🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
نبیرہِ اعلی حضرت ، علامہ عمر رضا خان بریلوی مدظلہ العالی

ولادت: 30 جماد الاخری

تعلیم:
حضرت مولانا عمر رضا خاں صاحب قبلہ دامت برکاتہم، اردو ادب اور انگلش میں ڈبل MA ہیں، حال ہی میں B.Ed بھی کیا ہے ـ

علم ریاضی:
علم ریاضی میں ملکہ انہیں موروثی ہے، اس حقیر نے ان سے اس فن کو پڑھا ہے اگر مستقل پڑھتا تو یقیناً ماہر ہو جاتا پر عدم معیت کی وجہ عدم مہارت بنی ـ

درسِ نظامی:
علاوہ ازیں مُروّجہ درسِ نظامی میں آپ نے مشکوٰۃ المصابیح تک پڑھا ہے جو مدارس میں چھٹے درجے میں پڑھائی جاتی ہے ـ

بقیہ تعلیم:
بقیہ تعلیم بوجہ علالت رہ گئی لیکن مولانا اسے تکمیل کے مراحل میں لانے کا عزم رکھتے ہیں، دعا ہے کہ مولا تعالیٰ انہیں اس میں کامیابی عطا فرمائے ـ

اولاد:
آپ کے دو شہزادے بنام محمد انور رضا، محمد رضا اور ایک شہزادی بنام رداء فاطمہ ہے ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/nabeera-e-aalahazrat-allama-umar-raza-khan-barelvi
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
اللہ رکھا قادری ضیائی، بانی انجمن ضیائے طیبہ، الحاج سید،  مدظلہ العالی
(مؤسس اعلیٰ انجمن ضیاء طیبہ کراچی)

محترم المقام قبلہ الحاج سید اللہ رکھا قادری ضیائی بن  سید عمر میاں  بن سید ابراہیم میاں بن سید جہانگیر میاں۔﷭۔ سادات ِ کرام کےچشم وچراغ ہیں۔قبلہ سید اللہ رکھا قادری ضیائی صاحب کی ولادت باسعادت یکم رجب المرجب1374ھ، مطابق  ماہ 2؍ مارچ؍1955ء کوشہر کراچی کے اولڈ سٹی ایریا گئو گلی میٹھادر میں ہوئی۔گھر کاماحول مذہبی تھا،گھر کےافراد دین سےمحبت کرنے والے اوردین پر عمل کرنےوالے،اور پھر بزرگانِ دین سےعقیدت مندی،بالخصوص امام اہل سنت اعلیٰ حضرت امام احمد رضاخاں بریلوی﷫ سےعشق کی حد تک وارفتگی،تو شاہ صاحب کی طبیعت ابتدا سےہی مذہبی ماحول کی طرف راغب تھی۔تصلب فی المسلک، ہمدردی ِمسلک رضا ،اور فروغ ِمسلک  حق ،اوائل عمر میں اللہ جل شانہ نے آپ کےقلب میں نقش کردیا تھا۔یہی وجہ ہے کہ اوائل عمر میں جب اہل سنت وجماعت کی دعوت وتبلیغ  کی کوئی  باقاعدہ تنظیم نہ تھی۔بد مذہبوں کی عالمگیر اورمنظم تبلیغی جماعت موجود تھی،جس کانشانہ سادہ لوح سنی مسلمان تھے،اور سنی ان کےظاہری لباس وحلیہ ،اور میٹھی باتوں سے متاثر ہوکر بدمذہب بن جاتےتھے۔یہ حالات اہل  سنت کےنظریاتی لوگوں کےلئےناقابل برداشت تھے،شاہ صاحب بھی ان حالات سےمتأثر ہوئے،اوراپنے چند احباب جن میں حضرت مولانا محمد الیاس  عطارقادری بھی تھے’’انجمن اشاعت ِاسلام‘‘کےنام سےتبلیغِ دین کےسلسلے میں تنظیم بنائی۔یہ حضرات مختلف علاقوں میں جاکر لوگوں کو بدمذہبوں کی گستاخیاں دکھاتے،اور ان کوبدمذہبوں سے دور رہنے کی تلقین کرتے،احکام ِ دینیہ پر عمل پیرا ہونے کی ترغیب دیتے۔

ابتدائی تعلیم:
قبلہ سید اللہ رکھا قادری ضیائی زید مجدہ نےابتدائی تعلیم ِقرآن ِمجید،عارف باللہ پیر طریقت رہبر شریعت حضرت علامہ مولانا قاری محمد مصلح الدین صدیقی ﷫ سےحاصل کی۔قاری صاحب کے زہدوتقویٰ اورہمدردی مسلک ،اور ان کی مصلحانہ ومخلصانہ  تربیت نےسونے پہ سہاگہ والاکام کیا۔اسی طرح مسائل سیکھنے،اور شرعی معلومات کےلئے اپنےرفقاء کےہمراہ جن میں حضرت مولانا الیاس عطار قادری صاحب ، و دیگربھی ہوتےتھے،مفتیِ اعظم پاکستان خلیفۂ صدرالشریعہ حضرت علامہ مولانا مفتی محمد وقارالدین ﷫ کی خدمت میں حاضر ہوتےتھے،اورفیضان ِ صدرالشریعہ ﷫ سےاپنےقلوب واذہان کومنور کرتےتھے۔

انجمن اشاعت اسلام کا قیام:
اہل سنت وجماعت کی کوئی اصلاحی جماعت نہیں تھی، جس کا فائدہ بد مذہبوں کی عالمگیر اورمنظم تبلیغی جماعت اٹھارہی تھی،جس کانشانہ سادہ لوح سنی مسلمان تھے،اور سنی ان کےظاہری لباس وحلیہ ،اور میٹھی باتوں سے متاثر ہوکر بدمذہب بن جاتےتھے۔یہ حالات اہل  سنت کےنظریاتی لوگوں کےلئےناقابل برداشت تھے،شاہ صاحب بھی ان حالات سےمتأثر ہوئے،اوراپنے چند احباب جن میں حضرت مولانا محمد الیاس  عطارقادری بھی تھے’’انجمن اشاعت ِاسلام‘‘کےنام سےتبلیغِ دین کےسلسلے میں تنظیم بنائی۔یہ حضرات مختلف علاقوں میں جاکر لوگوں کو بدمذہبوں کی گستاخیاں دکھاتے،اور ان کوبدمذہبوں سے دور رہنے کی تلقین کرتے،احکام ِ دینیہ پر عمل پیرا ہونے کی ترغیب دیتے۔

1970ءکو اس کا پہلا جلسہ  یوم رضاکے سلسلہ میں کاغذی بازار میں ہوا۔ جس کی صدرات قاری مصلح الدین صدیقی﷫، اور خطاب حضرت  شاہ تراب الحق قادری صاحب﷫ اور نظامت امیر دعوت اسلامی مولانا محمد  الیاس قادری صاحب زیدمجدہ نےکی۔ یہی وجہ ہےکہ جب دعوت اسلامی کی تشکیل میں اکابر جمع تھے،اور اس پر کام جاری تھا،تورئیس القلم حضرت مولانا ارشد القادری ﷫ نےاس  تنظیم کےامیر کےلئےنام طلب کیاتوحضرت مفتی وقارالدین ﷫ نےمولانا محمد الیاس قادری صاحب  کانام پیش کیا،اور فرمایا کہ یہ نوجوانوں کی ایک جماعت ہےپہلےاسی طرح کاکام حسبِ استطاعت انجام دےرہی ہے،اور ان میں جذبہ بھی ہے،تو ان کو’’انجمن اشاعت اسلام‘‘کی بدولت دعوت اسلامی  کاامیر مقرکیاگیا۔چند برسوں کے بعد یہی انجمن اشاعتِ اسلام’’جمعیت اشاعت اہل سنت‘‘ کےنام سےموسوم ہوئی۔ قبلہ شاہ صاحب تقریباً  سات سال تک اس کے صدر رہے۔آپ کی عصری تعلیم بی ۔اے ہے۔

نکاح:
آپ کا نکاح، 16 فروری 1979ء کو حضرت قاری محمد مصلح الدین صدیقی نے پڑھایا تھا۔

پہلا حج:
  1990ء میں والدہ ماجدہ اور اپنی رفیقہ حیات کےہمراہ کیا،اور ان کی دعاؤں سےخوب مستفیض ہوئے۔جبکہ ٹور آپریٹر کی حیثیت سے 1998 سے حج و زیارات  کا سلسلہ جاری ہے ۔

اسفار:
زیارات  ِعراق ، ترکی، ایران، انڈیا، عرب امارات، جرمنی، چین ، جاپان؛ شامل ہیں۔

شرفِ بیعت:
1970ء میں شیخ العرب والعجم قطب مدینہ حضرت علامہ مولانا ضیاء الدین مدنی (خلیفۂ اعلیٰ حضرت) سے بذریعہ خط شرفِ بیعت حاصل کی۔خلافت واجازت کا شرف بیہقی ِ وقت شیخ القرآن والحدیث حضرت علامہ مولانا منظور احمد فیضی ﷫ سے پایا۔جبکہ متفرق علماو مشایخ سے اوراد و وظائف و ۔۔۔۔

المؤذن حج و عمرہ:
جمعیت اشاعت اہل سنت کے تحت نور مسجد کی چٹائی پر حج وعمرہ سروسز کا آغاز (profit no)
1
اور (no loss) کی بنیاد پر کیا، اللہ جل شانہ نےآپ کی سچی محنت، اورخلوص، اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے مہمانوں کی دعاؤں کی بدولت اس میں خوب برکتیں عطاء فرمائیں،اس وقت یہ منفردخصوصیات کاحامل ’’المؤذن حج وعمرہ سروسز‘‘ کےبابرکت نام سےموسوم ہے۔اس کی بدولت اللہ  تعالیٰ کے مہمانوں کی خدمت،اور اہل سنت وجماعت کےفروغ واشاعت اور حرمین طیبین میں شعائر اہل سنت ،اورسنی مسلمانوں کےعقائد وایمان کی حفاظت،اس کی اولین ترجیحات ہیں۔اللہ تعالیٰ نے شاہ صاحب کواعلیٰ تنظیمی صلاحیتوں سےخوب نوازاہے،یہی وجہ ہےکہ ’’حج  آر گنائزیشن‘‘ حکومتِ پاکستان  کی کمیٹی میں شامل ہیں،اورصوبہ سندھ کےحج گروپ تنظیم (HOUAP) میں جنرل سیکٹری  کی حیثیت سے بھی  خدمات انجام دیں ۔

رفاہِ عامہ:
سید اللہ رکھا قادری ضیائی زید مجدہ  ایک سماجی اوررفاہی شخصیت ہیں،سماجی کاموں  میں خوب حصہ لیتے ہیں،ملت اسلامیہ کےدکھ درد، اورغم کو محسوس کرتےہیں،اوران کےغم  میں شریک ہوتےہیں۔غریبوں کی مدد کرنا،ان کی کفالت کرنا، اجتماعی شادی بیاہ اوردیگر فلاحی  کاموں میں معاونت فرماتےرہتے ہیں۔ آپ کا اپنی برادری ’’واڈلا سید  جماعت‘‘ اور ’’ واڈلا سید والینٹر کورپس‘‘  کی ترقی وفلاح میں اہم کردار ہے،جو ایک عرصےتک یادرکھاجائےگا۔ پہلےوالینٹر کورپس کے آپ ’’جنرل سیکٹری‘‘ رہے، اوراس وقت  مجلس عاملہ سپریم کونسل کاحصہ ہیں۔آپ نےاپنی جماعت کے دیرینہ ساتھیوں کے ساتھ واڈلا سید جماعت کی اصلاح وترقی کےلئے راہنما اصول بنائےہیں،جس میں دین داری،مسلک حق کےساتھ وابستگی،دینی تعلیم،اورنوجوانانِ قوم  کوبےراہ روی  سےبچانا،شادی بیاہ،اور دیگر تقریبات میں انسدادِ فضول خرچی،برےرسومات وبدعات  وخرافات کی روک تھام کےقوانین شامل ہیں۔

انجمن ضیاءِ طیبہ کا قیام:
آپ کاسب سےبڑاکارنامہ ،اورباالخصوص اہل سنت وجماعت پر آپ کاسب سےبڑااحسان ’’انجمن ضیاء طیبہ‘‘ کاقیام عمل میں لاناہے، جوجدیدذرائع ابلاغ کےاصولوں پرکاربندہے، ہر شخص جانتاہے کہ اس وقت ٹیکنالوجی اورانٹرنیٹ کادوردورہ ہے، بدمذہب اس کوخوب استعمال کرکےنوجوان نسل کےایمان پر ڈاکہ ڈال رہےتھے،آپ نےبروقت ان کاسدباب کرتےہوئے اس طرف مثبت پیش رفت فرمائی۔الحمدللہ! اس وقت انجمن ضیاء طیبہ اہل سنت کاایک عظیم ادارہ ہے،جس میں پوری دنیاء کےعلماء ومشائخ تشریف لاکرآپ کےاس اقدام کوخراج تحسین پیش کرچکےہیں۔یہ سب حضرت قطب مدینہ مولانا ضیاء الدین مدنی ﷫ کافیض ِ پاک ہے،یہ ادارہ آپ کےاسم شریف کی نسبت سےمعنون ہے۔اس میں کثیر شعبہ جات مصروف عمل ہیں،قلیل عرصےمیں اتنی ترقی کرلیناآپ کی اعلیٰ تنظیمی صلاحیتیں،اورخلوص کاثمرہ ہے۔

ضیائی مدارس:
اس کےساتھ ساتھ ’’ضیائی مدارس‘‘ کاایک نیٹ ورک دین اسلام کےفروغ وترقی میں مصروفِ عمل ہے،جن میں کثیر طلباء علم کےنورسےاپنےسینوں کومنور کررہےہیں۔

اصلاحی دروس:
اسی طرح کراچی کےمختلف مقامات پر ’’دروسِ قرآن وحدیث،اورفقہ‘‘ کاسلسلہ  کامیابی کےساتھ جاری وساری ہے۔مختلف اہم موضوعات  پرکتب کی اشاعت اوران کی مفت تقسیم کی سعادت بھی حاصل ہے۔

عرسِ اعلیٰ حضرت وایام بزرگانِ دین:
عرسِ اعلیٰ حضرت ہرسال بڑی عقیدت واحترام سےمنعقد کرتےہیں،جس میں ملک بھر سےعلماء،ثناءخوان،اور مشائخِ عظام تشریف لاتےہیں،کراچی میں اپنی نوعیت کایہ ایک منفرد پروگرام ہوتا ہے۔ایک ایسی  پروقار تقریب ہوتی ہےجو اپنی مثال آپ ہے۔اس کےساتھ لنگرِ رضویہ کاوسیع اہتمام ہوتاہے،اور بالخصوص توشۂ اعلیٰ حضرت پر عمل کیاجاتاہے۔شرکاء ِ محفل اور مہمانانِ گرامی کونہایت  ہی عزت ووقار کےساتھ لنگرپیش کیاجاتاہے۔پنڈال میں علوم اعلیٰ حضرت کےبینرزآویزاں کرکےشرکاء کی معلومات میں اضافہ کیاجاتاہے۔الغرض اپنی نوعیت کاایک منفردپروگرام ہوتاہے۔ اسی طرح صحابۂ کرام، اہل بیت اطہار ، ازواجِ مطہرات، آئمہ شریعت و طریقت، مشائخِ کرام کےایام پر فاتحہ کا خصوصی اہتمام فرماتےہیں۔ بعض اوقات عرب و عجم کےمشائخ کرام ان محافل کےمہمان ِ خصوصی ہوتے ہیں۔

قبلہ سید اللہ رکھا ضیائی قادری اطال اللہ عمرہ سےبندۂ ناچیز(فقیر تونسوی غفرلہ)کوکئی مرتبہ  ملاقات و زیارت کاشرف حاصل ہواہے۔ آپ نہایت،کریم، رحیم، حلیم،خلیق،ملنسار،معاملہ فہم اورمنکسرالمزاج شخصیت کے حامل ہیں،علماءِ کرام اور ساداتِ عظام کا بہت احترام کرتےہیں۔دین ِ اسلام اور اہل سنت کی زبوں حالی پر افسردہ رہتےہیں،اورمختلف موا قع پر اس کا نہایت دردبھرے لہجے اظہار فرماتےرہتے ہیں۔اپنے حلقۂ احباب کومسلک ِ حق کےفروغ وترقی کےلئےمحنت کی تلقین کرتےرہتےہیں۔بہت بزرگوں سےصحبت حاصل رہی اور ان سے فیض حاصل کیا ہے۔آپ جہاندیدہ اور وسیع تجربےکےمالک ہیں۔اللہ تعالیٰ آپ کی تمام دینی خدمات کو شرف قبولیت عطافرماکرقبول عام عطاء فرمائے، اور آپ کےمدارس اور بالخصوص انجمن ضیاء طیبہ کومزید ترقی وعروج عطاء فرمائے۔آپ کاسایہ اہل سنت پرتادیر قائم  ودائم رکھے۔آمین بجاہ النبی الامینﷺ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/syed-allah-rakha-qadri-ziaee
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت علامہ قاضی دوست محمد صدیقی بلبلِ سندھ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

شہباز خطابت ، لحن داودی ، ترجمان اہلسنت حضرت علامہ قاضی دوست محمد صدیقی المعروف مولانا بلبل سندھ کی ولادت باسعادت سندھ کے مشہور شہر شکار پور کی نامور تحصیل گڑھی یاسین کی چھوٹی سی بستی ’’گوٹھ ترائی ‘‘کے نامور علمی خاندان ’’صدیقی قاضی ‘‘میں مولانا محمد بقا صدیقی کے گھر ۱۹۱۸ء کو ہوئی ۔ اس خاندان نے بے شمار علما ء فضلاء و اطباء پیداکئے ، اسی خاندان کی ایک اور علمی شخصیت حضرت مولانا فضیلت اور شیعیت کی تروید میں ’’ خلفاء رسول ‘‘ کتاب لکھی تھی ۔ یہ مولانا گل محمد مولانا بلبل سندھ کے چچا تھے ۔ (روشن صبح ص۱۲۲)

تعلیم و تربیت:
مولانا بلبل سندھ کے تعلیمی سفر کا آغازیوں ہوتا ہے کہ مولانا شاہ محمد (سندھ ) اس کے بعد مولانا عبدالواحد ( کوٹ مٹھن شریف ) اس کے بعد ہارون آباد (ضلع بہاولنگر ) میں شیخ الحدیث علامہ عبدالمصطفیٰ الازہری ؒ (شیخ الحدیث دارالعلوم امجد یہ کراچی ) اس کے بعد مدرسہ انوارالعلوم ملتان میں غزالی زمان رازی دوران علامہ سید اھمد سعید کاظمی محدث ملتانی ؒ کے زیر سایہ کچھ عرصہ تعلیم حاصل کی ۔ غالبا علامہ کاظمی ؒ کی تحریک پر امام احمد رضا خان قادری محدث بریلوی ؒ کی قائم کردہ درسگاہ جامعہ رضویہ منظر اسلام بریلی شریف ( انڈیا) مزید تعلیم کے لئے تشریف لے گئے ، وہاں نواسہٗ اعلی حضرت، اما م معقولات و منقولات علامہ مفتی تقدس علی خان رضوی ؒ ( جو کہ بعد میں سندھ تشریف لائے اور جامعہ راشدیہ درگاہ شریف پیر جو گوٹھ میں شیخ الحدیث مقرر ہوئے اور اس پاک سر زمین میں مد فون ہوئے ) کے حضور زانوئے تلمذ طے کئے۔ اس کے بعد پاکستان تشریف لائے اور جامعہ رضویہ مظہر اسلام فیصل آباد میں داخلہ لیا اور محدث اعظم پاکستان حضر ت علامہ ابوالفضل محمد سردار احمد رضوی ؒ کے پاس درس نظامی کی اور دستار فضیلت باندھی ۔

بیعت:
فراغت تعلیم و تکمیل علوم کے بعد آپ نے بیعت ہونا ضروری سمجھا ، آپ کو بچپن ہی سے اما م العارفین ، غوث العالمین ، غیاچ المسلمین مجدد بر حق حضرت سید محمد راشد پیر سائیں روضے دہنی قدس سرہ الاقدس سے عقیدت و محبت گھٹی میں ملی ہوئی تھی اسی محبت کی خاطر آپ نے حضرت قبلہ عالم کے سلسلہ عالیہ میں بیعت ہونا پسند کیا، اور آپ ہی کے خلیفہ حضرت سید محمد حسن شاہ جیلانی ؒ ( بانی درگاہ بھر چونڈی شریف ) کے سجادہ نشین شیخ طریقت مجاہد اہل سنت حضرت پیر عبدالرحمن قادری ؒ کے ہاتھ ر سلسلہ عالیہ قادر یہ راشدیہ میں بیعت ہونے کی سعادت حاصل کی ۔

تصنیف و تالیف:
معلوم ہوا کہ آپ شاگردی کے دور میں وقت بوقت اخبارات میں مضامین لکھتے تھے اور طلباء کو اسباق کی تقار یر بھی تحریر کر کے دیتے تھے، جو کہ ااج محفوظ نہیں ۔

عارف باللہ ، سندھ کے عوامی شاعر حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائی قادری ؒ کے صوفیانہ کلام پر مشتمل دیوان ہے جس کا نام ’’شاہ جورسالو ‘‘ہے ۔ اس میں سے اپنی پسند کے ایک سوا بیات(شعر ) کی تلخیص’’گلدستہ عشق ‘‘ کے نام سے مرتب کی ،جسے بعد میں نیشنل بک اسٹور لاڑکانہ نے شائع کیا۔ ایک سوابیات آپ کو حفظ تھے جس کو ترنم سے پڑھ کر اپنی تقریروں کو چارچاند لگاتے تھے۔ اس کے علاوہ کوئی تصنیف سامنے نہیں آئی ۔

تلامذہ:
جہاں تک معلوم ہے کہ آپ نے باقائدگی سے کسی دینی درسگاہ میں تدریس کے فرائض انجام نہیں دئے تھے۔ البتہ شروع کے دنوں میں بعد فراغت اسکول میں عربی کے استاد مقررہوئے تھے لیکن کچھ عرصے کے بعد استعفیٰ دے کر پوری توجہ خطابت پر مرکوز فرمائی ۔

خطیب اسلام مقبول اہلسنت مولانا حافظ علی اکبر قاسمی ، طوطی بیاں مولانا امیر بخش چنہ اور مجاہد اہلسنت مولانا بدر الدین سترہیہ خطیب چار یار مسجد لاڑکانہ وغیرہ واعظین مولانا بلبل سندھ ؒ کے تربیت یافتہ و صحبت یافتہ ہیں۔ اور فقیر کو بھی بچپن میں آپ کی صحبت و شفقت حاصل رہی ہے ۔

اولاد:
آپ نے دوشادیاں کی تھیں ۔ پہلی بیوی سے فقط ایک بیٹی ہوئی تھی ۔ بیوی کے انتقال کے بعد دوسری شادی ایک بیوہ عورت سے کی جس میں سے چار صاحبزادے اور ایک صاحبزادی تولد ہوئی اورچار بچوں میں سے ایک بچہ بچپن میں انتقال کر گیا تھا۔ تین بیٹے صاحب اولاد ہیں : (۱) عبدالرشید (۲)محمد یوسف (۳)شرف الدین

سفر حرمین شریف:
آپ نے زندگی میں ایک بار حرمین شریفین کا سفر کیا ۔ ۲۵ ، نومبر ۱۹۷۵ ء کو حج پرگئے حج کیا اور مدینہ منورہ حضور پر نور ﷺ کے روضہ اقدس پر حا ضری کی سعادت حاصل کی اور صلوۃ و سلام کا نذرانہ پیش کیا۔

حضور کا پروانہ ، ساعی زندگی عظمت مصطفی ﷺ کے ڈنکے بجانے والا ، سندھ کے قریہ قریہ بستی بستی میں شان مصطفیﷺ کی خوشبوئے بکھیرنے والا ، دور دور سندھ میں درودوسالام نعت و مولودکی مجالس برپا کرنے سے زبان قاصر ہے ، البتہ یوں ہوگا:

سل بھر آیا ہے تو جی کھول کے رو لینے دو
پھر کبھی جوش پہ یوں دیدہ تر ہو کہ نہ ہو

حلیہ مبارک:
بقول حضرت پیر محمد ابراہیم خلیل فاروقی مدظلہ العالی کہ مولانا بلبل سندھ کا حلیہ اس طرح
تھا : سہنی صورت بیش بہا قیمتی لباس ،زریدار قلے پر پشاوری یا مشہدی ساڑھی ، پنجابی طرز پر بندی ہوئی ،گر جدار آواز مگر شیریں ، قد معتدل مائل بہ بلندی ، رنگ گندم ، دبلے پتلے ، چہرہ خوبصورت پرکشش ، گال روشن روشن ، ہونٹ گلاب کی پتیوں کی طرح باریک گلابی،مزا ج نرم ، اخلاق کے پیکر اور داڑھی شریف پر مہندی لگاتے تھے ۔

خطابت:
خطابت مولانا بلبل سندھ کی پہچان تھی ، مولانا سحر انگیز خطابت کے سبب پیران عظام کے محبوب اور اہلسنت و جماعت میں مقبول اور علماء کی شان تھے ۔ قدرت نے مولانا کو حاضر جوابی ، فن خطابت ، خوش الحانی ، طرز بیانی ، گوہر روانی اور فصیح لسانی میں کامل قوت و حافظہ عطا فرمایا تھا ۔ ہر مو ضوع پر بولنے اور موضوع کو نبھانے کا خوب سلیقہ تھا، رد فرقہ باطلہ ان کا خاص موضوع تھا ،آپ تکمیل تعلیم کے بعد اسکول میں عربی کے استاد مقرر ہوئے ، جوں جوں سندھ کے حالات سے واقفیت ہوئی تو محسوس کیا کہ سندھ میں وہابیت پر نکال رہی ہے ۔ دوسری طرف سندھ کے عوام الناس بالکل سیدھے سادھے ہیں ، انہیں ان بھیڑیوں کے حملہ سے بچانا نہایت ضروری جانا اس لئے عملی زندگی میں قدم بڑھایا، نوکری کی قربانی دی ، خطابت کے لئے اپنے کو وقف کیا اور خارزاروں پر قدم رکھا اسی روز سے وصال تک احقاق حق و ابطال باطل میں مصروف رہے ۔ لیل و نہار شہر شہر ، نگر نگر، قریہ قریہ، بستی بستی اپنے خطاب سے لوگوں کے قلوب میں عشق مصطفی کی شمع روشن کی ، اہل سنت کو بیدار کیا، وہابیت دیوبند یت اور بد مذہیت کے فتنے سے آگاہ کیا، ان کی رسول دشمنی ، گستاخیاں، بے باکیاں ، بے ادبیاں ، مکرو فریب اور تقیہ بازی سے سندھ بھر کے عوام الناس کو خبر داررکھا ۔ امام اہلسنت مولانا احمد رضا خان بریلوی ؒکے علم و فضل سے اہل سندھ کو رو شناس کیا ۔وہابیت دیوبندیت شیعیت، غیر مقلدیت، قادیانیت وغیرہ کے رد میں مولانا کا جواب نہیں۔

جامع مسجد عثمانیہ متصل درگاہ شریف حضرت مخدوم محمد عثمان قریشی ؒ شہر لاڑکانہ میں تقریبا تیس (۳۰) برس جمعہ کوفی سبیل اللہ خطابت کے فرائض سر انجام دئے ۔ عید الفطر اور عیدالاضحی کے مواقع پر حضرت پیر صاحب پگارہ کی دعوت خاصپر درگاہ شریف راشد یہ پیر گوٹھ تشریف لے جاتے جہاں ہزار رہا افراد کو اپنے خطابت سے نوازتے ۔ اس کے علاوہ اسی دربار پر سالانہ عید معراج النبی ﷺ کے موقع پر بھی خصوصی خطاب فرماتے۔ درگاہ مشوری شریف کے سالانہ عظیم الشان جلسہ جشن عیدمیلادالنبی ﷺ میں ولولہ انگیز خطاب سے جماعت کو مسرور فرماتے ۔ حرمجاہدین ۱۹۴۲ء کے مارشل لا میں جوسیر تھے انہیں مولانا صاحب تعلیم قرآن دیا کرتے تھے۔

جامع مسجد غوثیہ ٹانگہ اسٹینڈ لارکا نہ میں سالانہ عرس خواجہ غریب نواز میں آپ کا اردو میں خصوصی خطاب ہوا کرتا تھا۔غوث العالمین حضرت بہاوالدین زکر یا ملتانی قدس اور حضرت شاہ رکن الدین ؒ کے سالانہ اعراس کے موقعہ پر آ پ کا خصوصی خطاب ہوا کرتا تھا آپ سندھی کے علاوہ اردو میں بھی روانی سے تقریر کیا کرتے تھے ، مدرسہ انوارالعلو م ملتان میں دستار فضیلت میں آپ کی تقریر ہوا کرتی تھی ۔ سندھ کے علاوہ پنجاب اور بلوچستان کے بھی محبوب خطیب تھے ۔آپ کے ان خطابات سے اعتقادی و اصلاح احوال کے حوالہ سے عوام الناس میں انقلاب برپا ہوا۔غیر مسلم،ایمان کی بدولت سے مالا مال ہوئے، گمراہ ، صراط مستقیم پر گامزن ہوئے ، بھٹگے ہوئے راہ راست پر آلگے ، بے نمازی ، نمازی بنے،بے دین دیندارصالح بنے ، بد کردار ہوئے ، اور کئی بچوں کو دینی تعلیم حاصل کرنے کا جنون ہوا ، کئی والدین نے اپنے بچوں کے دینی مدارس میں داخل کروائے،جو کہ آگے چل کر محراب و منبر کی زینت بنے ۔ نوجوان علماء پر خطابت کی راہیں کھلی ۔

یہ ہیں آپ کے خطابت کے وہ تاثرات جو کہ ہمارے معاشرے پر اثر انداز ہوئے۔آ پ اپنے خطاب میں قرآن و سنت کے دلائل کے بعد بلبل باغ رسالت امام اہلسنت مولانا احمد رضا خان بریلوی ؒ اور صوفی باصفا عاشق مصطفی، حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائی قدس سرہ لاقدس کے اشعار موقع محل کے مطابق جب گنگنانے تھے تو محفل پر ایک عجیب کیفیت طاری ہوجاتی تھی ۔ اور تقریر میں شہری انتظامیہ اور وڈیروں کو بھی حق کہنے میں کبھی نہیں ڈرے ۔ بہر حال مولانا بلبل سندھ کی زندگی بے باکی ، حق گوئی ، سادگی اور للہیت کی بہترین نمونہ تھی ۔

جدا جدا جو وصف دیگر خطباء میں تھے
وہ سب کے اس عاشق مصطفی میں تھے

بلبل سندھ:
سندھ باب الا سلام ہے اس لئے سندھ کی زبان عشق مصطفی ہے اور مولانا باغ مصطفی میں عشق مصطفی ﷺ کے گیت ترنم و عقیدت سے گنگناتے تھے اسے لئے بلبل باغ مصطفی ہوئے یعنی بلبل سندھ ۔ مولانا احمد بخش بھٹو نے بتایا کہ مولانا صاحب کو یہ خطاب شیخ العرب والعجم ، فقیہ اعظم ، امام اہلسنت حضرت علامہ مفتی پیر محمد قاسم مشوری ؒ الباری (بانی درگاہ مشوری شریف ) نے اپنی زبان فیض ترجمان سے مرحمت فرمایا۔ اس کے بعد ’’بلبل سندھ ‘‘ آپ کے نام کا جزبن گیا ۔ اور فلک شگاف نعرے ’’ بلبل سندھ زندہ باد ‘‘ بلند ہونے لگے ۔
1
وزارت کی پیشکش:
آپ نے ایک روز عثمانیہ مسجد میں خطاب کے دوران فرمایا: ہمیں مسٹر ذوالفقار علی بھٹو صاحب نے وزارت کی پیشکش کی ۔ لیکن آپ نے یہ کہہ کر پیشکش ٹھکرادی کہ: وزارت صدارت آے جانے والی چیز ہے آج دی جائے گی اور کل چھینی جائے گی، لیکن اللہ کریم نے حضور پر نور ﷺ کی ثناء خوانی کا جو منصب ہمیں عطا کیا ہے یہ ہمارے لئے کافی ہے یہ ہم سے کوئی نہیں چھین سکتااور انشاء اللہ تعالیٰ مرتے دم تک یہ ہمارے پاس ہو گا۔

لوگ کیا کیا بک گئے تو نے نہیں بیچے اصول
تیرے دامن کو بہت ہے دولت عشق رسول

وصال:
عمر طویل نہ تھی خطاب کے لئے مسلسل سفر پہ رہنے کی وجہ ، محنت ، مشقت کے سبب، عمر رسیدہ نظر آنے لگے اور مختلف بیماریوں (ذیابیطسن ، پتھری وغیرہ) کی وجہ سے بہت کمزور و نحیف ہو گئے اس کے باوجود دن رات ثناء خوانی کا سلسلہ جاری رکھا ۔ اس کے بعد ایک اور صدمے سے دوچار ہوئیکہ بھتیجے سراج احمد کو پالا پوسا پڑھایا لکھایا لیکن جب وہ اسلام آباد میں ڈاکٹر لگ گئے تو اس نے بے وفائی کی اور یہ صدمہ برداشت نہ کر سکے ۔ جس کے سبب دل ٹوٹ چکا تھا تقریر و گفتگو میں بات بات پر آنکھوں سے آنسے کی لڑی لگ جاتی تھی ۔ ایسے عالم میں جب آپ اندر سے چکنا چور ہو چکا تھے پھر بھی امت مصطفویہ کی ہدایت و نصیحت کا جو بیڑا اٹھایا تھا وہ سلسلہ آخری دم تک جاری رکھا اور یوں شعرا کثر گنگناتے تھے کہ:

محمد ﷺ کی ثنا کر تے ہوئے گر میرا دم نکلے
فرشتے غسل دیں لاشے میرے کو آب کوثر سے

نکل جائے دم تیرے قدموں کے نیچے
یہ ہی دل کی حسرت یہی آرزو ہے

اور یہ آپ کی دیرینہ آرزو پوری ہوئی کہ حضورﷺ کی ثناء خوانی میں وصال کیا ۔

یکم رجب المرجب ۱۴۰۷ھ؍۲،مارچ ۱۹۸۷ء بروز پیر شام کے پونے تین بجے مدرسہ انوارالعلوم کندھ کوٹ ( ضلع جیکبآباد سندھ ) میں ۶۹ سال کی عمر میں وصال کیا اور انتقال کے وقت باآواز بلند اللہ اکبر سننے میں آئی اور روح پرواز ہو کر اپنے پروردگار کے حضور حاضر ہوئی ۔ اناللہ وانا الیہ راجعون انتقال کندھ کوٹ میں کیوں ہوا ؟اس لئے کہ وہاں دودینی کاموں سے گئے ہوئے تھے ایک تو اس مدرسہ کو مدرس کی ضرورت تھی اس لئے لاڑکانہ سے مولوی شیر محمد سندیلو کو ساتھ لے کر گئے تھے اور رات کو اسی مدرسہ میں جلسہ تھا ۔ اس طرح دین کی راہ میں سفر کی صورت میں جان جان آفرین کے سپرد کی ۔ آپ کی نماز جناح باغ لاڑکانہ میں ہوئی جس میں علماء کرام ، مشائخ عظام اور عوام وخواص نے کثرت سے شرکت کی ۔ جناب سید غلام حسین شاہ بخاری نے نماز جنازہ پڑھائی اور شیخ طریقت حضرت میاں علی محمد مشوری ، حضرت حافظ نالے مٹھا مشوری ( درگاہ مشوری شریف ) مخدوم حافظ عبدالرحیم سومرو ، مولانا مفتی محمد صالح نعیمی، مفتی درمحمد سکندری (سانگھڑ) خطیب اسلام مناظر اہل سنت علامہ قادر بخش قاسمی ( رحمانی نگر ) مفتی غلام محمد نعیمی(ملیر ) مفتی محمد حسین قادری ( سکھر ) مفتی محمد ابراہیم قادری (سکھر ) مولانا ہدایت اللہ آریجوی اور راقم زین العابدین راشدی وغیرہ وغیرہ نے شرکت کی ۔

جامع مسجد عثمانیہ متصل درگاہ شریف حضرت مخدوم محمد عثمانیہ قریشی ؒ کے روضہ شریف میں مدفون ہوئے جہاں آپ کا مزار شریف مرجع عام و خاص ہے ۔ (ماخوذ : تذکرہ مولانا بلبل سندھ قلمی)

آسمان تیری لحد پہ شبنم افشانی کرے
سبزہ نورستہ اس گھر کی نگہبانی کرے

دیرینہ کرم جناب طارق سلطان پوری (حسن ابدال) نے راقم کی فرمائش پر ’’قطعہ تاریخ وصال ‘‘ مرحمت فرمائی ۔

تابانی فکر و زین نظر ۱۹۸۷ء
تابانی فکروزین نظر ۱۹۸۷ء

ہے ’’بھر چونڈی‘‘ مرے پیارے وطن کا

نمایاں مرکز رشد و ہدایت

گرانی مرتبت وہ بلبل سندھ
اسی درگاہ سے تھی اس کو نسبت

زمانے کا وہ مرشد عبد رحماں
تھا اس کا اس کے سر پر دست شفقت

وہ تلمیذعارفان وقت کا تھا
سعادت مند تھا وہ در حقیقت

تقدس ، کاظمی ، سردار احمد
تھے اس کے رہبران باکرامت

تھی مقبول جہاں تقریر اس کی
غذا ئے روح تھی اس کی تلاوت

تھا انداز بیاں اس کا یگانہ
تھی اس کی منفرد طرز خطابت

تھا اسلوب نوا اس کا موثر
تھی اس کے نطق میں اک خاص لذت

وہ فخر صاحبان علم و دانش
وقار اہل حق وہ خوب قسمت

سن ترحیل اس کا میں نے ’’طارق‘‘
کہا ہے ’’جلوہ شان خطابت‘‘ ۱۴۰۷ھ

مولانا در محمد ’’ خاک‘‘ صدیقی

مولانا ابو الاقبال در محمد خاک صدیقی ۱۲، ربیع الاول شریف بروز پیر، گوٹھ کاندھلہ نزد نصیر آباد ضلع لاڑکانہ میں تولد ہوئے۔

تعلیم و تربیت:
مقلانا در محمد نے ابتدائی تعلیم آخوند محمود لا کھیر اور حکیم میاں جمال الدین سے حاصل کی ۔ (میاں جمال الدین آپ کے قریبی رشتہ دار، ایک لاثانی حکیم اور عالم دین تھے) ۔ مولانا نے فارسی کی تعلیم مولانا مسعود سے حاصل کی جو کہ حضرت علامہ عطاء اللہ فیراز شاہی رحمتہ اللہ علیہ کے شاگرد تھے ۔ اس کے بعد عربی کی کی ابتدائی کتب مولانا حافظ فدا احمد مہیسر کے پاس پڑھیں ۔ اور اعلی تعلیم کے لئے حضرت مولانا مفتی عبدالرحمن دھامراہ کی خدمات حاصل کی ۔ اس کے بعد نورنگ واہ ( تح
1
صیل قمبر علی خان ) کے مدرسہ میں مولانا میر محمد نورنگی کے درس میں شامل ہوئے ۔ اس کے علاوہ گوٹھ گاجی کھاوڑ ( نزد نصیر آباد ) میں حضرتمولانا ابوالخیرات محمد صالح کے پاس درسی کتب مکمل کر کے فارغ التحصیل ہوئے۔

بیعت:
مولانا درمحمد ۱۸ سال کی عمر میں سلسلہ قادریہ سلطانیہ میں مفتی اعظم ، رئیس العلماء ، عاشق خیر الوریٰ ، عارف کامل حضرت علامہ مفتی عبدالغفور ہمایونی ؒ کے دست بیعت ہوئے ۔ اس کے بعد دادو ضلع کے نامور نقشبندی بزرگ حضرت مولانا غلام محمد ملکانی ؒ ( ملکانی شریف ) کے ہاتھ پر سلسلہ نقشبندی یہ میں بیعت ہوئے ۔

درس و تدریس:
مولانا بعد فراغت ۸سال اپنے گوٹھ میں ، ۱۳برس لعلورائنک میں درس دیا۔ اس طرح فرید آباد ( میہڑ) اور شکار پور میں بھی درس دیا ۔ درس و تدریس سے بارہ طلباء فارغ التحصیل ہوئے ۔ مسجد ناراجیل حیدر آباد میں امامت و خطابت کے فرائض بھی انجام دئیے۔

شاعری:
مولانا کو شاعری سے خاص قلبی لگاوٗ تھا۔ ’’خاک ‘‘ تخلص تھا ۔حمد ، نعت ، مولود ، منقبت اور غزل صنف میں کلام دستیاب ہے ۔ ( سندھی میں فقہی تحقیق جوار تقاء ص)

تصنیف و تالیف:
مولانا در محمد کاندھلوی کثیر التصانیف عالم تھے ۔ اس کے رسائل ، عربی ، فارسی اور سندھی میں تحریر شدہ ہیں۔ مولانا نے اپنے گوٹھ کاندھلہ میں اشاعتی مرکز ’’ادارہ سبحانی ‘‘قائم کیا جس کے تحت اپنی کتابوں کی اشاعت کا سلسلہ شروع کیا۔ادارہ سے بعض رسائل شائع ہوئے ۔ آپ کی تصانیف میں سے بعض کے اسماء درج ذیل ہیں :۔

٭فتاویٰ صدیقی (قلمی)

٭انوار محمدیہ ﷺ (سندھی ) مطبوعہ فروری ۱۹۸۱ء

٭خزانۃالعارفین (سندھی ) شاہ عبداللطیف بھٹائی کے بعض اشعار کی شرح

٭الوحی الوفی فی وجوب ذکر الخفی

٭اعانۃ الوحید فی رد عقائد السنی الجدید ( سندھی ) ردشیعیت

٭نور الابصار فی جواز الجمعۃ فی القریہ والامصار

٭تحفۃالاخوا ن فی اباحۃالتنباک و شربالدخان (مطبوعہ ۱۳۹۷ھ ۱۹۷۷ئ)اس رسالہ میں تمباکو کو مباح قرار دیا۔

٭اللمعۃفی تحقیق الخطبۃ(عربی )

٭عمدۃالالقاب

٭شرف الشبیہ فی شرح شجرۃالطیبہ

٭کلیات خاک ٭رباعیات خاک

٭خطبات خاک ٭بھیج پاگارہ ، پیر پیارا

وصال:
مولانا درمحمد کا اپنے متعلق خیال تھا کہ وہ ’’مجدد ‘‘ ہیں ۔ اپنے کو مجددثابت کرنے کیلئے انہوں نے مستقل ایک رسالہ ’’عمدۃالالقاب ‘‘لکھا۔ او رانوار محمد یہ کے آخر میں مجدد کے ثبوت میں علم الاعداد کے ذریعے دلائل درج کئے ہیں ۔

مولانا در محمد خاک نے ۳۰، ربیع الاول ۱۴۰۱ھ ۱۹۸۱ء شب جمعہ انتقال کیا۔ (انوار محمدیہ )

( انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-qazi-dost-muhammad-siddiqui-bulbul-e-sindh
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت مولانا عبد الغنی پھلواری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

ولادت:
1 رمضان 1190ھ

عبد الغنی نام، حضرت مولانا عبد المغنی پھلواروی کے فرزند یکم رمضان المبارک ۱۱۹۰ھ کو آپ کی ولادت ہوئی، درسیات کی تکمیل مفتی برکت علی عظیم آبادی سے کی، مفتی صاحب حضرت مولانا شاہ نظام الدین فرنگی محلی کے تلمیذ التلمیذ اور نامور عالم تھے ـ

مولانا عبد الغنی کو اس قدر شوق علم تھا کہ روزانہ ۳۲ میل پا پیادہ پٹنہ جاکر مفتی صاحب سے تحصیل علم کرتے، اور راستہ میں قرآن مجید حفظ کرتے، فراغت کے بعد تا زندگی مدرسہ مسجد سنگی میں تدریس کے فرائض انجام دیتے رہے، آپ کا سلسلۂ فیض کانی وسیع ہوا۔ آپ کو بیعت حضرت مخدوم شاہ حسن علی عظیم آبادی منعمی قدس سرہٗ سے تھی، اور انہیں سے خلافت بھی پائی تھی ـ

تصنیفات:
مواطن التنزیل عوامص فتوحات مکیہ (۲) حاشیہ صدرا (۳) حاشیہ شرح مسلم، حاشیہ خیالی وتلویح، ۔۔۔۔۔۔یکم رجب المرجب ۱۲۷۲ھ کو آپ کا وصال ہوا ـ

وصال:
1 رجب المرجب 1272ھ

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-abdul-ghani-phulwari
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
فقیہِ اعظم حضرت علامہ مفتی محمد نور اللہ نعیمی رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
اسمِ گرامی:
علامہ مفتی محمد نور اللہ نعیمی بصیر پوری ۔ کنیت: ابو الخیر ۔لقب: فقیہِ اعظم ۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
فقیہِ اعظم مولانا مفتی نور اللہ بصیر پوری بن حضرت علامہ مولانا الحاج ابو النور محمد صدیق چشتی بن حضرت مولانا احمد دین ۔ علیہم الرحمہ ۔

آپ کا تعلق ارائیں خاندان کے ایک ایسے علمی و روحانی گھرانے سے ہے، جونسلاً بعد نسل علوم اسلامیہ کا امین چلا آرہا ہے ۔

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 16 رجب المرجب 1332ھ، مطابق 10 جون 1914ء کو تحصیل دیپالپور ضلع ساہیوال پنجاب میں ہوئی ۔

تحصیلِ علم:
ابتدائی تعلیم اپنے والد ماجد زبدۃ الاصفیاء مولانا ابو النور محمد صدیق چشتی علیہ الرحمۃ (م 1380ھ/1961ء) اور جد امجد حضرت مولانا احمد دین علیہ الرحمہ (م1361ھ/1942ء) سے علوم عقلیہ و نقلیہ کی تحصیل کی، پھر متحدہ ہندوستان کے مختلف مدارس کا رُخ کیا اورخداداد صلاحیت، ذاتی لگن اور محنت کی بنا پر علم کے کوہ ہمالیہ بن گئے۔علوم عقلیہ و نقلیہ حاصل کرنے کے بعد 1351ھ/1933ء میں مرکزی دار العلوم حزب الاحناف لاہور میں داخلہ لیا، جہاں شیخ الحدیث والتفسیر حضرت مولانا سید محمد دیدار علی شاہ الوری علیہ الرحمہ (م1354ھ/1935ء) اور مفتیٔ اعظم پاکستان مولانا ابو البرکات سید احمد قادری علیہ الرحمۃ (م 1398ھ / 1978ء) سے دورہ حدیث شریف پرھا ۔

حضرت محدث الوری علیہ الرحمہ دورۂ حدیث پڑھنے والوں کو اکثر فرمایا کرتے۔ "اس بار تم مولانا محمد نور اللہ صاحب کی طفیل پڑھ رہے ہو"۔

دورۂ حدیث مکمل کرنے کے بعد 6 شعبان 1352ھ / بمطابق 23 نومبر 1933ء کو سندو دستار فضیلت عطا کی گئی ۔ اس موقع پر امام اہل سنت محدث الوری علیہ الرحمۃ نے آپ کو مطبوعہ سند کے علاوہ خصوصی اسناد سے بھی نوازا اور"ابو الخیر" کنیت عطا فرمائی ۔

بیعت و خلافت:
آپ صدر الافاضل بدر المماثل مفسر قرآن، محافظ نظریۂ پاکستان حضرت علامہ مفتی سید نعیم الدین مراد آبادی رحمۃ اللہ علیہ کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے، اور تمام علوم و سلاسل کی اجازت سے مشرف ہوئے ۔

سیرت و خصائص:
مجمع علم عرفاں، شیخ الحدیث والتفسیر، حجۃ الاسلام، محدث دوراں، فقیہ العصر، فقیہ النفس، مفتیِ اعظم، حضرت فقیہ اعظم ابو الخیر مفتی محمد نور اللہ نعیمی بصیر پوری رحمۃ اللہ علیہ ۔

آپ بلا شبہ اللہ تعالیٰ کے ان مقبول اور برگزیدہ بندوں میں سے ہیں، جن کا دوام جریدۂ عالم پرثبت ہو چکا ہے ۔ اعلیٰ اوصاف اور متنوع القاب میں سے "فقیہ اعظم" کا لقب زبان زد خاص و عام ہے ۔ اب فقیہ اعظم کہا جائے تو اہل علم اس سے آپ ہی کی ذات گرامی مراد لیتے ہیں ۔ حضرت فقیہ اعظم نے اپنی فطری ذکاوت و ذہانت سے زمانہ طالب علمی میں ذاتی مطالعہ سے کم و بیش پچاس و فنون میں وہ مہارت حاصل کی کہ باید و شاید۔ آپ کے اساتذہ بھی کی علمی استعداد اور صلاحیت و قابلیت کے متعرف تھے ۔

حضرت فقیہ اعظم قدس سرہ العزیز نے تعلیم سے فراغت کے فوراً بعد درس و تدریس کا سلسلہ شروع کر دیا تھا۔ حضرت فقیہ اعظم قدس سرہ العزیز اپنے دور کی نادر روزگار شخصیت تھے، علم و فضل، تقویٰ و طہارت، تنظیم و سیاست اور ہمت و استقامت میں یکتائے روزگار تھے۔ یوں تو تفسیر، حدیث اور دیگر تمام مروج علومِ دینیہ میں کامل دسترس رکھتے تھے لیکن فقہ میں آپ کو تخصص کا درجہ حاصل تھا، اس لیے آپ کےہم عصر اکابر علماء نے آپ کو" فقیہ اعظم" تسلیم کیا ۔

حضرت فقیہ اعظم قدس سرہ العزیز فتویٰ نویسی میں غیر معمولی مہارت رکھتے تھے، آپ کی ذات مرجع خلائق تھی، ملک و بیرون ملک کے لوگ استفتاء ات میں آپ کی طرف رجوع کرتے۔ ایک فقیہ اور مفتی کے لیے جن خصوصیات کا ہونا ضروری ہے وہ تمام تر آپ میں بہ درجہ اتم پائی جاتی تھیں ۔ آپ کو اللہ جل شانہ نے مجتہدانہ صلاحیتیں ودیعت فرمائی تھیں ۔

موجودہ دور کے چیلنجوں کانہ صرف مقابلہ کیا بلکہ شریعت کی روشنی میں ان کاحل بھی پیش کیا ۔ ان کا چنانچہ ایک جگہ علماء کو دعوت فکر و عمل دیتے ہوئے رقم طراز ہیں:"کیا تازہ حوادثات و نوازل کے متعلق احکام شرعی موجود نہیں کہ ہم بالکلصُمٌّ بُکۡمٌبن جائیں اور عملاً اغیار کے ان کافرانہ مزعومات کی تصدیق کریں کہ معاذ اللہ اسلام فرسودہ مذہب ہے۔ اس میں روز مرہ ضروریات زندگی کے جدید ترین ہزارہا تقاضوں کا کوئی حل نہیں۔ یہ حقیقت بھی اظہر من الشّمس ہے کہ کسی ناجائز اور غلط چیز کو اپنے مقاد و منشاء سے جائز و مباح کہنا ہر گز جائز نہیں مگر شرعاً اجازت ہو تو عدم جواز کی رٹ لگانا بھی جائز نہیں، غرض یہ کہ ضد اور نفس پرستی سے بچنا نہایت ضروری ہے۔ کیا ہی اچھا ہو کہ ہمارے ذمہ دار علمائے کرام محض اللہ تعالیٰ کے لیے نفسانیت سے بلند و بالا سر جوڑ کر بیٹھیں اور ایسے جزئیات کے فیصلے کریں مگر بظاہر یہ توقع تمنا کے حدود طے نہیں کر سکتی اور یہی انتشار آزاد خیالی کا باعث بن رہا ہے۔" (فتاویٰ نوریہ، جلد 3، صفحہ 533) ـ
1
حضرت فقیہ اعظم اعلیٰ اخلاق و کرادار کے حامل تھے۔ ان کے قول و فعل  میں کامل ہم آہنگی تھی۔ آپ با وقار، بارعب اور پر کشش شخصیت کے حامل تھے۔ آپ بچوں پر رحمت، طلبہ پر شفقت اور بزرگوں سے مودّت فرمایا کرتے تھے۔ اخلاقیات میں صاحب خلق عظیم کے مظہر اتم تھے۔ شخصیت کے اعتبار سے دیکھا جائے تو آپ کی ذات شرافت و منانت، جرات و استقلال، ہمدردی، خیر خواہی، حلم و برد باری، بے لوثی و فرض شناسی، عالی ظفر،علم و عمل، تواضع و انکسار خشیت الہیہ جیسی صفات سے متصف تھی۔ آپ سلف صالحین کی کامل تصویر تھے۔

آپ کی زندگی کی خصوصیات میں اہم بات یہ ہے کہ آپ سادہ منش، کم گو، دل کے کھرے اور شہرت و ذاتی نمائش سے بے نیاز تھے۔ شہری زندگی کے ہمہموں اور ظاہریت کے رکھ رکھاؤ سے دور، فطری اور صاف ستھرے ماحول میں رہ کر دین متین کی بے لوث خدمت کرتے ہوئے زندگی بسر کر ڈالی۔ درس و تدریس، فتویٰ نویسی، خطابت و امامت اور بہت بڑے ادارے کے جملہ انتظامی امور کی نگہداشت کے عوض تنخواہ یا اجرت لینے کے روادارنہ ہوئے بلکہ جملہ دینی خدمات محض رضائے الہی کی خاطر مفت سر انجام دیتے رہے۔انہی اوصاف کے پیش نظر استاذ الاساتذہ حضرت علامہ عطا محمد بندیالوی علیہ الرحمۃ نے آپ کو "مجدد وقت" قرار دیا۔ شیخ القرآن علامہ عبد الغفور ہزاروی علیہ الرحمہ نے آپ کو "آیت من آیات اللہ" کہا اور شہباز خطابت زادہ سید فیض الحسن شاہ صاحب علیہ الرحمہ (آلو مہار شریف) نے آپ کو "دور حاضر کا امام ابو حنیفہ" قرار دیا ۔

حضرت فقیہ اعظم فنافی الرسول ﷺ اور فنافی حب المدینہ تھے۔ آپ کی محفل میں حاضری سے شرف یاب ہونے والے اس حقیقت سے بخوبی واقف ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ کے ذکر سےآنکھوں سے آنسؤوں کے چشمے ابلنے لگتے، ایسا محسوس ہوتا کہ محبوب پاک ﷺ کے جمال جہاں آراء کے دیدار میں محو ہیں۔ مولانا حافظ محمد اسد اللہ نوری کے نام ایک مکتوب گرامی میں اسی حقیقت کو یوں منکشف فرماتے ہیں: "میرا تو بفضلہٖ تعالیٰ یہ عالم ہے کہ بصیر پور میں درس اسباق دیتے ہوئے مدینہ عالیہ میں ہی حاضر معلوم ہوتا ہوں۔ گنبد خضراء پیش نظر رہے تو کوئی دوری نہیں ۔ تعلیم بھی نہایت ضروری ہے کہ صوفی بے علم شیطان کا مسخرہ ہوتا ہے، ورنہ دل یہی چاہتا ہے کہ ہر وقت مدینہ عالیہ حاضری رہے"۔ (مکتوب محررہ، 18 - اکتوبر 1979ء) کئی بار ایسا بھی ہوا کہ ظاہری بے سرو سامانی کے باوجود بارگاہ حبیب ﷺ سے بلاوا آ گیا، اور مدینۃ المنورہ میں بارگاہِ حبیب ﷺ میں حاضر ہو گئے ۔

تاریخِ وصال:
یکم رجب المرجب 1403ھ بمطابق 15 اپریل 1983ء، بروز جمعۃ المبارک، دو پہر ایک بجے وصال فرمایا۔آپ کی آخری آرامگاہ بصیر پورشریف ضلع ساہیوال پنجاب پاکستان میں ہے ۔

ماخذ و مراجع: روشن دریچے ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-mufti-muhammad-noorullah-naeemi
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت خواجہ قطب الدین مودود چشتی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

آپ مادر زاد ولی تھے قطب الاقطاب اور قطب الدین لقب پایا تھا۔ شمع صوفیاء اور چراغ چشتیہ کے خطابات سے نوازے گئے تھے۔ یگانۂ روزگار محبوب پروردگار۔ صاحب الاسرار اور مخزن الانور تھے۔ خرقۂ خلافت اپنے والد بزرگوار سے حاصل کیا تھا۔ وہ اکثر ہوا میں پرواز کرکے جہاں چاہتے چلے جایا کرتے تھے۔ سات سال کی عمر میں قرآن پاک حفظ کرلیا اورسولہ سال کی عمر میں علوم دینیہ سے فارغ ہوگئے، آپ کی تصانیف میں سے منہاج العارفین اور خلاصۃ الشرقیہ بہت مشہور ہیں، آپ کی عمر انتیس سال تھی کہ والد ماجد کا انتقال ہوگیا۔ آپ سجادۂ نشین بنے اور مخلوق کی ہدایت میں مصروف ہوگئے۔ چنانچہ بیت المقدس سے چشت تک اور بلخ و بخارا کے علاقوں کی سیر کی ، آپ کے ایک ہزار خلفاء مشہور ہوئے۔ اور آپ کے مریدوں کی تعداد کا کوئی شمارنہیں۔ دنیا کے کسی حصّے پر آپ کے کسی مرید کوکوئی مشکل پیش آتی آپ مدد کے لیے وہاں پہنچتے، آپ کی وفات کے بعد بھی جو شخص آپ کے مزار پر تین دن کے لیے حاضر ہوتا اور دعا کرتا تو اُس کی مشکل حل ہوجاتی، آپ کے بہت بیٹے تھے۔ چنانچہ خطہ پاک چشت سے آپ کی اولاد کی کئی شاخیں دنیا میں پھیلیں۔

خواجہ مودود چشتی رحمۃ اللہ علیہ کو کعبہ کے طواف کرنے کا شوق پیدا ہوتا تو وہ ہوا میں اُڑ کر فوراً مکہ شریف پہنچ جاتے۔ طواف کرتے اور اسی دن واپس آجاتے۔ حضرت شیخ احمد جام زندہ پیل بڑے مشہور ولیوں میں ہوئے ہیں انہوں نے جب خواجہ ابویوسف چشتی رحمۃ اللہ علیہ کی وفات کی خبر سنی، تو آپ خواجہ مودود کے پاس چشت کی طرف روانہ ہوئے، آپ کے دشمنوں نے آپ کے خلاف حضرت مودود چشتی کو یہ خبر پہنچائی کہ خواجہ احمد جام آپ کی ولایت پر قبضہ کرنے آ رہے ہیں۔ یہ بات سنتے ہی خواجہ مودود چشتی نے مراقبہ کیا اور چند لمحوں کے بعد سر اُٹھا کر فرمایا کہ یہ بات بالکل غلط ہے۔ شیخ احمد جان تو محبت و خلوص سے آرہے ہیں چنانچہ خواجہ نے فوری طور پر ایک دیوار کو حکم دیا کہ وہ گھوڑے کی طرح تیز دوڑ کر شیخ احمد جام کا استقبال کرے اور انہیں لائے۔ شیخ مودود چشتی چار ہزار اولیاء اور خلفاء کو لے کر استقبال کے لیے آگے بڑھے۔ شیخ احمد جام شیر پر سوار ہوکر دریائے نوتک کے کنارے پر کھڑے تھے۔ دونوں کا آمنا سامنا ہوا۔ دونوں اپنی سواریوں سے نیچے آگئے اور ایک دوسرے سے بغل گیر ہوئے، دیر تک بیٹھے، گفتگو کرے رہے، وہاں سے خواجہ علی حکیم جو خواجہ مودود چشتی کا معتقد تھا کے گھر تشریف لے گئے، تین دن تک مجلس سماع منعقد رہی۔ دونوں حضرات وجد میں جھومتے رہے۔ بے غیرت دشمنوں نے شیخ احمد کی تشریف آوری کی خبر دوسرے انداز میں پیش کی تھی۔ اب یہ لوگ موقع غنیمت جان کر مجلسِ سماع میں چلے آئے۔ وہ چاہتے تھے کہ شیخ احمد جام کو تلوار سے ہلاک کردیں۔ مگر اسی اثناء میں خواجہ موجود چشتی کی نگاہِ غضب ان پر ایسی پڑی کہ تمام بے ہوش ہوکر تڑپنے لگے۔ جب مجلس ختم ہوئی تو شیخ احمد جام نے ان بے ہوشوں کی حالت دریافت کی تو حضرت خواجہ مودود نے سارا واقعہ سنادیا۔ شیخ احمد جام نے ان کا جرم معاف کردیا، اُن کی پشت پر دستِ شفقت پھیرا تو اُن کو ہوش آیا۔ دونوں بزرگوں کے پاؤں پر گر پڑے۔ شیخ احمد جام حضرت خواجہ مودود دونوں خلوت میں رہے۔ دونوں حضرات نے ایک دوسرے سے استفادہ کیا، کچھ دنوں بعد اپنی اپنی خانقاہ کی طرف تشریف لے گئے۔

ہم یہاں بتا دینا چاہتے ہیں کہ نفحات الانس کے مصنف نے اس واقعہ کو دوسری طرح نقل کیا ہے۔ لیکن ہم نے جو واقعہ بیان کیا ہے وہ حضرت خواجہ مودود چشتی رحمۃ اللہ علیہ کے ملفوظات میں لکھا ہوا دیکھا ہے، خواجہ مودود چشتی رحمۃ اللہ علیہ جب شیخ احمد جام سے رخصت لے کر چشت کی طرف لوٹے تو راستے میں پہاڑ کے دامن میں ایک ایسے شخص کو دیکھا جو یا مودود کا ورد کر رہا تھا۔ اُس سے پوچھا گیا تو اُس نے بتایا کہ میں ایک عرصہ سے نابینا تھا۔ ایک دن میں نے اللہ کی باگارہ میں بینائی کے لیے دعا کی تو مجھے غیب سے آواز آئی کہ خواجہ مودود میرے محبوب ہیں اُن کے نام کا ورد کیا کرو، ایک وقت آئے گا کہ ان کی برکت سے بینائی مل جائے گی حضرت خواجہ مودود نے جب یہ بات سنی تو اپنا لعاب دہن اس کی آنکھوں پر ملا، وہ اُسی وقت بینا ہوگیا۔

حضرت خواجہ مودود چشتی رحمۃ اللہ علیہ جب بلخ میں پہنچے تو وہاں کے علماء نے آپ کی بڑی مخالفت کی، مسئلہ سماع پر مناظرہ کرنے کے لیے ایک عظیم الشان اجلاس کیا اس مجلس میں علمائے بلخ نے جتنے سوالات اُٹھائے حضرت خواجہ مودود نے اُن کے جواب دیے، اور فرمایا ہم خواجہ ابراہیم بن ادھم رحمۃ اللہ علیہ کی سنت پر قائم ہیں وہ ہمارے پیر تھے اور سماع سنا کرتے تھے۔ علماء نے جواب میں کہا کہ خواجہ ابراہیم ادھم پیر کامل تھے۔ وہ ہوا میں اُڑا کرتے تھے ۔ ان کا سماع سننا جائز ہے مگر آپ ایسا نہیں کرسکتے۔ حضرت خواجہ مودود چشتی اُسی وقت مجلس سے اُٹھے اور تیز پرندے کی طرح ہوا میں پرواز کرنے لگے۔ علماء کی نظروں سے غائب ہوگئے، کچھ وقت گزرنے کے بعد واپس آئے اور
1