🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت مولانا عبد الغنی پھلواری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

ولادت:
1 رمضان 1190ھ

عبد الغنی نام، حضرت مولانا عبد المغنی پھلواروی کے فرزند یکم رمضان المبارک ۱۱۹۰ھ کو آپ کی ولادت ہوئی، درسیات کی تکمیل مفتی برکت علی عظیم آبادی سے کی، مفتی صاحب حضرت مولانا شاہ نظام الدین فرنگی محلی کے تلمیذ التلمیذ اور نامور عالم تھے ـ

مولانا عبد الغنی کو اس قدر شوق علم تھا کہ روزانہ ۳۲ میل پا پیادہ پٹنہ جاکر مفتی صاحب سے تحصیل علم کرتے، اور راستہ میں قرآن مجید حفظ کرتے، فراغت کے بعد تا زندگی مدرسہ مسجد سنگی میں تدریس کے فرائض انجام دیتے رہے، آپ کا سلسلۂ فیض کانی وسیع ہوا۔ آپ کو بیعت حضرت مخدوم شاہ حسن علی عظیم آبادی منعمی قدس سرہٗ سے تھی، اور انہیں سے خلافت بھی پائی تھی ـ

تصنیفات:
مواطن التنزیل عوامص فتوحات مکیہ (۲) حاشیہ صدرا (۳) حاشیہ شرح مسلم، حاشیہ خیالی وتلویح، ۔۔۔۔۔۔یکم رجب المرجب ۱۲۷۲ھ کو آپ کا وصال ہوا ـ

وصال:
1 رجب المرجب 1272ھ

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-abdul-ghani-phulwari
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
فقیہِ اعظم حضرت علامہ مفتی محمد نور اللہ نعیمی رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
اسمِ گرامی:
علامہ مفتی محمد نور اللہ نعیمی بصیر پوری ۔ کنیت: ابو الخیر ۔لقب: فقیہِ اعظم ۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
فقیہِ اعظم مولانا مفتی نور اللہ بصیر پوری بن حضرت علامہ مولانا الحاج ابو النور محمد صدیق چشتی بن حضرت مولانا احمد دین ۔ علیہم الرحمہ ۔

آپ کا تعلق ارائیں خاندان کے ایک ایسے علمی و روحانی گھرانے سے ہے، جونسلاً بعد نسل علوم اسلامیہ کا امین چلا آرہا ہے ۔

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 16 رجب المرجب 1332ھ، مطابق 10 جون 1914ء کو تحصیل دیپالپور ضلع ساہیوال پنجاب میں ہوئی ۔

تحصیلِ علم:
ابتدائی تعلیم اپنے والد ماجد زبدۃ الاصفیاء مولانا ابو النور محمد صدیق چشتی علیہ الرحمۃ (م 1380ھ/1961ء) اور جد امجد حضرت مولانا احمد دین علیہ الرحمہ (م1361ھ/1942ء) سے علوم عقلیہ و نقلیہ کی تحصیل کی، پھر متحدہ ہندوستان کے مختلف مدارس کا رُخ کیا اورخداداد صلاحیت، ذاتی لگن اور محنت کی بنا پر علم کے کوہ ہمالیہ بن گئے۔علوم عقلیہ و نقلیہ حاصل کرنے کے بعد 1351ھ/1933ء میں مرکزی دار العلوم حزب الاحناف لاہور میں داخلہ لیا، جہاں شیخ الحدیث والتفسیر حضرت مولانا سید محمد دیدار علی شاہ الوری علیہ الرحمہ (م1354ھ/1935ء) اور مفتیٔ اعظم پاکستان مولانا ابو البرکات سید احمد قادری علیہ الرحمۃ (م 1398ھ / 1978ء) سے دورہ حدیث شریف پرھا ۔

حضرت محدث الوری علیہ الرحمہ دورۂ حدیث پڑھنے والوں کو اکثر فرمایا کرتے۔ "اس بار تم مولانا محمد نور اللہ صاحب کی طفیل پڑھ رہے ہو"۔

دورۂ حدیث مکمل کرنے کے بعد 6 شعبان 1352ھ / بمطابق 23 نومبر 1933ء کو سندو دستار فضیلت عطا کی گئی ۔ اس موقع پر امام اہل سنت محدث الوری علیہ الرحمۃ نے آپ کو مطبوعہ سند کے علاوہ خصوصی اسناد سے بھی نوازا اور"ابو الخیر" کنیت عطا فرمائی ۔

بیعت و خلافت:
آپ صدر الافاضل بدر المماثل مفسر قرآن، محافظ نظریۂ پاکستان حضرت علامہ مفتی سید نعیم الدین مراد آبادی رحمۃ اللہ علیہ کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے، اور تمام علوم و سلاسل کی اجازت سے مشرف ہوئے ۔

سیرت و خصائص:
مجمع علم عرفاں، شیخ الحدیث والتفسیر، حجۃ الاسلام، محدث دوراں، فقیہ العصر، فقیہ النفس، مفتیِ اعظم، حضرت فقیہ اعظم ابو الخیر مفتی محمد نور اللہ نعیمی بصیر پوری رحمۃ اللہ علیہ ۔

آپ بلا شبہ اللہ تعالیٰ کے ان مقبول اور برگزیدہ بندوں میں سے ہیں، جن کا دوام جریدۂ عالم پرثبت ہو چکا ہے ۔ اعلیٰ اوصاف اور متنوع القاب میں سے "فقیہ اعظم" کا لقب زبان زد خاص و عام ہے ۔ اب فقیہ اعظم کہا جائے تو اہل علم اس سے آپ ہی کی ذات گرامی مراد لیتے ہیں ۔ حضرت فقیہ اعظم نے اپنی فطری ذکاوت و ذہانت سے زمانہ طالب علمی میں ذاتی مطالعہ سے کم و بیش پچاس و فنون میں وہ مہارت حاصل کی کہ باید و شاید۔ آپ کے اساتذہ بھی کی علمی استعداد اور صلاحیت و قابلیت کے متعرف تھے ۔

حضرت فقیہ اعظم قدس سرہ العزیز نے تعلیم سے فراغت کے فوراً بعد درس و تدریس کا سلسلہ شروع کر دیا تھا۔ حضرت فقیہ اعظم قدس سرہ العزیز اپنے دور کی نادر روزگار شخصیت تھے، علم و فضل، تقویٰ و طہارت، تنظیم و سیاست اور ہمت و استقامت میں یکتائے روزگار تھے۔ یوں تو تفسیر، حدیث اور دیگر تمام مروج علومِ دینیہ میں کامل دسترس رکھتے تھے لیکن فقہ میں آپ کو تخصص کا درجہ حاصل تھا، اس لیے آپ کےہم عصر اکابر علماء نے آپ کو" فقیہ اعظم" تسلیم کیا ۔

حضرت فقیہ اعظم قدس سرہ العزیز فتویٰ نویسی میں غیر معمولی مہارت رکھتے تھے، آپ کی ذات مرجع خلائق تھی، ملک و بیرون ملک کے لوگ استفتاء ات میں آپ کی طرف رجوع کرتے۔ ایک فقیہ اور مفتی کے لیے جن خصوصیات کا ہونا ضروری ہے وہ تمام تر آپ میں بہ درجہ اتم پائی جاتی تھیں ۔ آپ کو اللہ جل شانہ نے مجتہدانہ صلاحیتیں ودیعت فرمائی تھیں ۔

موجودہ دور کے چیلنجوں کانہ صرف مقابلہ کیا بلکہ شریعت کی روشنی میں ان کاحل بھی پیش کیا ۔ ان کا چنانچہ ایک جگہ علماء کو دعوت فکر و عمل دیتے ہوئے رقم طراز ہیں:"کیا تازہ حوادثات و نوازل کے متعلق احکام شرعی موجود نہیں کہ ہم بالکلصُمٌّ بُکۡمٌبن جائیں اور عملاً اغیار کے ان کافرانہ مزعومات کی تصدیق کریں کہ معاذ اللہ اسلام فرسودہ مذہب ہے۔ اس میں روز مرہ ضروریات زندگی کے جدید ترین ہزارہا تقاضوں کا کوئی حل نہیں۔ یہ حقیقت بھی اظہر من الشّمس ہے کہ کسی ناجائز اور غلط چیز کو اپنے مقاد و منشاء سے جائز و مباح کہنا ہر گز جائز نہیں مگر شرعاً اجازت ہو تو عدم جواز کی رٹ لگانا بھی جائز نہیں، غرض یہ کہ ضد اور نفس پرستی سے بچنا نہایت ضروری ہے۔ کیا ہی اچھا ہو کہ ہمارے ذمہ دار علمائے کرام محض اللہ تعالیٰ کے لیے نفسانیت سے بلند و بالا سر جوڑ کر بیٹھیں اور ایسے جزئیات کے فیصلے کریں مگر بظاہر یہ توقع تمنا کے حدود طے نہیں کر سکتی اور یہی انتشار آزاد خیالی کا باعث بن رہا ہے۔" (فتاویٰ نوریہ، جلد 3، صفحہ 533) ـ
1
حضرت فقیہ اعظم اعلیٰ اخلاق و کرادار کے حامل تھے۔ ان کے قول و فعل  میں کامل ہم آہنگی تھی۔ آپ با وقار، بارعب اور پر کشش شخصیت کے حامل تھے۔ آپ بچوں پر رحمت، طلبہ پر شفقت اور بزرگوں سے مودّت فرمایا کرتے تھے۔ اخلاقیات میں صاحب خلق عظیم کے مظہر اتم تھے۔ شخصیت کے اعتبار سے دیکھا جائے تو آپ کی ذات شرافت و منانت، جرات و استقلال، ہمدردی، خیر خواہی، حلم و برد باری، بے لوثی و فرض شناسی، عالی ظفر،علم و عمل، تواضع و انکسار خشیت الہیہ جیسی صفات سے متصف تھی۔ آپ سلف صالحین کی کامل تصویر تھے۔

آپ کی زندگی کی خصوصیات میں اہم بات یہ ہے کہ آپ سادہ منش، کم گو، دل کے کھرے اور شہرت و ذاتی نمائش سے بے نیاز تھے۔ شہری زندگی کے ہمہموں اور ظاہریت کے رکھ رکھاؤ سے دور، فطری اور صاف ستھرے ماحول میں رہ کر دین متین کی بے لوث خدمت کرتے ہوئے زندگی بسر کر ڈالی۔ درس و تدریس، فتویٰ نویسی، خطابت و امامت اور بہت بڑے ادارے کے جملہ انتظامی امور کی نگہداشت کے عوض تنخواہ یا اجرت لینے کے روادارنہ ہوئے بلکہ جملہ دینی خدمات محض رضائے الہی کی خاطر مفت سر انجام دیتے رہے۔انہی اوصاف کے پیش نظر استاذ الاساتذہ حضرت علامہ عطا محمد بندیالوی علیہ الرحمۃ نے آپ کو "مجدد وقت" قرار دیا۔ شیخ القرآن علامہ عبد الغفور ہزاروی علیہ الرحمہ نے آپ کو "آیت من آیات اللہ" کہا اور شہباز خطابت زادہ سید فیض الحسن شاہ صاحب علیہ الرحمہ (آلو مہار شریف) نے آپ کو "دور حاضر کا امام ابو حنیفہ" قرار دیا ۔

حضرت فقیہ اعظم فنافی الرسول ﷺ اور فنافی حب المدینہ تھے۔ آپ کی محفل میں حاضری سے شرف یاب ہونے والے اس حقیقت سے بخوبی واقف ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ کے ذکر سےآنکھوں سے آنسؤوں کے چشمے ابلنے لگتے، ایسا محسوس ہوتا کہ محبوب پاک ﷺ کے جمال جہاں آراء کے دیدار میں محو ہیں۔ مولانا حافظ محمد اسد اللہ نوری کے نام ایک مکتوب گرامی میں اسی حقیقت کو یوں منکشف فرماتے ہیں: "میرا تو بفضلہٖ تعالیٰ یہ عالم ہے کہ بصیر پور میں درس اسباق دیتے ہوئے مدینہ عالیہ میں ہی حاضر معلوم ہوتا ہوں۔ گنبد خضراء پیش نظر رہے تو کوئی دوری نہیں ۔ تعلیم بھی نہایت ضروری ہے کہ صوفی بے علم شیطان کا مسخرہ ہوتا ہے، ورنہ دل یہی چاہتا ہے کہ ہر وقت مدینہ عالیہ حاضری رہے"۔ (مکتوب محررہ، 18 - اکتوبر 1979ء) کئی بار ایسا بھی ہوا کہ ظاہری بے سرو سامانی کے باوجود بارگاہ حبیب ﷺ سے بلاوا آ گیا، اور مدینۃ المنورہ میں بارگاہِ حبیب ﷺ میں حاضر ہو گئے ۔

تاریخِ وصال:
یکم رجب المرجب 1403ھ بمطابق 15 اپریل 1983ء، بروز جمعۃ المبارک، دو پہر ایک بجے وصال فرمایا۔آپ کی آخری آرامگاہ بصیر پورشریف ضلع ساہیوال پنجاب پاکستان میں ہے ۔

ماخذ و مراجع: روشن دریچے ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-mufti-muhammad-noorullah-naeemi
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت خواجہ قطب الدین مودود چشتی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

آپ مادر زاد ولی تھے قطب الاقطاب اور قطب الدین لقب پایا تھا۔ شمع صوفیاء اور چراغ چشتیہ کے خطابات سے نوازے گئے تھے۔ یگانۂ روزگار محبوب پروردگار۔ صاحب الاسرار اور مخزن الانور تھے۔ خرقۂ خلافت اپنے والد بزرگوار سے حاصل کیا تھا۔ وہ اکثر ہوا میں پرواز کرکے جہاں چاہتے چلے جایا کرتے تھے۔ سات سال کی عمر میں قرآن پاک حفظ کرلیا اورسولہ سال کی عمر میں علوم دینیہ سے فارغ ہوگئے، آپ کی تصانیف میں سے منہاج العارفین اور خلاصۃ الشرقیہ بہت مشہور ہیں، آپ کی عمر انتیس سال تھی کہ والد ماجد کا انتقال ہوگیا۔ آپ سجادۂ نشین بنے اور مخلوق کی ہدایت میں مصروف ہوگئے۔ چنانچہ بیت المقدس سے چشت تک اور بلخ و بخارا کے علاقوں کی سیر کی ، آپ کے ایک ہزار خلفاء مشہور ہوئے۔ اور آپ کے مریدوں کی تعداد کا کوئی شمارنہیں۔ دنیا کے کسی حصّے پر آپ کے کسی مرید کوکوئی مشکل پیش آتی آپ مدد کے لیے وہاں پہنچتے، آپ کی وفات کے بعد بھی جو شخص آپ کے مزار پر تین دن کے لیے حاضر ہوتا اور دعا کرتا تو اُس کی مشکل حل ہوجاتی، آپ کے بہت بیٹے تھے۔ چنانچہ خطہ پاک چشت سے آپ کی اولاد کی کئی شاخیں دنیا میں پھیلیں۔

خواجہ مودود چشتی رحمۃ اللہ علیہ کو کعبہ کے طواف کرنے کا شوق پیدا ہوتا تو وہ ہوا میں اُڑ کر فوراً مکہ شریف پہنچ جاتے۔ طواف کرتے اور اسی دن واپس آجاتے۔ حضرت شیخ احمد جام زندہ پیل بڑے مشہور ولیوں میں ہوئے ہیں انہوں نے جب خواجہ ابویوسف چشتی رحمۃ اللہ علیہ کی وفات کی خبر سنی، تو آپ خواجہ مودود کے پاس چشت کی طرف روانہ ہوئے، آپ کے دشمنوں نے آپ کے خلاف حضرت مودود چشتی کو یہ خبر پہنچائی کہ خواجہ احمد جام آپ کی ولایت پر قبضہ کرنے آ رہے ہیں۔ یہ بات سنتے ہی خواجہ مودود چشتی نے مراقبہ کیا اور چند لمحوں کے بعد سر اُٹھا کر فرمایا کہ یہ بات بالکل غلط ہے۔ شیخ احمد جان تو محبت و خلوص سے آرہے ہیں چنانچہ خواجہ نے فوری طور پر ایک دیوار کو حکم دیا کہ وہ گھوڑے کی طرح تیز دوڑ کر شیخ احمد جام کا استقبال کرے اور انہیں لائے۔ شیخ مودود چشتی چار ہزار اولیاء اور خلفاء کو لے کر استقبال کے لیے آگے بڑھے۔ شیخ احمد جام شیر پر سوار ہوکر دریائے نوتک کے کنارے پر کھڑے تھے۔ دونوں کا آمنا سامنا ہوا۔ دونوں اپنی سواریوں سے نیچے آگئے اور ایک دوسرے سے بغل گیر ہوئے، دیر تک بیٹھے، گفتگو کرے رہے، وہاں سے خواجہ علی حکیم جو خواجہ مودود چشتی کا معتقد تھا کے گھر تشریف لے گئے، تین دن تک مجلس سماع منعقد رہی۔ دونوں حضرات وجد میں جھومتے رہے۔ بے غیرت دشمنوں نے شیخ احمد کی تشریف آوری کی خبر دوسرے انداز میں پیش کی تھی۔ اب یہ لوگ موقع غنیمت جان کر مجلسِ سماع میں چلے آئے۔ وہ چاہتے تھے کہ شیخ احمد جام کو تلوار سے ہلاک کردیں۔ مگر اسی اثناء میں خواجہ موجود چشتی کی نگاہِ غضب ان پر ایسی پڑی کہ تمام بے ہوش ہوکر تڑپنے لگے۔ جب مجلس ختم ہوئی تو شیخ احمد جام نے ان بے ہوشوں کی حالت دریافت کی تو حضرت خواجہ مودود نے سارا واقعہ سنادیا۔ شیخ احمد جام نے ان کا جرم معاف کردیا، اُن کی پشت پر دستِ شفقت پھیرا تو اُن کو ہوش آیا۔ دونوں بزرگوں کے پاؤں پر گر پڑے۔ شیخ احمد جام حضرت خواجہ مودود دونوں خلوت میں رہے۔ دونوں حضرات نے ایک دوسرے سے استفادہ کیا، کچھ دنوں بعد اپنی اپنی خانقاہ کی طرف تشریف لے گئے۔

ہم یہاں بتا دینا چاہتے ہیں کہ نفحات الانس کے مصنف نے اس واقعہ کو دوسری طرح نقل کیا ہے۔ لیکن ہم نے جو واقعہ بیان کیا ہے وہ حضرت خواجہ مودود چشتی رحمۃ اللہ علیہ کے ملفوظات میں لکھا ہوا دیکھا ہے، خواجہ مودود چشتی رحمۃ اللہ علیہ جب شیخ احمد جام سے رخصت لے کر چشت کی طرف لوٹے تو راستے میں پہاڑ کے دامن میں ایک ایسے شخص کو دیکھا جو یا مودود کا ورد کر رہا تھا۔ اُس سے پوچھا گیا تو اُس نے بتایا کہ میں ایک عرصہ سے نابینا تھا۔ ایک دن میں نے اللہ کی باگارہ میں بینائی کے لیے دعا کی تو مجھے غیب سے آواز آئی کہ خواجہ مودود میرے محبوب ہیں اُن کے نام کا ورد کیا کرو، ایک وقت آئے گا کہ ان کی برکت سے بینائی مل جائے گی حضرت خواجہ مودود نے جب یہ بات سنی تو اپنا لعاب دہن اس کی آنکھوں پر ملا، وہ اُسی وقت بینا ہوگیا۔

حضرت خواجہ مودود چشتی رحمۃ اللہ علیہ جب بلخ میں پہنچے تو وہاں کے علماء نے آپ کی بڑی مخالفت کی، مسئلہ سماع پر مناظرہ کرنے کے لیے ایک عظیم الشان اجلاس کیا اس مجلس میں علمائے بلخ نے جتنے سوالات اُٹھائے حضرت خواجہ مودود نے اُن کے جواب دیے، اور فرمایا ہم خواجہ ابراہیم بن ادھم رحمۃ اللہ علیہ کی سنت پر قائم ہیں وہ ہمارے پیر تھے اور سماع سنا کرتے تھے۔ علماء نے جواب میں کہا کہ خواجہ ابراہیم ادھم پیر کامل تھے۔ وہ ہوا میں اُڑا کرتے تھے ۔ ان کا سماع سننا جائز ہے مگر آپ ایسا نہیں کرسکتے۔ حضرت خواجہ مودود چشتی اُسی وقت مجلس سے اُٹھے اور تیز پرندے کی طرح ہوا میں پرواز کرنے لگے۔ علماء کی نظروں سے غائب ہوگئے، کچھ وقت گزرنے کے بعد واپس آئے اور
1
مجلس میں آکر یوں بیٹھ گئے کہ کسی کو خبر تک نہ ہوئی اہل مجلس میں شور برپا ہوگیا۔ اس مجلس میں دو ہزار لوگ موجود تھے تمام کے تمام آپ کے مرید ہوگئے۔ مگر اس کے باوجود بعض ضدّی علماء اصرار کرتے رہے کہ ہمیں اس پرواز پر اعتبار نہیں۔ایسا کام تو بعض جوگی بھی کرلیتے ہیں۔ ہم اس وقت مانے گے جب جامع مسجد کے حوض پر پڑا ہوا بڑا پتھر آپ کی ولایت کی گواہی دے ، پھر ہم آپ کے مرید ہوجائیں گے۔ حضرت خواجہ نے انگشت شہادت سے پتھر کی طرف اشارہ کیا وہ پتھر اپنی جگہ سے ہلا اور لیٹے لیٹے حضرت خواجہ کے پاس آکر رک گیا۔ پتھر سے آواز آئی، اے خواجہ مودود آپ کی ولایت پر کوئی شک نہیں، آپ کے اقوال شرع پیغمبر کے مطابق ہیں۔ بلخ کے علماء نے جب یہ کرامت دیکھی تو حضرت خواجہ مودود کے قدموں میں گر پڑے اپنی غلطی کی معافی مانگی۔

یاد رکھیں کہ خواجہ مودود چشتی رحمۃ اللہ علیہ کے ایک ہزار مشہور خلفاء تھے، جن میں اکثر اولیاء کبار اور مشائخ والاتبار تھے۔ اگر ان کے اسماء گرامی لکھیں جائیں تو ایک علیحدہ کتاب درکار ہوگی، ہم تبرکاً یہاں صرف آٹھ بزرگوں کے نام لکھتے ہیں۔ پہلے آنجناب کے فرزند ارجمند خواجہ ابواحمدر حمۃ اللہ علیہ ہیں جو آپ کی وفات کے بعد سجادہ نشین بنے اور طلباء حق کو تربیت کرتے رہے۔ دوسرے خواجہ حاجی شریف زندنی رحمۃ اللہ علیہ تھے آپ قطب الوقت بھی تھے اور غوث زمانہ بھی تیسرے شاہ سنجان تھے جن کا پہلے نام خواجہ سنجان تھا پھر انہیں خواجہ بزرگوار کا خطاب ملا، چوتھے ابو نصیر شکیبان زہاد تھے آپ سیطستان کے اکابر مشائخ میں شمار ہوتے ہیں۔ پانچواں شیخ حسن تبتی ہیں جو پانچویں کوہِ تبت میں سکونت رکھتے تھے چھٹے احمد بد رون تھے جو موضع بد رون میں سکونت پذیر تھے۔ ساتواں خواجہ سبز پوش آزر بائی جانی تھے آٹھویں عثمان روحی تھے۔ آپ کو حضرت بایزید بسطامی کے سلسلۂ عالیہ سے بھی خلافت ملی تھی نویں خواجہ ابوالحسن بانی تھے رحمۃ اللہ علیہم اجمعین۔

جب حضرت خواجہ مودود رحمۃ اللہ علیہ مرض موت میں صاحب فراش ہوئے۔ روز بروز مرض بڑھتا جاتا تھا، وفات کے دن بار بار اپنے دروازے کی طرف دیکھتے تھے ہر بار سرہانے سے سر اُٹھاتے جیسے کسی بڑے پیارے کے آنے کا انتظار ہو، اسی اثناء میں ایک شخص نورانی چہرے اور پاکیزہ لباس کے ساتھ اندر آیا۔ سلام ادا کرنے کے بعد ریشمی کپڑے کا ایک ٹکڑا پیش کیا، جس پر سبز خط سے چند سطریں لکھی ہوئی تھیں حضرت خواجہ نے اس کپڑے کو ایک نظر دیکھا اور اپنی آنکھوں پر رکھا اور جان اللہ کے حوالے کردی، تجہیز و تکفین کے بعد لوگ نماز جنازہ ادا کرنے لگے تو ایک ہیبت ناک آواز آئی جس کی دہشت سے لوگ درہم برہم ہوگئے، بہت سے رجال الغیب پہنچے، پہلے انہوں نے نماز جنازہ ادا کی، ان کے بعد جن اور دیو آنے لگے، پھر ہزاروں پری زاد پہنچنے شروع ہوئے، وہ نماز جنازہ پڑھتے جاتے اس کے بعد آپ کے بے شمار مرید خلفاء چھوٹے بڑے نماز جنازہ ادا کرتے رہے۔ جب سب لوگ فارغ ہوئے تو جنازے کا تابوت خود بخود اٹھا اور قبر تک جا پہنچااس کرامت کو دیکھ کر دس ہزار ایسے لوگ جو اسلام سے بیگانہ تھے، مشرف با سلام ہوئے۔ حضرت خواجہ مودود چار سو تیس ہجری میں پیدا ہوئے اور آپ یکم رجب المرجب ۵۲۵ھ میں فوت ہوئے۔

صاحبِ مودود والی پیشوا
۵۲۷ھ

ہم شہِ محمود دین مودود خواں
۵۲۷ھ

انتقال از سرور والادعا
رحلت آں بادشاہ اتقیاء

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-qutbuddin-maudood-chishti
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
قاضی ثناء اللہ پانی پتی رحمۃ اللہ علیہ

نام ونسب:
اسم گرامی:
قاضی محمد ثناء اللہ پانی پتی رحمۃ اللہ علیہ ۔ لقب: قاضی الاسلام ۔ بیہقی وقت، علم الہدیٰ، مفسر قرآن، فقیہ اعظم ۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
قاضی محمد ثناء اللہ پانی پتی بن مولانا محمد حبیب اللہ بن مولانا ہدایت اللہ بن مولانا عبدالہادی،بن سعیدالدین بن شیخ عبدالقدوس بن شیخ خلیل اللہ بن مفتی عبد السمیع بن شیخ حسین بن خواجہ محفوظ بن خواجہ احمد بن خواجہ ابراہیم بن مخدوم خواجہ شیخ جلال الدین کبیرالاولیاء پانی پتی۔علیہم الرحمہ۔

آپ کا سلسلہ نسب حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ تک منتہی ہوتا ہے۔

حضرت قاضی صاحب علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: حضرت کبیر الاولیاء پانی پتی نے اپنے صاحبزادے شیخ ابراہیم کو بشارت دی تھی کہ تمھاری نسل میں ہمیشہ علماء پیدا ہوتے رہیں گے ۔ قاضی صاحب فرماتے ہیں: حضرت کی بشارت کےعین مطابق اب تک یہ سلسلہ اس خاندان میں قائم ہے ۔ حضرت قاضی صاحب کاننھیال پانی پت کاانصارخاندان ہے۔جن کاسلسلہ نسب حضرت میزبان رسول حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ تک منتہی ہوتا ہے۔

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت کی تاریخ خاموش ہے، البتہ قیاس وغیرہ سے 1144ھ، تا 1140ھ کےمابین متعین ہوتاہے۔ پانی پت آپ کی جائے پیدائش ہے۔ (تذکرہ قاضی ثناء اللہ پانی پتی:63)

تحصیلِ علم:
آپ کاخاندان علم وفضل میں مشہورتھا۔ابتدائی تعلیم اپنےگھر پرہوئی۔آپ نےسات سال کی عمر میں قرآن مجید مکمل فرمالیا۔اس کےبعد آپ نےقرآتِ عشرہ کی تحصیل وتکمیل فرمائی اس فن میں کمال ومہارت کا اندازہ تفسیر مظہری کےمطالعے سےکیا جا سکتا ہے ۔ شاید اس فن میں کوئی تفسیر "تفسیرمظہری" کامقابلہ کرسکے۔ قرأتِ عشرہ کی تکمیل وتحصیل دیگر اساتذہ کے علاوہ شیخ قاری صالح المصری علیہ الرحمہ سےفرمائی ۔ تکمیل قرآن کےبعد قاضی صاحب نےابتدائی کتب اپنے والدِ گرامی مولانا قاضی محمد حبیب اللہ اور برادر اکبر قاضی محمد فضل اللہ سے پڑھیں ۔ ان کےعلاوہ دیگر پانی کے دیگر اساتذہ سےعلمی استفادہ کیا ۔ پانی پت کےمدارس میں تکمیل کرنے کے بعد مزید حصولِ علم کےلئے حضرت مرزا مظہر جانِ جاناں علیہ الرحمہ اورشیخ المحدثین حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی علیہ الرحمہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اوران دونوں نابغۂ روزگار شخصیات سےتمام علوم اور بالخصوص فن حدیث وتفسیر اور تصوف میں کمال حاصل کیا۔

بیعت و خلافت:
ابتداً شیخ محمد عابد سنامی علیہ الرحمہ سے بیعت ہوئے، پھران کے وصال کے بعد شیخ مرزا مظہر جان جاناں علیہ الرحمہ کی خدمت میں رہ کر فیض حاصل کیا ۔ انہوں نے آپ کو تمام اسانید و سلاسل کی اجازت عطاء فرمائی۔

سیرت و خصائص:
قاضی الاسلام، مفسر قرآن، جامع علوم عقلیہ ونقلیہ، جامع شریعت و طریقت، فقیہ الاعظم، بیہقیِ عصر،صاحبِ علم الہدیٰ، امام العلماء، شیخ الاتقیاء، صاحبِ معارف اسرار ربانی حضرت قاضی محمد ثناء اللہ پانی پتی رحمۃ اللہ علیہ۔آپ رحمۃ اللہ علیہ اپنے وقت کےایک عظیم مفسر و محدث اور فقیہ کامل تھے۔ تمام علوم و فنون میں کمال مہارت حاصل تھی ۔ پانی پت میں قاضی اسلام کے منصب پر فائز تھے ۔ خاتم المحدثین شیخ المحققین حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی علیہ الرحمہ آپ کےتبحر علمی ،اورفنِ حدیث میں مہارت کےپیشِ نظر آپ کو"بیہقیِ وقت"اور امام الاولیاء رئیس الاتقیاء حضرت مرزاجانِ جاناں علیہ الرحمہ نےآپ کو "علم الہدیٰ" کا خطاب عطاء فرمایا۔ آپ کی تربیت میں سب سےزیادہ حصہ حضرت مرزاجانِ جاناں علیہ الرحمہ کاہے۔ ان کی تربیت نےآپ کو"مجمع البحرین"بنادیا۔

