🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.85K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
📖 *فیضان خلاصہ تراویح*📖

✍🏻 *ابو بنتین محمد فراز عطاری مدنی*

🌐 *پارہ 17، اِقْتَرَبَ لِلنَّاسِ*

*سورہ انبیاء*

سورۂ انبیاء مکہ مکرمہ میں  نازل ہوئی ہے۔اس میں7 رکوع اور 112 آیتیں ہیں۔ 
*وجہ*
اس سورت میں  بکثرت انبیاء علیھم السلام کاذکر ہے مثلاً حضرت موسیٰ،حضرت عیسیٰ ،حضرت ہارون ، حضرت لوط، حضرت ابراہیم  علیھم السلام اور بالخصوص سرکارِ دو عالَم  صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر ہے، اسی وجہ سے اس سورت کانام سُوْرَۃُ الْاَنْبِیَاء ہے۔ 

📝 اس سورت کا مرکزی مضمون یہ ہے کہ اس میں اسلام کے بنیادی عقائد جیسے توحید،نبوت و رسالت،قیامت کے دن دوبارہ زندہ کئے جانے اور اعمال کی جزاء و سزا ملنے کو دلائل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے،
ابتدائی آیات میں دنیا کی زندگی کے زوال کا منظر پیش کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ قیامت کا وقوع اور حساب کا وقت قریب آگیا ہے، لیکن لوگ اس ہولناک دن سے غافل ہیں، اگلی آیتوں میں بتایا گیا ہے کہ اللہ پاک نے آپ صلی اللہ علیہ و سلم سے پہلے بھی کسی انسان کو ہمیشگی نہیں دی، ہوا یہ کہ مشرکینِ مکہ یہ کہا کرتے تھے کہ جب آقا صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے رخصت ہوجائیں گے، تو یہ سب کچھ ختم ہو جائے گا اور اسلام کی دعوت بھی ختم ہو جائے گی، اللہ پاک نے انہیں تنبیہ کر تے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ظاہری وفات سے متصف ہونا ہے تو تم بھی زیادہ عرصہ نہیں رہو گے اور دنیا میں اس سے پہلے بھی کوئی ہمیشہ نہیں رہا، اگرچہ انبیاء کرام کو ایک آن کے لیے وفات آتی ہے پھر دوبارہ ان کی زندگی مثلِ سابق ہوتی ہے اور جہاں تک اللہ پاک کے دین کا تعلق ہے تو اللہ ہی غالب حکمت والا ہے وہی اپنے بندوں کے ذریعے اپنے دین کی بات کو عام فرما دے گا اور نہ وہ محتاج ہے ، جس طرح چاہے اپنے دین کو غالب کر سکتا ہے۔

🌍 اگلی آیت میں بتایا گیا کہ آسمان و زمین کے نظام کا بہترین اور معتدل ہونا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ کائنات کو چلانے والا وحدہ لا شریک ہے۔ اگر اس نظام کو چلانے والی ایک سے زیادہ بااختیار شخصیات ہوتیں تو دنیا کا نظام درہم برہم ہو کر رہ جاتا۔

☀️ آیت 30 سے اللہ پاک نےتخلیقِ کائنات کے سلسلے کو بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ آسمان و زمین بند تھے،نہ بارش برستی تھی نہ نباتات پیدا ہو رہے تھے، اللہ پاک نے ان کو کھول دیا ان میں پانی اترا اور فرمایا کہ ہم نے ہر جاندار چیز پانی سے بنائی ہے، زمین میں توازن قائم رکھنے کے لیے اونچے اونچے پہاڑ بنائے، ان کے درمیان کشادہ راستے بنائے اور آسمان کو بغیر ستونوں کے محفوظ چھت بنا دیا رات، دن، سورج اور چاند کو پیدا فرمایا، ہر ایک اپنے اپنے دائرے کے اندر گھوم رہا ہے۔

🛑 آیت 35 کے اندر قانونِ قدرت بیان کیا گیا کہ ہر نفس کو موت کا مزہ چکھنا ہے، پھر آگے چل کر بتایا گیا کہ قیامت اچانک آئے گی، حیرت زدہ کردے گی، نہ کوئی اس کو رد کر سکے گا اور نہ کسی کو مہلت ملے گی۔

