🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
حضرت علامہ سلیم الدین عثمانی (قطب جے پور) رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

خاندان عثمانی بد ایوں کے ممتاز فرد حضرت مولانا مفتی درویش محمد المتوفی ۱۱۸۳ھ کے پوتے ۔ (قاضی فرید الدین المقتول ۱۲۰۵ھ) کے پوتے، قاضی ھافظ حسیب الدین المتوفی ۱۲۹۴ھ کے بڑے صاحبزادے، سال ولادت ۱۲۵۶ھ، ریاست جے پور کے اعلم علماء تھے، علوم کی تحصیل و تکمیل اپنے ماموں حضرت مولانا رشید الدین فاروقی، اور مولوی مستجاب الدین صاحب سے کی ۔

حضرت شاہ حبیبی الرحمٰن جمالی قدس سرہ کے مرید و خلیفہ تھے، علم ہئیت میں خاص ملکہ تھا، بہترین واعظ اور خطیب تھے، تسلیم تخلص کرتے تھے ـ

وصال:
چھیالیس ۴۶ برس کی عمر میں پچیسویں ۲۵ جمادی الثانیہ ۱۲۵۶ھ بروز سہ شنبہ بوقت ظہر وفات پائی، ‘‘خاصۂ خدا’’ تاریخ ہے، مرقد نارنول میں ہے، تصنیف میں تشریح القرآن یادگار ہے،۔۔۔

اعلیٰ حضرت تاج الفحول بدایونی قدس سرہٗ سے بوجہ قرابت خاندانی خصوصی تعلق خاطر تھا، تاج الفحول علیہ الرحمہ اجمیر شریف جاتے ہوئے آپ یہاں مقیم ہوتے تھے ۔ آپ علاقہ جے پور کے قطب کہے جاتے تھے ۔

(اکمل التاریخ، تذکرہ شعرائے جے پور)

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-saleemuddin-usmani
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
مولانا مفتی محمد مبین الدین محدث امروہوی رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
اسم گرامی:
محمد مبین الدین ۔ لقب: محدث امروہوی رضوی ۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت علامہ مولانا الحاج محمد مبین الدین رضوی بن شیخ احمد الدین بن شیخ معین الدین عرف سلطان احمد۔علیہم الرحمہ ۔

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت ماہِ جمادی الآخر 1337ھ مطابق مارچ 1919ء کو "امروہہ" ضلع مراد آباد (انڈیا) میں ہوئی ۔

تحصیلِ علم:
بسم اللہ خوانی کے بعد قرآن شریف کی تعلیم شروع ہوئی ۔ ذہن رسا اور قوت حافظہ سنِ بلوغت کو پہنچنے سے قبل ہی حافظ بنادیا۔ حالانکہ اس دوران مولانا حاجی مبین الدین علیہ الرحمہ کو والدہ ماجدہ کے سایہ عاطفت سے محروم ہونا پڑا اور اس کی وجہ سے چند سال تک تعلیمی مشاغل کا تسلسل باقی نہ رہ سکتا۔ شفقت مادری سے محرومی، اور مالی حالت کی ابتری کی وجہ سے مولانا حاجی مبین الدین کو بچپن میں بہت سے مسائل و مصائب برداشت کرنے پڑے۔ لیکن تعلیم کے شغف نے اپنی راہیں مسدود نہ ہونے دیں ۔ ابتدائی کتب فارسی و عربی امروہہ میں مکمل فرمائیں ۔

پھر آپ کو صدر الشریعہ مولانا امجد علی رضوی اعظمی علیہ الرحمہ کے پاس بھیج دیا گیا ۔ لائق اُستاد نے جوھر قابل کو پہچاننے اور اسے جِلا دینے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہ کیا ۔ 24 شعبان 1364ھ / مطابق 14 اگست 1944 کو سند فراغ حاصل کرکے واپس امروہہ تشریف لائے ۔

آپ کے اساتذۂ کرام:
حضرت مولانا سید محمد کاظمی علیہ الرحمہ محدث امروہوی متوفی ۱۳۹۰ھ۔ صدر الشریعہ حضرت مولانا امجد علی رضوی اعظمی علیہ الرحمہ ۔ حضرت مفتی اعظم علامہ مولانا مصطفیٰ رضا نوری بریلوی قدس سرہٗ۔ مولوی حکمت اللہ صدیقی متوفی ۱۳۸۱ھ؍۱۹۶۱ء ۔ حافظ تمیز الدین امروہوی ۔ علیہم الرحمہ والرضوان ۔