جب حضرت نےآپ کوسلوک کی تمام منازل طےکرا دیں تو فرمایا تم شیخ محمد اعظم بچھراؤنی خلیفہ اعظم شیخ محمد افضل سیالکوٹی کی خدمت میں جاؤ، جو کمالات مجھ سےحاصل کیےہیں ان کےآئینہ باطن پرپیش کرو،کیونکہ وہ انتہائی متقی اورصاحبِ کشف بزرگ تھے۔جب ا ن کی خدمت میں پہنچے تو انہوں نے فرمایا: "اس شخص کی شان بہت عظیم ہے، اور اس پرکسی اور کو قیاس نہیں کیا جاسکتا"۔ (ایضاً)۔ اس عبارت سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ حضرت قاضی صاحب علیہ الرحمہ کس قدرروحانی مراتب کےحامل تھے۔یہی وجہ ہے حضرت مرزاجان جاناں علیہ الرحمہ فرمایا کرتے تھے: "قیامت کےدن بارگاہِ خداوندی میں اپنےنامۂ اعمال میں حضرت قاضی صاحب کوپیش کردونگا"۔حضرت قاضی ثناء اللہ پانی پتی علیہ الرحمہ ایک ثقہ اورمتدین عالمِ دین تھے۔آپ اقلیمِ علم کے تاجدار تھے ۔ آپ کی ساری زندگی دینِ اسلام کی خدمت، درس وتدریس و عظ و نصیحت میں گزاری ۔
1
مولانا فقیر محمد جہلمی فرماتے ہیں:
حضرت قاضی  ثناءاللہ صاحب شیخ جلا ل الدین کبیر الاولیاء چشتی کی اولاد میں سے تھے جن کا نسب حضرت عثمان  غنی کی طرف منتہیٰ ہوتا ہے ۔ فقیہ، محدث، محقق، مدقق، منصف مزاج، جامع علوم عقلیہ و نقلیہ اور فقہ واصول میں  مرتبۂ اجتہادپر پہنچے ہوئے تھے۔علم تفسیر وکلام اور تصوف میں ید طولیٰ حاصل تھا،صفائی ذہن وجودت طبع وقوت فکر اور سلامتی عقل زائد الوصف حاصل تھی، اکثر خواب میں شیخ جلال اپنے جد امجد اور حضرت شیخ عبد القادر جیلانی قدس سرہ سے تربیت اور بشارات حاصل کیں۔مرزا صاحب (مظہرجانِ جاناں) آپ کے حق میں فرماتے تھے کہ میرے دل میں آپ کی بہت ہیبت ہے اور بسبب صلاح اور تقویٰ و دیانت کے آپ مروج شریعت اور منور طریقت اور ملکی صفات ہیں فرشتے آپ کی تعظیم بجالاتے ہیں،اگرخدا نے مجھ سے قیامت کو پوچھا کہ ہماری درگاہ میں کیا تحفہ لایا ہے تو میں ثناء اللہ کو پیش کرونگا۔آپ اکثر اوقات طاعت و عبادت میں مشغول رہتے تھے،ہر روز سو رکعت نماز اور ایک منزل قرآن شریف تہجد میں وظیفہ کیا ہوا تھا۔قضاء کا منصب بھی اختیار کیا تھا اور جیسا کہ چاہئے اس کا حق ادا کیا۔(حدائق الحنفیہ:484)

آپ نے بہترین عقائد واعمال پربہترین کتب تصنیف فرمائی ہیں۔تمام کتب میں جومقام "تفسیرمظہری"کوملاوہ اپنی مثال آپ ہے۔اس تفسیرکوعرب وعجم میں اورتمام مکاتب فکر میں مقبولیتِ عامہ حاصل ہوئی۔آپ نےاس میں شریعت وطریقت دونوں کوجمع کردیاہے۔دوسرے مکتبۂ فکر کے مدارس بورڈ کے اندران کی فقہی مسائل پرمشتمل کتاب "مالابدمنہ" شامل نصاب ہے۔اس سےمعلوم ہواکہ وہ آپ کی شخصیت کےمعترف ہیں۔کاش!اگروہ تفسیر مظہری کےاندرجوتعلیمات بیان کی گئیں ہیں، ان کو تسلیم کر لیتے توآج امت میں اختلاف ختم ہوجاتے۔صرف تفسیرِ مظہری سےایک اقتباس نقل کرتاہوں۔قارئینِ کرام،حضرت قاضی ثناء اللہ پانی پتی علیہ الرحمہ کےنظریات وتعلیمات سے خوداندازہ لگالیں گےکہ ہمارےاکابرین کےنظریات وعقائدکیاتھے۔

سورت البقرہ آیت نمبر151 میں "یُعلِمُّ" فعل کا تکرار کیوں آیا ہے؟ کی تفسیر بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں: "تکرار الفعل یدل علی ان ھذا التعلیم من جنس آخر و لعل المرادبہ العلم اللدنی الماخوذ من بطون القرآن ومن مشکاۃ صدرالنبیﷺ الذی لاسبیل الی درکہ الا الاِنعکاس۔الٰی آخرہ۔ترجمہ:یعلم فعل کاتکرار اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ یہ تعلیم پہلی تعلیم کتاب و حکمت سے الگ نوعیت کی ہے۔ اور شاید اس سے مراد علم لدُنّی ہے جو قرآن کے باطن اور نبی مکرم ﷺکے منور و روشن سینہ سے حاصل ہوتا ہے۔ اور اس کے حصول کا ذریعہ یہ مروجہ تعلیم و تعلّم نہیں (یعنی یہ تعلیم کسی ادارے میں نہیں پڑھائی جاتی،اورنہ ہی اس کی کوئی کتب ونصاب ہیں) بلکہ انعکاس ہے یعنی آفتاب قرآن کی کِرنیں اور ماہتابِ نبوت کی شعاعیں دل کے آئینہ پر منعکس ہوتی ہیں۔ اولیائے کاملین جو انوار نبوت کے صحیح وارث ہوتے ہیں وہ بھی اپنے مریدیان باصفا پر اسی قسم کے علوم و معارف کا القاءاور فیضان فرماتے ہیں۔