💡پھر اس کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام کی جوانی کے واقعات کی طرف اشارہ ہے کہ ان کی قوم بت پرستی کرتی تھی، ہر سال ان کے یہاں ایک میلہ لگتا تھا جس کے لیے وہ شہر سے باہر جاتے تھے اور اپنے بتوں کے سامنے چڑھاوے چڑھایا کرتے تھے، ابراہیم علیہ السلام نے ان بتوں کو کلہاڑے سے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور جب کافر قوم لوٹ کر واپس آئی اور اپنے باطل معبودوں کی حالت دیکھی تو ابراہیم علیہ السلام کو بلا کر پوچھنے لگے کہ ان کی یہ حالت کس نے کی ہے ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا کہ تم سمجھتے ہو کہ بت کچھ کرسکتے ہیں اور بولتے بھی ہیں اور ان کو قدرت بھی حاصل ہے تو تم خود پوچھ لو ، آپ علیہ السلام نے بڑے بت کے کندھے پر کلہاڑا رکھ دیا تھا اور کافروں سے کہا کہ اس بڑے والے سے پوچھ لو ، اس کو تو معلوم ہوگا تو وہ بے اختیار پکار اٹھے کہ یہ پتھر کے بت بول ہی نہیں سکتے، ابراہیم علیہ السلام کہنے لگے کہ افسوس ہے کہ ایسے بےاختیار معبودوں کی تم عبادت کرتے ہوجو بول نہیں سکتے، وہ لاجواب ہوگئے، انتہائی نادم اور شرمندہ ہوئے لیکن غصے میں ایسے بھڑک پڑے کہ ابراہیم علیہ السلام کو انھوں نے جلانے کا ارادہ کر لیا، اور اس کے لیے انھوں نے لکڑیاں جمع کیں اور بہت بڑا کھڈا کھدوادیا اور اس میں ابراہیم علیہ السلام کو ڈالنے کا ارادہ کیا اور ابراہیم علیہ السلام نے دعا مانگی" مجھے اللہ کافی ہے اور وہ کیا ہی بہترین کارساز ہے" ، ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈالا گیا تو اللہ پاک نے آگ کو حکم دیا کہ اے آگ ابراہیم علیہ السلام پر ٹھنڈی اور سلامتی والی ہوجا۔چناچہ آگ کی گرمی زائل ہوگئی اور روشنی باقی رہی اور آگ نے آپ کو نقصان نہ پہنچایا۔

🌿آیت نمبر 78 سے داؤد علیہ السلام اور سلیمان علیہ السلام کے ایک واقعے کا ذکر ہے۔
رات کے وقت کچھ لوگوں کی بکریاں کھیتی میں چھوٹ گئیں ، ان کے ساتھ کوئی چَرانے والا نہ تھا اور وہ کھیتی کھا گئیں تو یہ مقدمہ حضرت داؤد علیہ السلام  کے سامنے پیش ہوا، آپ علیہ السلام نے تجویز کی کہ بکریاں کھیتی وال
ے کو دے دی جائیں کیونکہ بکریوں کی قیمت کھیتی کے نقصان کے برابر ہے اور ہم ان کے فیصلے کا مشاہدہ کر رہے تھے اور ہم نے وہ معاملہ حضرت سلیمان علیہ السلام کو سمجھا دیا ۔جب یہ معاملہ حضرت سلیمان علیہ السلام   کے سامنے پیش ہوا تو آپ نے فرمایا کہ فریقین کے لئے اس سے زیادہ آسانی کی شکل بھی ہو سکتی ہے۔ اس وقت حضرت سلیمان علیہ السلام کی عمر شریف گیارہ سال کی تھی ۔ حضرت داؤد علیہ السلام نے آپ سے فرمایا کہ وہ صورت بیا ن کریں ، چنانچہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے یہ تجویز پیش کی کہ بکری والا کاشت کرے اور جب تک کھیتی اس حالت کو پہنچے جس حالت میں بکریوں نے کھائی ہے اس وقت تک کھیتی والا بکریوں کے دودھ وغیرہ سے نفع اٹھائے اور کھیتی اس حالت پر پہنچ جانے کے بعد کھیتی والے کو کھیتی دے دی جائے ، بکری والے کو اس کی بکریاں واپس کر دی جائیں۔ یہ تجویز حضرت داؤد علیہ السلام  نے پسند فرمائی۔   
 یاد رہے کہ اس معاملہ میں یہ دونوں حکم اجتہادی تھے اور ان کی شریعت کے مطابق تھے ۔ ہماری شریعت میں حکم یہ ہے کہ اگر چَرانے والا ساتھ نہ ہو تو جانور جو نقصانات کرے اس کا ضمان لازم نہیں۔