بیعت و خلافت:
حضرت محدث امروہوی علیہ الرحمہ 24 صفر المظفر 1370ھ / 5 دسمبر 1950ء کو حضور مفتی اعظم مولانا مصطفیٰ رضا نوری بریلوی قدس سرہٗ کے دستِ حق پرست پر داخلہ سلسلہ ہوئے ۔ حضور مفتی اعظم قدس سرہٗ نے آپ کو 8 شعبان المعظم 1381ھ / 15 جنوری 1962ء میں اپنے سلسلہ کی اجازت مرحمت فرمائی، اور جب حضرت محدث امروہوی علیہ الرحمہ زیارت حرمین شریفین کے لیے تشریف لے گئے تو قطب مدینہ حضرت مولانا الشاہ ضیاء الدین احمد مدنی رضوی قدس سرہٗ نے بھی خلافت و اجازت سے نوازا ۔

سیرت و خصائص:
بقیۃ السلف، حجۃ الخلف، عالمِ باعمل، مفتیِ اہلسنت، مفسر قرآن، شیخ الحدیث حضرت علامہ مولانا حاجی محمد مبین الدین حضرت محدث امروہوی رضوی رحمۃ اللہ علیہ ۔

آپ علیہ الرحمہ ایک کامل واکمل مدرس تھے۔تمام فنون میں بالعموم اورفنِ تفسیرمیں بالخصوص مہارت تھی۔آپ نےتفسیرِ بیضاوی کی سورتِ فاتحہ کی تفسیر مکمل فرمائی تھی کہ اجل آ پہنچی ۔ اس میں آپ نے دیوبندیوں کی بازاری شروحات میں جو اغلاط ہیں ان کی خوب خبرلی ۔ ساری زندگی علوم مصطفیٰ ﷺ کی اشاعت میں مصروف رہے۔ملک کی بڑی بڑی درسگاہوں میں زینتِ تدریس رہے۔جن میں دار العلوم منظر اسلام بریلی شریف، اور جامعہ نعیمیہ مراد آباد سر فہرست ہیں ۔

علم و فضل:
حضرت محدث امروہوی علیہ الرحمہ بہترین حافظ، بلند پایہ، عالم، محدث اور فقیہ تھے مدارس میں رائج علوم عقلیہ منطق و فلسفہ میں بھی مہارت تامہ رکھتے تھے، اور برسہا برس تک اُن کی تدریس میں مشغول رہے ۔ آپ علم و حلم، زہد و تقویٰ، صدق و صفاء، صبر و شکر، توکل و رضا اور تہذیب و شائستگی کا ایک بلند و روشن منارہ بن گئے تھے ۔ جو تقریباً نصف صدی تک نور کی ضیاء پاشیاں کرتا رہا اور جس کا فیض تا قیامت جاری رہے گا ۔

حضور مفتی اعظم کی نواز شات: حضرت محدث امروہوی علیہ الرحمہ سے حضور مفتی اعظم قدس سرہٗ بے پناہ خوش تھے، اور ہمیشہ انتہائی قدر منزلت کی نگاہ سے دیکھتے تھے ۔ وہ کردار وگفتار میں انتہائی محتاط تھے ۔ اس لیے کسی کے بارے میں رائے دیتے وقت بھی بہت احتیاط سے کام لیتے تھے ۔ کسی بہت ہی متقی اور صالح آدمی کا ذکر ہوتا تو فرماتے کہ ولی صفت ہیں ۔ مگر مولانا مبین الدین کے بارے میں فرمایا تھا کہ: "اگر کسی کو زندہ ولی دیکھنا ہو تو وہ حاجی مبین الدین کو دیکھ لے"۔
1
حضرت مولانا مبین الدین محدث امروہوی علیہ الرحمہ نے کسی کو داخل سلسلہ نہیں کیا، اور لوگوں کے بے پناہ  اصرار و خواہش کے باوجود حد درجہ محتاط اور تقوی پسند طبیعت نے کسی کو مرید کرنا پسند نہیں کیا ۔ جب تک حضور مفتئ اعظم قدس سرہٗ دنیائے ظاہری میں موجود تھے  تو لوگوں کو ان کی طرف رجوع  کرنے کا مشورہ دیتے تھے ۔ حضور  مفتی اعظم قدس سرہٗ    کے وصال کے بعد بھی چند اور  نام تجویز کر دیتے اور خود کو ہمیشہ بچا لیتے تھے ۔ بہت اصرار و منت کے بعد دو چار افراد کو بیعت کیا، اور دو انتہائی متقی و پرہیزگار علماء کو خلافت دی تاکہ سلسلہ منقطع نہ ہو جائے ۔

