Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
حضرت سید دوست محمد اورنگ آبادی رحمتہ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: حضرت سید دوست محمد ۔ لقب: اورنگ آبادی ۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 996ھ / مطابق 1562ء کو ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
آپ نے دہلی میں تعلیم پائی، تحصیل علوم ظاہری سے فارغ ہوکر آپ تلاشِ حق میں نگر نگر، بستی بستی پھرنے لگے ۔ اپنی مراد حاصل کرنے کے لئے کوشاں رہے ۔ اسی تلاش میں آپ بنگال پہنچے اور ایک مدت تک بنگال میں قیام فرمایا، لیکن مقصد براری نہیں ہوئی ۔
بیعت و خلافت:
تلاش بسیار کے بعد حضرت سید میر ابو العلی رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں پہنچے اور ان سے بیعت ہوئے، اور اسی روز خرقہ خلافت و اجازت و شجرہ طریقت سے آپ کو ممتاز فرما دیا ۔
سیرت و خصائص:
شیخ الاولیاء، قدوۃ الصلحاء، شیخِ کامل، حضرت سید دوست محمد اورنگ آبادی رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ کثیر العبادت بزرگ تھے ۔ آپ نے حق کی تلاش میں ہندوستان کا قریہ قریہ گھوما یہاں تک کہ بنگال جا پہنچے ۔ ایک دن کا واقعہ ہے کہ آپ کی ایک اجنبی شخص سے ملاقات ہوئی ۔ اس شخص نے آپ کو بتایا کہ اکبر آباد (آگرہ) میں حضرت سید امیر ابو العلی رحمۃ اللہ علیہ ایک بلند پایہ بزرگ رشد و ہدایت میں مشغول ہیں، جو ان کے پاس جاتا ہے، رنگ جاتا ہے ۔
آگرہ میں آمد:
بنگال سے آگرہ روانہ ہوئے، آگرہ پہنچ کر ایک کوزہ مصری لیا، والہانہ انداز میں حضرت امیر ابو العلی رحمتۃ اللہ علیہ کی خانقاہ میں داخل ہوئے، آپ کی یہ خوش قسمتی تھی کہ آپ کو زیادہ انتظار نہ کرنا پڑا ۔ حضرت سید امیر ابو العلی رحمۃ اللہ علیہ ظہر کی نماز سے فارغ ہو کر مسجد کے صحن میں مع مریدین و معتقدین رونق افروز تھے ۔ آپ حضرت سیدنا کے قریب پہنچ کر قدم بوس ہوئے ۔ کوزہ مصری پیش کیا اور پھر ایک طرف بیٹھ گئے،حضرت سید ابو علی رحمۃ اللہ علیہ نے کوزہ مصری قبول فرمایا ۔ پھر آپ سے آپ کا نام و پتہ دریافت فرمایا، آپ نے عرض کیا: "دوست محمد میرا نام ہے،حضور کا شہرہ تاب فلک طشت ازبام ہے ۔ ملک بنگال سے آیا ہوں، مئے وحدت کا پیاسا ہوں"۔
حضرت سید صاحب یہ سن کر مسکرائے ۔ کوزہ مصری میں سے تھوڑا خود کھایا اور باقی حاضرین کو تقسیم کیا، پھر آپ کی طرف دیکھ کر فرمایا: "دوست محمد! تم نے ہمارا منہ میٹھا کیا، ہمیں تمہارا منہ میٹھا کرنا واجب ہے، آؤ! آگے آؤ ۔ مجھ سے نظر ملاؤ"۔نظر کا ملانا تھا کہ سید دوست محمد بے ہوش ہو گئے، اور حجابات سب دور ہو گئے ۔ اتنے میں عصر کی اذان ہوئی ۔ حاضرین نے آپ کو ہوشیار کرنا چاہا، حضرت سید نے منع کر دیا اور فرمایا: "نہیں نہیں، یوں ہی رہنے دو، اس وقت دوست محمد" لَا تَقۡرَبُوا الصَّلٰوةَ وَ اَنۡتُمۡ سُكٰرٰى کے مصداق ہیں" ۔ عشاء کی نماز کے وقت آپ ہوش میں آئے ۔ عصر و مغرب کی نماز جو آپ سے قضا ہو گئی تھی، وہ ادا کی ۔ عشاء کی نماز باجماعت پڑھی، اس رات مسجد ہی میں رہے ۔