🌄 اس کے بعد سلیمان علیہ السلام پر کیے جانے والے انعامات کا ذکر ہے، پہاڑوں کا ان کے تابع ہوجانا، پہاڑوں اور پرندوں کا ان کے ساتھ تسبیح کرنا، اللہ پاک نے ہوا کو سلیمان علیہ السلام کے تابع کردیا تھا جو ان کے حکم سے تخت کو ایک ماہ کی مسافت تک اڑا کر لے جاتی تھی اور جنات کو ان کے تابع کردیا کہ وہ سلیمان علیہ السلام کے حکم سے سمندروں میں غوطہ زن ہوجاتے اور دیگر معاملات بھی انجام دیا کرتے تھے۔

🚨 اللہ پاک نے آپ کو ہر طرح کی نعمتیں عطا فرمائی تھیں، صورت کا حسن بھی، اولاد کی کثرت اور مال کی وسعت بھی عطا ہوئی تھی۔اللہ پاک نے آپ علیہ السلام کوآزمائش میں  مبتلا کیا، چنانچہ آ پ کی اولاد مکان گرنے سے دب کر مر گئی، تمام جانور جس میں  ہزارہا اونٹ اور ہزارہا بکریاں  تھیں  ،سب مر گئے ۔ تمام کھیتیاں  اور باغات برباد ہو گئے حتّٰی کہ کچھ بھی باقی نہ رہا، اور جب آپ  علیہ السلام  کو ان چیزوں  کے ہلاک اور ضائع ہونے کی خبر دی جاتی تھی تو آپ علیہ السلام اللہ پاک کی حمد بجا لاتے اور فرماتے تھے’’ میرا کیا ہے! جس کا تھا اس نے لیا، جب تک ا س نے مجھے دے رکھا تھا میرے پاس تھا، جب ا س نے چاہا لے لیا۔ اس کا شکر ادا ہو ہی نہیں  ہو سکتا اور میں  اس کی مرضی پر راضی ہوں ۔ اس کے بعد آپ  علیہ السلام بیمار ہوگئے ، تمام جسم شریف میں  آبلے پڑگئے اور بدن مبارک سب کا سب زخموں  سے بھر گیا ۔اس حال میں  سب لوگوں  نے چھوڑ دیا البتہ آپ کی زوجہ محترمہ رحمت بنتِ افرائیم نے نہ چھوڑا اور وہ آپ کی خدمت کرتی رہیں۔آپ علیہ السلام کی یہ حالت سالہا سال رہی ، آخر کار کوئی ایسا سبب پیش آیا کہ آپ نے بارگاہِ الٰہی میں  دعا کی :اے میرے رب! ، بیشک مجھے تکلیف پہنچی ہے اور تو سب رحم کرنے والوں  سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے۔  
حضرت ایوب علیہ السلام کی بیماری کے بارے میں  علامہ عبد المصطفٰی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ’’ عام طور پر لوگوں  میں  مشہور ہے کہ مَعَاذَ اللہ آپ کو کوڑھ کی بیماری ہو گئی تھی۔ چنانچہ بعض غیر معتبر کتابوں  میں  آپ کے کوڑھ کے بارے میں  بہت سی غیر معتبر داستانیں  بھی تحریر ہیں ، مگر یاد رکھو کہ یہ سب باتیں  سرتا پا بالکل غلط ہیں اور ہر گز ہرگز آپ یا کوئی نبی بھی کبھی کوڑھ اور جذام کی بیماری میں  مبتلا نہیں  ہوا، اس لئے کہ یہ مسئلہ مُتَّفَق علیہ ہے کہ اَنبیاء علیھم السلام کا تمام اُن بیماریوں  سے محفوظ رہنا ضروری ہے جو عوام کے نزدیک باعث ِنفرت و حقارت ہیں ۔ کیونکہ انبیاء علیھم السلام کا یہ فرضِ منصبی ہے کہ وہ تبلیغ و ہدایت کرتے رہیں  تو ظاہر ہے کہ جب عوام ان کی بیماریوں  سے نفرت کر کے ان سے دور بھاگیں  گے تو بھلا تبلیغ کا فریضہ کیونکر ادا ہو سکے گا؟ الغرض حضرت ایوب علیہ السلام ہرگز کبھی کوڑھ اور جذام کی بیماری میں  مبتلا نہیں  ہوئے بلکہ آپ کے بدن پر کچھ آبلے اور پھوڑے پھنسیاں  نکل آئی تھیں  جن سے آپ برسوں  تکلیف اور مشقت جھیلتے رہے اور برابر صابر و شاکر رہے۔یونہی بعض کتابوں  میں  جو یہ واقعہ مذکور ہے کہ بیماری کے دوران حضرت ایوب علیہ السلام  کے جسم مبارک میں  کیڑے پیدا ہو گئے تھے جو آپ کا جسم شریف کھاتے تھے، یہ بھی درست نہیں  کیونکہ ظاہری جسم میں  کیڑوں  کا پیدا ہونا بھی عوام کے لئے نفرت و حقارت کا باعث ہے اور لوگ ایسی چیز سے گھن کھاتے ہیں ۔

