حاصل ہوئیں مع خطبات نبویہ۔
(۵) دینی دنیاوی نصائح۔
۱۲۔ سفر نامۂ عربستان۔
۱۳۔ الاشارۃ الی البشارۃ ،التحیات میں اشارہ نہ کرنے کی تائید و تحقیق۔
۱۴۔ رسالہ فی با صحۃ الجمعۃ نے القریٰ: دیہاتوں اور قصبوں میں جواز جمعہ کے متعلق فتوے ۔
۱۵۔ لغات القرآن: قرآن پاک کے مشکل الفاظ کی تفسیر ۔
۱۶۔ رسالہ درقواعد تجوید و قرأت[15]
حضرت مولانا شعروشاعری کا عمدہ ذوق رکھتے تھے،عری اور فارسی میں اظہار خیال کرتے تھے۔اگر چہ اس طرف میلان طبع بہت کم تھا اور کوئی شعری ذخیرہ بھی یادگار نہیں چھوڑا لیکن آپ کے کلام کی سلاست،روانی اور پختگی،بلندیٔ فکر کی غماز ہے،مدینہ طیبہ کی تعریف میں لکھتے ہیں:
زاد صاف مدینہ ہر چہ گویم،قطرہ ازدریااست
عفاف آنجا کفاف آنجا صلوٰۃ آنجا زکوٰۃ آنجا
خداوند اعطا کن بندئہ خود را لبفضل خود
قیام آنجا مقام آنجا حیات آنجاممات آنجا
اگر خواہی کہ بینی جنت الماوے دریں عالم
نشیں دور روضۂ اطہر بخواہ از حق نجات آنجا[16]
۲؍رجب،۲ جون ۱۳۲۵ھ؍۱۹۴۶ء کو آپ کا وصال ہوا اور کوہ گنجہ (مضافات حیدر آباد)کے دامن میں والد ماجد کے مزار کے پہلو میں محو خواب ابدی ہوئے۔آپ کا مزار پر انوار مرجع خاص وعام ہے۔جناب صاحبزادہ محمد سلیم جان مجددی نے ’’نغفرلہ‘‘ (۱۳۲۵ھ) سے تاریخ وفات نکالی ہے۔آپ کے فرزند اجمند حضرت مولانا عبداللہ[17] افسوس حضرت شاہ آغا صاحب ۱۹۷۳ء میں وصال فرماگئے۔آپ بھی اپنے وت کے فال جلیل اور ولی کامل تھے او فی زمانناہذا تقویٰ میں یدانہ روز گار تھے۔آپ کی متعدد تصانیف ہیں۔آپ کا کتب خانہ قلمی نواردرات اور نادر مطبوعات سے معمور ہے اور قابل دیدہے ۔آپ کا مزار مبارک والد ماجد حضرت خواجہ محمد حسن جان علیہ الرحمۃ کے پہلو میں ہے اور یک ہی گنبد میںیہ تین فضلائے وقت آرام فرما ہیں یعنی حضرت خواجہ عبد الرحمن ،حضررت خواجہ محمد حسن جان اور حضرت شاہ آغا علیہم الرحمۃ ۔حضرت شاہ آغا صاحب کے جانشین صاحبزادہ علی جان مدظلہ العالی ہیں جو بڑئے متورع اور متقی ہیں،عمر شریف ۶۰سال کے لگ بھگ ہے۔(بشکر یہ پروفیسر محمد مسعود احمد ایم اے،پی ایچ ڈی) ـ
حضرت مولانا کو دینی اور علمی کتب کے مطالعہ سے بے حد شغف تھا،اپنے اکثر اوقات تصنیف و تالیف میں صرف فرماتے تھے۔آپ کا ذاتی کتب خانہ مطبوعہ اور غیر مطبوعہ نادرو نایاب کتب کا بہترین ذخیرہ ہے۔آپ نے اس دور کی اعقادی آویزش کو ختم کرنے کے لئے نہایت اہم کتابیں لکھیں۔آپ نے دیگر موضوعات پر بھی قلم اٹھایا اور فضیلت علمی کے قابل قدر جواہر پارے یادگار چھوڑے۔ آپ کی تصانیف یہ ہیں:۔
۱۔ شفاء الامراض (عربی) جملہ امراض کے لئے کتب طبیہ کی ترتیب پر تعویذات اور وظائف پر مشتمل ہے۔
۲۔ انیس الارواح والد ماجد حضرت خواجہ عبد الرحمن فاروقی قدس سرہ کی سوانح حیات ہے ۔اس میں مشائخ عظام کا اجمالی تذکرہ اور سلوک طریقۂ نقشبندیہ کے ابحاث شریفہ درج ہیں۔(مطبوعہ مطبع مجددی امر تسر ۱۳۲۸ھ)
۳۔ انساب الانجاب : کاندان مجددیہ کا تذکرہ (مطبوعہ مطبع مشہور عالم،لاہور)
۴۔ انساب الانجاب : خاندان مجددیہ کا تذکرہ(مطبوعہ مطبع مشہور عالم ،لاہور)
۵۔ الاصوال[14]
۶۔ طریق النجاۃ مع رسالہ التنوری فی اثبات التقدیر (عربی) رد نیچریت۔
۷۔ العقائد الصحیحہ فی بیان مذہب اہل السنۃ والجماعۃ: علماء بریلی اور دیوبند کے اختلافی مسائل پر تبصرہ اور مسلک اہل سنت و جماع کی تائید۔
(مطبوعہ مطبع الفقیہ امر تسر)
۸۔ رسالہ تہلیلیہ: کلمۂ طیبہ کی شرح (مطبوعہ مطبع الفقیہ امر تسر)
۹۔ تذکرۃ الصلحاء فی بیان الاتقیاء : ان اولیاء و صالحین کا تذکرہ جن سے عرب شریف، سندھ،خراسان اور ہند میں آپ کی ملاقات ہوئی(مطبوعہ مطبع نظامی کانپور ۱۳۴۸ھ)
۱۰۔ شرح حکم شیخ عطاء اللہ سنکدری (مطبوعہ ۱۳۵۷ھ) علم توحید اور سندے کے اپنے رب کے ساتھ تعلقات کی مکمل تشریح۔
۱۱۔ پنج گنج: اس میں پانچ رسالے ہیں،
(۱)سفر حجاز کی تفصیلات۔
(۲)شرح چہل کاف۔
(۳) مناسک حج۔
(۴)مجموعۂ احادیث،جو آپ کو مکہ مکرمہ میں شیخ سید محمد ابو نصر و مشقی سے حاصل ہوئیں مع خطبات نبویہ۔
(۵) دینی دنیاوی نصائح۔
۱۲۔ سفر نامۂ عربستان۔
۱۳۔ الاشارۃ الی البشارۃ ،التحیات میں اشارہ نہ کرنے کی تائید و تحقیق۔
۱۴۔ رسالہ فی با صحۃ الجمعۃ نے القریٰ: دیہاتوں اور قصبوں میں جواز جمعہ کے متعلق فتوے ۔
۱۵۔ لغات القرآن: قرآن پاک کے مشکل الفاظ کی تفسیر ۔
۱۶۔ رسالہ درقواعد تجوید و قرأت[15]
حضرت مولانا شعروشاعری کا عمدہ ذوق رکھتے تھے،عری اور فارسی میں اظہار خیال کرتے تھے۔اگر چہ اس طرف میلان طبع بہت کم تھا اور کوئی شعری ذخیرہ بھی یادگار نہیں چھوڑا لیکن آپ کے کلام کی سلاست،روانی اور پختگی،بلندیٔ فکر کی غماز ہے،مدینہ طیبہ کی تعریف میں لکھتے ہیں:
زاد صاف مدینہ ہر چہ گویم،قطرہ ازدریااست
عفاف آنجا کفاف آنجا صلوٰۃ آنجا زکوٰۃ آنجا
خداوند اعطا کن بندئہ خود را لبفضل خود
قیام آنجا مقام آنجا حیات آنجاممات آنجا
اگر خواہی کہ بینی جنت الماوے دریں عالم
نشیں دور روضۂ اطہر بخواہ از حق نجات آنجا[16]
۲؍رجب،۲ جون ۱۳۲۵ھ؍۱۹۴۶ء کو آپ کا وصال ہوا اور کوہ گنجہ (مضافات حیدر آباد)کے دامن میں والد ماجد کے مزار کے پہلو میں محو خواب ابدی ہوئے۔آپ کا مزار پر انوار مرجع خاص وعام ہے۔جناب صاحبزادہ محمد سلیم جان مجددی نے ’’نغفرلہ‘‘ (۱۳۲۵ھ) سے تاریخ وفات نکالی ہے۔آپ کے فرزند اجمند حضرت مولانا عبداللہ[17] افسوس حضرت شاہ آغا صاحب ۱۹۷۳ء میں وصال فرماگئے۔آپ بھی اپنے وت کے فال جلیل اور ولی کامل تھے او فی زمانناہذا تقویٰ میں یدانہ روز گار تھے۔آپ کی متعدد تصانیف ہیں۔آپ کا کتب خانہ قلمی نواردرات اور نادر مطبوعات سے معمور ہے اور قابل دیدہے ۔آپ کا مزار مبارک والد ماجد حضرت خواجہ محمد حسن جان علیہ الرحمۃ کے پہلو میں ہے اور یک ہی گنبد میںیہ تین فضلائے وقت آرام فرما ہیں یعنی حضرت خواجہ عبد الرحمن ،حضررت خواجہ محمد حسن جان اور حضرت شاہ آغا علیہم الرحمۃ ۔حضرت شاہ آغا صاحب کے جانشین صاحبزادہ علی جان مدظلہ العالی ہیں جو بڑئے متورع اور متقی ہیں،عمر شریف ۶۰سال کے لگ بھگ ہے۔(بشکر یہ پروفیسر محمد مسعود احمد ایم اے،پی ایچ ڈی) ـ
❤1
نوٹ: ۱۹۷۵ء میں حضرت مولانا محمد حسن جان سر ہندی قدس سرہ کے قابل صد فخر فرزند اور سندھ کے مانور عالم و فاضل بزرگ پیر ہاشم جان رحمہ اللہ تعالیٰ فرما گئے، ان کے حالات دوسری جگہ ملاحظہ فرمائیں۔ (شرف قادری) جان المعروف بہ شاہ آغا رحمہ اللہ تعالیٰ سجادہ نشین ہوئے۔
[1] محمد مسعود احمد،پروفیسر: تذکرہ مظہر مسعود،مطبوعہ کراچی ص ۴۴۰
[2] عبد اللہ جان المعروف بہ شاہ آغا،مولانا: مونس المخلصین (۱۳۶۶ھ) ص۷۔۱۵
[3] عبد اللہ جان المعروف بہ شاہ آغا،مولانا: مونس المخلصین: ص۵۹۔۲۳
[4] ایضاً: ص : ۲۷۔۲۸
[5] ایضاً: ص : ۱۷۱۔۱۷۲
[6] عبد اللہ جان المعروف بہ شاہ آغا: مونس المخلصین ۱۷۸۔۱۸۰
[7] ایضا!: ص ۱۷۴۔۱۷۸،بصر الدین سیوستانی،مخدوم مولانا تقریظ الاصول الاربعہ، مطبوعہ ترکی ۱۹۷۵ئص ۱۲۵
[8] عبد اللہ جان : مونس المخلصین: ص ۱۹۲۔۱۹۷
[9] تحریک ترک موالات اور تحریک ہجرت کے بارے مین آپ کاموقف وہی تھا جو اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی رحمہ اللہ تعالیٰ کا تھا،تفصیل کے لئے دیکھئے’’فاضل بریلوی اور ترک موالا ت‘‘ شائع کردہ مرکزی مجلس رجا لاہور (از پروفیسر محمد مسعود احمد )
[10] عبد اللہ جان المعروف بہ شاہ آغا:۔ مونس المخلصین: ص ۱۹۷۔۲۰۲
[11] محمد موسی بھٹو،حافظ: (سندھ کے عظیم پیر ہاشم جان سر ہندی سے خصوصی ملاقات) ہفت روزہ اداکر ۲۰ تا ۲۶ جولائی ۱۹۷۵ء ، ص ۲۴
[12] عبداللہ جان المعروف بہ شاہ آغا،مولانا: مونس المخلصین ،ص۲۰۴
[13] محمد موسیٰ بھٹو،حافظ: ہفت روزہ ادا کار،لاہور،۲۰؍تا۲۶ جولائی ۱۹۷۵ء ،ص ۲۴۔۲۵(انٹر ویو پیر ہاشم جان سرہندی)
[14] یہ وکتب حضرت علامہ مولانا حسین علمی مدظلہ العالی کی سعی سے مکتبہ الشیق ترکی سے چھپ گئی ہیں مولائے کریم انہیں جزائے خیر عطا فرمائے۔آمین
[15] عبد اللہ جان،المعروف بہ شاہ آغا: مونس المخلصین،ص۷۲۔۸۸
[16] ع ایضاً : ص ۱۰۷ء
[17] ع ایضاً : ص ۱۰۷ء
( تذکرہ اکابرِ اہلسنت )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-peer-muhammad-hassan-jan-sirhindi-mujaddadi
[1] محمد مسعود احمد،پروفیسر: تذکرہ مظہر مسعود،مطبوعہ کراچی ص ۴۴۰
[2] عبد اللہ جان المعروف بہ شاہ آغا،مولانا: مونس المخلصین (۱۳۶۶ھ) ص۷۔۱۵
[3] عبد اللہ جان المعروف بہ شاہ آغا،مولانا: مونس المخلصین: ص۵۹۔۲۳
[4] ایضاً: ص : ۲۷۔۲۸
[5] ایضاً: ص : ۱۷۱۔۱۷۲
[6] عبد اللہ جان المعروف بہ شاہ آغا: مونس المخلصین ۱۷۸۔۱۸۰
[7] ایضا!: ص ۱۷۴۔۱۷۸،بصر الدین سیوستانی،مخدوم مولانا تقریظ الاصول الاربعہ، مطبوعہ ترکی ۱۹۷۵ئص ۱۲۵
[8] عبد اللہ جان : مونس المخلصین: ص ۱۹۲۔۱۹۷
[9] تحریک ترک موالات اور تحریک ہجرت کے بارے مین آپ کاموقف وہی تھا جو اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی رحمہ اللہ تعالیٰ کا تھا،تفصیل کے لئے دیکھئے’’فاضل بریلوی اور ترک موالا ت‘‘ شائع کردہ مرکزی مجلس رجا لاہور (از پروفیسر محمد مسعود احمد )
[10] عبد اللہ جان المعروف بہ شاہ آغا:۔ مونس المخلصین: ص ۱۹۷۔۲۰۲
[11] محمد موسی بھٹو،حافظ: (سندھ کے عظیم پیر ہاشم جان سر ہندی سے خصوصی ملاقات) ہفت روزہ اداکر ۲۰ تا ۲۶ جولائی ۱۹۷۵ء ، ص ۲۴
[12] عبداللہ جان المعروف بہ شاہ آغا،مولانا: مونس المخلصین ،ص۲۰۴
[13] محمد موسیٰ بھٹو،حافظ: ہفت روزہ ادا کار،لاہور،۲۰؍تا۲۶ جولائی ۱۹۷۵ء ،ص ۲۴۔۲۵(انٹر ویو پیر ہاشم جان سرہندی)
[14] یہ وکتب حضرت علامہ مولانا حسین علمی مدظلہ العالی کی سعی سے مکتبہ الشیق ترکی سے چھپ گئی ہیں مولائے کریم انہیں جزائے خیر عطا فرمائے۔آمین
[15] عبد اللہ جان،المعروف بہ شاہ آغا: مونس المخلصین،ص۷۲۔۸۸
[16] ع ایضاً : ص ۱۰۷ء
[17] ع ایضاً : ص ۱۰۷ء
( تذکرہ اکابرِ اہلسنت )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-peer-muhammad-hassan-jan-sirhindi-mujaddadi
❤1
حضرت خواجہ محمد الدین سیالوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
ولادت:
حضرت خواجہ محمد الدین سیالوی ابن حضرت خواجہ شمس العارفین شمس الدین سیالوی (قدس سرہما) ۱۲۵۳ھ / ۱۸۳۷ء میں سیال شریف ضلع سرگودھا میں پیدا ہوئے ـ
آپ صورت و سیرت میں اپنے والد مکرم کا عکس جمیل تھے ۔حضرت خواجہ شمس العارفین سیالوی قدس سرہ کے وصال کے بعد تونسہ شریف حاضر ہوئے تو حضرت خواجہ اللہ بخش تونسوی قدس سرہ نے آپ کو خرقۂ خلافت سے نوازا، ایک عالم آپ کی نظر کیمیا اثر سے مستفیض ہوا [1] مولانا محمد ذکر بگوی ثم لاہور رحمہ اللہ تعالیٰ آپ کے مرید اور مجاز تھے ۔
حضرت خواجہ محمد الدین سیالوی اخلاق عالیہاور اصاف حمیدہ کے مالک تھے لنگر میں بری فراخ ولی سے خرچ کرتے ،متعلقین کی خبر گیری میں کوئی وقیقہ فروگزاشت نہ کرتے،احباب کے غم اور خوشی میں بہ نفس نفیس شریک ہوتے،ایک شخص نے یہ باتیں آپ کی شان کے خلاف سمجھیں اور حضرت خواجہ اللہ بخش تونسوی قدس سرہ کی خدمت میں خفیہ عریضہ ارسال کر کے درخواست کی کہ آپ انہیں ان امور سے منع فرمائیں،حضرت خواجہ تونسوی جواب دیا:۔
’’اللہ تعالیٰ تجھے ہدایت دے یہ کام تو اسلام اور سید الانام کی متابعت ہے،ایسے کاموں میں کسر شان نہیں بلکہ نہ کرنے میں نقصان ہے۔ادب تجھے لازم ہے کہ اگر توان کے والد کامرید ہے تو تجدید بیعت کر اور یہ خیال دل سے نکال دے[2] ‘‘
حضرت پیر سید مہر علی شاہ گولڑوی قدس سرہ آپ سے بری عقیدت و محبت رکھتے تھے،آپ ہی کے ارشاد پر حضرت اعلیٰ گولڑوی تونسہ شریف گئے تھے۔آپ ہی کے ایماء پر انہوں نے ابتداء پاکپتن شریف کا سفر شروع کیا تھا،آپ ہی کے کہنے پر پیر صاحب نے حضرت دیوان غیاث الدین اجمیری کی تائد و معاونت کے لئے مسئلۂ سماع پر سرحدی علماء سے پشاور میں مناظرہ کیا تھا،حضرت اعلیٰ گولڑوی کے اس شعر ؎
آکھیں خواجہ شمس دیں دے لعل نوں
گوڑھے نیناں والرے لجپال نوں
اور حضرت خواجہ محمد الدین سیالوی کیا صلاح دادہ اس شعر ؎
پیت کا وعدہ کر کے پیانے، پیت نبھانا چھوڑ دیا
مہرؔ نے اکھیاں پھر لئیں، دم دم کا آنا چھوڑ دیا
کو دیکھنے سے دونوں حضرات باہمی تعلق کا اندازہ ہوتاہے۔
حضرت خواجہ محمد الدین سیالوی قدس رہ کی مساعئی جمیلہ سے خواجہ شمس العارفین سیالوی کے مزار شریف کا بلند و بالا گنبد، وسیع و عریض مجلس خانہ، تالاب، عالی شان بنگلہ اور کنواں تعمیر ہوا، آپ کو اپنے پیر خانہ سے اس قدر محبت تھی کہ ہر سال تین چار مرتبہ ضرور حاضری دیتے اور جب علالت کی وجہ سے نقابت بہت بڑھ گئی تو چار پائی پر سفر کیا اور تونسہ شریف حاضری دی [3]
آپ کثیر الکرامات بزرگ تھے،ایک دفعہ پاکپتن شریف سے واپسی پر خدام کو کھانا پکانے کا حکم دیا اور آنے سوالیہر قافلیکو کھانا کھلاتے رہے یہاں تک کہ تین سو افراد نیکھاناکھایا جبکی اس وقت بیس سیرآٹا،آٹھ آنے کا گی اور ایک روپے کی شکر پاس تھی،
آپ کو اللہ تعالیٰ نے چار فرزند عطا فرمائے جو سب کے سب عالم اور حافظ تھے،
۱۔ صاحبزادہ محمد امین (م۳۳۳۱ھ)
۲۔ صاحبزادہ محمد ضیاء الدین ۔
۳۔ صاحبزادہ محمد عبد اللہ (رحمہم اللہ تعالیٰ)
۴۔ صاحبزادہ محمد سعد اللہ مدظلہٗ
وصال:
۲ رجب المرجب (۱۳۲۷ھ؍۱۹۰۹ئ) کو حضرت خواجہ محمد الدین سیالوی قدس سرہ کا وصال ہوا اور والد گرامی حضرت خواجہ شمس العارفین سیالوی قدس سرہ کے پہلو میں آرام فرما ہوئے ۔ آپ کے وصال کے بعد حضرت خواجہ ضیاء الدین سیالوی مسند نشین ہوئے [4]
مولانا امیر بخش مؤلف انوار شمسیہ نیایک ہی شر میں عمر شریف اور سن ولادت و وصال کو ـذکر کیاہے ؎
میلاد ’’مظہر حق‘‘ عمر ش ’’جمال گشتہ‘‘
’’مظہر جمال حق‘‘ شد تاریخ انتقال [5]
[1] امیر بخش ،مولانا: انوار شمسیہ المعروف بہ خطبہ چشتیہ(۱۹۱۶ئ)، ص ۸۷۔۸۸۔
[2] سلطان احمد فاروقی،مولانا: ماہنامہ الحبیب،جمیعت نمبر ،اکتوبر۰ ۱۹۷ء ص،۳۔
[3] امیر بخش،مولانا: انوار شمعیہ،ص ۹۸۔
[4] سلطان احمد فاروقی،مولانا: تذکرہاولیائے چشت،(طبع ثانی،سن ندارد ) ص۱۔ ۲۴۰۔
[5] امیر بخش،مولانا: انوار شمسیہ،ص۱۰۳
( تذکرہ اکابرِ اہلسنت )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-muhammad-din-sialvi
ولادت:
حضرت خواجہ محمد الدین سیالوی ابن حضرت خواجہ شمس العارفین شمس الدین سیالوی (قدس سرہما) ۱۲۵۳ھ / ۱۸۳۷ء میں سیال شریف ضلع سرگودھا میں پیدا ہوئے ـ
آپ صورت و سیرت میں اپنے والد مکرم کا عکس جمیل تھے ۔حضرت خواجہ شمس العارفین سیالوی قدس سرہ کے وصال کے بعد تونسہ شریف حاضر ہوئے تو حضرت خواجہ اللہ بخش تونسوی قدس سرہ نے آپ کو خرقۂ خلافت سے نوازا، ایک عالم آپ کی نظر کیمیا اثر سے مستفیض ہوا [1] مولانا محمد ذکر بگوی ثم لاہور رحمہ اللہ تعالیٰ آپ کے مرید اور مجاز تھے ۔
حضرت خواجہ محمد الدین سیالوی اخلاق عالیہاور اصاف حمیدہ کے مالک تھے لنگر میں بری فراخ ولی سے خرچ کرتے ،متعلقین کی خبر گیری میں کوئی وقیقہ فروگزاشت نہ کرتے،احباب کے غم اور خوشی میں بہ نفس نفیس شریک ہوتے،ایک شخص نے یہ باتیں آپ کی شان کے خلاف سمجھیں اور حضرت خواجہ اللہ بخش تونسوی قدس سرہ کی خدمت میں خفیہ عریضہ ارسال کر کے درخواست کی کہ آپ انہیں ان امور سے منع فرمائیں،حضرت خواجہ تونسوی جواب دیا:۔
’’اللہ تعالیٰ تجھے ہدایت دے یہ کام تو اسلام اور سید الانام کی متابعت ہے،ایسے کاموں میں کسر شان نہیں بلکہ نہ کرنے میں نقصان ہے۔ادب تجھے لازم ہے کہ اگر توان کے والد کامرید ہے تو تجدید بیعت کر اور یہ خیال دل سے نکال دے[2] ‘‘
حضرت پیر سید مہر علی شاہ گولڑوی قدس سرہ آپ سے بری عقیدت و محبت رکھتے تھے،آپ ہی کے ارشاد پر حضرت اعلیٰ گولڑوی تونسہ شریف گئے تھے۔آپ ہی کے ایماء پر انہوں نے ابتداء پاکپتن شریف کا سفر شروع کیا تھا،آپ ہی کے کہنے پر پیر صاحب نے حضرت دیوان غیاث الدین اجمیری کی تائد و معاونت کے لئے مسئلۂ سماع پر سرحدی علماء سے پشاور میں مناظرہ کیا تھا،حضرت اعلیٰ گولڑوی کے اس شعر ؎
آکھیں خواجہ شمس دیں دے لعل نوں
گوڑھے نیناں والرے لجپال نوں
اور حضرت خواجہ محمد الدین سیالوی کیا صلاح دادہ اس شعر ؎
پیت کا وعدہ کر کے پیانے، پیت نبھانا چھوڑ دیا
مہرؔ نے اکھیاں پھر لئیں، دم دم کا آنا چھوڑ دیا
کو دیکھنے سے دونوں حضرات باہمی تعلق کا اندازہ ہوتاہے۔
حضرت خواجہ محمد الدین سیالوی قدس رہ کی مساعئی جمیلہ سے خواجہ شمس العارفین سیالوی کے مزار شریف کا بلند و بالا گنبد، وسیع و عریض مجلس خانہ، تالاب، عالی شان بنگلہ اور کنواں تعمیر ہوا، آپ کو اپنے پیر خانہ سے اس قدر محبت تھی کہ ہر سال تین چار مرتبہ ضرور حاضری دیتے اور جب علالت کی وجہ سے نقابت بہت بڑھ گئی تو چار پائی پر سفر کیا اور تونسہ شریف حاضری دی [3]
آپ کثیر الکرامات بزرگ تھے،ایک دفعہ پاکپتن شریف سے واپسی پر خدام کو کھانا پکانے کا حکم دیا اور آنے سوالیہر قافلیکو کھانا کھلاتے رہے یہاں تک کہ تین سو افراد نیکھاناکھایا جبکی اس وقت بیس سیرآٹا،آٹھ آنے کا گی اور ایک روپے کی شکر پاس تھی،
آپ کو اللہ تعالیٰ نے چار فرزند عطا فرمائے جو سب کے سب عالم اور حافظ تھے،
۱۔ صاحبزادہ محمد امین (م۳۳۳۱ھ)
۲۔ صاحبزادہ محمد ضیاء الدین ۔
۳۔ صاحبزادہ محمد عبد اللہ (رحمہم اللہ تعالیٰ)
۴۔ صاحبزادہ محمد سعد اللہ مدظلہٗ
وصال:
۲ رجب المرجب (۱۳۲۷ھ؍۱۹۰۹ئ) کو حضرت خواجہ محمد الدین سیالوی قدس سرہ کا وصال ہوا اور والد گرامی حضرت خواجہ شمس العارفین سیالوی قدس سرہ کے پہلو میں آرام فرما ہوئے ۔ آپ کے وصال کے بعد حضرت خواجہ ضیاء الدین سیالوی مسند نشین ہوئے [4]
مولانا امیر بخش مؤلف انوار شمسیہ نیایک ہی شر میں عمر شریف اور سن ولادت و وصال کو ـذکر کیاہے ؎
میلاد ’’مظہر حق‘‘ عمر ش ’’جمال گشتہ‘‘
’’مظہر جمال حق‘‘ شد تاریخ انتقال [5]
[1] امیر بخش ،مولانا: انوار شمسیہ المعروف بہ خطبہ چشتیہ(۱۹۱۶ئ)، ص ۸۷۔۸۸۔
[2] سلطان احمد فاروقی،مولانا: ماہنامہ الحبیب،جمیعت نمبر ،اکتوبر۰ ۱۹۷ء ص،۳۔
[3] امیر بخش،مولانا: انوار شمعیہ،ص ۹۸۔
[4] سلطان احمد فاروقی،مولانا: تذکرہاولیائے چشت،(طبع ثانی،سن ندارد ) ص۱۔ ۲۴۰۔
[5] امیر بخش،مولانا: انوار شمسیہ،ص۱۰۳
( تذکرہ اکابرِ اہلسنت )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-muhammad-din-sialvi
❤1
حضرت شیخ حبیب اللہ کافی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
شیخ صاحب موصوف کے حالات زندگی کافی تگ و دو اور تلاش و جستجو کے بعد بھی نہ مل سکے ۔
لاہور میں آمد:
خزینتھ الاصفیاء،میں مفتی غلام سرور صاحب لکھتے ہیں،حقانی فیض کامل حاصل کردہ خرقہ خلافت یافت بعد ازاں لاہور تشریف آ رودہ خرقہ خلا فت سلسلہ قادریہ عظیمہ از حضرت میاں میر رحمتہ اللہ علیہ بالا پیر لاہوری یافت،
آپ ساری عمر خلق خدا کی راہنمائی و ہدایت میں مصروف رہے اور استحکام واتباع کےلیئے بہت کام کیا ایک دفعہ کشمیر بھی تشریف لے گئے۔
وصال:
کشمیر میں محلہ قطب دین ۱۰۸۰ ھ مطابق ۱۶۶۹ء بعہد محی الدین اورنگزیب عالمگیر ہوئی اور وہی دفن ہوئے ۔
( لاہور کے اولیائے سہروردیہ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-habibullah-kafi-soharwardi
شیخ صاحب موصوف کے حالات زندگی کافی تگ و دو اور تلاش و جستجو کے بعد بھی نہ مل سکے ۔
لاہور میں آمد:
خزینتھ الاصفیاء،میں مفتی غلام سرور صاحب لکھتے ہیں،حقانی فیض کامل حاصل کردہ خرقہ خلافت یافت بعد ازاں لاہور تشریف آ رودہ خرقہ خلا فت سلسلہ قادریہ عظیمہ از حضرت میاں میر رحمتہ اللہ علیہ بالا پیر لاہوری یافت،
آپ ساری عمر خلق خدا کی راہنمائی و ہدایت میں مصروف رہے اور استحکام واتباع کےلیئے بہت کام کیا ایک دفعہ کشمیر بھی تشریف لے گئے۔
وصال:
کشمیر میں محلہ قطب دین ۱۰۸۰ ھ مطابق ۱۶۶۹ء بعہد محی الدین اورنگزیب عالمگیر ہوئی اور وہی دفن ہوئے ۔
( لاہور کے اولیائے سہروردیہ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-habibullah-kafi-soharwardi
❤1
غلام یاسین شاہ جمالی،امام الواصلین قدوۃ السالکین، خواجہ پیر، رحمۃ اللہ تعالی علیہ
حضرت علامہ خواجہ پیر غلام یٰسین شاہ جمالی بن حضرت فیض محمد شاہ جمالی بن خواجہ نور الدین شاہ جمالی رحمۃ اللہ علیہم
ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 4 صفر المظفر 1336ھ بمطابق 18 نومبر 1917ء بروز اتوار شاہجمال میں ہوئی ۔
تعلیم:
ایک سال کی عمر تھی کہ والدہ ماجدہ کا انتقال ہو گیا مکمل تربیت والد گرامی حضرت خواجہ فیض محمد شاہ جمالی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمائی اورمکمل دینی تعلیم بمع دورۂ حدیث اپنے والد ماجد حضرت خواجہ فیض محمد شاہ جمالی رحمۃ اللہ علیہ سے حاصل کی ۔
بیعت و خلافت:
اپنے والد ماجد حضرت خواجہ فیض محمد شاہ جمالی رحمۃ اللہ علیہ سے بیعت ہوئے ۔ نیز خلافت بھی آپ نے عطا فرمائی ۔
سیرت و خصائص:
والد گرامی حضرت خواجہ فیض محمد شاہ جمالی علیہ الرحمہ کے وصال کے بعد آپ سجا دہ نشین مقرر ہو ئے آپ انتہائی سادہ طبیعت کے مالک تھے آپ پر اکثر و بیشتر جذب کی کیفیت طاری رہتی اپنے والد ماجد کی طرح خطاب فرماتے اور عشق حبیب صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے جام پلاتے ۔آپ کو اپنے نانا حضرت خواجہ نصیر بخش چشتی رحمۃ اللہ علیہ (جو کہ حضرت خواجہ خدابخش چشتی رحمۃ اللہ علیہ کےشاگردو مرید وخلیفہ اور حضرت خواجہ غلام فرید علیہ الرحمہ کے استاذ تھے) اور دادا جان حضرت خواجہ نور الدین شاہ جمالی رحمۃ اللہ علیہ کا بھی فیض ملا ۔
آپ کی زبان لوح محفوظ کی سیاہی تھی جیسا آپ فرماتے ویسا ہو تا ۔آپ کی کرامات شمار سے باہر ہیں جس نے بھی آپ کی زیارت کی وہ ہمیشہ آپ کا دیوانہ ہو گیا ۔آپ کے بارے میں مشہور ہے اور ان چشم دید گو اہوں میں سے بعض اہل علم و عرفان آج بھی زندہ ہیں کہ جنہوں نے حضرت کو بید اری کی حالت میں مدینہ منورہ میں حضور علیہ السلام کی بارگاہ میں سلام پیش کرتے اور مکہ مکرمہ میں طواف ِ بیت اللہ شریف کرتے دیکھا ہے،جبکہ بظاہر اپنے آستانے پر بھی موجود ہوتے تھے ۔
احقر کے جد امجد شیخ الحدیث والتفسیر بیہقی وقت امام المناظرین علامہ مفتی منظور احمد فیضی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: خواجہ غلام یٰسین قلندر کی نگاہ میں دنیا کی کوئی قدروقیمت نہ تھی واللہ باللہ ثم تاللہ ایسا تارک الدنیا ہم نے نہ دیکھا ،جائز طریقے سے دنیا آتی تھی تو بھی ٹھوکر مارتے تھے ۔ سادگی کایہ عالم تھا کہ ذرہ برابر بھی تصنع اور بناوٹ ونمود نہیں بڑی سادہ اور پیاری طبیعت تھی ۔
(مرج البحرین فی ذکر غوثین ص37،38)
علم و فضل:
شیخ الحدیث والتفسیر بیہقی وقت امام المناظرین علامہ مفتی محمد منظور احمد فیضی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:حضرت خواجہ غلام یٰسین صاحب رحمہ اللہ تعالی چونکہ پیدائشی طور پر مستوار تھے ،بحر مشاہدہ میں غرق رہتے تھے اور علوم وفنون واسرار کے جامع تھے ظاہر طور پر نہ مطالعہ کتب نہ سبق کو دہراتے اگر چہ ظاہری طور پر آپ کے والد خواجہ فیض محمد شاہجمالی نے آپ کو تمام علوم ظاہرہ واسرار باطنہ پڑھائے تھے اور فارغ التحصیل علامہ بنادیا بس والد حضور کے آگے کتاب کھول کر پڑھتے رہتے نہ پہلے مطالعہ نہ پھر کتاب بینی ۔ ایک دن تمام علماء وفضلاء تلمیذان شاہجمالی نے طے کیا کہ استاذ شاہجمالی محقق عالم ہیں آسمان علوم کے نیر اعظم ہیں اور ان کے بیٹے غلام یٰسین کا یہ حال ہے نہ مطالعہ نہ سبق دہرانا ، آج ان سے مناظرہ کریں منقول والے منقول میں خواجہ غلام یٰسین کو پکڑیں اور معقول والے علم معقول میں مواخذے اور سوالات کی بوچھاڑ کردیں چنانچہ علماء وفضلاء ایک طرف سے اور خواجہ غلام یٰسین اکیلے ایک طرف تھے آپ نے سب کو لاجواب کردیا پھر پتہ چلا یہ سب کچھ پڑھے ہوئے اور تمام علوم کے حافظ ہیں ۔
ایک دن فقیر فیضی سے خواجہ غلام یٰسین نے فرمایا میں نے ملاں دوست محمد قریشی دیوبندی سے مناظرہ کیا اور اس کو لاجواب کر دیا ۔
(مرج البحرین فی ذکر غوثین ص 22،23)
اولاد:
اللہ تعالی نے آپ کو تین صاحبزادے اور آٹھ صاحبزادیوں سے نوازا ـ
فرزند اکبر:
پیر طریقت رہبر شریعت خواجہ خواجگان عمدۃ الواصلین حضرت علامہ صاحبزادہ خواجہ پیر محمد عبدالحی شاہجمالی رحمۃ اللہ علیہ سجادہ نشین دربار شاہجمالیہ سندیلہ شریف ڈیرہ غازی خان آپ کا وصال 17 شعبان المعظم 1433ھ میں ہوا اپنے جد امجد کے پہلو میں آخری آرام گاہ بنی ۔
فرزند اوسط:
پیر طریقت جگر گوشہ قلندر وقت مستوار حافظ خواجہ پیر محمد فیض رسول شاہجمالی دامت برکاتہم موجودہ سجادہ نشین دربار شاہجمالیہ سندیلہ شریف
فرزند اصغر:
قلندر ابن قلندر پیر طریقت نوردیدہ شاہجمالی کریم تارک الدنیا حضرت خواجہ پیر تاج رسول شاہجمالی دامت برکاتہم
وصال:
آپ کا وصال پرملال 2 رجب المرجب 1412ھ سندیلہ شریف ضلع ڈیرہ غازی خان میں ہوا اپنے والد گرامی کے پہلو میں آرام فرمارہے ہیں ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/ghaus-e-zaman-hazrat-khuwaja-ghulam-yaseen-shah-jamali
حضرت علامہ خواجہ پیر غلام یٰسین شاہ جمالی بن حضرت فیض محمد شاہ جمالی بن خواجہ نور الدین شاہ جمالی رحمۃ اللہ علیہم
ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 4 صفر المظفر 1336ھ بمطابق 18 نومبر 1917ء بروز اتوار شاہجمال میں ہوئی ۔
تعلیم:
ایک سال کی عمر تھی کہ والدہ ماجدہ کا انتقال ہو گیا مکمل تربیت والد گرامی حضرت خواجہ فیض محمد شاہ جمالی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمائی اورمکمل دینی تعلیم بمع دورۂ حدیث اپنے والد ماجد حضرت خواجہ فیض محمد شاہ جمالی رحمۃ اللہ علیہ سے حاصل کی ۔
بیعت و خلافت:
اپنے والد ماجد حضرت خواجہ فیض محمد شاہ جمالی رحمۃ اللہ علیہ سے بیعت ہوئے ۔ نیز خلافت بھی آپ نے عطا فرمائی ۔
سیرت و خصائص:
والد گرامی حضرت خواجہ فیض محمد شاہ جمالی علیہ الرحمہ کے وصال کے بعد آپ سجا دہ نشین مقرر ہو ئے آپ انتہائی سادہ طبیعت کے مالک تھے آپ پر اکثر و بیشتر جذب کی کیفیت طاری رہتی اپنے والد ماجد کی طرح خطاب فرماتے اور عشق حبیب صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے جام پلاتے ۔آپ کو اپنے نانا حضرت خواجہ نصیر بخش چشتی رحمۃ اللہ علیہ (جو کہ حضرت خواجہ خدابخش چشتی رحمۃ اللہ علیہ کےشاگردو مرید وخلیفہ اور حضرت خواجہ غلام فرید علیہ الرحمہ کے استاذ تھے) اور دادا جان حضرت خواجہ نور الدین شاہ جمالی رحمۃ اللہ علیہ کا بھی فیض ملا ۔
آپ کی زبان لوح محفوظ کی سیاہی تھی جیسا آپ فرماتے ویسا ہو تا ۔آپ کی کرامات شمار سے باہر ہیں جس نے بھی آپ کی زیارت کی وہ ہمیشہ آپ کا دیوانہ ہو گیا ۔آپ کے بارے میں مشہور ہے اور ان چشم دید گو اہوں میں سے بعض اہل علم و عرفان آج بھی زندہ ہیں کہ جنہوں نے حضرت کو بید اری کی حالت میں مدینہ منورہ میں حضور علیہ السلام کی بارگاہ میں سلام پیش کرتے اور مکہ مکرمہ میں طواف ِ بیت اللہ شریف کرتے دیکھا ہے،جبکہ بظاہر اپنے آستانے پر بھی موجود ہوتے تھے ۔
احقر کے جد امجد شیخ الحدیث والتفسیر بیہقی وقت امام المناظرین علامہ مفتی منظور احمد فیضی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: خواجہ غلام یٰسین قلندر کی نگاہ میں دنیا کی کوئی قدروقیمت نہ تھی واللہ باللہ ثم تاللہ ایسا تارک الدنیا ہم نے نہ دیکھا ،جائز طریقے سے دنیا آتی تھی تو بھی ٹھوکر مارتے تھے ۔ سادگی کایہ عالم تھا کہ ذرہ برابر بھی تصنع اور بناوٹ ونمود نہیں بڑی سادہ اور پیاری طبیعت تھی ۔
(مرج البحرین فی ذکر غوثین ص37،38)
علم و فضل:
شیخ الحدیث والتفسیر بیہقی وقت امام المناظرین علامہ مفتی محمد منظور احمد فیضی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:حضرت خواجہ غلام یٰسین صاحب رحمہ اللہ تعالی چونکہ پیدائشی طور پر مستوار تھے ،بحر مشاہدہ میں غرق رہتے تھے اور علوم وفنون واسرار کے جامع تھے ظاہر طور پر نہ مطالعہ کتب نہ سبق کو دہراتے اگر چہ ظاہری طور پر آپ کے والد خواجہ فیض محمد شاہجمالی نے آپ کو تمام علوم ظاہرہ واسرار باطنہ پڑھائے تھے اور فارغ التحصیل علامہ بنادیا بس والد حضور کے آگے کتاب کھول کر پڑھتے رہتے نہ پہلے مطالعہ نہ پھر کتاب بینی ۔ ایک دن تمام علماء وفضلاء تلمیذان شاہجمالی نے طے کیا کہ استاذ شاہجمالی محقق عالم ہیں آسمان علوم کے نیر اعظم ہیں اور ان کے بیٹے غلام یٰسین کا یہ حال ہے نہ مطالعہ نہ سبق دہرانا ، آج ان سے مناظرہ کریں منقول والے منقول میں خواجہ غلام یٰسین کو پکڑیں اور معقول والے علم معقول میں مواخذے اور سوالات کی بوچھاڑ کردیں چنانچہ علماء وفضلاء ایک طرف سے اور خواجہ غلام یٰسین اکیلے ایک طرف تھے آپ نے سب کو لاجواب کردیا پھر پتہ چلا یہ سب کچھ پڑھے ہوئے اور تمام علوم کے حافظ ہیں ۔
ایک دن فقیر فیضی سے خواجہ غلام یٰسین نے فرمایا میں نے ملاں دوست محمد قریشی دیوبندی سے مناظرہ کیا اور اس کو لاجواب کر دیا ۔
(مرج البحرین فی ذکر غوثین ص 22،23)
اولاد:
اللہ تعالی نے آپ کو تین صاحبزادے اور آٹھ صاحبزادیوں سے نوازا ـ
فرزند اکبر:
پیر طریقت رہبر شریعت خواجہ خواجگان عمدۃ الواصلین حضرت علامہ صاحبزادہ خواجہ پیر محمد عبدالحی شاہجمالی رحمۃ اللہ علیہ سجادہ نشین دربار شاہجمالیہ سندیلہ شریف ڈیرہ غازی خان آپ کا وصال 17 شعبان المعظم 1433ھ میں ہوا اپنے جد امجد کے پہلو میں آخری آرام گاہ بنی ۔
فرزند اوسط:
پیر طریقت جگر گوشہ قلندر وقت مستوار حافظ خواجہ پیر محمد فیض رسول شاہجمالی دامت برکاتہم موجودہ سجادہ نشین دربار شاہجمالیہ سندیلہ شریف