(ہمارےاکابرین علماءومشائخ میں کیساتقویٰ ہوتا تھا،کہ نام  ونموداورشہرت سےکوسوں دوررہتےتھے،ایسی شخصیت جن کی ولایت کی گواہی مفتیِ اعظم ہند نے دی ہو، اورجن کو خلافت و اجازت خلیفۂ اعلیٰ حضرت قطبِ مدینہ نے عطاء فرمائی ہو، اس کے باوجود وہ پیری مریدی سے دور رہے، ایک سادہ اور کچے مکان میں زندگی بسر فرمائی، اور علمِ دین کی نشر و اشاعت میں مصروف رہے ۔ آج حالات مختلف ہیں ۔ خلافتیں لنگر کی طرح بانٹیں جا رہی ہیں، اور پیری مریدی ایک منفعت بخش کاروبار بن چکا ہے، الا ماشاء اللہ ۔

القابات کا ایک لمبا سلسلہ ہے، اپنے اکابرین کی تصانیف اٹھا کر دیکھیں کہ وہ اپنے نام کیسے سادگی و عاجزی سے لکھتے تھے، اللہ تعالیٰ ہمارے حال پر رحم فرمائے) ۔

خصائلِ حمیدہ:
مولانا مبین الدین محدث امروہوی علیہ الرحمہ شب و روز کے بیشتر اوقات درود و سلام کے نذرانے بھیجنے میں بسر ہوتے تھے ۔ دلائل الخیرات، حزب البحر اور سلسلۂ قادریہ رضویہ کے دیگر اور اد کے بڑے پابند تھے۔ اس کے صلہ میں حضور انورﷺکے دیدار پر انوار سے بار بار مشرف ہوئے۔ حضرات شیخین اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی دیدار سے نوازا۔ مستقل بیماری کے باوجود رمضان المبارک میں تقریباً چالیس تراویح میں قرانِ کریم سُنایا۔ تراویح کے علاوہ بھی رمضان المبارک میں مولانا مبین الدین پندرہ سولہ قرآن کریم ختم فرماتے تھے ۔ تدریس کے ساتھ تصنیف میں بھی خاص ملکہ تھا، آپ نے مختلف موضوعات پر چند مفید کتب تحریر فرمائی تھیں ۔

تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 25 جمادی الاخری 1408ھ / مطابق 4 فروری 1988ء ، بروز اتوار 3:35 پر ہوا ۔

ماخذ و مراجع:
مفتیِ اعظم ہند اور ان کےخلفاء ۔ تذکرہ علماء اہل سنت ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-mufti-muhammad-mubeen-uddin
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
شیخ سید عباس بن علوی مالکی رحمۃ اللہ علیہ

محدث حجاز کے چھوٹے بھائی شاگرد و معاون خاص، خوش الحان ۔ اپنے والد گرامی نیز مکہ مکرمہ کے دیگر اکابر علماء کرام سے اخذِ علوم کیا ۔ علاوہ ازیں مفتی اعظم ہند مولانا مصطفٰی رضا خان بریلوی و مولانا ضیاء الدین مہاجر مدنی رحمۃ اللہ علیہ سے سلسلہ قادریہ وغیرہ شرعی علوم میں اجازت و خلافت پائی۔ حجاز مقدس میں نعت خوانی و نعتیہ محافل کی علامت ، خوب صورت آواز کے باعث محدث حجاز نے آپ کو "بلبل حِجاز" کا خطاب دیا۔ مشہور و مقبول شعراء کی لا تعداد نعتیں اور علماء و اولیاء کے مناقب حفظ تھیں۔ دلۃ البرکۃ گروپ جدہ کی ملکیت ARTنامی ٹیلے ویژن چینل پر آپ کی پڑھی گئی نعت نشر ہوتی رہتی ہے ،جیسا کہ 1421ھ کو عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مناسبت سے نعت دس ربیع الاول کو نشر کی گئی ۔ مختلف عرب ممالک بالخصوص مصر، یمن سوڈان نیز انڈ و نیشیا و ہندوستان میں نعت کے فروغ میں خدمات انجام دیں ۔

مکہ مکرمہ میں نکاح خوانی کے سرکاری مجاز قدیم ثقافت بالخصوص حجازی ثقافت کے شیدائی، شیخ الدلائل و البردۃ۔ قاہرہ مصر میں واقع صوفیاء کرام کی عالم گیر تنظیم "المشیخۃ المعامۃ للطرق الصوفیہ" نے آپ کو دلائل الخیرات ، قصیدہ بردہ مولود برزنجی وغیرہ پڑھنے اور ان کی مجالس منعقد کرنے کی سند جاری کی۔ ادھر لیبا میں صوفیاءکی اعلیٰ تنظیم " المجلس العامہ للتصوف الاسلامی" نے علم تصوف نیز لوگوں کے دلوں میں محبت مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم اُجاگر کرنے اور نعت کے فروغ میں خدمات کے اعتراف میں سند پیش کی ، دونوں اسنادکا عکس "المحفوظ المروی" میں ہے ۔ آپ کی دلائل الخیرات اور متداول مولود ناموں میں سے بعض کی اسانید روایت ، سید نبیل بن ہاشم حسینی شافعی مکی نے مرتب کر کے" عقود الزبر جدو المآس فی اسانید السید عباس" کا نام دیا، جو "المحفوظ المروی"کے آخر میں شامل ہے ۔

سید عباس مالکی نے مکہ مکرمہ و اہل حِجاز کی ثقافت و رہن سہن پر ایک کتاب " ھٰکذا کانو" تالیف کی نیز محدث حجاز کی تحریک و خواہش پر والد گرامی کے بارے میں دیگر اہل علم کی اخبارات و رسائل میں شائع شدہ نظم و نثر پر مشتمل تحریروں کو یک جا کیا، مزیدوں برآں خود سید علوی مالکی کی مختلف موضوعات پر منظومات اور ریڈیو کی چند تقاریر جمع کیں، پھر یہ سارا مواد 2003 کو 406 صفحات پر کتابی صورت میں"صفحات مشرقۃ من حیاۃ الامام السید الشریف علوی بن عباس المالکی الحسنی"کے نام سے شائع کرایا ۔ آپ کے چار فرزندان، سید عاصم ، سید علوی، سید عمرو سید سعید ہیں ۔

محدث اعظم حجاز نے 1398ھ / 1978ء کو ہندوستان کے جنوبی صوبہ کیرلہ یا مالا بار کے شہر کالی کٹ سے چودہ کلو میٹر کے فاصلہ پر ایک مدرسہ کا سنگ بنیاد رکھا، پھر عمر بھر سر پرستی کی یہ "مرکز سنی اسلامی ثقافت" کہلاتا ہے، اور تعلیم دیگر سماجی خدمات میں فعال ہے ۔ مقامی عالم مولانا ابو بکر احمد قادری شافعی اس کے روحِ رواں ہیں، اور ان دنوں سات ہزار طلباء و تقریباً دو ہزار طالبات مرکز میں زیرِ تعلیم ہیں ۔

محرم 1426ھ / فروری 2005 کو اس کا ستائیسواں سالانہ جشن دستار فضیلت منعقد ہوا۔ جس میں محدث حرمین شریفین کے بھائی شیخ سید عباس بن علوی مالکی مہمان خصوصی تھے۔اس میں ہندوستان کے علاوہ پاکستان اور عرب دنیا کے اکابر علماء و مشائخ کی بڑی تعداد نے شرکت کی ۔ جن میں مکہ مکرمہ سے آئے ہوئے علامہ سید عبد اللہ فراج شریف ، شیخ سید عبد اللہ محمد فد عق ڈاکٹر شیخ عمر عبد اللہ کامل، ام القریٰ یونی ورسٹی کےسابق پروفیسر و ملک شام کے عالم و مفسر شیخ محمد علی صابونی ،کویت کے قاری شیخ احمد سنان اور ڈاکٹر شیخ ابراہیم رفاعی، متحدہ عرب امارات کے صدر کے مشیر شیخ سید علی ہاشمی،مراکش کے شیخ ماء العینین ، مصر کے شیخ اسامہ سید ازہری، دار المصطفٰی تریم یمن کے شیخ سید علی زین العابدین جفری اہم نام ہیں ۔چھبیس فروری کو اجتماع کی مرکزی تقریب منعقد ہوئی، جس میں شیخ سید عباس مالکی و دیگر اکابرین نے خطاب فرمایا،ا س موقع پر تقریباً دس لاکھ افراد موجود تھے ۔ اور چھ سو چالیس فراغ پانے والے طلباء کی دستار بندی کی گئی۔

ایک اردو تذکرہ نگار نے نام کی یکسانیت کی بناء پر شیخ سید عباس بن علوی مالکی کی بجائے ان کے ان کے دادا شیخ سید عباس بن عبد العزیز مالکی رحمۃ اللہ علیہ کو مفتئ اعظم ہند مولانا مصطفٰی رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ قرار دے دیا ۔جو درست نہیں۔ حق یہ ہے کہ مالکی گھرانہ کی فقط دو شخصیات ، خود محدث حجاز اور ان کے بھائی شیخ سید عباس مالکی نے مفتئ اعظم ہند سے اجازت و خلافت پائی تھی ۔

وصال:
اس عظیم سنی عالمِ دین کا وصال 25 جمادی الاخری 1436ھ / مطابق 14 اپریل 2015ء کومکۃ المکرمہ میں ہوا۔ام المؤمنین سیدہ خدیجۃ الکبریٰ سلام اللہ علیہا کی قبرمبارک کےپاس تدفین ہوئی۔

ماخذ و مراجع:
محدث اعظم حجاز کی وفات اور سعودی صحافت۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-abbas-bin-alvi-maliki-makki
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
پیر طریقت حضرت علامہ مولانا مفتی رفاقت حسین کانپوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