🌹پھر حضرت اسماعیل، ادریس، ذوالکفل اور یونس علیہم السلام کا تذکرہ ہے

🌼 آیت 94میں یہ بشارت دی گئی ہے کہ کہ جو کوئی ایمان اور اخلاص کے ساتھ نیک کام کرے گا اس کو بھرپور اجر ملے گا اور ہر نیکی محفوظ کی جارہی ہے، البتہ جن بد نصیبوں نے غفلت کی زندگی بسر کی انھوں نے اپنی زندگی کو برباد کر دیا، ان کو دوبارہ دنیا میں آنے اور سابقہ گناہوں کی تلافی کا موقع ہر گز نہیں ملے گا، جو کرنا ہے دنیا
میں کرنا ہے، ہر انسان کو دنیا میں ایک ہی بار آنے اور آخرت کی تیاری کر نے کا موقع ملتا ہے۔
علاماتِ قیامت میں بڑی علامت یاجوج ماجوج کا تذکرہ فرما کر قیامت اور اس کے ہولناک منظر کا بیان شروع کیا گیا اور پھر بتایا کہ رسالتِ محمدیہ صلی اللہ علیہ و سلم تمام کائنات کے لئیے باعثِ رحمت ہے اور تلقین فرمائی کہ حق و باطل کا فیصلہ کر نے کا اختیار صرف اللہ ہی کے پاس ہے لہذا اسی سے دینِ اسلام کی حقانیت کا فیصلہ طلب کرنا چاہیے۔
اس سورت کے آخری رکوع میں اللہ پاک نے اپنے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک بے مثل و بے مثال اعزاز سے نوازا اور وہ ہے:
*وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ(۱۰۷)*
اور ہم نے تمہیں تمام جہانوں کیلئے رحمت بنا کر ہی بھیجا ۔

🕋 *سورہ حج*
اس سورت میں 10رکوع اور 78 آیتیں ہیں ۔  
*وجہ*
اس سورۂ مبارکہ میں حج کے اعلانِ عام اورحج کے اَحکام کا ذکر ہے، اسی مناسبت کی وجہ سے اس سورت کو ’’سورۃ الحج‘‘ کے نام سے مَوسوم کیا گیا ہے ۔  


🚫 پہلی آیت میں اللہ پاک نے تقوی اختیار کر نے کا حکم دیتے ہوئے قیامت کی ہولناکیوں کو بیان فرمایا کہ قیامت ایک زلزلے کے طور پر برپا ہوگی اور اس کا منظر دہشت ناک ہوگا، دودھ پلانے والی مائیں اپنے دودھ پیتے بچوں کو بھول جائیں گی، حاملہ عورتوں کا حمل ساقط ہو جائے گا، لوگ نشے میں نظر آئیں گے حالانکہ وہ نشے میں نہ ہوں گے لیکن دراصل اللہ کے عذاب کی شدت کے باعث ان کی کیفیت ایسی ہو جائے گی، پھر موت کے بعد اٹھنے کی حقانیت کو بیان فرمایا کہ اپنی پیدائش پر غور کرنے سے یہ عقیدہ تمہیں بہت اچھی طرح سمجھ آسکتا ہے کہ مرنے کے بعد اٹھنا بھی ہے، پھر ان مراحل کو بیان کیا گیا ہے کہ بندہ مٹی سے نطفہ ہوتا ہے، پھر نطفے سے لوتھڑا بنتا ہے پھر گوشت کا ٹکڑا بنتا ہے، پھر اسکے اعضاء بنتے ہیں اور وہ ماں کے پیٹ میں ایک لمبے عرصے تک رہتا ہے کمزوری کی حالت میں بچہ باہر آتا ہے اور پھر آہستہ آہستہ بڑا ہوتا ہے،جوانی کی حد تک پہنچتا ہے پھر مزید توانا ہوتا ہے، آگے بڑھتا ہے پھر ایک وقت آتا ہے کہ وہ بڑھاپے کی منزل تک پہنچ جاتا ہے، پھر اس کا جسم گھلنے لگتا ہے، تو یہ سارے مراحل اس بات کو بیان کرتے ہیں کہ انسان نے ایک دن مرنا ہے اور مر کر دوبارہ اٹھنا ہےاور یہ اللہ پاک کے لیے مشکل نہیں ہے،فرمایا گیا کہ جو رب انسان کو ان مراحل سے گزار سکتا ہے وہ مارنے کے بعد دوبارہ اٹھانے پر بھی قادر ہے،
پھر دوسری دلیل یہ بیان کی گئی کہ زمین کو دیکھو تو وہ بنجر ہوتی ہے، پھر بارش برستی ہے تو دیکھتے ہی دیکھتے کھیتیاں اگتی ہیں، باغات اگتے ہیں اور وہ پھلنے پھولنے اور لہلہانے لگتے ہیں۔

