حضرت علامہ قاضی دوست محمد صدیقی بلبلِ سندھ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
شہباز خطابت ، لحن داودی ، ترجمان اہلسنت حضرت علامہ قاضی دوست محمد صدیقی المعروف مولانا بلبل سندھ کی ولادت باسعادت سندھ کے مشہور شہر شکار پور کی نامور تحصیل گڑھی یاسین کی چھوٹی سی بستی ’’گوٹھ ترائی ‘‘کے نامور علمی خاندان ’’صدیقی قاضی ‘‘میں مولانا محمد بقا صدیقی کے گھر ۱۹۱۸ء کو ہوئی ۔ اس خاندان نے بے شمار علما ء فضلاء و اطباء پیداکئے ، اسی خاندان کی ایک اور علمی شخصیت حضرت مولانا فضیلت اور شیعیت کی تروید میں ’’ خلفاء رسول ‘‘ کتاب لکھی تھی ۔ یہ مولانا گل محمد مولانا بلبل سندھ کے چچا تھے ۔ (روشن صبح ص۱۲۲)
تعلیم و تربیت:
مولانا بلبل سندھ کے تعلیمی سفر کا آغازیوں ہوتا ہے کہ مولانا شاہ محمد (سندھ ) اس کے بعد مولانا عبدالواحد ( کوٹ مٹھن شریف ) اس کے بعد ہارون آباد (ضلع بہاولنگر ) میں شیخ الحدیث علامہ عبدالمصطفیٰ الازہری ؒ (شیخ الحدیث دارالعلوم امجد یہ کراچی ) اس کے بعد مدرسہ انوارالعلوم ملتان میں غزالی زمان رازی دوران علامہ سید اھمد سعید کاظمی محدث ملتانی ؒ کے زیر سایہ کچھ عرصہ تعلیم حاصل کی ۔ غالبا علامہ کاظمی ؒ کی تحریک پر امام احمد رضا خان قادری محدث بریلوی ؒ کی قائم کردہ درسگاہ جامعہ رضویہ منظر اسلام بریلی شریف ( انڈیا) مزید تعلیم کے لئے تشریف لے گئے ، وہاں نواسہٗ اعلی حضرت، اما م معقولات و منقولات علامہ مفتی تقدس علی خان رضوی ؒ ( جو کہ بعد میں سندھ تشریف لائے اور جامعہ راشدیہ درگاہ شریف پیر جو گوٹھ میں شیخ الحدیث مقرر ہوئے اور اس پاک سر زمین میں مد فون ہوئے ) کے حضور زانوئے تلمذ طے کئے۔ اس کے بعد پاکستان تشریف لائے اور جامعہ رضویہ مظہر اسلام فیصل آباد میں داخلہ لیا اور محدث اعظم پاکستان حضر ت علامہ ابوالفضل محمد سردار احمد رضوی ؒ کے پاس درس نظامی کی اور دستار فضیلت باندھی ۔
بیعت:
فراغت تعلیم و تکمیل علوم کے بعد آپ نے بیعت ہونا ضروری سمجھا ، آپ کو بچپن ہی سے اما م العارفین ، غوث العالمین ، غیاچ المسلمین مجدد بر حق حضرت سید محمد راشد پیر سائیں روضے دہنی قدس سرہ الاقدس سے عقیدت و محبت گھٹی میں ملی ہوئی تھی اسی محبت کی خاطر آپ نے حضرت قبلہ عالم کے سلسلہ عالیہ میں بیعت ہونا پسند کیا، اور آپ ہی کے خلیفہ حضرت سید محمد حسن شاہ جیلانی ؒ ( بانی درگاہ بھر چونڈی شریف ) کے سجادہ نشین شیخ طریقت مجاہد اہل سنت حضرت پیر عبدالرحمن قادری ؒ کے ہاتھ ر سلسلہ عالیہ قادر یہ راشدیہ میں بیعت ہونے کی سعادت حاصل کی ۔
تصنیف و تالیف:
معلوم ہوا کہ آپ شاگردی کے دور میں وقت بوقت اخبارات میں مضامین لکھتے تھے اور طلباء کو اسباق کی تقار یر بھی تحریر کر کے دیتے تھے، جو کہ ااج محفوظ نہیں ۔
عارف باللہ ، سندھ کے عوامی شاعر حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائی قادری ؒ کے صوفیانہ کلام پر مشتمل دیوان ہے جس کا نام ’’شاہ جورسالو ‘‘ہے ۔ اس میں سے اپنی پسند کے ایک سوا بیات(شعر ) کی تلخیص’’گلدستہ عشق ‘‘ کے نام سے مرتب کی ،جسے بعد میں نیشنل بک اسٹور لاڑکانہ نے شائع کیا۔ ایک سوابیات آپ کو حفظ تھے جس کو ترنم سے پڑھ کر اپنی تقریروں کو چارچاند لگاتے تھے۔ اس کے علاوہ کوئی تصنیف سامنے نہیں آئی ۔
تلامذہ:
جہاں تک معلوم ہے کہ آپ نے باقائدگی سے کسی دینی درسگاہ میں تدریس کے فرائض انجام نہیں دئے تھے۔ البتہ شروع کے دنوں میں بعد فراغت اسکول میں عربی کے استاد مقررہوئے تھے لیکن کچھ عرصے کے بعد استعفیٰ دے کر پوری توجہ خطابت پر مرکوز فرمائی ۔
خطیب اسلام مقبول اہلسنت مولانا حافظ علی اکبر قاسمی ، طوطی بیاں مولانا امیر بخش چنہ اور مجاہد اہلسنت مولانا بدر الدین سترہیہ خطیب چار یار مسجد لاڑکانہ وغیرہ واعظین مولانا بلبل سندھ ؒ کے تربیت یافتہ و صحبت یافتہ ہیں۔ اور فقیر کو بھی بچپن میں آپ کی صحبت و شفقت حاصل رہی ہے ۔
اولاد:
آپ نے دوشادیاں کی تھیں ۔ پہلی بیوی سے فقط ایک بیٹی ہوئی تھی ۔ بیوی کے انتقال کے بعد دوسری شادی ایک بیوہ عورت سے کی جس میں سے چار صاحبزادے اور ایک صاحبزادی تولد ہوئی اورچار بچوں میں سے ایک بچہ بچپن میں انتقال کر گیا تھا۔ تین بیٹے صاحب اولاد ہیں : (۱) عبدالرشید (۲)محمد یوسف (۳)شرف الدین
سفر حرمین شریف:
آپ نے زندگی میں ایک بار حرمین شریفین کا سفر کیا ۔ ۲۵ ، نومبر ۱۹۷۵ ء کو حج پرگئے حج کیا اور مدینہ منورہ حضور پر نور ﷺ کے روضہ اقدس پر حا ضری کی سعادت حاصل کی اور صلوۃ و سلام کا نذرانہ پیش کیا۔
حضور کا پروانہ ، ساعی زندگی عظمت مصطفی ﷺ کے ڈنکے بجانے والا ، سندھ کے قریہ قریہ بستی بستی میں شان مصطفیﷺ کی خوشبوئے بکھیرنے والا ، دور دور سندھ میں درودوسالام نعت و مولودکی مجالس برپا کرنے سے زبان قاصر ہے ، البتہ یوں ہوگا:
سل بھر آیا ہے تو جی کھول کے رو لینے دو
پھر کبھی جوش پہ یوں دیدہ تر ہو کہ نہ ہو
حلیہ مبارک:
بقول حضرت پیر محمد ابراہیم خلیل فاروقی مدظلہ العالی کہ مولانا بلبل سندھ کا حلیہ اس طرح
شہباز خطابت ، لحن داودی ، ترجمان اہلسنت حضرت علامہ قاضی دوست محمد صدیقی المعروف مولانا بلبل سندھ کی ولادت باسعادت سندھ کے مشہور شہر شکار پور کی نامور تحصیل گڑھی یاسین کی چھوٹی سی بستی ’’گوٹھ ترائی ‘‘کے نامور علمی خاندان ’’صدیقی قاضی ‘‘میں مولانا محمد بقا صدیقی کے گھر ۱۹۱۸ء کو ہوئی ۔ اس خاندان نے بے شمار علما ء فضلاء و اطباء پیداکئے ، اسی خاندان کی ایک اور علمی شخصیت حضرت مولانا فضیلت اور شیعیت کی تروید میں ’’ خلفاء رسول ‘‘ کتاب لکھی تھی ۔ یہ مولانا گل محمد مولانا بلبل سندھ کے چچا تھے ۔ (روشن صبح ص۱۲۲)
تعلیم و تربیت:
مولانا بلبل سندھ کے تعلیمی سفر کا آغازیوں ہوتا ہے کہ مولانا شاہ محمد (سندھ ) اس کے بعد مولانا عبدالواحد ( کوٹ مٹھن شریف ) اس کے بعد ہارون آباد (ضلع بہاولنگر ) میں شیخ الحدیث علامہ عبدالمصطفیٰ الازہری ؒ (شیخ الحدیث دارالعلوم امجد یہ کراچی ) اس کے بعد مدرسہ انوارالعلوم ملتان میں غزالی زمان رازی دوران علامہ سید اھمد سعید کاظمی محدث ملتانی ؒ کے زیر سایہ کچھ عرصہ تعلیم حاصل کی ۔ غالبا علامہ کاظمی ؒ کی تحریک پر امام احمد رضا خان قادری محدث بریلوی ؒ کی قائم کردہ درسگاہ جامعہ رضویہ منظر اسلام بریلی شریف ( انڈیا) مزید تعلیم کے لئے تشریف لے گئے ، وہاں نواسہٗ اعلی حضرت، اما م معقولات و منقولات علامہ مفتی تقدس علی خان رضوی ؒ ( جو کہ بعد میں سندھ تشریف لائے اور جامعہ راشدیہ درگاہ شریف پیر جو گوٹھ میں شیخ الحدیث مقرر ہوئے اور اس پاک سر زمین میں مد فون ہوئے ) کے حضور زانوئے تلمذ طے کئے۔ اس کے بعد پاکستان تشریف لائے اور جامعہ رضویہ مظہر اسلام فیصل آباد میں داخلہ لیا اور محدث اعظم پاکستان حضر ت علامہ ابوالفضل محمد سردار احمد رضوی ؒ کے پاس درس نظامی کی اور دستار فضیلت باندھی ۔
بیعت:
فراغت تعلیم و تکمیل علوم کے بعد آپ نے بیعت ہونا ضروری سمجھا ، آپ کو بچپن ہی سے اما م العارفین ، غوث العالمین ، غیاچ المسلمین مجدد بر حق حضرت سید محمد راشد پیر سائیں روضے دہنی قدس سرہ الاقدس سے عقیدت و محبت گھٹی میں ملی ہوئی تھی اسی محبت کی خاطر آپ نے حضرت قبلہ عالم کے سلسلہ عالیہ میں بیعت ہونا پسند کیا، اور آپ ہی کے خلیفہ حضرت سید محمد حسن شاہ جیلانی ؒ ( بانی درگاہ بھر چونڈی شریف ) کے سجادہ نشین شیخ طریقت مجاہد اہل سنت حضرت پیر عبدالرحمن قادری ؒ کے ہاتھ ر سلسلہ عالیہ قادر یہ راشدیہ میں بیعت ہونے کی سعادت حاصل کی ۔
تصنیف و تالیف:
معلوم ہوا کہ آپ شاگردی کے دور میں وقت بوقت اخبارات میں مضامین لکھتے تھے اور طلباء کو اسباق کی تقار یر بھی تحریر کر کے دیتے تھے، جو کہ ااج محفوظ نہیں ۔
عارف باللہ ، سندھ کے عوامی شاعر حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائی قادری ؒ کے صوفیانہ کلام پر مشتمل دیوان ہے جس کا نام ’’شاہ جورسالو ‘‘ہے ۔ اس میں سے اپنی پسند کے ایک سوا بیات(شعر ) کی تلخیص’’گلدستہ عشق ‘‘ کے نام سے مرتب کی ،جسے بعد میں نیشنل بک اسٹور لاڑکانہ نے شائع کیا۔ ایک سوابیات آپ کو حفظ تھے جس کو ترنم سے پڑھ کر اپنی تقریروں کو چارچاند لگاتے تھے۔ اس کے علاوہ کوئی تصنیف سامنے نہیں آئی ۔
تلامذہ:
جہاں تک معلوم ہے کہ آپ نے باقائدگی سے کسی دینی درسگاہ میں تدریس کے فرائض انجام نہیں دئے تھے۔ البتہ شروع کے دنوں میں بعد فراغت اسکول میں عربی کے استاد مقررہوئے تھے لیکن کچھ عرصے کے بعد استعفیٰ دے کر پوری توجہ خطابت پر مرکوز فرمائی ۔
خطیب اسلام مقبول اہلسنت مولانا حافظ علی اکبر قاسمی ، طوطی بیاں مولانا امیر بخش چنہ اور مجاہد اہلسنت مولانا بدر الدین سترہیہ خطیب چار یار مسجد لاڑکانہ وغیرہ واعظین مولانا بلبل سندھ ؒ کے تربیت یافتہ و صحبت یافتہ ہیں۔ اور فقیر کو بھی بچپن میں آپ کی صحبت و شفقت حاصل رہی ہے ۔
اولاد:
آپ نے دوشادیاں کی تھیں ۔ پہلی بیوی سے فقط ایک بیٹی ہوئی تھی ۔ بیوی کے انتقال کے بعد دوسری شادی ایک بیوہ عورت سے کی جس میں سے چار صاحبزادے اور ایک صاحبزادی تولد ہوئی اورچار بچوں میں سے ایک بچہ بچپن میں انتقال کر گیا تھا۔ تین بیٹے صاحب اولاد ہیں : (۱) عبدالرشید (۲)محمد یوسف (۳)شرف الدین
سفر حرمین شریف:
آپ نے زندگی میں ایک بار حرمین شریفین کا سفر کیا ۔ ۲۵ ، نومبر ۱۹۷۵ ء کو حج پرگئے حج کیا اور مدینہ منورہ حضور پر نور ﷺ کے روضہ اقدس پر حا ضری کی سعادت حاصل کی اور صلوۃ و سلام کا نذرانہ پیش کیا۔
حضور کا پروانہ ، ساعی زندگی عظمت مصطفی ﷺ کے ڈنکے بجانے والا ، سندھ کے قریہ قریہ بستی بستی میں شان مصطفیﷺ کی خوشبوئے بکھیرنے والا ، دور دور سندھ میں درودوسالام نعت و مولودکی مجالس برپا کرنے سے زبان قاصر ہے ، البتہ یوں ہوگا:
سل بھر آیا ہے تو جی کھول کے رو لینے دو
پھر کبھی جوش پہ یوں دیدہ تر ہو کہ نہ ہو
حلیہ مبارک:
بقول حضرت پیر محمد ابراہیم خلیل فاروقی مدظلہ العالی کہ مولانا بلبل سندھ کا حلیہ اس طرح
تھا : سہنی صورت بیش بہا قیمتی لباس ،زریدار قلے پر پشاوری یا مشہدی ساڑھی ، پنجابی طرز پر بندی ہوئی ،گر جدار آواز مگر شیریں ، قد معتدل مائل بہ بلندی ، رنگ گندم ، دبلے پتلے ، چہرہ خوبصورت پرکشش ، گال روشن روشن ، ہونٹ گلاب کی پتیوں کی طرح باریک گلابی،مزا ج نرم ، اخلاق کے پیکر اور داڑھی شریف پر مہندی لگاتے تھے ۔
خطابت:
خطابت مولانا بلبل سندھ کی پہچان تھی ، مولانا سحر انگیز خطابت کے سبب پیران عظام کے محبوب اور اہلسنت و جماعت میں مقبول اور علماء کی شان تھے ۔ قدرت نے مولانا کو حاضر جوابی ، فن خطابت ، خوش الحانی ، طرز بیانی ، گوہر روانی اور فصیح لسانی میں کامل قوت و حافظہ عطا فرمایا تھا ۔ ہر مو ضوع پر بولنے اور موضوع کو نبھانے کا خوب سلیقہ تھا، رد فرقہ باطلہ ان کا خاص موضوع تھا ،آپ تکمیل تعلیم کے بعد اسکول میں عربی کے استاد مقرر ہوئے ، جوں جوں سندھ کے حالات سے واقفیت ہوئی تو محسوس کیا کہ سندھ میں وہابیت پر نکال رہی ہے ۔ دوسری طرف سندھ کے عوام الناس بالکل سیدھے سادھے ہیں ، انہیں ان بھیڑیوں کے حملہ سے بچانا نہایت ضروری جانا اس لئے عملی زندگی میں قدم بڑھایا، نوکری کی قربانی دی ، خطابت کے لئے اپنے کو وقف کیا اور خارزاروں پر قدم رکھا اسی روز سے وصال تک احقاق حق و ابطال باطل میں مصروف رہے ۔ لیل و نہار شہر شہر ، نگر نگر، قریہ قریہ، بستی بستی اپنے خطاب سے لوگوں کے قلوب میں عشق مصطفی کی شمع روشن کی ، اہل سنت کو بیدار کیا، وہابیت دیوبند یت اور بد مذہیت کے فتنے سے آگاہ کیا، ان کی رسول دشمنی ، گستاخیاں، بے باکیاں ، بے ادبیاں ، مکرو فریب اور تقیہ بازی سے سندھ بھر کے عوام الناس کو خبر داررکھا ۔ امام اہلسنت مولانا احمد رضا خان بریلوی ؒکے علم و فضل سے اہل سندھ کو رو شناس کیا ۔وہابیت دیوبندیت شیعیت، غیر مقلدیت، قادیانیت وغیرہ کے رد میں مولانا کا جواب نہیں۔
جامع مسجد عثمانیہ متصل درگاہ شریف حضرت مخدوم محمد عثمان قریشی ؒ شہر لاڑکانہ میں تقریبا تیس (۳۰) برس جمعہ کوفی سبیل اللہ خطابت کے فرائض سر انجام دئے ۔ عید الفطر اور عیدالاضحی کے مواقع پر حضرت پیر صاحب پگارہ کی دعوت خاصپر درگاہ شریف راشد یہ پیر گوٹھ تشریف لے جاتے جہاں ہزار رہا افراد کو اپنے خطابت سے نوازتے ۔ اس کے علاوہ اسی دربار پر سالانہ عید معراج النبی ﷺ کے موقع پر بھی خصوصی خطاب فرماتے۔ درگاہ مشوری شریف کے سالانہ عظیم الشان جلسہ جشن عیدمیلادالنبی ﷺ میں ولولہ انگیز خطاب سے جماعت کو مسرور فرماتے ۔ حرمجاہدین ۱۹۴۲ء کے مارشل لا میں جوسیر تھے انہیں مولانا صاحب تعلیم قرآن دیا کرتے تھے۔
جامع مسجد غوثیہ ٹانگہ اسٹینڈ لارکا نہ میں سالانہ عرس خواجہ غریب نواز میں آپ کا اردو میں خصوصی خطاب ہوا کرتا تھا۔غوث العالمین حضرت بہاوالدین زکر یا ملتانی قدس اور حضرت شاہ رکن الدین ؒ کے سالانہ اعراس کے موقعہ پر آ پ کا خصوصی خطاب ہوا کرتا تھا آپ سندھی کے علاوہ اردو میں بھی روانی سے تقریر کیا کرتے تھے ، مدرسہ انوارالعلو م ملتان میں دستار فضیلت میں آپ کی تقریر ہوا کرتی تھی ۔ سندھ کے علاوہ پنجاب اور بلوچستان کے بھی محبوب خطیب تھے ۔آپ کے ان خطابات سے اعتقادی و اصلاح احوال کے حوالہ سے عوام الناس میں انقلاب برپا ہوا۔غیر مسلم،ایمان کی بدولت سے مالا مال ہوئے، گمراہ ، صراط مستقیم پر گامزن ہوئے ، بھٹگے ہوئے راہ راست پر آلگے ، بے نمازی ، نمازی بنے،بے دین دیندارصالح بنے ، بد کردار ہوئے ، اور کئی بچوں کو دینی تعلیم حاصل کرنے کا جنون ہوا ، کئی والدین نے اپنے بچوں کے دینی مدارس میں داخل کروائے،جو کہ آگے چل کر محراب و منبر کی زینت بنے ۔ نوجوان علماء پر خطابت کی راہیں کھلی ۔
یہ ہیں آپ کے خطابت کے وہ تاثرات جو کہ ہمارے معاشرے پر اثر انداز ہوئے۔آ پ اپنے خطاب میں قرآن و سنت کے دلائل کے بعد بلبل باغ رسالت امام اہلسنت مولانا احمد رضا خان بریلوی ؒ اور صوفی باصفا عاشق مصطفی، حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائی قدس سرہ لاقدس کے اشعار موقع محل کے مطابق جب گنگنانے تھے تو محفل پر ایک عجیب کیفیت طاری ہوجاتی تھی ۔ اور تقریر میں شہری انتظامیہ اور وڈیروں کو بھی حق کہنے میں کبھی نہیں ڈرے ۔ بہر حال مولانا بلبل سندھ کی زندگی بے باکی ، حق گوئی ، سادگی اور للہیت کی بہترین نمونہ تھی ۔
جدا جدا جو وصف دیگر خطباء میں تھے
وہ سب کے اس عاشق مصطفی میں تھے
بلبل سندھ:
سندھ باب الا سلام ہے اس لئے سندھ کی زبان عشق مصطفی ہے اور مولانا باغ مصطفی میں عشق مصطفی ﷺ کے گیت ترنم و عقیدت سے گنگناتے تھے اسے لئے بلبل باغ مصطفی ہوئے یعنی بلبل سندھ ۔ مولانا احمد بخش بھٹو نے بتایا کہ مولانا صاحب کو یہ خطاب شیخ العرب والعجم ، فقیہ اعظم ، امام اہلسنت حضرت علامہ مفتی پیر محمد قاسم مشوری ؒ الباری (بانی درگاہ مشوری شریف ) نے اپنی زبان فیض ترجمان سے مرحمت فرمایا۔ اس کے بعد ’’بلبل سندھ ‘‘ آپ کے نام کا جزبن گیا ۔ اور فلک شگاف نعرے ’’ بلبل سندھ زندہ باد ‘‘ بلند ہونے لگے ۔
خطابت:
خطابت مولانا بلبل سندھ کی پہچان تھی ، مولانا سحر انگیز خطابت کے سبب پیران عظام کے محبوب اور اہلسنت و جماعت میں مقبول اور علماء کی شان تھے ۔ قدرت نے مولانا کو حاضر جوابی ، فن خطابت ، خوش الحانی ، طرز بیانی ، گوہر روانی اور فصیح لسانی میں کامل قوت و حافظہ عطا فرمایا تھا ۔ ہر مو ضوع پر بولنے اور موضوع کو نبھانے کا خوب سلیقہ تھا، رد فرقہ باطلہ ان کا خاص موضوع تھا ،آپ تکمیل تعلیم کے بعد اسکول میں عربی کے استاد مقرر ہوئے ، جوں جوں سندھ کے حالات سے واقفیت ہوئی تو محسوس کیا کہ سندھ میں وہابیت پر نکال رہی ہے ۔ دوسری طرف سندھ کے عوام الناس بالکل سیدھے سادھے ہیں ، انہیں ان بھیڑیوں کے حملہ سے بچانا نہایت ضروری جانا اس لئے عملی زندگی میں قدم بڑھایا، نوکری کی قربانی دی ، خطابت کے لئے اپنے کو وقف کیا اور خارزاروں پر قدم رکھا اسی روز سے وصال تک احقاق حق و ابطال باطل میں مصروف رہے ۔ لیل و نہار شہر شہر ، نگر نگر، قریہ قریہ، بستی بستی اپنے خطاب سے لوگوں کے قلوب میں عشق مصطفی کی شمع روشن کی ، اہل سنت کو بیدار کیا، وہابیت دیوبند یت اور بد مذہیت کے فتنے سے آگاہ کیا، ان کی رسول دشمنی ، گستاخیاں، بے باکیاں ، بے ادبیاں ، مکرو فریب اور تقیہ بازی سے سندھ بھر کے عوام الناس کو خبر داررکھا ۔ امام اہلسنت مولانا احمد رضا خان بریلوی ؒکے علم و فضل سے اہل سندھ کو رو شناس کیا ۔وہابیت دیوبندیت شیعیت، غیر مقلدیت، قادیانیت وغیرہ کے رد میں مولانا کا جواب نہیں۔
جامع مسجد عثمانیہ متصل درگاہ شریف حضرت مخدوم محمد عثمان قریشی ؒ شہر لاڑکانہ میں تقریبا تیس (۳۰) برس جمعہ کوفی سبیل اللہ خطابت کے فرائض سر انجام دئے ۔ عید الفطر اور عیدالاضحی کے مواقع پر حضرت پیر صاحب پگارہ کی دعوت خاصپر درگاہ شریف راشد یہ پیر گوٹھ تشریف لے جاتے جہاں ہزار رہا افراد کو اپنے خطابت سے نوازتے ۔ اس کے علاوہ اسی دربار پر سالانہ عید معراج النبی ﷺ کے موقع پر بھی خصوصی خطاب فرماتے۔ درگاہ مشوری شریف کے سالانہ عظیم الشان جلسہ جشن عیدمیلادالنبی ﷺ میں ولولہ انگیز خطاب سے جماعت کو مسرور فرماتے ۔ حرمجاہدین ۱۹۴۲ء کے مارشل لا میں جوسیر تھے انہیں مولانا صاحب تعلیم قرآن دیا کرتے تھے۔
جامع مسجد غوثیہ ٹانگہ اسٹینڈ لارکا نہ میں سالانہ عرس خواجہ غریب نواز میں آپ کا اردو میں خصوصی خطاب ہوا کرتا تھا۔غوث العالمین حضرت بہاوالدین زکر یا ملتانی قدس اور حضرت شاہ رکن الدین ؒ کے سالانہ اعراس کے موقعہ پر آ پ کا خصوصی خطاب ہوا کرتا تھا آپ سندھی کے علاوہ اردو میں بھی روانی سے تقریر کیا کرتے تھے ، مدرسہ انوارالعلو م ملتان میں دستار فضیلت میں آپ کی تقریر ہوا کرتی تھی ۔ سندھ کے علاوہ پنجاب اور بلوچستان کے بھی محبوب خطیب تھے ۔آپ کے ان خطابات سے اعتقادی و اصلاح احوال کے حوالہ سے عوام الناس میں انقلاب برپا ہوا۔غیر مسلم،ایمان کی بدولت سے مالا مال ہوئے، گمراہ ، صراط مستقیم پر گامزن ہوئے ، بھٹگے ہوئے راہ راست پر آلگے ، بے نمازی ، نمازی بنے،بے دین دیندارصالح بنے ، بد کردار ہوئے ، اور کئی بچوں کو دینی تعلیم حاصل کرنے کا جنون ہوا ، کئی والدین نے اپنے بچوں کے دینی مدارس میں داخل کروائے،جو کہ آگے چل کر محراب و منبر کی زینت بنے ۔ نوجوان علماء پر خطابت کی راہیں کھلی ۔
یہ ہیں آپ کے خطابت کے وہ تاثرات جو کہ ہمارے معاشرے پر اثر انداز ہوئے۔آ پ اپنے خطاب میں قرآن و سنت کے دلائل کے بعد بلبل باغ رسالت امام اہلسنت مولانا احمد رضا خان بریلوی ؒ اور صوفی باصفا عاشق مصطفی، حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائی قدس سرہ لاقدس کے اشعار موقع محل کے مطابق جب گنگنانے تھے تو محفل پر ایک عجیب کیفیت طاری ہوجاتی تھی ۔ اور تقریر میں شہری انتظامیہ اور وڈیروں کو بھی حق کہنے میں کبھی نہیں ڈرے ۔ بہر حال مولانا بلبل سندھ کی زندگی بے باکی ، حق گوئی ، سادگی اور للہیت کی بہترین نمونہ تھی ۔
جدا جدا جو وصف دیگر خطباء میں تھے
وہ سب کے اس عاشق مصطفی میں تھے
بلبل سندھ:
سندھ باب الا سلام ہے اس لئے سندھ کی زبان عشق مصطفی ہے اور مولانا باغ مصطفی میں عشق مصطفی ﷺ کے گیت ترنم و عقیدت سے گنگناتے تھے اسے لئے بلبل باغ مصطفی ہوئے یعنی بلبل سندھ ۔ مولانا احمد بخش بھٹو نے بتایا کہ مولانا صاحب کو یہ خطاب شیخ العرب والعجم ، فقیہ اعظم ، امام اہلسنت حضرت علامہ مفتی پیر محمد قاسم مشوری ؒ الباری (بانی درگاہ مشوری شریف ) نے اپنی زبان فیض ترجمان سے مرحمت فرمایا۔ اس کے بعد ’’بلبل سندھ ‘‘ آپ کے نام کا جزبن گیا ۔ اور فلک شگاف نعرے ’’ بلبل سندھ زندہ باد ‘‘ بلند ہونے لگے ۔
❤1
وزارت کی پیشکش:
آپ نے ایک روز عثمانیہ مسجد میں خطاب کے دوران فرمایا: ہمیں مسٹر ذوالفقار علی بھٹو صاحب نے وزارت کی پیشکش کی ۔ لیکن آپ نے یہ کہہ کر پیشکش ٹھکرادی کہ: وزارت صدارت آے جانے والی چیز ہے آج دی جائے گی اور کل چھینی جائے گی، لیکن اللہ کریم نے حضور پر نور ﷺ کی ثناء خوانی کا جو منصب ہمیں عطا کیا ہے یہ ہمارے لئے کافی ہے یہ ہم سے کوئی نہیں چھین سکتااور انشاء اللہ تعالیٰ مرتے دم تک یہ ہمارے پاس ہو گا۔
لوگ کیا کیا بک گئے تو نے نہیں بیچے اصول
تیرے دامن کو بہت ہے دولت عشق رسول
وصال:
عمر طویل نہ تھی خطاب کے لئے مسلسل سفر پہ رہنے کی وجہ ، محنت ، مشقت کے سبب، عمر رسیدہ نظر آنے لگے اور مختلف بیماریوں (ذیابیطسن ، پتھری وغیرہ) کی وجہ سے بہت کمزور و نحیف ہو گئے اس کے باوجود دن رات ثناء خوانی کا سلسلہ جاری رکھا ۔ اس کے بعد ایک اور صدمے سے دوچار ہوئیکہ بھتیجے سراج احمد کو پالا پوسا پڑھایا لکھایا لیکن جب وہ اسلام آباد میں ڈاکٹر لگ گئے تو اس نے بے وفائی کی اور یہ صدمہ برداشت نہ کر سکے ۔ جس کے سبب دل ٹوٹ چکا تھا تقریر و گفتگو میں بات بات پر آنکھوں سے آنسے کی لڑی لگ جاتی تھی ۔ ایسے عالم میں جب آپ اندر سے چکنا چور ہو چکا تھے پھر بھی امت مصطفویہ کی ہدایت و نصیحت کا جو بیڑا اٹھایا تھا وہ سلسلہ آخری دم تک جاری رکھا اور یوں شعرا کثر گنگناتے تھے کہ:
محمد ﷺ کی ثنا کر تے ہوئے گر میرا دم نکلے
فرشتے غسل دیں لاشے میرے کو آب کوثر سے
نکل جائے دم تیرے قدموں کے نیچے
یہ ہی دل کی حسرت یہی آرزو ہے
اور یہ آپ کی دیرینہ آرزو پوری ہوئی کہ حضورﷺ کی ثناء خوانی میں وصال کیا ۔
یکم رجب المرجب ۱۴۰۷ھ؍۲،مارچ ۱۹۸۷ء بروز پیر شام کے پونے تین بجے مدرسہ انوارالعلوم کندھ کوٹ ( ضلع جیکبآباد سندھ ) میں ۶۹ سال کی عمر میں وصال کیا اور انتقال کے وقت باآواز بلند اللہ اکبر سننے میں آئی اور روح پرواز ہو کر اپنے پروردگار کے حضور حاضر ہوئی ۔ اناللہ وانا الیہ راجعون انتقال کندھ کوٹ میں کیوں ہوا ؟اس لئے کہ وہاں دودینی کاموں سے گئے ہوئے تھے ایک تو اس مدرسہ کو مدرس کی ضرورت تھی اس لئے لاڑکانہ سے مولوی شیر محمد سندیلو کو ساتھ لے کر گئے تھے اور رات کو اسی مدرسہ میں جلسہ تھا ۔ اس طرح دین کی راہ میں سفر کی صورت میں جان جان آفرین کے سپرد کی ۔ آپ کی نماز جناح باغ لاڑکانہ میں ہوئی جس میں علماء کرام ، مشائخ عظام اور عوام وخواص نے کثرت سے شرکت کی ۔ جناب سید غلام حسین شاہ بخاری نے نماز جنازہ پڑھائی اور شیخ طریقت حضرت میاں علی محمد مشوری ، حضرت حافظ نالے مٹھا مشوری ( درگاہ مشوری شریف ) مخدوم حافظ عبدالرحیم سومرو ، مولانا مفتی محمد صالح نعیمی، مفتی درمحمد سکندری (سانگھڑ) خطیب اسلام مناظر اہل سنت علامہ قادر بخش قاسمی ( رحمانی نگر ) مفتی غلام محمد نعیمی(ملیر ) مفتی محمد حسین قادری ( سکھر ) مفتی محمد ابراہیم قادری (سکھر ) مولانا ہدایت اللہ آریجوی اور راقم زین العابدین راشدی وغیرہ وغیرہ نے شرکت کی ۔
جامع مسجد عثمانیہ متصل درگاہ شریف حضرت مخدوم محمد عثمانیہ قریشی ؒ کے روضہ شریف میں مدفون ہوئے جہاں آپ کا مزار شریف مرجع عام و خاص ہے ۔ (ماخوذ : تذکرہ مولانا بلبل سندھ قلمی)
آسمان تیری لحد پہ شبنم افشانی کرے
سبزہ نورستہ اس گھر کی نگہبانی کرے
دیرینہ کرم جناب طارق سلطان پوری (حسن ابدال) نے راقم کی فرمائش پر ’’قطعہ تاریخ وصال ‘‘ مرحمت فرمائی ۔
تابانی فکر و زین نظر ۱۹۸۷ء
تابانی فکروزین نظر ۱۹۸۷ء
ہے ’’بھر چونڈی‘‘ مرے پیارے وطن کا
نمایاں مرکز رشد و ہدایت
گرانی مرتبت وہ بلبل سندھ
اسی درگاہ سے تھی اس کو نسبت
زمانے کا وہ مرشد عبد رحماں
تھا اس کا اس کے سر پر دست شفقت
وہ تلمیذعارفان وقت کا تھا
سعادت مند تھا وہ در حقیقت
تقدس ، کاظمی ، سردار احمد
تھے اس کے رہبران باکرامت
تھی مقبول جہاں تقریر اس کی
غذا ئے روح تھی اس کی تلاوت
تھا انداز بیاں اس کا یگانہ
تھی اس کی منفرد طرز خطابت
تھا اسلوب نوا اس کا موثر
تھی اس کے نطق میں اک خاص لذت
وہ فخر صاحبان علم و دانش
وقار اہل حق وہ خوب قسمت
سن ترحیل اس کا میں نے ’’طارق‘‘
کہا ہے ’’جلوہ شان خطابت‘‘ ۱۴۰۷ھ
مولانا در محمد ’’ خاک‘‘ صدیقی
مولانا ابو الاقبال در محمد خاک صدیقی ۱۲، ربیع الاول شریف بروز پیر، گوٹھ کاندھلہ نزد نصیر آباد ضلع لاڑکانہ میں تولد ہوئے۔
تعلیم و تربیت:
مقلانا در محمد نے ابتدائی تعلیم آخوند محمود لا کھیر اور حکیم میاں جمال الدین سے حاصل کی ۔ (میاں جمال الدین آپ کے قریبی رشتہ دار، ایک لاثانی حکیم اور عالم دین تھے) ۔ مولانا نے فارسی کی تعلیم مولانا مسعود سے حاصل کی جو کہ حضرت علامہ عطاء اللہ فیراز شاہی رحمتہ اللہ علیہ کے شاگرد تھے ۔ اس کے بعد عربی کی کی ابتدائی کتب مولانا حافظ فدا احمد مہیسر کے پاس پڑھیں ۔ اور اعلی تعلیم کے لئے حضرت مولانا مفتی عبدالرحمن دھامراہ کی خدمات حاصل کی ۔ اس کے بعد نورنگ واہ ( تح
آپ نے ایک روز عثمانیہ مسجد میں خطاب کے دوران فرمایا: ہمیں مسٹر ذوالفقار علی بھٹو صاحب نے وزارت کی پیشکش کی ۔ لیکن آپ نے یہ کہہ کر پیشکش ٹھکرادی کہ: وزارت صدارت آے جانے والی چیز ہے آج دی جائے گی اور کل چھینی جائے گی، لیکن اللہ کریم نے حضور پر نور ﷺ کی ثناء خوانی کا جو منصب ہمیں عطا کیا ہے یہ ہمارے لئے کافی ہے یہ ہم سے کوئی نہیں چھین سکتااور انشاء اللہ تعالیٰ مرتے دم تک یہ ہمارے پاس ہو گا۔
لوگ کیا کیا بک گئے تو نے نہیں بیچے اصول
تیرے دامن کو بہت ہے دولت عشق رسول
وصال:
عمر طویل نہ تھی خطاب کے لئے مسلسل سفر پہ رہنے کی وجہ ، محنت ، مشقت کے سبب، عمر رسیدہ نظر آنے لگے اور مختلف بیماریوں (ذیابیطسن ، پتھری وغیرہ) کی وجہ سے بہت کمزور و نحیف ہو گئے اس کے باوجود دن رات ثناء خوانی کا سلسلہ جاری رکھا ۔ اس کے بعد ایک اور صدمے سے دوچار ہوئیکہ بھتیجے سراج احمد کو پالا پوسا پڑھایا لکھایا لیکن جب وہ اسلام آباد میں ڈاکٹر لگ گئے تو اس نے بے وفائی کی اور یہ صدمہ برداشت نہ کر سکے ۔ جس کے سبب دل ٹوٹ چکا تھا تقریر و گفتگو میں بات بات پر آنکھوں سے آنسے کی لڑی لگ جاتی تھی ۔ ایسے عالم میں جب آپ اندر سے چکنا چور ہو چکا تھے پھر بھی امت مصطفویہ کی ہدایت و نصیحت کا جو بیڑا اٹھایا تھا وہ سلسلہ آخری دم تک جاری رکھا اور یوں شعرا کثر گنگناتے تھے کہ:
محمد ﷺ کی ثنا کر تے ہوئے گر میرا دم نکلے
فرشتے غسل دیں لاشے میرے کو آب کوثر سے
نکل جائے دم تیرے قدموں کے نیچے
یہ ہی دل کی حسرت یہی آرزو ہے
اور یہ آپ کی دیرینہ آرزو پوری ہوئی کہ حضورﷺ کی ثناء خوانی میں وصال کیا ۔
یکم رجب المرجب ۱۴۰۷ھ؍۲،مارچ ۱۹۸۷ء بروز پیر شام کے پونے تین بجے مدرسہ انوارالعلوم کندھ کوٹ ( ضلع جیکبآباد سندھ ) میں ۶۹ سال کی عمر میں وصال کیا اور انتقال کے وقت باآواز بلند اللہ اکبر سننے میں آئی اور روح پرواز ہو کر اپنے پروردگار کے حضور حاضر ہوئی ۔ اناللہ وانا الیہ راجعون انتقال کندھ کوٹ میں کیوں ہوا ؟اس لئے کہ وہاں دودینی کاموں سے گئے ہوئے تھے ایک تو اس مدرسہ کو مدرس کی ضرورت تھی اس لئے لاڑکانہ سے مولوی شیر محمد سندیلو کو ساتھ لے کر گئے تھے اور رات کو اسی مدرسہ میں جلسہ تھا ۔ اس طرح دین کی راہ میں سفر کی صورت میں جان جان آفرین کے سپرد کی ۔ آپ کی نماز جناح باغ لاڑکانہ میں ہوئی جس میں علماء کرام ، مشائخ عظام اور عوام وخواص نے کثرت سے شرکت کی ۔ جناب سید غلام حسین شاہ بخاری نے نماز جنازہ پڑھائی اور شیخ طریقت حضرت میاں علی محمد مشوری ، حضرت حافظ نالے مٹھا مشوری ( درگاہ مشوری شریف ) مخدوم حافظ عبدالرحیم سومرو ، مولانا مفتی محمد صالح نعیمی، مفتی درمحمد سکندری (سانگھڑ) خطیب اسلام مناظر اہل سنت علامہ قادر بخش قاسمی ( رحمانی نگر ) مفتی غلام محمد نعیمی(ملیر ) مفتی محمد حسین قادری ( سکھر ) مفتی محمد ابراہیم قادری (سکھر ) مولانا ہدایت اللہ آریجوی اور راقم زین العابدین راشدی وغیرہ وغیرہ نے شرکت کی ۔
جامع مسجد عثمانیہ متصل درگاہ شریف حضرت مخدوم محمد عثمانیہ قریشی ؒ کے روضہ شریف میں مدفون ہوئے جہاں آپ کا مزار شریف مرجع عام و خاص ہے ۔ (ماخوذ : تذکرہ مولانا بلبل سندھ قلمی)
آسمان تیری لحد پہ شبنم افشانی کرے
سبزہ نورستہ اس گھر کی نگہبانی کرے
دیرینہ کرم جناب طارق سلطان پوری (حسن ابدال) نے راقم کی فرمائش پر ’’قطعہ تاریخ وصال ‘‘ مرحمت فرمائی ۔
تابانی فکر و زین نظر ۱۹۸۷ء
تابانی فکروزین نظر ۱۹۸۷ء
ہے ’’بھر چونڈی‘‘ مرے پیارے وطن کا
نمایاں مرکز رشد و ہدایت
گرانی مرتبت وہ بلبل سندھ
اسی درگاہ سے تھی اس کو نسبت
زمانے کا وہ مرشد عبد رحماں
تھا اس کا اس کے سر پر دست شفقت
وہ تلمیذعارفان وقت کا تھا
سعادت مند تھا وہ در حقیقت
تقدس ، کاظمی ، سردار احمد
تھے اس کے رہبران باکرامت
تھی مقبول جہاں تقریر اس کی
غذا ئے روح تھی اس کی تلاوت
تھا انداز بیاں اس کا یگانہ
تھی اس کی منفرد طرز خطابت
تھا اسلوب نوا اس کا موثر
تھی اس کے نطق میں اک خاص لذت
وہ فخر صاحبان علم و دانش
وقار اہل حق وہ خوب قسمت
سن ترحیل اس کا میں نے ’’طارق‘‘
کہا ہے ’’جلوہ شان خطابت‘‘ ۱۴۰۷ھ
مولانا در محمد ’’ خاک‘‘ صدیقی
مولانا ابو الاقبال در محمد خاک صدیقی ۱۲، ربیع الاول شریف بروز پیر، گوٹھ کاندھلہ نزد نصیر آباد ضلع لاڑکانہ میں تولد ہوئے۔
تعلیم و تربیت:
مقلانا در محمد نے ابتدائی تعلیم آخوند محمود لا کھیر اور حکیم میاں جمال الدین سے حاصل کی ۔ (میاں جمال الدین آپ کے قریبی رشتہ دار، ایک لاثانی حکیم اور عالم دین تھے) ۔ مولانا نے فارسی کی تعلیم مولانا مسعود سے حاصل کی جو کہ حضرت علامہ عطاء اللہ فیراز شاہی رحمتہ اللہ علیہ کے شاگرد تھے ۔ اس کے بعد عربی کی کی ابتدائی کتب مولانا حافظ فدا احمد مہیسر کے پاس پڑھیں ۔ اور اعلی تعلیم کے لئے حضرت مولانا مفتی عبدالرحمن دھامراہ کی خدمات حاصل کی ۔ اس کے بعد نورنگ واہ ( تح
❤1
صیل قمبر علی خان ) کے مدرسہ میں مولانا میر محمد نورنگی کے درس میں شامل ہوئے ۔ اس کے علاوہ گوٹھ گاجی کھاوڑ ( نزد نصیر آباد ) میں حضرتمولانا ابوالخیرات محمد صالح کے پاس درسی کتب مکمل کر کے فارغ التحصیل ہوئے۔
بیعت:
مولانا درمحمد ۱۸ سال کی عمر میں سلسلہ قادریہ سلطانیہ میں مفتی اعظم ، رئیس العلماء ، عاشق خیر الوریٰ ، عارف کامل حضرت علامہ مفتی عبدالغفور ہمایونی ؒ کے دست بیعت ہوئے ۔ اس کے بعد دادو ضلع کے نامور نقشبندی بزرگ حضرت مولانا غلام محمد ملکانی ؒ ( ملکانی شریف ) کے ہاتھ پر سلسلہ نقشبندی یہ میں بیعت ہوئے ۔
درس و تدریس:
مولانا بعد فراغت ۸سال اپنے گوٹھ میں ، ۱۳برس لعلورائنک میں درس دیا۔ اس طرح فرید آباد ( میہڑ) اور شکار پور میں بھی درس دیا ۔ درس و تدریس سے بارہ طلباء فارغ التحصیل ہوئے ۔ مسجد ناراجیل حیدر آباد میں امامت و خطابت کے فرائض بھی انجام دئیے۔
شاعری:
مولانا کو شاعری سے خاص قلبی لگاوٗ تھا۔ ’’خاک ‘‘ تخلص تھا ۔حمد ، نعت ، مولود ، منقبت اور غزل صنف میں کلام دستیاب ہے ۔ ( سندھی میں فقہی تحقیق جوار تقاء ص)
تصنیف و تالیف:
مولانا در محمد کاندھلوی کثیر التصانیف عالم تھے ۔ اس کے رسائل ، عربی ، فارسی اور سندھی میں تحریر شدہ ہیں۔ مولانا نے اپنے گوٹھ کاندھلہ میں اشاعتی مرکز ’’ادارہ سبحانی ‘‘قائم کیا جس کے تحت اپنی کتابوں کی اشاعت کا سلسلہ شروع کیا۔ادارہ سے بعض رسائل شائع ہوئے ۔ آپ کی تصانیف میں سے بعض کے اسماء درج ذیل ہیں :۔
٭فتاویٰ صدیقی (قلمی)
٭انوار محمدیہ ﷺ (سندھی ) مطبوعہ فروری ۱۹۸۱ء
٭خزانۃالعارفین (سندھی ) شاہ عبداللطیف بھٹائی کے بعض اشعار کی شرح
٭الوحی الوفی فی وجوب ذکر الخفی
٭اعانۃ الوحید فی رد عقائد السنی الجدید ( سندھی ) ردشیعیت
٭نور الابصار فی جواز الجمعۃ فی القریہ والامصار
٭تحفۃالاخوا ن فی اباحۃالتنباک و شربالدخان (مطبوعہ ۱۳۹۷ھ ۱۹۷۷ئ)اس رسالہ میں تمباکو کو مباح قرار دیا۔
٭اللمعۃفی تحقیق الخطبۃ(عربی )
٭عمدۃالالقاب
٭شرف الشبیہ فی شرح شجرۃالطیبہ
٭کلیات خاک ٭رباعیات خاک
٭خطبات خاک ٭بھیج پاگارہ ، پیر پیارا
وصال:
مولانا درمحمد کا اپنے متعلق خیال تھا کہ وہ ’’مجدد ‘‘ ہیں ۔ اپنے کو مجددثابت کرنے کیلئے انہوں نے مستقل ایک رسالہ ’’عمدۃالالقاب ‘‘لکھا۔ او رانوار محمد یہ کے آخر میں مجدد کے ثبوت میں علم الاعداد کے ذریعے دلائل درج کئے ہیں ۔
مولانا در محمد خاک نے ۳۰، ربیع الاول ۱۴۰۱ھ ۱۹۸۱ء شب جمعہ انتقال کیا۔ (انوار محمدیہ )
( انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-qazi-dost-muhammad-siddiqui-bulbul-e-sindh
بیعت:
مولانا درمحمد ۱۸ سال کی عمر میں سلسلہ قادریہ سلطانیہ میں مفتی اعظم ، رئیس العلماء ، عاشق خیر الوریٰ ، عارف کامل حضرت علامہ مفتی عبدالغفور ہمایونی ؒ کے دست بیعت ہوئے ۔ اس کے بعد دادو ضلع کے نامور نقشبندی بزرگ حضرت مولانا غلام محمد ملکانی ؒ ( ملکانی شریف ) کے ہاتھ پر سلسلہ نقشبندی یہ میں بیعت ہوئے ۔
درس و تدریس:
مولانا بعد فراغت ۸سال اپنے گوٹھ میں ، ۱۳برس لعلورائنک میں درس دیا۔ اس طرح فرید آباد ( میہڑ) اور شکار پور میں بھی درس دیا ۔ درس و تدریس سے بارہ طلباء فارغ التحصیل ہوئے ۔ مسجد ناراجیل حیدر آباد میں امامت و خطابت کے فرائض بھی انجام دئیے۔
شاعری:
مولانا کو شاعری سے خاص قلبی لگاوٗ تھا۔ ’’خاک ‘‘ تخلص تھا ۔حمد ، نعت ، مولود ، منقبت اور غزل صنف میں کلام دستیاب ہے ۔ ( سندھی میں فقہی تحقیق جوار تقاء ص)
تصنیف و تالیف:
مولانا در محمد کاندھلوی کثیر التصانیف عالم تھے ۔ اس کے رسائل ، عربی ، فارسی اور سندھی میں تحریر شدہ ہیں۔ مولانا نے اپنے گوٹھ کاندھلہ میں اشاعتی مرکز ’’ادارہ سبحانی ‘‘قائم کیا جس کے تحت اپنی کتابوں کی اشاعت کا سلسلہ شروع کیا۔ادارہ سے بعض رسائل شائع ہوئے ۔ آپ کی تصانیف میں سے بعض کے اسماء درج ذیل ہیں :۔
٭فتاویٰ صدیقی (قلمی)
٭انوار محمدیہ ﷺ (سندھی ) مطبوعہ فروری ۱۹۸۱ء
٭خزانۃالعارفین (سندھی ) شاہ عبداللطیف بھٹائی کے بعض اشعار کی شرح
٭الوحی الوفی فی وجوب ذکر الخفی
٭اعانۃ الوحید فی رد عقائد السنی الجدید ( سندھی ) ردشیعیت
٭نور الابصار فی جواز الجمعۃ فی القریہ والامصار
٭تحفۃالاخوا ن فی اباحۃالتنباک و شربالدخان (مطبوعہ ۱۳۹۷ھ ۱۹۷۷ئ)اس رسالہ میں تمباکو کو مباح قرار دیا۔
٭اللمعۃفی تحقیق الخطبۃ(عربی )
٭عمدۃالالقاب
٭شرف الشبیہ فی شرح شجرۃالطیبہ
٭کلیات خاک ٭رباعیات خاک
٭خطبات خاک ٭بھیج پاگارہ ، پیر پیارا
وصال:
مولانا درمحمد کا اپنے متعلق خیال تھا کہ وہ ’’مجدد ‘‘ ہیں ۔ اپنے کو مجددثابت کرنے کیلئے انہوں نے مستقل ایک رسالہ ’’عمدۃالالقاب ‘‘لکھا۔ او رانوار محمد یہ کے آخر میں مجدد کے ثبوت میں علم الاعداد کے ذریعے دلائل درج کئے ہیں ۔
مولانا در محمد خاک نے ۳۰، ربیع الاول ۱۴۰۱ھ ۱۹۸۱ء شب جمعہ انتقال کیا۔ (انوار محمدیہ )
( انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-qazi-dost-muhammad-siddiqui-bulbul-e-sindh
❤1
حضرت مولانا عبد الغنی پھلواری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
ولادت:
1 رمضان 1190ھ
عبد الغنی نام، حضرت مولانا عبد المغنی پھلواروی کے فرزند یکم رمضان المبارک ۱۱۹۰ھ کو آپ کی ولادت ہوئی، درسیات کی تکمیل مفتی برکت علی عظیم آبادی سے کی، مفتی صاحب حضرت مولانا شاہ نظام الدین فرنگی محلی کے تلمیذ التلمیذ اور نامور عالم تھے ـ
مولانا عبد الغنی کو اس قدر شوق علم تھا کہ روزانہ ۳۲ میل پا پیادہ پٹنہ جاکر مفتی صاحب سے تحصیل علم کرتے، اور راستہ میں قرآن مجید حفظ کرتے، فراغت کے بعد تا زندگی مدرسہ مسجد سنگی میں تدریس کے فرائض انجام دیتے رہے، آپ کا سلسلۂ فیض کانی وسیع ہوا۔ آپ کو بیعت حضرت مخدوم شاہ حسن علی عظیم آبادی منعمی قدس سرہٗ سے تھی، اور انہیں سے خلافت بھی پائی تھی ـ
تصنیفات:
مواطن التنزیل عوامص فتوحات مکیہ (۲) حاشیہ صدرا (۳) حاشیہ شرح مسلم، حاشیہ خیالی وتلویح، ۔۔۔۔۔۔یکم رجب المرجب ۱۲۷۲ھ کو آپ کا وصال ہوا ـ
وصال:
1 رجب المرجب 1272ھ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-abdul-ghani-phulwari
ولادت:
1 رمضان 1190ھ
عبد الغنی نام، حضرت مولانا عبد المغنی پھلواروی کے فرزند یکم رمضان المبارک ۱۱۹۰ھ کو آپ کی ولادت ہوئی، درسیات کی تکمیل مفتی برکت علی عظیم آبادی سے کی، مفتی صاحب حضرت مولانا شاہ نظام الدین فرنگی محلی کے تلمیذ التلمیذ اور نامور عالم تھے ـ
مولانا عبد الغنی کو اس قدر شوق علم تھا کہ روزانہ ۳۲ میل پا پیادہ پٹنہ جاکر مفتی صاحب سے تحصیل علم کرتے، اور راستہ میں قرآن مجید حفظ کرتے، فراغت کے بعد تا زندگی مدرسہ مسجد سنگی میں تدریس کے فرائض انجام دیتے رہے، آپ کا سلسلۂ فیض کانی وسیع ہوا۔ آپ کو بیعت حضرت مخدوم شاہ حسن علی عظیم آبادی منعمی قدس سرہٗ سے تھی، اور انہیں سے خلافت بھی پائی تھی ـ
تصنیفات:
مواطن التنزیل عوامص فتوحات مکیہ (۲) حاشیہ صدرا (۳) حاشیہ شرح مسلم، حاشیہ خیالی وتلویح، ۔۔۔۔۔۔یکم رجب المرجب ۱۲۷۲ھ کو آپ کا وصال ہوا ـ
وصال:
1 رجب المرجب 1272ھ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-abdul-ghani-phulwari
❤1
فقیہِ اعظم حضرت علامہ مفتی محمد نور اللہ نعیمی رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: علامہ مفتی محمد نور اللہ نعیمی بصیر پوری ۔ کنیت: ابو الخیر ۔لقب: فقیہِ اعظم ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
فقیہِ اعظم مولانا مفتی نور اللہ بصیر پوری بن حضرت علامہ مولانا الحاج ابو النور محمد صدیق چشتی بن حضرت مولانا احمد دین ۔ علیہم الرحمہ ۔
آپ کا تعلق ارائیں خاندان کے ایک ایسے علمی و روحانی گھرانے سے ہے، جونسلاً بعد نسل علوم اسلامیہ کا امین چلا آرہا ہے ۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 16 رجب المرجب 1332ھ، مطابق 10 جون 1914ء کو تحصیل دیپالپور ضلع ساہیوال پنجاب میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
ابتدائی تعلیم اپنے والد ماجد زبدۃ الاصفیاء مولانا ابو النور محمد صدیق چشتی علیہ الرحمۃ (م 1380ھ/1961ء) اور جد امجد حضرت مولانا احمد دین علیہ الرحمہ (م1361ھ/1942ء) سے علوم عقلیہ و نقلیہ کی تحصیل کی، پھر متحدہ ہندوستان کے مختلف مدارس کا رُخ کیا اورخداداد صلاحیت، ذاتی لگن اور محنت کی بنا پر علم کے کوہ ہمالیہ بن گئے۔علوم عقلیہ و نقلیہ حاصل کرنے کے بعد 1351ھ/1933ء میں مرکزی دار العلوم حزب الاحناف لاہور میں داخلہ لیا، جہاں شیخ الحدیث والتفسیر حضرت مولانا سید محمد دیدار علی شاہ الوری علیہ الرحمہ (م1354ھ/1935ء) اور مفتیٔ اعظم پاکستان مولانا ابو البرکات سید احمد قادری علیہ الرحمۃ (م 1398ھ / 1978ء) سے دورہ حدیث شریف پرھا ۔
حضرت محدث الوری علیہ الرحمہ دورۂ حدیث پڑھنے والوں کو اکثر فرمایا کرتے۔ "اس بار تم مولانا محمد نور اللہ صاحب کی طفیل پڑھ رہے ہو"۔
دورۂ حدیث مکمل کرنے کے بعد 6 شعبان 1352ھ / بمطابق 23 نومبر 1933ء کو سندو دستار فضیلت عطا کی گئی ۔ اس موقع پر امام اہل سنت محدث الوری علیہ الرحمۃ نے آپ کو مطبوعہ سند کے علاوہ خصوصی اسناد سے بھی نوازا اور"ابو الخیر" کنیت عطا فرمائی ۔
بیعت و خلافت:
آپ صدر الافاضل بدر المماثل مفسر قرآن، محافظ نظریۂ پاکستان حضرت علامہ مفتی سید نعیم الدین مراد آبادی رحمۃ اللہ علیہ کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے، اور تمام علوم و سلاسل کی اجازت سے مشرف ہوئے ۔
سیرت و خصائص:
مجمع علم عرفاں، شیخ الحدیث والتفسیر، حجۃ الاسلام، محدث دوراں، فقیہ العصر، فقیہ النفس، مفتیِ اعظم، حضرت فقیہ اعظم ابو الخیر مفتی محمد نور اللہ نعیمی بصیر پوری رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ بلا شبہ اللہ تعالیٰ کے ان مقبول اور برگزیدہ بندوں میں سے ہیں، جن کا دوام جریدۂ عالم پرثبت ہو چکا ہے ۔ اعلیٰ اوصاف اور متنوع القاب میں سے "فقیہ اعظم" کا لقب زبان زد خاص و عام ہے ۔ اب فقیہ اعظم کہا جائے تو اہل علم اس سے آپ ہی کی ذات گرامی مراد لیتے ہیں ۔ حضرت فقیہ اعظم نے اپنی فطری ذکاوت و ذہانت سے زمانہ طالب علمی میں ذاتی مطالعہ سے کم و بیش پچاس و فنون میں وہ مہارت حاصل کی کہ باید و شاید۔ آپ کے اساتذہ بھی کی علمی استعداد اور صلاحیت و قابلیت کے متعرف تھے ۔
حضرت فقیہ اعظم قدس سرہ العزیز نے تعلیم سے فراغت کے فوراً بعد درس و تدریس کا سلسلہ شروع کر دیا تھا۔ حضرت فقیہ اعظم قدس سرہ العزیز اپنے دور کی نادر روزگار شخصیت تھے، علم و فضل، تقویٰ و طہارت، تنظیم و سیاست اور ہمت و استقامت میں یکتائے روزگار تھے۔ یوں تو تفسیر، حدیث اور دیگر تمام مروج علومِ دینیہ میں کامل دسترس رکھتے تھے لیکن فقہ میں آپ کو تخصص کا درجہ حاصل تھا، اس لیے آپ کےہم عصر اکابر علماء نے آپ کو" فقیہ اعظم" تسلیم کیا ۔
حضرت فقیہ اعظم قدس سرہ العزیز فتویٰ نویسی میں غیر معمولی مہارت رکھتے تھے، آپ کی ذات مرجع خلائق تھی، ملک و بیرون ملک کے لوگ استفتاء ات میں آپ کی طرف رجوع کرتے۔ ایک فقیہ اور مفتی کے لیے جن خصوصیات کا ہونا ضروری ہے وہ تمام تر آپ میں بہ درجہ اتم پائی جاتی تھیں ۔ آپ کو اللہ جل شانہ نے مجتہدانہ صلاحیتیں ودیعت فرمائی تھیں ۔
موجودہ دور کے چیلنجوں کانہ صرف مقابلہ کیا بلکہ شریعت کی روشنی میں ان کاحل بھی پیش کیا ۔ ان کا چنانچہ ایک جگہ علماء کو دعوت فکر و عمل دیتے ہوئے رقم طراز ہیں:"کیا تازہ حوادثات و نوازل کے متعلق احکام شرعی موجود نہیں کہ ہم بالکلصُمٌّ بُکۡمٌبن جائیں اور عملاً اغیار کے ان کافرانہ مزعومات کی تصدیق کریں کہ معاذ اللہ اسلام فرسودہ مذہب ہے۔ اس میں روز مرہ ضروریات زندگی کے جدید ترین ہزارہا تقاضوں کا کوئی حل نہیں۔ یہ حقیقت بھی اظہر من الشّمس ہے کہ کسی ناجائز اور غلط چیز کو اپنے مقاد و منشاء سے جائز و مباح کہنا ہر گز جائز نہیں مگر شرعاً اجازت ہو تو عدم جواز کی رٹ لگانا بھی جائز نہیں، غرض یہ کہ ضد اور نفس پرستی سے بچنا نہایت ضروری ہے۔ کیا ہی اچھا ہو کہ ہمارے ذمہ دار علمائے کرام محض اللہ تعالیٰ کے لیے نفسانیت سے بلند و بالا سر جوڑ کر بیٹھیں اور ایسے جزئیات کے فیصلے کریں مگر بظاہر یہ توقع تمنا کے حدود طے نہیں کر سکتی اور یہی انتشار آزاد خیالی کا باعث بن رہا ہے۔" (فتاویٰ نوریہ، جلد 3، صفحہ 533) ـ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: علامہ مفتی محمد نور اللہ نعیمی بصیر پوری ۔ کنیت: ابو الخیر ۔لقب: فقیہِ اعظم ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
فقیہِ اعظم مولانا مفتی نور اللہ بصیر پوری بن حضرت علامہ مولانا الحاج ابو النور محمد صدیق چشتی بن حضرت مولانا احمد دین ۔ علیہم الرحمہ ۔
آپ کا تعلق ارائیں خاندان کے ایک ایسے علمی و روحانی گھرانے سے ہے، جونسلاً بعد نسل علوم اسلامیہ کا امین چلا آرہا ہے ۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 16 رجب المرجب 1332ھ، مطابق 10 جون 1914ء کو تحصیل دیپالپور ضلع ساہیوال پنجاب میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
ابتدائی تعلیم اپنے والد ماجد زبدۃ الاصفیاء مولانا ابو النور محمد صدیق چشتی علیہ الرحمۃ (م 1380ھ/1961ء) اور جد امجد حضرت مولانا احمد دین علیہ الرحمہ (م1361ھ/1942ء) سے علوم عقلیہ و نقلیہ کی تحصیل کی، پھر متحدہ ہندوستان کے مختلف مدارس کا رُخ کیا اورخداداد صلاحیت، ذاتی لگن اور محنت کی بنا پر علم کے کوہ ہمالیہ بن گئے۔علوم عقلیہ و نقلیہ حاصل کرنے کے بعد 1351ھ/1933ء میں مرکزی دار العلوم حزب الاحناف لاہور میں داخلہ لیا، جہاں شیخ الحدیث والتفسیر حضرت مولانا سید محمد دیدار علی شاہ الوری علیہ الرحمہ (م1354ھ/1935ء) اور مفتیٔ اعظم پاکستان مولانا ابو البرکات سید احمد قادری علیہ الرحمۃ (م 1398ھ / 1978ء) سے دورہ حدیث شریف پرھا ۔
حضرت محدث الوری علیہ الرحمہ دورۂ حدیث پڑھنے والوں کو اکثر فرمایا کرتے۔ "اس بار تم مولانا محمد نور اللہ صاحب کی طفیل پڑھ رہے ہو"۔
دورۂ حدیث مکمل کرنے کے بعد 6 شعبان 1352ھ / بمطابق 23 نومبر 1933ء کو سندو دستار فضیلت عطا کی گئی ۔ اس موقع پر امام اہل سنت محدث الوری علیہ الرحمۃ نے آپ کو مطبوعہ سند کے علاوہ خصوصی اسناد سے بھی نوازا اور"ابو الخیر" کنیت عطا فرمائی ۔
بیعت و خلافت:
آپ صدر الافاضل بدر المماثل مفسر قرآن، محافظ نظریۂ پاکستان حضرت علامہ مفتی سید نعیم الدین مراد آبادی رحمۃ اللہ علیہ کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے، اور تمام علوم و سلاسل کی اجازت سے مشرف ہوئے ۔
سیرت و خصائص:
مجمع علم عرفاں، شیخ الحدیث والتفسیر، حجۃ الاسلام، محدث دوراں، فقیہ العصر، فقیہ النفس، مفتیِ اعظم، حضرت فقیہ اعظم ابو الخیر مفتی محمد نور اللہ نعیمی بصیر پوری رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ بلا شبہ اللہ تعالیٰ کے ان مقبول اور برگزیدہ بندوں میں سے ہیں، جن کا دوام جریدۂ عالم پرثبت ہو چکا ہے ۔ اعلیٰ اوصاف اور متنوع القاب میں سے "فقیہ اعظم" کا لقب زبان زد خاص و عام ہے ۔ اب فقیہ اعظم کہا جائے تو اہل علم اس سے آپ ہی کی ذات گرامی مراد لیتے ہیں ۔ حضرت فقیہ اعظم نے اپنی فطری ذکاوت و ذہانت سے زمانہ طالب علمی میں ذاتی مطالعہ سے کم و بیش پچاس و فنون میں وہ مہارت حاصل کی کہ باید و شاید۔ آپ کے اساتذہ بھی کی علمی استعداد اور صلاحیت و قابلیت کے متعرف تھے ۔
حضرت فقیہ اعظم قدس سرہ العزیز نے تعلیم سے فراغت کے فوراً بعد درس و تدریس کا سلسلہ شروع کر دیا تھا۔ حضرت فقیہ اعظم قدس سرہ العزیز اپنے دور کی نادر روزگار شخصیت تھے، علم و فضل، تقویٰ و طہارت، تنظیم و سیاست اور ہمت و استقامت میں یکتائے روزگار تھے۔ یوں تو تفسیر، حدیث اور دیگر تمام مروج علومِ دینیہ میں کامل دسترس رکھتے تھے لیکن فقہ میں آپ کو تخصص کا درجہ حاصل تھا، اس لیے آپ کےہم عصر اکابر علماء نے آپ کو" فقیہ اعظم" تسلیم کیا ۔
حضرت فقیہ اعظم قدس سرہ العزیز فتویٰ نویسی میں غیر معمولی مہارت رکھتے تھے، آپ کی ذات مرجع خلائق تھی، ملک و بیرون ملک کے لوگ استفتاء ات میں آپ کی طرف رجوع کرتے۔ ایک فقیہ اور مفتی کے لیے جن خصوصیات کا ہونا ضروری ہے وہ تمام تر آپ میں بہ درجہ اتم پائی جاتی تھیں ۔ آپ کو اللہ جل شانہ نے مجتہدانہ صلاحیتیں ودیعت فرمائی تھیں ۔
موجودہ دور کے چیلنجوں کانہ صرف مقابلہ کیا بلکہ شریعت کی روشنی میں ان کاحل بھی پیش کیا ۔ ان کا چنانچہ ایک جگہ علماء کو دعوت فکر و عمل دیتے ہوئے رقم طراز ہیں:"کیا تازہ حوادثات و نوازل کے متعلق احکام شرعی موجود نہیں کہ ہم بالکلصُمٌّ بُکۡمٌبن جائیں اور عملاً اغیار کے ان کافرانہ مزعومات کی تصدیق کریں کہ معاذ اللہ اسلام فرسودہ مذہب ہے۔ اس میں روز مرہ ضروریات زندگی کے جدید ترین ہزارہا تقاضوں کا کوئی حل نہیں۔ یہ حقیقت بھی اظہر من الشّمس ہے کہ کسی ناجائز اور غلط چیز کو اپنے مقاد و منشاء سے جائز و مباح کہنا ہر گز جائز نہیں مگر شرعاً اجازت ہو تو عدم جواز کی رٹ لگانا بھی جائز نہیں، غرض یہ کہ ضد اور نفس پرستی سے بچنا نہایت ضروری ہے۔ کیا ہی اچھا ہو کہ ہمارے ذمہ دار علمائے کرام محض اللہ تعالیٰ کے لیے نفسانیت سے بلند و بالا سر جوڑ کر بیٹھیں اور ایسے جزئیات کے فیصلے کریں مگر بظاہر یہ توقع تمنا کے حدود طے نہیں کر سکتی اور یہی انتشار آزاد خیالی کا باعث بن رہا ہے۔" (فتاویٰ نوریہ، جلد 3، صفحہ 533) ـ
❤1
حضرت فقیہ اعظم اعلیٰ اخلاق و کرادار کے حامل تھے۔ ان کے قول و فعل میں کامل ہم آہنگی تھی۔ آپ با وقار، بارعب اور پر کشش شخصیت کے حامل تھے۔ آپ بچوں پر رحمت، طلبہ پر شفقت اور بزرگوں سے مودّت فرمایا کرتے تھے۔ اخلاقیات میں صاحب خلق عظیم کے مظہر اتم تھے۔ شخصیت کے اعتبار سے دیکھا جائے تو آپ کی ذات شرافت و منانت، جرات و استقلال، ہمدردی، خیر خواہی، حلم و برد باری، بے لوثی و فرض شناسی، عالی ظفر،علم و عمل، تواضع و انکسار خشیت الہیہ جیسی صفات سے متصف تھی۔ آپ سلف صالحین کی کامل تصویر تھے۔
آپ کی زندگی کی خصوصیات میں اہم بات یہ ہے کہ آپ سادہ منش، کم گو، دل کے کھرے اور شہرت و ذاتی نمائش سے بے نیاز تھے۔ شہری زندگی کے ہمہموں اور ظاہریت کے رکھ رکھاؤ سے دور، فطری اور صاف ستھرے ماحول میں رہ کر دین متین کی بے لوث خدمت کرتے ہوئے زندگی بسر کر ڈالی۔ درس و تدریس، فتویٰ نویسی، خطابت و امامت اور بہت بڑے ادارے کے جملہ انتظامی امور کی نگہداشت کے عوض تنخواہ یا اجرت لینے کے روادارنہ ہوئے بلکہ جملہ دینی خدمات محض رضائے الہی کی خاطر مفت سر انجام دیتے رہے۔انہی اوصاف کے پیش نظر استاذ الاساتذہ حضرت علامہ عطا محمد بندیالوی علیہ الرحمۃ نے آپ کو "مجدد وقت" قرار دیا۔ شیخ القرآن علامہ عبد الغفور ہزاروی علیہ الرحمہ نے آپ کو "آیت من آیات اللہ" کہا اور شہباز خطابت زادہ سید فیض الحسن شاہ صاحب علیہ الرحمہ (آلو مہار شریف) نے آپ کو "دور حاضر کا امام ابو حنیفہ" قرار دیا ۔
حضرت فقیہ اعظم فنافی الرسول ﷺ اور فنافی حب المدینہ تھے۔ آپ کی محفل میں حاضری سے شرف یاب ہونے والے اس حقیقت سے بخوبی واقف ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ کے ذکر سےآنکھوں سے آنسؤوں کے چشمے ابلنے لگتے، ایسا محسوس ہوتا کہ محبوب پاک ﷺ کے جمال جہاں آراء کے دیدار میں محو ہیں۔ مولانا حافظ محمد اسد اللہ نوری کے نام ایک مکتوب گرامی میں اسی حقیقت کو یوں منکشف فرماتے ہیں: "میرا تو بفضلہٖ تعالیٰ یہ عالم ہے کہ بصیر پور میں درس اسباق دیتے ہوئے مدینہ عالیہ میں ہی حاضر معلوم ہوتا ہوں۔ گنبد خضراء پیش نظر رہے تو کوئی دوری نہیں ۔ تعلیم بھی نہایت ضروری ہے کہ صوفی بے علم شیطان کا مسخرہ ہوتا ہے، ورنہ دل یہی چاہتا ہے کہ ہر وقت مدینہ عالیہ حاضری رہے"۔ (مکتوب محررہ، 18 - اکتوبر 1979ء) کئی بار ایسا بھی ہوا کہ ظاہری بے سرو سامانی کے باوجود بارگاہ حبیب ﷺ سے بلاوا آ گیا، اور مدینۃ المنورہ میں بارگاہِ حبیب ﷺ میں حاضر ہو گئے ۔
تاریخِ وصال:
یکم رجب المرجب 1403ھ بمطابق 15 اپریل 1983ء، بروز جمعۃ المبارک، دو پہر ایک بجے وصال فرمایا۔آپ کی آخری آرامگاہ بصیر پورشریف ضلع ساہیوال پنجاب پاکستان میں ہے ۔
ماخذ و مراجع: روشن دریچے ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-mufti-muhammad-noorullah-naeemi
آپ کی زندگی کی خصوصیات میں اہم بات یہ ہے کہ آپ سادہ منش، کم گو، دل کے کھرے اور شہرت و ذاتی نمائش سے بے نیاز تھے۔ شہری زندگی کے ہمہموں اور ظاہریت کے رکھ رکھاؤ سے دور، فطری اور صاف ستھرے ماحول میں رہ کر دین متین کی بے لوث خدمت کرتے ہوئے زندگی بسر کر ڈالی۔ درس و تدریس، فتویٰ نویسی، خطابت و امامت اور بہت بڑے ادارے کے جملہ انتظامی امور کی نگہداشت کے عوض تنخواہ یا اجرت لینے کے روادارنہ ہوئے بلکہ جملہ دینی خدمات محض رضائے الہی کی خاطر مفت سر انجام دیتے رہے۔انہی اوصاف کے پیش نظر استاذ الاساتذہ حضرت علامہ عطا محمد بندیالوی علیہ الرحمۃ نے آپ کو "مجدد وقت" قرار دیا۔ شیخ القرآن علامہ عبد الغفور ہزاروی علیہ الرحمہ نے آپ کو "آیت من آیات اللہ" کہا اور شہباز خطابت زادہ سید فیض الحسن شاہ صاحب علیہ الرحمہ (آلو مہار شریف) نے آپ کو "دور حاضر کا امام ابو حنیفہ" قرار دیا ۔
حضرت فقیہ اعظم فنافی الرسول ﷺ اور فنافی حب المدینہ تھے۔ آپ کی محفل میں حاضری سے شرف یاب ہونے والے اس حقیقت سے بخوبی واقف ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ کے ذکر سےآنکھوں سے آنسؤوں کے چشمے ابلنے لگتے، ایسا محسوس ہوتا کہ محبوب پاک ﷺ کے جمال جہاں آراء کے دیدار میں محو ہیں۔ مولانا حافظ محمد اسد اللہ نوری کے نام ایک مکتوب گرامی میں اسی حقیقت کو یوں منکشف فرماتے ہیں: "میرا تو بفضلہٖ تعالیٰ یہ عالم ہے کہ بصیر پور میں درس اسباق دیتے ہوئے مدینہ عالیہ میں ہی حاضر معلوم ہوتا ہوں۔ گنبد خضراء پیش نظر رہے تو کوئی دوری نہیں ۔ تعلیم بھی نہایت ضروری ہے کہ صوفی بے علم شیطان کا مسخرہ ہوتا ہے، ورنہ دل یہی چاہتا ہے کہ ہر وقت مدینہ عالیہ حاضری رہے"۔ (مکتوب محررہ، 18 - اکتوبر 1979ء) کئی بار ایسا بھی ہوا کہ ظاہری بے سرو سامانی کے باوجود بارگاہ حبیب ﷺ سے بلاوا آ گیا، اور مدینۃ المنورہ میں بارگاہِ حبیب ﷺ میں حاضر ہو گئے ۔
تاریخِ وصال:
یکم رجب المرجب 1403ھ بمطابق 15 اپریل 1983ء، بروز جمعۃ المبارک، دو پہر ایک بجے وصال فرمایا۔آپ کی آخری آرامگاہ بصیر پورشریف ضلع ساہیوال پنجاب پاکستان میں ہے ۔
ماخذ و مراجع: روشن دریچے ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-mufti-muhammad-noorullah-naeemi
scholars.pk
Hazrat Molana Mufti Muhammad Noorullah Naeemi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
حضرت خواجہ قطب الدین مودود چشتی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
آپ مادر زاد ولی تھے قطب الاقطاب اور قطب الدین لقب پایا تھا۔ شمع صوفیاء اور چراغ چشتیہ کے خطابات سے نوازے گئے تھے۔ یگانۂ روزگار محبوب پروردگار۔ صاحب الاسرار اور مخزن الانور تھے۔ خرقۂ خلافت اپنے والد بزرگوار سے حاصل کیا تھا۔ وہ اکثر ہوا میں پرواز کرکے جہاں چاہتے چلے جایا کرتے تھے۔ سات سال کی عمر میں قرآن پاک حفظ کرلیا اورسولہ سال کی عمر میں علوم دینیہ سے فارغ ہوگئے، آپ کی تصانیف میں سے منہاج العارفین اور خلاصۃ الشرقیہ بہت مشہور ہیں، آپ کی عمر انتیس سال تھی کہ والد ماجد کا انتقال ہوگیا۔ آپ سجادۂ نشین بنے اور مخلوق کی ہدایت میں مصروف ہوگئے۔ چنانچہ بیت المقدس سے چشت تک اور بلخ و بخارا کے علاقوں کی سیر کی ، آپ کے ایک ہزار خلفاء مشہور ہوئے۔ اور آپ کے مریدوں کی تعداد کا کوئی شمارنہیں۔ دنیا کے کسی حصّے پر آپ کے کسی مرید کوکوئی مشکل پیش آتی آپ مدد کے لیے وہاں پہنچتے، آپ کی وفات کے بعد بھی جو شخص آپ کے مزار پر تین دن کے لیے حاضر ہوتا اور دعا کرتا تو اُس کی مشکل حل ہوجاتی، آپ کے بہت بیٹے تھے۔ چنانچہ خطہ پاک چشت سے آپ کی اولاد کی کئی شاخیں دنیا میں پھیلیں۔
خواجہ مودود چشتی رحمۃ اللہ علیہ کو کعبہ کے طواف کرنے کا شوق پیدا ہوتا تو وہ ہوا میں اُڑ کر فوراً مکہ شریف پہنچ جاتے۔ طواف کرتے اور اسی دن واپس آجاتے۔ حضرت شیخ احمد جام زندہ پیل بڑے مشہور ولیوں میں ہوئے ہیں انہوں نے جب خواجہ ابویوسف چشتی رحمۃ اللہ علیہ کی وفات کی خبر سنی، تو آپ خواجہ مودود کے پاس چشت کی طرف روانہ ہوئے، آپ کے دشمنوں نے آپ کے خلاف حضرت مودود چشتی کو یہ خبر پہنچائی کہ خواجہ احمد جام آپ کی ولایت پر قبضہ کرنے آ رہے ہیں۔ یہ بات سنتے ہی خواجہ مودود چشتی نے مراقبہ کیا اور چند لمحوں کے بعد سر اُٹھا کر فرمایا کہ یہ بات بالکل غلط ہے۔ شیخ احمد جان تو محبت و خلوص سے آرہے ہیں چنانچہ خواجہ نے فوری طور پر ایک دیوار کو حکم دیا کہ وہ گھوڑے کی طرح تیز دوڑ کر شیخ احمد جام کا استقبال کرے اور انہیں لائے۔ شیخ مودود چشتی چار ہزار اولیاء اور خلفاء کو لے کر استقبال کے لیے آگے بڑھے۔ شیخ احمد جام شیر پر سوار ہوکر دریائے نوتک کے کنارے پر کھڑے تھے۔ دونوں کا آمنا سامنا ہوا۔ دونوں اپنی سواریوں سے نیچے آگئے اور ایک دوسرے سے بغل گیر ہوئے، دیر تک بیٹھے، گفتگو کرے رہے، وہاں سے خواجہ علی حکیم جو خواجہ مودود چشتی کا معتقد تھا کے گھر تشریف لے گئے، تین دن تک مجلس سماع منعقد رہی۔ دونوں حضرات وجد میں جھومتے رہے۔ بے غیرت دشمنوں نے شیخ احمد کی تشریف آوری کی خبر دوسرے انداز میں پیش کی تھی۔ اب یہ لوگ موقع غنیمت جان کر مجلسِ سماع میں چلے آئے۔ وہ چاہتے تھے کہ شیخ احمد جام کو تلوار سے ہلاک کردیں۔ مگر اسی اثناء میں خواجہ موجود چشتی کی نگاہِ غضب ان پر ایسی پڑی کہ تمام بے ہوش ہوکر تڑپنے لگے۔ جب مجلس ختم ہوئی تو شیخ احمد جام نے ان بے ہوشوں کی حالت دریافت کی تو حضرت خواجہ مودود نے سارا واقعہ سنادیا۔ شیخ احمد جام نے ان کا جرم معاف کردیا، اُن کی پشت پر دستِ شفقت پھیرا تو اُن کو ہوش آیا۔ دونوں بزرگوں کے پاؤں پر گر پڑے۔ شیخ احمد جام حضرت خواجہ مودود دونوں خلوت میں رہے۔ دونوں حضرات نے ایک دوسرے سے استفادہ کیا، کچھ دنوں بعد اپنی اپنی خانقاہ کی طرف تشریف لے گئے۔
ہم یہاں بتا دینا چاہتے ہیں کہ نفحات الانس کے مصنف نے اس واقعہ کو دوسری طرح نقل کیا ہے۔ لیکن ہم نے جو واقعہ بیان کیا ہے وہ حضرت خواجہ مودود چشتی رحمۃ اللہ علیہ کے ملفوظات میں لکھا ہوا دیکھا ہے، خواجہ مودود چشتی رحمۃ اللہ علیہ جب شیخ احمد جام سے رخصت لے کر چشت کی طرف لوٹے تو راستے میں پہاڑ کے دامن میں ایک ایسے شخص کو دیکھا جو یا مودود کا ورد کر رہا تھا۔ اُس سے پوچھا گیا تو اُس نے بتایا کہ میں ایک عرصہ سے نابینا تھا۔ ایک دن میں نے اللہ کی باگارہ میں بینائی کے لیے دعا کی تو مجھے غیب سے آواز آئی کہ خواجہ مودود میرے محبوب ہیں اُن کے نام کا ورد کیا کرو، ایک وقت آئے گا کہ ان کی برکت سے بینائی مل جائے گی حضرت خواجہ مودود نے جب یہ بات سنی تو اپنا لعاب دہن اس کی آنکھوں پر ملا، وہ اُسی وقت بینا ہوگیا۔
حضرت خواجہ مودود چشتی رحمۃ اللہ علیہ جب بلخ میں پہنچے تو وہاں کے علماء نے آپ کی بڑی مخالفت کی، مسئلہ سماع پر مناظرہ کرنے کے لیے ایک عظیم الشان اجلاس کیا اس مجلس میں علمائے بلخ نے جتنے سوالات اُٹھائے حضرت خواجہ مودود نے اُن کے جواب دیے، اور فرمایا ہم خواجہ ابراہیم بن ادھم رحمۃ اللہ علیہ کی سنت پر قائم ہیں وہ ہمارے پیر تھے اور سماع سنا کرتے تھے۔ علماء نے جواب میں کہا کہ خواجہ ابراہیم ادھم پیر کامل تھے۔ وہ ہوا میں اُڑا کرتے تھے ۔ ان کا سماع سننا جائز ہے مگر آپ ایسا نہیں کرسکتے۔ حضرت خواجہ مودود چشتی اُسی وقت مجلس سے اُٹھے اور تیز پرندے کی طرح ہوا میں پرواز کرنے لگے۔ علماء کی نظروں سے غائب ہوگئے، کچھ وقت گزرنے کے بعد واپس آئے اور
آپ مادر زاد ولی تھے قطب الاقطاب اور قطب الدین لقب پایا تھا۔ شمع صوفیاء اور چراغ چشتیہ کے خطابات سے نوازے گئے تھے۔ یگانۂ روزگار محبوب پروردگار۔ صاحب الاسرار اور مخزن الانور تھے۔ خرقۂ خلافت اپنے والد بزرگوار سے حاصل کیا تھا۔ وہ اکثر ہوا میں پرواز کرکے جہاں چاہتے چلے جایا کرتے تھے۔ سات سال کی عمر میں قرآن پاک حفظ کرلیا اورسولہ سال کی عمر میں علوم دینیہ سے فارغ ہوگئے، آپ کی تصانیف میں سے منہاج العارفین اور خلاصۃ الشرقیہ بہت مشہور ہیں، آپ کی عمر انتیس سال تھی کہ والد ماجد کا انتقال ہوگیا۔ آپ سجادۂ نشین بنے اور مخلوق کی ہدایت میں مصروف ہوگئے۔ چنانچہ بیت المقدس سے چشت تک اور بلخ و بخارا کے علاقوں کی سیر کی ، آپ کے ایک ہزار خلفاء مشہور ہوئے۔ اور آپ کے مریدوں کی تعداد کا کوئی شمارنہیں۔ دنیا کے کسی حصّے پر آپ کے کسی مرید کوکوئی مشکل پیش آتی آپ مدد کے لیے وہاں پہنچتے، آپ کی وفات کے بعد بھی جو شخص آپ کے مزار پر تین دن کے لیے حاضر ہوتا اور دعا کرتا تو اُس کی مشکل حل ہوجاتی، آپ کے بہت بیٹے تھے۔ چنانچہ خطہ پاک چشت سے آپ کی اولاد کی کئی شاخیں دنیا میں پھیلیں۔
خواجہ مودود چشتی رحمۃ اللہ علیہ کو کعبہ کے طواف کرنے کا شوق پیدا ہوتا تو وہ ہوا میں اُڑ کر فوراً مکہ شریف پہنچ جاتے۔ طواف کرتے اور اسی دن واپس آجاتے۔ حضرت شیخ احمد جام زندہ پیل بڑے مشہور ولیوں میں ہوئے ہیں انہوں نے جب خواجہ ابویوسف چشتی رحمۃ اللہ علیہ کی وفات کی خبر سنی، تو آپ خواجہ مودود کے پاس چشت کی طرف روانہ ہوئے، آپ کے دشمنوں نے آپ کے خلاف حضرت مودود چشتی کو یہ خبر پہنچائی کہ خواجہ احمد جام آپ کی ولایت پر قبضہ کرنے آ رہے ہیں۔ یہ بات سنتے ہی خواجہ مودود چشتی نے مراقبہ کیا اور چند لمحوں کے بعد سر اُٹھا کر فرمایا کہ یہ بات بالکل غلط ہے۔ شیخ احمد جان تو محبت و خلوص سے آرہے ہیں چنانچہ خواجہ نے فوری طور پر ایک دیوار کو حکم دیا کہ وہ گھوڑے کی طرح تیز دوڑ کر شیخ احمد جام کا استقبال کرے اور انہیں لائے۔ شیخ مودود چشتی چار ہزار اولیاء اور خلفاء کو لے کر استقبال کے لیے آگے بڑھے۔ شیخ احمد جام شیر پر سوار ہوکر دریائے نوتک کے کنارے پر کھڑے تھے۔ دونوں کا آمنا سامنا ہوا۔ دونوں اپنی سواریوں سے نیچے آگئے اور ایک دوسرے سے بغل گیر ہوئے، دیر تک بیٹھے، گفتگو کرے رہے، وہاں سے خواجہ علی حکیم جو خواجہ مودود چشتی کا معتقد تھا کے گھر تشریف لے گئے، تین دن تک مجلس سماع منعقد رہی۔ دونوں حضرات وجد میں جھومتے رہے۔ بے غیرت دشمنوں نے شیخ احمد کی تشریف آوری کی خبر دوسرے انداز میں پیش کی تھی۔ اب یہ لوگ موقع غنیمت جان کر مجلسِ سماع میں چلے آئے۔ وہ چاہتے تھے کہ شیخ احمد جام کو تلوار سے ہلاک کردیں۔ مگر اسی اثناء میں خواجہ موجود چشتی کی نگاہِ غضب ان پر ایسی پڑی کہ تمام بے ہوش ہوکر تڑپنے لگے۔ جب مجلس ختم ہوئی تو شیخ احمد جام نے ان بے ہوشوں کی حالت دریافت کی تو حضرت خواجہ مودود نے سارا واقعہ سنادیا۔ شیخ احمد جام نے ان کا جرم معاف کردیا، اُن کی پشت پر دستِ شفقت پھیرا تو اُن کو ہوش آیا۔ دونوں بزرگوں کے پاؤں پر گر پڑے۔ شیخ احمد جام حضرت خواجہ مودود دونوں خلوت میں رہے۔ دونوں حضرات نے ایک دوسرے سے استفادہ کیا، کچھ دنوں بعد اپنی اپنی خانقاہ کی طرف تشریف لے گئے۔
ہم یہاں بتا دینا چاہتے ہیں کہ نفحات الانس کے مصنف نے اس واقعہ کو دوسری طرح نقل کیا ہے۔ لیکن ہم نے جو واقعہ بیان کیا ہے وہ حضرت خواجہ مودود چشتی رحمۃ اللہ علیہ کے ملفوظات میں لکھا ہوا دیکھا ہے، خواجہ مودود چشتی رحمۃ اللہ علیہ جب شیخ احمد جام سے رخصت لے کر چشت کی طرف لوٹے تو راستے میں پہاڑ کے دامن میں ایک ایسے شخص کو دیکھا جو یا مودود کا ورد کر رہا تھا۔ اُس سے پوچھا گیا تو اُس نے بتایا کہ میں ایک عرصہ سے نابینا تھا۔ ایک دن میں نے اللہ کی باگارہ میں بینائی کے لیے دعا کی تو مجھے غیب سے آواز آئی کہ خواجہ مودود میرے محبوب ہیں اُن کے نام کا ورد کیا کرو، ایک وقت آئے گا کہ ان کی برکت سے بینائی مل جائے گی حضرت خواجہ مودود نے جب یہ بات سنی تو اپنا لعاب دہن اس کی آنکھوں پر ملا، وہ اُسی وقت بینا ہوگیا۔
حضرت خواجہ مودود چشتی رحمۃ اللہ علیہ جب بلخ میں پہنچے تو وہاں کے علماء نے آپ کی بڑی مخالفت کی، مسئلہ سماع پر مناظرہ کرنے کے لیے ایک عظیم الشان اجلاس کیا اس مجلس میں علمائے بلخ نے جتنے سوالات اُٹھائے حضرت خواجہ مودود نے اُن کے جواب دیے، اور فرمایا ہم خواجہ ابراہیم بن ادھم رحمۃ اللہ علیہ کی سنت پر قائم ہیں وہ ہمارے پیر تھے اور سماع سنا کرتے تھے۔ علماء نے جواب میں کہا کہ خواجہ ابراہیم ادھم پیر کامل تھے۔ وہ ہوا میں اُڑا کرتے تھے ۔ ان کا سماع سننا جائز ہے مگر آپ ایسا نہیں کرسکتے۔ حضرت خواجہ مودود چشتی اُسی وقت مجلس سے اُٹھے اور تیز پرندے کی طرح ہوا میں پرواز کرنے لگے۔ علماء کی نظروں سے غائب ہوگئے، کچھ وقت گزرنے کے بعد واپس آئے اور
❤1
مجلس میں آکر یوں بیٹھ گئے کہ کسی کو خبر تک نہ ہوئی اہل مجلس میں شور برپا ہوگیا۔ اس مجلس میں دو ہزار لوگ موجود تھے تمام کے تمام آپ کے مرید ہوگئے۔ مگر اس کے باوجود بعض ضدّی علماء اصرار کرتے رہے کہ ہمیں اس پرواز پر اعتبار نہیں۔ایسا کام تو بعض جوگی بھی کرلیتے ہیں۔ ہم اس وقت مانے گے جب جامع مسجد کے حوض پر پڑا ہوا بڑا پتھر آپ کی ولایت کی گواہی دے ، پھر ہم آپ کے مرید ہوجائیں گے۔ حضرت خواجہ نے انگشت شہادت سے پتھر کی طرف اشارہ کیا وہ پتھر اپنی جگہ سے ہلا اور لیٹے لیٹے حضرت خواجہ کے پاس آکر رک گیا۔ پتھر سے آواز آئی، اے خواجہ مودود آپ کی ولایت پر کوئی شک نہیں، آپ کے اقوال شرع پیغمبر کے مطابق ہیں۔ بلخ کے علماء نے جب یہ کرامت دیکھی تو حضرت خواجہ مودود کے قدموں میں گر پڑے اپنی غلطی کی معافی مانگی۔
یاد رکھیں کہ خواجہ مودود چشتی رحمۃ اللہ علیہ کے ایک ہزار مشہور خلفاء تھے، جن میں اکثر اولیاء کبار اور مشائخ والاتبار تھے۔ اگر ان کے اسماء گرامی لکھیں جائیں تو ایک علیحدہ کتاب درکار ہوگی، ہم تبرکاً یہاں صرف آٹھ بزرگوں کے نام لکھتے ہیں۔ پہلے آنجناب کے فرزند ارجمند خواجہ ابواحمدر حمۃ اللہ علیہ ہیں جو آپ کی وفات کے بعد سجادہ نشین بنے اور طلباء حق کو تربیت کرتے رہے۔ دوسرے خواجہ حاجی شریف زندنی رحمۃ اللہ علیہ تھے آپ قطب الوقت بھی تھے اور غوث زمانہ بھی تیسرے شاہ سنجان تھے جن کا پہلے نام خواجہ سنجان تھا پھر انہیں خواجہ بزرگوار کا خطاب ملا، چوتھے ابو نصیر شکیبان زہاد تھے آپ سیطستان کے اکابر مشائخ میں شمار ہوتے ہیں۔ پانچواں شیخ حسن تبتی ہیں جو پانچویں کوہِ تبت میں سکونت رکھتے تھے چھٹے احمد بد رون تھے جو موضع بد رون میں سکونت پذیر تھے۔ ساتواں خواجہ سبز پوش آزر بائی جانی تھے آٹھویں عثمان روحی تھے۔ آپ کو حضرت بایزید بسطامی کے سلسلۂ عالیہ سے بھی خلافت ملی تھی نویں خواجہ ابوالحسن بانی تھے رحمۃ اللہ علیہم اجمعین۔
جب حضرت خواجہ مودود رحمۃ اللہ علیہ مرض موت میں صاحب فراش ہوئے۔ روز بروز مرض بڑھتا جاتا تھا، وفات کے دن بار بار اپنے دروازے کی طرف دیکھتے تھے ہر بار سرہانے سے سر اُٹھاتے جیسے کسی بڑے پیارے کے آنے کا انتظار ہو، اسی اثناء میں ایک شخص نورانی چہرے اور پاکیزہ لباس کے ساتھ اندر آیا۔ سلام ادا کرنے کے بعد ریشمی کپڑے کا ایک ٹکڑا پیش کیا، جس پر سبز خط سے چند سطریں لکھی ہوئی تھیں حضرت خواجہ نے اس کپڑے کو ایک نظر دیکھا اور اپنی آنکھوں پر رکھا اور جان اللہ کے حوالے کردی، تجہیز و تکفین کے بعد لوگ نماز جنازہ ادا کرنے لگے تو ایک ہیبت ناک آواز آئی جس کی دہشت سے لوگ درہم برہم ہوگئے، بہت سے رجال الغیب پہنچے، پہلے انہوں نے نماز جنازہ ادا کی، ان کے بعد جن اور دیو آنے لگے، پھر ہزاروں پری زاد پہنچنے شروع ہوئے، وہ نماز جنازہ پڑھتے جاتے اس کے بعد آپ کے بے شمار مرید خلفاء چھوٹے بڑے نماز جنازہ ادا کرتے رہے۔ جب سب لوگ فارغ ہوئے تو جنازے کا تابوت خود بخود اٹھا اور قبر تک جا پہنچااس کرامت کو دیکھ کر دس ہزار ایسے لوگ جو اسلام سے بیگانہ تھے، مشرف با سلام ہوئے۔ حضرت خواجہ مودود چار سو تیس ہجری میں پیدا ہوئے اور آپ یکم رجب المرجب ۵۲۵ھ میں فوت ہوئے۔
صاحبِ مودود والی پیشوا
۵۲۷ھ
ہم شہِ محمود دین مودود خواں
۵۲۷ھ
انتقال از سرور والادعا
رحلت آں بادشاہ اتقیاء
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-qutbuddin-maudood-chishti
یاد رکھیں کہ خواجہ مودود چشتی رحمۃ اللہ علیہ کے ایک ہزار مشہور خلفاء تھے، جن میں اکثر اولیاء کبار اور مشائخ والاتبار تھے۔ اگر ان کے اسماء گرامی لکھیں جائیں تو ایک علیحدہ کتاب درکار ہوگی، ہم تبرکاً یہاں صرف آٹھ بزرگوں کے نام لکھتے ہیں۔ پہلے آنجناب کے فرزند ارجمند خواجہ ابواحمدر حمۃ اللہ علیہ ہیں جو آپ کی وفات کے بعد سجادہ نشین بنے اور طلباء حق کو تربیت کرتے رہے۔ دوسرے خواجہ حاجی شریف زندنی رحمۃ اللہ علیہ تھے آپ قطب الوقت بھی تھے اور غوث زمانہ بھی تیسرے شاہ سنجان تھے جن کا پہلے نام خواجہ سنجان تھا پھر انہیں خواجہ بزرگوار کا خطاب ملا، چوتھے ابو نصیر شکیبان زہاد تھے آپ سیطستان کے اکابر مشائخ میں شمار ہوتے ہیں۔ پانچواں شیخ حسن تبتی ہیں جو پانچویں کوہِ تبت میں سکونت رکھتے تھے چھٹے احمد بد رون تھے جو موضع بد رون میں سکونت پذیر تھے۔ ساتواں خواجہ سبز پوش آزر بائی جانی تھے آٹھویں عثمان روحی تھے۔ آپ کو حضرت بایزید بسطامی کے سلسلۂ عالیہ سے بھی خلافت ملی تھی نویں خواجہ ابوالحسن بانی تھے رحمۃ اللہ علیہم اجمعین۔
جب حضرت خواجہ مودود رحمۃ اللہ علیہ مرض موت میں صاحب فراش ہوئے۔ روز بروز مرض بڑھتا جاتا تھا، وفات کے دن بار بار اپنے دروازے کی طرف دیکھتے تھے ہر بار سرہانے سے سر اُٹھاتے جیسے کسی بڑے پیارے کے آنے کا انتظار ہو، اسی اثناء میں ایک شخص نورانی چہرے اور پاکیزہ لباس کے ساتھ اندر آیا۔ سلام ادا کرنے کے بعد ریشمی کپڑے کا ایک ٹکڑا پیش کیا، جس پر سبز خط سے چند سطریں لکھی ہوئی تھیں حضرت خواجہ نے اس کپڑے کو ایک نظر دیکھا اور اپنی آنکھوں پر رکھا اور جان اللہ کے حوالے کردی، تجہیز و تکفین کے بعد لوگ نماز جنازہ ادا کرنے لگے تو ایک ہیبت ناک آواز آئی جس کی دہشت سے لوگ درہم برہم ہوگئے، بہت سے رجال الغیب پہنچے، پہلے انہوں نے نماز جنازہ ادا کی، ان کے بعد جن اور دیو آنے لگے، پھر ہزاروں پری زاد پہنچنے شروع ہوئے، وہ نماز جنازہ پڑھتے جاتے اس کے بعد آپ کے بے شمار مرید خلفاء چھوٹے بڑے نماز جنازہ ادا کرتے رہے۔ جب سب لوگ فارغ ہوئے تو جنازے کا تابوت خود بخود اٹھا اور قبر تک جا پہنچااس کرامت کو دیکھ کر دس ہزار ایسے لوگ جو اسلام سے بیگانہ تھے، مشرف با سلام ہوئے۔ حضرت خواجہ مودود چار سو تیس ہجری میں پیدا ہوئے اور آپ یکم رجب المرجب ۵۲۵ھ میں فوت ہوئے۔
صاحبِ مودود والی پیشوا
۵۲۷ھ
ہم شہِ محمود دین مودود خواں
۵۲۷ھ
انتقال از سرور والادعا
رحلت آں بادشاہ اتقیاء
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-qutbuddin-maudood-chishti
www.scholars.pk
Hazrat Khawaja Qutbuddin Maudood Chishti
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
قاضی ثناء اللہ پانی پتی رحمۃ اللہ علیہ
نام ونسب:
اسم گرامی: قاضی محمد ثناء اللہ پانی پتی رحمۃ اللہ علیہ ۔ لقب: قاضی الاسلام ۔ بیہقی وقت، علم الہدیٰ، مفسر قرآن، فقیہ اعظم ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
قاضی محمد ثناء اللہ پانی پتی بن مولانا محمد حبیب اللہ بن مولانا ہدایت اللہ بن مولانا عبدالہادی،بن سعیدالدین بن شیخ عبدالقدوس بن شیخ خلیل اللہ بن مفتی عبد السمیع بن شیخ حسین بن خواجہ محفوظ بن خواجہ احمد بن خواجہ ابراہیم بن مخدوم خواجہ شیخ جلال الدین کبیرالاولیاء پانی پتی۔علیہم الرحمہ۔
آپ کا سلسلہ نسب حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ تک منتہی ہوتا ہے۔
حضرت قاضی صاحب علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: حضرت کبیر الاولیاء پانی پتی نے اپنے صاحبزادے شیخ ابراہیم کو بشارت دی تھی کہ تمھاری نسل میں ہمیشہ علماء پیدا ہوتے رہیں گے ۔ قاضی صاحب فرماتے ہیں: حضرت کی بشارت کےعین مطابق اب تک یہ سلسلہ اس خاندان میں قائم ہے ۔ حضرت قاضی صاحب کاننھیال پانی پت کاانصارخاندان ہے۔جن کاسلسلہ نسب حضرت میزبان رسول حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ تک منتہی ہوتا ہے۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت کی تاریخ خاموش ہے، البتہ قیاس وغیرہ سے 1144ھ، تا 1140ھ کےمابین متعین ہوتاہے۔ پانی پت آپ کی جائے پیدائش ہے۔ (تذکرہ قاضی ثناء اللہ پانی پتی:63)
تحصیلِ علم:
آپ کاخاندان علم وفضل میں مشہورتھا۔ابتدائی تعلیم اپنےگھر پرہوئی۔آپ نےسات سال کی عمر میں قرآن مجید مکمل فرمالیا۔اس کےبعد آپ نےقرآتِ عشرہ کی تحصیل وتکمیل فرمائی اس فن میں کمال ومہارت کا اندازہ تفسیر مظہری کےمطالعے سےکیا جا سکتا ہے ۔ شاید اس فن میں کوئی تفسیر "تفسیرمظہری" کامقابلہ کرسکے۔ قرأتِ عشرہ کی تکمیل وتحصیل دیگر اساتذہ کے علاوہ شیخ قاری صالح المصری علیہ الرحمہ سےفرمائی ۔ تکمیل قرآن کےبعد قاضی صاحب نےابتدائی کتب اپنے والدِ گرامی مولانا قاضی محمد حبیب اللہ اور برادر اکبر قاضی محمد فضل اللہ سے پڑھیں ۔ ان کےعلاوہ دیگر پانی کے دیگر اساتذہ سےعلمی استفادہ کیا ۔ پانی پت کےمدارس میں تکمیل کرنے کے بعد مزید حصولِ علم کےلئے حضرت مرزا مظہر جانِ جاناں علیہ الرحمہ اورشیخ المحدثین حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی علیہ الرحمہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اوران دونوں نابغۂ روزگار شخصیات سےتمام علوم اور بالخصوص فن حدیث وتفسیر اور تصوف میں کمال حاصل کیا۔
بیعت و خلافت:
ابتداً شیخ محمد عابد سنامی علیہ الرحمہ سے بیعت ہوئے، پھران کے وصال کے بعد شیخ مرزا مظہر جان جاناں علیہ الرحمہ کی خدمت میں رہ کر فیض حاصل کیا ۔ انہوں نے آپ کو تمام اسانید و سلاسل کی اجازت عطاء فرمائی۔
سیرت و خصائص:
قاضی الاسلام، مفسر قرآن، جامع علوم عقلیہ ونقلیہ، جامع شریعت و طریقت، فقیہ الاعظم، بیہقیِ عصر،صاحبِ علم الہدیٰ، امام العلماء، شیخ الاتقیاء، صاحبِ معارف اسرار ربانی حضرت قاضی محمد ثناء اللہ پانی پتی رحمۃ اللہ علیہ۔آپ رحمۃ اللہ علیہ اپنے وقت کےایک عظیم مفسر و محدث اور فقیہ کامل تھے۔ تمام علوم و فنون میں کمال مہارت حاصل تھی ۔ پانی پت میں قاضی اسلام کے منصب پر فائز تھے ۔ خاتم المحدثین شیخ المحققین حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی علیہ الرحمہ آپ کےتبحر علمی ،اورفنِ حدیث میں مہارت کےپیشِ نظر آپ کو"بیہقیِ وقت"اور امام الاولیاء رئیس الاتقیاء حضرت مرزاجانِ جاناں علیہ الرحمہ نےآپ کو "علم الہدیٰ" کا خطاب عطاء فرمایا۔ آپ کی تربیت میں سب سےزیادہ حصہ حضرت مرزاجانِ جاناں علیہ الرحمہ کاہے۔ ان کی تربیت نےآپ کو"مجمع البحرین"بنادیا۔
جب حضرت نےآپ کوسلوک کی تمام منازل طےکرا دیں تو فرمایا تم شیخ محمد اعظم بچھراؤنی خلیفہ اعظم شیخ محمد افضل سیالکوٹی کی خدمت میں جاؤ، جو کمالات مجھ سےحاصل کیےہیں ان کےآئینہ باطن پرپیش کرو،کیونکہ وہ انتہائی متقی اورصاحبِ کشف بزرگ تھے۔جب ا ن کی خدمت میں پہنچے تو انہوں نے فرمایا: "اس شخص کی شان بہت عظیم ہے، اور اس پرکسی اور کو قیاس نہیں کیا جاسکتا"۔ (ایضاً)۔ اس عبارت سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ حضرت قاضی صاحب علیہ الرحمہ کس قدرروحانی مراتب کےحامل تھے۔یہی وجہ ہے حضرت مرزاجان جاناں علیہ الرحمہ فرمایا کرتے تھے: "قیامت کےدن بارگاہِ خداوندی میں اپنےنامۂ اعمال میں حضرت قاضی صاحب کوپیش کردونگا"۔حضرت قاضی ثناء اللہ پانی پتی علیہ الرحمہ ایک ثقہ اورمتدین عالمِ دین تھے۔آپ اقلیمِ علم کے تاجدار تھے ۔ آپ کی ساری زندگی دینِ اسلام کی خدمت، درس وتدریس و عظ و نصیحت میں گزاری ۔
نام ونسب:
اسم گرامی: قاضی محمد ثناء اللہ پانی پتی رحمۃ اللہ علیہ ۔ لقب: قاضی الاسلام ۔ بیہقی وقت، علم الہدیٰ، مفسر قرآن، فقیہ اعظم ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
قاضی محمد ثناء اللہ پانی پتی بن مولانا محمد حبیب اللہ بن مولانا ہدایت اللہ بن مولانا عبدالہادی،بن سعیدالدین بن شیخ عبدالقدوس بن شیخ خلیل اللہ بن مفتی عبد السمیع بن شیخ حسین بن خواجہ محفوظ بن خواجہ احمد بن خواجہ ابراہیم بن مخدوم خواجہ شیخ جلال الدین کبیرالاولیاء پانی پتی۔علیہم الرحمہ۔
آپ کا سلسلہ نسب حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ تک منتہی ہوتا ہے۔
حضرت قاضی صاحب علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: حضرت کبیر الاولیاء پانی پتی نے اپنے صاحبزادے شیخ ابراہیم کو بشارت دی تھی کہ تمھاری نسل میں ہمیشہ علماء پیدا ہوتے رہیں گے ۔ قاضی صاحب فرماتے ہیں: حضرت کی بشارت کےعین مطابق اب تک یہ سلسلہ اس خاندان میں قائم ہے ۔ حضرت قاضی صاحب کاننھیال پانی پت کاانصارخاندان ہے۔جن کاسلسلہ نسب حضرت میزبان رسول حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ تک منتہی ہوتا ہے۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت کی تاریخ خاموش ہے، البتہ قیاس وغیرہ سے 1144ھ، تا 1140ھ کےمابین متعین ہوتاہے۔ پانی پت آپ کی جائے پیدائش ہے۔ (تذکرہ قاضی ثناء اللہ پانی پتی:63)
تحصیلِ علم:
آپ کاخاندان علم وفضل میں مشہورتھا۔ابتدائی تعلیم اپنےگھر پرہوئی۔آپ نےسات سال کی عمر میں قرآن مجید مکمل فرمالیا۔اس کےبعد آپ نےقرآتِ عشرہ کی تحصیل وتکمیل فرمائی اس فن میں کمال ومہارت کا اندازہ تفسیر مظہری کےمطالعے سےکیا جا سکتا ہے ۔ شاید اس فن میں کوئی تفسیر "تفسیرمظہری" کامقابلہ کرسکے۔ قرأتِ عشرہ کی تکمیل وتحصیل دیگر اساتذہ کے علاوہ شیخ قاری صالح المصری علیہ الرحمہ سےفرمائی ۔ تکمیل قرآن کےبعد قاضی صاحب نےابتدائی کتب اپنے والدِ گرامی مولانا قاضی محمد حبیب اللہ اور برادر اکبر قاضی محمد فضل اللہ سے پڑھیں ۔ ان کےعلاوہ دیگر پانی کے دیگر اساتذہ سےعلمی استفادہ کیا ۔ پانی پت کےمدارس میں تکمیل کرنے کے بعد مزید حصولِ علم کےلئے حضرت مرزا مظہر جانِ جاناں علیہ الرحمہ اورشیخ المحدثین حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی علیہ الرحمہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اوران دونوں نابغۂ روزگار شخصیات سےتمام علوم اور بالخصوص فن حدیث وتفسیر اور تصوف میں کمال حاصل کیا۔
بیعت و خلافت:
ابتداً شیخ محمد عابد سنامی علیہ الرحمہ سے بیعت ہوئے، پھران کے وصال کے بعد شیخ مرزا مظہر جان جاناں علیہ الرحمہ کی خدمت میں رہ کر فیض حاصل کیا ۔ انہوں نے آپ کو تمام اسانید و سلاسل کی اجازت عطاء فرمائی۔
سیرت و خصائص:
قاضی الاسلام، مفسر قرآن، جامع علوم عقلیہ ونقلیہ، جامع شریعت و طریقت، فقیہ الاعظم، بیہقیِ عصر،صاحبِ علم الہدیٰ، امام العلماء، شیخ الاتقیاء، صاحبِ معارف اسرار ربانی حضرت قاضی محمد ثناء اللہ پانی پتی رحمۃ اللہ علیہ۔آپ رحمۃ اللہ علیہ اپنے وقت کےایک عظیم مفسر و محدث اور فقیہ کامل تھے۔ تمام علوم و فنون میں کمال مہارت حاصل تھی ۔ پانی پت میں قاضی اسلام کے منصب پر فائز تھے ۔ خاتم المحدثین شیخ المحققین حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی علیہ الرحمہ آپ کےتبحر علمی ،اورفنِ حدیث میں مہارت کےپیشِ نظر آپ کو"بیہقیِ وقت"اور امام الاولیاء رئیس الاتقیاء حضرت مرزاجانِ جاناں علیہ الرحمہ نےآپ کو "علم الہدیٰ" کا خطاب عطاء فرمایا۔ آپ کی تربیت میں سب سےزیادہ حصہ حضرت مرزاجانِ جاناں علیہ الرحمہ کاہے۔ ان کی تربیت نےآپ کو"مجمع البحرین"بنادیا۔
جب حضرت نےآپ کوسلوک کی تمام منازل طےکرا دیں تو فرمایا تم شیخ محمد اعظم بچھراؤنی خلیفہ اعظم شیخ محمد افضل سیالکوٹی کی خدمت میں جاؤ، جو کمالات مجھ سےحاصل کیےہیں ان کےآئینہ باطن پرپیش کرو،کیونکہ وہ انتہائی متقی اورصاحبِ کشف بزرگ تھے۔جب ا ن کی خدمت میں پہنچے تو انہوں نے فرمایا: "اس شخص کی شان بہت عظیم ہے، اور اس پرکسی اور کو قیاس نہیں کیا جاسکتا"۔ (ایضاً)۔ اس عبارت سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ حضرت قاضی صاحب علیہ الرحمہ کس قدرروحانی مراتب کےحامل تھے۔یہی وجہ ہے حضرت مرزاجان جاناں علیہ الرحمہ فرمایا کرتے تھے: "قیامت کےدن بارگاہِ خداوندی میں اپنےنامۂ اعمال میں حضرت قاضی صاحب کوپیش کردونگا"۔حضرت قاضی ثناء اللہ پانی پتی علیہ الرحمہ ایک ثقہ اورمتدین عالمِ دین تھے۔آپ اقلیمِ علم کے تاجدار تھے ۔ آپ کی ساری زندگی دینِ اسلام کی خدمت، درس وتدریس و عظ و نصیحت میں گزاری ۔
❤1
مولانا فقیر محمد جہلمی فرماتے ہیں:
حضرت قاضی ثناءاللہ صاحب شیخ جلا ل الدین کبیر الاولیاء چشتی کی اولاد میں سے تھے جن کا نسب حضرت عثمان غنی کی طرف منتہیٰ ہوتا ہے ۔ فقیہ، محدث، محقق، مدقق، منصف مزاج، جامع علوم عقلیہ و نقلیہ اور فقہ واصول میں مرتبۂ اجتہادپر پہنچے ہوئے تھے۔علم تفسیر وکلام اور تصوف میں ید طولیٰ حاصل تھا،صفائی ذہن وجودت طبع وقوت فکر اور سلامتی عقل زائد الوصف حاصل تھی، اکثر خواب میں شیخ جلال اپنے جد امجد اور حضرت شیخ عبد القادر جیلانی قدس سرہ سے تربیت اور بشارات حاصل کیں۔مرزا صاحب (مظہرجانِ جاناں) آپ کے حق میں فرماتے تھے کہ میرے دل میں آپ کی بہت ہیبت ہے اور بسبب صلاح اور تقویٰ و دیانت کے آپ مروج شریعت اور منور طریقت اور ملکی صفات ہیں فرشتے آپ کی تعظیم بجالاتے ہیں،اگرخدا نے مجھ سے قیامت کو پوچھا کہ ہماری درگاہ میں کیا تحفہ لایا ہے تو میں ثناء اللہ کو پیش کرونگا۔آپ اکثر اوقات طاعت و عبادت میں مشغول رہتے تھے،ہر روز سو رکعت نماز اور ایک منزل قرآن شریف تہجد میں وظیفہ کیا ہوا تھا۔قضاء کا منصب بھی اختیار کیا تھا اور جیسا کہ چاہئے اس کا حق ادا کیا۔(حدائق الحنفیہ:484)
آپ نے بہترین عقائد واعمال پربہترین کتب تصنیف فرمائی ہیں۔تمام کتب میں جومقام "تفسیرمظہری"کوملاوہ اپنی مثال آپ ہے۔اس تفسیرکوعرب وعجم میں اورتمام مکاتب فکر میں مقبولیتِ عامہ حاصل ہوئی۔آپ نےاس میں شریعت وطریقت دونوں کوجمع کردیاہے۔دوسرے مکتبۂ فکر کے مدارس بورڈ کے اندران کی فقہی مسائل پرمشتمل کتاب "مالابدمنہ" شامل نصاب ہے۔اس سےمعلوم ہواکہ وہ آپ کی شخصیت کےمعترف ہیں۔کاش!اگروہ تفسیر مظہری کےاندرجوتعلیمات بیان کی گئیں ہیں، ان کو تسلیم کر لیتے توآج امت میں اختلاف ختم ہوجاتے۔صرف تفسیرِ مظہری سےایک اقتباس نقل کرتاہوں۔قارئینِ کرام،حضرت قاضی ثناء اللہ پانی پتی علیہ الرحمہ کےنظریات وتعلیمات سے خوداندازہ لگالیں گےکہ ہمارےاکابرین کےنظریات وعقائدکیاتھے۔
سورت البقرہ آیت نمبر151 میں "یُعلِمُّ" فعل کا تکرار کیوں آیا ہے؟ کی تفسیر بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں: "تکرار الفعل یدل علی ان ھذا التعلیم من جنس آخر و لعل المرادبہ العلم اللدنی الماخوذ من بطون القرآن ومن مشکاۃ صدرالنبیﷺ الذی لاسبیل الی درکہ الا الاِنعکاس۔الٰی آخرہ۔ترجمہ:یعلم فعل کاتکرار اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ یہ تعلیم پہلی تعلیم کتاب و حکمت سے الگ نوعیت کی ہے۔ اور شاید اس سے مراد علم لدُنّی ہے جو قرآن کے باطن اور نبی مکرم ﷺکے منور و روشن سینہ سے حاصل ہوتا ہے۔ اور اس کے حصول کا ذریعہ یہ مروجہ تعلیم و تعلّم نہیں (یعنی یہ تعلیم کسی ادارے میں نہیں پڑھائی جاتی،اورنہ ہی اس کی کوئی کتب ونصاب ہیں) بلکہ انعکاس ہے یعنی آفتاب قرآن کی کِرنیں اور ماہتابِ نبوت کی شعاعیں دل کے آئینہ پر منعکس ہوتی ہیں۔ اولیائے کاملین جو انوار نبوت کے صحیح وارث ہوتے ہیں وہ بھی اپنے مریدیان باصفا پر اسی قسم کے علوم و معارف کا القاءاور فیضان فرماتے ہیں۔
فاذکرونی اذکرکم ۔ سورۃ البقرہ ،152، کی تفسیر میں فرماتے ہیں : ترجمہ: جب ان معارف کے حاصل ہونے کا طریقہ صرف القاء اور انعکاس ہے، اور ذکر الٰہی اور مراقبہ سے ہی دل میں یہ استعداد پیدا ہوتی ہے کہ وہ حضور ﷺکے پُر نور سینہ سے بلا واسطہ یا بالواسطہ فیضان و القاء قبول کرسکے اس لیے حکم دیا کہ میرا ذکر کیا کرو۔ کثرت ذکر سے ہی تم اس مقام فائز کیے جاؤ گے (یعنی سینۂ مصطفیٰﷺ بلاواسطہ فیض حاصل کرسکوگے) جہاں انوار و تجلیات کی بےمحابا بارش ہوتی ہے اور دوری کے حجاب یکسر اُلٹ دیئےجاتے ہیں۔ (تفسیرِ مظہری ج:1، تحت الآیۃ) ـ
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال یکم رجب المرجب 1225ھ، مطابق 2 اگست 1810ء کو ہوا ۔ آپ کا مزار پر انوار پانی پت انڈیا میں مرجعِ خلائق ہے ۔
ماخذ و مراجع:
حدائق الحنفیہ ۔ تذکرہ قاضی ثناء اللہ پانی پتی ۔ تفسیرِ مظہری ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-qazi-muhammad-sanaullah-panipati
حضرت قاضی ثناءاللہ صاحب شیخ جلا ل الدین کبیر الاولیاء چشتی کی اولاد میں سے تھے جن کا نسب حضرت عثمان غنی کی طرف منتہیٰ ہوتا ہے ۔ فقیہ، محدث، محقق، مدقق، منصف مزاج، جامع علوم عقلیہ و نقلیہ اور فقہ واصول میں مرتبۂ اجتہادپر پہنچے ہوئے تھے۔علم تفسیر وکلام اور تصوف میں ید طولیٰ حاصل تھا،صفائی ذہن وجودت طبع وقوت فکر اور سلامتی عقل زائد الوصف حاصل تھی، اکثر خواب میں شیخ جلال اپنے جد امجد اور حضرت شیخ عبد القادر جیلانی قدس سرہ سے تربیت اور بشارات حاصل کیں۔مرزا صاحب (مظہرجانِ جاناں) آپ کے حق میں فرماتے تھے کہ میرے دل میں آپ کی بہت ہیبت ہے اور بسبب صلاح اور تقویٰ و دیانت کے آپ مروج شریعت اور منور طریقت اور ملکی صفات ہیں فرشتے آپ کی تعظیم بجالاتے ہیں،اگرخدا نے مجھ سے قیامت کو پوچھا کہ ہماری درگاہ میں کیا تحفہ لایا ہے تو میں ثناء اللہ کو پیش کرونگا۔آپ اکثر اوقات طاعت و عبادت میں مشغول رہتے تھے،ہر روز سو رکعت نماز اور ایک منزل قرآن شریف تہجد میں وظیفہ کیا ہوا تھا۔قضاء کا منصب بھی اختیار کیا تھا اور جیسا کہ چاہئے اس کا حق ادا کیا۔(حدائق الحنفیہ:484)
آپ نے بہترین عقائد واعمال پربہترین کتب تصنیف فرمائی ہیں۔تمام کتب میں جومقام "تفسیرمظہری"کوملاوہ اپنی مثال آپ ہے۔اس تفسیرکوعرب وعجم میں اورتمام مکاتب فکر میں مقبولیتِ عامہ حاصل ہوئی۔آپ نےاس میں شریعت وطریقت دونوں کوجمع کردیاہے۔دوسرے مکتبۂ فکر کے مدارس بورڈ کے اندران کی فقہی مسائل پرمشتمل کتاب "مالابدمنہ" شامل نصاب ہے۔اس سےمعلوم ہواکہ وہ آپ کی شخصیت کےمعترف ہیں۔کاش!اگروہ تفسیر مظہری کےاندرجوتعلیمات بیان کی گئیں ہیں، ان کو تسلیم کر لیتے توآج امت میں اختلاف ختم ہوجاتے۔صرف تفسیرِ مظہری سےایک اقتباس نقل کرتاہوں۔قارئینِ کرام،حضرت قاضی ثناء اللہ پانی پتی علیہ الرحمہ کےنظریات وتعلیمات سے خوداندازہ لگالیں گےکہ ہمارےاکابرین کےنظریات وعقائدکیاتھے۔
سورت البقرہ آیت نمبر151 میں "یُعلِمُّ" فعل کا تکرار کیوں آیا ہے؟ کی تفسیر بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں: "تکرار الفعل یدل علی ان ھذا التعلیم من جنس آخر و لعل المرادبہ العلم اللدنی الماخوذ من بطون القرآن ومن مشکاۃ صدرالنبیﷺ الذی لاسبیل الی درکہ الا الاِنعکاس۔الٰی آخرہ۔ترجمہ:یعلم فعل کاتکرار اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ یہ تعلیم پہلی تعلیم کتاب و حکمت سے الگ نوعیت کی ہے۔ اور شاید اس سے مراد علم لدُنّی ہے جو قرآن کے باطن اور نبی مکرم ﷺکے منور و روشن سینہ سے حاصل ہوتا ہے۔ اور اس کے حصول کا ذریعہ یہ مروجہ تعلیم و تعلّم نہیں (یعنی یہ تعلیم کسی ادارے میں نہیں پڑھائی جاتی،اورنہ ہی اس کی کوئی کتب ونصاب ہیں) بلکہ انعکاس ہے یعنی آفتاب قرآن کی کِرنیں اور ماہتابِ نبوت کی شعاعیں دل کے آئینہ پر منعکس ہوتی ہیں۔ اولیائے کاملین جو انوار نبوت کے صحیح وارث ہوتے ہیں وہ بھی اپنے مریدیان باصفا پر اسی قسم کے علوم و معارف کا القاءاور فیضان فرماتے ہیں۔
فاذکرونی اذکرکم ۔ سورۃ البقرہ ،152، کی تفسیر میں فرماتے ہیں : ترجمہ: جب ان معارف کے حاصل ہونے کا طریقہ صرف القاء اور انعکاس ہے، اور ذکر الٰہی اور مراقبہ سے ہی دل میں یہ استعداد پیدا ہوتی ہے کہ وہ حضور ﷺکے پُر نور سینہ سے بلا واسطہ یا بالواسطہ فیضان و القاء قبول کرسکے اس لیے حکم دیا کہ میرا ذکر کیا کرو۔ کثرت ذکر سے ہی تم اس مقام فائز کیے جاؤ گے (یعنی سینۂ مصطفیٰﷺ بلاواسطہ فیض حاصل کرسکوگے) جہاں انوار و تجلیات کی بےمحابا بارش ہوتی ہے اور دوری کے حجاب یکسر اُلٹ دیئےجاتے ہیں۔ (تفسیرِ مظہری ج:1، تحت الآیۃ) ـ
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال یکم رجب المرجب 1225ھ، مطابق 2 اگست 1810ء کو ہوا ۔ آپ کا مزار پر انوار پانی پت انڈیا میں مرجعِ خلائق ہے ۔
ماخذ و مراجع:
حدائق الحنفیہ ۔ تذکرہ قاضی ثناء اللہ پانی پتی ۔ تفسیرِ مظہری ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-qazi-muhammad-sanaullah-panipati
scholars.pk
Hazrat Qazi Muhammad Sanaullah Panipati
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1