🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
قطب العالم حضرت شیخ عبد القدوس گنگوہی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

نام و نسب:
شیخ عبد القدوس بن شیخ اسماعیل بن شیخ صفی الدین ۔ آپ کے دادا شیخ صفی الدین حضرت میر سید اشرف جہانگیر سمنانی علیہ الرحمہ کے مرید تھے ۔ آپ کا سلسلہ نسب چند واسطوں سے حضرت امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ پر منتہی ہوتا ہے ۔

تاریخِ ولادت:
آپ ۸۶۱ھ مطابق ۱۴۵۶ء رودلی میں پیدا ہوئے ۔ آپکی ولادت کی بشارت شیخ عبد الحق رودلوی نے آپ کے والدِ گرامی کو بایں الفاظ ارشاد فرمائی تھی:"تمہاری پشت سے ایک ایسا فرزند پیدا ہوگا جو نور ہی نور ہوگا اور ہماری نعمت اسکو ملے گی۔"

تحصیلِ علم:
آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے والد سے حاصل کی ، اسی طرح خوشنویسی کی تربیت بھی والدِ گرامی سے ہی حاصل ہوئی تھی ۔یہی وجہ ہے کہ آپ کے مکاتیب و مخطوطات اپنی خوشنویسی کی وجہ سے بہت دل آویز ہیں ۔ آپکے فرزند ارجمند شیخ رکن الدین فرماتے ہیں : "چوں حضرت شیخ بہ تعلیم ِکتا بَہا مشغول شد نددر تمام روزمی خواند و تمام شب بشغل ذکر و عبادت حق مشغول بودند ۔ "یعنی حضرت شیخ سارا دن کتب کے مطالعہ اور تعلیم میں مشغول رہتے، اور ساری رات اللہ تعالیٰ کی عبادت و ذکر میں مشغول رہتے تھے ۔ (لطائفِ قدوسیہ) آپ کی علم کی دوستی کا اندازہ اس بات لگایا جا سکتا ہے کہ آپ نے کئی کتب تصنیف فرمائی ہیں ۔

بیعت و خلافت:
آپ حضرت شیخ محمد بن حضرت شیخ عارف کے دست حق پرست پر بیعت ہوئے اور ان سے خرقہ خلافت بھی پایا ۔ آپ کو سلاسلِ اربعہ میں خلافت حاصل ہے ۔ لیکن اصل میں آپ حضرت شیخ احمد عبد الحق ردولوی کی روحانیت سے مستفید و مستفیض تھے ۔

سیرت و خصائص:
آپ مادر زاد ولی تھے ۔ بچپن میں ہی جو بات زبان سے نکل جاتی وہ پوری ہوکے رہتی ۔ ریاضات و مجاہدات میں آپ بایزیدد ہر اور فرید عصر تھے ۔ سرورِ عالم ﷺ کی سیرتِ طیبہ پرسختی سےعمل پیرا تھے ۔ ہر وقت مخلوقِ خدا کی تعلیم وتربیت میں مشغول میں رہتے، اور آپکی تربیت و صحبت میں ایسا اثر تھا کہ تھوڑی سی توجہ سے اسکے باطن کو صاف کرکے واصل باللہ کردیتے تھے۔آپ فرماتے ہیں کہ میں ایک دن شیخ عبدالحق رودلوی علیہ الرحمہ کے مزار پر حاضر ہو ا ،اورمیرے ہاتھ میں علم النحو کی مشہور کتاب"کافیہ" تھی ۔میں مزار شریف کی صفائی کر رہا تھا کہ اچانک مزار سے "حق حق"کی صدائیں بلند ہونے لگیں۔ اس سے میں بیخود ہوکر گر پڑا، اور اس بیخودی کی حالت میں نعمت ازلی وابدی نصیب ہوئی۔پھر فرماتے ہیں کہ میں جب کسی دنیاوی کام میں مشغول ہونا چاہتا تھا تو وہی "حق حق " کی صدا کانوں میں آتی تھی تو میں دنیاوی مشاغل ترک کرکے حق تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوجاتا تھا ۔ حضرت شیخ احمد عبدالحق کی روحانیت میری طرف اس حد تک متوجہ تھی کہ ہمیشہ آخر شب مجھے بیدار کر کے نماز تہجد کا حکم دیا جاتا تھا۔آپ میں عاجزی و انکساری اس حد تک تھی کہ نماز ادا کرنے کے بعد نمازیوں کی جوتیاں سیدھی کرکے رکھتے تھے ۔ (یہ تھے قطب العالم)

وصال:
آپ کا وصال ۲۳ جمادی الثانی ۹۴۴ھ / مطابق ۱۵۳۷ء کو ہوا ۔ مزار شریف گنگوہ ضلع انبالہ (انڈیا) میں مرجع خاص و عام ہے ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-abdul-quddus-gangohi
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
خلیفۂ اعلیٰ حضرت ، حضرت علامہ شہاب الدین احمد رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کویا شالیاتی ملیباری

نام و نسب:
آپ کے والد نے آپ کا نام احمد کویا رکھا شہاب الدین آپ کا پیارا لقب ہے اور کنیت ابو سعادات ہے آپ بسا اوقات اشعار بھی کہتے تھےاس مناسبت سے، ازہریہ سے معروف و مقبولِ عام و خاص تھے ۔

ولادتِ بابرکت:
آپ کی ولادت قریہ چالیم میں ۲۳ جمادی الاخریٰ ۱۳۰۲ھ / ۱۸۸۴ ء کو ہوئی ۔

تعلیم و تربیت:
ابتدائی تعلیم آپ نے اپنے والد صاحب سے حاصل کی مگر درسِ فخری کی بڑی کتابیں آپ نے فقیہِ عصر علامہ چالل اگت کنجی احمد حاجی مسلیار اور یگانہ روزگار صوفیِ باصفا مردِ مجاہد علی مسلیار سے پڑھیں ۔ بعد میں آپ نے اعلیٰ تعلیم کی غرض سے جامعہ لطیفیہ ویلور شریف میں داخلہ لیا ۔

آپ تحصیلِ علمِ فقہِ حنفی کے لیے یوپی بریلی شریف روانہ ہو گئے ۔ وہاں پہنچ کر آپ نے سرکار اعلیٰ حضرت محدث بریلوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے تمام علوم و فنون کی اجازت حاصل کی، آپ کو بہ یک وقت سات فقہوں پر مکمل دسترس حاصل تھی ۔

بیعت و خلافت:
مکۂ مکرمہ میں حضرت علامہ مفتیِ مکہ محمد حزب الدین سلیمان اعسکی کے ہاتھ سلسلۂ قادریہ میں بیعت ہوتے ہیں، جیسا کہ پہلے مذکور ہوا کہ آپ نے فاضل بریلوی سے سلسلۂ رضویہ برکاتیہ میں بھی بیعت حاصل کی تھی ۔

وصال:
یعنی ۱۳۷۴ھ ۲۷ محرم بروز یک شنبہ آپ نے اس دارِ فانی کو خیر باد کہہ کر عالمِ بقا کا سفر اختیار کیا اور اپنے مالکِ حقیقی سے جا ملے ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-shahabuddin-ahmad
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
22-06-1445 ᴴ | 05-01-2024 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
23-06-1445 ᴴ | 06-01-2024 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
23-06-1445 ᴴ | 06-01-2024 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
23-06-1445 ᴴ | 06-01-2024 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
2