🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
شیخ ابو الحسن امام سری سقطی رَضِیَ الــلّٰــهُ تَـبَـارَڪَ وَ تَــعَــالیٰ عَــنۡـہۡ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬ یومِ ولادت ... ............... ھ یومِ وصال ¹³ رمضان المبارک ۳۵۲ھ ➻═══════════➻ TTS AʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge ➻═══════════➻
بحر العلوم حـضـرت عـلامـہ مفتی
سید محمد افضل حسین رضوی
رَحۡـــمَـــةُ الــلّٰــهِ تَــعَــالیٰ عَـــلَـــیۡـــه
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
یومِ ولادت ¹⁴رمضان المبارک ۷۳۳۱ھ
یومِ وصال ²⁰ رجب المرجب ۲۰۴۱ھ
➻═══════════➻
TTS AʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
سید محمد افضل حسین رضوی
رَحۡـــمَـــةُ الــلّٰــهِ تَــعَــالیٰ عَـــلَـــیۡـــه
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
یومِ ولادت ¹⁴رمضان المبارک ۷۳۳۱ھ
یومِ وصال ²⁰ رجب المرجب ۲۰۴۱ھ
➻═══════════➻
TTS AʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
📝 *فیضان خلاصہ تراویح*📝
✍🏻 *ابو بنتین محمد فراز عطاری مدنی*
👑 *پارہ 16،قَالَ اَلَمْ*
📢 پارہ 15 کے خلاصے کے آخر میں بیان کیا گیا تھا کہ موسی علیہ السلام خضر علیہ السلام کے پاس پہنچے تھے، اور ان کے درمیان کچھ گفتگو ہوئی جو 15ویں پارے کے آخر سے شروع ہوتی ہے۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے حضرت خضر علیہ السلام سے کہا: کیا اس شرط پر میں آپ کے ساتھ رہوں کہ آپ مجھے وہ درست بات سکھا دیں جو آپ کو سکھائی گئی ہے، حضرت خضر علیہ السلام نے فرمایا: آپ میرے ساتھ ہرگز نہ ٹھہر سکیں گے۔حضرت خضر علیہ السلام نے اس کی وجہ خود ہی بیان فرما دی اور فرمایا ’’ اور آپ اس بات پر کس طرح صبر کریں گے جسے آپ کا علم محیط نہیں اور ظاہر میں وہ منع ہیں۔حضرت خضر علیہ السلام نے فرمایاکہ اگر آپ کو میرے ساتھ رہنا ہے تو آپ میرے کسی ایسے عمل کے بارے میں مجھ سے سوال نہ کرنا جو آپ کی نظر میں ناپسندیدہ ہو جب تک میں خود آپ کے سامنے اس کا ذکر نہ کردوں۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت خضر علیہ السلام کشتی کی تلاش میں ساحل کے کنارے چلنے لگے۔جب ان کے پاس سے ایک کشتی گزری تو کشتی والوں نے حضرت خضر علیہ السلام کو پہچان کر بغیر معاوضہ کے سوار کرلیا، جب کشتی سمندر کے بیچ میں پہنچی تو حضرت خضر علیہ السلام نے کلہاڑی کے ذریعے اس کا ایک تختہ یا دو تختے اکھاڑ ڈالے۔ یہ دیکھ کر حضرت موسیٰ علیہ السلام خاموش نہ رہ سکے اور فرمایا: کیا تم نے اس کشتی کو اس لیے چیر دیا تاکہ کشتی والوں کو غرق کردو، بیشک یہ تم نے بہت برا کام کیا۔ حضرت خضر علیہ السلام نے ان سے فرمایا: کیا میں نہ کہتا تھا کہ آپ میرے ساتھ ہرگز نہ ٹھہر سکیں گے۔حضرت موسیٰ علیہ السلام نے معذرت فرمائی کہ میں آپ سے کیا وعدہ بھول گیا تھا لہٰذا اس پر میرا مواخذہ نہ کریں۔
کشتی سے اتر کر وہ دونوں چلے اور ایک ایسے مقام پر گزرے جہاں لڑکے کھیل رہے تھے۔ وہاں انہیں ایک لڑکا ملا جوکافی خوبصورت تھا اور حدِ بلوغ کو نہ پہنچا تھا۔ بعض مفسرین نے کہا وہ لڑکا جوان تھا اور رہزنی کیا کرتا تھا۔حضرت خضر علیہ السلام نے اسے قتل کردیا۔ یہ دیکھ کر حضرت موسیٰ علیہ السلام سے پھر نہ رہا گیا اور آپ نے فرمایا: کیا تم نے کسی جان کے بدلے کے بغیر ایک پاکیزہ جان جس کا کوئی گناہ ثابت نہ تھا کو قتل کردیا؟ بیشک تم نے بہت ناپسندیدہ کام کیا ہے۔جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے حضرت خضر علیہ السلام کے فعل پر کلام فرمایا تو آپ علیہ السلام نے کہا: اے موسیٰ! علیہ السلام ، میں نے آپ سے نہ کہا تھا کہ آپ ہرگز میرے ساتھ نہ ٹھہر سکیں گے۔حضرت خضر علیہ السلام کی بات کے جواب میں حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا: اگر اس مرتبہ کے بعد میں آپ سے کسی شے کے بارے میں سوال کروں تو پھر مجھے اپنا ساتھی نہ رکھنا اگرچہ میں آپ کے ساتھ رہنے کا تقاضا کروں اور جب میں تیسری بار ایسا کروں تو بیشک اس صورت میں میری طرف سے آپ کے ساتھ نہ رہنے میں آپ کا عذر پورا ہوچکا۔
اس گفتگو کے بعد حضرت خضر علیہ السلام اور حضرت موسیٰ علیہ السلام چلنے لگے یہاں تک کہ جب ایک بستی والوں کے پاس آئے توان حضرات نے اس بستی کے باشندوں سے کھانا مانگا، انہوں نے ان دونوں کی مہمان نوازی کرنے سے انکار کردیا۔ پھر دونوں نے اس گاؤں میں ایک دیوار پائی جو گرنے والی تھی تو حضرت خضر علیہ السلام نے اپنے دستِ مبارک سے اسے سیدھا کردیا۔ یہ دیکھ کرحضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: اگر آپ چاہتے تو اس دیوار کو سیدھی کرنے پر کچھ مزدوری لے لیتے کیونکہ یہ ہماری حاجت کا وقت ہے اور بستی والوں نے ہماری کچھ مہمان نوازی نہیں کی، اس لئے ایسی حالت میں ان کا کام بنانے پر اجرت لینا مناسب تھا۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرف سے تیسری مرتبہ اپنے فعل پر کلام سن کر حضرت خضر علیہ السلام نے ان سے فرمایا ’’ یہ میری اور آپ علیہ السلام کی جدائی کا وقت ہے۔ اب میں جدا ہونے سے پہلے آپ علیہ السلام کو ان باتوں کا اصل مطلب بتاؤں گا جن پر آپ علیہ السلام صبر نہ فرما سکے اور اُن کے اندر جو راز تھے ان کا اظہار کردوں گا۔
حضرت خضر علیہ السلام ے اپنے افعال کی حقیقت سے پردہ اٹھاتے ہوئے فرمایا ’’وہ جو میں نے کشتی کا تختہ اکھاڑا تھا، اس سے میرا مقصد کشتی والوں کو ڈبو دینا نہیں تھا بلکہ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ کشتی دس مسکین بھائیوں کی تھی، ان میں پانچ تو اپاہج تھے جو کچھ نہیں کرسکتے تھے اور پانچ تندرست تھے جو دریا میں کام کرتے تھے اور اسی پر ان کے روزگار کا دارومدار تھا۔ ان کے آگے ایک بادشاہ تھا اور انہیں واپسی میں اس کے پاس سے گزرنا تھا، کشتی والوں کو اس کا حال معلوم نہ تھا اور اس کا طریقہ یہ تھا کہ وہ ہرصحیح سلامت کشتی کو زبردستی چھین لیتا اور اگر عیب دار ہوتی تو چھوڑ دیتا تھا اس لئے میں نے اس کشتی کو عیب دار کردیا تاکہ وہ ان غریبوں کے لئے بچ جائے۔
اپنے دوسرے فعل کی حکمت بیان کرتے ہوئے حضرت خضر علیہ السلام نے فرمایا کہ و
✍🏻 *ابو بنتین محمد فراز عطاری مدنی*
👑 *پارہ 16،قَالَ اَلَمْ*
📢 پارہ 15 کے خلاصے کے آخر میں بیان کیا گیا تھا کہ موسی علیہ السلام خضر علیہ السلام کے پاس پہنچے تھے، اور ان کے درمیان کچھ گفتگو ہوئی جو 15ویں پارے کے آخر سے شروع ہوتی ہے۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے حضرت خضر علیہ السلام سے کہا: کیا اس شرط پر میں آپ کے ساتھ رہوں کہ آپ مجھے وہ درست بات سکھا دیں جو آپ کو سکھائی گئی ہے، حضرت خضر علیہ السلام نے فرمایا: آپ میرے ساتھ ہرگز نہ ٹھہر سکیں گے۔حضرت خضر علیہ السلام نے اس کی وجہ خود ہی بیان فرما دی اور فرمایا ’’ اور آپ اس بات پر کس طرح صبر کریں گے جسے آپ کا علم محیط نہیں اور ظاہر میں وہ منع ہیں۔حضرت خضر علیہ السلام نے فرمایاکہ اگر آپ کو میرے ساتھ رہنا ہے تو آپ میرے کسی ایسے عمل کے بارے میں مجھ سے سوال نہ کرنا جو آپ کی نظر میں ناپسندیدہ ہو جب تک میں خود آپ کے سامنے اس کا ذکر نہ کردوں۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت خضر علیہ السلام کشتی کی تلاش میں ساحل کے کنارے چلنے لگے۔جب ان کے پاس سے ایک کشتی گزری تو کشتی والوں نے حضرت خضر علیہ السلام کو پہچان کر بغیر معاوضہ کے سوار کرلیا، جب کشتی سمندر کے بیچ میں پہنچی تو حضرت خضر علیہ السلام نے کلہاڑی کے ذریعے اس کا ایک تختہ یا دو تختے اکھاڑ ڈالے۔ یہ دیکھ کر حضرت موسیٰ علیہ السلام خاموش نہ رہ سکے اور فرمایا: کیا تم نے اس کشتی کو اس لیے چیر دیا تاکہ کشتی والوں کو غرق کردو، بیشک یہ تم نے بہت برا کام کیا۔ حضرت خضر علیہ السلام نے ان سے فرمایا: کیا میں نہ کہتا تھا کہ آپ میرے ساتھ ہرگز نہ ٹھہر سکیں گے۔حضرت موسیٰ علیہ السلام نے معذرت فرمائی کہ میں آپ سے کیا وعدہ بھول گیا تھا لہٰذا اس پر میرا مواخذہ نہ کریں۔
کشتی سے اتر کر وہ دونوں چلے اور ایک ایسے مقام پر گزرے جہاں لڑکے کھیل رہے تھے۔ وہاں انہیں ایک لڑکا ملا جوکافی خوبصورت تھا اور حدِ بلوغ کو نہ پہنچا تھا۔ بعض مفسرین نے کہا وہ لڑکا جوان تھا اور رہزنی کیا کرتا تھا۔حضرت خضر علیہ السلام نے اسے قتل کردیا۔ یہ دیکھ کر حضرت موسیٰ علیہ السلام سے پھر نہ رہا گیا اور آپ نے فرمایا: کیا تم نے کسی جان کے بدلے کے بغیر ایک پاکیزہ جان جس کا کوئی گناہ ثابت نہ تھا کو قتل کردیا؟ بیشک تم نے بہت ناپسندیدہ کام کیا ہے۔جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے حضرت خضر علیہ السلام کے فعل پر کلام فرمایا تو آپ علیہ السلام نے کہا: اے موسیٰ! علیہ السلام ، میں نے آپ سے نہ کہا تھا کہ آپ ہرگز میرے ساتھ نہ ٹھہر سکیں گے۔حضرت خضر علیہ السلام کی بات کے جواب میں حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا: اگر اس مرتبہ کے بعد میں آپ سے کسی شے کے بارے میں سوال کروں تو پھر مجھے اپنا ساتھی نہ رکھنا اگرچہ میں آپ کے ساتھ رہنے کا تقاضا کروں اور جب میں تیسری بار ایسا کروں تو بیشک اس صورت میں میری طرف سے آپ کے ساتھ نہ رہنے میں آپ کا عذر پورا ہوچکا۔
اس گفتگو کے بعد حضرت خضر علیہ السلام اور حضرت موسیٰ علیہ السلام چلنے لگے یہاں تک کہ جب ایک بستی والوں کے پاس آئے توان حضرات نے اس بستی کے باشندوں سے کھانا مانگا، انہوں نے ان دونوں کی مہمان نوازی کرنے سے انکار کردیا۔ پھر دونوں نے اس گاؤں میں ایک دیوار پائی جو گرنے والی تھی تو حضرت خضر علیہ السلام نے اپنے دستِ مبارک سے اسے سیدھا کردیا۔ یہ دیکھ کرحضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: اگر آپ چاہتے تو اس دیوار کو سیدھی کرنے پر کچھ مزدوری لے لیتے کیونکہ یہ ہماری حاجت کا وقت ہے اور بستی والوں نے ہماری کچھ مہمان نوازی نہیں کی، اس لئے ایسی حالت میں ان کا کام بنانے پر اجرت لینا مناسب تھا۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرف سے تیسری مرتبہ اپنے فعل پر کلام سن کر حضرت خضر علیہ السلام نے ان سے فرمایا ’’ یہ میری اور آپ علیہ السلام کی جدائی کا وقت ہے۔ اب میں جدا ہونے سے پہلے آپ علیہ السلام کو ان باتوں کا اصل مطلب بتاؤں گا جن پر آپ علیہ السلام صبر نہ فرما سکے اور اُن کے اندر جو راز تھے ان کا اظہار کردوں گا۔
حضرت خضر علیہ السلام ے اپنے افعال کی حقیقت سے پردہ اٹھاتے ہوئے فرمایا ’’وہ جو میں نے کشتی کا تختہ اکھاڑا تھا، اس سے میرا مقصد کشتی والوں کو ڈبو دینا نہیں تھا بلکہ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ کشتی دس مسکین بھائیوں کی تھی، ان میں پانچ تو اپاہج تھے جو کچھ نہیں کرسکتے تھے اور پانچ تندرست تھے جو دریا میں کام کرتے تھے اور اسی پر ان کے روزگار کا دارومدار تھا۔ ان کے آگے ایک بادشاہ تھا اور انہیں واپسی میں اس کے پاس سے گزرنا تھا، کشتی والوں کو اس کا حال معلوم نہ تھا اور اس کا طریقہ یہ تھا کہ وہ ہرصحیح سلامت کشتی کو زبردستی چھین لیتا اور اگر عیب دار ہوتی تو چھوڑ دیتا تھا اس لئے میں نے اس کشتی کو عیب دار کردیا تاکہ وہ ان غریبوں کے لئے بچ جائے۔
اپنے دوسرے فعل کی حکمت بیان کرتے ہوئے حضرت خضر علیہ السلام نے فرمایا کہ و
ہ لڑکا جسے میں نے قتل کیا تھا، اس کے ماں باپ مسلمان تھے تو ہمیں ڈر ہوا کہ وہ بڑا ہوکر انہیں بھی سرکشی اور کفر میں ڈال دے گا اور وہ اس لڑکے کی محبت میں دین سے پھر جائیں اور گمراہ ہوجائیں گے، اس لئے ہم نے چاہا کہ ان کا رب اس لڑکے سے بہتر ،گناہوں اور نجاستوں سے پاک اور ستھرا اور پہلے سے زیادہ اچھا لڑکا عطا فرمائے جو والدین کے ساتھ ادب سے پیش آئے، ان سے حسنِ سلوک کرے اور ان سے دلی محبت رکھتا ہو۔ حضرت خضر علیہ السلام کا یہ اندیشہ اس سبب سے تھا کہ وہ اللہ پاک کے خبر دینے کی وجہ سے اس لڑکے کے باطنی حال کو جانتے تھے۔ یہ بھی یاد رہے کہ ہمارے زمانے میں اگر کوئی ولی کسی کے ایسے باطنی حال پر مطلع ہوجائے کہ یہ آگے جا کر کفر اختیار کر لے گا اور دوسروں کو کافر بھی بنا دے گا اور اس کی موت بھی حالتِ کفر میں ہوگی تو وہ ولی اس بنا پر اسے قتل نہیں کر سکتا، اللہ پاک نے انہیں اس کے بدلے ایک مسلمان لڑکا عطا کیا اور ایک قول یہ ہے کہ اللہ پاک نے انہیں ایک بیٹی عطا کی جو ایک نبی علیہ السلام کے نکاح میں آئی اور اس سے نبی علیہ السلام پیدا ہوئے جن کے ہاتھ پر اللہ پاک نے ایک اُمت کو ہدایت دی۔
حضرت خضر علیہ السلام نے اپنے تیسرے فعل یعنی دیوار سیدھی کرنے کی حکمت بیان کرتے ہوئے فرمایا ’’اور بہرحال دیوار کا جہاں تک تعلق ہے تو وہ شہرکے دو یتیم لڑکوں کی تھی جن کے نام اصرم اور صریم تھے اور اس دیوار کے نیچے ان دونوں کا خزانہ تھا اور ان کا باپ نیک آدمی تھا تو اللہ پاک نے چاہا کہ وہ دونوں اپنی جوانی کو پہنچیں اور اُن کی عقل کامل ہوجائے اور وہ قوی و توانا ہوجائیں اور اپنا خزانہ نکالیں یہ سب اللہ پاک کی رحمت سے ہے اور جو کچھ میں نے کیا وہ میری اپنی مرضی سے نہ تھا بلکہ اللہ پاک کے حکم سے تھا۔یہ ان باتوں کا اصل مطلب ہے جس پر آپ علیہ السلام صبر نہ کرسکے۔
⁉️ اس کے بعد حضرت ذوالقرنین رضی اللہ عنہ کے سفر کا تذکرہ ہے۔
حضرت ذوالقرنین رضی اللہ عنہ کے سفر کی ابتدا اس طرح ہوئی کہ انہوں نے کتابوں میں دیکھا تھا کہ حضرت نوح علیہ السلام کے بیٹے سام کی اولاد میں سے ایک شخص چشمۂ حیات سے پانی پئے گا اور اس کو موت نہ آئے گی۔ یہ دیکھ کر وہ چشمۂ حیات کی طلب میں مغرب و مشرق کی طرف روانہ ہوئے ، اس سفر میں آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھ حضرت خضر علیہ السلام بھی تھے، وہ تو چشمۂ حیات تک پہنچ گئے اور انہوں نے اس میں سے پی بھی لیا مگر حضرت ذوالقرنین رضی اللہ عنہ کے مقدر میں نہ تھا اس لئے انہوں نے وہ چشمہ نہ پایا ۔ اس سفر میں مغرب کی جانب روانہ ہوئے تو جہاں تک آبادی ہے وہ سب منزلیں طے کر ڈالیں اور مغرب کی سمت میں وہاں تک پہنچے جہاں آبادی کا نام و نشان باقی نہ رہا ، وہاں انہیں سورج غروب ہوتے وقت ایسا نظر آیا گویا کہ وہ سیاہ چشمہ میں ڈوبتا ہے جیسا کہ دریائی سفر کرنے والے کو پانی میں ڈوبتا معلوم ہوتا ہے۔حضرت ذوالقرنین رضی اللہ عنہ نے اس چشمے کے پاس ہی ایک ایسی قوم کو پایا جو شکار کئے ہوئے جانوروں کے چمڑے پہنے تھے، اس کے سوا اُن کے بدن پر اور کوئی لباس نہ تھے اور دریائی مردہ جانور اُن کی غذا تھے۔ یہ لوگ کافر تھے۔اللہ پاک نے اِلہام کے طور پرفرمایا: اے ذوالقرنین! یا تو تُو انہیں سزا دے اور اُن میں سے جو اسلام میں داخل نہ ہو اس کو قتل کردے یا اگر وہ ایمان لائیں تو ان کے بارے میں بھلائی اختیار کر اور انہیں اَحکامِ شرع کی تعلیم دے۔
حضرت ذوالقر نین نے اللہ پاک کی طرف سے حکم ملنے کے بعد کہا ’’بہرحال جس نے کفرو شرک اختیار کیا اور میری دعوت کو ٹھکرا کر ایمان نہ لایا تو عنقریب ہم اسے قتل کردیں گے، یہ تو اس کی دُنْیَوی سزا ہے ، پھر وہ قیامت کے دن اپنے رب کی طرف لوٹایا جائے گا تو وہ اسے جہنم کابہت برا عذاب دے گا اور جو ایمان لایا اور اس نے ایمان کے تقاضوں کے مطابق نیک عمل کیا تو اس کیلئے جزا کے طور پر بھلائی یعنی جنت ہے اور عنقریب ہم اس ایمان والے کو آسان کام کہیں گے اور اس کو ایسی چیزوں کا حکم دیں گے جو اس پر دشوار نہ ہوں۔پھر حضرت ذوالقرنین رضی اللہ عنہ مشرق کی طرف ایک راستے کے پیچھے چلے۔وہاں ایک قوم اس جگہ پر تھی جہاں ان کے اور سورج کے درمیان کوئی چیز پہاڑ درخت وغیرہ حائل نہ تھی اور نہ وہاں زمین کی نرمی کی وجہ سے کوئی عمارت قائم ہو سکتی تھی اور وہاں کے لوگوں کا یہ حال تھا کہ طلوعِ آفتاب کے وقت زمین کے اندر بنائے ہوئے تہ خانوں میں گھس جاتے تھے اور زوال کے بعد نکل کر اپنا کام کاج کرتے تھے۔
حضرت ذوالقرنین رضی اللہ عنہ جب مشرق و مغرب تک پہنچ گئے تو اب کی بار انہوں نے شمال کی جانب سفر شروع فرمایا یہاں تک کہ وہ دو پہاڑوں کے درمیان تک جا پہنچے اور یہ سب اللہ پاک کی طرف سے عطا کردہ علم اور قدرت کی وجہ سے واقع ہوا۔جب حضرت ذوالقرنین رضی اللہ عنہ شمال کی جانب ا س جگہ پہنچے جہاں انسانی آبادی ختم ہو جاتی تھی تووہاں دو بڑے عالیشان پہاڑ دیکھے جن کے اُس طرف یاجوج ماجوج کی قوم آباد تھی جو کہ دو
حضرت خضر علیہ السلام نے اپنے تیسرے فعل یعنی دیوار سیدھی کرنے کی حکمت بیان کرتے ہوئے فرمایا ’’اور بہرحال دیوار کا جہاں تک تعلق ہے تو وہ شہرکے دو یتیم لڑکوں کی تھی جن کے نام اصرم اور صریم تھے اور اس دیوار کے نیچے ان دونوں کا خزانہ تھا اور ان کا باپ نیک آدمی تھا تو اللہ پاک نے چاہا کہ وہ دونوں اپنی جوانی کو پہنچیں اور اُن کی عقل کامل ہوجائے اور وہ قوی و توانا ہوجائیں اور اپنا خزانہ نکالیں یہ سب اللہ پاک کی رحمت سے ہے اور جو کچھ میں نے کیا وہ میری اپنی مرضی سے نہ تھا بلکہ اللہ پاک کے حکم سے تھا۔یہ ان باتوں کا اصل مطلب ہے جس پر آپ علیہ السلام صبر نہ کرسکے۔
⁉️ اس کے بعد حضرت ذوالقرنین رضی اللہ عنہ کے سفر کا تذکرہ ہے۔
حضرت ذوالقرنین رضی اللہ عنہ کے سفر کی ابتدا اس طرح ہوئی کہ انہوں نے کتابوں میں دیکھا تھا کہ حضرت نوح علیہ السلام کے بیٹے سام کی اولاد میں سے ایک شخص چشمۂ حیات سے پانی پئے گا اور اس کو موت نہ آئے گی۔ یہ دیکھ کر وہ چشمۂ حیات کی طلب میں مغرب و مشرق کی طرف روانہ ہوئے ، اس سفر میں آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھ حضرت خضر علیہ السلام بھی تھے، وہ تو چشمۂ حیات تک پہنچ گئے اور انہوں نے اس میں سے پی بھی لیا مگر حضرت ذوالقرنین رضی اللہ عنہ کے مقدر میں نہ تھا اس لئے انہوں نے وہ چشمہ نہ پایا ۔ اس سفر میں مغرب کی جانب روانہ ہوئے تو جہاں تک آبادی ہے وہ سب منزلیں طے کر ڈالیں اور مغرب کی سمت میں وہاں تک پہنچے جہاں آبادی کا نام و نشان باقی نہ رہا ، وہاں انہیں سورج غروب ہوتے وقت ایسا نظر آیا گویا کہ وہ سیاہ چشمہ میں ڈوبتا ہے جیسا کہ دریائی سفر کرنے والے کو پانی میں ڈوبتا معلوم ہوتا ہے۔حضرت ذوالقرنین رضی اللہ عنہ نے اس چشمے کے پاس ہی ایک ایسی قوم کو پایا جو شکار کئے ہوئے جانوروں کے چمڑے پہنے تھے، اس کے سوا اُن کے بدن پر اور کوئی لباس نہ تھے اور دریائی مردہ جانور اُن کی غذا تھے۔ یہ لوگ کافر تھے۔اللہ پاک نے اِلہام کے طور پرفرمایا: اے ذوالقرنین! یا تو تُو انہیں سزا دے اور اُن میں سے جو اسلام میں داخل نہ ہو اس کو قتل کردے یا اگر وہ ایمان لائیں تو ان کے بارے میں بھلائی اختیار کر اور انہیں اَحکامِ شرع کی تعلیم دے۔
حضرت ذوالقر نین نے اللہ پاک کی طرف سے حکم ملنے کے بعد کہا ’’بہرحال جس نے کفرو شرک اختیار کیا اور میری دعوت کو ٹھکرا کر ایمان نہ لایا تو عنقریب ہم اسے قتل کردیں گے، یہ تو اس کی دُنْیَوی سزا ہے ، پھر وہ قیامت کے دن اپنے رب کی طرف لوٹایا جائے گا تو وہ اسے جہنم کابہت برا عذاب دے گا اور جو ایمان لایا اور اس نے ایمان کے تقاضوں کے مطابق نیک عمل کیا تو اس کیلئے جزا کے طور پر بھلائی یعنی جنت ہے اور عنقریب ہم اس ایمان والے کو آسان کام کہیں گے اور اس کو ایسی چیزوں کا حکم دیں گے جو اس پر دشوار نہ ہوں۔پھر حضرت ذوالقرنین رضی اللہ عنہ مشرق کی طرف ایک راستے کے پیچھے چلے۔وہاں ایک قوم اس جگہ پر تھی جہاں ان کے اور سورج کے درمیان کوئی چیز پہاڑ درخت وغیرہ حائل نہ تھی اور نہ وہاں زمین کی نرمی کی وجہ سے کوئی عمارت قائم ہو سکتی تھی اور وہاں کے لوگوں کا یہ حال تھا کہ طلوعِ آفتاب کے وقت زمین کے اندر بنائے ہوئے تہ خانوں میں گھس جاتے تھے اور زوال کے بعد نکل کر اپنا کام کاج کرتے تھے۔
حضرت ذوالقرنین رضی اللہ عنہ جب مشرق و مغرب تک پہنچ گئے تو اب کی بار انہوں نے شمال کی جانب سفر شروع فرمایا یہاں تک کہ وہ دو پہاڑوں کے درمیان تک جا پہنچے اور یہ سب اللہ پاک کی طرف سے عطا کردہ علم اور قدرت کی وجہ سے واقع ہوا۔جب حضرت ذوالقرنین رضی اللہ عنہ شمال کی جانب ا س جگہ پہنچے جہاں انسانی آبادی ختم ہو جاتی تھی تووہاں دو بڑے عالیشان پہاڑ دیکھے جن کے اُس طرف یاجوج ماجوج کی قوم آباد تھی جو کہ دو
پہاڑوں کے درمیانی راستے سے اِس طرف آکر قتل و غارت کیا کرتی تھی۔ یہ جگہ ترکستان کے مشرقی کنارہ پر واقع تھی۔ یہاں حضرت ذوالقرنین رضی اللہ عنہ نے ایک ایسی قوم کو پایا جو کوئی بات سمجھتے معلوم نہ ہوتے تھے کیونکہ اُن کی زبان عجیب و غریب تھی اس لئے اُن کے ساتھ اشارہ وغیرہ کی مدد سے بہ مشقت بات کی جاسکتی تھی۔
حضرت ذوالقرنین رضی اللہ عنہ سے لوگوں نے ان کی شکایت کی کہ وہ زمین میں فساد مچانے والے لوگ ہیں تو کیا ہم آپ کے لیے اس بات پر کچھ مال مقرر کردیں کہ آپ ہمارے اور ان کے درمیان ایک دیوار بنادیں تاکہ وہ ہم تک نہ پہنچ سکیں اور ہم ان کے شر و اِیذا سے محفوظ رہیں۔
آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ’’میرے پاس پتھر کے سائز کے لوہے کے ٹکڑے لاؤ ۔جب وہ لے آئے تواس کے بعد ان سے بنیاد کھدوائی ، جب وہ پانی تک پہنچی تو اس میں پتھر پگھلائے ہوئے تانبے سے جمائے گئے اور لوہے کے تختے اوپر نیچے چن کر اُن کے درمیان لکڑی اور کوئلہ بھروا دیا اور آگ دے دی اس طرح یہ دیوار پہاڑ کی بلندی تک اونچی کردی گئی اور دونوں پہاڑوں کے درمیان کوئی جگہ نہ چھوڑی گئی، پھر اوپر سے پگھلایا ہوا تانبہ دیوار میں پلا دیا گیا تو یہ سب مل کر ایک سخت جسم بن گیا۔ جب حضرت ذوالقرنین رضی اللہ عنہ نے دیوار مکمل کر لی تو یاجوج اور ماجوج آئے اور انہوں نے اس دیوار پر چڑھنے کا ارادہ کیا تو اس کی بلندی اور ملائمت کی وجہ سے اس پر نہ چڑھ سکے، پھر انہوں نے نیچے سے اس میں سوراخ کرنے کی کوشش کی تو اس دیوار کی سختی اور موٹائی کی وجہ سے اس میں سوراخ نہ کر سکے۔حضرت ذوالقرنین رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یہ دیوار میرے رب کی رحمت اور اس کی نعمت ہے کیونکہ یہ یاجوج اور ماجوج کے نکلنے میں رکاوٹ ہے، پھر جب میرے رب کا وعدہ آئے گا اور قیامت کے قریب یاجوج ماجوج کے خُروج کا وقت آپہنچے گا تو میرا رب اس دیوار کو پاش پاش کردے گا اور میرے رب نے ان کے نکلنے کا جو وعدہ فرمایا ہے وہ اور اس کے علاوہ ہر وعدہ سچا ہے۔
📖 آخر میں اللہ پاک نے اس حقیقت کو بیان فرمایا کہ اگر سارے سمندر اور ان جیسے اور بھی آجائیں مل کر روشنائی بن جائیں تو میرے رب کے کلمات ختم ہونے سے پہلے ہی سمندروں کی روشناٸیاں ختم ہو جائیں گی.
🌳 *سوہ مریم*
سورۂ مریم مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی ہے۔
اس سورت میں6 رکوع اور 98 آیتیں ہیں ۔
*وجہ*
اس سورت میں حضرت مریم رضی اللہ عنہا کی عظمت ، آپ کے واقعات اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت کا واقعہ بیان کیا گیاہے ،اس مناسبت سے اس سورت کانام ’’ سورۂ مریم‘‘ رکھا گیا ہے۔
دیگر مکی سورتوں کی طرح اس میں بھی اللہ پاک کے وجود، توحید و رسالت اور آخرت میں اٹھنے اور اس کے بعد جزا ملنے کے ساتھ ساتھ بہت سے انبیاء کرام علیہم السلام کے حالات بھی بیان ہوئے۔
🤲🏻 زکریا علیہ السلام کی اولاد کے حصول کے لیے رقت انگیز دعا کے ساتھ سورت کا آغاز ہوتا ہے جو بڑی عمر کو پہنچ چکے تھے اور بال بھی سفید ہوگئے تھے اور ان کی زوجہ کی کیفیت بھی ایسی تھی کہ بظاہر اولاد ہونا ممکن نظر نہیں آتا تھا، لیکن پھر بھی اللہ پاک کی بارگاہ میں دعا فرماتے تھے، چنانچہ آپ علیہ السلام کی دعا قبول ہوئی اور یحییٰ علیہ السلام جیسے نبی بیٹے کی ولادت کی خوشخبری سنائی گئی۔ حضرت یحییٰ علیہ السلام کو اللہ پاک نے بچپن ہی میں نبوت عطا کی اور کتاب دی، آپ علیہ السلام متقی اور ماں باپ کے ساتھ نیک سلوک کرنے والے تھے، اللہ پاک نے فرمایا کہ ان پر سلام ہو ان کی پیدائش کے دن، وفات کے دن اور جب قیامت کے دن انہیں اٹھایا جائے گا۔
☄️ حضرات زکریا اوریحییٰ علیہما السلام کا قصہ بیان کرنے کے بعد اس سے بھی زیادہ عجیب قصہ بیان کیا گیا اور وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت کا واقعہ ہے۔ ایک مرتبہ حضرت مریم رضی اللہ تعالی عنہا تشریف فرما تھیں ایک شخص انکے سامنے ظاہر ہوا، وہ اسے انسان سمجھ کر اللہ کی پناہ مانگنے لگیں مگر اس نے بتایا کہ وہ انسان نہیں بلکہ ایک فرشتہ ہے اور اللہ کے حکم سے بیٹے کی بشارت دینے آیا ہے، انہیں تعجب ہوا کہ شوہر کے بغیر کیسے بیٹا پیدا ہوگا اور میں ہوں بھی پاکدامن، تو انہیں بتایا گیا کہ اللہ پاک کے لیے کوئی بات مشکل نہیں ہے ،وہ فرشتے جبراٸیل علیہ السلام تھے، مریم رضی اللہ تعالی عنہا پر حمل کے آثار ظاہر ہوئے تو ان کے دل میں ڈالا گیا کہ وہ قوم سے الگ ہوجائیں، جب ولادت کا درد شروع ہوا تو پریشان ہو کر کہنے لگیں کہ کاش تکلیف کا یہ وقت آنے سے پہلے ہی میں اس دنیا سے چلی جاتی۔ آپ رضی اللہ عنھا ویرانے میں کھجور کے خشک تنے کے سہارے بیٹھی ہوئی تھیں، جب حضرت مریم رضی اللہ عنھا نے درد کی شدت سے مرنے کی تمنا کی تو اس وقت حضرت جبرئیل علیہ السلام نے وادی کے نیچے سے پکارا کہ غم نہ کرو، اللہ پاک نے آپ کے لیے آپ کے قریب ایک نہر بنا دی ہے۔حضرت مریم! رضی اللہ عنھا ، سے کہا گیا کہ آپ جس سوکھے تنے کے نیچے بیٹھی ہیں اسے اپنی طرف حرکت دیں تو اس سے آپ پر عمدہ اور تا
حضرت ذوالقرنین رضی اللہ عنہ سے لوگوں نے ان کی شکایت کی کہ وہ زمین میں فساد مچانے والے لوگ ہیں تو کیا ہم آپ کے لیے اس بات پر کچھ مال مقرر کردیں کہ آپ ہمارے اور ان کے درمیان ایک دیوار بنادیں تاکہ وہ ہم تک نہ پہنچ سکیں اور ہم ان کے شر و اِیذا سے محفوظ رہیں۔
آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ’’میرے پاس پتھر کے سائز کے لوہے کے ٹکڑے لاؤ ۔جب وہ لے آئے تواس کے بعد ان سے بنیاد کھدوائی ، جب وہ پانی تک پہنچی تو اس میں پتھر پگھلائے ہوئے تانبے سے جمائے گئے اور لوہے کے تختے اوپر نیچے چن کر اُن کے درمیان لکڑی اور کوئلہ بھروا دیا اور آگ دے دی اس طرح یہ دیوار پہاڑ کی بلندی تک اونچی کردی گئی اور دونوں پہاڑوں کے درمیان کوئی جگہ نہ چھوڑی گئی، پھر اوپر سے پگھلایا ہوا تانبہ دیوار میں پلا دیا گیا تو یہ سب مل کر ایک سخت جسم بن گیا۔ جب حضرت ذوالقرنین رضی اللہ عنہ نے دیوار مکمل کر لی تو یاجوج اور ماجوج آئے اور انہوں نے اس دیوار پر چڑھنے کا ارادہ کیا تو اس کی بلندی اور ملائمت کی وجہ سے اس پر نہ چڑھ سکے، پھر انہوں نے نیچے سے اس میں سوراخ کرنے کی کوشش کی تو اس دیوار کی سختی اور موٹائی کی وجہ سے اس میں سوراخ نہ کر سکے۔حضرت ذوالقرنین رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یہ دیوار میرے رب کی رحمت اور اس کی نعمت ہے کیونکہ یہ یاجوج اور ماجوج کے نکلنے میں رکاوٹ ہے، پھر جب میرے رب کا وعدہ آئے گا اور قیامت کے قریب یاجوج ماجوج کے خُروج کا وقت آپہنچے گا تو میرا رب اس دیوار کو پاش پاش کردے گا اور میرے رب نے ان کے نکلنے کا جو وعدہ فرمایا ہے وہ اور اس کے علاوہ ہر وعدہ سچا ہے۔
📖 آخر میں اللہ پاک نے اس حقیقت کو بیان فرمایا کہ اگر سارے سمندر اور ان جیسے اور بھی آجائیں مل کر روشنائی بن جائیں تو میرے رب کے کلمات ختم ہونے سے پہلے ہی سمندروں کی روشناٸیاں ختم ہو جائیں گی.
🌳 *سوہ مریم*
سورۂ مریم مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی ہے۔
اس سورت میں6 رکوع اور 98 آیتیں ہیں ۔
*وجہ*
اس سورت میں حضرت مریم رضی اللہ عنہا کی عظمت ، آپ کے واقعات اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت کا واقعہ بیان کیا گیاہے ،اس مناسبت سے اس سورت کانام ’’ سورۂ مریم‘‘ رکھا گیا ہے۔
دیگر مکی سورتوں کی طرح اس میں بھی اللہ پاک کے وجود، توحید و رسالت اور آخرت میں اٹھنے اور اس کے بعد جزا ملنے کے ساتھ ساتھ بہت سے انبیاء کرام علیہم السلام کے حالات بھی بیان ہوئے۔
🤲🏻 زکریا علیہ السلام کی اولاد کے حصول کے لیے رقت انگیز دعا کے ساتھ سورت کا آغاز ہوتا ہے جو بڑی عمر کو پہنچ چکے تھے اور بال بھی سفید ہوگئے تھے اور ان کی زوجہ کی کیفیت بھی ایسی تھی کہ بظاہر اولاد ہونا ممکن نظر نہیں آتا تھا، لیکن پھر بھی اللہ پاک کی بارگاہ میں دعا فرماتے تھے، چنانچہ آپ علیہ السلام کی دعا قبول ہوئی اور یحییٰ علیہ السلام جیسے نبی بیٹے کی ولادت کی خوشخبری سنائی گئی۔ حضرت یحییٰ علیہ السلام کو اللہ پاک نے بچپن ہی میں نبوت عطا کی اور کتاب دی، آپ علیہ السلام متقی اور ماں باپ کے ساتھ نیک سلوک کرنے والے تھے، اللہ پاک نے فرمایا کہ ان پر سلام ہو ان کی پیدائش کے دن، وفات کے دن اور جب قیامت کے دن انہیں اٹھایا جائے گا۔
☄️ حضرات زکریا اوریحییٰ علیہما السلام کا قصہ بیان کرنے کے بعد اس سے بھی زیادہ عجیب قصہ بیان کیا گیا اور وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت کا واقعہ ہے۔ ایک مرتبہ حضرت مریم رضی اللہ تعالی عنہا تشریف فرما تھیں ایک شخص انکے سامنے ظاہر ہوا، وہ اسے انسان سمجھ کر اللہ کی پناہ مانگنے لگیں مگر اس نے بتایا کہ وہ انسان نہیں بلکہ ایک فرشتہ ہے اور اللہ کے حکم سے بیٹے کی بشارت دینے آیا ہے، انہیں تعجب ہوا کہ شوہر کے بغیر کیسے بیٹا پیدا ہوگا اور میں ہوں بھی پاکدامن، تو انہیں بتایا گیا کہ اللہ پاک کے لیے کوئی بات مشکل نہیں ہے ،وہ فرشتے جبراٸیل علیہ السلام تھے، مریم رضی اللہ تعالی عنہا پر حمل کے آثار ظاہر ہوئے تو ان کے دل میں ڈالا گیا کہ وہ قوم سے الگ ہوجائیں، جب ولادت کا درد شروع ہوا تو پریشان ہو کر کہنے لگیں کہ کاش تکلیف کا یہ وقت آنے سے پہلے ہی میں اس دنیا سے چلی جاتی۔ آپ رضی اللہ عنھا ویرانے میں کھجور کے خشک تنے کے سہارے بیٹھی ہوئی تھیں، جب حضرت مریم رضی اللہ عنھا نے درد کی شدت سے مرنے کی تمنا کی تو اس وقت حضرت جبرئیل علیہ السلام نے وادی کے نیچے سے پکارا کہ غم نہ کرو، اللہ پاک نے آپ کے لیے آپ کے قریب ایک نہر بنا دی ہے۔حضرت مریم! رضی اللہ عنھا ، سے کہا گیا کہ آپ جس سوکھے تنے کے نیچے بیٹھی ہیں اسے اپنی طرف حرکت دیں تو اس سے آپ پر عمدہ اور تا
زہ پکی ہوئی کھجوریں گریں گی۔
حضرت مریم رضی اللہ عنہا سے فرمایا گیا کہ آپ کھجوریں کھائیں اور پانی پئیں اور اپنے فرزند حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے اپنی آنکھ ٹھنڈی رکھیں ، پھر اگر آپ کسی آدمی کو دیکھیں کہ وہ آپ سے بچے کے بارے میں دریافت کرتا ہے تو اشارے سے اسے کہہ دیں کہ میں نے آج رحمٰن کیلئے روزہ کی نذر مانی ہے تو آج ہرگز میں کسی آدمی سے بات نہیں کروں گی۔ حضرت مریم رضی اللہ عنہا کو خاموش رہنے کی نذر ماننے کا اس لئے حکم دیا گیا تاکہ کلام حضرت عیسیٰ علیہ السلام فرمائیں اور ان کا کلام مضبوط حجت ہو جس سے تہمت زائل ہو جائے۔ اس سے معلوم ہوا کہ بیوقوف کے جواب میں خاموش رہنا اور منہ پھیر لینا چاہئے کہ جاہلوں کے جواب میں خاموشی ہی بہتر ہے اور یہ بھی معلوم ہو اکہ کلام کو افضل شخص کے حوالے کر دینا اَولیٰ ہے۔
یاد رہے کہ پہلے زمانہ میں بولنے اور کلام کرنے کا بھی روزہ ہوتا تھا جیسا کہ ہماری شریعت میں کھانے اور پینے کا روزہ ہوتا ہے، البتہ ہماری شریعت میں چپ رہنے کا روزہ منسوخ ہوگیا ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت کے بعد حضرت مریم رضی اللہ عنہا انہیں اُٹھائے ہوئے اپنی قوم کے پاس آئیں ، جب لوگوں نے حضرت مریم رضی اللہ عنہا کو دیکھا کہ ان کی گود میں بچہ ہے تو وہ روئے اور غمگین ہوئے ، کیونکہ وہ صالحین کے گھرانے کے لوگ تھے اور کہنے لگے : اے مریم! بیشک تم بہت ہی عجیب و غریب چیز لائی ہو۔ اے ہارون کی بہن! نہ تو تیرا باپ عمران کوئی برا آدمی تھا اور نہ ہی تیری ماں حنہ بدکار عورت تھی تو پھر تیرے ہاں یہ بچہ کہاں سے ہو گیا۔
جب لوگوں نے حضرت مریم رضی اللہ عنہا سے تفصیل پوچھنی چاہی تو چونکہ آپ رضی اللہ عنہا نے اللہ پاک کے حکم سے چپ کاروزہ رکھا ہوا تھا اس لئے آپ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف اشارہ کرکے کہا کہ اگر کچھ پوچھنا ہے تواس بچے سے پوچھ لویہ جواب دے گا۔ اس پر لوگوں کو غصہ آیا اور انہوں نے کہا کہ جوبچہ ابھی پیدا ہوا ہے وہ کیسے ہم سے بات کرے گا! کیا تم ہم سے مذاق کر رہی ہو؟ یہ گفتگو سن کر حضرت عیسی علیہ السلام نے دودھ پینا چھوڑ دیا اور بائیں ہاتھ پر ٹیک لگا کر لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور سیدھے ہاتھ مبارک سے اشارہ کرکے بات کرنا شروع کی، آپ نے پہلا جملہ یہ ارشاد فرمایا میں اللہ کا بندہ ہوں، پھر آپ نے سلسلہ گفتگو کو جاری رکھتے ہوئے مزید فرمایا کہ میں بابرکت رسول بنایا گیا ہوں مجھے نماز اور زکوۃ کے اہتمام کی تعلیم دے کر بھیجا گیا ہے میں تقوی کا پیکر اور والدہ کا فرمانبردار ہوں، اس گفتگو نے مریم رضی اللہ تعالی عنہا کو پاکباز بھی ثابت کردیا اور اللہ پاک کی قدرت کو ثابت کر کے لوگوں کے تعجب میں بھی اضافہ کردیا۔
🌼 اس کے بعد اگلی آیتوں میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اخلاق کریمہ اور اوصاف عالیہ پر بھی بھرپور روشنی ڈالی گئی ہے، اس کے بعد مختلف انبیاء کرام علیہم السلام کا ذکر ہے، حضرات موسی و ہارون علیہما السلام کی نبوت اور کوہ طور پر اللہ سے ہم کلامی کا تذکرہ پھر حضرت اسماعیل علیہ السلام کی نبوت و رسالت اور وعدے کی پاسداری اور نماز و زکوۃ کے اہتمام کا ذکر ہے، ساتھ ہی حضرت ادریس علیہ السلام کی صداقت و نبوت کا بھی تذکرہ موجود ہے. سورة کی آخری آیات میں انسان کے مرنے کے بعد دوبارہ زندگی کا تذکرہ کرتے ہوئے قیامت کے منکرین کو بالکل واضح انداز میں بتا دیا گیا ہے کہ دنیا کے اندر امتحان ہے اس کے بعد مرنا ہے مرنے کے بعد دوبارہ انسان کو اٹھایا جائے گا اور اس کے اعمال کا حساب ہوگا۔
🌹 *سورہ طہ*
سورۂ طٰہٰ مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی ہے۔
اس میں8 رکوع اور 135آیتیں ہیں ۔
*وجہ*
طٰہٰ، نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک ناموں میں سے ایک نام ہے، اور اس سورت کی ابتداء میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس نام سے نداء کی گئی اس مناسبت سے اس سورت کا نام ’’طٰہٰ‘‘ رکھا گیا ہے۔
🔥 شروع میں حضرت موسی علیہ السلام کا قصہ تفصیل کے ساتھ آیا ہے، اسی طرح حضرت آدم علیہ السلام کا واقعہ کچھ تفصیل کے ساتھ بیان ہوا ہے۔
آیت نمبر 10 سے حضرت موسی علیہ السلام کے واقعے کی تفصیلات شروع ہوتی ہیں جب وہ اپنی زوجہ کے ساتھ مدین سے واپس ہوئے، تو راستے میں موسی علیہ السلام کی زوجہ کو
درد زہ شروع ہوگیا اور پھر موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ مجھے سامنے سے ایک آگ نظر آرہی ہے میں وہاں جاتا ہوں کچھ خبر لے کر آتا ہوں۔وہاں پر اللہ پاک نے درخت پر تجلی فرمائی اور موسی علیہ السلام کو نبوت کی خوشخبری ملی اسی موقع پر آپ کو عصا اور ہاتھ کو روشن اور چمکدار بنانے کے معجزات عطا ہوئے اور آپ کو حکم ہوا کہ جاکر فرعون کو دعوت حق دیجئے۔
🤲🏻 آیت نمبر 25 سےعلیہ
میں موسی علیہ السلام کی دعا کا ذکر ہے کہ ”اے میرے رب میرے لئے میرا سینہ کشادہ فرمادے، میرے لئے میرا کام آسان کر دے، میری زبان کی گرہ کھول دے تاکہ وہ لوگ میری بات کو سمجھ سکیں“، پھر اللہ کی بارگاہ میں عرض کی کہ می
حضرت مریم رضی اللہ عنہا سے فرمایا گیا کہ آپ کھجوریں کھائیں اور پانی پئیں اور اپنے فرزند حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے اپنی آنکھ ٹھنڈی رکھیں ، پھر اگر آپ کسی آدمی کو دیکھیں کہ وہ آپ سے بچے کے بارے میں دریافت کرتا ہے تو اشارے سے اسے کہہ دیں کہ میں نے آج رحمٰن کیلئے روزہ کی نذر مانی ہے تو آج ہرگز میں کسی آدمی سے بات نہیں کروں گی۔ حضرت مریم رضی اللہ عنہا کو خاموش رہنے کی نذر ماننے کا اس لئے حکم دیا گیا تاکہ کلام حضرت عیسیٰ علیہ السلام فرمائیں اور ان کا کلام مضبوط حجت ہو جس سے تہمت زائل ہو جائے۔ اس سے معلوم ہوا کہ بیوقوف کے جواب میں خاموش رہنا اور منہ پھیر لینا چاہئے کہ جاہلوں کے جواب میں خاموشی ہی بہتر ہے اور یہ بھی معلوم ہو اکہ کلام کو افضل شخص کے حوالے کر دینا اَولیٰ ہے۔
یاد رہے کہ پہلے زمانہ میں بولنے اور کلام کرنے کا بھی روزہ ہوتا تھا جیسا کہ ہماری شریعت میں کھانے اور پینے کا روزہ ہوتا ہے، البتہ ہماری شریعت میں چپ رہنے کا روزہ منسوخ ہوگیا ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت کے بعد حضرت مریم رضی اللہ عنہا انہیں اُٹھائے ہوئے اپنی قوم کے پاس آئیں ، جب لوگوں نے حضرت مریم رضی اللہ عنہا کو دیکھا کہ ان کی گود میں بچہ ہے تو وہ روئے اور غمگین ہوئے ، کیونکہ وہ صالحین کے گھرانے کے لوگ تھے اور کہنے لگے : اے مریم! بیشک تم بہت ہی عجیب و غریب چیز لائی ہو۔ اے ہارون کی بہن! نہ تو تیرا باپ عمران کوئی برا آدمی تھا اور نہ ہی تیری ماں حنہ بدکار عورت تھی تو پھر تیرے ہاں یہ بچہ کہاں سے ہو گیا۔
جب لوگوں نے حضرت مریم رضی اللہ عنہا سے تفصیل پوچھنی چاہی تو چونکہ آپ رضی اللہ عنہا نے اللہ پاک کے حکم سے چپ کاروزہ رکھا ہوا تھا اس لئے آپ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف اشارہ کرکے کہا کہ اگر کچھ پوچھنا ہے تواس بچے سے پوچھ لویہ جواب دے گا۔ اس پر لوگوں کو غصہ آیا اور انہوں نے کہا کہ جوبچہ ابھی پیدا ہوا ہے وہ کیسے ہم سے بات کرے گا! کیا تم ہم سے مذاق کر رہی ہو؟ یہ گفتگو سن کر حضرت عیسی علیہ السلام نے دودھ پینا چھوڑ دیا اور بائیں ہاتھ پر ٹیک لگا کر لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور سیدھے ہاتھ مبارک سے اشارہ کرکے بات کرنا شروع کی، آپ نے پہلا جملہ یہ ارشاد فرمایا میں اللہ کا بندہ ہوں، پھر آپ نے سلسلہ گفتگو کو جاری رکھتے ہوئے مزید فرمایا کہ میں بابرکت رسول بنایا گیا ہوں مجھے نماز اور زکوۃ کے اہتمام کی تعلیم دے کر بھیجا گیا ہے میں تقوی کا پیکر اور والدہ کا فرمانبردار ہوں، اس گفتگو نے مریم رضی اللہ تعالی عنہا کو پاکباز بھی ثابت کردیا اور اللہ پاک کی قدرت کو ثابت کر کے لوگوں کے تعجب میں بھی اضافہ کردیا۔
🌼 اس کے بعد اگلی آیتوں میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اخلاق کریمہ اور اوصاف عالیہ پر بھی بھرپور روشنی ڈالی گئی ہے، اس کے بعد مختلف انبیاء کرام علیہم السلام کا ذکر ہے، حضرات موسی و ہارون علیہما السلام کی نبوت اور کوہ طور پر اللہ سے ہم کلامی کا تذکرہ پھر حضرت اسماعیل علیہ السلام کی نبوت و رسالت اور وعدے کی پاسداری اور نماز و زکوۃ کے اہتمام کا ذکر ہے، ساتھ ہی حضرت ادریس علیہ السلام کی صداقت و نبوت کا بھی تذکرہ موجود ہے. سورة کی آخری آیات میں انسان کے مرنے کے بعد دوبارہ زندگی کا تذکرہ کرتے ہوئے قیامت کے منکرین کو بالکل واضح انداز میں بتا دیا گیا ہے کہ دنیا کے اندر امتحان ہے اس کے بعد مرنا ہے مرنے کے بعد دوبارہ انسان کو اٹھایا جائے گا اور اس کے اعمال کا حساب ہوگا۔
🌹 *سورہ طہ*
سورۂ طٰہٰ مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی ہے۔
اس میں8 رکوع اور 135آیتیں ہیں ۔
*وجہ*
طٰہٰ، نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک ناموں میں سے ایک نام ہے، اور اس سورت کی ابتداء میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس نام سے نداء کی گئی اس مناسبت سے اس سورت کا نام ’’طٰہٰ‘‘ رکھا گیا ہے۔
🔥 شروع میں حضرت موسی علیہ السلام کا قصہ تفصیل کے ساتھ آیا ہے، اسی طرح حضرت آدم علیہ السلام کا واقعہ کچھ تفصیل کے ساتھ بیان ہوا ہے۔
آیت نمبر 10 سے حضرت موسی علیہ السلام کے واقعے کی تفصیلات شروع ہوتی ہیں جب وہ اپنی زوجہ کے ساتھ مدین سے واپس ہوئے، تو راستے میں موسی علیہ السلام کی زوجہ کو
درد زہ شروع ہوگیا اور پھر موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ مجھے سامنے سے ایک آگ نظر آرہی ہے میں وہاں جاتا ہوں کچھ خبر لے کر آتا ہوں۔وہاں پر اللہ پاک نے درخت پر تجلی فرمائی اور موسی علیہ السلام کو نبوت کی خوشخبری ملی اسی موقع پر آپ کو عصا اور ہاتھ کو روشن اور چمکدار بنانے کے معجزات عطا ہوئے اور آپ کو حکم ہوا کہ جاکر فرعون کو دعوت حق دیجئے۔
🤲🏻 آیت نمبر 25 سےعلیہ
میں موسی علیہ السلام کی دعا کا ذکر ہے کہ ”اے میرے رب میرے لئے میرا سینہ کشادہ فرمادے، میرے لئے میرا کام آسان کر دے، میری زبان کی گرہ کھول دے تاکہ وہ لوگ میری بات کو سمجھ سکیں“، پھر اللہ کی بارگاہ میں عرض کی کہ می
رے خاندان میں سے میرے بھائی ہارون علیہ السلام کواس معاملے میں میرا وزیر بنا دے اور میرے ساتھ کر دے تاکہ مجھے کچھ تقویت مل جائے۔
🌱 اگلی آیات میں موسی علیہ السلام کی پیداٸش کے وقت کے حالات کا ذکر ہے۔ فرعون نے حکم دے رکھا تھا کہ بنی اسرائیل میں پیدا ہونے والے ہر لڑکے کو قتل کر دیا جائے، اللہ پاک نے موسی علیہ السلام کی والدہ کے دل میں یہ بات ڈال دی کہ وہ اپنے بیٹے یعنی موسی علیہ السلام کو ایک صندوق میں بند کرکے دریا میں ڈال دیں۔ اللہ کے حکم سے یہ تابوت کنارے لگے گا اور اللہ پاک کے دشمن فرعون کے ہاتھ لگ جائے گا ، موسی علیہ السلام کی والدہ نے ایسا ہی کیا، اس دریا سے ایک بڑی نہر نکل کر فرعون کے محل میں سے گزرتی تھی ۔ فرعون اپنی بیوی آسیہ کے ساتھ نہر کے کنارہ بیٹھا تھا ، اس نے نہر میں صندوق آتا دیکھ کر غلاموں اور کنیزوں کو اسے نکالنے کا حکم دیا ۔ وہ صندوق نکال کر سامنے لایا گیا اور جب اسے کھولا گیا تو اس میں ایک نورانی شکل کا فرزند جس کی پیشانی سے وجاہت و اِقبال کے آثار نمودار تھے نظر آیا،اسے دیکھتے ہی فرعون کے دل میں بے پناہ محبت پیدا ہوئی۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بہن کانام مریم تھا، جب آپ علیہ السلام کی والدہ نے آپ علیہ السلام کوصندوق میں بندکرکے دریا میں ڈال دیا تھا تو اس وقت آپ علیہ السلام کی بہن صندوق کے متعلق معلوم کرنے کہ وہ کہاں پہنچتا ہے اس کے ساتھ چلتی رہی یہاں تک کے صندوق فرعون کے محل میں پہنچ گیا، وہاں فرعون اور اس کی بیوی آسیہ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اپنے پاس رکھ لیا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کواپنا بیٹا بنالیا مگر جب دودھ پلانے کے لیے دائیاں حاضر کی گئیں تو آپ علیہ السلام نے کسی بھی دائی کادودھ قبول نہ کیا، اس پر آپ کی بہن نے کہا کہ مصر میں ایک اور دائی بھی ہے جس کا دودھ نہایت عمدہ ہے، یہ بچہ اس کادودھ پی لے گا۔ چنانچہ آپ علیہ السلام کی والدہ کو بلایا گیا تو آپ علیہ السلام نے دودھ پینا شروع کردیا، یوں آپ علیہ السلام کو پرورش کے لیے آپ علیہ السلام کی والدہ کے سپرد کر دیا گیا اور اللہ پاک کافرمان پورا ہوا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی والدہ کی آنکھیں ٹھنڈی ہوئیں۔
📢پھر فرمایا کہ موسی و ہارون علیھما السلام کو حکم دیا کہ فرعون کے پاس جائیں وہ سرکش ہو چکا ہے، اسے نرمی کے ساتھ دعوت حق دیں، تاکہ وہ نصیحت حاصل کرلے، موسی و ہارون علیہما السلام نے اللہ کی بارگاہ میں عرض کیا کہ ہمیں اندیشہ ہے کہ وہ ہم پر زیادتی کرے گا اللہ پاک نے فرمایا کہ تم گھبراؤ نہیں! میں تمہارے ساتھ ہوں، وہ دونوں حضرات فرعون کے پاس تشریف لے گئے اور فرمایا کہ ہم اللہ کے رسول ہیں، بنی اسرائیل کو اذیت نہ دو اور انہیں ہمارے ساتھ دے دو، فرعون نے اللہ کی ذات کے بارے میں موسی و ہارون علیہم السلام سے بحث کی، پھر ان پر جادوگر ہونے کا الزام لگا دیا اور اپنے جادوگروں کو بلا کر مقررہ دن پر مقابلے کا چیلنج دیا، اس کی تفصیل پچھلی سورتوں میں بیان کر دی ہے،
📿 صبح و شام دن اور رات میں تسبیح و تحمید کا اہتمام کرنے کی ترغیب دلائی گئی۔کافروں کے لیے وسائل زندگی کی فراوانی اور عیش کو دیکھ کر حسرت میں نہ پڑ جانے اور للچائی ہوئی نظروں سے نہ دیکھنے کا حکم ہے۔پھر خود بھی نماز کی پابندی کرنے اور اپنے اہل خانہ کو بھی نماز کا پابند بنانے کا حکم ہے اور اعلان فرما دیا گیا کہ ہر ایک کو اس کے عمل کا بدلہ ملے گا لہذا تم بھی انتظار کرو ہم بھی انتظار کر رہے ہیں عنقریب معلوم ہو جائے گا کہ کون راہ ہدایت پر ہے اور کون گمراہی کی گہرائیوں میں گرا ہوا ہے۔
*📲+92-3212094919*
@faizanealahazrat
🌱 اگلی آیات میں موسی علیہ السلام کی پیداٸش کے وقت کے حالات کا ذکر ہے۔ فرعون نے حکم دے رکھا تھا کہ بنی اسرائیل میں پیدا ہونے والے ہر لڑکے کو قتل کر دیا جائے، اللہ پاک نے موسی علیہ السلام کی والدہ کے دل میں یہ بات ڈال دی کہ وہ اپنے بیٹے یعنی موسی علیہ السلام کو ایک صندوق میں بند کرکے دریا میں ڈال دیں۔ اللہ کے حکم سے یہ تابوت کنارے لگے گا اور اللہ پاک کے دشمن فرعون کے ہاتھ لگ جائے گا ، موسی علیہ السلام کی والدہ نے ایسا ہی کیا، اس دریا سے ایک بڑی نہر نکل کر فرعون کے محل میں سے گزرتی تھی ۔ فرعون اپنی بیوی آسیہ کے ساتھ نہر کے کنارہ بیٹھا تھا ، اس نے نہر میں صندوق آتا دیکھ کر غلاموں اور کنیزوں کو اسے نکالنے کا حکم دیا ۔ وہ صندوق نکال کر سامنے لایا گیا اور جب اسے کھولا گیا تو اس میں ایک نورانی شکل کا فرزند جس کی پیشانی سے وجاہت و اِقبال کے آثار نمودار تھے نظر آیا،اسے دیکھتے ہی فرعون کے دل میں بے پناہ محبت پیدا ہوئی۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بہن کانام مریم تھا، جب آپ علیہ السلام کی والدہ نے آپ علیہ السلام کوصندوق میں بندکرکے دریا میں ڈال دیا تھا تو اس وقت آپ علیہ السلام کی بہن صندوق کے متعلق معلوم کرنے کہ وہ کہاں پہنچتا ہے اس کے ساتھ چلتی رہی یہاں تک کے صندوق فرعون کے محل میں پہنچ گیا، وہاں فرعون اور اس کی بیوی آسیہ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اپنے پاس رکھ لیا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کواپنا بیٹا بنالیا مگر جب دودھ پلانے کے لیے دائیاں حاضر کی گئیں تو آپ علیہ السلام نے کسی بھی دائی کادودھ قبول نہ کیا، اس پر آپ کی بہن نے کہا کہ مصر میں ایک اور دائی بھی ہے جس کا دودھ نہایت عمدہ ہے، یہ بچہ اس کادودھ پی لے گا۔ چنانچہ آپ علیہ السلام کی والدہ کو بلایا گیا تو آپ علیہ السلام نے دودھ پینا شروع کردیا، یوں آپ علیہ السلام کو پرورش کے لیے آپ علیہ السلام کی والدہ کے سپرد کر دیا گیا اور اللہ پاک کافرمان پورا ہوا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی والدہ کی آنکھیں ٹھنڈی ہوئیں۔
📢پھر فرمایا کہ موسی و ہارون علیھما السلام کو حکم دیا کہ فرعون کے پاس جائیں وہ سرکش ہو چکا ہے، اسے نرمی کے ساتھ دعوت حق دیں، تاکہ وہ نصیحت حاصل کرلے، موسی و ہارون علیہما السلام نے اللہ کی بارگاہ میں عرض کیا کہ ہمیں اندیشہ ہے کہ وہ ہم پر زیادتی کرے گا اللہ پاک نے فرمایا کہ تم گھبراؤ نہیں! میں تمہارے ساتھ ہوں، وہ دونوں حضرات فرعون کے پاس تشریف لے گئے اور فرمایا کہ ہم اللہ کے رسول ہیں، بنی اسرائیل کو اذیت نہ دو اور انہیں ہمارے ساتھ دے دو، فرعون نے اللہ کی ذات کے بارے میں موسی و ہارون علیہم السلام سے بحث کی، پھر ان پر جادوگر ہونے کا الزام لگا دیا اور اپنے جادوگروں کو بلا کر مقررہ دن پر مقابلے کا چیلنج دیا، اس کی تفصیل پچھلی سورتوں میں بیان کر دی ہے،
📿 صبح و شام دن اور رات میں تسبیح و تحمید کا اہتمام کرنے کی ترغیب دلائی گئی۔کافروں کے لیے وسائل زندگی کی فراوانی اور عیش کو دیکھ کر حسرت میں نہ پڑ جانے اور للچائی ہوئی نظروں سے نہ دیکھنے کا حکم ہے۔پھر خود بھی نماز کی پابندی کرنے اور اپنے اہل خانہ کو بھی نماز کا پابند بنانے کا حکم ہے اور اعلان فرما دیا گیا کہ ہر ایک کو اس کے عمل کا بدلہ ملے گا لہذا تم بھی انتظار کرو ہم بھی انتظار کر رہے ہیں عنقریب معلوم ہو جائے گا کہ کون راہ ہدایت پر ہے اور کون گمراہی کی گہرائیوں میں گرا ہوا ہے۔
*📲+92-3212094919*
@faizanealahazrat
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
📖 *فیضان خلاصہ تراویح*📖
✍🏻 *ابو بنتین محمد فراز عطاری مدنی*
🌐 *پارہ 17، اِقْتَرَبَ لِلنَّاسِ*
*سورہ انبیاء*
سورۂ انبیاء مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی ہے۔اس میں7 رکوع اور 112 آیتیں ہیں۔
*وجہ*
اس سورت میں بکثرت انبیاء علیھم السلام کاذکر ہے مثلاً حضرت موسیٰ،حضرت عیسیٰ ،حضرت ہارون ، حضرت لوط، حضرت ابراہیم علیھم السلام اور بالخصوص سرکارِ دو عالَم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر ہے، اسی وجہ سے اس سورت کانام سُوْرَۃُ الْاَنْبِیَاء ہے۔
📝 اس سورت کا مرکزی مضمون یہ ہے کہ اس میں اسلام کے بنیادی عقائد جیسے توحید،نبوت و رسالت،قیامت کے دن دوبارہ زندہ کئے جانے اور اعمال کی جزاء و سزا ملنے کو دلائل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے،
ابتدائی آیات میں دنیا کی زندگی کے زوال کا منظر پیش کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ قیامت کا وقوع اور حساب کا وقت قریب آگیا ہے، لیکن لوگ اس ہولناک دن سے غافل ہیں، اگلی آیتوں میں بتایا گیا ہے کہ اللہ پاک نے آپ صلی اللہ علیہ و سلم سے پہلے بھی کسی انسان کو ہمیشگی نہیں دی، ہوا یہ کہ مشرکینِ مکہ یہ کہا کرتے تھے کہ جب آقا صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے رخصت ہوجائیں گے، تو یہ سب کچھ ختم ہو جائے گا اور اسلام کی دعوت بھی ختم ہو جائے گی، اللہ پاک نے انہیں تنبیہ کر تے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ظاہری وفات سے متصف ہونا ہے تو تم بھی زیادہ عرصہ نہیں رہو گے اور دنیا میں اس سے پہلے بھی کوئی ہمیشہ نہیں رہا، اگرچہ انبیاء کرام کو ایک آن کے لیے وفات آتی ہے پھر دوبارہ ان کی زندگی مثلِ سابق ہوتی ہے اور جہاں تک اللہ پاک کے دین کا تعلق ہے تو اللہ ہی غالب حکمت والا ہے وہی اپنے بندوں کے ذریعے اپنے دین کی بات کو عام فرما دے گا اور نہ وہ محتاج ہے ، جس طرح چاہے اپنے دین کو غالب کر سکتا ہے۔
🌍 اگلی آیت میں بتایا گیا کہ آسمان و زمین کے نظام کا بہترین اور معتدل ہونا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ کائنات کو چلانے والا وحدہ لا شریک ہے۔ اگر اس نظام کو چلانے والی ایک سے زیادہ بااختیار شخصیات ہوتیں تو دنیا کا نظام درہم برہم ہو کر رہ جاتا۔
☀️ آیت 30 سے اللہ پاک نےتخلیقِ کائنات کے سلسلے کو بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ آسمان و زمین بند تھے،نہ بارش برستی تھی نہ نباتات پیدا ہو رہے تھے، اللہ پاک نے ان کو کھول دیا ان میں پانی اترا اور فرمایا کہ ہم نے ہر جاندار چیز پانی سے بنائی ہے، زمین میں توازن قائم رکھنے کے لیے اونچے اونچے پہاڑ بنائے، ان کے درمیان کشادہ راستے بنائے اور آسمان کو بغیر ستونوں کے محفوظ چھت بنا دیا رات، دن، سورج اور چاند کو پیدا فرمایا، ہر ایک اپنے اپنے دائرے کے اندر گھوم رہا ہے۔
🛑 آیت 35 کے اندر قانونِ قدرت بیان کیا گیا کہ ہر نفس کو موت کا مزہ چکھنا ہے، پھر آگے چل کر بتایا گیا کہ قیامت اچانک آئے گی، حیرت زدہ کردے گی، نہ کوئی اس کو رد کر سکے گا اور نہ کسی کو مہلت ملے گی۔
💡پھر اس کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام کی جوانی کے واقعات کی طرف اشارہ ہے کہ ان کی قوم بت پرستی کرتی تھی، ہر سال ان کے یہاں ایک میلہ لگتا تھا جس کے لیے وہ شہر سے باہر جاتے تھے اور اپنے بتوں کے سامنے چڑھاوے چڑھایا کرتے تھے، ابراہیم علیہ السلام نے ان بتوں کو کلہاڑے سے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور جب کافر قوم لوٹ کر واپس آئی اور اپنے باطل معبودوں کی حالت دیکھی تو ابراہیم علیہ السلام کو بلا کر پوچھنے لگے کہ ان کی یہ حالت کس نے کی ہے ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا کہ تم سمجھتے ہو کہ بت کچھ کرسکتے ہیں اور بولتے بھی ہیں اور ان کو قدرت بھی حاصل ہے تو تم خود پوچھ لو ، آپ علیہ السلام نے بڑے بت کے کندھے پر کلہاڑا رکھ دیا تھا اور کافروں سے کہا کہ اس بڑے والے سے پوچھ لو ، اس کو تو معلوم ہوگا تو وہ بے اختیار پکار اٹھے کہ یہ پتھر کے بت بول ہی نہیں سکتے، ابراہیم علیہ السلام کہنے لگے کہ افسوس ہے کہ ایسے بےاختیار معبودوں کی تم عبادت کرتے ہوجو بول نہیں سکتے، وہ لاجواب ہوگئے، انتہائی نادم اور شرمندہ ہوئے لیکن غصے میں ایسے بھڑک پڑے کہ ابراہیم علیہ السلام کو انھوں نے جلانے کا ارادہ کر لیا، اور اس کے لیے انھوں نے لکڑیاں جمع کیں اور بہت بڑا کھڈا کھدوادیا اور اس میں ابراہیم علیہ السلام کو ڈالنے کا ارادہ کیا اور ابراہیم علیہ السلام نے دعا مانگی" مجھے اللہ کافی ہے اور وہ کیا ہی بہترین کارساز ہے" ، ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈالا گیا تو اللہ پاک نے آگ کو حکم دیا کہ اے آگ ابراہیم علیہ السلام پر ٹھنڈی اور سلامتی والی ہوجا۔چناچہ آگ کی گرمی زائل ہوگئی اور روشنی باقی رہی اور آگ نے آپ کو نقصان نہ پہنچایا۔
🌿آیت نمبر 78 سے داؤد علیہ السلام اور سلیمان علیہ السلام کے ایک واقعے کا ذکر ہے۔
رات کے وقت کچھ لوگوں کی بکریاں کھیتی میں چھوٹ گئیں ، ان کے ساتھ کوئی چَرانے والا نہ تھا اور وہ کھیتی کھا گئیں تو یہ مقدمہ حضرت داؤد علیہ السلام کے سامنے پیش ہوا، آپ علیہ السلام نے تجویز کی کہ بکریاں کھیتی وال
✍🏻 *ابو بنتین محمد فراز عطاری مدنی*
🌐 *پارہ 17، اِقْتَرَبَ لِلنَّاسِ*
*سورہ انبیاء*
سورۂ انبیاء مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی ہے۔اس میں7 رکوع اور 112 آیتیں ہیں۔
*وجہ*
اس سورت میں بکثرت انبیاء علیھم السلام کاذکر ہے مثلاً حضرت موسیٰ،حضرت عیسیٰ ،حضرت ہارون ، حضرت لوط، حضرت ابراہیم علیھم السلام اور بالخصوص سرکارِ دو عالَم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر ہے، اسی وجہ سے اس سورت کانام سُوْرَۃُ الْاَنْبِیَاء ہے۔
📝 اس سورت کا مرکزی مضمون یہ ہے کہ اس میں اسلام کے بنیادی عقائد جیسے توحید،نبوت و رسالت،قیامت کے دن دوبارہ زندہ کئے جانے اور اعمال کی جزاء و سزا ملنے کو دلائل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے،
ابتدائی آیات میں دنیا کی زندگی کے زوال کا منظر پیش کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ قیامت کا وقوع اور حساب کا وقت قریب آگیا ہے، لیکن لوگ اس ہولناک دن سے غافل ہیں، اگلی آیتوں میں بتایا گیا ہے کہ اللہ پاک نے آپ صلی اللہ علیہ و سلم سے پہلے بھی کسی انسان کو ہمیشگی نہیں دی، ہوا یہ کہ مشرکینِ مکہ یہ کہا کرتے تھے کہ جب آقا صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے رخصت ہوجائیں گے، تو یہ سب کچھ ختم ہو جائے گا اور اسلام کی دعوت بھی ختم ہو جائے گی، اللہ پاک نے انہیں تنبیہ کر تے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ظاہری وفات سے متصف ہونا ہے تو تم بھی زیادہ عرصہ نہیں رہو گے اور دنیا میں اس سے پہلے بھی کوئی ہمیشہ نہیں رہا، اگرچہ انبیاء کرام کو ایک آن کے لیے وفات آتی ہے پھر دوبارہ ان کی زندگی مثلِ سابق ہوتی ہے اور جہاں تک اللہ پاک کے دین کا تعلق ہے تو اللہ ہی غالب حکمت والا ہے وہی اپنے بندوں کے ذریعے اپنے دین کی بات کو عام فرما دے گا اور نہ وہ محتاج ہے ، جس طرح چاہے اپنے دین کو غالب کر سکتا ہے۔
🌍 اگلی آیت میں بتایا گیا کہ آسمان و زمین کے نظام کا بہترین اور معتدل ہونا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ کائنات کو چلانے والا وحدہ لا شریک ہے۔ اگر اس نظام کو چلانے والی ایک سے زیادہ بااختیار شخصیات ہوتیں تو دنیا کا نظام درہم برہم ہو کر رہ جاتا۔
☀️ آیت 30 سے اللہ پاک نےتخلیقِ کائنات کے سلسلے کو بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ آسمان و زمین بند تھے،نہ بارش برستی تھی نہ نباتات پیدا ہو رہے تھے، اللہ پاک نے ان کو کھول دیا ان میں پانی اترا اور فرمایا کہ ہم نے ہر جاندار چیز پانی سے بنائی ہے، زمین میں توازن قائم رکھنے کے لیے اونچے اونچے پہاڑ بنائے، ان کے درمیان کشادہ راستے بنائے اور آسمان کو بغیر ستونوں کے محفوظ چھت بنا دیا رات، دن، سورج اور چاند کو پیدا فرمایا، ہر ایک اپنے اپنے دائرے کے اندر گھوم رہا ہے۔
🛑 آیت 35 کے اندر قانونِ قدرت بیان کیا گیا کہ ہر نفس کو موت کا مزہ چکھنا ہے، پھر آگے چل کر بتایا گیا کہ قیامت اچانک آئے گی، حیرت زدہ کردے گی، نہ کوئی اس کو رد کر سکے گا اور نہ کسی کو مہلت ملے گی۔
💡پھر اس کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام کی جوانی کے واقعات کی طرف اشارہ ہے کہ ان کی قوم بت پرستی کرتی تھی، ہر سال ان کے یہاں ایک میلہ لگتا تھا جس کے لیے وہ شہر سے باہر جاتے تھے اور اپنے بتوں کے سامنے چڑھاوے چڑھایا کرتے تھے، ابراہیم علیہ السلام نے ان بتوں کو کلہاڑے سے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور جب کافر قوم لوٹ کر واپس آئی اور اپنے باطل معبودوں کی حالت دیکھی تو ابراہیم علیہ السلام کو بلا کر پوچھنے لگے کہ ان کی یہ حالت کس نے کی ہے ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا کہ تم سمجھتے ہو کہ بت کچھ کرسکتے ہیں اور بولتے بھی ہیں اور ان کو قدرت بھی حاصل ہے تو تم خود پوچھ لو ، آپ علیہ السلام نے بڑے بت کے کندھے پر کلہاڑا رکھ دیا تھا اور کافروں سے کہا کہ اس بڑے والے سے پوچھ لو ، اس کو تو معلوم ہوگا تو وہ بے اختیار پکار اٹھے کہ یہ پتھر کے بت بول ہی نہیں سکتے، ابراہیم علیہ السلام کہنے لگے کہ افسوس ہے کہ ایسے بےاختیار معبودوں کی تم عبادت کرتے ہوجو بول نہیں سکتے، وہ لاجواب ہوگئے، انتہائی نادم اور شرمندہ ہوئے لیکن غصے میں ایسے بھڑک پڑے کہ ابراہیم علیہ السلام کو انھوں نے جلانے کا ارادہ کر لیا، اور اس کے لیے انھوں نے لکڑیاں جمع کیں اور بہت بڑا کھڈا کھدوادیا اور اس میں ابراہیم علیہ السلام کو ڈالنے کا ارادہ کیا اور ابراہیم علیہ السلام نے دعا مانگی" مجھے اللہ کافی ہے اور وہ کیا ہی بہترین کارساز ہے" ، ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈالا گیا تو اللہ پاک نے آگ کو حکم دیا کہ اے آگ ابراہیم علیہ السلام پر ٹھنڈی اور سلامتی والی ہوجا۔چناچہ آگ کی گرمی زائل ہوگئی اور روشنی باقی رہی اور آگ نے آپ کو نقصان نہ پہنچایا۔
🌿آیت نمبر 78 سے داؤد علیہ السلام اور سلیمان علیہ السلام کے ایک واقعے کا ذکر ہے۔
رات کے وقت کچھ لوگوں کی بکریاں کھیتی میں چھوٹ گئیں ، ان کے ساتھ کوئی چَرانے والا نہ تھا اور وہ کھیتی کھا گئیں تو یہ مقدمہ حضرت داؤد علیہ السلام کے سامنے پیش ہوا، آپ علیہ السلام نے تجویز کی کہ بکریاں کھیتی وال
ے کو دے دی جائیں کیونکہ بکریوں کی قیمت کھیتی کے نقصان کے برابر ہے اور ہم ان کے فیصلے کا مشاہدہ کر رہے تھے اور ہم نے وہ معاملہ حضرت سلیمان علیہ السلام کو سمجھا دیا ۔جب یہ معاملہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے سامنے پیش ہوا تو آپ نے فرمایا کہ فریقین کے لئے اس سے زیادہ آسانی کی شکل بھی ہو سکتی ہے۔ اس وقت حضرت سلیمان علیہ السلام کی عمر شریف گیارہ سال کی تھی ۔ حضرت داؤد علیہ السلام نے آپ سے فرمایا کہ وہ صورت بیا ن کریں ، چنانچہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے یہ تجویز پیش کی کہ بکری والا کاشت کرے اور جب تک کھیتی اس حالت کو پہنچے جس حالت میں بکریوں نے کھائی ہے اس وقت تک کھیتی والا بکریوں کے دودھ وغیرہ سے نفع اٹھائے اور کھیتی اس حالت پر پہنچ جانے کے بعد کھیتی والے کو کھیتی دے دی جائے ، بکری والے کو اس کی بکریاں واپس کر دی جائیں۔ یہ تجویز حضرت داؤد علیہ السلام نے پسند فرمائی۔
یاد رہے کہ اس معاملہ میں یہ دونوں حکم اجتہادی تھے اور ان کی شریعت کے مطابق تھے ۔ ہماری شریعت میں حکم یہ ہے کہ اگر چَرانے والا ساتھ نہ ہو تو جانور جو نقصانات کرے اس کا ضمان لازم نہیں۔
🌄 اس کے بعد سلیمان علیہ السلام پر کیے جانے والے انعامات کا ذکر ہے، پہاڑوں کا ان کے تابع ہوجانا، پہاڑوں اور پرندوں کا ان کے ساتھ تسبیح کرنا، اللہ پاک نے ہوا کو سلیمان علیہ السلام کے تابع کردیا تھا جو ان کے حکم سے تخت کو ایک ماہ کی مسافت تک اڑا کر لے جاتی تھی اور جنات کو ان کے تابع کردیا کہ وہ سلیمان علیہ السلام کے حکم سے سمندروں میں غوطہ زن ہوجاتے اور دیگر معاملات بھی انجام دیا کرتے تھے۔
🚨 اللہ پاک نے آپ کو ہر طرح کی نعمتیں عطا فرمائی تھیں، صورت کا حسن بھی، اولاد کی کثرت اور مال کی وسعت بھی عطا ہوئی تھی۔اللہ پاک نے آپ علیہ السلام کوآزمائش میں مبتلا کیا، چنانچہ آ پ کی اولاد مکان گرنے سے دب کر مر گئی، تمام جانور جس میں ہزارہا اونٹ اور ہزارہا بکریاں تھیں ،سب مر گئے ۔ تمام کھیتیاں اور باغات برباد ہو گئے حتّٰی کہ کچھ بھی باقی نہ رہا، اور جب آپ علیہ السلام کو ان چیزوں کے ہلاک اور ضائع ہونے کی خبر دی جاتی تھی تو آپ علیہ السلام اللہ پاک کی حمد بجا لاتے اور فرماتے تھے’’ میرا کیا ہے! جس کا تھا اس نے لیا، جب تک ا س نے مجھے دے رکھا تھا میرے پاس تھا، جب ا س نے چاہا لے لیا۔ اس کا شکر ادا ہو ہی نہیں ہو سکتا اور میں اس کی مرضی پر راضی ہوں ۔ اس کے بعد آپ علیہ السلام بیمار ہوگئے ، تمام جسم شریف میں آبلے پڑگئے اور بدن مبارک سب کا سب زخموں سے بھر گیا ۔اس حال میں سب لوگوں نے چھوڑ دیا البتہ آپ کی زوجہ محترمہ رحمت بنتِ افرائیم نے نہ چھوڑا اور وہ آپ کی خدمت کرتی رہیں۔آپ علیہ السلام کی یہ حالت سالہا سال رہی ، آخر کار کوئی ایسا سبب پیش آیا کہ آپ نے بارگاہِ الٰہی میں دعا کی :اے میرے رب! ، بیشک مجھے تکلیف پہنچی ہے اور تو سب رحم کرنے والوں سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے۔
حضرت ایوب علیہ السلام کی بیماری کے بارے میں علامہ عبد المصطفٰی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ’’ عام طور پر لوگوں میں مشہور ہے کہ مَعَاذَ اللہ آپ کو کوڑھ کی بیماری ہو گئی تھی۔ چنانچہ بعض غیر معتبر کتابوں میں آپ کے کوڑھ کے بارے میں بہت سی غیر معتبر داستانیں بھی تحریر ہیں ، مگر یاد رکھو کہ یہ سب باتیں سرتا پا بالکل غلط ہیں اور ہر گز ہرگز آپ یا کوئی نبی بھی کبھی کوڑھ اور جذام کی بیماری میں مبتلا نہیں ہوا، اس لئے کہ یہ مسئلہ مُتَّفَق علیہ ہے کہ اَنبیاء علیھم السلام کا تمام اُن بیماریوں سے محفوظ رہنا ضروری ہے جو عوام کے نزدیک باعث ِنفرت و حقارت ہیں ۔ کیونکہ انبیاء علیھم السلام کا یہ فرضِ منصبی ہے کہ وہ تبلیغ و ہدایت کرتے رہیں تو ظاہر ہے کہ جب عوام ان کی بیماریوں سے نفرت کر کے ان سے دور بھاگیں گے تو بھلا تبلیغ کا فریضہ کیونکر ادا ہو سکے گا؟ الغرض حضرت ایوب علیہ السلام ہرگز کبھی کوڑھ اور جذام کی بیماری میں مبتلا نہیں ہوئے بلکہ آپ کے بدن پر کچھ آبلے اور پھوڑے پھنسیاں نکل آئی تھیں جن سے آپ برسوں تکلیف اور مشقت جھیلتے رہے اور برابر صابر و شاکر رہے۔یونہی بعض کتابوں میں جو یہ واقعہ مذکور ہے کہ بیماری کے دوران حضرت ایوب علیہ السلام کے جسم مبارک میں کیڑے پیدا ہو گئے تھے جو آپ کا جسم شریف کھاتے تھے، یہ بھی درست نہیں کیونکہ ظاہری جسم میں کیڑوں کا پیدا ہونا بھی عوام کے لئے نفرت و حقارت کا باعث ہے اور لوگ ایسی چیز سے گھن کھاتے ہیں ۔
🌹پھر حضرت اسماعیل، ادریس، ذوالکفل اور یونس علیہم السلام کا تذکرہ ہے
🌼 آیت 94میں یہ بشارت دی گئی ہے کہ کہ جو کوئی ایمان اور اخلاص کے ساتھ نیک کام کرے گا اس کو بھرپور اجر ملے گا اور ہر نیکی محفوظ کی جارہی ہے، البتہ جن بد نصیبوں نے غفلت کی زندگی بسر کی انھوں نے اپنی زندگی کو برباد کر دیا، ان کو دوبارہ دنیا میں آنے اور سابقہ گناہوں کی تلافی کا موقع ہر گز نہیں ملے گا، جو کرنا ہے دنیا
یاد رہے کہ اس معاملہ میں یہ دونوں حکم اجتہادی تھے اور ان کی شریعت کے مطابق تھے ۔ ہماری شریعت میں حکم یہ ہے کہ اگر چَرانے والا ساتھ نہ ہو تو جانور جو نقصانات کرے اس کا ضمان لازم نہیں۔
🌄 اس کے بعد سلیمان علیہ السلام پر کیے جانے والے انعامات کا ذکر ہے، پہاڑوں کا ان کے تابع ہوجانا، پہاڑوں اور پرندوں کا ان کے ساتھ تسبیح کرنا، اللہ پاک نے ہوا کو سلیمان علیہ السلام کے تابع کردیا تھا جو ان کے حکم سے تخت کو ایک ماہ کی مسافت تک اڑا کر لے جاتی تھی اور جنات کو ان کے تابع کردیا کہ وہ سلیمان علیہ السلام کے حکم سے سمندروں میں غوطہ زن ہوجاتے اور دیگر معاملات بھی انجام دیا کرتے تھے۔
🚨 اللہ پاک نے آپ کو ہر طرح کی نعمتیں عطا فرمائی تھیں، صورت کا حسن بھی، اولاد کی کثرت اور مال کی وسعت بھی عطا ہوئی تھی۔اللہ پاک نے آپ علیہ السلام کوآزمائش میں مبتلا کیا، چنانچہ آ پ کی اولاد مکان گرنے سے دب کر مر گئی، تمام جانور جس میں ہزارہا اونٹ اور ہزارہا بکریاں تھیں ،سب مر گئے ۔ تمام کھیتیاں اور باغات برباد ہو گئے حتّٰی کہ کچھ بھی باقی نہ رہا، اور جب آپ علیہ السلام کو ان چیزوں کے ہلاک اور ضائع ہونے کی خبر دی جاتی تھی تو آپ علیہ السلام اللہ پاک کی حمد بجا لاتے اور فرماتے تھے’’ میرا کیا ہے! جس کا تھا اس نے لیا، جب تک ا س نے مجھے دے رکھا تھا میرے پاس تھا، جب ا س نے چاہا لے لیا۔ اس کا شکر ادا ہو ہی نہیں ہو سکتا اور میں اس کی مرضی پر راضی ہوں ۔ اس کے بعد آپ علیہ السلام بیمار ہوگئے ، تمام جسم شریف میں آبلے پڑگئے اور بدن مبارک سب کا سب زخموں سے بھر گیا ۔اس حال میں سب لوگوں نے چھوڑ دیا البتہ آپ کی زوجہ محترمہ رحمت بنتِ افرائیم نے نہ چھوڑا اور وہ آپ کی خدمت کرتی رہیں۔آپ علیہ السلام کی یہ حالت سالہا سال رہی ، آخر کار کوئی ایسا سبب پیش آیا کہ آپ نے بارگاہِ الٰہی میں دعا کی :اے میرے رب! ، بیشک مجھے تکلیف پہنچی ہے اور تو سب رحم کرنے والوں سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے۔
حضرت ایوب علیہ السلام کی بیماری کے بارے میں علامہ عبد المصطفٰی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ’’ عام طور پر لوگوں میں مشہور ہے کہ مَعَاذَ اللہ آپ کو کوڑھ کی بیماری ہو گئی تھی۔ چنانچہ بعض غیر معتبر کتابوں میں آپ کے کوڑھ کے بارے میں بہت سی غیر معتبر داستانیں بھی تحریر ہیں ، مگر یاد رکھو کہ یہ سب باتیں سرتا پا بالکل غلط ہیں اور ہر گز ہرگز آپ یا کوئی نبی بھی کبھی کوڑھ اور جذام کی بیماری میں مبتلا نہیں ہوا، اس لئے کہ یہ مسئلہ مُتَّفَق علیہ ہے کہ اَنبیاء علیھم السلام کا تمام اُن بیماریوں سے محفوظ رہنا ضروری ہے جو عوام کے نزدیک باعث ِنفرت و حقارت ہیں ۔ کیونکہ انبیاء علیھم السلام کا یہ فرضِ منصبی ہے کہ وہ تبلیغ و ہدایت کرتے رہیں تو ظاہر ہے کہ جب عوام ان کی بیماریوں سے نفرت کر کے ان سے دور بھاگیں گے تو بھلا تبلیغ کا فریضہ کیونکر ادا ہو سکے گا؟ الغرض حضرت ایوب علیہ السلام ہرگز کبھی کوڑھ اور جذام کی بیماری میں مبتلا نہیں ہوئے بلکہ آپ کے بدن پر کچھ آبلے اور پھوڑے پھنسیاں نکل آئی تھیں جن سے آپ برسوں تکلیف اور مشقت جھیلتے رہے اور برابر صابر و شاکر رہے۔یونہی بعض کتابوں میں جو یہ واقعہ مذکور ہے کہ بیماری کے دوران حضرت ایوب علیہ السلام کے جسم مبارک میں کیڑے پیدا ہو گئے تھے جو آپ کا جسم شریف کھاتے تھے، یہ بھی درست نہیں کیونکہ ظاہری جسم میں کیڑوں کا پیدا ہونا بھی عوام کے لئے نفرت و حقارت کا باعث ہے اور لوگ ایسی چیز سے گھن کھاتے ہیں ۔
🌹پھر حضرت اسماعیل، ادریس، ذوالکفل اور یونس علیہم السلام کا تذکرہ ہے
🌼 آیت 94میں یہ بشارت دی گئی ہے کہ کہ جو کوئی ایمان اور اخلاص کے ساتھ نیک کام کرے گا اس کو بھرپور اجر ملے گا اور ہر نیکی محفوظ کی جارہی ہے، البتہ جن بد نصیبوں نے غفلت کی زندگی بسر کی انھوں نے اپنی زندگی کو برباد کر دیا، ان کو دوبارہ دنیا میں آنے اور سابقہ گناہوں کی تلافی کا موقع ہر گز نہیں ملے گا، جو کرنا ہے دنیا
میں کرنا ہے، ہر انسان کو دنیا میں ایک ہی بار آنے اور آخرت کی تیاری کر نے کا موقع ملتا ہے۔
علاماتِ قیامت میں بڑی علامت یاجوج ماجوج کا تذکرہ فرما کر قیامت اور اس کے ہولناک منظر کا بیان شروع کیا گیا اور پھر بتایا کہ رسالتِ محمدیہ صلی اللہ علیہ و سلم تمام کائنات کے لئیے باعثِ رحمت ہے اور تلقین فرمائی کہ حق و باطل کا فیصلہ کر نے کا اختیار صرف اللہ ہی کے پاس ہے لہذا اسی سے دینِ اسلام کی حقانیت کا فیصلہ طلب کرنا چاہیے۔
اس سورت کے آخری رکوع میں اللہ پاک نے اپنے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک بے مثل و بے مثال اعزاز سے نوازا اور وہ ہے:
*وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ(۱۰۷)*
اور ہم نے تمہیں تمام جہانوں کیلئے رحمت بنا کر ہی بھیجا ۔
🕋 *سورہ حج*
اس سورت میں 10رکوع اور 78 آیتیں ہیں ۔
*وجہ*
اس سورۂ مبارکہ میں حج کے اعلانِ عام اورحج کے اَحکام کا ذکر ہے، اسی مناسبت کی وجہ سے اس سورت کو ’’سورۃ الحج‘‘ کے نام سے مَوسوم کیا گیا ہے ۔
🚫 پہلی آیت میں اللہ پاک نے تقوی اختیار کر نے کا حکم دیتے ہوئے قیامت کی ہولناکیوں کو بیان فرمایا کہ قیامت ایک زلزلے کے طور پر برپا ہوگی اور اس کا منظر دہشت ناک ہوگا، دودھ پلانے والی مائیں اپنے دودھ پیتے بچوں کو بھول جائیں گی، حاملہ عورتوں کا حمل ساقط ہو جائے گا، لوگ نشے میں نظر آئیں گے حالانکہ وہ نشے میں نہ ہوں گے لیکن دراصل اللہ کے عذاب کی شدت کے باعث ان کی کیفیت ایسی ہو جائے گی، پھر موت کے بعد اٹھنے کی حقانیت کو بیان فرمایا کہ اپنی پیدائش پر غور کرنے سے یہ عقیدہ تمہیں بہت اچھی طرح سمجھ آسکتا ہے کہ مرنے کے بعد اٹھنا بھی ہے، پھر ان مراحل کو بیان کیا گیا ہے کہ بندہ مٹی سے نطفہ ہوتا ہے، پھر نطفے سے لوتھڑا بنتا ہے پھر گوشت کا ٹکڑا بنتا ہے، پھر اسکے اعضاء بنتے ہیں اور وہ ماں کے پیٹ میں ایک لمبے عرصے تک رہتا ہے کمزوری کی حالت میں بچہ باہر آتا ہے اور پھر آہستہ آہستہ بڑا ہوتا ہے،جوانی کی حد تک پہنچتا ہے پھر مزید توانا ہوتا ہے، آگے بڑھتا ہے پھر ایک وقت آتا ہے کہ وہ بڑھاپے کی منزل تک پہنچ جاتا ہے، پھر اس کا جسم گھلنے لگتا ہے، تو یہ سارے مراحل اس بات کو بیان کرتے ہیں کہ انسان نے ایک دن مرنا ہے اور مر کر دوبارہ اٹھنا ہےاور یہ اللہ پاک کے لیے مشکل نہیں ہے،فرمایا گیا کہ جو رب انسان کو ان مراحل سے گزار سکتا ہے وہ مارنے کے بعد دوبارہ اٹھانے پر بھی قادر ہے،
پھر دوسری دلیل یہ بیان کی گئی کہ زمین کو دیکھو تو وہ بنجر ہوتی ہے، پھر بارش برستی ہے تو دیکھتے ہی دیکھتے کھیتیاں اگتی ہیں، باغات اگتے ہیں اور وہ پھلنے پھولنے اور لہلہانے لگتے ہیں۔
🕋 آیت 27 سےابراھیم علیہ السلام کے تعمیرِ کعبہ کے شاندار کارنامے کا تذکرہ ہے پھر انھیں حکم دیا گیا کہ بلند آواز میں لوگوں میں حج کا اعلان کیجئے وہ آپ کے پاس پیدل اور سوار ہو کر آئیں گے ، ابراہیم علیہ السلام نے ایک پتھر پر کھڑے ہو کر ندا دی "اے لوگو اللہ پاک نے تمہارے اوپر حج کو فرض کر دیا ہے" اللہ پاک نے یہ آواز ان سب کو سنا دی، جن کی قسمت میں حج کرنا تھا انھوں نے باپوں کی پشتوں اور ماؤں کے پیٹوں سے جواب دیا *لبیک اللھم لبیک*۔
🐫 آگے چل کر قربانی کی ترغیب دلائی گئی، جانوروں کا انسان کے قابو میں آجانا یہ اللہ پاک کا احسان ہے، اس احسان کو یاد دلایا گیا اور اس پر شکر ادا کرنے کا حکم دیا گیا اور اخلاص اور پرہیزگاری کے ساتھ قربانی کرنے کا حکم دیا گیا۔
⛰️ آیت 61 سے کائنات کے نظام میں غور و خوض کرنے کی دعوت دی گئی،موت اور زندگی اللہ کے اختیار میں ہے ہر امت کو علیحدہ نظامِ حیات دیا گیا لہذا اختلاف کرنے کی بجائے اس پر عمل کرنا چاہیے، پھر معبودِ حقیقی اور معبودانِ باطل کے درمیان امتیاز کی ایک زبردست مثال قائم کی گئی کہ اللہ پاک کے علاوہ جن کی پرستش کرتے ہو وہ ایک مکھی پیدا کرنے کی بھی صلاحیت نہیں رکھتے بلکہ مکھی تو کمزور ترین مخلوق ہے، اگر یہ ان کے کھانے کا ایک ذرّہ اٹھا کر لے جائے تو مل کر اسے واپس لانے کی طاقت نہیں رکھتے، بت اور اس کے پجاری بہت کمزور اور ضعیف ہیں یہ لوگ انبیاء اور رسل کا انکار کر کے اللہ کی نعمتوں کی ناقدری کرتے ہیں۔ اسی پر سورت اور پارے دونوں کا اختتام ہوتا ہے۔
*📱+92-3212094919*
@faizanealahazrat
علاماتِ قیامت میں بڑی علامت یاجوج ماجوج کا تذکرہ فرما کر قیامت اور اس کے ہولناک منظر کا بیان شروع کیا گیا اور پھر بتایا کہ رسالتِ محمدیہ صلی اللہ علیہ و سلم تمام کائنات کے لئیے باعثِ رحمت ہے اور تلقین فرمائی کہ حق و باطل کا فیصلہ کر نے کا اختیار صرف اللہ ہی کے پاس ہے لہذا اسی سے دینِ اسلام کی حقانیت کا فیصلہ طلب کرنا چاہیے۔
اس سورت کے آخری رکوع میں اللہ پاک نے اپنے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک بے مثل و بے مثال اعزاز سے نوازا اور وہ ہے:
*وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ(۱۰۷)*
اور ہم نے تمہیں تمام جہانوں کیلئے رحمت بنا کر ہی بھیجا ۔
🕋 *سورہ حج*
اس سورت میں 10رکوع اور 78 آیتیں ہیں ۔
*وجہ*
اس سورۂ مبارکہ میں حج کے اعلانِ عام اورحج کے اَحکام کا ذکر ہے، اسی مناسبت کی وجہ سے اس سورت کو ’’سورۃ الحج‘‘ کے نام سے مَوسوم کیا گیا ہے ۔
🚫 پہلی آیت میں اللہ پاک نے تقوی اختیار کر نے کا حکم دیتے ہوئے قیامت کی ہولناکیوں کو بیان فرمایا کہ قیامت ایک زلزلے کے طور پر برپا ہوگی اور اس کا منظر دہشت ناک ہوگا، دودھ پلانے والی مائیں اپنے دودھ پیتے بچوں کو بھول جائیں گی، حاملہ عورتوں کا حمل ساقط ہو جائے گا، لوگ نشے میں نظر آئیں گے حالانکہ وہ نشے میں نہ ہوں گے لیکن دراصل اللہ کے عذاب کی شدت کے باعث ان کی کیفیت ایسی ہو جائے گی، پھر موت کے بعد اٹھنے کی حقانیت کو بیان فرمایا کہ اپنی پیدائش پر غور کرنے سے یہ عقیدہ تمہیں بہت اچھی طرح سمجھ آسکتا ہے کہ مرنے کے بعد اٹھنا بھی ہے، پھر ان مراحل کو بیان کیا گیا ہے کہ بندہ مٹی سے نطفہ ہوتا ہے، پھر نطفے سے لوتھڑا بنتا ہے پھر گوشت کا ٹکڑا بنتا ہے، پھر اسکے اعضاء بنتے ہیں اور وہ ماں کے پیٹ میں ایک لمبے عرصے تک رہتا ہے کمزوری کی حالت میں بچہ باہر آتا ہے اور پھر آہستہ آہستہ بڑا ہوتا ہے،جوانی کی حد تک پہنچتا ہے پھر مزید توانا ہوتا ہے، آگے بڑھتا ہے پھر ایک وقت آتا ہے کہ وہ بڑھاپے کی منزل تک پہنچ جاتا ہے، پھر اس کا جسم گھلنے لگتا ہے، تو یہ سارے مراحل اس بات کو بیان کرتے ہیں کہ انسان نے ایک دن مرنا ہے اور مر کر دوبارہ اٹھنا ہےاور یہ اللہ پاک کے لیے مشکل نہیں ہے،فرمایا گیا کہ جو رب انسان کو ان مراحل سے گزار سکتا ہے وہ مارنے کے بعد دوبارہ اٹھانے پر بھی قادر ہے،
پھر دوسری دلیل یہ بیان کی گئی کہ زمین کو دیکھو تو وہ بنجر ہوتی ہے، پھر بارش برستی ہے تو دیکھتے ہی دیکھتے کھیتیاں اگتی ہیں، باغات اگتے ہیں اور وہ پھلنے پھولنے اور لہلہانے لگتے ہیں۔
🕋 آیت 27 سےابراھیم علیہ السلام کے تعمیرِ کعبہ کے شاندار کارنامے کا تذکرہ ہے پھر انھیں حکم دیا گیا کہ بلند آواز میں لوگوں میں حج کا اعلان کیجئے وہ آپ کے پاس پیدل اور سوار ہو کر آئیں گے ، ابراہیم علیہ السلام نے ایک پتھر پر کھڑے ہو کر ندا دی "اے لوگو اللہ پاک نے تمہارے اوپر حج کو فرض کر دیا ہے" اللہ پاک نے یہ آواز ان سب کو سنا دی، جن کی قسمت میں حج کرنا تھا انھوں نے باپوں کی پشتوں اور ماؤں کے پیٹوں سے جواب دیا *لبیک اللھم لبیک*۔
🐫 آگے چل کر قربانی کی ترغیب دلائی گئی، جانوروں کا انسان کے قابو میں آجانا یہ اللہ پاک کا احسان ہے، اس احسان کو یاد دلایا گیا اور اس پر شکر ادا کرنے کا حکم دیا گیا اور اخلاص اور پرہیزگاری کے ساتھ قربانی کرنے کا حکم دیا گیا۔
⛰️ آیت 61 سے کائنات کے نظام میں غور و خوض کرنے کی دعوت دی گئی،موت اور زندگی اللہ کے اختیار میں ہے ہر امت کو علیحدہ نظامِ حیات دیا گیا لہذا اختلاف کرنے کی بجائے اس پر عمل کرنا چاہیے، پھر معبودِ حقیقی اور معبودانِ باطل کے درمیان امتیاز کی ایک زبردست مثال قائم کی گئی کہ اللہ پاک کے علاوہ جن کی پرستش کرتے ہو وہ ایک مکھی پیدا کرنے کی بھی صلاحیت نہیں رکھتے بلکہ مکھی تو کمزور ترین مخلوق ہے، اگر یہ ان کے کھانے کا ایک ذرّہ اٹھا کر لے جائے تو مل کر اسے واپس لانے کی طاقت نہیں رکھتے، بت اور اس کے پجاری بہت کمزور اور ضعیف ہیں یہ لوگ انبیاء اور رسل کا انکار کر کے اللہ کی نعمتوں کی ناقدری کرتے ہیں۔ اسی پر سورت اور پارے دونوں کا اختتام ہوتا ہے۔
*📱+92-3212094919*
@faizanealahazrat
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
Photo
حضرت علامہ شیخ حسن بن منصور
اوزجندی المشہور قاضی خان
رَحۡـــمَـــةُ الــلّٰــهِ تَــعَــالیٰ عَـــلَـــیۡـــه
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
یومِ ولادت ⁰⁰ ................. ھ
یومِ وصال ¹⁶رمضان المبارک ۲۹۵ھ
➻═══════════➻
TTS AʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
اوزجندی المشہور قاضی خان
رَحۡـــمَـــةُ الــلّٰــهِ تَــعَــالیٰ عَـــلَـــیۡـــه
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
یومِ ولادت ⁰⁰ ................. ھ
یومِ وصال ¹⁶رمضان المبارک ۲۹۵ھ
➻═══════════➻
TTS AʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
برہان الموحدین
حضرت سید شاہ آل محمد مارہروی
رَحۡـــمَـــةُ الــلّٰــهِ تَــعَــالیٰ عَــــلَــــیۡـــه
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
یومِ ولادت ¹⁸رمضان المبارک ۱۱۱۱ھ
یومِ وصال ¹⁶رمضان المبارک ۴۶۱۱ھ
➻═══════════➻
TTS AʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
حضرت سید شاہ آل محمد مارہروی
رَحۡـــمَـــةُ الــلّٰــهِ تَــعَــالیٰ عَــــلَــــیۡـــه
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
یومِ ولادت ¹⁸رمضان المبارک ۱۱۱۱ھ
یومِ وصال ¹⁶رمضان المبارک ۴۶۱۱ھ
➻═══════════➻
TTS AʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
یوم وصال بزرگانِ دین رحمهم اللہ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
یومِ ولادت ⁰⁰ ................. ھ
یومِ وصال ¹⁶رمضان المبارک ھ
➻═══════════➻
TTS AʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
https://www.ziaetaiba.com/en/scholar/gotodate?bd=2&day=16&month=09&year=&user-submit=
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
یومِ ولادت ⁰⁰ ................. ھ
یومِ وصال ¹⁶رمضان المبارک ھ
➻═══════════➻
TTS AʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
https://www.ziaetaiba.com/en/scholar/gotodate?bd=2&day=16&month=09&year=&user-submit=