فرزند اصغر:
قلندر ابن قلندر پیر طریقت نوردیدہ شاہجمالی کریم تارک الدنیا حضرت خواجہ پیر تاج رسول شاہجمالی دامت برکاتہم
وصال:
آپ کا وصال پرملال 2 رجب المرجب 1412ھ سندیلہ شریف ضلع ڈیرہ غازی خان میں ہوا اپنے والد گرامی کے پہلو میں آرام فرمارہے ہیں ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/ghaus-e-zaman-hazrat-khuwaja-ghulam-yaseen-shah-jamali
scholars.pk
Ghaus E Zaman Hazrat Khuwaja Ghulam Yaseen Shah Jamali
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤2
رفیق ملت حضرت سید شاہ نجیب حیدر میاں نوری مد ظلہ العالی
سجادہ نشین، خانقاہ برکاتیہ، مارہرہ مطہرہ
تاریخ پیدائش:
حضرت سید نجیب حیدر میاں کی پیدائش 2 رجب المرجب 1396ھ بمطابق یکم جولائی 1976ء کو سنیچر کے دن ہوئی۔
تحصیلِ علم:
ابتدائی دینی تعلیم اپنے والد ماجد حضور احسن العلماء اور اپنی پھوپھیوں سے جبکہ بی۔اے اور ایم۔اے مارہرہ شریف سے کیا۔
بیعت و خلافت:
حضور رفیقِ ملت کے پیر و مرشد شہزادۂ اعلی حضرت حضور مفتی اعظم ہند قدس سرہٗ ہیں جبکہ اپنے والد ماجد حضور احسن العلماء سے خلافت حاصل ہے۔ وارث پنجتن حضرت سید یحییٰ حسن میاں نے بھی آپ کو خلافت عطا فرمائی۔
لقب:
حضور رفیق ملت کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے ۔
گدی:
حضرت نجیب میاں کو وارث پنجتن حضرت یحییٰ میاں نے اپنی حیات میں نوری گدی کا وارث بنا دیا تھا اس لیے آپ سجادۂ نوریہ پر متمکن ہیں۔ نوری گدی ملنے سے پہلے آپ حضور امین ملت کے نائب سجادہ نشین تھے۔
ولی عہد :
فرزند اکبر سید محمد حسن حیدر۔
خلفاء:
(۱)بڑے صاحب زادے سید حسن حیدر(۲)مفتی آفاق احمد صاحب مجددی ، قنوج (۳) مفتی محمد حنیف برکاتی، کانپور (۴)محمد اویس رضا صاحب قادری، پاکستان (۵ ) حاجی عبد الغفار پردیسی (۶) حاجی محمد عارف پردیسی (۷) مولانا مجیب اشرف صاحب (۸) مولانا صغیر احمد جوکھن پوری (۹) مفتی قلندر صاحب، کرناٹک وغیرہم۔
اہم خدمات:
❶ سلسلۂ برکاتیہ کا تبلیغی دوروں کے ذریعہ وسیع پیمانے پر اجراء ❷ ۲۰۰۲ء میںمارہرہ پبلک اسکول کا قیام ❸ ۲۰۱۲ میں مارہرہ شریف میں جامعہ احسن البرکات کا قیام ❹ ہند و بیرون ہند دعوتی و تبلیغی اسفار
بہ شکریہ:
البرکات اسلامک ریسرچ اینڈ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ، انوپ شہر روڈ،علی گڑھ
دعاؤں کا طالب:
محمد حسین مُشاہد رضوی
https://scholars.pk/ur/scholar/rafeeq-e-millat-syed-shah-najeeb-haider-miyan-barkati-qadri
سجادہ نشین، خانقاہ برکاتیہ، مارہرہ مطہرہ
تاریخ پیدائش:
حضرت سید نجیب حیدر میاں کی پیدائش 2 رجب المرجب 1396ھ بمطابق یکم جولائی 1976ء کو سنیچر کے دن ہوئی۔
تحصیلِ علم:
ابتدائی دینی تعلیم اپنے والد ماجد حضور احسن العلماء اور اپنی پھوپھیوں سے جبکہ بی۔اے اور ایم۔اے مارہرہ شریف سے کیا۔
بیعت و خلافت:
حضور رفیقِ ملت کے پیر و مرشد شہزادۂ اعلی حضرت حضور مفتی اعظم ہند قدس سرہٗ ہیں جبکہ اپنے والد ماجد حضور احسن العلماء سے خلافت حاصل ہے۔ وارث پنجتن حضرت سید یحییٰ حسن میاں نے بھی آپ کو خلافت عطا فرمائی۔
لقب:
حضور رفیق ملت کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے ۔
گدی:
حضرت نجیب میاں کو وارث پنجتن حضرت یحییٰ میاں نے اپنی حیات میں نوری گدی کا وارث بنا دیا تھا اس لیے آپ سجادۂ نوریہ پر متمکن ہیں۔ نوری گدی ملنے سے پہلے آپ حضور امین ملت کے نائب سجادہ نشین تھے۔
ولی عہد :
فرزند اکبر سید محمد حسن حیدر۔
خلفاء:
(۱)بڑے صاحب زادے سید حسن حیدر(۲)مفتی آفاق احمد صاحب مجددی ، قنوج (۳) مفتی محمد حنیف برکاتی، کانپور (۴)محمد اویس رضا صاحب قادری، پاکستان (۵ ) حاجی عبد الغفار پردیسی (۶) حاجی محمد عارف پردیسی (۷) مولانا مجیب اشرف صاحب (۸) مولانا صغیر احمد جوکھن پوری (۹) مفتی قلندر صاحب، کرناٹک وغیرہم۔
اہم خدمات:
❶ سلسلۂ برکاتیہ کا تبلیغی دوروں کے ذریعہ وسیع پیمانے پر اجراء ❷ ۲۰۰۲ء میںمارہرہ پبلک اسکول کا قیام ❸ ۲۰۱۲ میں مارہرہ شریف میں جامعہ احسن البرکات کا قیام ❹ ہند و بیرون ہند دعوتی و تبلیغی اسفار
بہ شکریہ:
البرکات اسلامک ریسرچ اینڈ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ، انوپ شہر روڈ،علی گڑھ
دعاؤں کا طالب:
محمد حسین مُشاہد رضوی
https://scholars.pk/ur/scholar/rafeeq-e-millat-syed-shah-najeeb-haider-miyan-barkati-qadri
scholars.pk
Rafeeq e Millat Syed Shah Najeeb Haider Miyan Barkati Qadri
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
مولانا احمد بخش صادق تونسوی
مولانا احمد بخش بن مولانا دین محمد بن مولانا عطاء اللہ بن مولانا حافظ محمد شفیع بن مولانا عبد الکریم بن مولانا عبد اللہ۔(علیہم الرحمہ) ـ
ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 1262ھ کو ڈیرہ غازی خاں میں ہوئی ۔ آپ کے مورث اعلیٰ بنوں سے نقل مکانی کرکے ڈیرہ غازی خاں تشریف لائے، آپ ’’بہلیم ‘‘ قوم سے تعلق رکھتے تھے۔ آپ نے ہوش سنبھالنے کےبعد اپنے نانا مولانا رحمت اللہ (مرید خاص حضرت خواجہ شاہ محمد سلیمان تونسوی) اور والد ماجدکے حضور زانوئے تلمذ تہ کیا، اور چودہ برس کی عمر میں تمام علوم نقلیہ و عقلیہ سے فراغت پائی ـ
آپ کو فقہ حنفی اور عربی ادب میں ید طولیٰ حاصل تھا ۔ چنانچہ ایک نعتیہ قصیدہ عربی زبان میں لکھ کر اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں کی خدمت میں ارسال کیا اور استدعا کی کہ اس قصیدہ کا پہلا شعر اپنے قلم سے تحریر فرما دیں، چنانچہ اعلیٰ حضرت نے آپ کی خواہش کی تکمیل فرماتے ہوئے، کئی اشعار میں بھی اصلاح بھی فرما دی ۔ یہ قصیدہ آپ کے کتب خانے میں بطورِ یادگار موجود ہے ۔
بیعت:
آپ کی بیعت حضرت خواجہ شاہ اللہ بخش تونسوی سے تھی، اور عرصے تک اپنے مرشد کے صاحبزادے حضرت خواجہ محمود کے ساتھ رہے ۔ آپ ان کے مشہور ’’مقدمہ تونسہ شریف‘‘ میں مختار خاص تھے ۔
1912ء کو جب خواجہ محمود صاحب نے ’’مدرسہ محمودیہ‘‘ کی بنیاد رکھی، تو آپ مدرسہ کے مہتممِ اول بنے،اور کئی سال تک دینِ متین کی خدمت سر انجام دیتے رہے ۔ بعد ازاں واپس گھر آکر ایک عظیم الشان مسجد کی بنیاد رکھی، اور اپنی تمام جائیداد فروخت کرکےمسجد کو پایۂ تکمیل تک پہنچایا۔
اجازت و خلافت:
آپ نے سند حدیث اور اجازت و خلافت کا شرف اعلیٰ حضرت امام اہل سنت امام احمد رضا خان محدث بریلوی رضی اللہ تعالی عنہ سے حاصل کیا، اور مسلک اہل سنت کی ترویج و اشاعت میں بھر پور سعی فرمائی ـ
آپ شعر و ادب سے خاص شغف رکھتے تھے۔’’صادقؔ‘‘ تخلص تھا۔’’ارضاء الجواد الکریم‘‘ اور ’’ہدیۃ الاعزۃ والاشراف بجواز تعمل بتلغراف‘‘ متعدد رسائل بھی تحریر فرمائے، جو شائع نہ ہو سکے ۔
وصال:
آپ کا وصال 2 رجب المرجب 1364ھ مطابق 13 جون 1945ء بروز کو ہوا، اور اپنی تعمیر کردہ مسجد کے صحن میں مدفون ہیں ۔ آپ کا مزار پر انوار’’جامع مسجد احمد بخش‘‘ بلاک 12، ڈیرہ غازی خاں میں زیارت گاہ ِ خاص و عام ہے ۔
ماخوذ از:
تذکرہ خلفائےاعلیٰ حضرت، ص:125، از مولانا محمد صادق قصوری ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/molana-ahmad-bakhsh-sadique-tunsvi
مولانا احمد بخش بن مولانا دین محمد بن مولانا عطاء اللہ بن مولانا حافظ محمد شفیع بن مولانا عبد الکریم بن مولانا عبد اللہ۔(علیہم الرحمہ) ـ
ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 1262ھ کو ڈیرہ غازی خاں میں ہوئی ۔ آپ کے مورث اعلیٰ بنوں سے نقل مکانی کرکے ڈیرہ غازی خاں تشریف لائے، آپ ’’بہلیم ‘‘ قوم سے تعلق رکھتے تھے۔ آپ نے ہوش سنبھالنے کےبعد اپنے نانا مولانا رحمت اللہ (مرید خاص حضرت خواجہ شاہ محمد سلیمان تونسوی) اور والد ماجدکے حضور زانوئے تلمذ تہ کیا، اور چودہ برس کی عمر میں تمام علوم نقلیہ و عقلیہ سے فراغت پائی ـ
آپ کو فقہ حنفی اور عربی ادب میں ید طولیٰ حاصل تھا ۔ چنانچہ ایک نعتیہ قصیدہ عربی زبان میں لکھ کر اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں کی خدمت میں ارسال کیا اور استدعا کی کہ اس قصیدہ کا پہلا شعر اپنے قلم سے تحریر فرما دیں، چنانچہ اعلیٰ حضرت نے آپ کی خواہش کی تکمیل فرماتے ہوئے، کئی اشعار میں بھی اصلاح بھی فرما دی ۔ یہ قصیدہ آپ کے کتب خانے میں بطورِ یادگار موجود ہے ۔
بیعت:
آپ کی بیعت حضرت خواجہ شاہ اللہ بخش تونسوی سے تھی، اور عرصے تک اپنے مرشد کے صاحبزادے حضرت خواجہ محمود کے ساتھ رہے ۔ آپ ان کے مشہور ’’مقدمہ تونسہ شریف‘‘ میں مختار خاص تھے ۔
1912ء کو جب خواجہ محمود صاحب نے ’’مدرسہ محمودیہ‘‘ کی بنیاد رکھی، تو آپ مدرسہ کے مہتممِ اول بنے،اور کئی سال تک دینِ متین کی خدمت سر انجام دیتے رہے ۔ بعد ازاں واپس گھر آکر ایک عظیم الشان مسجد کی بنیاد رکھی، اور اپنی تمام جائیداد فروخت کرکےمسجد کو پایۂ تکمیل تک پہنچایا۔
اجازت و خلافت:
آپ نے سند حدیث اور اجازت و خلافت کا شرف اعلیٰ حضرت امام اہل سنت امام احمد رضا خان محدث بریلوی رضی اللہ تعالی عنہ سے حاصل کیا، اور مسلک اہل سنت کی ترویج و اشاعت میں بھر پور سعی فرمائی ـ
آپ شعر و ادب سے خاص شغف رکھتے تھے۔’’صادقؔ‘‘ تخلص تھا۔’’ارضاء الجواد الکریم‘‘ اور ’’ہدیۃ الاعزۃ والاشراف بجواز تعمل بتلغراف‘‘ متعدد رسائل بھی تحریر فرمائے، جو شائع نہ ہو سکے ۔
وصال:
آپ کا وصال 2 رجب المرجب 1364ھ مطابق 13 جون 1945ء بروز کو ہوا، اور اپنی تعمیر کردہ مسجد کے صحن میں مدفون ہیں ۔ آپ کا مزار پر انوار’’جامع مسجد احمد بخش‘‘ بلاک 12، ڈیرہ غازی خاں میں زیارت گاہ ِ خاص و عام ہے ۔
ماخوذ از:
تذکرہ خلفائےاعلیٰ حضرت، ص:125، از مولانا محمد صادق قصوری ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/molana-ahmad-bakhsh-sadique-tunsvi
❤1