نام و نسب:
آپ کا اسمِ گرامی:
مولانا رفاقت حسین کانپوری تھا ۔ اور آپ کا نسبی تعلق مشہور بزرگ حضرت سید شاہ جلال الدین جڑھوی رحمۃ اللہ علیہ سے ہے ۔

آپ کا سلسلۂ نسب یوں ہے:
حضرت قبلہ رفاقت حسین بن مولوی شاہ عبد الرزاق بن شاہ حسین بخش بن خدا بخش بن میر شاہ تراب علی بن حضرت شاہ جلال الدین علیہم الرحمۃ ۔

تاریخِ ولادت:
مفتی رفاقت حسین رحمۃ اللہ علیہ 1317ھ میں بھوانی، ضلع مظفر پور، ہندستان میں پیدا ہوئے ۔

تحصیلِ علم:
آپ نے ابتدائی تعلیم مرچا اسکول میں درجہ چار تک تعلیم پائی، بعدہ قریب کی بستی عارض پور کے مولوی طاہر حسین مرحوم سے فارسی گلستاں بوستاں تک پڑھی۔بعد مدرسہ عزیزییہ بہار شریف میں داخل ہوئے حضرت مولانا شاہ حبیب الرحمٰن بہاری مرحوم سے شرح وقایہ شروع کی۔ دار العلوم کے اساتذہ حضرت صدر الشریعہ حجۃ العصر مولانا حکیم امجد علی اعظمی، مولانا حکیم سید عبد الحئی افغانی مولانا مفتی متقدمین کی کتابوں کا درس لیا ۔ اس کے علاوہ دیگر مدارس میں مختلف علوم و فنون حاصل کئے ۔

بیعت و خلاف:
مفتی رفاقت حسین صاحب، حضرت قدوۃ الواصلین مولانا الحاج سید شاہ علی حسین محبوب ربانی سرکار کچھوچھہ کے مرید ہوئے ۔ تمام سلاسل کی اجازت مرحمت ہوئی اور شجرۂ مبارکہ کی پشت پردست مبارک سے سلسلہ عالیہ قادریہ منوریہ تحریر فرماکر اجازت دی ۔

سیرت و خصائص:
برہان الاصفیاء سلطان المتکلمین، شرف الاسلام والمسلمین حضرت مولانا الحاج شاہ رفاقت حسین رحمۃ اللہ علیہ چلتی پھرتی دینی درس گاہ تھے ۔ آپ زمانۂ طالب علمی میں جس طرح دوسرے طلباء سے ممتاز تھے اسی طرح خداداد تدریسی صلاحیت نے آپ کو ایک منفرد مقام عطا کیا ۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت صدر الشریعہ آپ کو اپنی معیت میں بریلی لائے، مدرسہ منظر اسلام میں درس و تدریس کا عہدہ سپرد کیا ۔

ایک سال بعد مدرسہ محمدیہ جائس ضلع رائے بریلی کے صدر مدرس ہوکر تشریف لے گئے، کچھ عرصہ بعد مدرسہ محمدیہ سے علیحدگی اختیار کرلی، بعدہٗ محلہ قضیانہ میں قیام کر کے مطب کے ساتھ درس دیتے رہے ۔ لکھنؤ میں شیعت کا زور تیزی سے پھیل رہا تھا، سب وشتم کا بازار گرم تھا حضرت قبلہ نے رو افض کا رد بلیغ فرمایا، جس سے اُن کا زور ٹوٹ گیا ۔

چند سال جامع مسجد سلطان پور کے خطیب رہے، یہاں مولوی امین نصیر آبادی کی سُنیت دشمن سرگمیوں کے انسداد کے لیے گوشش فرمائی، یہاں سے عقیدت مندانِ جائسی کی درخواست پر چندے جائس قیام فرما کر و طن مراجعت فرمائی، قضاء الٰہی شدید بیمار ہوکر صاحب فراش ہوگئے، بارے خدا نے صحت عطا فرمائی ۔ وطن میں طبابت کا مشغلہ رہا۔ تین سال بعد پھر جائس تشریف لے گئے،تقریباً سترہ برس بعد مدرسہ احسن المدارس کانپور کے مفتئ اعظم کا منصب رفیع سپرد کیا۔

آپ کانپور سے بار ادہ حج وزارت روانہ ہوئے، مکہ معظمہ میں الگ قیام جماعت کے سبب قاضی نجدی سے گفتگو ہوئی، آپ کامیاب اور وہ خائب و خاسر ہوا۔بعدہٗ دربار نبوی میں میں حاضری دی، حضرت قطب مدینہ منورہ مولانا شاہ محمد ضیاء الدین قادری مدظلہٗ نے سند حدیث اور سلسلۂ عالیہ قادریہ کی اجازت مرحمت فرمائی ۔

تاریخِ وصال:
آپ رحمۃ اللہ علیہ 3 ربیع الثانی 1403ھ / بمطابق جنوری 1983ء کو وصال ہوا ۔

