🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
29-06-1445 ᴴ | 12-01-2024 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
29-06-1445 ᴴ | 12-01-2024 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❶ اعلٰی حضرت کو اعلی حضرت کہنے کی وجہ ـ ❷ اعلیٰ حضرت کا گستاخ قابل امامت نہیں ـ ❸ والدین میں سے کس کا حکم ماننا زیادہ ضروری ہے ـ ❹ دوران ڈیوٹی موبائل استعمال کرنا کیسا ہے؟ ـ ❺ بلا شبہ حضرت امام حسین بادشاہ اور سلطان ہیں ـ ❻ قرآن مقدس کے آداب و مسائل [ سنی رضوی قاعدہ صفحہ⁴ ] از: محمد جمال الدین خان قادری رضوی ـ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❶ اعلٰی حضرت کو اعلی حضرت کہنے کی وجہ ـ ❷ اعلیٰ حضرت کا گستاخ قابل امامت نہیں ـ ❸ والدین میں سے کس کا حکم ماننا زیادہ ضروری ہے ـ ❹ دوران ڈیوٹی موبائل استعمال کرنا کیسا ہے؟ ـ ❺ بلا شبہ حضرت امام حسین بادشاہ اور سلطان ہیں ـ ❻ قرآن مقدس کے آداب و مسائل [ سنی رضوی قاعدہ صفحہ⁴ ] از: محمد جمال الدین خان قادری رضوی ـ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
حضرت مولانا حکیم خادم علی سیالکوٹی رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: مولانا حکیم خادم علی سیالکوٹی ۔ لقب: فاضل، ادیب، کامل طبیب ۔
مقامِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت کوٹلی لوہاراں ضلع سیالکوٹ میں ہوئی۔
تحصیلِ علم:
حضرت حکیم صاحب حافظِ قرآن اورعلومِ ظاہری میں کامل دسترس رکھتے تھے۔ عربی، فارسی ، اردو ادب اورفنِ طب میں فخرِ روزگار تھے ۔
بیعت و خلافت:
سلسلہ عالیہ نقشبندیہ میں حضرت خوجہ حافظ محمد عبد الکریم رحمۃ اللہ علیہ (عیدگاہ شریف راولپنڈی) کے مرید ہوئے اور خلافت و اجازت سے مشرف ہوئے ۔ اسی طرح حضرت امیرملت پیر سید جماعت علی شاہ محدث علی پوری رحمۃ اللہ علیہ نے بھی خلافت عطاء فرمائی ۔
سیرت وخصائص:
ماہرِ علومِ دینیہ، فاضل اجل، طبیبِ روحانی و جسمانی حضرت علامہ مولانا حافظ حکیم خادم علی سیالکوٹی رحمۃ اللہ علیہ ۔ حضرت حکیم صاحب علوم دینیہ اور طب میں فخر روزگار اور، شعر و شاعری میں کمال رکھتے تھے ۔ حضرت حکیم صاحب حافظ قرآن اور ظارہی علوم میں با کمال ہونے کے ساتھ ساتھ باطنی علوم میں بھی بلند مقام رکھتے تھے ۔ حضرت حکیم صاحب قادر الکلام خطیب تھے ، ان کی تقریر اور منظو کلام میں بلا کاسوز تھا ، انہوں نے شریعت و طریقت ، طب و حکمت اور علم و ادب کی گرانقدر خدمات انجام دیں ، آپ کاکلام حکمت و موعظت اور پندو نصیحت کا قابل قدر خزینہ ہے ، آپ کی متعدد تصانیف شائع ہو کر مقبول عوام و خواص ہو چکی ہیں۔
حضرت حکیم صاحب نے اپنے فیض کرامت پر طب کا پردہ ڈال رکھا تھا ، ہزاروں افراد حاضر ہوتے اور پنی ظاہری و باطنی بیماریوں کا علاج کروا کر واپس جاتے۔ آپ کا حلقۂ ارادت بہت وسیع ہے ۔ حضرت حکیم صاحب غریب پر ور اور وفار شعار بزرگ تھے ۔ حکیم عبد اللہ سکھ مذہب چھوڑ کر آپ کے ہاتھ پر مسلما ن ہوئے تھے ، ان کے وفات کے بعد آپ طویل عرصہ تک ان کے مطب ، واقع اڈہ شہباز پر تشریف لے جاتے رہے تاکہ حکیم عبد اللہ مرحوم کا مطب چلتا رہے اور ان کے بچوں کی کفالت ہوتی رہے۔
مشہور زمانہ طبیب اور فاضل جناب حکیم نیر واسطی کے تأثرات:
سر زمین سیالکوٹ نے جہاں شاعری میں اقبال کو جنم دیا وہاں طب میں حکیم خادم علی جیسی عظیم شخصیت کو پیدا کیا ۔ حکیم خادم علی علیہ الرحمہ علم وعمل اور فن طب میں کمال کے علاوہ تصوف ،شعر اور ادب میں بھی ید طولیٰ رکھتے تھے اور اللہ تعالیٰ کی فیاضیوں نے وہ تمام خصوصیتیں مرحوم میں جمع کردی تھیں جو آج سے چند سو سال پہلے ہماری قوم میں پائی جاتی تھیں ۔ سنا ہے حکیم صاحب نے ایک سو بائیس سال عمر پائی ، لیکن ایسا محسوس ہورہا ہے کہ یہ مدت چشم زدن میں گزر گئی اور ہم اسلاف کی اس دولت مستعجل سے کچھ بھی استفادہ نہ کر سکے ۔
جناب حکیم آفتاب احمد قرشی لکھتے ہیں:
"وہ بلا شبہ اس دور کے قطب تھے ، ان سے لاکھوں انسانوں نے فیض پایا ، وہ مستجاب الدعوات تھے ، جو دعابھی کرتے بارگاہ ایزدی میں شرف قبولیت حاصل کرتی ، وہ مرد مومن تھے ، ان کی نگاہ تقدیر کو بدل دیتی تھی ، ان کی ذات سے بے اختیار کرامتیں صادر ہوا کرتی تھیں ، وہ چشمۂ فیض تھے جس سے لاکھوں انسان شاد کام ہوئے اس کے باوجود انہوں نے بہت کم حضرات کو بیعت کیا ، فخر سیالکوٹ حکیم خادم علی فرمایا کرتے تھے میں خود گناہ گار انسان ہوں ، دوسروں کے بوجھ اٹھانے کی مجھ میں ہمت نہیں ہے"۔
رئیس الاطباء حکیم خادم علی طب میں یگانہ حیثیت کے حامل تھے ۔ مریض کا معائنہ کرتے تو مریض کا ماضی ، حال اور مستقبل ان پر روشن ہوجاتا ، وہ اصل مرض کی نشاندہی کرتے ، ان کی انگلیوں پر سو سو تھر ما میٹر قربا ن تھے ،وہ صاحب کمال تھے۔ غریبوں اور یتیموں سے انہیں دلی الفت تھی ، یتیم لڑکیوں کی شادی کا انتظام ، غریب طلباء کی تعلیم کا اہتما م کرتے ، انہوں نے سینکڑوں طلباء کو تعلیم دلائی ، مگر یہ امداد خاموشی سے کیا کرتے تھے۔
وہ بزرگوں کے مزار پر حاضری بھی دیا کرتے ، سرہند شریف، اجمیر شریف ، کلیر شریف جاتے ، آزادی کے بعد وہ چور شریف ، پاکپتن ، لاہوراور راولپنڈی کا سفر کرکے اپنے ذوق کی تسکین کرتے، وہ نعت گو شاعر تھے، انہوں نے بارگاہ نبوت میں عقیدت ونیاز مندی کے جذبات کو ول آ ویز اشعار کی صورت میں پیش کیا ہے ، وہ عاشق رسول ﷺتھے ، وہ صاحب طرز ادیب تھے ، ان کا خط بڑا پختہ تھا، وہ خود خطوط کا جواب لکھا کرتے تھے"۔
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 30 جمادی الثانی 1391ھ / مطابق 20 اگست 1971ء بروز ہفتہ کو ہوا ۔ آپ کا مزار پر انوار سیالکوٹ میں مرجعِ خلائق ہے ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ اکابر اہلسنت ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-hakeem-khadim-ali-sialkoti
نام و نسب:
اسمِ گرامی: مولانا حکیم خادم علی سیالکوٹی ۔ لقب: فاضل، ادیب، کامل طبیب ۔
مقامِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت کوٹلی لوہاراں ضلع سیالکوٹ میں ہوئی۔
تحصیلِ علم:
حضرت حکیم صاحب حافظِ قرآن اورعلومِ ظاہری میں کامل دسترس رکھتے تھے۔ عربی، فارسی ، اردو ادب اورفنِ طب میں فخرِ روزگار تھے ۔
بیعت و خلافت:
سلسلہ عالیہ نقشبندیہ میں حضرت خوجہ حافظ محمد عبد الکریم رحمۃ اللہ علیہ (عیدگاہ شریف راولپنڈی) کے مرید ہوئے اور خلافت و اجازت سے مشرف ہوئے ۔ اسی طرح حضرت امیرملت پیر سید جماعت علی شاہ محدث علی پوری رحمۃ اللہ علیہ نے بھی خلافت عطاء فرمائی ۔
سیرت وخصائص:
ماہرِ علومِ دینیہ، فاضل اجل، طبیبِ روحانی و جسمانی حضرت علامہ مولانا حافظ حکیم خادم علی سیالکوٹی رحمۃ اللہ علیہ ۔ حضرت حکیم صاحب علوم دینیہ اور طب میں فخر روزگار اور، شعر و شاعری میں کمال رکھتے تھے ۔ حضرت حکیم صاحب حافظ قرآن اور ظارہی علوم میں با کمال ہونے کے ساتھ ساتھ باطنی علوم میں بھی بلند مقام رکھتے تھے ۔ حضرت حکیم صاحب قادر الکلام خطیب تھے ، ان کی تقریر اور منظو کلام میں بلا کاسوز تھا ، انہوں نے شریعت و طریقت ، طب و حکمت اور علم و ادب کی گرانقدر خدمات انجام دیں ، آپ کاکلام حکمت و موعظت اور پندو نصیحت کا قابل قدر خزینہ ہے ، آپ کی متعدد تصانیف شائع ہو کر مقبول عوام و خواص ہو چکی ہیں۔
حضرت حکیم صاحب نے اپنے فیض کرامت پر طب کا پردہ ڈال رکھا تھا ، ہزاروں افراد حاضر ہوتے اور پنی ظاہری و باطنی بیماریوں کا علاج کروا کر واپس جاتے۔ آپ کا حلقۂ ارادت بہت وسیع ہے ۔ حضرت حکیم صاحب غریب پر ور اور وفار شعار بزرگ تھے ۔ حکیم عبد اللہ سکھ مذہب چھوڑ کر آپ کے ہاتھ پر مسلما ن ہوئے تھے ، ان کے وفات کے بعد آپ طویل عرصہ تک ان کے مطب ، واقع اڈہ شہباز پر تشریف لے جاتے رہے تاکہ حکیم عبد اللہ مرحوم کا مطب چلتا رہے اور ان کے بچوں کی کفالت ہوتی رہے۔
مشہور زمانہ طبیب اور فاضل جناب حکیم نیر واسطی کے تأثرات:
