🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
21-06-1445 ᴴ | 04-01-2024 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
21-06-1445 ᴴ | 04-01-2024 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤2
حضرت مولانا مخدوم غلام محمد ملکانی رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: غلام محمد ۔ لقب: قبیلہ ملکانی بلوچ کی نسبت سے "ملکانی" کہلاتے ہیں ۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 14 رمضان المبارک 1276ھ / مطابق اپریل 1860ء کو درگاہ ملکانی شریف ضلع دادو سندھ پاکستان میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
ابتدا میں حضرت مخدوم جنید علیہ الرحمۃ کے خاندان کے اخوند عبدالکریم کے مکتب میں قرآن کریم ناظرہ پڑھا۔ اس کے بعد ایک دوسرے گوٹھ میں فارسی کی تعلیم حاصل کی۔ اس کے ساتھ ساتھ دادو کے پرائمری اسکول میں سندھی کی سات جماعت کی تکمیل فرمائی۔اس کے بعد دینی تعلیم کی جانب رخ کیا۔ اس سلسلہ میں حضرت علامہ مولانا محمد حسن قریشی کے حیدرآباد والے مدرسہ میں داخلہ لیا اور پچیس برس کی عمر میں 1302ھ میں دستار فضیلت سے سر فراز ہوئے۔ علامہ محمد حسن علیہ الرحمہ کے پاس درس نظامی کی تکمیل کی ان کے علاوہ دیگر نامور اکابر علماء سے استفادہ کیا ان میں دو نام قابل ذکر ہیں:مخدوم ملت استاد الاساتذہ، علامہ الزمان، بحر العلوم مخدوم حسن اللہ صدیقی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ۔استاد العلماء حضرت علامہ عطا اللہ فیروزی شاہی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ۔ہمارےاکابرمیں تعلیم حاصل کرنےکایہ جذبہ تھاکہ عالم بن چکےتھے۔لیکن حفظ قرآن نہیں کیاتھا۔جب 1908ء میں پنجاب کا سفر کیا، ملتان شریف تشریف لے گئے جہاں سید القراء حضرت حافظ عبدالحکیم کے حلقہ درس میں شامل ہوئے اور چھ ماہ کے مختصر و قلیل عرصے میں قرآن پاک تجوید کے ساتھ حفظ کیا۔ اس کے بعد وطن واپس ہوئے ۔
بیعت و خلافت:
1307ھ میں میں حجاز مقدس و عراق معلیٰ کا سفر کیا۔ بغداد شریف میں حضورغوث اعظم محبوب سبحانی قطب ربانی پیران پیر دستگیر سید عبدالقادر جیلانی علیہ الرحمۃ کے دربار عالیہ قادریہ میں کئی روز تک فیضیاب ہوتے رہے۔ خانقاہ قادریہ کے سجادہ نشین قطب زمان حضرت پیر سید مصطفی قادری گیلانی علیہ الرحمۃ کے دست اقدست پر سلسلہ عالیہ قادریہ میں بیعت ہوئے۔ مرشد کریم کی صحبت میں رہ کر سلوک طے کیا اور آخر خلافت سے نوازے گئے۔پھرحضرت خواجہ عبدالرحمن فاروقی سرہندی علیہ الرحمۃسے سلسلہ نقشبندیہ میں خلافت حاصل کی۔حضرت خواجہ صاحب کے وصال کے بعد آپ نے باطنی اشارے پر حضرت خواجہ ولی محمد کاتیاروی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ(خانقاہ ملا کا تیار ضلع حیدرآباد)کے حلقہ میں شامل ہوئے اور سلسلہ نقشبندیہ اور سہروردیہ میں تکمیل خلافت پائی۔پیر طریقت حضرت خواجہ محمد قاسم نقشبندی قدس سرہ (دربار موہڑہ شریف تحصیل کوہ مری، اسلام آباد) سے بھی نقشبندیہ سلسلہ میں خلافت ملی۔قطب زمان، فاتح قادیانیت حضرت خواجہ پیر سید مہر علی شاہ جیلانی چشتی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ(خانقاہ گولڑہ شریف ، اسلام آباد) کے حلقہ ارادت میں شامل ہو کر سلسہ چشتیہ میں خلافت حاصل کی۔چاروں سلاسل میں اجازت و خلافت حاصل تھی لیکن آپ سلسلہ نقشبندیہ میں بیعت لیتے تھے اور اسی سلسلہ کو پھیلایا۔
سیرت و خصائص:
پیر طریقت، رہبرِ شریعت، عالمِ ربانی، عاشق مصطفیٰ ﷺ، حضرت مولانا غلام محمد ملکانی رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ اپنے وقت کے جید عالمِ دین، اور مشہور صوفی بزرگ تھے۔ساری زندگی دینِ اسلام کی تبلیغ فرمائی۔علماء حق کاساتھ دیا۔آپ کی ذات کثیرالبرکات سےخطۂ سندھ میں سلسلہ عالیہ نقشبندیہ کوبڑافروغ حاصل ہوا۔آپ کی صحبت نےعلماء وعرفاء کی ایک جماعت پیدافرمائی۔
سیر و سیاحت:
1307ھ کومشائخ ِ پاک وہندکےمزارات کی زیارت کرتےہوئے عراق،شام سےزیارت کرتےہوئےحجازِ مقدس پہنچے،وہاں ایساسکون وراحت نصیب ہواکہ بقیہ زندگی نور مجسم،ہادی عالم،شفیع اعظم،شفیع المذنبینﷺ کے مزار پر انوار پر مدینہ منورہ میں گزارنے کا تہیہ کیا۔ اور تقریباً ڈیڑھ سال مدینہ منورہ میں رہ کر فیوض و برکات حاصل کرتے رہے۔ اس عرصے میں کبھی کبھار مکہ معظمہ بھی جاتے تھے۔ جہاں نامور علماءدین حضرت علامہ مفتی سید احمد زینی دحلان شافعی علیہ الرحمۃ (مؤلف الدر ر السنیۃ فی الرد علی الوھابیہ)اور مکہ معظمہ کی مشہور دینی درسگاہ "مدرسہ صولتیہ"کے بانی و شیخ الحدیث مولانا رحمت اللہ کیرانوی رحمہ اللہ تعالیٰ کی صحبت اختیار کرتے۔وہاں شام کےایک عظیم عالم شیخ ابونصرعلیہ الرحمہ سےملاقات فرمائی،اوران سےبہت متأثرہوئے۔آپ فرماتے تھے:کہ میں نےشیخ ابونصرجیساعالم نہیں دیکھا،اُن کوبارہ ہزارحدیثیں یادتھیں۔
نام و نسب:
اسمِ گرامی: غلام محمد ۔ لقب: قبیلہ ملکانی بلوچ کی نسبت سے "ملکانی" کہلاتے ہیں ۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 14 رمضان المبارک 1276ھ / مطابق اپریل 1860ء کو درگاہ ملکانی شریف ضلع دادو سندھ پاکستان میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
ابتدا میں حضرت مخدوم جنید علیہ الرحمۃ کے خاندان کے اخوند عبدالکریم کے مکتب میں قرآن کریم ناظرہ پڑھا۔ اس کے بعد ایک دوسرے گوٹھ میں فارسی کی تعلیم حاصل کی۔ اس کے ساتھ ساتھ دادو کے پرائمری اسکول میں سندھی کی سات جماعت کی تکمیل فرمائی۔اس کے بعد دینی تعلیم کی جانب رخ کیا۔ اس سلسلہ میں حضرت علامہ مولانا محمد حسن قریشی کے حیدرآباد والے مدرسہ میں داخلہ لیا اور پچیس برس کی عمر میں 1302ھ میں دستار فضیلت سے سر فراز ہوئے۔ علامہ محمد حسن علیہ الرحمہ کے پاس درس نظامی کی تکمیل کی ان کے علاوہ دیگر نامور اکابر علماء سے استفادہ کیا ان میں دو نام قابل ذکر ہیں:مخدوم ملت استاد الاساتذہ، علامہ الزمان، بحر العلوم مخدوم حسن اللہ صدیقی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ۔استاد العلماء حضرت علامہ عطا اللہ فیروزی شاہی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ۔ہمارےاکابرمیں تعلیم حاصل کرنےکایہ جذبہ تھاکہ عالم بن چکےتھے۔لیکن حفظ قرآن نہیں کیاتھا۔جب 1908ء میں پنجاب کا سفر کیا، ملتان شریف تشریف لے گئے جہاں سید القراء حضرت حافظ عبدالحکیم کے حلقہ درس میں شامل ہوئے اور چھ ماہ کے مختصر و قلیل عرصے میں قرآن پاک تجوید کے ساتھ حفظ کیا۔ اس کے بعد وطن واپس ہوئے ۔
بیعت و خلافت:
1307ھ میں میں حجاز مقدس و عراق معلیٰ کا سفر کیا۔ بغداد شریف میں حضورغوث اعظم محبوب سبحانی قطب ربانی پیران پیر دستگیر سید عبدالقادر جیلانی علیہ الرحمۃ کے دربار عالیہ قادریہ میں کئی روز تک فیضیاب ہوتے رہے۔ خانقاہ قادریہ کے سجادہ نشین قطب زمان حضرت پیر سید مصطفی قادری گیلانی علیہ الرحمۃ کے دست اقدست پر سلسلہ عالیہ قادریہ میں بیعت ہوئے۔ مرشد کریم کی صحبت میں رہ کر سلوک طے کیا اور آخر خلافت سے نوازے گئے۔پھرحضرت خواجہ عبدالرحمن فاروقی سرہندی علیہ الرحمۃسے سلسلہ نقشبندیہ میں خلافت حاصل کی۔حضرت خواجہ صاحب کے وصال کے بعد آپ نے باطنی اشارے پر حضرت خواجہ ولی محمد کاتیاروی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ(خانقاہ ملا کا تیار ضلع حیدرآباد)کے حلقہ میں شامل ہوئے اور سلسلہ نقشبندیہ اور سہروردیہ میں تکمیل خلافت پائی۔پیر طریقت حضرت خواجہ محمد قاسم نقشبندی قدس سرہ (دربار موہڑہ شریف تحصیل کوہ مری، اسلام آباد) سے بھی نقشبندیہ سلسلہ میں خلافت ملی۔قطب زمان، فاتح قادیانیت حضرت خواجہ پیر سید مہر علی شاہ جیلانی چشتی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ(خانقاہ گولڑہ شریف ، اسلام آباد) کے حلقہ ارادت میں شامل ہو کر سلسہ چشتیہ میں خلافت حاصل کی۔چاروں سلاسل میں اجازت و خلافت حاصل تھی لیکن آپ سلسلہ نقشبندیہ میں بیعت لیتے تھے اور اسی سلسلہ کو پھیلایا۔
سیرت و خصائص:
پیر طریقت، رہبرِ شریعت، عالمِ ربانی، عاشق مصطفیٰ ﷺ، حضرت مولانا غلام محمد ملکانی رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ اپنے وقت کے جید عالمِ دین، اور مشہور صوفی بزرگ تھے۔ساری زندگی دینِ اسلام کی تبلیغ فرمائی۔علماء حق کاساتھ دیا۔آپ کی ذات کثیرالبرکات سےخطۂ سندھ میں سلسلہ عالیہ نقشبندیہ کوبڑافروغ حاصل ہوا۔آپ کی صحبت نےعلماء وعرفاء کی ایک جماعت پیدافرمائی۔
سیر و سیاحت:
1307ھ کومشائخ ِ پاک وہندکےمزارات کی زیارت کرتےہوئے عراق،شام سےزیارت کرتےہوئےحجازِ مقدس پہنچے،وہاں ایساسکون وراحت نصیب ہواکہ بقیہ زندگی نور مجسم،ہادی عالم،شفیع اعظم،شفیع المذنبینﷺ کے مزار پر انوار پر مدینہ منورہ میں گزارنے کا تہیہ کیا۔ اور تقریباً ڈیڑھ سال مدینہ منورہ میں رہ کر فیوض و برکات حاصل کرتے رہے۔ اس عرصے میں کبھی کبھار مکہ معظمہ بھی جاتے تھے۔ جہاں نامور علماءدین حضرت علامہ مفتی سید احمد زینی دحلان شافعی علیہ الرحمۃ (مؤلف الدر ر السنیۃ فی الرد علی الوھابیہ)اور مکہ معظمہ کی مشہور دینی درسگاہ "مدرسہ صولتیہ"کے بانی و شیخ الحدیث مولانا رحمت اللہ کیرانوی رحمہ اللہ تعالیٰ کی صحبت اختیار کرتے۔وہاں شام کےایک عظیم عالم شیخ ابونصرعلیہ الرحمہ سےملاقات فرمائی،اوران سےبہت متأثرہوئے۔آپ فرماتے تھے:کہ میں نےشیخ ابونصرجیساعالم نہیں دیکھا،اُن کوبارہ ہزارحدیثیں یادتھیں۔
❤2
سیاسی خدمات:
اس زمانےمیں جتنی سیاسی تحریکیں چلیں اس میں آپ نےبھرپورحصہ لیا۔1920ءمیں جب تحریکِ خلافت کا زور ہوا تو حیدرآباد سندھ میں ایک عظیم الشان کانفرنس منعقدہوئی اس کانفرنس میں بڑےبڑےاکابرعلماء ومشائخ نےشرکت فرمائی ۔اس کی صدارت کےلئےآپ کی ذات گرامی کومنتخب کیاگیا۔آپ نے اس کانفرنس میں جوصدارتی خطبہ ارشادفرمایاوہ آپ کی سیاسی وعلمی بصیرت کی ایک عمدہ مثال تھا۔بعدمیں کتابی شکل میں شائع بھی ہوا۔
اسی طرح اسی زمانےایک مسئلہ ترک مولات کابھی اپنےعروج پرتھا۔بہت سےدانشوروں کاخیال تھاکہ مسلمان ہندوستان سےہجرت کرکےمسلم ممالک کی طرف چلےجائیں، اوریہ علاقے انگریز اورہندوؤں کےسپردکردیں۔آپ نےاس کی زبردست مخالفت کی اورمسلمانوں کویہیں پررہنےپرمجبورکیا۔اعلیٰ حضرت امام اہلسنت کابھی یہی نظریہ تھا۔اگرخدانخواستہ ان دانشوروں کافیصلہ سادہ عوام قبول کرکےہجرت کرکےچلےجاتے توپاکستان کاخواب کبھی بھی شرمندۂ تعبیرنہ ہوتا۔
شان و شوکت:
چونکہ انگریزوں کادوردورہ تھا۔اس لئے آپ اسلام کی شان وشوکت دکھانےکےکہ خاطرایک خاص اندازکےساتھ زندگی بسرکرتےتھے۔خوبصورت شاہانہ لباس اورایک شاہی تاج کی مانندایک سنہری کلاہ سرپرزیبِ تن فرماتےتھے۔جب آپ کہیں تشریف لےجاتےتو
گھوڑےاوراونٹ سواراورپیادہ لوگوں کاایک لشکرساتھ ہوتاتھا۔آگےپیچھےلوگ وردکرتےہوئےنعتیں اورنعرےلگاتےہوئے جاتےتھے۔آپ کےجلوس کودیکھ کرہندواپنی دکانیں بندکردیتےتھے،اوربہت سوں کواسلام کی دولت بھی نصیب ہوجاتی تھی۔
اس قدرعظمت وشان کےباوجودآپ میں اس قدرتواضع وانکساری تھی کہ کوئی آپ کی خدمت میں حاضر ہوتاخواہ امیرہو یاغریب آپ اس سےبغل گیرہوکراسےاپنےسینہ بےکینہ سےلگالیاکرتےتھے۔بعض کوتووجدکی کیفیت طاری ہوجاتی،اورذکرِ قلبی جاری ہوجاتا تھا۔آپ کےحلقۂ تدریس سے بے شمار جیدعلماء کرام پیدا ہوئے جنہوں نےدینِ متین کی خوب خدمت فرمائی ہے۔تدریس کےساتھ ساتھ آپ نےبہت عمدہ تصانیف بھی فرمائی ہیں اکثرعربی وفارسی میں ہیں۔تقریباً ساٹھ تصنیفات ہیں۔آپ شاعرانہ ذوق بھی رکھتےتھے۔کبھی بھی سندھی میں اشعارکہاکرتےتھےجورنگِ تصوف میں ڈوبےہوئےہوتےتھے۔
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 22 جمادی الاخری 1354ھ / مطابق 22 ستمبر 1935ء بروز اتوار کو ہوا ۔ آپ کا مزار پر انوار درگاہ ملکانی شریف ضلع دادو سندھ میں مرجعِ خلائق ہے ۔
ماخذ و مراجع:
انوار علمائے اہلسنت سندھ ۔ سندھ کے صوفیائے نقشبند ، ج:1 ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-makhdoom-ghulam-muhammad-malkani
اس زمانےمیں جتنی سیاسی تحریکیں چلیں اس میں آپ نےبھرپورحصہ لیا۔1920ءمیں جب تحریکِ خلافت کا زور ہوا تو حیدرآباد سندھ میں ایک عظیم الشان کانفرنس منعقدہوئی اس کانفرنس میں بڑےبڑےاکابرعلماء ومشائخ نےشرکت فرمائی ۔اس کی صدارت کےلئےآپ کی ذات گرامی کومنتخب کیاگیا۔آپ نے اس کانفرنس میں جوصدارتی خطبہ ارشادفرمایاوہ آپ کی سیاسی وعلمی بصیرت کی ایک عمدہ مثال تھا۔بعدمیں کتابی شکل میں شائع بھی ہوا۔
اسی طرح اسی زمانےایک مسئلہ ترک مولات کابھی اپنےعروج پرتھا۔بہت سےدانشوروں کاخیال تھاکہ مسلمان ہندوستان سےہجرت کرکےمسلم ممالک کی طرف چلےجائیں، اوریہ علاقے انگریز اورہندوؤں کےسپردکردیں۔آپ نےاس کی زبردست مخالفت کی اورمسلمانوں کویہیں پررہنےپرمجبورکیا۔اعلیٰ حضرت امام اہلسنت کابھی یہی نظریہ تھا۔اگرخدانخواستہ ان دانشوروں کافیصلہ سادہ عوام قبول کرکےہجرت کرکےچلےجاتے توپاکستان کاخواب کبھی بھی شرمندۂ تعبیرنہ ہوتا۔
شان و شوکت:
چونکہ انگریزوں کادوردورہ تھا۔اس لئے آپ اسلام کی شان وشوکت دکھانےکےکہ خاطرایک خاص اندازکےساتھ زندگی بسرکرتےتھے۔خوبصورت شاہانہ لباس اورایک شاہی تاج کی مانندایک سنہری کلاہ سرپرزیبِ تن فرماتےتھے۔جب آپ کہیں تشریف لےجاتےتو
گھوڑےاوراونٹ سواراورپیادہ لوگوں کاایک لشکرساتھ ہوتاتھا۔آگےپیچھےلوگ وردکرتےہوئےنعتیں اورنعرےلگاتےہوئے جاتےتھے۔آپ کےجلوس کودیکھ کرہندواپنی دکانیں بندکردیتےتھے،اوربہت سوں کواسلام کی دولت بھی نصیب ہوجاتی تھی۔
اس قدرعظمت وشان کےباوجودآپ میں اس قدرتواضع وانکساری تھی کہ کوئی آپ کی خدمت میں حاضر ہوتاخواہ امیرہو یاغریب آپ اس سےبغل گیرہوکراسےاپنےسینہ بےکینہ سےلگالیاکرتےتھے۔بعض کوتووجدکی کیفیت طاری ہوجاتی،اورذکرِ قلبی جاری ہوجاتا تھا۔آپ کےحلقۂ تدریس سے بے شمار جیدعلماء کرام پیدا ہوئے جنہوں نےدینِ متین کی خوب خدمت فرمائی ہے۔تدریس کےساتھ ساتھ آپ نےبہت عمدہ تصانیف بھی فرمائی ہیں اکثرعربی وفارسی میں ہیں۔تقریباً ساٹھ تصنیفات ہیں۔آپ شاعرانہ ذوق بھی رکھتےتھے۔کبھی بھی سندھی میں اشعارکہاکرتےتھےجورنگِ تصوف میں ڈوبےہوئےہوتےتھے۔
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 22 جمادی الاخری 1354ھ / مطابق 22 ستمبر 1935ء بروز اتوار کو ہوا ۔ آپ کا مزار پر انوار درگاہ ملکانی شریف ضلع دادو سندھ میں مرجعِ خلائق ہے ۔
ماخذ و مراجع:
انوار علمائے اہلسنت سندھ ۔ سندھ کے صوفیائے نقشبند ، ج:1 ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-makhdoom-ghulam-muhammad-malkani
scholars.pk
Hazrat Molana Makhdoom Ghulam Muhammad Malkani
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤2
حضرت ابو بکر صدیق رضی الله تعالیٰ عنه
نام و نسب:
اسمِ گرامی: عبد اللہ ، کنیت ابوبکر ، اور دو لقب زیادہ مشہور ہیں صدیق اور عتیق ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
عبد اللہ بن عثمان بن عامر بن عمرو بن کعب بن سعد بن تیم بن مرہ بن کعب ـ
حضرت کعب پر جا کر آپ رضی اللہ عنہ کا سلسلہ رسولِ اکرم ﷺ کے نسب سے جا ملتا ہے ۔ آپ کی والدہ کا نام ام الخیر سلمیٰ بنتِ صخر بن عامر بن عمرو بن کعب بن سعد بن تیم بن مرہ بن کعب ہے ۔
قبولِ اسلام:
حضرت سیدنا ابراہیم نخعی فرماتے ہیں!
""اوّل من اسلم ابوبکر الصّدّیق یعنی سب سے پہلے اسلام قبول کرنے والے حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں"(سنن الترمذی ، رقم الحدیث: ۳۷۵۶)
فضائل و مناقب:
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے !
اِلَّا تَنۡصُرُوۡہُ فَقَدْ نَصَرَہُ اللہُ اِذْ اَخْرَجَہُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا ثَانِیَ اثْنَیۡنِ اِذْ ہُمَا فِی الْغَارِ اِذْ یَقُوۡلُ لِصَاحِبِہٖ لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللہَ مَعَنَا ۚ فَاَنۡزَلَ اللہُ سَکِیۡنَتَہٗ عَلَیۡہِ
ترجمۂ کنز الایمان:
اگر تم محبوب کی مدد نہ کرو تو بے شک اللہ نے ان کی مدد فرمائی جب کافروں کی شرارت سے باہر تشريف لے جانا ہوا صر ف دو جان سے جب وہ دونوں غار ميں تھے جب اپنے يار سے فرماتے تھے غم نہ کھا بے شک اللہ ہمارے ساتھ ہے تو اللہ نے اس پر اپنا سکينہ اتارا ۔ (پ۱۰، التوبۃ: ۴۰)
اس آیت مبارکہ سے دو مسئلے معلوم ہوئے ايک يہ کہ حضرت ابو بکر صديق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی صحابيت قطعی بحکمِ قرآنی ہے لہٰذا اس کا انکار کفر ہے ۔دوسرا يہ کہ حضرت صديق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا درجہ حضور ﷺ کے بعد سب سے بڑا ہے کہ انہيں اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کا ثانی فرمايا ۔ اس لئے حضور ﷺ نے انہيں اپنے مصلےٰ پر امام بنايا ۔ يہ بھی معلوم ہوا کہ حضور ﷺ کے بعد خلافت صديق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لئے ہے ۔ رب تعالیٰ انہيں دوسرا بنا چکا پھر انہيں تيسرا يا چوتھا کرنے والا کون ہے ۔ وہ تو قبر ميں بھی دوسرے ہيں حشر ميں بھی دوسرے ہوں گے ۔
یعنی اُس اَفضلُ الْخَلْقِ بَعْدَ الرُّسُل
ثَانِیَ اثْنَیْنِہِجرت پہ لاکھوں سلام
( حدائق بخشش )
رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا! "مجھ پر جس کسی کا احسان تھا میں نے اس کا بدلہ چکا دیا ہے، مگر ابو بکر کے مجھ پر وہ احسانات ہیں جن کا بدلہ اللہ تعالیٰ روزِ قیامت انہیں عطا فرمائےگا (سنن الترمذی، رقم الحدیث ،۳۶۸۱)
خلافتِ صدیق اکبر :
ام المؤمنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی للہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ اللہ کے حبیب ﷺ نے مرضِ وفات میں مجھے ارشاد فرمایا! "ابوبکر اور ان کے بیٹے کو بلا لاؤ تاکہ میں انہیں پروانہ (خلافت) لکھ دوں، مجھے خوف ہے کہ کوئی تمنا کرنے والا اپنی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے یہ نہ کہ دے کہ میں زیادہ حقدار ہوں کیونکہ اللہ تعالیٰ اور مسلمان ابوبکر کے علاوہ کسی سے راضی نہ ہونگے" (صحیح مسلم، رقم الحدیث: ۲۳۸۷)
سیدنا جبیر بن مطعم سے روایت ہے! کہ ایک عورت اپنی کسی حاجت کی وجہ سے بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوئی تو آپ ﷺ نے اسے دوبارہ آنے کا حکم ارشاد فرمایا، وہ کہنے لگی: یا رسول اللہ ﷺ !اگر میں دوبارہ آؤں اور آپ کو نہ پاؤں تو؟ "گویا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے دنیا سے پردہ فرمانے کا ذکر کر رہی تھی ۔سرورِ عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا! اگر تم مجھے نہ پاؤ تو ابو بکر کے پاس چلی جانا ۔ "(صحیح البخاری، رقم الحدیث: ۳۶۵۹)
