🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
انسان کی جبلت بشری کا تقاضا ہے کہ وہ بعض امور ضروریہ میں اپنے قوی قبیلہ سے امداد طلب کرتا ہے، یہ انبیائے کرام کی شان کے مخالف نہیں۔ بلکہ حضرت لوط علیہ السلام کے بعد آنے والے تمام انبیائے کرام نے بھی اپنے قبائل کے کئی افراد سے امداد طلب کی، اس میں اللہ کی طرف سے کوئی ممانعت نہیں پائی گئی۔

فرشتوں کا جواب اور قوم لوط پر عذاب:

قَالُوْا یٰلُوْطُ اِنَّا رُسُلُ رَبِّکَ لَنْ یَّصِلُوْٓا اِلَیْکَ فَاَسْرِبِاَھْلِکَ بِقِطْعٍ مِّنَ الَّیْلِ وَلَا یَلْتَفِتْ مِنْکُمْ اَحَدٌ اِلَّا امْرَاَتَکَ اِنَّہٗ مُصِیْبُھَا مَآ اَصَابَھُمْ اِنَّ مَوْعِدَھُمُ الصُّبْحُ اَلَیْسَ الصُّبْحُ بِقَرِیْبٍ، فَلَمَّا جَآءَ اَمْرُنَا جَعَلْنَا عَالِیَھَا سَافِلَھَا وَاَمْطَرْنَا عَلَیْھَا حِجَارَةً مِّنْ سِجِّیْلٍ مَّنْضُوْدٍ مُّسَوَّمَةً عِنْدَ رَبِّکَ وَمَا ھِیَ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ بِبَعِیْدٍ (پ۱۲ سورۃ ھود ۸۱، ۸۳)

فرشتے بولے: اے لوط! ہم تمہارے رب کے بھیجے ہوئے ہیں، وہ تم تک نہیں پہنچ سکتے تو اپنے گھر والوں کو راتوں رات لے جاؤ اور تم میں کوئی پیٹھ پھیر کر نہ دیکھے سوائے تمہاری عورت کے، اسے بھی وہی پہنچنا ہے جو انہیں پہنچے گا۔ بے شک ان کا وعدہ صبح کے وقت ہے کیا صبح قریب نہیں؟ پھر جب ہمارا حکم آیا ہم نے اس بستی کے اوپر کو اس کا نیچا کردیا اور اس پر کنکر کے پتھر لگاتار برسائے جو نشان کیے ہوئے تیرے رب کے پاس ہیں اور وہ پتھر کچھ ظالموں سے دور نہیں۔ (کنزالایمان فی ترجمۃ القرآن)

فرشتے اب تک یہ منظر خاموشی سے دیکھ رہے تھے، جب ان اوباشوں کی گستاخی اور حضرت لوط علیہ السلام کی پریشانی اور بے بسی کی انتہا ہوگئی تو فرشتے گویا ہوئے،اے لوط! گھبراؤ نہیں، دروازہ کھول دو اور ان مسخروں کو آگے آنے دو۔ ہم لونڈے تھوڑے ہیں کہ یہ آگے بڑھر کر ہم کو دبوچ لیں گے ہم اللہ کے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں اور ہمیں اس لیے بھیجا گیا ہے کہ ہم ان بستیوں کو تہ و بالا کرکے رکھ دیں۔ آپ ایسا کریں کہ رات کا جب کچھ حصہ گزر جائے تو اپنے گھر والوں کو ہمراہ لے کر یہاں سے چلے جائیں۔ لیکن آپ کی بیوی آپ کے ساتھ نہیں جاسکتی۔ اس کا انجام وہی ہوگا جو دوسرے مجرموں کا۔ اب ان ظالموں کی مہلت کی گھڑیاں ختم ہوگئیں، صرف صبح ہونے کی دیر ہے اور صبح کے طلوع ہونے میں اب زیادہ وقت نہیں۔

