اں آپ رضی اللہ عنہ کا ہار ٹوٹ گیا تو آپ رضی اللہ عنہا اس کی تلاش میں مصروف ہوگئیں ۔ اُدھر قافلے والوں نے آپ رضی اللہ عنہا کا مَحمِل شریف اونٹ پر کَس دیا اور انہیں یہی خیال رہا کہ اُمُّ المؤمنین رضی اللہ عنہا اس میں ہیں ، اس کے بعد قافلہ وہاں سے کوچ کر گیا۔ جب حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا واپس تشریف لائیں تو قافلہ وہاں سے جا چکا تھا۔ آپ رضی اللہ عنہا اس خیال سے وہیں قافلے کی جگہ پر بیٹھ گئیں کہ میری تلاش میں قافلہ ضرور واپس آئے گا۔ عام طور پر معمول یہ تھا کہ قافلے کے پیچھے گر ی پڑی چیز اُٹھانے کے لئے ایک صاحب رہا کرتے تھے، اس موقع پر حضرت صفوان رضی اللہ عنہ اس کام پر مامور تھے۔ جب وہ اس جگہ پر آئے اور اُنہوں نے آپ رضی اللہ عنہا کو بیٹھے ہوئے دیکھا تو بلند آواز سے انا للہ وانا الیہ راجعون پکارا۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نےکپڑے سے پردہ کرلیا۔ انہوں نے اپنی اُونٹنی بٹھائی اور آپ رضی اللہ عنہا اس پر سوار ہو کر لشکر میں پہنچ گئیں ۔ اس وقت سیاہ باطن منافقین نے غلط باتیں پھیلائیں اور آپ رضی اللہ عنہا کی شان میں بدگوئی شروع کر دی، بعض مسلمان بھی اُن کے فریب میں آگئے اور اُن کی زبان سے بھی کوئی بیجا کلمہ سرزد ہوا۔ اسی دوران اُمُّ المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیمار ہوگئی تھیں اور ایک ماہ تک بیمار رہیں ، بیماری کے عرصے میں انہیں اطلاع نہ ہوئی کہ اُن کے بارے میں منافقین کیا کہہ رہے ہیں ۔ ایک روز حضرت اُمِ مِسْطَح رضی اللہ عنہا سے انہیں یہ خبر معلوم ہوئی۔ اس سے آپ رضی اللہ عنہا کا مرض اور بڑھ گیا اور اس صدمے میں اس طرح روئیں کہ آپ رضی اللہ عنہا کے آنسو نہ تھمتے تھے اور نہ ایک لمحہ کے لئے نیند آتی تھی، اس حال میں دو عالَم کے سردار صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوئی اور حضرتِ اُمُّ المؤمنین رضی اللہ عنہا کی پاکی میں یہ آیتیں اُتریں اور آپ رضی اللہ عنہا کا شرف و مرتبہ اللہ پاک نے اتنا بڑھایا کہ قرآنِ کریم کی بہت سی آیات میں آپ کی طہارت و فضیلت بیان فرمائی۔ اس دوران میں نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کیلئے برسر ِمنبر خیر کے کلمات ہی ارشاد فرمائے، چنانچہ فرمایا: میں اپنے اہل کے متعلق سوائے خیر کے کچھ نہیں جانتا۔
🏬 آیت 27 میں کسی کے گھر جانے کے آداب سکھائے گئے کہ بغیر اجازت گھر میں نہ جاؤ اور جب جاؤ تو سلام کرو۔
👀 آیت 30 میں مسلمانوں کو نگاہ نیچے رکھنے اور شرم گاہوں کی حفاظت کرنے کا حکم دیا اور عورتوں کو اپنی ہیئت ظاہر نہ کرنے کا حکم دیا، اپنے گریبانوں کو ڈوپٹے سے چھپانے نیز اپنے محارم کے سامنے جائز زینت اختیار کرنے کی اجازت دی گئی، عصمت کی حفاظت کے لیے نکاح کی ترغیب دی گئی۔
🕌 پھر فرمایا گیا کہ نیک لوگوں کو تجارت اللہ کت!ذکر اور نماز و زکوۃ سے غافل نہیں کرتی، کافروں کے مال کو سراب( دھوپ میں پانی کی طرح چمکنے والا ریت) سے تشبیہ دی گئی، جس طرح تپتی دھوپ میں سخت پیاس میں صحرا کے اندر پانی کا گمان ہوتا ہے اسی طرح ان کے اعمال بھی قیامت کے دن ان کے گمان میں بڑے ہونگے مگر حقیقت میں وہ کچھ نہیں۔
🚪 غلاموں ، باندیوں اور بلوغت کے قریب لڑکے، لڑکیوں کو تین اوقات میں گھر میں داخل ہونے سے پہلے اجازت لینے کا حکم دیا گیا۔ وہ تین اوقات یہ ہیں ۔
◀️ فجر کی نماز سے پہلے۔ کیونکہ یہ خواب گاہوں سے اُٹھنے اورشب خوابی کا لباس اُتار کر بیداری کے کپڑے پہننےکا وقت ہے۔
◀️ دوپہر کے وقت، جب لوگ قیلولہ کرنے کے لئے اپنے کپڑے اُتار کر رکھ دیتے اور تہ بند باندھ لیتے ہیں ۔
◀️ نماز عشاء کے بعد، کیونکہ یہ بیداری کی حالت میں پہنا ہوا لباس اُتارنے اورسوتے وقت کا لباس پہننے کاٹائم ہے۔
یہ تین اوقات ایسے ہیں کہ اِن میں خلوت و تنہائی ہوتی ہے، بدن چھپانے کا بہت اہتمام نہیں ہوتا، ممکن ہے کہ بدن کا کوئی حصہ ُکھل جائے جس کے ظاہر ہونے سے شرم آتی ہے، لہٰذا اِن اوقات میں غلام اور بچے بھی بے اجازت داخل نہ ہوں اور اُن کے علاوہ جو ان لوگ تمام اوقات میں اجازت حاصل کریں ، وہ کسی وقت بھی اجازت کے بغیر داخل نہ ہوں ۔ ان تین وقتوں کے سوا باقی اوقات میں غلام اور بچے بے اجازت داخل ہوسکتے ہیں کیونکہ وہ کام اور خدمت کیلئے ایک دوسرے کے پاس بار بار آنے والے ہیں تو اُن پر ہر وقت اجازت طلب کرنا لازم ہونے میں حرج پیدا ہوگا اور شریعت میں حرج کو دُور کیا گیا ہے۔تمہارے یا قریبی رشتہ داروں کے چھوٹے لڑکے جوانی کی عمر کو پہنچ جائیں تو وہ بھی تمام اوقات میں گھر میں داخل ہونے سے پہلے اسی طرح اجازت مانگیں جیسے ان سے پہلے بڑے مردوں نے اجازت مانگی۔اللہ پاک اپنے دین کے شرعی احکام اسی طرح بیان فرماتا ہے جیسے اس نے لڑکوں کے اجازت طلب کرنے کا حکم بیان فرمایا اور اللہ پاک مخلوق کی تمام مصلحتوں کو جانتا ہے اور وہ اپنی مخلوق کے معاملات کی تدبیر فرمانے میں حکمت والا ہے۔
⚙️
🏬 آیت 27 میں کسی کے گھر جانے کے آداب سکھائے گئے کہ بغیر اجازت گھر میں نہ جاؤ اور جب جاؤ تو سلام کرو۔
👀 آیت 30 میں مسلمانوں کو نگاہ نیچے رکھنے اور شرم گاہوں کی حفاظت کرنے کا حکم دیا اور عورتوں کو اپنی ہیئت ظاہر نہ کرنے کا حکم دیا، اپنے گریبانوں کو ڈوپٹے سے چھپانے نیز اپنے محارم کے سامنے جائز زینت اختیار کرنے کی اجازت دی گئی، عصمت کی حفاظت کے لیے نکاح کی ترغیب دی گئی۔
🕌 پھر فرمایا گیا کہ نیک لوگوں کو تجارت اللہ کت!ذکر اور نماز و زکوۃ سے غافل نہیں کرتی، کافروں کے مال کو سراب( دھوپ میں پانی کی طرح چمکنے والا ریت) سے تشبیہ دی گئی، جس طرح تپتی دھوپ میں سخت پیاس میں صحرا کے اندر پانی کا گمان ہوتا ہے اسی طرح ان کے اعمال بھی قیامت کے دن ان کے گمان میں بڑے ہونگے مگر حقیقت میں وہ کچھ نہیں۔
🚪 غلاموں ، باندیوں اور بلوغت کے قریب لڑکے، لڑکیوں کو تین اوقات میں گھر میں داخل ہونے سے پہلے اجازت لینے کا حکم دیا گیا۔ وہ تین اوقات یہ ہیں ۔
◀️ فجر کی نماز سے پہلے۔ کیونکہ یہ خواب گاہوں سے اُٹھنے اورشب خوابی کا لباس اُتار کر بیداری کے کپڑے پہننےکا وقت ہے۔
◀️ دوپہر کے وقت، جب لوگ قیلولہ کرنے کے لئے اپنے کپڑے اُتار کر رکھ دیتے اور تہ بند باندھ لیتے ہیں ۔
◀️ نماز عشاء کے بعد، کیونکہ یہ بیداری کی حالت میں پہنا ہوا لباس اُتارنے اورسوتے وقت کا لباس پہننے کاٹائم ہے۔
یہ تین اوقات ایسے ہیں کہ اِن میں خلوت و تنہائی ہوتی ہے، بدن چھپانے کا بہت اہتمام نہیں ہوتا، ممکن ہے کہ بدن کا کوئی حصہ ُکھل جائے جس کے ظاہر ہونے سے شرم آتی ہے، لہٰذا اِن اوقات میں غلام اور بچے بھی بے اجازت داخل نہ ہوں اور اُن کے علاوہ جو ان لوگ تمام اوقات میں اجازت حاصل کریں ، وہ کسی وقت بھی اجازت کے بغیر داخل نہ ہوں ۔ ان تین وقتوں کے سوا باقی اوقات میں غلام اور بچے بے اجازت داخل ہوسکتے ہیں کیونکہ وہ کام اور خدمت کیلئے ایک دوسرے کے پاس بار بار آنے والے ہیں تو اُن پر ہر وقت اجازت طلب کرنا لازم ہونے میں حرج پیدا ہوگا اور شریعت میں حرج کو دُور کیا گیا ہے۔تمہارے یا قریبی رشتہ داروں کے چھوٹے لڑکے جوانی کی عمر کو پہنچ جائیں تو وہ بھی تمام اوقات میں گھر میں داخل ہونے سے پہلے اسی طرح اجازت مانگیں جیسے ان سے پہلے بڑے مردوں نے اجازت مانگی۔اللہ پاک اپنے دین کے شرعی احکام اسی طرح بیان فرماتا ہے جیسے اس نے لڑکوں کے اجازت طلب کرنے کا حکم بیان فرمایا اور اللہ پاک مخلوق کی تمام مصلحتوں کو جانتا ہے اور وہ اپنی مخلوق کے معاملات کی تدبیر فرمانے میں حکمت والا ہے۔
⚙️
*سورہ فرقان*
سورہ فرقان مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی ہے۔اس میں 6 رکوع اور77 آیتیں ہیں۔
*وجہ*
اس سورت کی پہلی آیت میں لفظ’’ اَلْفُرْقَانَ ‘‘مذکور ہے، اس مناسبت سے ا س سورت کا نام ’’سورۂ فرقان‘‘ رکھا گیا ہے۔
اس سورت کا مرکزی مضمون یہ ہے کہ اس میں اللہ پاک نے توحید، نبوت اور قیامت کے احوال کے بارے میں بیان فرمایا، اس سورت کی ابتداء میں اللہ پاک کی تعریف و ثنا،اس کی عظمت و شان، اولاد اور شریک سے رب تعالیٰ کے پاک ہونے کو بیان کیا گیا۔دوسری آیت میں اللہ پاک کی پانچ صفات بیان ہوئی ہیں:
🌹 آسمان اور زمین کی بادشاہت خالصتاً اللہ پاک کے لئے ہے۔
❌ اللہ پاک نے اولاد اختیار نہ فرمائی۔
‼️اللہ پاک کی سلطنت میں کوئی اس کا شریک نہیں ہے۔
🌍 ہر چیز کو صرف اللہ پاک نے پیدا فرمایا۔
🕓 ہر چیز کو اس کے حال کے مطابق ٹھیک اندازے پر رکھا۔
*📱+92-321-2094919*
@faizanealahazrat
سورہ فرقان مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی ہے۔اس میں 6 رکوع اور77 آیتیں ہیں۔
*وجہ*