🕋 آیت 27 سےابراھیم علیہ السلام کے تعمیرِ کعبہ کے شاندار کارنامے کا تذکرہ ہے پھر انھیں حکم دیا گیا کہ بلند آواز میں لوگوں میں حج کا اعلان کیجئے وہ آپ کے پاس پیدل اور سوار ہو کر آئیں گے ، ابراہیم علیہ السلام نے ایک پتھر پر کھڑے ہو کر ندا دی "اے لوگو اللہ پاک نے تمہارے اوپر حج کو فرض کر دیا ہے" اللہ پاک نے یہ آواز ان سب کو سنا دی، جن کی قسمت میں حج کرنا تھا انھوں نے باپوں کی پشتوں اور ماؤں کے پیٹوں سے جواب دیا *لبیک اللھم لبیک*۔

🐫 آگے چل کر قربانی کی ترغیب دلائی گئی، جانوروں کا انسان کے قابو میں آجانا یہ اللہ پاک کا احسان ہے، اس احسان کو یاد دلایا گیا اور اس پر شکر ادا کرنے کا حکم دیا گیا اور اخلاص اور پرہیزگاری کے ساتھ قربانی کرنے کا حکم دیا گیا۔

⛰️ آیت 61 سے کائنات کے نظام میں غور و خوض کرنے کی دعوت دی گئی،موت اور زندگی اللہ کے اختیار میں ہے ہر امت کو علیحدہ نظامِ حیات دیا گیا لہذا اختلاف کرنے کی بجائے اس پر عمل کرنا چاہیے، پھر معبودِ حقیقی اور معبودانِ باطل کے درمیان امتیاز کی ایک زبردست مثال قائم کی گئی کہ اللہ پاک کے علاوہ جن کی پرستش کرتے ہو وہ ایک مکھی پیدا کرنے کی بھی صلاحیت نہیں رکھتے بلکہ مکھی تو کمزور ترین مخلوق ہے، اگر یہ ان کے کھانے کا ایک ذرّہ اٹھا کر لے جائے تو مل کر اسے واپس لانے کی طاقت نہیں رکھتے، بت اور اس کے پجاری بہت کمزور اور ضعیف ہیں یہ لوگ انبیاء اور رسل کا انکار کر کے اللہ کی نعمتوں کی ناقدری کرتے ہیں۔ اسی پر سورت اور پارے دونوں کا اختتام ہوتا ہے۔

*📱+92-3212094919*

@faizanealahazrat
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
Photo
حضرت علامہ شیخ حسن بن منصور
اوزجندی المشہور قاضی خان
رَحۡـــمَـــةُ الــلّٰــهِ تَــعَــالیٰ عَـــلَـــیۡـــه
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
یومِ ولادت ⁰⁰ ................. ؁ھ
یومِ وصال ¹⁶رمضان المبارک ۲۹۵؁ھ
➻═══════════➻
TTS AʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
برہان الموحدین
حضرت سید شاہ آل محمد مارہروی
رَحۡـــمَـــةُ الــلّٰــهِ تَــعَــالیٰ عَــــلَــــیۡـــه
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
یومِ ولادت ¹⁸رمضان المبارک ۱۱۱۱؁ھ
یومِ وصال ¹⁶رمضان المبارک ۴۶۱۱؁ھ
➻═══════════➻
TTS AʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
یوم وصال بزرگانِ دین رحمهم اللہ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
یومِ ولادت ⁰⁰ ................. ؁ھ
یومِ وصال ¹⁶رمضان المبارک ؁ھ
➻═══════════➻
TTS AʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
https://www.ziaetaiba.com/en/scholar/gotodate?bd=2&day=16&month=09&year=&user-submit=
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM