🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.85K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
ا وقت آیا تو حضرت موسیٰ علیہ السلام  نے اپنے خادم سے فرمایا: ہمارا صبح کا کھانا لاؤ بیشک ہمیں اپنے اس سفر سے بڑی مشقت کا سامنا ہوا ہے۔ تھکان بھی ہے بھوک کی شدت بھی ہے۔ اور یہ بات جب تک       مَجْمَعُ الْبَحْرَیْن    پہنچے تھے پیش نہ آئی تھی اور جب منزلِ مقصود سے آگے بڑھ گئے تو تھکن اور بھوک معلوم ہوئی، اس    میں        اللّٰہ    تعالیٰ کی حکمت یہ تھی کہ وہ مچھلی یاد کریں     اور اس کی طلب میں     منزلِ مقصود کی طرف واپس ہوں ۔حضرت موسیٰ  علیہ السلام  کے یہ فرمانے پر خادم نے معذرت کی۔
حضرت یوشع بن نون علیہ السلام    کی بات سن کر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا ’’مچھلی کا جانا ہی تو ہمارے مقصد حاصل ہونے کی علامت ہے ۔ جن کی طلب میں     ہم چلے ہیں     ان کی ملاقات وہیں     ہوگی۔ چنانچہ پھر وہ دونوں     اپنے قدموں     کے نشانات کی پیروی کرتے ہوئے واپس لوٹے۔ جب وہ دونوں بزرگ واپس اسی جگہ پہنچے تو وہاں     انہوں     نے    اللہ پاک کے بندوں  میں سے ایک بندہ پایا  جو چادر اوڑھے آرام فرما رہا تھا۔ یہ حضرت خضر    علیہ السلام تھے۔
(ان کا مکالمہ اگلے پارے کے ساتھ بیان کیا جائے گا)
*📱+92-321-2094919*
@faizanealahazrat
اور میرے ساتھی قریب کے پہاڑ میں  ایک غار کے اندر پناہ گزین ہیں  ، چلو میں  تمہیں  ان سے ملادوں  ، حاکم اور شہر کے سردار اور ایک کثیر مخلوق ان کے ہمراہ غار کے کنارے پہنچ گئے۔ اصحابِ کہف یملیخا  کے انتظار میں  تھے ، جب انہوں  نے کثیر لوگوں  کے آنے کی آواز سنی تو سمجھے کہ      یملیخا پکڑے گئے اور دقیانوسی فوج ہماری جستجو میں  آرہی ہے۔ چنانچہ وہ  اللہ پاک  کی حمدمیں  مشغول ہوگئے۔ اتنے میں  شہر کے لوگ پہنچ گئے اور       یملیخا      نے بقیہ حضرات کو تمام قصہ سنایا، ان حضرات نے سمجھ لیا کہ ہم      اللہ پاک کے حکم سے اتنا طویل زمانہ سوئے رہے اور اب اس لئے اٹھائے گئے ہیں  کہ لوگوں  کے لئے موت کے بعد زندہ کئے جانے کی دلیل اور نشانی بنیں ۔ جب حاکمِ شہر غار کے کنارے پہنچا تو اس نے تانبے کا صندوق دیکھا ، اس کو کھلوایا تو تختی برآمد ہوئی، اس تختی میں  اُن اصحاب کے اَسماء اور اُن کے کتے کا نام لکھا تھا ، یہ بھی لکھا تھا کہ یہ جماعت اپنے دین کی حفاظت کے لئے دقیانوس کے ڈر سے اس غار میں  پناہ گزین ہوئی، دقیانوس نے خبر پا کر ایک دیوار سے انہیں  غار میں  بند کردینے کا حکم دیا ، ہم یہ حال اس لئے لکھتے ہیں  تاکہ جب کبھی یہ غار کھلے تو لوگ ان کے حال پر مطلع ہوجائیں  ۔ یہ تختی پڑھ کر سب کو تعجب ہوا اور لوگ اللہ پاک  کی حمد و ثناء بجالائے کہ اس نے ایسی نشانی ظاہر فرمادی جس سے موت کے بعد اٹھنے کا یقین حاصل ہوتا ہے۔ حاکمِ شہرنے اپنے بادشاہ بید روس کو واقعہ کی اطلاع دی ، چنانچہ بادشاہ بھی بقیہ معززین اور سرداروں  کو لے کر حاضر ہوا اور شکرِ الٰہی کا سجدہ بجا لایا کہ      اللّٰہ      تعالیٰ نے اس کی دعا قبول کی ۔اصحاب ِکہف نے بادشاہ سے مُعانقہ کیا اور فرمایا ہم تمہیں   اللہ پاک     کے سپرد کرتے ہیں ۔ والسلام علیک ورحمۃ اللّٰہ وبرکا تہ ،اللہ پاک تیری اور تیرے ملک کی حفاظت فرمائے اور جن و اِنس کے شر سے بچائے ۔بادشاہ کھڑا ہی تھا کہ وہ حضرات اپنے خواب گاہوں  کی طرف واپس ہو کر مصروفِ خواب ہوئے اور اللہ پاک نے انہیں  وفات دیدی، بادشاہ نے سال کے صندوق میں  ان کے اَجساد کو محفوظ کیا اور اللہ پاک نے رُعب سے ان کی حفاظت فرمائی کہ کسی کی مجال نہیں  کہ وہاں  پہنچ سکے ۔ بادشاہ نے سرِغار مسجد بنانے کا حکم دیا اور ایک خوشی کا دن معین کردیا کہ ہر سال لوگ عید کی طرح وہاں  آیا کریں۔

🌳 آیت نمبر 32 سے ایک مسلمان اور ایک کافر کا حال بیان کیا ہے اورہر کافر و مومن دونوں کو دعوتِ فکر دی ہے کہ اس واقعے میں غور کرکے اپنا اپنا انجام سمجھیں۔ چنانچہ فرمایا کہ ان دو مردوں کا حال یہ ہے ان میں سے ایک آدمی یعنی کافر کیلئے اللہ پاک نے انگوروں کے دو باغ بنادیئے اور ان دونوں باغوں کو کھجوروں  سے ڈھانپ دیا اور ان کے درمیان میں  کھیتی بھی بنادی  یعنی اُنہیں نہایت بہترین ترتیب کے ساتھ مُرتَّب کیا۔ آس پاس سبز باغ ہواور بیچ میں ہرا بھرا کھیت ہو تودیکھنے میں  بہت ہی خوشنما معلوم ہوتا ہے اور اس سے مالک اپنی تمام ضروریات پوری کرلیتا ہے، کھیت سے غذا اور باغ سے پھل حاصل ہوتے ہیں ۔ دونوں باغوں نے اپنے اپنے پھل دیدئیے اور اس میں کچھ کمی نہ کی اور دونوں کے بیچ اللہ پاک نے ایک نہر جاری کردی۔ یعنی کھجور اور انگور، دونوں   باغوں   میں   ہی خوب بہار آئی، پھل خوب لگے جبکہ باغ کے بیچ میں موجود نہر نے باغ کی خوبصورتی اور زینت میں   بھی اضافہ کردیا اور وہ باغ کے ترو تازہ رہنے کا باعث بھی ہوئی۔ 
 مزید فرمایا کہ اس باغ والے کافر آدمی کے پاس باغ کے علاوہ اور بھی بہت سا مال و اَسباب جیسے سونا، چاندی وغیرہ ہر قسم کا مال تھا تو وہ اپنے مسلمان ساتھی سے اتراتے ہوئے اور اپنے مال پر فخر کرتے ہوئے کہنے لگا اور وہ اس سے فخر و غرور کی باتیں   کرتا رہتا تھا۔ کہنے لگا کہ میں   تجھ سے زیادہ مالدار ہوں   اور افراد کے اعتبار سے زیادہ طاقتور ہوں   یعنی   میرا کنبہ قبیلہ بڑا ہے اور ملازم، خدمت گار ،نوکر چاکر بھی میرے پاس بہت ہیں۔پھر اس کافر کی غافلانہ باتوں   کی ابتداء ہوتی ہے چنانچہ وہ باغات کا مالک مسلمان کا ہاتھ پکڑ کر اس کو ساتھ لے کر باغ میں   گیا ، وہاں   اسے فخریہ طور پر ہر طرف لے کرپھرا اور مسلمان کو ہر ہر   چیز دکھائی اور پھر باغ کی زینت و زیبائش اور رونق و بہار دیکھ کر مغرور ہوگیا اور کہنے لگا : میں گمان نہیں کرتا کہ یہ باغ کبھی فنا ہوگا یعنی ساری عمر مجھے پھل دیتا رہے گا۔باغ کے کافر مالک نے کہا کہ مجھے تواس بات کا گمان بھی نہیں    ہے کہ قیامت قائم ہوگی جیسے تیرا گمان ہے بلکہ مجھے یقین ہے کہ قیامت نہ آئے گی اور اگر    بالفرض قیامت آبھی گئی تو مجھے آخرت میں    بھی اس دنیوی باغ سے بہتر باغ دیا جائے گا کیونکہ دنیا میں    بھی میں    نے بہترین   جگہ پائی ہے۔ سب باتیں  سن کر اس کافر کے مسلمان ساتھی نے اس کی فخروغرور کی باتوں  کا جواب دیتے ہوئے کہا: کیا تو اس خداوند ِ قدوس  کے ساتھ کفر کرتا ہے جس نے تجھے مٹی سے بن
ایا ،پھر نطفہ سے اور پھر تجھے بالکل صحیح مرد بنادیا یعنی اس نے تجھے عقل و بلوغ، قوت و طاقت عطا کی اور تو سب کچھ پاکر کافر ہوگیا۔ لہٰذا تو اس کو مان یا نہ مان لیکن میں  تو یہی کہتا ہوں  کہ وہ اللہ    ہی میرا رب ہے او ر میں  کسی کو اپنے رب قدیر     کا شریک نہیں  کرتا۔ 
مسلمان نے اس کافر کو سمجھاتے ہوئے کہا کہ ایسا کیوں  نہ ہوا کہ تو اس سارے باغ اور اَسباب پر  اللہ پاک  کی قدرت و نعمت کا معترف ہوتا اور اگر توباغ دیکھ کر ماشاء اللہ کہتا اور اعتراف کرتا کہ یہ باغ اور اُس کے تمام مَحاصل و مَنافع  اللہ پاک کی مَشِیَّت اور اس کے فضل وکرم سے ہیں  اور سب کچھ اس کےاختیار میں        ہے، چاہے اس کو آباد رکھے اور چاہے ویران کرے ،ایسا کہتا تو یہ تیرے حق میں   بہتر ہوتا ۔اگر تو مجھے اپنے مقابلے میں مال اور اولاد میں کم سمجھ رہا تھا اور اس وجہ سے تکبر میں مبتلا تھا اور اپنے آپ کو بڑا سمجھتا تھا توتو نے ایسا کیوں نہیں کہا جو اوپر بیان ہوا۔ مسلمان نے مزید کہا کہ قریب ہے یعنی  ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ میرا رب  عَزَّوَجَلَّ  مجھے تیرے باغ سے بہتر عطا فرما دے اور تیرے باغ پر آسمان سے بجلیاں   گرا دے تو وہ چٹیل میدان ہوکر رہ جائے کہ اس میں   سبزہ کا نام و نشان باقی نہ رہے اور اپنی زندگی ہی میں   تو اس باغ کو برباد ہوتا ہوا دیکھے اور کف ِ افسوس ملتا رہ جائے یا اس باغ کا پانی زمین میں   دھنس جائے اور   نیچے چلا جائے کہ کسی طرح نکالا نہ جاسکے۔ اس کافر کے باغ پر عذاب آگیا اور باغ کے ساتھ ساتھ اس کے دیگر ہر طرح کے مال و اَسباب پھل ہلاکت میں    گھیر لیے گئے اور باغ بالکل ویران ہوگیا تو وہ حسرت کے ساتھ ان اخراجات پر اپنے ہاتھ ملتا رہ گیا جو اس نے باغ کی دیکھ بھال میں    خرچ کئے تھے اور وہ باغ اپنی چھتوں    کے بل اوندھے منہ گرگیا ، پھر اس حال کو پہنچ کر اسے مو من کی نصیحت یاد آئی اور وہ سمجھا کہ یہ اُس کے کفرو سرکشی کا نتیجہ ہے اور اس وقت وہ کہنے لگا کہ    اے کاش! میں    نے اپنے رب قدیر  کے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا ہوتا،  آیت کے آخر میں    اس واقعے کا سبق بیان فرمایا ہے کہ یہاں    پتہ چلتا ہے    اور ایسے حالات میں    معلوم ہوتا ہیکہ تمام اختیارات  اللہ پاک  کے دست ِ قدرت میں    ہیں ۔ وہی چاہے تو پھلوں    سے لدے ہوئے   باغات عطا فرما دے اور وہ چاہے تو ایک لمحے میں    سب کچھ تہس نہس کردے۔

🐬 آیت نمبر 60 سے موسی اور خِضر علیھما السلام کا دلچسپ واقعہ بیان ہوا ہے، حضرت موسیٰ علیہ السلام حضرت خضر  علیہ السلام کے پاس علم سیکھنے کے لئے جانے والے قصے کو بیان کیا گیا ہے۔ آیت میں جن کا ذکر ہے وہ مشہور پیغمبر اور جلیل القدر نبی حضرت موسیٰ بن عمران علیہ السلام   ہیں ، انہیں اللہ پاک نے تورات اور کثیر معجزات عطا فرمائے تھے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے خادم کا نام حضرت یوشع بن نون ہے، یہ حضرت موسیٰ علیہ السلام خدمت وصحبت میں رہتے اور آپ علیہ السلام  سے علم حاصل کرتے تھے ۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام  کے بعد حضرت یوشع ہی آپ کے ولی عہد بنے۔ آیت میں  مذکور واقعے کا پسِ منظر یہ ہے کہ ایک بار حضرت موسیٰ علیہ السلام  نے بنی اسرائیل کی جماعت میں   بہت شاندار وعظ فرمایا، اس کے بعد کسی نے پوچھا کہ آپ سے بڑا عالم بھی کوئی ہے۔ آپ  علیہ السلام نے فرمایا: نہیں ۔ اللہ پاک نے آپ کی طرف وحی فرمائی کہ ’’ اے موسیٰ ! علیہ السلام ،      تم سے بڑے عالم حضرت خضر علیہ السلام ہیں ۔ آپ علیہ السلام   نے اللہ پاک سے ان کا پتہ پوچھا تو ارشاد فرمایا : مَجمعِ بَحرَین میں رہتے ہیں ، وہاں کی نشانی یہ بتائی، کہ جہاں بھنی مچھلی زندہ ہو کر دریا میں چلی جائے اور پانی میں سرنگ بن جائے ، وہاں  حضرت خضر علیہ السلام  ہوں گے ۔ چنانچہ حضرت موسیٰ علیہ السلام   نے اپنے خادم سے فرمایا: میں مسلسل سفر میں رہوں گا جب تک کہ مشرق کی جانب دوسمندروں  یعنی بحرِ فارس اور بحرِ روم کے ملنے کی جگہ نہ پہنچ جاؤں  یا اگر وہ جگہ دور ہو تو مدتوں  تک چلتا رہوں گا  ۔پھر یہ حضرات روٹی اور نمکین بھنی مچھلی زنبیل میں توشہ کے طور پر لے کر روانہ ہوئے۔حضرت موسیٰ علیہ السلام حضرت یوشع بن نون علیہ السلام دو سمندروں کے ملنے کی جگہ پہنچے ، وہاں  ایک پتھر کی چٹان اور چشمۂ حیات تھا ۔ اس جگہ حضرت موسیٰ علیہ السلام  نے آرام فرمایا اور حضرت یوشع علیہ السلام  وضو کرنے لگے۔ اسی دوران بھنی ہوئی مچھلی زنبیل میں زندہ ہوگئی اور تڑپ کر دریا میں گری ، اس پر سے پانی کا بہاؤ رک گیا اور ایک محراب سی بن گئی ۔ حضرت یوشع  علیہ السلام  یہ دیکھ کر بہت حیران ہوئے اور جب حضرت موسیٰ علیہ السلام   بیدار ہوئے تو حضرت یوشع  علیہ السلام    کو ان سے مچھلی کا واقعہ ذکر کرنا یاد نہ رہا۔ چنانچہ ارشاد ہوتا ہے کہ وہ اپنی مچھلی بھول گئے اور اس مچھلی نے سمندر میں  سرنگ کی طرح اپنا راستہ بنالیا۔ جب وہ دونوں اس جگہ سے گزر گئے اور چلتے رہے یہاں     تک کہ دوسرے روز کھانے ک
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌹 مسلک اعلیٰ حضرت کا تعلق
عقائد سے ہے فقہی فروع سے نہیں
حوالہ مسلک اعلیٰ حضرت صفحہ⁹
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
حضور سراج الفقہاء حضرت
مفتی نظام الدین رضوی صَاحَبۡ
قِـبۡـلَـہۡ دَامَـتۡ بَرۡکَاتُہُمُ الۡـعَـالِـیَہۡ 🌹
صدر شعبۂ افتاء جامعہ اشرفیہ
2
مسلک اعلیٰ حضرت - مفتی نظام الدین.pdf
1.2 MB
عصر حاضر میں مسلک اہل سنت کی
مترادف اصطلاح مسلک اعلیٰ حضرت

Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
مفتی نظام الدین رضوی برکاتی
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
شیخ ابو الحسن امام سری سقطی رَضِیَ الــلّٰــهُ تَـبَـارَڪَ وَ تَــعَــالیٰ عَــنۡـہۡ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬ یومِ ولادت ... ............... ؁ھ یومِ وصال ¹³ رمضان المبارک ۳۵۲؁ھ ➻═══════════➻ TTS AʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge ➻═══════════➻
بحر العلوم حـضـرت عـلامـہ مفتی
سید محمد افضل حسین رضوی
رَحۡـــمَـــةُ الــلّٰــهِ تَــعَــالیٰ عَـــلَـــیۡـــه
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
یومِ ولادت ¹⁴رمضان المبارک ۷۳۳۱؁ھ
یومِ وصال ²⁰ رجب المرجب ۲۰۴۱؁ھ
➻═══════════➻
TTS AʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
📝 *فیضان خلاصہ تراویح*📝

✍🏻 *ابو بنتین محمد فراز عطاری مدنی*

👑 *پارہ 16،قَالَ اَلَمْ*

📢 پارہ 15 کے خلاصے کے آخر میں بیان کیا گیا تھا کہ موسی علیہ السلام خضر علیہ السلام کے پاس پہنچے تھے، اور ان کے درمیان کچھ گفتگو ہوئی جو 15ویں پارے کے آخر سے شروع ہوتی ہے۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام   نے حضرت خضر علیہ السلام سے کہا: کیا اس شرط پر میں آپ کے ساتھ رہوں کہ آپ مجھے وہ درست بات سکھا دیں جو آپ کو سکھائی گئی ہے، حضرت خضر علیہ السلام نے فرمایا: آپ میرے ساتھ ہرگز نہ ٹھہر سکیں گے۔حضرت خضر علیہ السلام نے اس کی وجہ خود ہی بیان فرما دی اور فرمایا ’’ اور آپ اس بات پر کس طرح صبر کریں گے جسے آپ کا علم محیط نہیں اور ظاہر میں  وہ منع ہیں۔حضرت خضر علیہ السلام  نے فرمایاکہ اگر آپ کو میرے ساتھ رہنا ہے تو آپ میرے کسی ایسے عمل کے بارے میں  مجھ سے سوال نہ کرنا جو آپ کی نظر میں  ناپسندیدہ ہو جب تک میں  خود آپ کے سامنے اس کا ذکر نہ کردوں۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت خضر علیہ السلام کشتی کی تلاش میں ساحل کے کنارے چلنے لگے۔جب ان کے پاس سے ایک کشتی گزری تو کشتی والوں نے حضرت خضر علیہ السلام کو پہچان کر بغیر معاوضہ کے سوار کرلیا، جب کشتی سمندر کے بیچ میں پہنچی تو حضرت خضر علیہ السلام نے کلہاڑی کے ذریعے اس کا ایک تختہ یا دو تختے اکھاڑ ڈالے۔ یہ دیکھ کر حضرت موسیٰ علیہ السلام خاموش نہ رہ سکے اور فرمایا: کیا تم نے اس کشتی کو اس لیے چیر دیا تاکہ کشتی والوں کو غرق کردو، بیشک یہ تم نے بہت برا کام کیا۔ حضرت خضر علیہ السلام  نے ان سے فرمایا: کیا میں نہ کہتا تھا کہ آپ میرے ساتھ ہرگز نہ ٹھہر سکیں گے۔حضرت موسیٰ علیہ السلام نے معذرت فرمائی کہ میں  آپ سے کیا وعدہ بھول گیا تھا لہٰذا اس پر میرا مواخذہ نہ کریں۔ 
 کشتی سے اتر کر وہ دونوں  چلے اور ایک ایسے مقام پر گزرے جہاں  لڑکے کھیل رہے تھے۔ وہاں  انہیں  ایک لڑکا ملا جوکافی خوبصورت تھا اور حدِ بلوغ کو نہ پہنچا تھا۔ بعض مفسرین نے کہا وہ لڑکا جوان تھا اور رہزنی کیا کرتا تھا۔حضرت خضر علیہ السلام نے اسے قتل کردیا۔ یہ دیکھ کر حضرت موسیٰ علیہ السلام سے پھر نہ رہا گیا اور آپ نے فرمایا: کیا تم نے کسی جان کے بدلے کے بغیر ایک پاکیزہ جان جس کا کوئی گناہ ثابت نہ تھا کو قتل کردیا؟ بیشک تم نے بہت ناپسندیدہ کام کیا ہے۔جب حضرت موسیٰ علیہ السلام  نے حضرت خضر علیہ السلام  کے فعل پر کلام فرمایا تو آپ علیہ السلام نے کہا: اے موسیٰ! علیہ السلام  ، میں نے آپ سے نہ کہا تھا کہ آپ ہرگز میرے ساتھ نہ ٹھہر سکیں گے۔حضرت خضر علیہ السلام کی بات کے جواب میں حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا: اگر اس مرتبہ کے بعد میں آپ سے کسی شے کے بارے میں سوال کروں     تو پھر مجھے اپنا ساتھی نہ رکھنا اگرچہ میں آپ کے ساتھ رہنے کا تقاضا کروں اور جب میں  تیسری بار ایسا کروں تو بیشک اس صورت میں میری طرف سے آپ    کے ساتھ نہ رہنے میں آپ کا عذر پورا ہوچکا۔
اس گفتگو کے بعد حضرت خضر علیہ السلام  اور حضرت موسیٰ علیہ السلام چلنے لگے یہاں تک کہ جب ایک بستی والوں کے پاس آئے توان حضرات نے اس بستی کے باشندوں  سے کھانا مانگا، انہوں نے ان دونوں کی مہمان نوازی کرنے سے انکار کردیا۔ پھر دونوں نے اس گاؤں میں ایک دیوار پائی جو گرنے والی تھی تو حضرت خضر علیہ السلام  نے اپنے دستِ مبارک سے اسے سیدھا کردیا۔ یہ دیکھ کرحضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: اگر آپ چاہتے تو اس دیوار کو سیدھی کرنے پر کچھ مزدوری لے لیتے کیونکہ یہ ہماری حاجت کا وقت ہے اور بستی والوں     نے ہماری کچھ مہمان نوازی نہیں کی، اس لئے ایسی حالت میں ان کا کام بنانے پر اجرت لینا مناسب تھا۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام  کی طرف سے تیسری مرتبہ اپنے فعل پر کلام سن کر حضرت خضر علیہ السلام نے ان سے فرمایا ’’ یہ میری اور آپ  علیہ السلام کی جدائی کا وقت ہے۔ اب میں جدا ہونے سے پہلے آپ علیہ السلام کو ان باتوں کا اصل مطلب بتاؤں گا جن پر آپ علیہ السلام صبر نہ فرما سکے اور اُن کے اندر جو راز تھے ان کا اظہار کردوں گا۔
حضرت خضر علیہ السلام ے اپنے افعال کی حقیقت سے پردہ اٹھاتے ہوئے فرمایا ’’وہ جو میں  نے کشتی کا تختہ اکھاڑا تھا، اس سے میرا مقصد کشتی والوں  کو ڈبو دینا نہیں  تھا بلکہ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ کشتی دس مسکین بھائیوں  کی تھی، ان میں  پانچ تو اپاہج تھے جو کچھ نہیں  کرسکتے تھے اور پانچ تندرست تھے جو دریا میں  کام کرتے تھے اور اسی پر ان کے روزگار کا دارومدار تھا۔ ان کے آگے ایک بادشاہ تھا اور انہیں  واپسی میں  اس کے پاس سے گزرنا تھا، کشتی والوں  کو اس کا حال معلوم نہ تھا اور اس کا طریقہ یہ تھا کہ وہ ہرصحیح سلامت کشتی کو زبردستی چھین لیتا اور اگر عیب دار ہوتی تو چھوڑ دیتا تھا اس لئے میں  نے اس کشتی کو عیب دار کردیا تاکہ وہ ان غریبوں  کے لئے بچ جائے۔ 
اپنے دوسرے فعل کی حکمت بیان   کرتے ہوئے حضرت خضر علیہ السلام نے فرمایا کہ و
ہ لڑکا جسے میں نے قتل کیا تھا، اس کے ماں باپ مسلمان تھے تو ہمیں ڈر ہوا کہ وہ بڑا ہوکر انہیں    بھی سرکشی اور کفر میں ڈال دے گا اور وہ اس لڑکے کی محبت میں دین سے پھر جائیں اور گمراہ ہوجائیں گے، اس لئے ہم نے چاہا کہ ان کا رب اس لڑکے سے بہتر ،گناہوں    اور نجاستوں سے پاک اور ستھرا اور پہلے سے زیادہ اچھا لڑکا عطا فرمائے جو والدین کے ساتھ ادب سے پیش آئے، ان سے حسنِ سلوک کرے   اور ان سے دلی محبت رکھتا ہو۔ حضرت خضر علیہ السلام  کا یہ اندیشہ اس سبب سے تھا کہ وہ اللہ پاک کے خبر دینے کی وجہ سے اس لڑکے کے باطنی حال کو جانتے تھے۔ یہ بھی یاد رہے کہ ہمارے زمانے میں اگر کوئی ولی کسی کے ایسے باطنی حال پر مطلع ہوجائے کہ یہ آگے جا کر کفر اختیار کر لے گا اور دوسروں    کو کافر بھی بنا دے گا اور اس کی موت بھی حالتِ کفر میں ہوگی تو وہ ولی اس بنا پر اسے قتل نہیں کر سکتا، اللہ پاک نے انہیں اس کے بدلے ایک مسلمان لڑکا عطا کیا اور ایک قول یہ ہے کہ اللہ پاک نے انہیں ایک بیٹی عطا کی جو ایک نبی علیہ السلام کے نکاح میں آئی اور اس سے نبی علیہ السلام پیدا ہوئے جن کے ہاتھ پر اللہ پاک نے ایک اُمت کو ہدایت دی۔
حضرت خضر علیہ السلام نے اپنے تیسرے فعل یعنی دیوار سیدھی کرنے کی حکمت بیان کرتے ہوئے فرمایا ’’اور بہرحال دیوار کا جہاں تک تعلق ہے تو وہ شہرکے دو یتیم لڑکوں کی تھی جن کے نام اصرم اور صریم تھے اور اس دیوار کے نیچے ان دونوں کا خزانہ تھا اور ان کا باپ نیک آدمی تھا تو اللہ پاک نے چاہا کہ وہ دونوں اپنی جوانی کو پہنچیں اور اُن کی عقل کامل ہوجائے اور وہ قوی و توانا ہوجائیں اور اپنا خزانہ نکالیں یہ سب اللہ پاک کی رحمت سے ہے اور جو کچھ میں نے کیا وہ میری اپنی مرضی سے نہ تھا بلکہ اللہ پاک  کے حکم سے تھا۔یہ ان باتوں کا اصل مطلب ہے جس پر آپ علیہ السلام  صبر نہ کرسکے۔

⁉️ اس کے بعد حضرت ذوالقرنین رضی اللہ عنہ کے سفر کا تذکرہ ہے۔
حضرت ذوالقرنین رضی اللہ عنہ کے سفر کی ابتدا اس طرح ہوئی کہ انہوں نے کتابوں میں دیکھا تھا کہ حضرت نوح علیہ السلام  کے بیٹے سام کی اولاد میں سے ایک شخص چشمۂ حیات سے پانی پئے گا اور اس کو موت نہ آئے گی۔ یہ دیکھ کر وہ چشمۂ حیات کی طلب میں مغرب و مشرق کی طرف روانہ ہوئے ، اس سفر میں آپ رضی اللہ عنہ  کے ساتھ حضرت خضر علیہ السلام بھی تھے، وہ تو چشمۂ حیات تک پہنچ گئے اور انہوں نے اس میں سے پی بھی لیا مگر حضرت ذوالقرنین رضی اللہ عنہ کے مقدر میں  نہ تھا اس لئے انہوں نے وہ چشمہ نہ پایا ۔ اس سفر میں  مغرب کی جانب روانہ ہوئے تو جہاں تک آبادی ہے وہ سب منزلیں طے کر ڈالیں اور مغرب کی سمت میں  وہاں تک پہنچے جہاں آبادی کا نام و نشان باقی نہ رہا ، وہاں انہیں سورج غروب ہوتے وقت ایسا نظر آیا گویا کہ وہ سیاہ چشمہ میں ڈوبتا ہے جیسا کہ دریائی سفر کرنے والے کو پانی میں ڈوبتا معلوم ہوتا ہے۔حضرت ذوالقرنین رضی اللہ عنہ نے اس چشمے کے پاس ہی ایک ایسی قوم کو پایا جو شکار کئے ہوئے جانوروں کے چمڑے پہنے تھے، اس کے سوا اُن کے بدن پر اور کوئی لباس نہ تھے اور دریائی مردہ جانور اُن کی غذا تھے۔ یہ لوگ کافر تھے۔اللہ پاک نے اِلہام کے طور پرفرمایا: اے ذوالقرنین! یا تو تُو انہیں سزا دے اور اُن میں سے جو اسلام میں  داخل نہ ہو اس کو قتل کردے یا اگر وہ ایمان لائیں تو ان کے بارے میں بھلائی اختیار کر اور انہیں اَحکامِ شرع کی تعلیم دے۔
حضرت ذوالقر نین نے اللہ پاک کی طرف سے حکم ملنے کے بعد کہا ’’بہرحال جس نے کفرو شرک اختیار کیا اور میری دعوت کو ٹھکرا کر ایمان نہ لایا تو عنقریب ہم اسے قتل کردیں گے، یہ تو اس کی دُنْیَوی سزا ہے ، پھر وہ قیامت کے دن اپنے رب کی طرف لوٹایا جائے گا تو وہ اسے جہنم کابہت برا عذاب دے گا اور جو ایمان لایا اور اس نے ایمان کے تقاضوں کے مطابق نیک عمل کیا تو اس کیلئے جزا کے طور پر بھلائی یعنی جنت ہے اور عنقریب ہم اس ایمان والے کو آسان کام کہیں گے اور اس کو ایسی چیزوں کا حکم دیں گے جو اس پر دشوار نہ ہوں۔پھر حضرت ذوالقرنین رضی اللہ عنہ مشرق کی طرف ایک راستے کے پیچھے چلے۔وہاں ایک قوم اس جگہ پر تھی جہاں ان کے اور سورج کے درمیان کوئی چیز پہاڑ درخت وغیرہ حائل نہ تھی اور نہ وہاں زمین کی نرمی کی وجہ سے کوئی عمارت قائم ہو سکتی تھی اور وہاں کے لوگوں کا یہ حال تھا کہ طلوعِ آفتاب کے وقت زمین کے اندر بنائے ہوئے تہ خانوں میں گھس جاتے تھے اور زوال کے بعد نکل کر اپنا کام کاج کرتے تھے۔
حضرت ذوالقرنین  رضی اللہ عنہ جب مشرق و مغرب تک پہنچ گئے تو اب کی بار انہوں نے شمال کی جانب سفر شروع فرمایا یہاں تک کہ وہ دو پہاڑوں کے درمیان تک جا پہنچے اور یہ سب اللہ پاک کی طرف سے عطا کردہ علم اور قدرت   کی وجہ سے واقع ہوا۔جب حضرت ذوالقرنین رضی اللہ عنہ شمال کی جانب ا س جگہ پہنچے جہاں انسانی آبادی ختم   ہو جاتی تھی تووہاں دو بڑے عالیشان پہاڑ دیکھے جن کے اُس طرف یاجوج ماجوج کی قوم آباد تھی جو کہ دو
پہاڑوں    کے درمیانی راستے سے اِس طرف آکر قتل و غارت کیا کرتی تھی۔ یہ جگہ ترکستان کے مشرقی کنارہ پر واقع تھی۔ یہاں حضرت ذوالقرنین رضی اللہ عنہ نے ایک ایسی قوم کو پایا جو کوئی بات سمجھتے معلوم نہ ہوتے تھے کیونکہ اُن کی زبان عجیب و غریب تھی اس لئے اُن کے ساتھ اشارہ وغیرہ کی مدد سے بہ مشقت بات کی جاسکتی تھی۔
حضرت ذوالقرنین رضی اللہ عنہ  سے لوگوں نے ان کی شکایت کی کہ وہ زمین میں فساد مچانے والے لوگ ہیں تو کیا ہم آپ کے لیے اس بات پر کچھ مال مقرر کردیں کہ آپ ہمارے اور ان کے درمیان ایک دیوار بنادیں تاکہ وہ ہم تک نہ پہنچ سکیں اور ہم ان کے شر و اِیذا سے محفوظ رہیں۔
 آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ’’میرے پاس پتھر کے سائز کے لوہے کے ٹکڑے لاؤ ۔جب وہ لے آئے تواس کے بعد ان سے بنیاد کھدوائی ، جب وہ پانی تک پہنچی تو اس میں   پتھر پگھلائے ہوئے تانبے سے جمائے گئے اور لوہے کے تختے اوپر نیچے چن کر اُن کے درمیان لکڑی اور کوئلہ بھروا دیا اور آگ دے دی اس طرح یہ دیوار پہاڑ کی بلندی تک اونچی کردی گئی اور دونوں پہاڑوں کے درمیان کوئی جگہ نہ چھوڑی گئی، پھر اوپر سے پگھلایا ہوا تانبہ دیوار میں پلا دیا گیا تو یہ سب مل کر ایک سخت جسم بن گیا۔ جب حضرت ذوالقرنین رضی اللہ عنہ نے دیوار مکمل کر لی تو یاجوج اور ماجوج آئے اور انہوں نے اس دیوار پر چڑھنے کا ارادہ کیا تو اس کی بلندی اور ملائمت کی وجہ سے اس پر نہ چڑھ سکے، پھر انہوں نے نیچے سے اس میں سوراخ کرنے کی کوشش کی تو اس دیوار کی سختی اور موٹائی کی وجہ سے اس میں سوراخ نہ کر سکے۔حضرت ذوالقرنین رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یہ دیوار میرے رب کی رحمت اور اس کی نعمت ہے کیونکہ یہ یاجوج اور ماجوج کے نکلنے میں رکاوٹ ہے، پھر جب میرے رب کا وعدہ آئے گا اور قیامت کے قریب یاجوج ماجوج کے خُروج کا وقت آپہنچے گا تو میرا رب اس دیوار کو پاش پاش کردے گا اور میرے رب نے ان کے نکلنے کا جو وعدہ فرمایا ہے وہ اور اس کے علاوہ ہر وعدہ سچا ہے۔

📖 آخر میں اللہ پاک نے اس حقیقت کو بیان فرمایا کہ اگر سارے سمندر اور ان جیسے اور بھی آجائیں مل کر روشنائی بن جائیں تو میرے رب کے کلمات ختم ہونے سے پہلے ہی سمندروں کی روشناٸیاں ختم ہو جائیں گی.

🌳 *سوہ مریم*
سورۂ مریم مکہ مکرمہ میں  نازل ہوئی ہے۔
اس سورت میں6 رکوع اور  98 آیتیں ہیں ۔

*وجہ*
 اس سورت میں  حضرت مریم  رضی اللہ عنہا  کی عظمت ، آپ کے واقعات اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت کا واقعہ بیان کیا گیاہے ،اس مناسبت سے اس سورت کانام ’’ سورۂ مریم‘‘ رکھا گیا ہے۔ 

دیگر مکی سورتوں کی طرح اس میں بھی اللہ پاک کے وجود، توحید و رسالت اور آخرت میں اٹھنے اور اس کے بعد جزا ملنے کے ساتھ ساتھ بہت سے انبیاء کرام علیہم السلام کے حالات بھی بیان ہوئے۔

🤲🏻 زکریا علیہ السلام کی اولاد کے حصول کے لیے رقت انگیز دعا کے ساتھ سورت کا آغاز ہوتا ہے جو بڑی عمر کو پہنچ چکے تھے اور بال بھی سفید ہوگئے تھے اور ان کی زوجہ کی کیفیت بھی ایسی تھی کہ بظاہر اولاد ہونا ممکن نظر نہیں آتا تھا، لیکن پھر بھی اللہ پاک کی بارگاہ میں دعا فرماتے تھے، چنانچہ آپ علیہ السلام کی دعا قبول ہوئی اور یحییٰ علیہ السلام جیسے نبی بیٹے کی ولادت کی خوشخبری سنائی گئی۔ حضرت یحییٰ علیہ السلام کو اللہ پاک نے بچپن ہی میں نبوت عطا کی اور کتاب دی، آپ علیہ السلام متقی اور ماں باپ کے ساتھ نیک سلوک کرنے والے تھے، اللہ پاک نے فرمایا کہ ان پر سلام ہو ان کی پیدائش کے دن، وفات کے دن اور جب قیامت کے دن انہیں اٹھایا جائے گا۔

☄️ حضرات زکریا اوریحییٰ علیہما السلام کا قصہ بیان کرنے کے بعد اس سے بھی زیادہ عجیب قصہ بیان کیا گیا اور وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت کا واقعہ ہے۔ ایک مرتبہ حضرت مریم رضی اللہ تعالی عنہا تشریف فرما تھیں ایک شخص انکے سامنے ظاہر ہوا، وہ اسے انسان سمجھ کر اللہ کی پناہ مانگنے لگیں مگر اس نے بتایا کہ وہ انسان نہیں بلکہ ایک فرشتہ ہے اور اللہ کے حکم سے بیٹے کی بشارت دینے آیا ہے، انہیں تعجب ہوا کہ شوہر کے بغیر کیسے بیٹا پیدا ہوگا اور میں ہوں بھی پاکدامن، تو انہیں بتایا گیا کہ اللہ پاک کے لیے کوئی بات مشکل نہیں ہے ،وہ فرشتے جبراٸیل علیہ السلام تھے، مریم رضی اللہ تعالی عنہا پر حمل کے آثار ظاہر ہوئے تو ان کے دل میں ڈالا گیا کہ وہ قوم سے الگ ہوجائیں، جب ولادت کا درد شروع ہوا تو پریشان ہو کر کہنے لگیں کہ کاش تکلیف کا یہ وقت آنے سے پہلے ہی میں اس دنیا سے چلی جاتی۔ آپ رضی اللہ عنھا ویرانے میں کھجور کے خشک تنے کے سہارے بیٹھی ہوئی تھیں، جب حضرت مریم  رضی اللہ عنھا نے درد کی شدت سے مرنے کی تمنا کی تو اس وقت حضرت جبرئیل  علیہ السلام  نے وادی کے نیچے سے پکارا کہ غم نہ کرو، اللہ پاک نے آپ کے لیے آپ کے قریب ایک نہر بنا دی ہے۔حضرت مریم! رضی اللہ عنھا ، سے کہا گیا کہ آپ جس سوکھے تنے کے نیچے بیٹھی ہیں اسے اپنی طرف حرکت دیں تو اس سے آپ پر عمدہ اور تا
زہ پکی ہوئی کھجوریں گریں گی۔
حضرت مریم  رضی اللہ عنہا  سے فرمایا گیا کہ آپ کھجوریں   کھائیں  اور پانی پئیں اور اپنے فرزند حضرت عیسیٰ  علیہ السلام سے اپنی آنکھ ٹھنڈی رکھیں ، پھر اگر آپ کسی آدمی کو دیکھیں کہ وہ آپ سے بچے کے بارے میں دریافت کرتا ہے تو اشارے سے اسے کہہ دیں کہ میں نے آج رحمٰن کیلئے روزہ کی نذر مانی ہے تو آج ہرگز میں کسی آدمی سے بات نہیں کروں گی۔ حضرت مریم رضی اللہ عنہا کو خاموش رہنے کی نذر ماننے کا اس لئے حکم دیا گیا تاکہ کلام حضرت عیسیٰ علیہ السلام فرمائیں اور ان کا کلام مضبوط حجت ہو جس سے تہمت زائل ہو جائے۔ اس سے معلوم ہوا کہ بیوقوف کے جواب میں خاموش رہنا اور منہ پھیر لینا چاہئے کہ جاہلوں کے جواب میں خاموشی ہی بہتر ہے اور یہ بھی معلوم ہو اکہ کلام کو افضل شخص کے حوالے کر دینا اَولیٰ ہے۔ 
  یاد رہے کہ پہلے زمانہ میں    بولنے اور کلام کرنے کا بھی روزہ ہوتا تھا جیسا کہ ہماری شریعت میں    کھانے اور پینے کا روزہ ہوتا ہے، البتہ ہماری شریعت میں چپ رہنے کا روزہ منسوخ ہوگیا ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت کے بعد حضرت مریم رضی اللہ عنہا انہیں اُٹھائے ہوئے اپنی قوم کے پاس آئیں ، جب لوگوں    نے حضرت مریم رضی اللہ عنہا کو دیکھا کہ ان کی گود میں بچہ ہے تو وہ روئے اور غمگین ہوئے ، کیونکہ وہ صالحین کے گھرانے کے لوگ تھے اور کہنے لگے : اے مریم! بیشک تم بہت ہی عجیب و غریب چیز لائی   ہو۔ اے ہارون کی بہن! نہ تو تیرا باپ عمران کوئی برا آدمی تھا اور نہ ہی تیری ماں حنہ بدکار عورت تھی تو پھر تیرے ہاں یہ بچہ کہاں سے ہو گیا۔
جب لوگوں نے حضرت مریم رضی اللہ عنہا سے تفصیل   پوچھنی چاہی تو چونکہ آپ رضی اللہ عنہا  نے اللہ پاک کے حکم سے چپ کاروزہ رکھا ہوا تھا اس لئے آپ نے حضرت   عیسیٰ علیہ السلام کی طرف اشارہ کرکے کہا کہ اگر کچھ پوچھنا ہے تواس بچے سے پوچھ لویہ جواب دے گا۔ اس پر لوگوں کو غصہ آیا اور انہوں نے کہا کہ جوبچہ ابھی پیدا ہوا ہے وہ کیسے ہم سے بات کرے گا! کیا تم ہم سے مذاق کر رہی ہو؟ یہ گفتگو سن کر حضرت عیسی علیہ السلام  نے دودھ پینا چھوڑ دیا اور بائیں  ہاتھ پر ٹیک لگا کر لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے   اور سیدھے ہاتھ مبارک سے اشارہ کرکے بات کرنا شروع کی، آپ نے پہلا جملہ یہ ارشاد فرمایا میں اللہ کا بندہ ہوں، پھر آپ نے سلسلہ گفتگو کو جاری رکھتے ہوئے مزید فرمایا کہ میں بابرکت رسول بنایا گیا ہوں مجھے نماز اور زکوۃ کے اہتمام کی تعلیم دے کر بھیجا گیا ہے میں تقوی کا پیکر اور والدہ کا فرمانبردار ہوں، اس گفتگو نے مریم رضی اللہ تعالی عنہا کو پاکباز بھی ثابت کردیا اور اللہ پاک کی قدرت کو ثابت کر کے لوگوں کے تعجب میں بھی اضافہ کردیا۔

🌼 اس کے بعد اگلی آیتوں میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اخلاق کریمہ اور اوصاف عالیہ پر بھی بھرپور روشنی ڈالی گئی ہے، اس کے بعد مختلف انبیاء کرام علیہم السلام کا ذکر ہے، حضرات موسی و ہارون علیہما السلام کی نبوت اور کوہ طور پر اللہ سے ہم کلامی کا تذکرہ پھر حضرت اسماعیل علیہ السلام کی نبوت و رسالت اور وعدے کی پاسداری اور نماز و زکوۃ کے اہتمام کا ذکر ہے، ساتھ ہی حضرت ادریس علیہ السلام کی صداقت و نبوت کا بھی تذکرہ موجود ہے. سورة کی آخری آیات میں انسان کے مرنے کے بعد دوبارہ زندگی کا تذکرہ کرتے ہوئے قیامت کے منکرین کو بالکل واضح انداز میں بتا دیا گیا ہے کہ دنیا کے اندر امتحان ہے اس کے بعد مرنا ہے مرنے کے بعد دوبارہ انسان کو اٹھایا جائے گا اور اس کے اعمال کا حساب ہوگا۔

🌹 *سورہ طہ*
سورۂ  طٰہٰ مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی ہے۔
 اس میں8 رکوع اور  135آیتیں ہیں ۔ 

*وجہ*
طٰہٰ،  نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک ناموں میں سے ایک نام ہے، اور اس سورت کی ابتداء  میں  آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس نام سے نداء کی گئی اس مناسبت سے اس سورت کا نام ’’طٰہٰ‘‘ رکھا گیا ہے۔  

🔥 شروع میں حضرت موسی علیہ السلام کا قصہ تفصیل کے ساتھ آیا ہے، اسی طرح حضرت آدم علیہ السلام کا واقعہ کچھ تفصیل کے ساتھ بیان ہوا ہے۔
آیت نمبر 10 سے حضرت موسی علیہ السلام کے واقعے کی تفصیلات شروع ہوتی ہیں جب وہ اپنی زوجہ کے ساتھ مدین سے واپس ہوئے، تو راستے میں موسی علیہ السلام کی زوجہ کو
درد زہ شروع ہوگیا اور پھر موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ مجھے سامنے سے ایک آگ نظر آرہی ہے میں وہاں جاتا ہوں کچھ خبر لے کر آتا ہوں۔وہاں پر اللہ پاک نے درخت پر تجلی فرمائی اور موسی علیہ السلام کو نبوت کی خوشخبری ملی اسی موقع پر آپ کو عصا اور ہاتھ کو روشن اور چمکدار بنانے کے معجزات عطا ہوئے اور آپ کو حکم ہوا کہ جاکر فرعون کو دعوت حق دیجئے۔

🤲🏻 آیت نمبر 25 سےعلیہ
میں موسی علیہ السلام کی دعا کا ذکر ہے کہ ”اے میرے رب میرے لئے میرا سینہ کشادہ فرمادے، میرے لئے میرا کام آسان کر دے، میری زبان کی گرہ کھول دے تاکہ وہ لوگ میری بات کو سمجھ سکیں“، پھر اللہ کی بارگاہ میں عرض کی کہ می
رے خاندان میں سے میرے بھائی ہارون علیہ السلام کواس معاملے میں میرا وزیر بنا دے اور میرے ساتھ کر دے تاکہ مجھے کچھ تقویت مل جائے۔


🌱 اگلی آیات میں موسی علیہ السلام کی پیداٸش کے وقت کے حالات کا ذکر ہے۔ فرعون نے حکم دے رکھا تھا کہ بنی اسرائیل میں پیدا ہونے والے ہر لڑکے کو قتل کر دیا جائے، اللہ پاک نے موسی علیہ السلام کی والدہ کے دل میں یہ بات ڈال دی کہ وہ اپنے بیٹے یعنی موسی علیہ السلام کو ایک صندوق میں بند کرکے دریا میں ڈال دیں۔ اللہ کے حکم سے یہ تابوت کنارے لگے گا اور اللہ پاک کے دشمن فرعون کے ہاتھ لگ جائے گا ، موسی علیہ السلام کی والدہ نے ایسا ہی کیا، اس دریا سے ایک بڑی نہر نکل کر فرعون کے محل میں سے گزرتی تھی ۔ فرعون اپنی بیوی آسیہ کے ساتھ نہر کے کنارہ بیٹھا تھا ، اس نے نہر میں صندوق آتا دیکھ کر غلاموں اور کنیزوں   کو اسے نکالنے کا حکم دیا ۔ وہ صندوق نکال کر سامنے لایا گیا اور جب اسے کھولا گیا تو اس میں   ایک نورانی شکل کا فرزند  جس کی پیشانی سے وجاہت و اِقبال کے آثار نمودار تھے نظر آیا،اسے دیکھتے ہی فرعون کے دل میں   بے پناہ محبت پیدا ہوئی۔حضرت موسیٰ  علیہ السلام کی بہن کانام مریم تھا، جب آپ علیہ السلام کی والدہ نے آپ علیہ السلام کوصندوق میں بندکرکے دریا میں ڈال دیا تھا تو اس وقت آپ  علیہ السلام کی بہن صندوق کے متعلق معلوم کرنے کہ وہ کہاں پہنچتا ہے اس کے ساتھ چلتی رہی یہاں تک کے صندوق فرعون کے محل میں پہنچ گیا، وہاں     فرعون اور اس کی بیوی آسیہ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اپنے پاس رکھ لیا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کواپنا بیٹا بنالیا مگر جب دودھ پلانے کے لیے دائیاں حاضر کی گئیں     تو آپ علیہ السلام نے کسی بھی دائی کادودھ قبول نہ کیا، اس پر آپ کی بہن نے کہا کہ مصر میں  ایک اور دائی بھی ہے جس کا دودھ نہایت عمدہ ہے، یہ بچہ اس کادودھ پی لے گا۔ چنانچہ آپ  علیہ السلام کی والدہ کو بلایا گیا تو آپ علیہ السلام نے دودھ پینا شروع کردیا، یوں     آپ  علیہ السلام   کو پرورش کے لیے آپ علیہ السلام  کی والدہ کے سپرد کر دیا گیا اور اللہ پاک کافرمان پورا ہوا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی والدہ کی آنکھیں  ٹھنڈی ہوئیں۔

📢پھر فرمایا کہ موسی و ہارون علیھما السلام کو حکم دیا کہ فرعون کے پاس جائیں وہ سرکش ہو چکا ہے، اسے نرمی کے ساتھ دعوت حق دیں، تاکہ وہ نصیحت حاصل کرلے، موسی و ہارون علیہما السلام نے اللہ کی بارگاہ میں عرض کیا کہ ہمیں اندیشہ ہے کہ وہ ہم پر زیادتی کرے گا اللہ پاک نے فرمایا کہ تم گھبراؤ نہیں! میں تمہارے ساتھ ہوں، وہ دونوں حضرات فرعون کے پاس تشریف لے گئے اور فرمایا کہ ہم اللہ کے رسول ہیں، بنی اسرائیل کو اذیت نہ دو اور انہیں ہمارے ساتھ دے دو، فرعون نے اللہ کی ذات کے بارے میں موسی و ہارون علیہم السلام سے بحث کی، پھر ان پر جادوگر ہونے کا الزام لگا دیا اور اپنے جادوگروں کو بلا کر مقررہ دن پر مقابلے کا چیلنج دیا، اس کی تفصیل پچھلی سورتوں میں بیان کر دی ہے،

📿 صبح و شام دن اور رات میں تسبیح و تحمید کا اہتمام کرنے کی ترغیب دلائی گئی۔کافروں کے لیے وسائل زندگی کی فراوانی اور عیش کو دیکھ کر حسرت میں نہ پڑ جانے اور للچائی ہوئی نظروں سے نہ دیکھنے کا حکم ہے۔پھر خود بھی نماز کی پابندی کرنے اور اپنے اہل خانہ کو بھی نماز کا پابند بنانے کا حکم ہے اور اعلان فرما دیا گیا کہ ہر ایک کو اس کے عمل کا بدلہ ملے گا لہذا تم بھی انتظار کرو ہم بھی انتظار کر رہے ہیں عنقریب معلوم ہو جائے گا کہ کون راہ ہدایت پر ہے اور کون گمراہی کی گہرائیوں میں گرا ہوا ہے۔
*📲+92-3212094919*

@faizanealahazrat
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM