حضرت خواجہ محمد باقی باللہ نقشبندی رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
آپ کا اصل نام محمد باقی المعروف خواجہ محمد باقی باللہ بن قاضی عبد السلام بن قاضی عبد اللہ بن قاضی اجر (علیہم الرحمہ) ہے ۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت با سعادت ۵ ذوالحجہ ۹۷۱ھ / بمطابق ۱۵ جولائی ۱۵۶۴ء کو کابل (افغانستان) میں ہوئی ۔
ابتدائی تعلیم:
آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے وقت کے جید عالم مولانا محمد صادق حلوائی سے حاصل کی،اور مزید تعلیم کاسلسلہ بھی آپ سے ہی جاری رکھا۔اگرچہ مروجہ طریقہ پر علوم کی تکمیل نہ ہو سکی ۔ لیکن طبعی ذکاوت اور سرورِ عالم ﷺ کے فیض سے آپ کتبِ متداولہ کے مشکل سے مشکل مقامات کو بآسانی حل فرما لیا کرتے تھے۔
بیعت و خلافت:
آپ شاہِ نقشبند حضرت بہاؤ الدین نقشبند کے اویسی تھے، اور ظاہری بیعت حضرت خواجہ محمد مقتدیٰ امکنگی علیہ الرحمہ سے تھی ۔
سیرت و خصائص:
بچپن ہی سے بزرگی و ہمت اور تجرید و تفرید کے آثار آپ کی پیشانی سے ظاہر تھے۔سترِ احوال، عزلت نشینی اور گمنامی آپ کا شیوہ تھا۔ آپ علماء اور سادات کا غایت درجہ احترام کرتے تھے، شرعی معاملات میں بالعموم پرہیزگار علماء و فقہاء سے رجوع فرماتے تھے، اور فتویٰ حاصل کرنے والوں کو انہی علماء کی طرف بھیجتے تھے ،اور تمام درویشوں کو شریعت کی پابندی کی نصیحت فرماتے تھے۔ بلکہ مرید کرنے سے زیادہ آپ شریعت کے احیاء اور تبلیغ پر زور دیتے تھے ۔ کسی کو بڑے اصرا ر اور طویل آزمائش کے بعد مرید کرتے تھے ۔
آپ کے غلبۂ عشق الٰہی کا یہ حال تھا کہ جس پر آپ کی نظر پڑ جاتی وہ مرغِ بسمل کی طرح تڑپنے لگتا اور اگر ہوش میں رہتا تو اشکباری کرتا ورنہ بے ہوش ہوجاتا اور اس کو دنیا ومافیہا کی کوئی خبر نہ رہتی۔آپ کی شفقت و ترحم کا یہ عالم تھا کہ ایک دفعہ لاہور میں قحط پڑا، تو آپ اُس وقت وہاں تشریف فرما تھے، کئی دن تک کھانا نہ کھایا جس وقت کھانا سامنے رکھا جاتا فرماتے: کہ یہ انصاف سے بعید ہے کہ ایک شخص تو گلی کوچہ میں بھوک کیوجہ سے جان دے رہاہو اور ہم کھانا کھائیں، ماحضر کو بھوکوں کے لیے بھیج دیتے ۔
آپ نہ صرف انسانوں پر رحمت و شفقت فرماتے تھے بلکہ جانوروں پر بھی بے حد شفیق تھے۔ چنانچہ ایک دفعہ رات کو تہجد کے لیے اُٹھے تو ایک بلی آکر لحاف پر سو گئی۔ جب آپ نماز تہجد سے فارغ ہوکر بستر پر تشریف لائے تو بلی کو لحاف پر سوتے دیکھا اُس وقت آپ نے ازراہِ شفقت بلی کو نہیں جگایا اور خود صبح تک بیٹھے موسمِ سرما کی تکلیف برداشت کرتے رہے۔
آپ کی عظمت و علو رتبہ کی شہادت میں یہی کافی ہے کہ امامِ ربانی حضرت مجدد الفِ ثانی، اور محقق علی الاطلاق شیخ عبدالحق محدث دہلوی علیہما الرحمہ آپکے فیض یافتہ تھے۔آپ صرف دو تین سالہ مسندِ مشیخیت پر جلوہ افروز رہے مگر اس قلیل عرصہ میں کس قدر بندگان خدا آپ کے فیض سے بہرہ ور ہوئے اور کیسی کیسی برکتیں آپ کی بدولت برصغیر پاک و ہند میں ظاہر ہوئیں۔ سلسلہ عالیہ نقشبندیہ ان علاقوں میں محدود تھا آپکی بدولت عام ہوگیا۔
وصال:
بروز ہفتہ ۲۵ جمادی الثانی ۱۰۱۲ھ / مطابق ۲۹ نومبر ۱۶۰۳ء کو وصال ہوا ۔ آپ کا مزار دہلی (اِنڈیا) میں مرجعِ خاص و عام ہے ۔
صاحبِِ کشف و کرامت شہِ باقی باللہ
وقفِ رُشد و ہدایت شہِ باقی باللہ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-baqi-billah-naqshbandi
نام و نسب:
آپ کا اصل نام محمد باقی المعروف خواجہ محمد باقی باللہ بن قاضی عبد السلام بن قاضی عبد اللہ بن قاضی اجر (علیہم الرحمہ) ہے ۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت با سعادت ۵ ذوالحجہ ۹۷۱ھ / بمطابق ۱۵ جولائی ۱۵۶۴ء کو کابل (افغانستان) میں ہوئی ۔
ابتدائی تعلیم:
آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے وقت کے جید عالم مولانا محمد صادق حلوائی سے حاصل کی،اور مزید تعلیم کاسلسلہ بھی آپ سے ہی جاری رکھا۔اگرچہ مروجہ طریقہ پر علوم کی تکمیل نہ ہو سکی ۔ لیکن طبعی ذکاوت اور سرورِ عالم ﷺ کے فیض سے آپ کتبِ متداولہ کے مشکل سے مشکل مقامات کو بآسانی حل فرما لیا کرتے تھے۔
بیعت و خلافت:
آپ شاہِ نقشبند حضرت بہاؤ الدین نقشبند کے اویسی تھے، اور ظاہری بیعت حضرت خواجہ محمد مقتدیٰ امکنگی علیہ الرحمہ سے تھی ۔
سیرت و خصائص:
بچپن ہی سے بزرگی و ہمت اور تجرید و تفرید کے آثار آپ کی پیشانی سے ظاہر تھے۔سترِ احوال، عزلت نشینی اور گمنامی آپ کا شیوہ تھا۔ آپ علماء اور سادات کا غایت درجہ احترام کرتے تھے، شرعی معاملات میں بالعموم پرہیزگار علماء و فقہاء سے رجوع فرماتے تھے، اور فتویٰ حاصل کرنے والوں کو انہی علماء کی طرف بھیجتے تھے ،اور تمام درویشوں کو شریعت کی پابندی کی نصیحت فرماتے تھے۔ بلکہ مرید کرنے سے زیادہ آپ شریعت کے احیاء اور تبلیغ پر زور دیتے تھے ۔ کسی کو بڑے اصرا ر اور طویل آزمائش کے بعد مرید کرتے تھے ۔
آپ کے غلبۂ عشق الٰہی کا یہ حال تھا کہ جس پر آپ کی نظر پڑ جاتی وہ مرغِ بسمل کی طرح تڑپنے لگتا اور اگر ہوش میں رہتا تو اشکباری کرتا ورنہ بے ہوش ہوجاتا اور اس کو دنیا ومافیہا کی کوئی خبر نہ رہتی۔آپ کی شفقت و ترحم کا یہ عالم تھا کہ ایک دفعہ لاہور میں قحط پڑا، تو آپ اُس وقت وہاں تشریف فرما تھے، کئی دن تک کھانا نہ کھایا جس وقت کھانا سامنے رکھا جاتا فرماتے: کہ یہ انصاف سے بعید ہے کہ ایک شخص تو گلی کوچہ میں بھوک کیوجہ سے جان دے رہاہو اور ہم کھانا کھائیں، ماحضر کو بھوکوں کے لیے بھیج دیتے ۔
آپ نہ صرف انسانوں پر رحمت و شفقت فرماتے تھے بلکہ جانوروں پر بھی بے حد شفیق تھے۔ چنانچہ ایک دفعہ رات کو تہجد کے لیے اُٹھے تو ایک بلی آکر لحاف پر سو گئی۔ جب آپ نماز تہجد سے فارغ ہوکر بستر پر تشریف لائے تو بلی کو لحاف پر سوتے دیکھا اُس وقت آپ نے ازراہِ شفقت بلی کو نہیں جگایا اور خود صبح تک بیٹھے موسمِ سرما کی تکلیف برداشت کرتے رہے۔
آپ کی عظمت و علو رتبہ کی شہادت میں یہی کافی ہے کہ امامِ ربانی حضرت مجدد الفِ ثانی، اور محقق علی الاطلاق شیخ عبدالحق محدث دہلوی علیہما الرحمہ آپکے فیض یافتہ تھے۔آپ صرف دو تین سالہ مسندِ مشیخیت پر جلوہ افروز رہے مگر اس قلیل عرصہ میں کس قدر بندگان خدا آپ کے فیض سے بہرہ ور ہوئے اور کیسی کیسی برکتیں آپ کی بدولت برصغیر پاک و ہند میں ظاہر ہوئیں۔ سلسلہ عالیہ نقشبندیہ ان علاقوں میں محدود تھا آپکی بدولت عام ہوگیا۔
وصال:
بروز ہفتہ ۲۵ جمادی الثانی ۱۰۱۲ھ / مطابق ۲۹ نومبر ۱۶۰۳ء کو وصال ہوا ۔ آپ کا مزار دہلی (اِنڈیا) میں مرجعِ خاص و عام ہے ۔
صاحبِِ کشف و کرامت شہِ باقی باللہ
وقفِ رُشد و ہدایت شہِ باقی باللہ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-baqi-billah-naqshbandi
scholars.pk
Hazrat Khawaja Baqi Billah Naqshbandi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
حضرت امام علی نقی ہادی علیہالرحمہ
اسمِ گرامی: علی ۔ کنیت: ابو الحسن ۔
القاب: نقی، ہادی، زکی، عسکری، متوکل، ناصح، فقیہ، امین، طیب ۔
نسب:
حضرت سیّدنا امام علی نقی علیہ الرحمہ کا سلسلۂ نسب اِس طرح ہے: حضرت سیّدنا علی نقی بن محمد بن علی بن موسیٰ بن جعفر بن محمدبن علی بن حسین بن علی المرتضیٰ و فاطمۃ الزہرا بنتِ رسول اللہ ﷺ ۔
والدہ ماجدہ:
آپ کی والدۂ محترمہ کا نام حضرت سمانہ ہے ۔
ولادت:
آپ کی ولادتِ باسعادت بروز جمعۃ المبارک 13 رجب المرجب 214ھ مطابق 14 ستمبر 829ء کو مدینۃ المنورہ میں ہوئی ۔
سیرت و خصائص:
نقی، تقی، ہادی زکی، ناصح، فقیہ، محدث، طیب، طاہر حضرت امام لمسلمین سیّدنا امام علی نقی علیہ الرحمہ
آپ علم و عمل، زُہد و تقویٰ میں اپنے آبا و اَجداد کی علمی و روحانی امانتوں کے امین و وارثِ کامل تھے ۔ جب چھ سال کی عمر کو پہنچے تو والدِ ماجد کا انتقال ہو گیا۔ بچپن ہی میں کرامات کا ظہور شروع ہو گیا تھا ۔ دور سے ہی معلوم ہوتا تھا کہ یہ خاندانِ نبوّت کے چشم و چراغ ہیں۔
اللہ جل شانہ نے اِس امّتِ مرحومہ کے دلوں میں فطری طور پر اِس خاندان کی محبّت و دیعت فرما دی ہے، اور ان کی محبت کو ایمان کی علامت بتایا گیا ہے۔ یہ جہاں بھی تشریف فرما ہوتے تھے مخلوقِ خدا پروانہ وار ان پر گرتی تھی اور دنیا کے بندے جن کے پاس کرسی، عہدے، لشکر وغیرہ ہر چیز ہوتی تھی، وہ یہ چیزیں دیکھ کر حیران اور حسد کی بیماری میں مبتلا ہو جاتے کہ سب کچھ تو ہمارے پاس ہے لیکن ہماری وہ عزّت و شوکت نہیں ہے، جو اس گلستانِ کرم کے ایک پھول کی ہے ۔ آپ کو بھی اس راستے میں ستایا گیا، تکلیفیں دی گئیں؛ لیکن آپ جرأتِ حیدری اور صبرِِ حسینی کی مثال بن کر شان و شوکت کی زندگی گزارتے رہے ۔ کبھی کسی سے انتقام نہیں لیا جو بھی آیا خالی ہاتھ نہ گیا۔
حضرت امام نقی ایک دن رے کے دیہات میں تشریف لے گئے ۔ ایک دیہاتی نے آ کر عرض کی کہ میرے ذمّے ایک بہت بڑا قرضہ ہے کہ میں اس کے ادا کرنے سے قاصر ہوں۔ حضرت امام اس کی بات سے اتنے متاثر ہوئے کہ ایک رقعہ تیس ہزار کا لکھ دیا اور اپنی مہر چسپاں کردی اور اس کے حوالے کرتے ہُوئے کہا کل جب میں اُمراء میں بیٹھا ہوا ہوں لے آنا اور شدید تقاضا کرنا اور بے شک درشت کلامی بھی کر لینا اور اس تدبیر سے تمہارا قرضہ بےباک کرنے میں مدد مل جائے گی۔ دیہاتی نے وہ تمسک لیا اور چلا گیا۔ ایک دن خلیفۂ بغداد سے ملنے کے لیے بہت سی مخلوق آئی ہوئی تھی، مجلس جمی ہوئی تھی۔ اعرابی آ گیا اور تمسک نامہ پیش کیا اور تیس ہزار روپے کا تقاضا کرنے لگا اور سخت توہین آمیز الفاظ استعمال کرتا رہا۔ حضرت امام نے بڑی نرمی سے اسے ٹالا اور سہولت کے ساتھ ادائیگی کا وعدہ کرلیا۔ خلیفہ نے یہ صورتِ حال دیکھی۔ تیس ہزار روپے خزانے سے منگوا کر حضرت امام کی خدمت میں پیش کیے اور یُوں آپ نے اُس دیہاتی کو دے کر روانہ کیا۔
فضل و کمال:
متوکل نے اپنے گھر میں ہر قسم کے پرندے جمع کر رکھے تھے۔ اُن کے شور و غل سے بات سنی نہیں جاتی تھی۔ جب سیّدناامام علی نقی علیہ الرحمہ وہاں تشریف لے جاتے تو تمام پرندے خاموش ہو جاتے تھے۔ جب تک بیٹھے رہتے کسی جانور کی آواز نہ آتی تھی ۔
ہندوستان کا ایک شعبدہ باز خلیفہ متوکل کے دربار میں آیا اور عجیب و غریب شعبدے دکھانے لگا؛ ایک دن متوکل نے شعبدے باز سے کہا:
’’اگر تم اپنے شعبدے سے امام علی نقی کو شرمندہ کر دکھاؤ تو میں تمہیں ایک ہزار دینار انعام دوں گا۔‘‘
وہ کہنے لگا:
’’مجھے مجلس میں امام کے بالکل قریب بٹھا دینا، میں اُنہیں شرمندہ کر دوں گا۔‘‘
جب مجلس لگی تو حضرت امام کو اس شعبدے باز کے ساتھ ہی کھانا کھانے کو کہا گیا ۔ جب امام اور دوسرے اہل مجلس کھانا کھانے لگے تو حضرت امام علی نقی نے جس روٹی کی طرف ہاتھ بڑھایا وہ اُڑ کر دوسرے شخص کی طرف چلی گئی ۔ دوسری بار ہاتھ بڑھایا تو پھر ایسا ہی ہوا ۔ تیسری بار بھی ایسا ہی ہوا ۔
اہلِ مجلس اس شعبدے سے بڑے محظوظ ہوئے اور حضرت امام پر ہنسنے لگے ۔ آپ نے معلوم کر لیا کہ اس شعبدے کا مقام یہاں ہے، جو شخص میرے پاس بیٹھا ہے۔ آپ نے سر اٹھا کر دیکھا تو اُس مکان کی دیوار پر ایک شیر کی تصویر نقش تھی ۔
آپ نے اُس شیر کی طرف اشارہ کرکے کہا:
’’ اِس دشمنِ اہلِ بیت کو پکڑ لو ۔ ‘‘
حکم سنتے ہی تصویر والا شیر اصلی شیر کی طرح اُٹھا اور شعبدے باز کا ایک لقمہ کرکے پھر دیوار پر نقش بن گیا۔ متوکل نے بڑی کوشش کی کہ اُسے لوٹا دیا جائے مگر آپ نے ایک نہ مانی ۔
آپ نے فرمایا:
’’خدا کی قسم! ایسا کبھی نہیں ہو سکتا‘‘
آپ غصے کے عالم میں مجلس سے اُٹھ کر چلے آئے ۔
اسمِ گرامی: علی ۔ کنیت: ابو الحسن ۔
القاب: نقی، ہادی، زکی، عسکری، متوکل، ناصح، فقیہ، امین، طیب ۔
نسب:
حضرت سیّدنا امام علی نقی علیہ الرحمہ کا سلسلۂ نسب اِس طرح ہے: حضرت سیّدنا علی نقی بن محمد بن علی بن موسیٰ بن جعفر بن محمدبن علی بن حسین بن علی المرتضیٰ و فاطمۃ الزہرا بنتِ رسول اللہ ﷺ ۔
والدہ ماجدہ:
آپ کی والدۂ محترمہ کا نام حضرت سمانہ ہے ۔
ولادت:
آپ کی ولادتِ باسعادت بروز جمعۃ المبارک 13 رجب المرجب 214ھ مطابق 14 ستمبر 829ء کو مدینۃ المنورہ میں ہوئی ۔
سیرت و خصائص:
نقی، تقی، ہادی زکی، ناصح، فقیہ، محدث، طیب، طاہر حضرت امام لمسلمین سیّدنا امام علی نقی علیہ الرحمہ
آپ علم و عمل، زُہد و تقویٰ میں اپنے آبا و اَجداد کی علمی و روحانی امانتوں کے امین و وارثِ کامل تھے ۔ جب چھ سال کی عمر کو پہنچے تو والدِ ماجد کا انتقال ہو گیا۔ بچپن ہی میں کرامات کا ظہور شروع ہو گیا تھا ۔ دور سے ہی معلوم ہوتا تھا کہ یہ خاندانِ نبوّت کے چشم و چراغ ہیں۔
اللہ جل شانہ نے اِس امّتِ مرحومہ کے دلوں میں فطری طور پر اِس خاندان کی محبّت و دیعت فرما دی ہے، اور ان کی محبت کو ایمان کی علامت بتایا گیا ہے۔ یہ جہاں بھی تشریف فرما ہوتے تھے مخلوقِ خدا پروانہ وار ان پر گرتی تھی اور دنیا کے بندے جن کے پاس کرسی، عہدے، لشکر وغیرہ ہر چیز ہوتی تھی، وہ یہ چیزیں دیکھ کر حیران اور حسد کی بیماری میں مبتلا ہو جاتے کہ سب کچھ تو ہمارے پاس ہے لیکن ہماری وہ عزّت و شوکت نہیں ہے، جو اس گلستانِ کرم کے ایک پھول کی ہے ۔ آپ کو بھی اس راستے میں ستایا گیا، تکلیفیں دی گئیں؛ لیکن آپ جرأتِ حیدری اور صبرِِ حسینی کی مثال بن کر شان و شوکت کی زندگی گزارتے رہے ۔ کبھی کسی سے انتقام نہیں لیا جو بھی آیا خالی ہاتھ نہ گیا۔
حضرت امام نقی ایک دن رے کے دیہات میں تشریف لے گئے ۔ ایک دیہاتی نے آ کر عرض کی کہ میرے ذمّے ایک بہت بڑا قرضہ ہے کہ میں اس کے ادا کرنے سے قاصر ہوں۔ حضرت امام اس کی بات سے اتنے متاثر ہوئے کہ ایک رقعہ تیس ہزار کا لکھ دیا اور اپنی مہر چسپاں کردی اور اس کے حوالے کرتے ہُوئے کہا کل جب میں اُمراء میں بیٹھا ہوا ہوں لے آنا اور شدید تقاضا کرنا اور بے شک درشت کلامی بھی کر لینا اور اس تدبیر سے تمہارا قرضہ بےباک کرنے میں مدد مل جائے گی۔ دیہاتی نے وہ تمسک لیا اور چلا گیا۔ ایک دن خلیفۂ بغداد سے ملنے کے لیے بہت سی مخلوق آئی ہوئی تھی، مجلس جمی ہوئی تھی۔ اعرابی آ گیا اور تمسک نامہ پیش کیا اور تیس ہزار روپے کا تقاضا کرنے لگا اور سخت توہین آمیز الفاظ استعمال کرتا رہا۔ حضرت امام نے بڑی نرمی سے اسے ٹالا اور سہولت کے ساتھ ادائیگی کا وعدہ کرلیا۔ خلیفہ نے یہ صورتِ حال دیکھی۔ تیس ہزار روپے خزانے سے منگوا کر حضرت امام کی خدمت میں پیش کیے اور یُوں آپ نے اُس دیہاتی کو دے کر روانہ کیا۔
فضل و کمال:
متوکل نے اپنے گھر میں ہر قسم کے پرندے جمع کر رکھے تھے۔ اُن کے شور و غل سے بات سنی نہیں جاتی تھی۔ جب سیّدناامام علی نقی علیہ الرحمہ وہاں تشریف لے جاتے تو تمام پرندے خاموش ہو جاتے تھے۔ جب تک بیٹھے رہتے کسی جانور کی آواز نہ آتی تھی ۔
ہندوستان کا ایک شعبدہ باز خلیفہ متوکل کے دربار میں آیا اور عجیب و غریب شعبدے دکھانے لگا؛ ایک دن متوکل نے شعبدے باز سے کہا:
’’اگر تم اپنے شعبدے سے امام علی نقی کو شرمندہ کر دکھاؤ تو میں تمہیں ایک ہزار دینار انعام دوں گا۔‘‘
وہ کہنے لگا:
’’مجھے مجلس میں امام کے بالکل قریب بٹھا دینا، میں اُنہیں شرمندہ کر دوں گا۔‘‘
جب مجلس لگی تو حضرت امام کو اس شعبدے باز کے ساتھ ہی کھانا کھانے کو کہا گیا ۔ جب امام اور دوسرے اہل مجلس کھانا کھانے لگے تو حضرت امام علی نقی نے جس روٹی کی طرف ہاتھ بڑھایا وہ اُڑ کر دوسرے شخص کی طرف چلی گئی ۔ دوسری بار ہاتھ بڑھایا تو پھر ایسا ہی ہوا ۔ تیسری بار بھی ایسا ہی ہوا ۔
اہلِ مجلس اس شعبدے سے بڑے محظوظ ہوئے اور حضرت امام پر ہنسنے لگے ۔ آپ نے معلوم کر لیا کہ اس شعبدے کا مقام یہاں ہے، جو شخص میرے پاس بیٹھا ہے۔ آپ نے سر اٹھا کر دیکھا تو اُس مکان کی دیوار پر ایک شیر کی تصویر نقش تھی ۔
آپ نے اُس شیر کی طرف اشارہ کرکے کہا:
’’ اِس دشمنِ اہلِ بیت کو پکڑ لو ۔ ‘‘
حکم سنتے ہی تصویر والا شیر اصلی شیر کی طرح اُٹھا اور شعبدے باز کا ایک لقمہ کرکے پھر دیوار پر نقش بن گیا۔ متوکل نے بڑی کوشش کی کہ اُسے لوٹا دیا جائے مگر آپ نے ایک نہ مانی ۔
آپ نے فرمایا:
’’خدا کی قسم! ایسا کبھی نہیں ہو سکتا‘‘
آپ غصے کے عالم میں مجلس سے اُٹھ کر چلے آئے ۔
❤1👍1
آپ نےساری زندگی رسول اللہ ﷺ کےدین کی خدمت اور نشر و اشاعت فرمائی۔ لوگوں کو وعظ و نصیحت اور اُن کا تزکیۂ نفس آپ کا مشغلہ تھا ۔ لوگوں کو دنیا کی بےثباتی اور اس کی محبت کے نقصانات اور اس کے مقابلے میں اخروی نعمتیں اور اُن کی ثباتی اور اللہ جل شانہ اور اس کےحبیب ﷺ کی محبت کی تلقین فرماتے تھے۔ ہر قسم کے دنیاوی عہدوں، منصبوں اور دنیا داروں سے دور رہتے تھے ۔
علامہ جامی علیہالرحمہ فرماتے ہیں:
’’حضرت رضا علی بن محمد موسیٰ سے منقول ہے کہ
جس شخص نےآپ کی مرقد کی زیارت کی، اُسےجنّت کا حصول ہوگا۔‘‘ (صحیح العقیدہ ہونا شرط ہے) (بارہ امام: صفحہ208)
وصال:
آپ کاوصال 25 جمادی الآخرہ 254ھ / مطابق 19 جون 868ء کو ہوا ۔ مزار شریف ’’سامرہ‘‘ عراق میں مرجعِ خلائق ہے ۔
مآخذ و مَراجع:
خزینۃ الاصفیاء ۔ شریف التواریخ ۔ اقتباس الانوار ۔ بارہ امام ، علامہ جامی ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-imam-ul-muslimeen-syedna-imam-ali-naqi
علامہ جامی علیہالرحمہ فرماتے ہیں:
’’حضرت رضا علی بن محمد موسیٰ سے منقول ہے کہ
جس شخص نےآپ کی مرقد کی زیارت کی، اُسےجنّت کا حصول ہوگا۔‘‘ (صحیح العقیدہ ہونا شرط ہے) (بارہ امام: صفحہ208)
وصال:
آپ کاوصال 25 جمادی الآخرہ 254ھ / مطابق 19 جون 868ء کو ہوا ۔ مزار شریف ’’سامرہ‘‘ عراق میں مرجعِ خلائق ہے ۔
مآخذ و مَراجع:
خزینۃ الاصفیاء ۔ شریف التواریخ ۔ اقتباس الانوار ۔ بارہ امام ، علامہ جامی ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-imam-ul-muslimeen-syedna-imam-ali-naqi
scholars.pk
Biography of Hazrat Imam-ul-Muslimeen Syedna Imam Ali Naqi R.A, Shahadat, Caliph of Islam, History of Islam, Muslim Scholarm,…
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
24-06-1445 ᴴ | 07-01-2024 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
25-06-1445 ᴴ | 08-01-2024 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
25-06-1445 ᴴ | 08-01-2024 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
25-06-1445 ᴴ | 08-01-2024 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1