فاذکرونی اذکرکم ۔ سورۃ البقرہ ،152، کی تفسیر میں فرماتے ہیں : ترجمہ: جب ان معارف کے حاصل ہونے کا طریقہ صرف القاء اور انعکاس ہے، اور ذکر الٰہی اور مراقبہ سے ہی دل میں یہ استعداد پیدا ہوتی ہے کہ وہ حضور ﷺکے پُر نور سینہ سے بلا واسطہ یا بالواسطہ فیضان و القاء قبول کرسکے اس لیے حکم دیا کہ میرا ذکر کیا کرو۔ کثرت ذکر سے ہی تم اس مقام فائز کیے جاؤ گے (یعنی سینۂ مصطفیٰﷺ بلاواسطہ فیض حاصل کرسکوگے) جہاں انوار و تجلیات کی بےمحابا بارش ہوتی ہے اور دوری کے حجاب یکسر اُلٹ دیئےجاتے ہیں۔ (تفسیرِ مظہری ج:1، تحت الآیۃ) ـ

تاریخِ وصال:
آپ کا وصال یکم رجب المرجب 1225ھ، مطابق 2 اگست 1810ء کو ہوا ۔ آپ کا مزار پر انوار پانی پت انڈیا میں مرجعِ خلائق ہے ۔

ماخذ و مراجع:
حدائق الحنفیہ ۔ تذکرہ قاضی ثناء اللہ پانی پتی ۔ تفسیرِ مظہری ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-qazi-muhammad-sanaullah-panipati
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت امام سفیان بن عیینہ رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
سمِ گرامی:
امام سفیان بن عیینہ۔ کنیت: ابو محمد ۔ لقب: امام الحرام ۔ محدث الحرم۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
محدث حرم امام ابو محمد سفیان بن عیینہ بن ابو عمران میمون ہلالی۔ ابن عیینہ کے دادا ابو میمون عمارہ ضحاک کے بھائی محمد بن مزاحم کے غلام تھے والد عیینہ والیِ کوفہ خالد بن عبداللہ قسری کے عمال میں سے تھے۔ 120ھ میں جب خالد کو معزول کر دیا گیا تو عیینہ والیِ کوفہ یوسف بن عمر ثقفی کے عتاب کاشکار ہوئے گھر بار چھوڑ کر کوفہ سے پورے خاندان کے ساتھ مکہ آگئے اور حرم ہی میں پناہ لی اور وہیں مستقل سکونت اختیار کرلی۔

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت 107ھ کوکوفہ میں ہوئی۔جب وہ مکۃ المکرمہ میں ہجرت کرکے پہنچے توان کی عمر تیرہ سال تھی۔

تحصیلِ علم:
اس وقت کوفہ علم کا بڑا مرکز تھا جہاں محدثین و فقہاء اور اہل فن علماء کی کمی نہ تھی آپ کے والد صاحبِ علم، صاحب ثروت شخص تھے۔انہوں نے اپنے ہونہار فرزند کی تعلیم و تربیت بڑے اہتمام کے ساتھ کی پہلے قرآن شریف حفظ کرایا گیا سات سال کی عمر میں حفظ سے فارغ ہوئے تو حدیث کی کتابت شروع کرادی گئی 15 سال کی عمر تک یہ سلسلہ جاری رہا ۔پھرہجرت کرکےمکہ میں آئےتو مکہ مکرمہ اس وقت ائمہ تابعین کا مرکز تھا امام زہری، عمرو بن دینار، ابن جریج اور بہت سے ائمہ قرآن و سنت کی مجلسیں قائم تھیں۔ یہاں آپ باضابطہ تحصیل علم کے لیے آمادہ ہوئے تو تمام علماء مکہ بالخصوص ابن شہاب زہری اور عمرو بن دینار کی مجلس درس میں شریک ہونے لگے اور جب تک یہاں قیام رہا ان سے الگ نہ ہوئے پھر وہ کوفہ آگئے اور وہاں کے اہل علم سے استفادہ کیا۔ آپ نے ستاسی تابعین کی زیارت کی تھی۔ قدرت نے ابن عیینہ کو بلا کا حافظہ اور ذکاوت عطا فرمائی تھی۔حافظہ اور ذکاوت کے بارے میں بیان ہے "ماکتبت شیئا حفظتہ" میں جس چیز کو ضبط تحریر میں لایا وہ مجھے یاد ہوگئی۔ (تاریخ بغداد، ج۹، ص۱۸۲)۔آپ کےشیوخ کثیرتعدادمیں ہیں۔

سیرت و خصائص:
امام الحرم، محدث حرم، شیخ المحدثین، رئیس الاتقیاء حضرت امام سفیان بن عیینہ رحمۃ اللہ علیہ۔ آپ کے ذوق و شوق ِعلم، سعادت مندی و ذکاوت کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ علم تفسیر و حدیث کے بڑے امام ہوگئے۔ اکابر ائمہ فن نے ان کی عظمت علم کا اعتراف کیا ہے۔امام شافعی فرماتےہیں:"لولا مالک و سفیان لذھب علم الحجاز" امام مالک اور سفیان بن عیینہ نہ ہوتے تو حجاز کا علم ختم ہوجاتا۔ (تہذیب التہذیب، ج۴، ص۱۰۵)

بشر بن مفضل:
"ما بقی علی وجہ الارض احد یشبہ ابن عیینہ" روئے زمین پر کوئی عالم ابن عیینہ جیسا باقی نہیں رہا۔ (ایضاً، ص۱۰۶)ابن وہب:"ما رأیت احدا اعلم بکتاب اللہ من ابن عیینہ" میں نے ابن عیینہ سے بڑھ کر کتاب اللہ کا عالم نہیں دیکھا۔ (ایضاً)امام شافعی:"ما رأیت احداً من الناس فیہ جزالۃ العلم مافی ابن عیینہ وما رأیت احدا آلف عن الفتیا منہ"میں نے علم کی جتنی پختگی امام ابن عیینہ میں دیکھی ہے کسی میں نہیں دیکھی اور میں نے ان سے زیادہ فتویٰ دینے سے گریز کرنے والا کوئی عالم نہیں دیکھا۔ (ایضاً)ابن مہدی: "کان اعلم الناس بحدیث اھل احجاز" وہ اہل حجاز کی حدیثوں کے سب سے بڑے عالم تھے۔ (ایضاً، ص۱۰۷)

ابن حبان:
"کان من الحفاظ المتقین واھل الوراع والدین" ابن عیینہ متقن حفاظ حدیث میں تھے۔ وہ صاحب تقویٰ اور دیندار تھے۔ (ایضاً)

ابن خلکان:
"کان اماما عالما حجۃ زاھداً ورعاً مجمعا علی صحۃ حدیثہ و روایتہ" وہ امام، عالم، ثبت، حجت، زاہد اور پرہیزگار تھے حدیث کی صحت اور روایت میں وہ متفق علیہ ہیں۔ (وفیات الاعیان، ج۱، ص۳۷۷)

حافظ ذہبی:
"العلامۃ الحافظ شیخ الاسلام محدث الحرم۔۔۔ کان امام حجۃ حافظا واسع العلم کبیر القدر" بہت بڑے عالم، نامور حافظ حدیث، شیخ الاسلام اور محدث حرم ہیں۔۔ آپ امام حجت حافظ حدیث، وسیع العلم اور جلیل القدر انسان تھے۔ (تذکرۃ الحفاظ، ج۱، ص۲۴۲)

امام احمد بن حنبل:
"ما رأیت اعلم بالسنن منہ" میں نے ان سےزیادہ حدیث کا جاننے والا کوئی نہیں دیکھا۔ (ایضاً)حافظ ذہبی: "اتفقت الائمۃ علی الاحتجاج بابن عیینہ لحفظہ و امانتہ" ابن عیینہ کے حفظ اور امانت میں قابل حجت ہونے پر سب کا اتفاق ہے۔ (ایضاً)

خدمتِ حدیث:
اقوال بالا سے ابن عیینہ کی علمی شخصیت پر روشنی پڑتی ہے، کثرت روایت کے لحاظ سے دوسرے بہت سے تابعین پر فوقیت رکھتے ہیں مگر حدیث میں ابن عیینہ کو جو بات ان کے معاصرین میں ممتاز کرتی ہے وہ حدیث نبوی کا فہم، تفسیر حدیث کا ملکہ اور وثوق واعتماد ہے ان اوصاف میں کم لوگ ان کے ہم پلہ تھے احمد بن عبداللہ فرماتے ہیں: ان کے شمار حکماء حدیث میں ہوتا تھا گوکہ ان کی روایتیں صرف سات ہزار تھیں اور انہوں نے حدیث کا کوئی مجموعہ بھی نہیں چھوڑا۔ (تہذیب الاسماء، ج۱، ص۲۳۴)اکابر حدیث آپ کی فقاہت پر متفق ہیں ابو حاتم کہتے تھے مسلمانوں کے لیے ان (ابن عیینہ) کا علم حجت ہے عجلی کا بیان ہے کہ ان کی ذات قابل و ثوق اور قابل اعتماد ہے۔ (تہذیب الاسماء، ج۴، ص۱۳)
1
جب حضرت سفیان ابن عیینہ کوفہ پہنچے تو امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنے اصحاب سے فرمایا: "جاء کم حافظ علم عمرو بن دینار" تمہارے پاس عمرو بن دینار کی مرویات کا حافظ آگیا ہے۔ چناں چہ لوگ ان کی مرویات سے استفادہ کے لیے آنے لگے ابن عیینہ کا بیان ہے "اول من صیرنی محدثا ابو حنیفۃ" جس نے مجھے سب سے پہلے محدث بنایا وہ امام ابو حنیفہ ہیں۔ (وفیات الاعیان، ج۱، ص۳۷۷)

ابن عیینہ کا حلقۂ درس بہت وسیع تھا مگر ایام حج میں جب عالم اسلام کے لوگ حرمین شریفین حاضر ہوتے تو ان کے حلقۂ درس میں ازدحام ہوتا تھا۔حضرت امام شافعی، امام عبدالرزاق،امام اعمش،امام وکیع، سفیان ثوری، حمادبن زید،یحیٰ بن قطان وغیرہ آپ کےتلامذہ میں سےہیں۔

ابن عیینہ کی جلالت شان کے معترف صرف عوام اور علماء ہی نہ تھے بلکہ خلفاء اور امراء بھی آپ کا حد درجہ احترام کرتے تھے اور ان کا نام عزت کے ساتھ لیتے تھے ابو ربیع کہتے ہیں میں ایک بار ہارون رشید سے ملا تو اس نے پہلے ہاشمی عالموں کا حال پوچھا پھر کہنے لگا سید الناس کا کیا حال ہے؟ میں نے کہا امیر المومنین آپ کے سوا سید الناس کون ہے؟ کہا سفیان بن عیینہ سید الناس ہیں۔ (تاریخ بغداد، ج۹، ص۱۷۰)۔(جب علماء ومحدثین کی بادشاہ و امراء قدر کرتے تھے، تو اس وقت مسلمانوں کو عروج حاصل تھا۔کفاران کی ہیبت سے کانپتے تھے، لیکن جب اس امت نے اپنے علماءِ کرام کی قدر کرنا چھوڑدی توذلت و رسوائی اس کامقدربن گئی۔ آج پوری دنیامیں مسلمانوں کی جو حالت ہےوہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے) ۔

زہد و عبادت:
امام ابن عیینہ کا پایہ جس قدر علم میں بلند تھا اسی قدر زہد و عبادت میں اپنے معاصرین پر فائق تھے۔ زندگی بڑی سادہ اور بے تکلف گذارتے تھے۔ ایک بار ان کے شاگرد ابو یوسف غسولی آپ سے ملنے گئے تو دیکھا کہ ان کے پاس جو کی دو ٹکیاں رکھی ہوئی ہیں۔ فرمایا چالیس سال سے یہی میری غذا ہے۔

تاریخِ وصال:
آپ کا وصال یکم رجب المرجب 198ھ، مطابق 24 فروری 815ء کو ہوا ۔ کوہِ حجون کے قریب مکۃ المکرمہ میں مدفون ہوئے ۔

ماخذ و مراجع:
محدثین عظام حیات و خدمات ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-sufyan-bin-uyaynah
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1