🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
مؤرخ اہل سنت حضرت مولانا پیر غلام دستگیر نامی رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
اسم گرامی:
حضرت علامہ مولانا غلام دستگیر رحمۃ اللہ علیہ ۔ کنیت: ابو الافضل ۔ لقب: مؤرخ اہلسنت ۔ تخلص: نامی ۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت مولانا پیر غلام دستگیر نامی بن پیر حامد شاہ رحمہا اللہ تعالی۔آپ کانام نامی اسم گرامی محسن اہلسنت حضرت علامہ مولانا غلام دستگیر قصوری دائم الحضوری علیہ الرحمہ کےنام پررکھاگیا۔ آپ اپنےنام کےبارےمیں خودفرماتےہیں:

زادم و گشتم غلام دستگیر
من شدم نامی بنام دستگیر

بنام نیک مولانا قصوری
غلام دستگیر نام کر دند

تاریخ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 23 جمادی الاخری 1300ھ / مطابق یکم مئی 1883ء بروز منگل، بوقت گیارہ بجے دن، اپنے نانا غلام محی الدین کے گھر "رتہ پیراں" ضلع شیخو پورہ پاکستان میں ہوئی۔

تحصیل علم:
نومبر 1890ء میں مولانا می کو مسجد ملا مجید محلہ چلہ بیبیاں لاہورمیں مولانا محمد بخش بلبل برادر اکبر مولانا غلام دستگیر قصوری کے پاس قرآن مجید پڑھنے کے لئے بٹھایا گیا ، نومبر 1891ء میں آپ نے قرآن ختم کرلیا ، پھر والد ماجد نے اسلامیہ سکول کی برانچ واقع حویلی کا بلی مل کی دوسری جماعت میں دخل کرادیا ۔ کچھ عرصہ بعد پیر حامد شاہ کا تبادلہ قصور ہو گیا چنانچہ مولانا نامی 1894ء کے درمیانی ربع میں گورنمنٹ اسکو ل میں پڑھتے رہے ، وہیں 11اکتوبر 1894ء میں آپ کے والد گرامی کا وصال ہو گیا اور آپ داغ یتیمی لیکر رتہّ پیراں چلے گئے ۔

1895ء میں آپ اسلامیہ سکول شیرا نوالہ گیٹ لاہور میں پانچویں جماعت میں داخل ہوئے اور 1903ء میں فرسٹ ڈویژن میں انٹرنس پاس کیا ، اسکول کی تعلیم کے دوران لاہور کےممتاز فضلاء مثلاً پروفیسر شجاع الدین صدر شعبۂ تاریخ دیال سنگھ کالج لاہورکے نانا محمد نجم الدین اور مولانا علامہ اصغر علی روحی سے اکتساب فیض کیا ، ان کے علاوہ دیگر متعد د اہل علم کے فیض صحبت سے مستفید ہوئے جن کی صحبت نے آپ کے ذوق علمی کو نکھار عطا کیا۔اسی طرح علماء سےاستفادہ کرتےرہے۔مولانا نامی نے کسی دینی درس گاہ میں باقاعدہ تعلیم حاصل نہیں کی تھی،لیکن اس کے با وجود اردو،فارسی اور انگریزی میں مہارت کے ساتھ ساتھ عربی سے بھی اچھی طرح آشنا تھے ، چونکہ قدرت نے آپ کو ابتداء سے ہی ذہانت و فطانت کے جوہر اعلیٰ سے نوازا تھا اس لئے بہت جلد بہترین مضمون نگار، مصنف، شاعر، تاریخ گو، ماہر قانون وراثت اور ماہر علم الانساب کی حیثیت سے مشہور ہو گئے۔

بیعت و خلافت:
آپ اپنےوالدگرامی کےدستِ حق پرست پربیعت ہوئے،اوران کےبعدسجادہ نشین منتخب ہوئے۔

سیرت و خصائص:
مؤرخ اہل سنت،محسن اہل سنت، مصنفِ کتبِ کثیر،عارف اسرارربانی حضرت علامہ مولانا پیر غلام دستگیر نامی رحمۃ اللہ علیہ۔آپ علیہ الرحمہ کوتاریخ وانساب پرکامل دسترس حاصل تھی۔اسکول کی تعلیم باقاعدہ حاصل فرمائی تھی،لیکن دینی تعلیم باقاعدہ کسی مدرسےمیں حاصل نہیں کی البتہ مختلف علمی شخصیات سےاستفادہ کرتےرہے۔اسی طرح مطالعےکابچپن سےشوق تھا،اسی مطالعےاورسچی لگن کی بدولت وقت کےعظیم مؤرخین اورماہرین علم الانساب میں شمارہونےلگے۔
2
آپ لاہور کے قدیم علمی و روحانی خاندان  سے تعلق رکھتے تھے ۔ آپ کے مورث اعلیٰ قطب العالم حضرت شیخ عبد الجلیل چوہڑ بندگی علیہ الرحمہ  لاہور کے اولین مبلغ اسلام سہر وردی بزرگ ہیں جن کی بدولت پنجاب میں سلسلۂ عالیہ سہر وریہ کو بہت فروغ حاصل ہوا اور کئی قبائل مشرف بہ اسلام ہوئے۔ ان کے علاوہ اس خاندان میں اور بھی متعدد صاحب علم و فضل روحانی پیشوا ہوئے ہیں۔

مولانا نامی کو بچپن ہی سے اپنے خاندانی بزرگوں کے حالات،علمی کمالات اور نسب معلوم کرنے کا شو ق تھا ۔اس سلسلے میں آپ نے اپنے بزرگوں کے نادر مخطوطات اور دیگر کتب تاریخ کا بڑی دلچسپی سے مطالعہ کیا حتٰی کے تاریخی تجسس اور کتب بینی کا ذوق لازمی زندگی بن گیا ، بارہا رکاوٹیں پیدا ہوئیں مگر ہر بار آپ کے پہاڑ جیسے عزم و اسقلال سےٹکراکر پسپا ہوگئیں اور آپ کے تصنیف و تالیف اور مطالعہ کے ذوق میں بدستور اضافہ ہی ہوتا رہا۔ ملازمت کے زمانہ میں فارغ وقت تالیف اور مضامین نویسی میں صرف کرتے اور ریٹائرڈ ہونے کے بعد تو گویا آپ اس کام کے لئے وقف ہو گئے۔ آپ نے ایک سو سے زائد کتابیں اور رسائل لکھے جنہیں قدرو وقعت کی نگاہ سے دیکھا گیا۔

ان میں سے بعض تصانیف تو لازوال اہمیت کی حامل ہیں ۔ مختلف اخبارات و رسائل میں شائع ہونے والے مضامین کی تعداد ہزاروں تک پہنچتی ہے ۔جناب نامی کو شعر گوئی کا ملکہ ورثے میں ملاتھا ۔ابتداءً غزل نگاری کی جانب میلان تھا پھر نعت ، منقبت اور تاریخ گوئی سے لگاؤ پیدا ہو گیا، تاریخ گوئی میں آپ کو کمال حاصل تھا ، بلاشبہ آ پ نے اپنی زندگی میں ہزاروں منظوم تاریخیں کہی ہیں۔

شرفِ ملت حضرت علامہ عبد الحکیم شرف قادری علیہ الرحمہ فرماتےہیں: جب آپ شیخ عبدالجلیل بندگی علیہ الرحمہ کےمزارشریف کےاوقاف کےمتولی ہوئے توآپ نے اس ذمہ داری کو بڑی خوش اسلوبی سے نبھایا اور نہ صرف بزرگوں کے مزارات کی دیکھ بھال کی بلکہ ان کے علمی تبر کات کو شائع کر کے ہمیشہ کے لئے محفوظ کردیا،الغرض جناب نامی نے ایک پیر زادہ او مزارات کا متولی ہونے کی حیثیت سے وہ کارہائے نمایا ں انجام دئے کہ ان کا طرزعمل موجودہ دور کے بعض مشائخ کے لئے مشعل راہ کی حیثیت رکھتا ہے۔

تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 7 رجب المرجب 1381ھ / مطابق 16 دسمبر 1961ء کو ہوا ۔ آپ کی تدفین "رتہ پیراں" ضلع شیخو پورہ میں حضرت قلندر شاہ کے مزار کے احاطے میں ہوئی ۔

ماخذ و مراجع: تذکرہ اکابر اہلسنت ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-peer-ghulam-dastageer-nami
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
حضرت مولانا حکیم مظفر احمد قادری رضوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

ولادت:
حضرت مولانا حکیم مظفر احمد رضوی بن صوفی منور حسین بن حفظ الرحمٰن بن الٰہی بخش صدیقی یکم مئی ۱۹۳۶ء کو اپنے وطن داتا گنج ضلع بدایوں شریف میں پیدا ہوئے ۔ حکیم مظفر احمد کے والد ماجد بڑے پارسا بزرگ تھے پنج وقتہ نمازی، جماعت سے نماز ادا فرماتے ۔

وصال:
صوفی منور حسین رحمہ اللہ علیہ داتا گنج میں ۹۰ سال کی عمر شریف میں بروز جمعہ دن کے سو ا نو بجے ۲۳ جمادی الاخری ۱۳۹۴ھ کو وصال فرما گئے ۔

تعلیم و تربیت:
مولانا حکیم مظفر احمد نے قرآن، حدیث، تفسیر، منطق وغیرہ کی تعلیم مدرسہ محمدیہ، مدرسہ عالیہ قادریہ بدایوں، دار العلوم منظرِ اسلام بریلی شریف سے حاصل کی، اور سندِ فراغت و فضیلت ۱۹۵۲ء میں منظرِ اسلام، مدرسہ عالیہ قادریہ بدایوں سے حاصل کی۔ حکیم مظفر احمد نے الٰہ آباد بورڈ سے مولوی، عالم وغیرہ کے امتحانات بھی پاس کیے اور علمِ طب بھی پڑھا، تجربہ کار حکیم ہیں ۔

بیعت وخلافت:
حضرت مولانا حکیم مظفر احمد سلسلۂ طریقت میں تاج العلماء مولانا سید اولاد رسول محمد میاں مارہروی علیہ الرحمۃ سے بیعت ہیں، اور خلافت واجازت سلسلۂ رضویہ میں حضور مفتئ اعظم الشاہ مولانا مصطفیٰ رضا نوری بریلوی قدس سرہٗ سے حاصل ہے ۔ سلسلۂ برکاتیہ میں احسن العلماء مولانا سید مصطفیٰ حیدر حسن میاں برکاتی، مارہروی مدظلہٗ (سجادہ ن شین آستانۂ قادریہ برکاتیہ مارہرہ شریف) سے اجازت حاصل ہے، نیز حملہ اور ادو وظائف کی دیگر سلاسل سے بھی اجازت حاصل ہے [1]

قلمی خدمات:
مولانا حکیم مظفر احمد نے قلمی خدمات خوب انجام دی ہیں، اور وقتاً فوقتاً ماہنامہ اعلیٰ حضرت (بریلی) ماہ نامہ سنی دنیا بریلی میں مضامین بھی چھپتے رہتے ہیں ۔

۱۔ تذکارِ نبوی (نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت مقدسہ)
۲۔ حلیۂ مصطفیٰ (سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے سراپا پر)
۳۔ نورانی حکایات (کہانی وسلف کی حکایات پر)
۴۔ نوری تقریریں (اصلاحی تقریریں)
۵۔ جمالین ترجمہ جلالین (تفسیر میں)
۶۔ مفتاحِ راہِ مستقیم (حضور سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے والدین کریمین کے جنتی ہونے کے بیان میں) ـ
۷۔ سیفِ مظفری (وہابیوں کے اعتراضات کے جوابات)
۸۔ ہدایۃ الواہابین (وہابیوں کے گمراہ کن اعتراضات کے جوابات)
۹۔ ظفر الحق
۱۰۔ سیفِ ربانی
۱۱۔ اربعین حدیث (چالیس احادیث کی تشریح)
۱۲۔ مسئلۂ ضاد
۱۳۔ احوالِ کربلا (امامِ عالی مقام کا جامع تذکرہ)
۱۴۔ گلزار شریعت اول، دوم (مسائل وغیرہ کا بیان)
۱۵۔ جماعتِ اسلامی اپنے آئینے میں
۱۶۔ تبلیغی جماعت اپنے آئینے میں
۱۷۔ عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم
۱۸۔ محفلِ نور کے پروانے

شعر وسخن:
مولانا حکیم مظفر احمد کو شاعری سے لگاؤ ہے۔ ادبی ذوق بہت عمدہ ہے جب موڈ میں آتےہیں تو اچھے اشعار کہہ جاتے ہیں۔ علمی صلاحیت بھی قابلِ قدر ہے، مظفر تخلص فرماتے ہیں نمونے کے طور پر چند اشعار مندرجہ ذیل ہیں:؎

ہے اللہ کو پیارا مدینہ نبی
ہے آنکھوں کا تارہ مدینہ نبی کا

ہے دل کا اجالا مدینہ نبی کا
ہے مکہ سے پیارا مدینہ نبی کا

شفا یاب ہوتے ہیں بیمار فوراً
شفا خانہ گویا مدینہ نبی کا

جہاں بے طلب بھیک ملتی ہے ہمدم
وہی شہر طیبہ مدینہ نبی کا

سکونِ دلِ مضطرب ہے مظفرؔ
مرے مصطفیٰ کا مدینہ نبی کا

حکیم مظفر احمد سید العلماء حضرت مولانا سید آلِ مصطفیٰ برکاتی مارہروی علیہ الرحمۃ کی شان میں کہتے ہیں:؎

نسلِ آلِ پاک سے دشمنی اچھی نہیں
راہِ آلِ مصطفیٰ سے کج روی اچھی نہیں

آیۂ تطہیہ سے جن کو طہارت ہی عیاں
ان کی نسلِ با صفا سے دشمنی اچھی نہیں

اے مظفرؔ قولِ آلِ مصطفیٰ کیا خوب ہے
ناک حُبِّ علی اور رافضی اچھی نہیں

[1] ۔ مظفر احمد قادری، حکیم: حیات صاحب البرکات ص: ⁶¹

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-hakeem-muzaffar-ahmad-qadri-rizvi
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
قطب العالم حضرت شیخ عبد القدوس گنگوہی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

نام و نسب:
شیخ عبد القدوس بن شیخ اسماعیل بن شیخ صفی الدین ۔ آپ کے دادا شیخ صفی الدین حضرت میر سید اشرف جہانگیر سمنانی علیہ الرحمہ کے مرید تھے ۔ آپ کا سلسلہ نسب چند واسطوں سے حضرت امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ پر منتہی ہوتا ہے ۔

تاریخِ ولادت:
آپ ۸۶۱ھ مطابق ۱۴۵۶ء رودلی میں پیدا ہوئے ۔ آپکی ولادت کی بشارت شیخ عبد الحق رودلوی نے آپ کے والدِ گرامی کو بایں الفاظ ارشاد فرمائی تھی:"تمہاری پشت سے ایک ایسا فرزند پیدا ہوگا جو نور ہی نور ہوگا اور ہماری نعمت اسکو ملے گی۔"

تحصیلِ علم:
آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے والد سے حاصل کی ، اسی طرح خوشنویسی کی تربیت بھی والدِ گرامی سے ہی حاصل ہوئی تھی ۔یہی وجہ ہے کہ آپ کے مکاتیب و مخطوطات اپنی خوشنویسی کی وجہ سے بہت دل آویز ہیں ۔ آپکے فرزند ارجمند شیخ رکن الدین فرماتے ہیں : "چوں حضرت شیخ بہ تعلیم ِکتا بَہا مشغول شد نددر تمام روزمی خواند و تمام شب بشغل ذکر و عبادت حق مشغول بودند ۔ "یعنی حضرت شیخ سارا دن کتب کے مطالعہ اور تعلیم میں مشغول رہتے، اور ساری رات اللہ تعالیٰ کی عبادت و ذکر میں مشغول رہتے تھے ۔ (لطائفِ قدوسیہ) آپ کی علم کی دوستی کا اندازہ اس بات لگایا جا سکتا ہے کہ آپ نے کئی کتب تصنیف فرمائی ہیں ۔

بیعت و خلافت:
آپ حضرت شیخ محمد بن حضرت شیخ عارف کے دست حق پرست پر بیعت ہوئے اور ان سے خرقہ خلافت بھی پایا ۔ آپ کو سلاسلِ اربعہ میں خلافت حاصل ہے ۔ لیکن اصل میں آپ حضرت شیخ احمد عبد الحق ردولوی کی روحانیت سے مستفید و مستفیض تھے ۔

سیرت و خصائص:
آپ مادر زاد ولی تھے ۔ بچپن میں ہی جو بات زبان سے نکل جاتی وہ پوری ہوکے رہتی ۔ ریاضات و مجاہدات میں آپ بایزیدد ہر اور فرید عصر تھے ۔ سرورِ عالم ﷺ کی سیرتِ طیبہ پرسختی سےعمل پیرا تھے ۔ ہر وقت مخلوقِ خدا کی تعلیم وتربیت میں مشغول میں رہتے، اور آپکی تربیت و صحبت میں ایسا اثر تھا کہ تھوڑی سی توجہ سے اسکے باطن کو صاف کرکے واصل باللہ کردیتے تھے۔آپ فرماتے ہیں کہ میں ایک دن شیخ عبدالحق رودلوی علیہ الرحمہ کے مزار پر حاضر ہو ا ،اورمیرے ہاتھ میں علم النحو کی مشہور کتاب"کافیہ" تھی ۔میں مزار شریف کی صفائی کر رہا تھا کہ اچانک مزار سے "حق حق"کی صدائیں بلند ہونے لگیں۔ اس سے میں بیخود ہوکر گر پڑا، اور اس بیخودی کی حالت میں نعمت ازلی وابدی نصیب ہوئی۔پھر فرماتے ہیں کہ میں جب کسی دنیاوی کام میں مشغول ہونا چاہتا تھا تو وہی "حق حق " کی صدا کانوں میں آتی تھی تو میں دنیاوی مشاغل ترک کرکے حق تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوجاتا تھا ۔ حضرت شیخ احمد عبدالحق کی روحانیت میری طرف اس حد تک متوجہ تھی کہ ہمیشہ آخر شب مجھے بیدار کر کے نماز تہجد کا حکم دیا جاتا تھا۔آپ میں عاجزی و انکساری اس حد تک تھی کہ نماز ادا کرنے کے بعد نمازیوں کی جوتیاں سیدھی کرکے رکھتے تھے ۔ (یہ تھے قطب العالم)

وصال:
آپ کا وصال ۲۳ جمادی الثانی ۹۴۴ھ / مطابق ۱۵۳۷ء کو ہوا ۔ مزار شریف گنگوہ ضلع انبالہ (انڈیا) میں مرجع خاص و عام ہے ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-abdul-quddus-gangohi
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
خلیفۂ اعلیٰ حضرت ، حضرت علامہ شہاب الدین احمد رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کویا شالیاتی ملیباری

نام و نسب:
آپ کے والد نے آپ کا نام احمد کویا رکھا شہاب الدین آپ کا پیارا لقب ہے اور کنیت ابو سعادات ہے آپ بسا اوقات اشعار بھی کہتے تھےاس مناسبت سے، ازہریہ سے معروف و مقبولِ عام و خاص تھے ۔

ولادتِ بابرکت:
آپ کی ولادت قریہ چالیم میں ۲۳ جمادی الاخریٰ ۱۳۰۲ھ / ۱۸۸۴ ء کو ہوئی ۔

تعلیم و تربیت:
ابتدائی تعلیم آپ نے اپنے والد صاحب سے حاصل کی مگر درسِ فخری کی بڑی کتابیں آپ نے فقیہِ عصر علامہ چالل اگت کنجی احمد حاجی مسلیار اور یگانہ روزگار صوفیِ باصفا مردِ مجاہد علی مسلیار سے پڑھیں ۔ بعد میں آپ نے اعلیٰ تعلیم کی غرض سے جامعہ لطیفیہ ویلور شریف میں داخلہ لیا ۔

آپ تحصیلِ علمِ فقہِ حنفی کے لیے یوپی بریلی شریف روانہ ہو گئے ۔ وہاں پہنچ کر آپ نے سرکار اعلیٰ حضرت محدث بریلوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے تمام علوم و فنون کی اجازت حاصل کی، آپ کو بہ یک وقت سات فقہوں پر مکمل دسترس حاصل تھی ۔

بیعت و خلافت:
مکۂ مکرمہ میں حضرت علامہ مفتیِ مکہ محمد حزب الدین سلیمان اعسکی کے ہاتھ سلسلۂ قادریہ میں بیعت ہوتے ہیں، جیسا کہ پہلے مذکور ہوا کہ آپ نے فاضل بریلوی سے سلسلۂ رضویہ برکاتیہ میں بھی بیعت حاصل کی تھی ۔

وصال:
یعنی ۱۳۷۴ھ ۲۷ محرم بروز یک شنبہ آپ نے اس دارِ فانی کو خیر باد کہہ کر عالمِ بقا کا سفر اختیار کیا اور اپنے مالکِ حقیقی سے جا ملے ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-shahabuddin-ahmad
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
22-06-1445 ᴴ | 05-01-2024 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
23-06-1445 ᴴ | 06-01-2024 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1