آپ کے پیر و مرشد نے آپ کو برہان پور میں قیام کا حکم دیا ۔ آپ نے چند روز پیر و مرشد کی صحبت با برکت میں رہنے کی اجازت چاہی ۔ حضرت پیر صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے آپ کی درخواست منظور فرمائی ۔ ایک سال تک آپ اپنے پیر و مرشد کی خدمت میں رہے اور فیوض باطنی سے مستفید ہوتے رہے، ایک سال کے بعد آپ برہان پور تشریف لے گئے اور مسند رشد و ہدایت پر رونق افروز ہوکر لوگوں کو راہ حق دِکھلانے لگے ۔
آپ صاحب کمال، رفیع الحال، صاحب تخلیق و تصدیق بزرگ تھے ۔ جب آپ پر جذبۂ شوق غالب ہوتا، آپ جنگل میں نکل جاتے، آپ کے نعرہ کی آواز سے درندے اور پرندے جھومنے اور وجد کرنے لگتے ۔ اسی طرح آپ جب حالت ذوق و شوق میں جنگل میں نعرہ لگاتے تو آپ کے نعرے سے جنگل میں آگ لگ جاتی تھی ۔
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 26 جمادی الاخریٰ 1090ھ / مطابق اگست 1679ء کو ہوا ۔ آپ کا مزار شریف اورنگ آباد (اِنڈیا) میں مرجعِ خلائق ہے ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ اولیائے پاک و ہند ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-dost-muhammad-orang-abad
نام و نسب:
اسمِ گرامی: حضرت سید دوست محمد ۔ لقب: اورنگ آبادی ۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 996ھ / مطابق 1562ء کو ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
آپ نے دہلی میں تعلیم پائی، تحصیل علوم ظاہری سے فارغ ہوکر آپ تلاشِ حق میں نگر نگر، بستی بستی پھرنے لگے ۔ اپنی مراد حاصل کرنے کے لئے کوشاں رہے ۔ اسی تلاش میں آپ بنگال پہنچے اور ایک مدت تک بنگال میں قیام فرمایا، لیکن مقصد براری نہیں ہوئی ۔
بیعت و خلافت:
تلاش بسیار کے بعد حضرت سید میر ابو العلی رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں پہنچے اور ان سے بیعت ہوئے، اور اسی روز خرقہ خلافت و اجازت و شجرہ طریقت سے آپ کو ممتاز فرما دیا ۔
سیرت و خصائص:
شیخ الاولیاء، قدوۃ الصلحاء، شیخِ کامل، حضرت سید دوست محمد اورنگ آبادی رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ کثیر العبادت بزرگ تھے ۔ آپ نے حق کی تلاش میں ہندوستان کا قریہ قریہ گھوما یہاں تک کہ بنگال جا پہنچے ۔ ایک دن کا واقعہ ہے کہ آپ کی ایک اجنبی شخص سے ملاقات ہوئی ۔ اس شخص نے آپ کو بتایا کہ اکبر آباد (آگرہ) میں حضرت سید امیر ابو العلی رحمۃ اللہ علیہ ایک بلند پایہ بزرگ رشد و ہدایت میں مشغول ہیں، جو ان کے پاس جاتا ہے، رنگ جاتا ہے ۔
آگرہ میں آمد:
بنگال سے آگرہ روانہ ہوئے، آگرہ پہنچ کر ایک کوزہ مصری لیا، والہانہ انداز میں حضرت امیر ابو العلی رحمتۃ اللہ علیہ کی خانقاہ میں داخل ہوئے، آپ کی یہ خوش قسمتی تھی کہ آپ کو زیادہ انتظار نہ کرنا پڑا ۔ حضرت سید امیر ابو العلی رحمۃ اللہ علیہ ظہر کی نماز سے فارغ ہو کر مسجد کے صحن میں مع مریدین و معتقدین رونق افروز تھے ۔ آپ حضرت سیدنا کے قریب پہنچ کر قدم بوس ہوئے ۔ کوزہ مصری پیش کیا اور پھر ایک طرف بیٹھ گئے،حضرت سید ابو علی رحمۃ اللہ علیہ نے کوزہ مصری قبول فرمایا ۔ پھر آپ سے آپ کا نام و پتہ دریافت فرمایا، آپ نے عرض کیا: "دوست محمد میرا نام ہے،حضور کا شہرہ تاب فلک طشت ازبام ہے ۔ ملک بنگال سے آیا ہوں، مئے وحدت کا پیاسا ہوں"۔
حضرت سید صاحب یہ سن کر مسکرائے ۔ کوزہ مصری میں سے تھوڑا خود کھایا اور باقی حاضرین کو تقسیم کیا، پھر آپ کی طرف دیکھ کر فرمایا: "دوست محمد! تم نے ہمارا منہ میٹھا کیا، ہمیں تمہارا منہ میٹھا کرنا واجب ہے، آؤ! آگے آؤ ۔ مجھ سے نظر ملاؤ"۔نظر کا ملانا تھا کہ سید دوست محمد بے ہوش ہو گئے، اور حجابات سب دور ہو گئے ۔ اتنے میں عصر کی اذان ہوئی ۔ حاضرین نے آپ کو ہوشیار کرنا چاہا، حضرت سید نے منع کر دیا اور فرمایا: "نہیں نہیں، یوں ہی رہنے دو، اس وقت دوست محمد" لَا تَقۡرَبُوا الصَّلٰوةَ وَ اَنۡتُمۡ سُكٰرٰى کے مصداق ہیں" ۔ عشاء کی نماز کے وقت آپ ہوش میں آئے ۔ عصر و مغرب کی نماز جو آپ سے قضا ہو گئی تھی، وہ ادا کی ۔ عشاء کی نماز باجماعت پڑھی، اس رات مسجد ہی میں رہے ۔
آپ کے پیر و مرشد نے آپ کو برہان پور میں قیام کا حکم دیا ۔ آپ نے چند روز پیر و مرشد کی صحبت با برکت میں رہنے کی اجازت چاہی ۔ حضرت پیر صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے آپ کی درخواست منظور فرمائی ۔ ایک سال تک آپ اپنے پیر و مرشد کی خدمت میں رہے اور فیوض باطنی سے مستفید ہوتے رہے، ایک سال کے بعد آپ برہان پور تشریف لے گئے اور مسند رشد و ہدایت پر رونق افروز ہوکر لوگوں کو راہ حق دِکھلانے لگے ۔
آپ صاحب کمال، رفیع الحال، صاحب تخلیق و تصدیق بزرگ تھے ۔ جب آپ پر جذبۂ شوق غالب ہوتا، آپ جنگل میں نکل جاتے، آپ کے نعرہ کی آواز سے درندے اور پرندے جھومنے اور وجد کرنے لگتے ۔ اسی طرح آپ جب حالت ذوق و شوق میں جنگل میں نعرہ لگاتے تو آپ کے نعرے سے جنگل میں آگ لگ جاتی تھی ۔
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 26 جمادی الاخریٰ 1090ھ / مطابق اگست 1679ء کو ہوا ۔ آپ کا مزار شریف اورنگ آباد (اِنڈیا) میں مرجعِ خلائق ہے ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ اولیائے پاک و ہند ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-dost-muhammad-orang-abad
❤1
حضرت شیخ عبد الواحد تمیمی رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسم گرامی: آپ کا نام نامی و اسم گرامی عبد الواحد تمیمی ہے ۔ کنیت: ابو الفضل ہے ۔ لقب: تمیمی ۔ والد کا اسمِ گرامی: آپ فرزند دلبند حضرت شیخ عبد العزیز تمیمی بن حارث بن اسد رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے ہیں ۔
تمیمی کی وجہ تسمیہ:
آپ کے تمیمی ہونے کی وجہ یہ ہے کہ عرب میں بنی تمیم ایک قبیلہ ہے اور آپ اسی قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں اسی سبب سے آپ کو تمیمی کہا جانے لگا اور اسی سے آپ مشہور ہوئے ۔
تاریخِ ولادت:
تاریخِ ولادت کی کوئی صراحت نہ مل سکی ۔
بیعت و خلافت:
آپ کے شیخ طریقت حضرت ابو بکر شبلی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں جن کے فیض صحبت میں آپ نے راہ سلوک کی منزلیں طے فرمائی اور خلافت سے سرفراز ہوئے ۔ قلائد الجواہر اور فتح المبین وغیرہ کتابوں میں یہی ہے کہ آپ نے حضرت شیخ ابو بکر شبلی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے خرقہ زیب تن فرمایا مگر ایک قول یہ ہے کہ آپ نے بیعت و خلافت اپنے والد ماجد ہی سے حاصل فرمایا چنانچہ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی، 1176ھ فرماتے ہیں: کہ حضرت ابو الفضل عبد الواحد نے خرقہ پہنا اپنے والد ماجد حضرت شیخ عبد العزیز بن حارث تمیمی سے انہوں نے خرقہ پہنا شیخ ابو بکر شبلی رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے اور یہی ترتیب اکثر شجرات عالیہ قادریہ میں بھی پائی جاتی ہے ۔ کہ آپ مرید و خلیفہ اپنے والد بزرگوار کے تھے اور بعد وفات پدر بزرگوار حضرت شیخ ابو بکر شبلی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف (جو آپ کے والد ماجد کے شیخ طریقت تھے) رجوع فرمایا اور ان کی مسند خلافت کو رونق بخشی اور آپ کے والد ماجد کا وصال 332ھ میں اپنے شیخ طریقت کی حیات ہی میں ہو گیا تھا ۔ (تذکرہ مشائخِ قادریہ رضویہ، ص:212) ـ
سیرت و خصائص:
خادم شریعت، مالک طریقت، واقف حقیقت امام اہل سنت حضرت شیخ ابو الفضل عبد الواحد تمیمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ سلسلۂ عالیہ قادریہ رضویہ کے تیرہویں امام و شیخ طریقت ہیں ۔
آپ اپنے زمانے کے ممتاز ترین مشائخ سے تھے آپ کو بیعت طریقت حضرت شیخ ابو بکر شبلی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حاصل ہے اور آپ کے والد ماجد شیخ عبد العزیز رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بھی انہیں سے حاصل ہے ۔ اور آپ کے مرشد طریقت و آقائے نعمت حضرت ابو القاسم نصیر آبادی کو بھی بیعت طریقت حضرت شیخ ابو بکر شبلی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہی سے حاصل تھی ۔
آپ ائمۂ اربعہ میں سے حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مقلد تھے ۔ آپ سے بے شمار خلقت نے راہ ہدایت پائی حرمین شریفین کے کئی دورے کئے اور بلاد عرب و عجم کی اکثر سیاحت کی ۔
عادات و صفات:
آپ کے عادات و صفات حضرت شیخ ابو بکر شبلی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عادات و صفات کے مطابق تھے، عبادت و ریاضت و تقویٰ و طہارت میں یگانۂ روزگار تھے ۔ شریعت مطہرہ کی سعی بلیغ فرمائی اور سنت نبوی ﷺ کی محافظت ہر آن و ہر لمحہ فرماتے تھے ۔
مسند رشد و ہدایت:
آپ نے مرشد کامل و پیر طریقت کے وصال کے بعد تقریباً نوے سال تک مسند رشد و ہدایت پر فائز رہے، اور اس درمیان میں اپنے پیر طریقت کے سلسلے کو کافی فروغ بخشاو اور خلق کثیر کو ہدایت ظاہری و باطنی سے مرصع فرما کر علم الہٰی کا مستحق بنایا اور مجاہدین اسلام کی ایک عظیم فوج کو تیار کر کے ان کو رشد و ہدایت کا مبلغ و محافظ بنایا ۔ آپ نے شریعت و طریقت کی ترویج میں نمایاں کردار پیش کیا ۔
تاریخ وصال:
آپ کا وصال 26 جمادی الآخر بروز جمعہ 425ھ / مطابق 16 مئی 1034ء میں ہوا ۔ اس وقت القائم بامر اللہ خلیفہ عباسی کا دور خلافت تھا ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرۂ مشائخ قادریہ رضویہ ۔
؎ بہرِ شبلی شیرِحق دنیاکےکتوں سےبچا
ایک کارکھ عبدِ واحدبےریاکےواسطے
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syedna-sheikh-abdul-wahid-tamimi
نام و نسب:
اسم گرامی: آپ کا نام نامی و اسم گرامی عبد الواحد تمیمی ہے ۔ کنیت: ابو الفضل ہے ۔ لقب: تمیمی ۔ والد کا اسمِ گرامی: آپ فرزند دلبند حضرت شیخ عبد العزیز تمیمی بن حارث بن اسد رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے ہیں ۔
تمیمی کی وجہ تسمیہ:
آپ کے تمیمی ہونے کی وجہ یہ ہے کہ عرب میں بنی تمیم ایک قبیلہ ہے اور آپ اسی قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں اسی سبب سے آپ کو تمیمی کہا جانے لگا اور اسی سے آپ مشہور ہوئے ۔
تاریخِ ولادت:
تاریخِ ولادت کی کوئی صراحت نہ مل سکی ۔
بیعت و خلافت:
آپ کے شیخ طریقت حضرت ابو بکر شبلی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں جن کے فیض صحبت میں آپ نے راہ سلوک کی منزلیں طے فرمائی اور خلافت سے سرفراز ہوئے ۔ قلائد الجواہر اور فتح المبین وغیرہ کتابوں میں یہی ہے کہ آپ نے حضرت شیخ ابو بکر شبلی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے خرقہ زیب تن فرمایا مگر ایک قول یہ ہے کہ آپ نے بیعت و خلافت اپنے والد ماجد ہی سے حاصل فرمایا چنانچہ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی، 1176ھ فرماتے ہیں: کہ حضرت ابو الفضل عبد الواحد نے خرقہ پہنا اپنے والد ماجد حضرت شیخ عبد العزیز بن حارث تمیمی سے انہوں نے خرقہ پہنا شیخ ابو بکر شبلی رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے اور یہی ترتیب اکثر شجرات عالیہ قادریہ میں بھی پائی جاتی ہے ۔ کہ آپ مرید و خلیفہ اپنے والد بزرگوار کے تھے اور بعد وفات پدر بزرگوار حضرت شیخ ابو بکر شبلی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف (جو آپ کے والد ماجد کے شیخ طریقت تھے) رجوع فرمایا اور ان کی مسند خلافت کو رونق بخشی اور آپ کے والد ماجد کا وصال 332ھ میں اپنے شیخ طریقت کی حیات ہی میں ہو گیا تھا ۔ (تذکرہ مشائخِ قادریہ رضویہ، ص:212) ـ
سیرت و خصائص:
خادم شریعت، مالک طریقت، واقف حقیقت امام اہل سنت حضرت شیخ ابو الفضل عبد الواحد تمیمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ سلسلۂ عالیہ قادریہ رضویہ کے تیرہویں امام و شیخ طریقت ہیں ۔
آپ اپنے زمانے کے ممتاز ترین مشائخ سے تھے آپ کو بیعت طریقت حضرت شیخ ابو بکر شبلی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حاصل ہے اور آپ کے والد ماجد شیخ عبد العزیز رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بھی انہیں سے حاصل ہے ۔ اور آپ کے مرشد طریقت و آقائے نعمت حضرت ابو القاسم نصیر آبادی کو بھی بیعت طریقت حضرت شیخ ابو بکر شبلی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہی سے حاصل تھی ۔
آپ ائمۂ اربعہ میں سے حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مقلد تھے ۔ آپ سے بے شمار خلقت نے راہ ہدایت پائی حرمین شریفین کے کئی دورے کئے اور بلاد عرب و عجم کی اکثر سیاحت کی ۔
عادات و صفات:
آپ کے عادات و صفات حضرت شیخ ابو بکر شبلی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عادات و صفات کے مطابق تھے، عبادت و ریاضت و تقویٰ و طہارت میں یگانۂ روزگار تھے ۔ شریعت مطہرہ کی سعی بلیغ فرمائی اور سنت نبوی ﷺ کی محافظت ہر آن و ہر لمحہ فرماتے تھے ۔
مسند رشد و ہدایت:
آپ نے مرشد کامل و پیر طریقت کے وصال کے بعد تقریباً نوے سال تک مسند رشد و ہدایت پر فائز رہے، اور اس درمیان میں اپنے پیر طریقت کے سلسلے کو کافی فروغ بخشاو اور خلق کثیر کو ہدایت ظاہری و باطنی سے مرصع فرما کر علم الہٰی کا مستحق بنایا اور مجاہدین اسلام کی ایک عظیم فوج کو تیار کر کے ان کو رشد و ہدایت کا مبلغ و محافظ بنایا ۔ آپ نے شریعت و طریقت کی ترویج میں نمایاں کردار پیش کیا ۔
تاریخ وصال:
آپ کا وصال 26 جمادی الآخر بروز جمعہ 425ھ / مطابق 16 مئی 1034ء میں ہوا ۔ اس وقت القائم بامر اللہ خلیفہ عباسی کا دور خلافت تھا ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرۂ مشائخ قادریہ رضویہ ۔
؎ بہرِ شبلی شیرِحق دنیاکےکتوں سےبچا
ایک کارکھ عبدِ واحدبےریاکےواسطے
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syedna-sheikh-abdul-wahid-tamimi
❤1
حضرت شاہ برکت اللّٰه مارہروی رحمۃ اللّٰه علیہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: سید برکت اللّٰه ۔ القاب: صاحب البرکات، سلطان العاشقین ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت شاہ برکت اللہ مارہروی بن سید اویس بن سید عبد الجلیل بن سید عبد الواحد بلگرامی بن سید ابراہیم بن سید قطب الدین ۔ الیٰ آخرہ ۔ رحمۃ اللہ عنہم اجمعین ۔
آپ کا سلسلہ نسب چند واسطوں سے حضرت امام زین العابدین رضی اللہ عنہ تک پہنچتا ہے ۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 26 جمادی الثانی 1070ھ / مطابق مارچ 1660ء کو بلگرام (اِنڈِیا) میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
حضرت سید شاہ برکت اللہ رحمۃ اللہ علیہ ایک علمی گھرانے میں پیدا ہوئے ۔ اپنے والد حضرت سید شاہ اویس رضی اللہ عنہ کی نگرانی میں تفسیر، حدیث، اور علم الحدیث، فقہ اور اصول الفقہ جیسے علوم سیکھے، اور وقت کے جید علماء میں شمار ہونے لگے ۔
بیعت و خلافت:
آپ کے والد ِماجد نے جملہ سلاسل کی اجازت و خلافت مرحمت فرما کر سلاسل خمسہ ۔ قادِریہ، چشتیہ، نقشبندیہ، سہروردیہ، مداریہ میں بیعت لینے کی بھی اجازت عطا فرمائی ۔ پھر حضرت شاہ فضل اللہ کالپوی رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور خلافت سے سرفراز کیے گئے ۔
سیرت و خصائص:
سلطان العاشقین، برہان الواصلین، حجۃ الکاملین، دلیل المتوکلین، رئیس الاتقیاء، شیخ الاصفیاء، جامع السلاسل صاحب البرکات حضرت شاہ برکت اللّٰه مارہروی رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ کی ذات بالخصوص پاک و ہند میں محتاجِ تعارف نہیں ۔ آپ سلسلۂ عالیہ قادریہ کے تینتیسویں امام اور شیخِ کامل تھے ۔ آپ کی ذات ستودہ صفات شریعت و طریقت و حقیقت کا مجمع البحرین تھی ۔ یہ حقیقت ہے کہ آپ تمام سلاسلِ طریقت کے جامع تھے، اور تمام میں اجازت و خلافت، اوراد و وظائف کی مکمل اجازت حاصل تھی ۔
جب آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے نور العارفین حضرت سید شاہ فضل اللہ کالپوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے علم و حکمت و سلوک و معرفت کا شہرہ سنا تو کالپی شریف جانے کا رخت سفر باندھا ۔ کالپی شریف اس وقت علم و حکمت و تہذیب و تمدنِ اسلامی کا قبلہ تھا ۔ آپ سفر کی صعوبتیں اُٹھا کر نُور العارفین حضرت سید شاہ فضل اللہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی بارگا عالی وقار میں پہنچے تو انہوں نے تین بار فرمایا: ” دریا بدریا پیوست “ یعنی دریا دریا میں مل گیا ۔
صرف اسی کلمے ہی سے حضرت سید میر شاہ فضل اللہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے سید شاہ برکت اللہ مارہروی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو سلوک و تصوف اور دیگر بہت سے مقامات کی سیر کرادی۔ پانچوں سلاسلِ طریقت کی اجازت ہونے کے باوجود حضور غوث الاعظم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے عقیدت کی بنا پر سلسلہ عالیہ قادِریہ میں بیعت فرماتے ۔
آپ نے 26 سال تک روزہ رکھا وہ سارا دن روزہ رکھتے اور افطار کے وقت صرف ایک کھجور کھاتے ۔ راتوں کو جاگ کر اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ۔ آپ فجر کی نماز کے بعد سے لے کر نمازِ اشراق تک وظائف میں مشغول رہتے ۔ نمازِ چاشت کے وقت مدرسہ جایا کرتے اور وہاں موجود طلباء اور عقیدت مندوں کو علم سے سیراب فرماتے ۔ آپ کا ایک معمول یہ بھی تھا کہ نمازِ ظہر کے بعد قرآن پاک کی تلاوت کا آغاز کرتے اور عصر کی اذان سن کر تلاوت روک دیتے ۔ عصر سے مغرب کے دوران سالکین طریقت کی روحانی پیاس بجھاتے، اور ان کی مشکلات کو حل فرماتے ۔
وصال:
آپ کا وصال 10 محرم الحرام 1142ھ / مطابق اگست 1729ء کو ہوا ۔ آپ کا مزار مارہرہ مطہرہ میں مرجعِ خلائق ہے ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/gotodate?bd=1&day=26&month=06&year=
نام و نسب:
اسمِ گرامی: سید برکت اللّٰه ۔ القاب: صاحب البرکات، سلطان العاشقین ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت شاہ برکت اللہ مارہروی بن سید اویس بن سید عبد الجلیل بن سید عبد الواحد بلگرامی بن سید ابراہیم بن سید قطب الدین ۔ الیٰ آخرہ ۔ رحمۃ اللہ عنہم اجمعین ۔
آپ کا سلسلہ نسب چند واسطوں سے حضرت امام زین العابدین رضی اللہ عنہ تک پہنچتا ہے ۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 26 جمادی الثانی 1070ھ / مطابق مارچ 1660ء کو بلگرام (اِنڈِیا) میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
حضرت سید شاہ برکت اللہ رحمۃ اللہ علیہ ایک علمی گھرانے میں پیدا ہوئے ۔ اپنے والد حضرت سید شاہ اویس رضی اللہ عنہ کی نگرانی میں تفسیر، حدیث، اور علم الحدیث، فقہ اور اصول الفقہ جیسے علوم سیکھے، اور وقت کے جید علماء میں شمار ہونے لگے ۔
بیعت و خلافت:
آپ کے والد ِماجد نے جملہ سلاسل کی اجازت و خلافت مرحمت فرما کر سلاسل خمسہ ۔ قادِریہ، چشتیہ، نقشبندیہ، سہروردیہ، مداریہ میں بیعت لینے کی بھی اجازت عطا فرمائی ۔ پھر حضرت شاہ فضل اللہ کالپوی رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور خلافت سے سرفراز کیے گئے ۔
سیرت و خصائص:
سلطان العاشقین، برہان الواصلین، حجۃ الکاملین، دلیل المتوکلین، رئیس الاتقیاء، شیخ الاصفیاء، جامع السلاسل صاحب البرکات حضرت شاہ برکت اللّٰه مارہروی رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ کی ذات بالخصوص پاک و ہند میں محتاجِ تعارف نہیں ۔ آپ سلسلۂ عالیہ قادریہ کے تینتیسویں امام اور شیخِ کامل تھے ۔ آپ کی ذات ستودہ صفات شریعت و طریقت و حقیقت کا مجمع البحرین تھی ۔ یہ حقیقت ہے کہ آپ تمام سلاسلِ طریقت کے جامع تھے، اور تمام میں اجازت و خلافت، اوراد و وظائف کی مکمل اجازت حاصل تھی ۔
جب آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے نور العارفین حضرت سید شاہ فضل اللہ کالپوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے علم و حکمت و سلوک و معرفت کا شہرہ سنا تو کالپی شریف جانے کا رخت سفر باندھا ۔ کالپی شریف اس وقت علم و حکمت و تہذیب و تمدنِ اسلامی کا قبلہ تھا ۔ آپ سفر کی صعوبتیں اُٹھا کر نُور العارفین حضرت سید شاہ فضل اللہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی بارگا عالی وقار میں پہنچے تو انہوں نے تین بار فرمایا: ” دریا بدریا پیوست “ یعنی دریا دریا میں مل گیا ۔
صرف اسی کلمے ہی سے حضرت سید میر شاہ فضل اللہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے سید شاہ برکت اللہ مارہروی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو سلوک و تصوف اور دیگر بہت سے مقامات کی سیر کرادی۔ پانچوں سلاسلِ طریقت کی اجازت ہونے کے باوجود حضور غوث الاعظم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے عقیدت کی بنا پر سلسلہ عالیہ قادِریہ میں بیعت فرماتے ۔
آپ نے 26 سال تک روزہ رکھا وہ سارا دن روزہ رکھتے اور افطار کے وقت صرف ایک کھجور کھاتے ۔ راتوں کو جاگ کر اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ۔ آپ فجر کی نماز کے بعد سے لے کر نمازِ اشراق تک وظائف میں مشغول رہتے ۔ نمازِ چاشت کے وقت مدرسہ جایا کرتے اور وہاں موجود طلباء اور عقیدت مندوں کو علم سے سیراب فرماتے ۔ آپ کا ایک معمول یہ بھی تھا کہ نمازِ ظہر کے بعد قرآن پاک کی تلاوت کا آغاز کرتے اور عصر کی اذان سن کر تلاوت روک دیتے ۔ عصر سے مغرب کے دوران سالکین طریقت کی روحانی پیاس بجھاتے، اور ان کی مشکلات کو حل فرماتے ۔
وصال:
آپ کا وصال 10 محرم الحرام 1142ھ / مطابق اگست 1729ء کو ہوا ۔ آپ کا مزار مارہرہ مطہرہ میں مرجعِ خلائق ہے ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/gotodate?bd=1&day=26&month=06&year=
scholars.pk
Search by Date
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
25-06-1445 ᴴ | 08-01-2024 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
26-06-1445 ᴴ | 09-01-2024 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1