Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
حضرت مولانا محبوب علی خان لکھنوی رحمۃ اللہ علیہ
نام ونسب: اسمِ گرامی:حضرت مولانا محبوب علی خان۔لقب:غازیِ ملت،مناظراہلسنت،مفتیِ اعظم پٹیالہ،مصنف کتبِ کثیرہ،لکھنؤکی نسبت سے"لکھنوی"مشہورہیں۔سلسلہ نسب اسطرح ہے: مولانا محبوب علی خان بن ابوالحفاظ نواب علی خان بن محمد حیات خان بن محمد سعادت خان بن محمد خاں۔علیہم الرحمۃ والرضوان۔آپ کےوالدِگرامی،حضرت مولانا ہدایت رسول رامپوری (خلیفہ اعلی حضرت علیہ الرحمہ )کے مرید تھے۔آپ مفتی اعظم بمبئی خلیفۂ اعلیٰ حضرت حضور شیر بیشۂ اہل سنت رحمۃ اللہ علیہ کے برادر اصغرہیں۔
تاریخِ ولادت: آپ کی ولادت باسعادت لکھنؤ انڈیا میں ہوئی۔
تحصیلِ علم: حفظ قرآن پاک اور ابتدائی تعلیم دار العلوم منظر الاسلام بریلی شریف میں حاصل کی۔ دار العلوم حزب الاحناف لاہور میں حضرت مولانا سید دار علی الوری قدس سرہ ٗ سے دورۂ حدیث کی تکمیل کر کے سند فضیلت حاصل کی۔
بیعت وخلافت: اعلیٰ حضرت امام اہلسنت مجددملت الشاہ امام احمدرضاخان علیہ الرحمہ کےدستِ حق پرست پربیعت ہوئے،اورسندِاجازت وخلافت سے سرفرازکیےگئے۔ آپ نےاطرافِ ہندمیں سلسلہ عالیہ رضویہ کےفروغ میں اہم کرداراداکیا۔
سیرت وخصائص: غازیِ ملت،مناظراہلسنت،مفتیِ اعظم پٹیالہ،مصنف کتبِ کثیرہ،محبوبِ اعلیٰ حضرت،صاحبِ تقویٰ وفضیلت حضرت علامہ مولانا مفتی محبوب علی خان لکھنوی رضوی رحمۃ اللہ علیہ۔آپ علیہ الرحمہ ایک جامع علمی وعملی شخصیت کےمالک تھے۔تمام فنون پرکامل قدرت رکھتےتھے۔فنِ مناظرہ وردبدمذہباں میں اپنےبرادراکبر حضرت شیربیشہ اہل سنت کےہم قدم تھے۔اللہ تعالیٰ نے حق بولنے و حق لکھنے کی بے پناہ صلاحیت آپ کو عطا کی تھی۔ تحریر سے آپ کو اس درجہ شغف تھا کہ تادم زیست پرورش لوح و قلم اور پھراس کی نشر و اشاعت میں سرگرم عمل رہے۔ آپ نے اکثر اصلاح عقائد فاسدہ کےموضوع پر قلم اٹھایا ہے۔خوب لکھا ہے اور حق ادا کردیا ہے۔ کتابوں کا موضوع خالص علمی رنگ لیے ہوئے ہے۔ کتابوں کے مطالعہ سے مصنف کی علمی دقیقہ رسی اور نکتہ شناسی کا اندازہ ہوتا ہے۔آپ کی جملہ تصانیف کا احاطہ نہیں کیا جاسکتا۔ اتنا لکھنے میں ضرور حق بجانب ہوں کہ وہ درجنوں اہم کتابوں کےمصنف تھے۔
حضرت مفتی صاحب نے علم دین کی جو شمع وہاں روشن کی ہے اس سے اپنے تو اپنے بےگانوں کےقلب بھی منور ہوئے بغیر نہیں رہ سکے ہیں۔کتنوں کو آپ نے داخلِ اسلام کیا۔ ایسا جادوئی لب و لہجہ خدا نے آپ کو عطا کیا تھا کہ ہر تقریر میں کوئی نہ کوئی دشمنِ رسول عاشق رسولﷺ ضرور بن جاتا۔ پٹیالہ میں اشاعتِ اسلام پر تبصرہ کرتے ہوئے چودھری اختر علی لکھتے ہیں۔" مسلمانوں میں ایمانی روح اور مذہبی بیداری پیدا ہورہی ہے۔چنانچہ مخالف کو بھی آپ کے وعظ میں آخر سرِ تسلیم خم کرنا ہی پڑتا ہے۔ قدرت نے عجیب مبارک طریقہ استدلال آپ کو ودیعت فرمایا ہے۔ 2/ جمادی الاول بروز جمعہ مبارک 1353ھ کو قبل نماز جمعہ جبکہ وہ وعظ فرمارہےتھے۔ایک شخص مسمٰی مکند اور ولد بھاگ سکن تیر نک ضلع حصار نے برضا و رغبت خود ہزاروں مسلمانوں کے روبر و حضرت علامہ کے دست حق پرست پر ہندو مذہب سے توبہ کی اور اسلام قبول کیا۔ اسلامی نامی " محمد بخش" رکھا گیا۔اسی طرح کئی افراد آپ کی کوششوں سےمشرف بااسلام ہوئے۔(الفقیہ امرتسر1937ء)
ممبئی میں آپ کتب خانہ اہل سنت کاقیام عمل میں لائےجس سےاہل سنت کی کثیرکتب ورسائل کی اشاعت ہوئی۔آپ نےدینِ کی خدمت میں بڑی آزمائشوں اورتکلیفوں کاسامناکیا۔لیکن کبھی بھی اپنے موقف سےپیچھےنہیں ہٹے۔یوں تومخالفینِ اہلِ حق کی طرف سےکئی مصائب کاسامنارہالیکن ممبئی میں مقدمہ ممبئی اور انقلاب اینڈ کمپنی کی سازشوں کا شدید جال آپ اور آپ کے مخلصین اہل سنت کا ایک عظیم امتحان تھا ،جو دنیائے سنیت کی وہ روشن تاریخ ہے اور آج بھی منزلوں کے بیچ دخم میں ہماری رہنمائی کیلیے کافی ہے۔ زندگی کے اس سخت ترین موڑ پر آپ کی محبت کا،خلوص ِنیت کا، عزم اور حوصلہ کا، جذبہ وفاداری کا ،جانثاری اور استقامات فی الدین کا جس جس طرح بھی امتحان لیا گیا تو آپ اسلام و سنیت کی نشر و اشاعت کی خاطرِ اہل باطل کے ہزار ہاباطل طوفانوں میں نہ صرف ثابت قدم رہے بلکہ برابر مسکراتے ہوئے نظر آئے۔ رفیقوں کے قدم ڈگمگا گئے۔ اور احباب کے چہروں پر اداسی چھپاگئی مگر کوئی زلزلہ آپ کے پائے ثبات کو متزلزل نہ کرسکا اور نہ آپ کے عزم محکم میں کسی قسم کی جنبش پیدا ہوئی۔ اللہ تعالیٰ اور اس کےرسول ﷺنے ایسی شاندار کامیابوں سے ہمکنار کیا کہ ممبئی ہی نہیں بلکہ مہارا شڑ کی تاریخ اسے کبھی فراموش نہیں کرسکتی۔ آل انڈیا سنی جمعیۃ العلماءممبئی اس عظیم الشان فتح و نصرت کی ایک جیتی جاگتی تصویر ہے۔(مولانا حشمت علی خان:122)
شریعت کا انہیں بے حد پاس تھا۔ زہد و تقویٰ ان کی زندگی کا ایک حصہ بن چکا تھا کسی کام کے کرنے سے پہلے شرعی نقطۂ نظر سے اسکا جائزہ ضرور لے لیتے۔ فرائض و اجبات پر عمل تو تھا ہی مستحبات و مسنونات کی بھی اُن کے یہاں بڑی قدر اور اہمیت تھی۔زیارت حرمین شریفین کی سع
نام ونسب: اسمِ گرامی:حضرت مولانا محبوب علی خان۔لقب:غازیِ ملت،مناظراہلسنت،مفتیِ اعظم پٹیالہ،مصنف کتبِ کثیرہ،لکھنؤکی نسبت سے"لکھنوی"مشہورہیں۔سلسلہ نسب اسطرح ہے: مولانا محبوب علی خان بن ابوالحفاظ نواب علی خان بن محمد حیات خان بن محمد سعادت خان بن محمد خاں۔علیہم الرحمۃ والرضوان۔آپ کےوالدِگرامی،حضرت مولانا ہدایت رسول رامپوری (خلیفہ اعلی حضرت علیہ الرحمہ )کے مرید تھے۔آپ مفتی اعظم بمبئی خلیفۂ اعلیٰ حضرت حضور شیر بیشۂ اہل سنت رحمۃ اللہ علیہ کے برادر اصغرہیں۔
تاریخِ ولادت: آپ کی ولادت باسعادت لکھنؤ انڈیا میں ہوئی۔
تحصیلِ علم: حفظ قرآن پاک اور ابتدائی تعلیم دار العلوم منظر الاسلام بریلی شریف میں حاصل کی۔ دار العلوم حزب الاحناف لاہور میں حضرت مولانا سید دار علی الوری قدس سرہ ٗ سے دورۂ حدیث کی تکمیل کر کے سند فضیلت حاصل کی۔
بیعت وخلافت: اعلیٰ حضرت امام اہلسنت مجددملت الشاہ امام احمدرضاخان علیہ الرحمہ کےدستِ حق پرست پربیعت ہوئے،اورسندِاجازت وخلافت سے سرفرازکیےگئے۔ آپ نےاطرافِ ہندمیں سلسلہ عالیہ رضویہ کےفروغ میں اہم کرداراداکیا۔
سیرت وخصائص: غازیِ ملت،مناظراہلسنت،مفتیِ اعظم پٹیالہ،مصنف کتبِ کثیرہ،محبوبِ اعلیٰ حضرت،صاحبِ تقویٰ وفضیلت حضرت علامہ مولانا مفتی محبوب علی خان لکھنوی رضوی رحمۃ اللہ علیہ۔آپ علیہ الرحمہ ایک جامع علمی وعملی شخصیت کےمالک تھے۔تمام فنون پرکامل قدرت رکھتےتھے۔فنِ مناظرہ وردبدمذہباں میں اپنےبرادراکبر حضرت شیربیشہ اہل سنت کےہم قدم تھے۔اللہ تعالیٰ نے حق بولنے و حق لکھنے کی بے پناہ صلاحیت آپ کو عطا کی تھی۔ تحریر سے آپ کو اس درجہ شغف تھا کہ تادم زیست پرورش لوح و قلم اور پھراس کی نشر و اشاعت میں سرگرم عمل رہے۔ آپ نے اکثر اصلاح عقائد فاسدہ کےموضوع پر قلم اٹھایا ہے۔خوب لکھا ہے اور حق ادا کردیا ہے۔ کتابوں کا موضوع خالص علمی رنگ لیے ہوئے ہے۔ کتابوں کے مطالعہ سے مصنف کی علمی دقیقہ رسی اور نکتہ شناسی کا اندازہ ہوتا ہے۔آپ کی جملہ تصانیف کا احاطہ نہیں کیا جاسکتا۔ اتنا لکھنے میں ضرور حق بجانب ہوں کہ وہ درجنوں اہم کتابوں کےمصنف تھے۔
حضرت مفتی صاحب نے علم دین کی جو شمع وہاں روشن کی ہے اس سے اپنے تو اپنے بےگانوں کےقلب بھی منور ہوئے بغیر نہیں رہ سکے ہیں۔کتنوں کو آپ نے داخلِ اسلام کیا۔ ایسا جادوئی لب و لہجہ خدا نے آپ کو عطا کیا تھا کہ ہر تقریر میں کوئی نہ کوئی دشمنِ رسول عاشق رسولﷺ ضرور بن جاتا۔ پٹیالہ میں اشاعتِ اسلام پر تبصرہ کرتے ہوئے چودھری اختر علی لکھتے ہیں۔" مسلمانوں میں ایمانی روح اور مذہبی بیداری پیدا ہورہی ہے۔چنانچہ مخالف کو بھی آپ کے وعظ میں آخر سرِ تسلیم خم کرنا ہی پڑتا ہے۔ قدرت نے عجیب مبارک طریقہ استدلال آپ کو ودیعت فرمایا ہے۔ 2/ جمادی الاول بروز جمعہ مبارک 1353ھ کو قبل نماز جمعہ جبکہ وہ وعظ فرمارہےتھے۔ایک شخص مسمٰی مکند اور ولد بھاگ سکن تیر نک ضلع حصار نے برضا و رغبت خود ہزاروں مسلمانوں کے روبر و حضرت علامہ کے دست حق پرست پر ہندو مذہب سے توبہ کی اور اسلام قبول کیا۔ اسلامی نامی " محمد بخش" رکھا گیا۔اسی طرح کئی افراد آپ کی کوششوں سےمشرف بااسلام ہوئے۔(الفقیہ امرتسر1937ء)
ممبئی میں آپ کتب خانہ اہل سنت کاقیام عمل میں لائےجس سےاہل سنت کی کثیرکتب ورسائل کی اشاعت ہوئی۔آپ نےدینِ کی خدمت میں بڑی آزمائشوں اورتکلیفوں کاسامناکیا۔لیکن کبھی بھی اپنے موقف سےپیچھےنہیں ہٹے۔یوں تومخالفینِ اہلِ حق کی طرف سےکئی مصائب کاسامنارہالیکن ممبئی میں مقدمہ ممبئی اور انقلاب اینڈ کمپنی کی سازشوں کا شدید جال آپ اور آپ کے مخلصین اہل سنت کا ایک عظیم امتحان تھا ،جو دنیائے سنیت کی وہ روشن تاریخ ہے اور آج بھی منزلوں کے بیچ دخم میں ہماری رہنمائی کیلیے کافی ہے۔ زندگی کے اس سخت ترین موڑ پر آپ کی محبت کا،خلوص ِنیت کا، عزم اور حوصلہ کا، جذبہ وفاداری کا ،جانثاری اور استقامات فی الدین کا جس جس طرح بھی امتحان لیا گیا تو آپ اسلام و سنیت کی نشر و اشاعت کی خاطرِ اہل باطل کے ہزار ہاباطل طوفانوں میں نہ صرف ثابت قدم رہے بلکہ برابر مسکراتے ہوئے نظر آئے۔ رفیقوں کے قدم ڈگمگا گئے۔ اور احباب کے چہروں پر اداسی چھپاگئی مگر کوئی زلزلہ آپ کے پائے ثبات کو متزلزل نہ کرسکا اور نہ آپ کے عزم محکم میں کسی قسم کی جنبش پیدا ہوئی۔ اللہ تعالیٰ اور اس کےرسول ﷺنے ایسی شاندار کامیابوں سے ہمکنار کیا کہ ممبئی ہی نہیں بلکہ مہارا شڑ کی تاریخ اسے کبھی فراموش نہیں کرسکتی۔ آل انڈیا سنی جمعیۃ العلماءممبئی اس عظیم الشان فتح و نصرت کی ایک جیتی جاگتی تصویر ہے۔(مولانا حشمت علی خان:122)
شریعت کا انہیں بے حد پاس تھا۔ زہد و تقویٰ ان کی زندگی کا ایک حصہ بن چکا تھا کسی کام کے کرنے سے پہلے شرعی نقطۂ نظر سے اسکا جائزہ ضرور لے لیتے۔ فرائض و اجبات پر عمل تو تھا ہی مستحبات و مسنونات کی بھی اُن کے یہاں بڑی قدر اور اہمیت تھی۔زیارت حرمین شریفین کی سع
❤2
ادت سے بھی بہرہ مند تھے۔بیعت واردت کا بھی سلسلہ تھا سلسلہ عالیہ قادریہ میں بیعت کرتے تھے۔ سینکڑوں مریدین اُن کے دامن ارادت سے وابستہ ہیں۔آپ کے مریدین " محبوبی" لکھتے ہیں۔آپ کے مریدین میں خلوص و محبت کا جذبہ آپ ہی کی طرح ہے۔ مثال مشہور ہے درخت اپنے پھل اور پیر اپنے مرید سے پہنچا جاتا ہے۔ جب تک بقید حیات رہے اشاعتِ دین حق کو مقصود زندگی سمجھتے رہے۔ یاد گار میں صاحبزاد اور شاگردوں کے علاوہ ہزاروں صفحات پر پھیلی ہوئی آپ کی تصانیف ہیں جو رہتی دنیا تک آپ کی علمی عظمت کا اعتراف اہل علم وفن سے کراتی رہیں گی۔
تاریخِ وصال: 24/جمادی الاخری1385ھ،مطابق 20/اکتوبر1965ءکوسفرِ آخرت کیا۔
ماخذومراجع: تذکرہ علمائے اہلسنت۔مولانا حشمت علی خان لکھنوی۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-mehboob-ali-khan-lakhnavi
تاریخِ وصال: 24/جمادی الاخری1385ھ،مطابق 20/اکتوبر1965ءکوسفرِ آخرت کیا۔
ماخذومراجع: تذکرہ علمائے اہلسنت۔مولانا حشمت علی خان لکھنوی۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-mehboob-ali-khan-lakhnavi
scholars.pk
Hazrat Molana Mehboob Ali Khan Lakhnavi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤2
محمدمیاں قادری برکاتی مارہروی، تاج العلماسیّد شاہ اولادِرسول
نوٹ: حضرت تاج العلما رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے’’تاریخ خاندانِ برکات‘‘ میں جواپنی سوانحِ حیات خودتحریرفرمائی ہے، اُسی کو بطورِتبرک من وعن نقل کرتاہوں۔ان کےالفاظ میں جوخیرِ کثیر ہے،وہ اس عاصی کےپاس کہاں؟(فقیرتونسوی غفرلہ)
تاج العلما حضرت سیّد شاہ اولادِرسول محمدمیاں قادری برکاتی مارہروی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہفرماتےہیں:
’’فقیر کی ولادت 23؍ رمضان لمبارک 1309 ھ میں اپنے حضرت جدِّ امجد قُدِّسَ سِرُّہٗ کے دولت خانے واقع محلہ تا مسین گنج ضلع سیتاپور میں ہوئی۔’’اولادِ رسول فخر العالم محمد‘‘ پر عقیقہ کیا گیا بعد کو ’’محمد‘‘ کےساتھ بوجہ مطابق نام پاک حضور صاحبِ لولاکﷺ بنظرِ تعظیم لفظ ’’میاں‘‘ کا اضافہ ہو کر ’’محمد میاں‘‘ نام زیادہ متعارف ہوا، اور فقیر بھی اپنا یہی نام اکثر استعمال کرتا ہے۔ اور چوں کہ فقیر کےبرادرِ معظّم کا نام فقیر عالم تھا؛ لہٰذا، بعض بزرگ اس کی مطابقت وزن سے فقیر کو محمد عالم کہتے تھے۔
درسیات مروجہ مختصر فارسی اپنے حضرت والدِ ماجد دامت برکاتہم العالیۃ اور منشی فرزند حسن صاحب ساکن قصبہ پانی ضلع ہردوئی اور مولوی میا ں جی رحمت اللہ صاحب مارہروی سے پڑھیں اور انہیں تینوں اور اپنے برادرِ معظّم سیّد شاہ غلام الدین فقیر عالم مرحوم سےمشق خط کی اور درسیاتِ مروجہ درسِ نظامی عربی فقہ و اصولِ فقہ و نحو و صرف و معانی و بیان و منطق و فلسفہ و عقائد و کلام تفسیر و حدیث وغیرہ اپنے حضرت والدِ ماجد قبلہ و کعبہ دامت برکاتہم العالیۃ و مولوی سیّد حیدر شاہ صاحب پشاوری و مولوی غلام رحمانی صاحب ولایتی و حافظ امیر اللہ صاحب بریلوی و مولانا عبد المقتدر صاحب بدایونی سے پڑھیں اور بعض دیگر سے بھی چند اسباق پڑھے۔ ان درسیات کا غالب حصہ مولوی حیدر شاہ صاحب پشاوری سے پڑھا۔درسیات کی آخری کتب پڑھانے کے بعد ان کا ارادہ حسبِ دستورِ زمانہ سندِ تکمیل دینے کا تھا مگر بعض وجوہ کی بنا پر وہ اپنے وطن چلے گئے اور پھر ان سے سندِ تحریری کی نوبت نہ آئی۔
علمِ حدیث وغیرہ کی سند فقیر کو اپنے خاندانی تسلسل، اپنے حضر ت والدِ ماجد قبلہ و حضرت نانا صاحب قبلہ سیّد شاہ ابو الحسین احمد نوری میاں صاحب سےبِحَمْدِہٖ تَعَالٰی حاصل ہے۔ قرآنِ مجید فقیر نے اپنے حضرت والدِ ماجد قبلہ اور برادرِ معظّم سیّد شاہ غلام محی الدین فقیر عالم وہمشیرۂ معظّمہ اہلیۂ سیّد مہدی حسن صاحب اور جناب استادِ مکرم حافظ عبد الکریم صاحب ملک پوری مرحوم سے حفظ کیا اور حافظ امیر اللہ صاحب بریلوی اور بعض دیگر سے بھی چند سبق پڑھے اور کچھ دور کیا ہے۔
اور فقیر کو اگرچہ حضرت امامِ اہلِ سنّت مولانا احمد رضا خاں صاحب بریلوی قُدِّسَ سِرُّہٗ سے تلمذِ رسمی حاصل نہیں مگر فقیر ان کو اپنے اکثر اساتذہ سے بہتر و برتر اپنا استاد جانتا ہے۔ ان کی تقریرات و تحریرات سے فقیر کوبہت کثیر فوائدِ دینی و عملی حاصل ہوئے اور چوں کہ تقریر و تحریر میں ان کا طریقہ بے لوث اور مواخذاتِ صوری و معنوی شرعی و عرفی سے منزّہ و مبرا ثابت و محقق ہوا لہٰذا فقیر بھی تا بہ وسعت ان کے طریقے کا اتباع کرنا پسند کرتا ہے۔اللّٰھم و فقنا لما تحب و ترضٰی۔ آمین یا رب العالمین۔
بیعت طریقۂ عالیہ قادریہ برکاتیہ میں اور اس سلسلہ و نیز دیگر سلاسلِ عالیہ نقشبندیہ ابو العلائیہ و چشتیہ نظامیہ و سہروردیہ جدیدہ وقدیمہ میں اجازت و خلافت اور بعض دیگر سلاسل و جملہ اوراد و اذکار و اشغال و اعمال و وظائف و احادیثِ شریفہ و قرآنِ مجید و مصافحات وغیرہ برکات کی اجازت اپنے حضرت والدِ ماجد قبلہ و کعبہ و دامت برکاتہم العالیۃ حضرت سیّد شاہ محمد اسماعیل حسن صاحب اور اپنے نانا صاحب زبدۃ الواصلین حضرت سیّد شاہ ابو الحسین احمد نوری میاں صاحب قُدِّسَ سِرُّہٗ سے حاصل ہے۔‘‘(تاریخ خاندان برکات، صفحہ65)
تاریخِ وصال:
24؍جمادی الآخرہ1375ھ مطابق 7؍فروری 1956ء، بعدنمازعشا، 8؍بج کر48؍ منٹ پرآپ نےوصال فرمایا۔مارہرہ مطہرہ میں مرقدِمبارک ہے۔
تعلیماتِ حضرت تاج العلمارحمۃ اللہ تعالٰی علیہ:
1. اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ اوراس کےحبیبﷺکا سچا پکا مطیع و فرماں بردار محب و محبوب بندہ پہلے بنا کر اس طرح اپنی فریاد سنی جانے کے لائق اپنے آپ کو ٹھہرا کر اپنی فریاد فریا درس حقیقی ربِّ عزت تبارک و تعالیٰ اور اس کی عطا سے اور اس کے حکم سے اس کے محبوب اپنے آقا محمد مصطفٰیﷺہی کے دربار میں ہم پیش کریں۔یاد رکھیے! ہم غربائے مسلمین کی حقیقی پائیدار کامل اکمل داد رسی اور اعدا و دشمنان دین کی مکمل و مستقل قطعی سرکو بی وہیں سے اور صرف وہیں سے ہوگی۔
2. یہ دنیا عالم اسباب ہے۔ حقیقی بھروسا تو اللہ و رسول جل و علا و علیہ الصلاۃ و السلام پر رکھیے ظاہری اسبابی لحاظ سے خود اپنے قوتِ بازو اور قوتِ عمل پر بھروسہ کیجیے۔ ہرگز ہرگز کسی بےدین و بددین فرد اور جمعیت کی طر ف دستِ التجا نہ پھیلائیے۔ ان میں سے کسی کو بھی خواہ وہ وہابیہ کی جمعیت الع
نوٹ: حضرت تاج العلما رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے’’تاریخ خاندانِ برکات‘‘ میں جواپنی سوانحِ حیات خودتحریرفرمائی ہے، اُسی کو بطورِتبرک من وعن نقل کرتاہوں۔ان کےالفاظ میں جوخیرِ کثیر ہے،وہ اس عاصی کےپاس کہاں؟(فقیرتونسوی غفرلہ)
تاج العلما حضرت سیّد شاہ اولادِرسول محمدمیاں قادری برکاتی مارہروی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہفرماتےہیں:
’’فقیر کی ولادت 23؍ رمضان لمبارک 1309 ھ میں اپنے حضرت جدِّ امجد قُدِّسَ سِرُّہٗ کے دولت خانے واقع محلہ تا مسین گنج ضلع سیتاپور میں ہوئی۔’’اولادِ رسول فخر العالم محمد‘‘ پر عقیقہ کیا گیا بعد کو ’’محمد‘‘ کےساتھ بوجہ مطابق نام پاک حضور صاحبِ لولاکﷺ بنظرِ تعظیم لفظ ’’میاں‘‘ کا اضافہ ہو کر ’’محمد میاں‘‘ نام زیادہ متعارف ہوا، اور فقیر بھی اپنا یہی نام اکثر استعمال کرتا ہے۔ اور چوں کہ فقیر کےبرادرِ معظّم کا نام فقیر عالم تھا؛ لہٰذا، بعض بزرگ اس کی مطابقت وزن سے فقیر کو محمد عالم کہتے تھے۔
درسیات مروجہ مختصر فارسی اپنے حضرت والدِ ماجد دامت برکاتہم العالیۃ اور منشی فرزند حسن صاحب ساکن قصبہ پانی ضلع ہردوئی اور مولوی میا ں جی رحمت اللہ صاحب مارہروی سے پڑھیں اور انہیں تینوں اور اپنے برادرِ معظّم سیّد شاہ غلام الدین فقیر عالم مرحوم سےمشق خط کی اور درسیاتِ مروجہ درسِ نظامی عربی فقہ و اصولِ فقہ و نحو و صرف و معانی و بیان و منطق و فلسفہ و عقائد و کلام تفسیر و حدیث وغیرہ اپنے حضرت والدِ ماجد قبلہ و کعبہ دامت برکاتہم العالیۃ و مولوی سیّد حیدر شاہ صاحب پشاوری و مولوی غلام رحمانی صاحب ولایتی و حافظ امیر اللہ صاحب بریلوی و مولانا عبد المقتدر صاحب بدایونی سے پڑھیں اور بعض دیگر سے بھی چند اسباق پڑھے۔ ان درسیات کا غالب حصہ مولوی حیدر شاہ صاحب پشاوری سے پڑھا۔درسیات کی آخری کتب پڑھانے کے بعد ان کا ارادہ حسبِ دستورِ زمانہ سندِ تکمیل دینے کا تھا مگر بعض وجوہ کی بنا پر وہ اپنے وطن چلے گئے اور پھر ان سے سندِ تحریری کی نوبت نہ آئی۔
علمِ حدیث وغیرہ کی سند فقیر کو اپنے خاندانی تسلسل، اپنے حضر ت والدِ ماجد قبلہ و حضرت نانا صاحب قبلہ سیّد شاہ ابو الحسین احمد نوری میاں صاحب سےبِحَمْدِہٖ تَعَالٰی حاصل ہے۔ قرآنِ مجید فقیر نے اپنے حضرت والدِ ماجد قبلہ اور برادرِ معظّم سیّد شاہ غلام محی الدین فقیر عالم وہمشیرۂ معظّمہ اہلیۂ سیّد مہدی حسن صاحب اور جناب استادِ مکرم حافظ عبد الکریم صاحب ملک پوری مرحوم سے حفظ کیا اور حافظ امیر اللہ صاحب بریلوی اور بعض دیگر سے بھی چند سبق پڑھے اور کچھ دور کیا ہے۔
اور فقیر کو اگرچہ حضرت امامِ اہلِ سنّت مولانا احمد رضا خاں صاحب بریلوی قُدِّسَ سِرُّہٗ سے تلمذِ رسمی حاصل نہیں مگر فقیر ان کو اپنے اکثر اساتذہ سے بہتر و برتر اپنا استاد جانتا ہے۔ ان کی تقریرات و تحریرات سے فقیر کوبہت کثیر فوائدِ دینی و عملی حاصل ہوئے اور چوں کہ تقریر و تحریر میں ان کا طریقہ بے لوث اور مواخذاتِ صوری و معنوی شرعی و عرفی سے منزّہ و مبرا ثابت و محقق ہوا لہٰذا فقیر بھی تا بہ وسعت ان کے طریقے کا اتباع کرنا پسند کرتا ہے۔اللّٰھم و فقنا لما تحب و ترضٰی۔ آمین یا رب العالمین۔
بیعت طریقۂ عالیہ قادریہ برکاتیہ میں اور اس سلسلہ و نیز دیگر سلاسلِ عالیہ نقشبندیہ ابو العلائیہ و چشتیہ نظامیہ و سہروردیہ جدیدہ وقدیمہ میں اجازت و خلافت اور بعض دیگر سلاسل و جملہ اوراد و اذکار و اشغال و اعمال و وظائف و احادیثِ شریفہ و قرآنِ مجید و مصافحات وغیرہ برکات کی اجازت اپنے حضرت والدِ ماجد قبلہ و کعبہ و دامت برکاتہم العالیۃ حضرت سیّد شاہ محمد اسماعیل حسن صاحب اور اپنے نانا صاحب زبدۃ الواصلین حضرت سیّد شاہ ابو الحسین احمد نوری میاں صاحب قُدِّسَ سِرُّہٗ سے حاصل ہے۔‘‘(تاریخ خاندان برکات، صفحہ65)
تاریخِ وصال:
24؍جمادی الآخرہ1375ھ مطابق 7؍فروری 1956ء، بعدنمازعشا، 8؍بج کر48؍ منٹ پرآپ نےوصال فرمایا۔مارہرہ مطہرہ میں مرقدِمبارک ہے۔
تعلیماتِ حضرت تاج العلمارحمۃ اللہ تعالٰی علیہ:
1. اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ اوراس کےحبیبﷺکا سچا پکا مطیع و فرماں بردار محب و محبوب بندہ پہلے بنا کر اس طرح اپنی فریاد سنی جانے کے لائق اپنے آپ کو ٹھہرا کر اپنی فریاد فریا درس حقیقی ربِّ عزت تبارک و تعالیٰ اور اس کی عطا سے اور اس کے حکم سے اس کے محبوب اپنے آقا محمد مصطفٰیﷺہی کے دربار میں ہم پیش کریں۔یاد رکھیے! ہم غربائے مسلمین کی حقیقی پائیدار کامل اکمل داد رسی اور اعدا و دشمنان دین کی مکمل و مستقل قطعی سرکو بی وہیں سے اور صرف وہیں سے ہوگی۔
2. یہ دنیا عالم اسباب ہے۔ حقیقی بھروسا تو اللہ و رسول جل و علا و علیہ الصلاۃ و السلام پر رکھیے ظاہری اسبابی لحاظ سے خود اپنے قوتِ بازو اور قوتِ عمل پر بھروسہ کیجیے۔ ہرگز ہرگز کسی بےدین و بددین فرد اور جمعیت کی طر ف دستِ التجا نہ پھیلائیے۔ ان میں سے کسی کو بھی خواہ وہ وہابیہ کی جمعیت الع
❤2
لما ہو یا لیگ و کانگریس سوشلسٹ و کمیونسٹ و مہا سبھا وغیرہ اسی قماش کی دوسری جمعیتیں اور انجمنیں اور ان کے اہلکاران و کار کنان کو ہرگز ہرگز اپنا مخلص چارہ گر اوربے لوث ہمدرد ہرگز نہ جانیے۔
3. لیڈری چالوں سے بہت ہوشیار رہیے۔ تجربے نے خوب ظاہر کردیا ہے کہ لیڈری چالوں میں وقتی اظہارِ جوش و خروش،شور و غوغا،اشتعالِ بےسود بلکہ مضر تو بہت ہوتا ہے مگر ٹھوس اور پائیدار مفید نتیجہ کچھ نہیں نکلتا؛ بلکہ اور غریب مسلمان کمزور سے کمزور تر ہوجاتے ہیں۔
4. اہلِ سنّت باہمی اتحاد اور تنظیم کریں۔ ایک دوسرے کے دُکھ درد و ر نج وراحت کے شریکِ حال بنیں۔
5. بُری رسمیں اور محرمات اور کھیل کود لغویات میں اپنے اوقات اور اموال کو ضائع کرنے سے بچا کر اپنی معیشت اور دنیوی مالی حالت درست کریں، سینما قطعاً دیکھنا چھوڑ دیں(فی زمانہ فلمیں، ڈرامے، غیرِشرعی پروگرامز، انٹرنیٹ وموبائل کابےجااستعمال)۔
6. کاہلی اور بے عملی کو چھوڑ دیں۔ شریعتِ مطہرہ کو اپنا دستور العمل زندگی ظاہری و باطنی قولی و عملی بنائیں۔ طاعت و عبادت کے بعد جو اوقات بچیں وہ جائز تجارت مفید زراعت کار آمد اور سود مند صنعت و حرفت غرض اُن اُمور میں صرف کریں جن سے دنیا سنبھلے اور دین کو بھی اُس سے قوت ملے۔
7. صبر و قناعت اور تقویٰ سے گزر اوقات کرنا اور انہیں سے اعدا و مخالفین کا مقابلہ کرنا سیکھیں۔
8. بقدرِ ضرورت علمِ دین ضرور حاصل کریں تو ان شآء اللہ العزیز الکریم و بفضل رسولہ العظیمﷺ بیڑا پاررہے اور یہی اغیارو کفّار و اشرار جو آج ہماری بد عملی اور بے عملی سے ہمارے جان و مال عزت و ناموس ہی پر نہیں بلکہ ہمارے مقدس دین اسلام اور پیارے مذہب اہل سنّت اور ہمارے معظّمانِ دین کی مقدّس بارگاہوں اور رفیع شانوں میں گستاخ خیرہ سردار دردیدہ دہن ہیں کل ہمارا لوہا مانیں گے اور ہمارے سامنے سپر انداختہ ہوں گے۔ لیڈرانِ قوم کے خود ساختہ پروگرام تو آج کل کے مدّعیانِ اسلام نے بہت آزما لیے اور اُن کے سخت مضر اور مہلک نتیجے بھی آنکھوں کے سامنے ہیں۔ فقیر کے برادرانِ دین و طریقت اب اس شرعی دینی اسلامی سہل و مختصر بے شورو شردستور العمل پر بھی عمل کرکےدیکھیں۔ان شآء اللہ تعالٰی وہ اِس ارشادِ رحمانی کے جلوے اپنی آنکھوں دیکھ لیں گے کہ
وَمَنۡ یُّطِعِ اللہَ وَ رَسُوۡلَہٗ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِیۡمًا﴿۷۱﴾ (الاحزاب:۷۱)
ترجمہ: جس نے اللہ و رسول جل و علا و علیہ الصلاۃ والسلام کا کہنا مانا، بے شک وہ عظیم کامیابی کو پہنچا۔
(اہلِ سنّت کی آواز، 2010ء، ص250)
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-shah-aulad-e-rasool-muhammad-mian-maharvi
3. لیڈری چالوں سے بہت ہوشیار رہیے۔ تجربے نے خوب ظاہر کردیا ہے کہ لیڈری چالوں میں وقتی اظہارِ جوش و خروش،شور و غوغا،اشتعالِ بےسود بلکہ مضر تو بہت ہوتا ہے مگر ٹھوس اور پائیدار مفید نتیجہ کچھ نہیں نکلتا؛ بلکہ اور غریب مسلمان کمزور سے کمزور تر ہوجاتے ہیں۔
4. اہلِ سنّت باہمی اتحاد اور تنظیم کریں۔ ایک دوسرے کے دُکھ درد و ر نج وراحت کے شریکِ حال بنیں۔
5. بُری رسمیں اور محرمات اور کھیل کود لغویات میں اپنے اوقات اور اموال کو ضائع کرنے سے بچا کر اپنی معیشت اور دنیوی مالی حالت درست کریں، سینما قطعاً دیکھنا چھوڑ دیں(فی زمانہ فلمیں، ڈرامے، غیرِشرعی پروگرامز، انٹرنیٹ وموبائل کابےجااستعمال)۔
6. کاہلی اور بے عملی کو چھوڑ دیں۔ شریعتِ مطہرہ کو اپنا دستور العمل زندگی ظاہری و باطنی قولی و عملی بنائیں۔ طاعت و عبادت کے بعد جو اوقات بچیں وہ جائز تجارت مفید زراعت کار آمد اور سود مند صنعت و حرفت غرض اُن اُمور میں صرف کریں جن سے دنیا سنبھلے اور دین کو بھی اُس سے قوت ملے۔
7. صبر و قناعت اور تقویٰ سے گزر اوقات کرنا اور انہیں سے اعدا و مخالفین کا مقابلہ کرنا سیکھیں۔
8. بقدرِ ضرورت علمِ دین ضرور حاصل کریں تو ان شآء اللہ العزیز الکریم و بفضل رسولہ العظیمﷺ بیڑا پاررہے اور یہی اغیارو کفّار و اشرار جو آج ہماری بد عملی اور بے عملی سے ہمارے جان و مال عزت و ناموس ہی پر نہیں بلکہ ہمارے مقدس دین اسلام اور پیارے مذہب اہل سنّت اور ہمارے معظّمانِ دین کی مقدّس بارگاہوں اور رفیع شانوں میں گستاخ خیرہ سردار دردیدہ دہن ہیں کل ہمارا لوہا مانیں گے اور ہمارے سامنے سپر انداختہ ہوں گے۔ لیڈرانِ قوم کے خود ساختہ پروگرام تو آج کل کے مدّعیانِ اسلام نے بہت آزما لیے اور اُن کے سخت مضر اور مہلک نتیجے بھی آنکھوں کے سامنے ہیں۔ فقیر کے برادرانِ دین و طریقت اب اس شرعی دینی اسلامی سہل و مختصر بے شورو شردستور العمل پر بھی عمل کرکےدیکھیں۔ان شآء اللہ تعالٰی وہ اِس ارشادِ رحمانی کے جلوے اپنی آنکھوں دیکھ لیں گے کہ
وَمَنۡ یُّطِعِ اللہَ وَ رَسُوۡلَہٗ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِیۡمًا﴿۷۱﴾ (الاحزاب:۷۱)
ترجمہ: جس نے اللہ و رسول جل و علا و علیہ الصلاۃ والسلام کا کہنا مانا، بے شک وہ عظیم کامیابی کو پہنچا۔
(اہلِ سنّت کی آواز، 2010ء، ص250)
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-shah-aulad-e-rasool-muhammad-mian-maharvi
scholars.pk
Hazrat Syed Shah Aulad-e-Rasool Muhammad Mian Maharvi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤2
حضرت سیدنا قاسم بن محمد رضی اللہ تعالیٰ عنہما
نام و نسب:
اسمِ گرامی: حضرت قاسم رضی اللہ عنہ ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت قاسم بن محمد بن سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہم ۔
آپ امیر المؤمنین خلیفۂ اول سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ پوتے تھے ۔
تاریخِ ولادت:
خلیفۂ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عہد مبارک میں شاہِ فارس "یزدجرد" کی تین بیٹیاں مالِ غنیمت میں آئیں ۔ جن میں سے شہر بانو، حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عقد میں آئیں، جن سے حضرت امام زین العابدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ پیدا ہوئے ۔ دوسری حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زوجیت میں آئیں، جن سے حضرت سالم رضی اللہ عنہ متولد ہوئے ۔ اور تیسری حضرت محمد بن ابو بکر صدیق کے نکاح میں آئیں، جن سے حضرت قاسم نے جنم لیا ۔ اس طرح حضرت زین العابدین، حضرت سالم اور حضرت قاسم تینوں خالہ زاد بھائی ہیں ۔ حضرت قاسم کی ولادت 23 شعبان 24ھ کو ہوئی ۔
سیرت و خصائص:
حضرت قاسم اپنے وقت کی بے نظیر ہستی اور امام الوقت تھے ۔ فقیہ بے مثل، عالم بے بدل اور کثیرالحدیث تھے۔چھوٹی عمر میں ہی داغِ یتیمی لے کر اپنی پھوپھی حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی آغوشِ شفقت میں آگئے۔ آپ نے علمِ باطن کا اکتساب حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کیا اور یوں اپنے جدّ امجد حضرت صدیقِ اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی باطنی نعمت اُن کے وسیلہ سے حاصل کی۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی پرورش اور حضرت امام زین العابدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی صحبت نے سونے پر سہاگے کا کام کیا۔ نتیجتاً آپ تابعین کبار اور فقہائے سبعہ میں سےہوئے۔
زہد و عبادت، تقویٰ و طہارت میں اپنی مثل آپ تھے ۔ یحییٰ بن سعید انصاری فرماتے ہیں:"کہ ہم نے مدینہ منورہ میں کسی شخص کو بھی ایسا نہیں پایا جسے حضرت قاسم پر فضیلت دے سکیں"۔ا یوب سختیانی کا بیان ہے:"کہ میں نے کسی کو بھی حضرت قاسم سے افضل نہیں دیکھا"۔ حضرت امام بخاری کا قول ہے:" آپ اپنے زمانہ میں سب سے افضل تھے"۔ ابوالزناد کا قول ہے :کہ" اُن سے بڑھ کر کسی کو سنّت کا عالمِ باعمل نہیں پایا اور نہ کسی فقیہ کو آپ سے زیادہ اعلم دیکھا"۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز فرماتے ہیں :"کہ اگر امرِ خلافت میرے اختیار میں ہوتا تو میں حضرت قاسم رضی اللہ عنہ کے سپرد کردیتا"۔ ابنِ اسحاق کا بیان :ہے کہ "میں نے حضرت قاسم رضی اللہ عنہ کو نماز پڑھتے دیکھا۔ ایک اعرابی آیا، اُس نے آپ سے پوچھا کہ آپ اور سالم میں کون زیادہ عالم ہے۔ آپ نے ارشاد فرمایا: سبحان اللہ! اعرابی (صحرانشین) نے پھر وہی سوال کیا، آپ نے فرمایا: سالم وہ ہیں اُن سے پوچھ لے۔ ابن اسحاق نے اس کی توجیہ یہ کی ہے کہ حضرت قاسم نے اپنے آپ کو اَعلم (زیادہ علم والا) کہنا پسند نہ کیا کیونکہ یہ تزکیۂ نفس ہے اور یہ بھی نہ کہا کہ سالم۔ اعلم ہیں کیونکہ یہ جھوٹ ہے۔
خاندانِ نبوت سے رشتے داری:
حضرت سیدنا قاسم بن محمد بن صدیق اکبر رضی اللہ عنہم کی خاندانِ اہلِ بیت سے قریبی رشتے داری ہے ۔ حضرت قاسم کے والد محمد بن صدیق اکبر اور حضرت سید الشہداء امام عالی مقام امام حسین رضی اللہ عنہ ہم زلف ہیں ۔
اس لحاظ سے حضرت سیدنا قاسم اور حضرت سیدنا امام زین العابدین خالہ زاد بھائی ہوئے ۔
امام جعفر صادق کا نسب:
حضرت سیدنا امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ کا نسب: حضرت سیدنا امام جعفر صادق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی والدہ محترمہ کا اسم گرامی حضرت سیدنا ام فروہ بنت قاسم بن محمد بن ابی بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہم ہے۔ جبکہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے والد گرامی کا اسم مبارک حضرت سیدنا امام محمد باقر بن علی زین العابدین بن حسین بن علی المرتضٰی شیر خدا رضی اللہ تعالیٰ عنہم ہے ۔ یوں آپ رضی اللہ تعالیٰ والدہ کی طرف سے حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور والدہ کی طرف سے حضرت سیدنا علی المرتضی شیر خد اکرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم سے جاملتے ہیں۔ یعنی آپ والدہ کی طرف سے "صدیقی" اور والد کی طرف سے "علوی و فاطمی" ہیں۔ اپنےآپ کو امام جعفر صادق کی نسبت سے "جعفری" کہلانے والے، اور دن رات خلفاء راشدین پر تبراء کرنے والے، صرف ان کی آپس میں رشتے داریاں دیکھ لیں۔جو حسینی ساداتِ کرام ہیں، خاندانِ صدیقِ اکبر ان کا ننھیال ہے ۔
مزید تفصیل کے لئے فقیر کا مضمون "حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی اہلِ بیت سے رشتےداری " مفید رہےگا ۔ (تونسوی غفرلہ) ۔ حضرت قاسم رضی اللہ عنہ حضرت امام جعفرصادق رضی اللہ عنہ کےناناجان ہیں۔
نام و نسب:
اسمِ گرامی: حضرت قاسم رضی اللہ عنہ ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت قاسم بن محمد بن سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہم ۔
آپ امیر المؤمنین خلیفۂ اول سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ پوتے تھے ۔
تاریخِ ولادت:
خلیفۂ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عہد مبارک میں شاہِ فارس "یزدجرد" کی تین بیٹیاں مالِ غنیمت میں آئیں ۔ جن میں سے شہر بانو، حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عقد میں آئیں، جن سے حضرت امام زین العابدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ پیدا ہوئے ۔ دوسری حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زوجیت میں آئیں، جن سے حضرت سالم رضی اللہ عنہ متولد ہوئے ۔ اور تیسری حضرت محمد بن ابو بکر صدیق کے نکاح میں آئیں، جن سے حضرت قاسم نے جنم لیا ۔ اس طرح حضرت زین العابدین، حضرت سالم اور حضرت قاسم تینوں خالہ زاد بھائی ہیں ۔ حضرت قاسم کی ولادت 23 شعبان 24ھ کو ہوئی ۔
سیرت و خصائص:
حضرت قاسم اپنے وقت کی بے نظیر ہستی اور امام الوقت تھے ۔ فقیہ بے مثل، عالم بے بدل اور کثیرالحدیث تھے۔چھوٹی عمر میں ہی داغِ یتیمی لے کر اپنی پھوپھی حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی آغوشِ شفقت میں آگئے۔ آپ نے علمِ باطن کا اکتساب حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کیا اور یوں اپنے جدّ امجد حضرت صدیقِ اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی باطنی نعمت اُن کے وسیلہ سے حاصل کی۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی پرورش اور حضرت امام زین العابدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی صحبت نے سونے پر سہاگے کا کام کیا۔ نتیجتاً آپ تابعین کبار اور فقہائے سبعہ میں سےہوئے۔
زہد و عبادت، تقویٰ و طہارت میں اپنی مثل آپ تھے ۔ یحییٰ بن سعید انصاری فرماتے ہیں:"کہ ہم نے مدینہ منورہ میں کسی شخص کو بھی ایسا نہیں پایا جسے حضرت قاسم پر فضیلت دے سکیں"۔ا یوب سختیانی کا بیان ہے:"کہ میں نے کسی کو بھی حضرت قاسم سے افضل نہیں دیکھا"۔ حضرت امام بخاری کا قول ہے:" آپ اپنے زمانہ میں سب سے افضل تھے"۔ ابوالزناد کا قول ہے :کہ" اُن سے بڑھ کر کسی کو سنّت کا عالمِ باعمل نہیں پایا اور نہ کسی فقیہ کو آپ سے زیادہ اعلم دیکھا"۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز فرماتے ہیں :"کہ اگر امرِ خلافت میرے اختیار میں ہوتا تو میں حضرت قاسم رضی اللہ عنہ کے سپرد کردیتا"۔ ابنِ اسحاق کا بیان :ہے کہ "میں نے حضرت قاسم رضی اللہ عنہ کو نماز پڑھتے دیکھا۔ ایک اعرابی آیا، اُس نے آپ سے پوچھا کہ آپ اور سالم میں کون زیادہ عالم ہے۔ آپ نے ارشاد فرمایا: سبحان اللہ! اعرابی (صحرانشین) نے پھر وہی سوال کیا، آپ نے فرمایا: سالم وہ ہیں اُن سے پوچھ لے۔ ابن اسحاق نے اس کی توجیہ یہ کی ہے کہ حضرت قاسم نے اپنے آپ کو اَعلم (زیادہ علم والا) کہنا پسند نہ کیا کیونکہ یہ تزکیۂ نفس ہے اور یہ بھی نہ کہا کہ سالم۔ اعلم ہیں کیونکہ یہ جھوٹ ہے۔
خاندانِ نبوت سے رشتے داری:
حضرت سیدنا قاسم بن محمد بن صدیق اکبر رضی اللہ عنہم کی خاندانِ اہلِ بیت سے قریبی رشتے داری ہے ۔ حضرت قاسم کے والد محمد بن صدیق اکبر اور حضرت سید الشہداء امام عالی مقام امام حسین رضی اللہ عنہ ہم زلف ہیں ۔
اس لحاظ سے حضرت سیدنا قاسم اور حضرت سیدنا امام زین العابدین خالہ زاد بھائی ہوئے ۔
امام جعفر صادق کا نسب:
حضرت سیدنا امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ کا نسب: حضرت سیدنا امام جعفر صادق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی والدہ محترمہ کا اسم گرامی حضرت سیدنا ام فروہ بنت قاسم بن محمد بن ابی بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہم ہے۔ جبکہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے والد گرامی کا اسم مبارک حضرت سیدنا امام محمد باقر بن علی زین العابدین بن حسین بن علی المرتضٰی شیر خدا رضی اللہ تعالیٰ عنہم ہے ۔ یوں آپ رضی اللہ تعالیٰ والدہ کی طرف سے حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور والدہ کی طرف سے حضرت سیدنا علی المرتضی شیر خد اکرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم سے جاملتے ہیں۔ یعنی آپ والدہ کی طرف سے "صدیقی" اور والد کی طرف سے "علوی و فاطمی" ہیں۔ اپنےآپ کو امام جعفر صادق کی نسبت سے "جعفری" کہلانے والے، اور دن رات خلفاء راشدین پر تبراء کرنے والے، صرف ان کی آپس میں رشتے داریاں دیکھ لیں۔جو حسینی ساداتِ کرام ہیں، خاندانِ صدیقِ اکبر ان کا ننھیال ہے ۔
مزید تفصیل کے لئے فقیر کا مضمون "حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی اہلِ بیت سے رشتےداری " مفید رہےگا ۔ (تونسوی غفرلہ) ۔ حضرت قاسم رضی اللہ عنہ حضرت امام جعفرصادق رضی اللہ عنہ کےناناجان ہیں۔
❤1
تاریخِ وصال:
جب آپ کی رحلت کا وقت قریب آیا تو آپ نے وصیت فرمائی کہ مجھے اُن کپڑوں میں کفنانا جن میں نماز پڑھا کرتا تھا۔ یعنی قمیض، تہبند اور چادر۔ آپ کے صاحبزادے نے عرض کیا: ابا جان! کیا ہم دو کپڑے اور زیادہ کردیں؟ ارشاد فرمایا: جانِ پدر! حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا کفن بھی تین کپڑوں پر مشتمل تھا۔ مردے کی نسبت زندہ کو نئے کپڑوں کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔ آپ کی رحلت مکہ و مدینہ کے درمیان" قدید" میں ہوئی اور وہاں سے تین میل دور "مثلّل" میں آخری آرام گاہ بنی ۔ جدید تحقیق کے مطابق آپ نے 81 سال کی عمر میں 24 جمادی الثانی 108ھ مطابق ستمبر 726ء کو رحلت فرمائی ۔
ماخذ و مراجع: تاریخ مشائخِ نقشبند
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-qasim-bin-muhammad-bin-abu-bakr-siddiq
جب آپ کی رحلت کا وقت قریب آیا تو آپ نے وصیت فرمائی کہ مجھے اُن کپڑوں میں کفنانا جن میں نماز پڑھا کرتا تھا۔ یعنی قمیض، تہبند اور چادر۔ آپ کے صاحبزادے نے عرض کیا: ابا جان! کیا ہم دو کپڑے اور زیادہ کردیں؟ ارشاد فرمایا: جانِ پدر! حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا کفن بھی تین کپڑوں پر مشتمل تھا۔ مردے کی نسبت زندہ کو نئے کپڑوں کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔ آپ کی رحلت مکہ و مدینہ کے درمیان" قدید" میں ہوئی اور وہاں سے تین میل دور "مثلّل" میں آخری آرام گاہ بنی ۔ جدید تحقیق کے مطابق آپ نے 81 سال کی عمر میں 24 جمادی الثانی 108ھ مطابق ستمبر 726ء کو رحلت فرمائی ۔
ماخذ و مراجع: تاریخ مشائخِ نقشبند
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-qasim-bin-muhammad-bin-abu-bakr-siddiq
scholars.pk
Hazrat Qasim Bin Muhammad Bin Abu Bakr Siddiq
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
23-06-1445 ᴴ | 06-01-2024 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
24-06-1445 ᴴ | 07-01-2024 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1