ماخذ و مراجع: تذکرۂ علماء اہلسنت

https://scholars.pk/ur/scholar/peer-e-tariqat-hazrat-molana-muftialhaj-shah-rafaqat
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت خواجہ محمد باقی باللہ نقشبندی رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
آپ کا اصل نام محمد باقی المعروف خواجہ محمد باقی باللہ بن قاضی عبد السلام بن قاضی عبد اللہ بن قاضی اجر (علیہم الرحمہ) ہے ۔

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت با سعادت ۵ ذوالحجہ ۹۷۱ھ / بمطابق ۱۵ جولائی ۱۵۶۴ء کو کابل (افغانستان) میں ہوئی ۔

ابتدائی تعلیم:
آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے وقت کے جید عالم مولانا محمد صادق حلوائی سے حاصل کی،اور مزید تعلیم کاسلسلہ بھی آپ سے ہی جاری رکھا۔اگرچہ مروجہ طریقہ پر علوم کی تکمیل نہ ہو سکی ۔ لیکن طبعی ذکاوت اور سرورِ عالم ﷺ کے فیض سے آپ کتبِ متداولہ کے مشکل سے مشکل مقامات کو بآسانی حل فرما لیا کرتے تھے۔

بیعت و خلافت:
آپ شاہِ نقشبند حضرت بہاؤ الدین نقشبند کے اویسی تھے، اور ظاہری بیعت حضرت خواجہ محمد مقتدیٰ امکنگی علیہ الرحمہ سے تھی ۔

سیرت و خصائص:
بچپن ہی سے بزرگی و ہمت اور تجرید و تفرید کے آثار آپ کی پیشانی سے ظاہر تھے۔سترِ احوال، عزلت نشینی اور گمنامی آپ کا شیوہ تھا۔ آپ علماء اور سادات کا غایت درجہ احترام کرتے تھے، شرعی معاملات میں بالعموم پرہیزگار علماء و فقہاء سے رجوع فرماتے تھے، اور فتویٰ حاصل کرنے والوں کو انہی علماء کی طرف بھیجتے تھے ،اور تمام درویشوں کو شریعت کی پابندی کی نصیحت فرماتے تھے۔ بلکہ مرید کرنے سے زیادہ آپ شریعت کے احیاء اور تبلیغ پر زور دیتے تھے ۔ کسی کو بڑے اصرا ر اور طویل آزمائش کے بعد مرید کرتے تھے ۔

آپ کے غلبۂ عشق الٰہی کا یہ حال تھا کہ جس پر آپ کی نظر پڑ جاتی وہ مرغِ بسمل کی طرح تڑپنے لگتا اور اگر ہوش میں رہتا تو اشکباری کرتا ورنہ بے ہوش ہوجاتا اور اس کو دنیا ومافیہا کی کوئی خبر نہ رہتی۔آپ کی شفقت و ترحم کا یہ عالم تھا کہ ایک دفعہ لاہور میں قحط پڑا، تو آپ اُس وقت وہاں تشریف فرما تھے، کئی دن تک کھانا نہ کھایا جس وقت کھانا سامنے رکھا جاتا فرماتے: کہ یہ انصاف سے بعید ہے کہ ایک شخص تو گلی کوچہ میں بھوک کیوجہ سے جان دے رہاہو اور ہم کھانا کھائیں، ماحضر کو بھوکوں کے لیے بھیج دیتے ۔

آپ نہ صرف انسانوں پر رحمت و شفقت فرماتے تھے بلکہ جانوروں پر بھی بے حد شفیق تھے۔ چنانچہ ایک دفعہ رات کو تہجد کے لیے اُٹھے تو ایک بلی آکر لحاف پر سو گئی۔ جب آپ نماز تہجد سے فارغ ہوکر بستر پر تشریف لائے تو بلی کو لحاف پر سوتے دیکھا اُس وقت آپ نے ازراہِ شفقت بلی کو نہیں جگایا اور خود صبح تک بیٹھے موسمِ سرما کی تکلیف برداشت کرتے رہے۔

آپ کی عظمت و علو رتبہ کی شہادت میں یہی کافی ہے کہ امامِ ربانی حضرت مجدد الفِ ثانی، اور محقق علی الاطلاق شیخ عبدالحق محدث دہلوی علیہما الرحمہ آپکے فیض یافتہ تھے۔آپ صرف دو تین سالہ مسندِ مشیخیت پر جلوہ افروز رہے مگر اس قلیل عرصہ میں کس قدر بندگان خدا آپ کے فیض سے بہرہ ور ہوئے اور کیسی کیسی برکتیں آپ کی بدولت برصغیر پاک و ہند میں ظاہر ہوئیں۔ سلسلہ عالیہ نقشبندیہ ان علاقوں میں محدود تھا آپکی بدولت عام ہوگیا۔

وصال:
بروز ہفتہ ۲۵ جمادی الثانی ۱۰۱۲ھ / مطابق ۲۹ نومبر ۱۶۰۳ء کو وصال ہوا ۔ آپ کا مزار دہلی (اِنڈیا) میں مرجعِ خاص و عام ہے ۔

صاحبِِ کشف و کرامت شہِ باقی باللہ
وقفِ رُشد و ہدایت شہِ باقی باللہ

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-baqi-billah-naqshbandi
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت امام علی نقی ہادی علیہ‌الرحمہ

اسمِ گرامی: علی ۔ کنیت: ابو الحسن ۔
القاب: نقی، ہادی، زکی، عسکری، متوکل، ناصح، فقیہ، امین، طیب ۔

نسب:
حضرت سیّدنا امام علی نقی علیہ الرحمہ کا سلسلۂ نسب اِس طرح ہے: حضرت سیّدنا علی نقی بن محمد بن علی بن موسیٰ بن جعفر بن محمدبن علی بن حسین بن علی المرتضیٰ و فاطمۃ الزہرا بنتِ رسول اللہ ﷺ ۔

والدہ ماجدہ:
آپ کی والدۂ محترمہ کا نام حضرت سمانہ ہے ۔

ولادت:
آپ کی ولادتِ باسعادت بروز جمعۃ المبارک 13 رجب المرجب 214ھ مطابق 14 ستمبر 829ء کو مدینۃ المنورہ میں ہوئی ۔

سیرت و خصائص:
نقی، تقی، ہادی زکی، ناصح، فقیہ، محدث، طیب، طاہر حضرت امام لمسلمین سیّدنا امام علی نقی علیہ الرحمہ

آپ علم و عمل، زُہد و تقویٰ میں اپنے آبا و اَجداد کی علمی و روحانی امانتوں کے امین و وارثِ کامل تھے ۔ جب چھ سال کی عمر کو پہنچے تو والدِ ماجد کا انتقال ہو گیا۔ بچپن ہی میں کرامات کا ظہور شروع ہو گیا تھا ۔ دور سے ہی معلوم ہوتا تھا کہ یہ خاندانِ نبوّت کے چشم و چراغ ہیں۔

اللہ جل شانہ نے اِس امّتِ مرحومہ کے دلوں میں فطری طور پر اِس خاندان کی محبّت و دیعت فرما دی ہے، اور ان کی محبت کو ایمان کی علامت بتایا گیا ہے۔ یہ جہاں بھی تشریف فرما ہوتے تھے مخلوقِ خدا پروانہ وار ان پر گرتی تھی اور دنیا کے بندے جن کے پاس کرسی، عہدے، لشکر وغیرہ ہر چیز ہوتی تھی، وہ یہ چیزیں دیکھ کر حیران اور حسد کی بیماری میں مبتلا ہو جاتے کہ سب کچھ تو ہمارے پاس ہے لیکن ہماری وہ عزّت و شوکت نہیں ہے، جو اس گلستانِ کرم کے ایک پھول کی ہے ۔ آپ کو بھی اس راستے میں ستایا گیا، تکلیفیں دی گئیں؛ لیکن آپ جرأتِ حیدری اور صبرِِ حسینی کی مثال بن کر شان و شوکت کی زندگی گزارتے رہے ۔ کبھی کسی سے انتقام نہیں لیا جو بھی آیا خالی ہاتھ نہ گیا۔

حضرت امام نقی ایک دن رے کے دیہات میں تشریف لے گئے ۔ ایک دیہاتی نے آ کر عرض کی کہ میرے ذمّے ایک بہت بڑا قرضہ ہے کہ میں اس کے ادا کرنے سے قاصر ہوں۔ حضرت امام اس کی بات سے اتنے متاثر ہوئے کہ ایک رقعہ تیس ہزار کا لکھ دیا اور اپنی مہر چسپاں کردی اور اس کے حوالے کرتے ہُوئے کہا کل جب میں اُمراء میں بیٹھا ہوا ہوں لے آنا اور شدید تقاضا کرنا اور بے شک درشت کلامی بھی کر لینا اور اس تدبیر سے تمہارا قرضہ بےباک کرنے میں مدد مل جائے گی۔ دیہاتی نے وہ تمسک لیا اور چلا گیا۔ ایک دن خلیفۂ بغداد سے ملنے کے لیے بہت سی مخلوق آئی ہوئی تھی، مجلس جمی ہوئی تھی۔ اعرابی آ گیا اور تمسک نامہ پیش کیا اور تیس ہزار روپے کا تقاضا کرنے لگا اور سخت توہین آمیز الفاظ استعمال کرتا رہا۔ حضرت امام نے بڑی نرمی سے اسے ٹالا اور سہولت کے ساتھ ادائیگی کا وعدہ کرلیا۔ خلیفہ نے یہ صورتِ حال دیکھی۔ تیس ہزار روپے خزانے سے منگوا کر حضرت امام کی خدمت میں پیش کیے اور یُوں آپ نے اُس دیہاتی کو دے کر روانہ کیا۔

فضل و کمال:
متوکل نے اپنے گھر میں ہر قسم کے پرندے جمع کر رکھے تھے۔ اُن کے شور و غل سے بات سنی نہیں جاتی تھی۔ جب سیّدناامام علی نقی علیہ الرحمہ وہاں تشریف لے جاتے تو تمام پرندے خاموش ہو جاتے تھے۔ جب تک بیٹھے رہتے کسی جانور کی آواز نہ آتی تھی ۔

ہندوستان کا ایک شعبدہ باز خلیفہ متوکل کے دربار میں آیا اور عجیب و غریب شعبدے دکھانے لگا؛ ایک دن متوکل نے شعبدے باز سے کہا:

’’اگر تم اپنے شعبدے سے امام علی نقی کو شرمندہ کر دکھاؤ تو میں تمہیں ایک ہزار دینار انعام دوں گا۔‘‘

وہ کہنے لگا:
’’مجھے مجلس میں امام کے بالکل قریب بٹھا دینا، میں اُنہیں شرمندہ کر دوں گا۔‘‘

جب مجلس لگی تو حضرت امام کو اس شعبدے باز کے ساتھ ہی کھانا کھانے کو کہا گیا ۔ جب امام اور دوسرے اہل مجلس کھانا کھانے لگے تو حضرت امام علی نقی نے جس روٹی کی طرف ہاتھ بڑھایا وہ اُڑ کر دوسرے شخص کی طرف چلی گئی ۔ دوسری بار ہاتھ بڑھایا تو پھر ایسا ہی ہوا ۔ تیسری بار بھی ایسا ہی ہوا ۔

اہلِ مجلس اس شعبدے سے بڑے محظوظ ہوئے اور حضرت امام پر ہنسنے لگے ۔ آپ نے معلوم کر لیا کہ اس شعبدے کا مقام یہاں ہے، جو شخص میرے پاس بیٹھا ہے۔ آپ نے سر اٹھا کر دیکھا تو اُس مکان کی دیوار پر ایک شیر کی تصویر نقش تھی ۔

آپ نے اُس شیر کی طرف اشارہ کرکے کہا:

’’ اِس دشمنِ اہلِ بیت کو پکڑ لو ۔ ‘‘

حکم سنتے ہی تصویر والا شیر اصلی شیر کی طرح اُٹھا اور شعبدے باز کا ایک لقمہ کرکے پھر دیوار پر نقش بن گیا۔ متوکل نے بڑی کوشش کی کہ اُسے لوٹا دیا جائے مگر آپ نے ایک نہ مانی ۔

آپ نے فرمایا:
’’خدا کی قسم! ایسا کبھی نہیں ہو سکتا‘‘

آپ غصے کے عالم میں مجلس سے اُٹھ کر چلے آئے ۔
1👍1
آپ نےساری زندگی رسول اللہ ﷺ کےدین کی خدمت اور نشر و اشاعت فرمائی۔ لوگوں کو وعظ و نصیحت اور اُن کا تزکیۂ نفس آپ کا مشغلہ تھا ۔ لوگوں کو دنیا کی بےثباتی اور اس کی محبت کے نقصانات اور اس کے مقابلے میں اخروی نعمتیں اور اُن کی ثباتی اور اللہ جل شانہ اور اس کےحبیب ﷺ کی محبت کی تلقین فرماتے تھے۔ ہر قسم کے دنیاوی عہدوں، منصبوں اور دنیا داروں سے دور رہتے تھے ۔

علامہ جامی علیہ‌الرحمہ فرماتے ہیں:
’’حضرت رضا علی بن محمد موسیٰ سے منقول ہے کہ

جس شخص نےآپ کی مرقد کی زیارت کی، اُسےجنّت کا حصول ہوگا۔‘‘ (صحیح العقیدہ ہونا شرط ہے) (بارہ امام: صفحہ208)

وصال:
آپ کاوصال 25 جمادی الآخرہ 254ھ / مطابق 19 جون 868ء کو ہوا ۔ مزار شریف ’’سامرہ‘‘ عراق میں مرجعِ خلائق ہے ۔

مآخذ و مَراجع:
خزینۃ الاصفیاء ۔ شریف التواریخ ۔ اقتباس الانوار ۔ بارہ امام ، علامہ جامی ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-imam-ul-muslimeen-syedna-imam-ali-naqi
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
24-06-1445 ᴴ | 07-01-2024 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
25-06-1445 ᴴ | 08-01-2024 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1