جب عذاب آیا تو ان کی بستیوں کو زیر و زبر کرکے رکھ دیا گیا ان کی فلک بوس عمارتیں زمین پر اوندھی گرادی گئیں ان پر سخت پتھروں کی ایسی موسلا دھار بارش کی گئی کہ وہ سب خاک سیاہ بن کر رہ گئے۔ سعدون، عموراہ، اوما اور زبوئی ان کی چاروں بستیاں اس جگہ آباد تھیں جہاں آج کل بحر مراد یا بحر لوط ہے اب بھی بحر لوط سے دھوئیں کے بادل اٹھتے رہتے ہیں اور کثرت سے زلزلے آتے رہتے ہیں۔ (تفسیر ضیاء القرآن)

لوط علیہ السلام کا رات کو نکل جانا:

لوط علیہ السلام اپنے ساتھ سوائے زوجہ کے باقی گھر کے افراد کو رات کو لے کر نکل گئے۔ اللہ تعالیٰ نے زمین کو لپیٹ دیا اس طرح آپ ابراہیم علیہ السلام کے پاس  پہنچ گئے۔ پھر جبرائیل علیہ السلام نے ان کی تمام بستیوں کو اپنے پرسے اٹھایا اور اتنا بلند کیا کہ آسمان والے ان کی بستیوں میں رہنے والے مرغوں کی آواز اور کتوں کے بھونک سن رہے تھے، پھر ان کو پلٹ کر نیچے گرا کر اوپر سے پتھروں کی بارش برسا کر تباہ و برباد کردیا گیا۔ (روح المعانی ج۷ حصہ اول ص۱۱۳)

خیال رہے کہ چار بستیوں کا پہلے ذکر ہوچکا ہے پانچویں بستی جو سب سے بڑی تھی اس کا نام سدوم تھا جسے قرآن پاک میں مؤتفکات سے تعبیر کیا گیا ہے۔

تنبیہ: جو پتھر ان پر برسائے گئے تھے ان پر نشانات تھے جن کی وجہ سے وہ دوسرے پتھروں سے ممتاز تھے، ان پر خطوط تھے یا مہریں تھیں، یا ان پر ہر شخص کا نام لکھا گیا تھا جس جس کا نام تھا اسی پر وہ پتھر گرا اور وہ مرا۔ (خزائن العرفان)

الانتباہ: لوط علیہ السلام کی قوم کو جب پتہ چلا کہ آپ کے پاس نوجوان مہمان آئے ہوئے ہیں تو وہ دوڑتے ہوئے اپنے برے ارادے سے آئے آپ نے انہیں سمجھایا کہ مجھے مہمانوں کے بارے میں رسوا نہ کرو اور آپ نے فرمایا:

یٰقَوْمِ ھٰؤُلَآءِ بَنَاتِیْ ھُنَّ اَطْھَرُلَکُمْ (پ۱۲ سورۃ ھود ۷۸)

اعلیٰ حضرت مولانا احمد رضا خان بریلوی رحمہ اللہ تعالیٰ نے اس کا ترجمہ کیا ہے:

’’بولے اے میری قوم یہ میری قوم کی بیٹیاں ہیں یہ تمہارے لیے ستھری ہیں‘‘

دیگر مترجمین نے ترجمہ میں ’’میری بیٹیاں‘‘ ذکر کیا ہے۔

اعلیٰ حضرت کا ترجمہ تفاسیر کے مطابق اور اللہ کے نبی کی شان کے لائق ہے، جبکہ دیگر تراجم سے یہ پتہ چلتا ہے کہ لوط علیہ السلام نے اپنی بیٹیوں کے متعلق کہا۔ اگرچہ ایک قول یہ ملتا ہے کہ آپ نے اپنی بیٹیوں کے متعلق کہا کہ تم ان سے نکاح کرلو لیکن یہ قول مختلف بحثوں سے مردود ہے۔ آپ کی دو بیٹیاں تھیں۔ بنات جمع ہے، نیز دو بیٹیاں پوری قوم کے لیے کیسے؟ کیا صرف اس قوم کے دوسردار مراد تھے یا کہ پوری قوم؟ کیا کافروں سے نکاح جائز تھا؟
1
’’اخرج ابوالشیخ عن ابن عباس وابن ابی حاتم عن ابن جبیر ومجاھد وابن ابی الدنیا وابن عساکر عن السدی ان المراد ببناتہ علیہ السلام نساء امتہ والاشارۃ بھؤلا لتنزیلھن منزلۃ الحاضر عندہ واضافتھن الیہ لأن کل نبی اب لامتہ وفی قراءۃ ابن مسعود رضی اللہ عنہ (النبی اولی بالمؤمنین من انفسھم وھو اب لھم وازواجہ امھاتھم) قرأ ابی رضی اللہ عنہ مثل ذالک لکنہ قدم وازواجہ امھاتھم علی وھو اب لھم‘‘ (روح المعانی)

ابوالشیخ نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے بیان کیا ہے ابن ابی حاتم نے ابن جبیر سے مجاہد ابن ابی الدنیا اور ابن عساکر نے سدی سے بیان کیا ہے کہ یہاں لوط علیہ السلام نے جو بنات کا ذکر کیا ہے اس سے مراد آپ نے اپنی قوم کی عورتیں لی ہیں، ھٰؤلاء سے اشارہ ان کو بمنزل حاضر کے سمجھ کر کیا اور ان کی اضافت اپنی طرف کی اور بناتی کہا، اس سے مراد یہ ہے کہ ہر نبی اپنی امت کے باپ کی حیثیت رکھتا ہے؛ کیونکہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہما کی قرات میں ہے:

اَلنَّبِیُّ اَوْلٰی بِالْمُوْمِنِیْنَ مِنْ اَنْفُسِھِمْ وَھُوَ اَبٌ لَھُمْ وَاَزْوَاجُہٗ اُمَّھَاتُھُمْ

نبی مؤمنوں کے ان کی جان سے زیادہ مالک ہیں؛ کیونکہ وہ ان کے باپ ہیں اور ان کی بیویاں ان کی مائیں حضرت ابی رضی اللہ عنہ کی قرات میں بھی ایسے  ہی ہے لیکن اس میں وازواجہ امھاتھم پہلے ہے اور وھو اب لھم بعد میں ہے

اعلیٰ حضرت مولانا احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ نے جو ترجمہ کیا ہے، علامہ رازی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اسے ہی پسند کیا ہے اور اپنے مختار پر دلائل قائم کیے ہیں۔ تفسیر کبیر کی عبارت ملاحظہ ہو ۔

’’قال یقوم ھؤلا بناتی ھن اطھر لکم ففیہ قولان: قال قتادۃ المراد بناتہ لصلبہ وقال مجاہد وسعید بن جبیر المراد نساء امتہ لانھن فی انفسھن  بنات ولھن اضافۃ الیہ بالمقاتبعۃ وقبول الدعوۃ قال اھل النحو یکفی فی حسن الاضافۃ ادنی سبب لانہ کان نبیا لھم فکان کالاب لھم قال تالی (وازواجھہ امھاتھم) وھو اب لھم وھذا القول  عندی ھو المختار ویدل علیہ وجوہ: الاول ان اقدام الانسان عرض بناتہ عی الاوباش والفجار متبعد لایلیق باھل المروۃ فکیف باکبر الانبیاء، الثانی وھو انتقال ھؤلاء بناتی وھن  اطھر لکم فبناتہ اللواتی من صلبہ لاتکفی للجمع العظیم اما نشاء امتہ ففیھن کفایۃ للکن، الثالث انہ صحت الروایۃ انہ کان لہ بنتان وھما ’’زنتا و زعوراء‘‘ واطلاق لفظ البنات علی البنتین لایجوز لما ثبت ان اقل الجمع ثلاثۃ‘‘ (تفسیر کبیر)

یعنی حضرت لوط علیہ السلام کے اس کلام (ھٰؤلا بناتی ھن اطھر لکم) میں دو قول ہیں: حضرت قتادہ نے کہا اس سے مراد آپ کی اپنی حقیقی بیٹیاں ہیں، لیکن حضرت مجاہد اور سعید بن جبیر نے کہا ہے کہ اس سے مراد آپ کی امت کی عورتیں ہیں؛ اس لیے کہ وہ آپ کی بیٹیاں ہی تھیں ان کی طرف قبول دعوت اور متابعت کی وجہ سے منسوب کیا اس لیے کہ  نحویوں کا ضابطہ یہ ہے کہ حسن اضافت میں ادنی مناسبت کافی ہے اس لیے کہ آپ ان کے نبی تھے اور نبی اپنی امت کا باپ ہوتا ہے کیونکہ قرآن پاک میں آتا ہے وازواجھہ امھاتھم نبی کی بیویاں ان کی مائیں ہیں، لہٰذا نبی ان کے باپ ہوئے۔ علامہ رازی فرماتے ہیں یہی قول میرے نزدیک مختار ہے۔ اس کے مختار ہونے پر کئی وجوہ دال ہیں:

پہلی وجہ یہ ہے:
 کہ انسان کا اپنی بیٹیوں کو اوباشوں اور فاسقوں فاجروں پر پیش کرنا بہت بعید ہے اہل مروت کے لائق نہیں اکابر انبیاء یہ کام کیسے کر سکتے ہیں ۔

دوسری وجہ:
آپ نے فرمایا: (ھؤلاء بناتی ھن اطھر لکم) آپ کی اپنی حقیقی بیٹیاں اتنی عظیم جماعت کو کافی نہیں ہوسکتی تھیں امت کی عورتیں ان تمام کو کافی ہو سکتی تھیں ۔

تیسری وجہ:
صحیح روایت ہے کہ آپ کی دو بیٹیاں تھیں ایک کا نام زنتا اور دوسری کا نام زعوراء تھا۔ لفظ بنات کا اطلاق (بالحقیقت) دو بیٹیوں پر صحیح نہیں؛ کیونکہ جمع کے کم از کم تین فرد ہوتے ہیں۔

( تذکرۃ الانبیاء )

https://scholar.ziaetaiba.com/ur/biography/holy-prophet-hazrat-loot-1
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت شاہ عبد اللہ دہلوی رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
اسمِ گرامی:
شاہ عبد اللہ ابو الخیر ۔ لقب: نقشبندی مجددی، دہلوی ۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت شاہ عبد اللہ دہلوی بن شاہ عمر بن شاہ احمد سعید حنفی نقشبندی ۔ سلسلۂ نسب حضرت مجدد الفِ ثانی تک منتہی ہوتا ہے ۔

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 27 ربیع الاول 1272ھ، مطابق ماہِ دسمبر 1855ء کو دہلی میں پیدا ہوئے ۔

تحصیلِ علم:
چار سال کی عمر میں والد اور دادا کے ہمراہ حرمین شریفین کا سفر کیا ۔ طویل عرصے تک وہیں قیام رہا ۔ اپنے والد گرامی اور دادا محترم سے ابتدائی تعلیم حاصل کی ۔ ان کے علاوہ شیخ الدلائل شیخ عبد الحق مہاجر مکی، شیخ رحمت اللہ کیرانوی، شیخ حبیب الرحمن ردولوی، شیخ الاسلام سید احمد دحلان مکی اور دیگر علماء کرام سے درسیات مکمل فرمائی ۔ بالخصوص شیخ دحلان مکی سے اجازتِ حدیث حاصل فرمائی ۔ علیہم الرحمہ ـ

بیعت و خلافت:
آپ کے والدِ گرامی نے حرم نبوی میں آپ کو اپنے والدِ ماجد حضرت شاہ احمد سعید دہلوی علیہ الرحمہ سے بیعت سے مرید کرا دیا تھا ۔ خلافت اپنے والد گرامی سے حاصل ہوئی ۔

سیرت و خصائص:
امام العلماء، سند الاتقیاء، شیخِ کامل، ولی ابن ولی، خاندانِ مجدد کے رجل رشید، حضرت شاہ ابو الخیر عبد اللہ دہلوی رحمۃ اللہ علیہ ۔ آپ حضرت شیخ مجدد کی اولاد میں سے تھے ۔ آپ کے دادا نے آپ کا نام محی الدین رکھا، آپ کے والدِ گرامی نے عبد اللہ ابو الخیر تجویز کیا ۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ کا بچپن مسجد، مدرسہ، اور خانقاہی ماحول میں گزرا ۔ جہاں طرف نورانی و روحانی فضاء تھی، اور اس کے ساتھ مجدد وقت حضرت شاہ غلام علی نقشبندی مجددی علیہ الرحمہ کا قرب بھی حاصل تھا ۔ اس پر نور فضاء ماحول میں پروان چڑھے، اسی کا اثر تھا کہ پھر ساری زندگی لوگوں کواسی طرف بلاتے رہے، اور ان کے قلوب کو نور و اتقان کی دولت سے مالا مال کرتے رہے ۔

1297ھ، کو مکۃ المکرمہ سے ریاست رامپور آئے اور یہاں خاندان میں شادی ہوئی ۔ یہاں سے دہلی تشریف لے گئے، اور پھر وہاں مدینۃ المنورہ کا سفر شروع کیا ۔ وہاں کچھ عرصہ رہنے کے بعد دہلی لوٹ آئے، اور یہاں سلسلۂ رشد و ہدایت شروع کیا ۔ ہر سال 12 ربیع الاول کی شب کو گیارہ بارہ بجے کے درمیان محفل میلاد شریف منعقد کرتے اور خود وعظ کہتے،نہایت پر اثر وعظ ہوتا تھا،حاضرین کی آہ وبکا کی آواز سے مجلس نمونۂ حشر معلوم ہوتی تھی۔اس مجلس میں دور دور سے لوگ آپ کا وعظ سننے کے لیے آتے تھے۔ آپ نہایت عابد وزاہد تھے،نمازیں بہت خشوع وخضوع کے ساتھ پڑھتے تھے،جب کسی آیت کے فہم معنیٰ سے مکیف ہوتے تو رقت طاری ہوجاتی اور بے قرار ہوجاتے،مقتدیوں پر بھی اس کا اثر ہوتا اور سب زار وقطار رونے لگتے۔ مطالعہ کتب کا بھی غایت درجہ شوق تھا، ہزار ہانا یاب اور قلمی کتابیں آپ کے کتب خانہ میں تھیں ۔

ہندوستان (پاک و ہند) کے علاوہ افغانستان، شام، سرحد و بلوچستان وغیرہ میں آپ کا حلقۂ ارادت وسیع تھا ۔ ان علاقوں میں سلسلۂ عالیہ نقشبندیہ کی خوب ترویج ہوئی ۔ مفتیِ اعظم حضرت مولانا شاہ محمد مظہر اللہ دہلوی رحمۃ اللہ علیہ آپ کے خلیفہ تھے ۔

تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 69 سال کی عمرمیں شبِ جمعہ 29 جمادی الاخری 1341ھ، مطابق 16 فروری 1923ء کو ہوا ۔ دہلی میں مدفون ہوئے ۔

ماخذ و مراجع: نزہۃ الخواطر ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-shah-abdullah-abul-khair-dehlvi
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
28-06-1445 ᴴ | 11-01-2024 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
29-06-1445 ᴴ | 12-01-2024 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
29-06-1445 ᴴ | 12-01-2024 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
29-06-1445 ᴴ | 12-01-2024 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1