اس سورت کی پہلی آیت میں لفظ’’ اَلْفُرْقَانَ ‘‘مذکور ہے، اس مناسبت سے ا س سورت کا نام ’’سورۂ فرقان‘‘ رکھا گیا ہے۔
اس سورت کا مرکزی مضمون یہ ہے کہ اس میں اللہ پاک نے توحید، نبوت اور قیامت کے احوال کے بارے میں بیان فرمایا، اس سورت کی ابتداء میں اللہ پاک کی تعریف و ثنا،اس کی عظمت و شان، اولاد اور شریک سے رب تعالیٰ کے پاک ہونے کو بیان کیا گیا۔دوسری آیت میں اللہ پاک کی پانچ صفات بیان ہوئی ہیں:
🌹 آسمان اور زمین کی بادشاہت خالصتاً اللہ پاک کے لئے ہے۔
❌ اللہ پاک نے اولاد اختیار نہ فرمائی۔
‼️اللہ پاک کی سلطنت میں کوئی اس کا شریک نہیں ہے۔
🌍 ہر چیز کو صرف اللہ پاک نے پیدا فرمایا۔
🕓 ہر چیز کو اس کے حال کے مطابق ٹھیک اندازے پر رکھا۔
*📱+92-321-2094919*
@faizanealahazrat
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 via @toolkitbot
یومِ بدر 🌹 یوم الفرقان جنگ بدر میں شہید ہونے والے صحابہ رَضِیَ اللّٰهُ تَعَالیٰ عَنہُم کے نام ➻═══════════➻ TTS Aʜʟᴇ Sᴜɴɴᴀᴛ Kɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ Jᴏɪɴ : @islaamic_Knowledge ➻═══════════➻
شہید غزوۂ بدر 🌹 شہید جنگ بدر
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَـبَـارَڪَ وَ تَـعَـالیٰ عَــنۡـہُـمۡ
مسلمانوں کی تعداد ³⁰⁸ = کفار ⁹⁵⁰
مسلم شہدا ¹⁴ | کفار ⁷⁰قتل ⁷⁰گرفتار
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
یومِشہادت ¹⁷رمضان المبارک۲ھ
➻═══════════➻
TTS AʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَـبَـارَڪَ وَ تَـعَـالیٰ عَــنۡـہُـمۡ
مسلمانوں کی تعداد ³⁰⁸ = کفار ⁹⁵⁰
مسلم شہدا ¹⁴ | کفار ⁷⁰قتل ⁷⁰گرفتار
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
یومِشہادت ¹⁷رمضان المبارک۲ھ
➻═══════════➻
TTS AʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 via @toolkitbot
ْ غزوۂ کبریٰ غزوۂ بدر 🌹 سب سے بڑا غزوہ ہے ! یوم وقوع ⑰رمضان المبارڪ۲ھ ➻═══════════➻ TTS Aʜʟᴇ Sᴜɴɴᴀᴛ Kɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ Jᴏɪɴ : @islaamic_Knowledge ➻═══════════➻
شہید غزوۂ بدر 🌹 شہید جنگ بدر
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَـبَـارَڪَ وَ تَـعَـالیٰ عَــنۡـہُـمۡ
مسلمانوں کی تعداد ³⁰⁸ = کفار ⁹⁵⁰
مسلم شہدا ¹⁴ | کفار ⁷⁰قتل ⁷⁰گرفتار
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
یومِشہادت ¹⁷رمضان المبارک۲ھ
➻═══════════➻
TTS AʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَـبَـارَڪَ وَ تَـعَـالیٰ عَــنۡـہُـمۡ
مسلمانوں کی تعداد ³⁰⁸ = کفار ⁹⁵⁰
مسلم شہدا ¹⁴ | کفار ⁷⁰قتل ⁷⁰گرفتار
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
یومِشہادت ¹⁷رمضان المبارک۲ھ
➻═══════════➻
TTS AʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