سر زمین سیالکوٹ نے جہاں شاعری میں اقبال کو جنم دیا وہاں طب میں حکیم خادم علی جیسی عظیم شخصیت کو پیدا کیا ۔ حکیم خادم علی علیہ الرحمہ علم وعمل اور فن طب میں کمال کے علاوہ تصوف ،شعر اور ادب میں بھی ید طولیٰ رکھتے تھے اور اللہ تعالیٰ کی فیاضیوں نے وہ تمام خصوصیتیں مرحوم میں جمع کردی تھیں جو آج سے چند سو سال پہلے ہماری قوم میں پائی جاتی تھیں ۔ سنا ہے حکیم صاحب نے ایک سو بائیس سال عمر پائی ، لیکن ایسا محسوس ہورہا ہے کہ یہ مدت چشم زدن میں گزر گئی اور ہم اسلاف کی اس دولت مستعجل سے کچھ بھی استفادہ نہ کر سکے ۔
جناب حکیم آفتاب احمد قرشی لکھتے ہیں:
"وہ بلا شبہ اس دور کے قطب تھے ، ان سے لاکھوں انسانوں نے فیض پایا ، وہ مستجاب الدعوات تھے ، جو دعابھی کرتے بارگاہ ایزدی میں شرف قبولیت حاصل کرتی ، وہ مرد مومن تھے ، ان کی نگاہ تقدیر کو بدل دیتی تھی ، ان کی ذات سے بے اختیار کرامتیں صادر ہوا کرتی تھیں ، وہ چشمۂ فیض تھے جس سے لاکھوں انسان شاد کام ہوئے اس کے باوجود انہوں نے بہت کم حضرات کو بیعت کیا ، فخر سیالکوٹ حکیم خادم علی فرمایا کرتے تھے میں خود گناہ گار انسان ہوں ، دوسروں کے بوجھ اٹھانے کی مجھ میں ہمت نہیں ہے"۔
رئیس الاطباء حکیم خادم علی طب میں یگانہ حیثیت کے حامل تھے ۔ مریض کا معائنہ کرتے تو مریض کا ماضی ، حال اور مستقبل ان پر روشن ہوجاتا ، وہ اصل مرض کی نشاندہی کرتے ، ان کی انگلیوں پر سو سو تھر ما میٹر قربا ن تھے ،وہ صاحب کمال تھے۔ غریبوں اور یتیموں سے انہیں دلی الفت تھی ، یتیم لڑکیوں کی شادی کا انتظام ، غریب طلباء کی تعلیم کا اہتما م کرتے ، انہوں نے سینکڑوں طلباء کو تعلیم دلائی ، مگر یہ امداد خاموشی سے کیا کرتے تھے۔
وہ بزرگوں کے مزار پر حاضری بھی دیا کرتے ، سرہند شریف، اجمیر شریف ، کلیر شریف جاتے ، آزادی کے بعد وہ چور شریف ، پاکپتن ، لاہوراور راولپنڈی کا سفر کرکے اپنے ذوق کی تسکین کرتے، وہ نعت گو شاعر تھے، انہوں نے بارگاہ نبوت میں عقیدت ونیاز مندی کے جذبات کو ول آ ویز اشعار کی صورت میں پیش کیا ہے ، وہ عاشق رسول ﷺتھے ، وہ صاحب طرز ادیب تھے ، ان کا خط بڑا پختہ تھا، وہ خود خطوط کا جواب لکھا کرتے تھے"۔
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 30 جمادی الثانی 1391ھ / مطابق 20 اگست 1971ء بروز ہفتہ کو ہوا ۔ آپ کا مزار پر انوار سیالکوٹ میں مرجعِ خلائق ہے ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ اکابر اہلسنت ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-hakeem-khadim-ali-sialkoti
scholars.pk
Hazrat Molana Hakeem Khadim Ali Sialkoti
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
نبیرہِ اعلی حضرت ، علامہ عمر رضا خان بریلوی مدظلہ العالی
ولادت: 30 جماد الاخری
تعلیم:
حضرت مولانا عمر رضا خاں صاحب قبلہ دامت برکاتہم، اردو ادب اور انگلش میں ڈبل MA ہیں، حال ہی میں B.Ed بھی کیا ہے ـ
علم ریاضی:
علم ریاضی میں ملکہ انہیں موروثی ہے، اس حقیر نے ان سے اس فن کو پڑھا ہے اگر مستقل پڑھتا تو یقیناً ماہر ہو جاتا پر عدم معیت کی وجہ عدم مہارت بنی ـ
درسِ نظامی:
علاوہ ازیں مُروّجہ درسِ نظامی میں آپ نے مشکوٰۃ المصابیح تک پڑھا ہے جو مدارس میں چھٹے درجے میں پڑھائی جاتی ہے ـ
بقیہ تعلیم:
بقیہ تعلیم بوجہ علالت رہ گئی لیکن مولانا اسے تکمیل کے مراحل میں لانے کا عزم رکھتے ہیں، دعا ہے کہ مولا تعالیٰ انہیں اس میں کامیابی عطا فرمائے ـ
اولاد:
آپ کے دو شہزادے بنام محمد انور رضا، محمد رضا اور ایک شہزادی بنام رداء فاطمہ ہے ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/nabeera-e-aalahazrat-allama-umar-raza-khan-barelvi
ولادت: 30 جماد الاخری
تعلیم:
حضرت مولانا عمر رضا خاں صاحب قبلہ دامت برکاتہم، اردو ادب اور انگلش میں ڈبل MA ہیں، حال ہی میں B.Ed بھی کیا ہے ـ
علم ریاضی:
علم ریاضی میں ملکہ انہیں موروثی ہے، اس حقیر نے ان سے اس فن کو پڑھا ہے اگر مستقل پڑھتا تو یقیناً ماہر ہو جاتا پر عدم معیت کی وجہ عدم مہارت بنی ـ
درسِ نظامی:
علاوہ ازیں مُروّجہ درسِ نظامی میں آپ نے مشکوٰۃ المصابیح تک پڑھا ہے جو مدارس میں چھٹے درجے میں پڑھائی جاتی ہے ـ
بقیہ تعلیم:
بقیہ تعلیم بوجہ علالت رہ گئی لیکن مولانا اسے تکمیل کے مراحل میں لانے کا عزم رکھتے ہیں، دعا ہے کہ مولا تعالیٰ انہیں اس میں کامیابی عطا فرمائے ـ
اولاد:
آپ کے دو شہزادے بنام محمد انور رضا، محمد رضا اور ایک شہزادی بنام رداء فاطمہ ہے ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/nabeera-e-aalahazrat-allama-umar-raza-khan-barelvi
❤1
اللہ رکھا قادری ضیائی، بانی انجمن ضیائے طیبہ، الحاج سید، مدظلہ العالی
(مؤسس اعلیٰ انجمن ضیاء طیبہ کراچی)
محترم المقام قبلہ الحاج سید اللہ رکھا قادری ضیائی بن سید عمر میاں بن سید ابراہیم میاں بن سید جہانگیر میاں۔۔ سادات ِ کرام کےچشم وچراغ ہیں۔قبلہ سید اللہ رکھا قادری ضیائی صاحب کی ولادت باسعادت یکم رجب المرجب1374ھ، مطابق ماہ 2؍ مارچ؍1955ء کوشہر کراچی کے اولڈ سٹی ایریا گئو گلی میٹھادر میں ہوئی۔گھر کاماحول مذہبی تھا،گھر کےافراد دین سےمحبت کرنے والے اوردین پر عمل کرنےوالے،اور پھر بزرگانِ دین سےعقیدت مندی،بالخصوص امام اہل سنت اعلیٰ حضرت امام احمد رضاخاں بریلوی سےعشق کی حد تک وارفتگی،تو شاہ صاحب کی طبیعت ابتدا سےہی مذہبی ماحول کی طرف راغب تھی۔تصلب فی المسلک، ہمدردی ِمسلک رضا ،اور فروغ ِمسلک حق ،اوائل عمر میں اللہ جل شانہ نے آپ کےقلب میں نقش کردیا تھا۔یہی وجہ ہے کہ اوائل عمر میں جب اہل سنت وجماعت کی دعوت وتبلیغ کی کوئی باقاعدہ تنظیم نہ تھی۔بد مذہبوں کی عالمگیر اورمنظم تبلیغی جماعت موجود تھی،جس کانشانہ سادہ لوح سنی مسلمان تھے،اور سنی ان کےظاہری لباس وحلیہ ،اور میٹھی باتوں سے متاثر ہوکر بدمذہب بن جاتےتھے۔یہ حالات اہل سنت کےنظریاتی لوگوں کےلئےناقابل برداشت تھے،شاہ صاحب بھی ان حالات سےمتأثر ہوئے،اوراپنے چند احباب جن میں حضرت مولانا محمد الیاس عطارقادری بھی تھے’’انجمن اشاعت ِاسلام‘‘کےنام سےتبلیغِ دین کےسلسلے میں تنظیم بنائی۔یہ حضرات مختلف علاقوں میں جاکر لوگوں کو بدمذہبوں کی گستاخیاں دکھاتے،اور ان کوبدمذہبوں سے دور رہنے کی تلقین کرتے،احکام ِ دینیہ پر عمل پیرا ہونے کی ترغیب دیتے۔
ابتدائی تعلیم:
قبلہ سید اللہ رکھا قادری ضیائی زید مجدہ نےابتدائی تعلیم ِقرآن ِمجید،عارف باللہ پیر طریقت رہبر شریعت حضرت علامہ مولانا قاری محمد مصلح الدین صدیقی سےحاصل کی۔قاری صاحب کے زہدوتقویٰ اورہمدردی مسلک ،اور ان کی مصلحانہ ومخلصانہ تربیت نےسونے پہ سہاگہ والاکام کیا۔اسی طرح مسائل سیکھنے،اور شرعی معلومات کےلئے اپنےرفقاء کےہمراہ جن میں حضرت مولانا الیاس عطار قادری صاحب ، و دیگربھی ہوتےتھے،مفتیِ اعظم پاکستان خلیفۂ صدرالشریعہ حضرت علامہ مولانا مفتی محمد وقارالدین کی خدمت میں حاضر ہوتےتھے،اورفیضان ِ صدرالشریعہ سےاپنےقلوب واذہان کومنور کرتےتھے۔
انجمن اشاعت اسلام کا قیام:
اہل سنت وجماعت کی کوئی اصلاحی جماعت نہیں تھی، جس کا فائدہ بد مذہبوں کی عالمگیر اورمنظم تبلیغی جماعت اٹھارہی تھی،جس کانشانہ سادہ لوح سنی مسلمان تھے،اور سنی ان کےظاہری لباس وحلیہ ،اور میٹھی باتوں سے متاثر ہوکر بدمذہب بن جاتےتھے۔یہ حالات اہل سنت کےنظریاتی لوگوں کےلئےناقابل برداشت تھے،شاہ صاحب بھی ان حالات سےمتأثر ہوئے،اوراپنے چند احباب جن میں حضرت مولانا محمد الیاس عطارقادری بھی تھے’’انجمن اشاعت ِاسلام‘‘کےنام سےتبلیغِ دین کےسلسلے میں تنظیم بنائی۔یہ حضرات مختلف علاقوں میں جاکر لوگوں کو بدمذہبوں کی گستاخیاں دکھاتے،اور ان کوبدمذہبوں سے دور رہنے کی تلقین کرتے،احکام ِ دینیہ پر عمل پیرا ہونے کی ترغیب دیتے۔
1970ءکو اس کا پہلا جلسہ یوم رضاکے سلسلہ میں کاغذی بازار میں ہوا۔ جس کی صدرات قاری مصلح الدین صدیقی، اور خطاب حضرت شاہ تراب الحق قادری صاحب اور نظامت امیر دعوت اسلامی مولانا محمد الیاس قادری صاحب زیدمجدہ نےکی۔ یہی وجہ ہےکہ جب دعوت اسلامی کی تشکیل میں اکابر جمع تھے،اور اس پر کام جاری تھا،تورئیس القلم حضرت مولانا ارشد القادری نےاس تنظیم کےامیر کےلئےنام طلب کیاتوحضرت مفتی وقارالدین نےمولانا محمد الیاس قادری صاحب کانام پیش کیا،اور فرمایا کہ یہ نوجوانوں کی ایک جماعت ہےپہلےاسی طرح کاکام حسبِ استطاعت انجام دےرہی ہے،اور ان میں جذبہ بھی ہے،تو ان کو’’انجمن اشاعت اسلام‘‘کی بدولت دعوت اسلامی کاامیر مقرکیاگیا۔چند برسوں کے بعد یہی انجمن اشاعتِ اسلام’’جمعیت اشاعت اہل سنت‘‘ کےنام سےموسوم ہوئی۔ قبلہ شاہ صاحب تقریباً سات سال تک اس کے صدر رہے۔آپ کی عصری تعلیم بی ۔اے ہے۔
نکاح:
آپ کا نکاح، 16 فروری 1979ء کو حضرت قاری محمد مصلح الدین صدیقی نے پڑھایا تھا۔
پہلا حج:
1990ء میں والدہ ماجدہ اور اپنی رفیقہ حیات کےہمراہ کیا،اور ان کی دعاؤں سےخوب مستفیض ہوئے۔جبکہ ٹور آپریٹر کی حیثیت سے 1998 سے حج و زیارات کا سلسلہ جاری ہے ۔
اسفار:
زیارات ِعراق ، ترکی، ایران، انڈیا، عرب امارات، جرمنی، چین ، جاپان؛ شامل ہیں۔
شرفِ بیعت:
1970ء میں شیخ العرب والعجم قطب مدینہ حضرت علامہ مولانا ضیاء الدین مدنی (خلیفۂ اعلیٰ حضرت) سے بذریعہ خط شرفِ بیعت حاصل کی۔خلافت واجازت کا شرف بیہقی ِ وقت شیخ القرآن والحدیث حضرت علامہ مولانا منظور احمد فیضی سے پایا۔جبکہ متفرق علماو مشایخ سے اوراد و وظائف و ۔۔۔۔
المؤذن حج و عمرہ:
جمعیت اشاعت اہل سنت کے تحت نور مسجد کی چٹائی پر حج وعمرہ سروسز کا آغاز (profit no)
(مؤسس اعلیٰ انجمن ضیاء طیبہ کراچی)
محترم المقام قبلہ الحاج سید اللہ رکھا قادری ضیائی بن سید عمر میاں بن سید ابراہیم میاں بن سید جہانگیر میاں۔۔ سادات ِ کرام کےچشم وچراغ ہیں۔قبلہ سید اللہ رکھا قادری ضیائی صاحب کی ولادت باسعادت یکم رجب المرجب1374ھ، مطابق ماہ 2؍ مارچ؍1955ء کوشہر کراچی کے اولڈ سٹی ایریا گئو گلی میٹھادر میں ہوئی۔گھر کاماحول مذہبی تھا،گھر کےافراد دین سےمحبت کرنے والے اوردین پر عمل کرنےوالے،اور پھر بزرگانِ دین سےعقیدت مندی،بالخصوص امام اہل سنت اعلیٰ حضرت امام احمد رضاخاں بریلوی سےعشق کی حد تک وارفتگی،تو شاہ صاحب کی طبیعت ابتدا سےہی مذہبی ماحول کی طرف راغب تھی۔تصلب فی المسلک، ہمدردی ِمسلک رضا ،اور فروغ ِمسلک حق ،اوائل عمر میں اللہ جل شانہ نے آپ کےقلب میں نقش کردیا تھا۔یہی وجہ ہے کہ اوائل عمر میں جب اہل سنت وجماعت کی دعوت وتبلیغ کی کوئی باقاعدہ تنظیم نہ تھی۔بد مذہبوں کی عالمگیر اورمنظم تبلیغی جماعت موجود تھی،جس کانشانہ سادہ لوح سنی مسلمان تھے،اور سنی ان کےظاہری لباس وحلیہ ،اور میٹھی باتوں سے متاثر ہوکر بدمذہب بن جاتےتھے۔یہ حالات اہل سنت کےنظریاتی لوگوں کےلئےناقابل برداشت تھے،شاہ صاحب بھی ان حالات سےمتأثر ہوئے،اوراپنے چند احباب جن میں حضرت مولانا محمد الیاس عطارقادری بھی تھے’’انجمن اشاعت ِاسلام‘‘کےنام سےتبلیغِ دین کےسلسلے میں تنظیم بنائی۔یہ حضرات مختلف علاقوں میں جاکر لوگوں کو بدمذہبوں کی گستاخیاں دکھاتے،اور ان کوبدمذہبوں سے دور رہنے کی تلقین کرتے،احکام ِ دینیہ پر عمل پیرا ہونے کی ترغیب دیتے۔
ابتدائی تعلیم:
قبلہ سید اللہ رکھا قادری ضیائی زید مجدہ نےابتدائی تعلیم ِقرآن ِمجید،عارف باللہ پیر طریقت رہبر شریعت حضرت علامہ مولانا قاری محمد مصلح الدین صدیقی سےحاصل کی۔قاری صاحب کے زہدوتقویٰ اورہمدردی مسلک ،اور ان کی مصلحانہ ومخلصانہ تربیت نےسونے پہ سہاگہ والاکام کیا۔اسی طرح مسائل سیکھنے،اور شرعی معلومات کےلئے اپنےرفقاء کےہمراہ جن میں حضرت مولانا الیاس عطار قادری صاحب ، و دیگربھی ہوتےتھے،مفتیِ اعظم پاکستان خلیفۂ صدرالشریعہ حضرت علامہ مولانا مفتی محمد وقارالدین کی خدمت میں حاضر ہوتےتھے،اورفیضان ِ صدرالشریعہ سےاپنےقلوب واذہان کومنور کرتےتھے۔
انجمن اشاعت اسلام کا قیام:
اہل سنت وجماعت کی کوئی اصلاحی جماعت نہیں تھی، جس کا فائدہ بد مذہبوں کی عالمگیر اورمنظم تبلیغی جماعت اٹھارہی تھی،جس کانشانہ سادہ لوح سنی مسلمان تھے،اور سنی ان کےظاہری لباس وحلیہ ،اور میٹھی باتوں سے متاثر ہوکر بدمذہب بن جاتےتھے۔یہ حالات اہل سنت کےنظریاتی لوگوں کےلئےناقابل برداشت تھے،شاہ صاحب بھی ان حالات سےمتأثر ہوئے،اوراپنے چند احباب جن میں حضرت مولانا محمد الیاس عطارقادری بھی تھے’’انجمن اشاعت ِاسلام‘‘کےنام سےتبلیغِ دین کےسلسلے میں تنظیم بنائی۔یہ حضرات مختلف علاقوں میں جاکر لوگوں کو بدمذہبوں کی گستاخیاں دکھاتے،اور ان کوبدمذہبوں سے دور رہنے کی تلقین کرتے،احکام ِ دینیہ پر عمل پیرا ہونے کی ترغیب دیتے۔
1970ءکو اس کا پہلا جلسہ یوم رضاکے سلسلہ میں کاغذی بازار میں ہوا۔ جس کی صدرات قاری مصلح الدین صدیقی، اور خطاب حضرت شاہ تراب الحق قادری صاحب اور نظامت امیر دعوت اسلامی مولانا محمد الیاس قادری صاحب زیدمجدہ نےکی۔ یہی وجہ ہےکہ جب دعوت اسلامی کی تشکیل میں اکابر جمع تھے،اور اس پر کام جاری تھا،تورئیس القلم حضرت مولانا ارشد القادری نےاس تنظیم کےامیر کےلئےنام طلب کیاتوحضرت مفتی وقارالدین نےمولانا محمد الیاس قادری صاحب کانام پیش کیا،اور فرمایا کہ یہ نوجوانوں کی ایک جماعت ہےپہلےاسی طرح کاکام حسبِ استطاعت انجام دےرہی ہے،اور ان میں جذبہ بھی ہے،تو ان کو’’انجمن اشاعت اسلام‘‘کی بدولت دعوت اسلامی کاامیر مقرکیاگیا۔چند برسوں کے بعد یہی انجمن اشاعتِ اسلام’’جمعیت اشاعت اہل سنت‘‘ کےنام سےموسوم ہوئی۔ قبلہ شاہ صاحب تقریباً سات سال تک اس کے صدر رہے۔آپ کی عصری تعلیم بی ۔اے ہے۔
نکاح:
آپ کا نکاح، 16 فروری 1979ء کو حضرت قاری محمد مصلح الدین صدیقی نے پڑھایا تھا۔
پہلا حج:
1990ء میں والدہ ماجدہ اور اپنی رفیقہ حیات کےہمراہ کیا،اور ان کی دعاؤں سےخوب مستفیض ہوئے۔جبکہ ٹور آپریٹر کی حیثیت سے 1998 سے حج و زیارات کا سلسلہ جاری ہے ۔
اسفار:
زیارات ِعراق ، ترکی، ایران، انڈیا، عرب امارات، جرمنی، چین ، جاپان؛ شامل ہیں۔
شرفِ بیعت:
1970ء میں شیخ العرب والعجم قطب مدینہ حضرت علامہ مولانا ضیاء الدین مدنی (خلیفۂ اعلیٰ حضرت) سے بذریعہ خط شرفِ بیعت حاصل کی۔خلافت واجازت کا شرف بیہقی ِ وقت شیخ القرآن والحدیث حضرت علامہ مولانا منظور احمد فیضی سے پایا۔جبکہ متفرق علماو مشایخ سے اوراد و وظائف و ۔۔۔۔
المؤذن حج و عمرہ:
جمعیت اشاعت اہل سنت کے تحت نور مسجد کی چٹائی پر حج وعمرہ سروسز کا آغاز (profit no)
❤1
اور (no loss) کی بنیاد پر کیا، اللہ جل شانہ نےآپ کی سچی محنت، اورخلوص، اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے مہمانوں کی دعاؤں کی بدولت اس میں خوب برکتیں عطاء فرمائیں،اس وقت یہ منفردخصوصیات کاحامل ’’المؤذن حج وعمرہ سروسز‘‘ کےبابرکت نام سےموسوم ہے۔اس کی بدولت اللہ تعالیٰ کے مہمانوں کی خدمت،اور اہل سنت وجماعت کےفروغ واشاعت اور حرمین طیبین میں شعائر اہل سنت ،اورسنی مسلمانوں کےعقائد وایمان کی حفاظت،اس کی اولین ترجیحات ہیں۔اللہ تعالیٰ نے شاہ صاحب کواعلیٰ تنظیمی صلاحیتوں سےخوب نوازاہے،یہی وجہ ہےکہ ’’حج آر گنائزیشن‘‘ حکومتِ پاکستان کی کمیٹی میں شامل ہیں،اورصوبہ سندھ کےحج گروپ تنظیم (HOUAP) میں جنرل سیکٹری کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیں ۔
رفاہِ عامہ:
سید اللہ رکھا قادری ضیائی زید مجدہ ایک سماجی اوررفاہی شخصیت ہیں،سماجی کاموں میں خوب حصہ لیتے ہیں،ملت اسلامیہ کےدکھ درد، اورغم کو محسوس کرتےہیں،اوران کےغم میں شریک ہوتےہیں۔غریبوں کی مدد کرنا،ان کی کفالت کرنا، اجتماعی شادی بیاہ اوردیگر فلاحی کاموں میں معاونت فرماتےرہتے ہیں۔ آپ کا اپنی برادری ’’واڈلا سید جماعت‘‘ اور ’’ واڈلا سید والینٹر کورپس‘‘ کی ترقی وفلاح میں اہم کردار ہے،جو ایک عرصےتک یادرکھاجائےگا۔ پہلےوالینٹر کورپس کے آپ ’’جنرل سیکٹری‘‘ رہے، اوراس وقت مجلس عاملہ سپریم کونسل کاحصہ ہیں۔آپ نےاپنی جماعت کے دیرینہ ساتھیوں کے ساتھ واڈلا سید جماعت کی اصلاح وترقی کےلئے راہنما اصول بنائےہیں،جس میں دین داری،مسلک حق کےساتھ وابستگی،دینی تعلیم،اورنوجوانانِ قوم کوبےراہ روی سےبچانا،شادی بیاہ،اور دیگر تقریبات میں انسدادِ فضول خرچی،برےرسومات وبدعات وخرافات کی روک تھام کےقوانین شامل ہیں۔
انجمن ضیاءِ طیبہ کا قیام:
آپ کاسب سےبڑاکارنامہ ،اورباالخصوص اہل سنت وجماعت پر آپ کاسب سےبڑااحسان ’’انجمن ضیاء طیبہ‘‘ کاقیام عمل میں لاناہے، جوجدیدذرائع ابلاغ کےاصولوں پرکاربندہے، ہر شخص جانتاہے کہ اس وقت ٹیکنالوجی اورانٹرنیٹ کادوردورہ ہے، بدمذہب اس کوخوب استعمال کرکےنوجوان نسل کےایمان پر ڈاکہ ڈال رہےتھے،آپ نےبروقت ان کاسدباب کرتےہوئے اس طرف مثبت پیش رفت فرمائی۔الحمدللہ! اس وقت انجمن ضیاء طیبہ اہل سنت کاایک عظیم ادارہ ہے،جس میں پوری دنیاء کےعلماء ومشائخ تشریف لاکرآپ کےاس اقدام کوخراج تحسین پیش کرچکےہیں۔یہ سب حضرت قطب مدینہ مولانا ضیاء الدین مدنی کافیض ِ پاک ہے،یہ ادارہ آپ کےاسم شریف کی نسبت سےمعنون ہے۔اس میں کثیر شعبہ جات مصروف عمل ہیں،قلیل عرصےمیں اتنی ترقی کرلیناآپ کی اعلیٰ تنظیمی صلاحیتیں،اورخلوص کاثمرہ ہے۔
ضیائی مدارس:
اس کےساتھ ساتھ ’’ضیائی مدارس‘‘ کاایک نیٹ ورک دین اسلام کےفروغ وترقی میں مصروفِ عمل ہے،جن میں کثیر طلباء علم کےنورسےاپنےسینوں کومنور کررہےہیں۔
اصلاحی دروس:
اسی طرح کراچی کےمختلف مقامات پر ’’دروسِ قرآن وحدیث،اورفقہ‘‘ کاسلسلہ کامیابی کےساتھ جاری وساری ہے۔مختلف اہم موضوعات پرکتب کی اشاعت اوران کی مفت تقسیم کی سعادت بھی حاصل ہے۔
عرسِ اعلیٰ حضرت وایام بزرگانِ دین:
عرسِ اعلیٰ حضرت ہرسال بڑی عقیدت واحترام سےمنعقد کرتےہیں،جس میں ملک بھر سےعلماء،ثناءخوان،اور مشائخِ عظام تشریف لاتےہیں،کراچی میں اپنی نوعیت کایہ ایک منفرد پروگرام ہوتا ہے۔ایک ایسی پروقار تقریب ہوتی ہےجو اپنی مثال آپ ہے۔اس کےساتھ لنگرِ رضویہ کاوسیع اہتمام ہوتاہے،اور بالخصوص توشۂ اعلیٰ حضرت پر عمل کیاجاتاہے۔شرکاء ِ محفل اور مہمانانِ گرامی کونہایت ہی عزت ووقار کےساتھ لنگرپیش کیاجاتاہے۔پنڈال میں علوم اعلیٰ حضرت کےبینرزآویزاں کرکےشرکاء کی معلومات میں اضافہ کیاجاتاہے۔الغرض اپنی نوعیت کاایک منفردپروگرام ہوتاہے۔ اسی طرح صحابۂ کرام، اہل بیت اطہار ، ازواجِ مطہرات، آئمہ شریعت و طریقت، مشائخِ کرام کےایام پر فاتحہ کا خصوصی اہتمام فرماتےہیں۔ بعض اوقات عرب و عجم کےمشائخ کرام ان محافل کےمہمان ِ خصوصی ہوتے ہیں۔
قبلہ سید اللہ رکھا ضیائی قادری اطال اللہ عمرہ سےبندۂ ناچیز(فقیر تونسوی غفرلہ)کوکئی مرتبہ ملاقات و زیارت کاشرف حاصل ہواہے۔ آپ نہایت،کریم، رحیم، حلیم،خلیق،ملنسار،معاملہ فہم اورمنکسرالمزاج شخصیت کے حامل ہیں،علماءِ کرام اور ساداتِ عظام کا بہت احترام کرتےہیں۔دین ِ اسلام اور اہل سنت کی زبوں حالی پر افسردہ رہتےہیں،اورمختلف موا قع پر اس کا نہایت دردبھرے لہجے اظہار فرماتےرہتے ہیں۔اپنے حلقۂ احباب کومسلک ِ حق کےفروغ وترقی کےلئےمحنت کی تلقین کرتےرہتےہیں۔بہت بزرگوں سےصحبت حاصل رہی اور ان سے فیض حاصل کیا ہے۔آپ جہاندیدہ اور وسیع تجربےکےمالک ہیں۔اللہ تعالیٰ آپ کی تمام دینی خدمات کو شرف قبولیت عطافرماکرقبول عام عطاء فرمائے، اور آپ کےمدارس اور بالخصوص انجمن ضیاء طیبہ کومزید ترقی وعروج عطاء فرمائے۔آپ کاسایہ اہل سنت پرتادیر قائم ودائم رکھے۔آمین بجاہ النبی الامینﷺ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/syed-allah-rakha-qadri-ziaee
رفاہِ عامہ:
سید اللہ رکھا قادری ضیائی زید مجدہ ایک سماجی اوررفاہی شخصیت ہیں،سماجی کاموں میں خوب حصہ لیتے ہیں،ملت اسلامیہ کےدکھ درد، اورغم کو محسوس کرتےہیں،اوران کےغم میں شریک ہوتےہیں۔غریبوں کی مدد کرنا،ان کی کفالت کرنا، اجتماعی شادی بیاہ اوردیگر فلاحی کاموں میں معاونت فرماتےرہتے ہیں۔ آپ کا اپنی برادری ’’واڈلا سید جماعت‘‘ اور ’’ واڈلا سید والینٹر کورپس‘‘ کی ترقی وفلاح میں اہم کردار ہے،جو ایک عرصےتک یادرکھاجائےگا۔ پہلےوالینٹر کورپس کے آپ ’’جنرل سیکٹری‘‘ رہے، اوراس وقت مجلس عاملہ سپریم کونسل کاحصہ ہیں۔آپ نےاپنی جماعت کے دیرینہ ساتھیوں کے ساتھ واڈلا سید جماعت کی اصلاح وترقی کےلئے راہنما اصول بنائےہیں،جس میں دین داری،مسلک حق کےساتھ وابستگی،دینی تعلیم،اورنوجوانانِ قوم کوبےراہ روی سےبچانا،شادی بیاہ،اور دیگر تقریبات میں انسدادِ فضول خرچی،برےرسومات وبدعات وخرافات کی روک تھام کےقوانین شامل ہیں۔
انجمن ضیاءِ طیبہ کا قیام:
آپ کاسب سےبڑاکارنامہ ،اورباالخصوص اہل سنت وجماعت پر آپ کاسب سےبڑااحسان ’’انجمن ضیاء طیبہ‘‘ کاقیام عمل میں لاناہے، جوجدیدذرائع ابلاغ کےاصولوں پرکاربندہے، ہر شخص جانتاہے کہ اس وقت ٹیکنالوجی اورانٹرنیٹ کادوردورہ ہے، بدمذہب اس کوخوب استعمال کرکےنوجوان نسل کےایمان پر ڈاکہ ڈال رہےتھے،آپ نےبروقت ان کاسدباب کرتےہوئے اس طرف مثبت پیش رفت فرمائی۔الحمدللہ! اس وقت انجمن ضیاء طیبہ اہل سنت کاایک عظیم ادارہ ہے،جس میں پوری دنیاء کےعلماء ومشائخ تشریف لاکرآپ کےاس اقدام کوخراج تحسین پیش کرچکےہیں۔یہ سب حضرت قطب مدینہ مولانا ضیاء الدین مدنی کافیض ِ پاک ہے،یہ ادارہ آپ کےاسم شریف کی نسبت سےمعنون ہے۔اس میں کثیر شعبہ جات مصروف عمل ہیں،قلیل عرصےمیں اتنی ترقی کرلیناآپ کی اعلیٰ تنظیمی صلاحیتیں،اورخلوص کاثمرہ ہے۔
ضیائی مدارس:
اس کےساتھ ساتھ ’’ضیائی مدارس‘‘ کاایک نیٹ ورک دین اسلام کےفروغ وترقی میں مصروفِ عمل ہے،جن میں کثیر طلباء علم کےنورسےاپنےسینوں کومنور کررہےہیں۔
اصلاحی دروس:
اسی طرح کراچی کےمختلف مقامات پر ’’دروسِ قرآن وحدیث،اورفقہ‘‘ کاسلسلہ کامیابی کےساتھ جاری وساری ہے۔مختلف اہم موضوعات پرکتب کی اشاعت اوران کی مفت تقسیم کی سعادت بھی حاصل ہے۔
عرسِ اعلیٰ حضرت وایام بزرگانِ دین:
عرسِ اعلیٰ حضرت ہرسال بڑی عقیدت واحترام سےمنعقد کرتےہیں،جس میں ملک بھر سےعلماء،ثناءخوان،اور مشائخِ عظام تشریف لاتےہیں،کراچی میں اپنی نوعیت کایہ ایک منفرد پروگرام ہوتا ہے۔ایک ایسی پروقار تقریب ہوتی ہےجو اپنی مثال آپ ہے۔اس کےساتھ لنگرِ رضویہ کاوسیع اہتمام ہوتاہے،اور بالخصوص توشۂ اعلیٰ حضرت پر عمل کیاجاتاہے۔شرکاء ِ محفل اور مہمانانِ گرامی کونہایت ہی عزت ووقار کےساتھ لنگرپیش کیاجاتاہے۔پنڈال میں علوم اعلیٰ حضرت کےبینرزآویزاں کرکےشرکاء کی معلومات میں اضافہ کیاجاتاہے۔الغرض اپنی نوعیت کاایک منفردپروگرام ہوتاہے۔ اسی طرح صحابۂ کرام، اہل بیت اطہار ، ازواجِ مطہرات، آئمہ شریعت و طریقت، مشائخِ کرام کےایام پر فاتحہ کا خصوصی اہتمام فرماتےہیں۔ بعض اوقات عرب و عجم کےمشائخ کرام ان محافل کےمہمان ِ خصوصی ہوتے ہیں۔
قبلہ سید اللہ رکھا ضیائی قادری اطال اللہ عمرہ سےبندۂ ناچیز(فقیر تونسوی غفرلہ)کوکئی مرتبہ ملاقات و زیارت کاشرف حاصل ہواہے۔ آپ نہایت،کریم، رحیم، حلیم،خلیق،ملنسار،معاملہ فہم اورمنکسرالمزاج شخصیت کے حامل ہیں،علماءِ کرام اور ساداتِ عظام کا بہت احترام کرتےہیں۔دین ِ اسلام اور اہل سنت کی زبوں حالی پر افسردہ رہتےہیں،اورمختلف موا قع پر اس کا نہایت دردبھرے لہجے اظہار فرماتےرہتے ہیں۔اپنے حلقۂ احباب کومسلک ِ حق کےفروغ وترقی کےلئےمحنت کی تلقین کرتےرہتےہیں۔بہت بزرگوں سےصحبت حاصل رہی اور ان سے فیض حاصل کیا ہے۔آپ جہاندیدہ اور وسیع تجربےکےمالک ہیں۔اللہ تعالیٰ آپ کی تمام دینی خدمات کو شرف قبولیت عطافرماکرقبول عام عطاء فرمائے، اور آپ کےمدارس اور بالخصوص انجمن ضیاء طیبہ کومزید ترقی وعروج عطاء فرمائے۔آپ کاسایہ اہل سنت پرتادیر قائم ودائم رکھے۔آمین بجاہ النبی الامینﷺ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/syed-allah-rakha-qadri-ziaee
scholars.pk
Syed Allah Rakha Qadri Ziaee
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1