افضلیتِ صدیق اکبر:
امام بخاری رحمۃ ﷲ تعالیٰ علیہ حضرت محمد بن حنفیہ صاحبزاده جناب امیر المومنین علی رضی اللہ تعالیٰ عنھما سے راویت فرماتے ہیں: قال: قلت لأبي: أيّ الناس خیرٌ بعد النبي صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم؟ قال: أبو بکر، قال: قلت: ثم من؟ قال: عمر)۔
یعنی میں نے اپنے والد ماجد امیر المومنین مولیٰ علی کرم ﷲ وجہہ سے عرض کیا: کہ رسول ﷺ کے بعد سب آدمیوں سے بہتر کون ہیں؟ ارشاد فرمایا: ""ابو بکر، میں نے عرض کیا پھر کون ؟ فرمایا: عمر "" (صحیح البخاري، رقم الحدیث،۳۶۷۱)
اہلسنت و جماعت کا اجماعی عقیدہ ہے کہ بعد انبیاء و مرسلین، تمام مخلوقتِ الہی انس و جن و ملک سے افضل حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں پھر حضرت فاروقِ اعظم پھر حضرت عثمان غنی ، پھر حضرت مولیٰ علی (رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین)(بہارِ شریعت ،ج، اول، امامت کا بیان، ص،۲۴۱)
نام و نسب:
اسمِ گرامی: عبد اللہ ، کنیت ابوبکر ، اور دو لقب زیادہ مشہور ہیں صدیق اور عتیق ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
عبد اللہ بن عثمان بن عامر بن عمرو بن کعب بن سعد بن تیم بن مرہ بن کعب ـ
حضرت کعب پر جا کر آپ رضی اللہ عنہ کا سلسلہ رسولِ اکرم ﷺ کے نسب سے جا ملتا ہے ۔ آپ کی والدہ کا نام ام الخیر سلمیٰ بنتِ صخر بن عامر بن عمرو بن کعب بن سعد بن تیم بن مرہ بن کعب ہے ۔
قبولِ اسلام:
حضرت سیدنا ابراہیم نخعی فرماتے ہیں!
""اوّل من اسلم ابوبکر الصّدّیق یعنی سب سے پہلے اسلام قبول کرنے والے حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں"(سنن الترمذی ، رقم الحدیث: ۳۷۵۶)
فضائل و مناقب:
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے !
اِلَّا تَنۡصُرُوۡہُ فَقَدْ نَصَرَہُ اللہُ اِذْ اَخْرَجَہُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا ثَانِیَ اثْنَیۡنِ اِذْ ہُمَا فِی الْغَارِ اِذْ یَقُوۡلُ لِصَاحِبِہٖ لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللہَ مَعَنَا ۚ فَاَنۡزَلَ اللہُ سَکِیۡنَتَہٗ عَلَیۡہِ
ترجمۂ کنز الایمان:
اگر تم محبوب کی مدد نہ کرو تو بے شک اللہ نے ان کی مدد فرمائی جب کافروں کی شرارت سے باہر تشريف لے جانا ہوا صر ف دو جان سے جب وہ دونوں غار ميں تھے جب اپنے يار سے فرماتے تھے غم نہ کھا بے شک اللہ ہمارے ساتھ ہے تو اللہ نے اس پر اپنا سکينہ اتارا ۔ (پ۱۰، التوبۃ: ۴۰)
اس آیت مبارکہ سے دو مسئلے معلوم ہوئے ايک يہ کہ حضرت ابو بکر صديق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی صحابيت قطعی بحکمِ قرآنی ہے لہٰذا اس کا انکار کفر ہے ۔دوسرا يہ کہ حضرت صديق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا درجہ حضور ﷺ کے بعد سب سے بڑا ہے کہ انہيں اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کا ثانی فرمايا ۔ اس لئے حضور ﷺ نے انہيں اپنے مصلےٰ پر امام بنايا ۔ يہ بھی معلوم ہوا کہ حضور ﷺ کے بعد خلافت صديق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لئے ہے ۔ رب تعالیٰ انہيں دوسرا بنا چکا پھر انہيں تيسرا يا چوتھا کرنے والا کون ہے ۔ وہ تو قبر ميں بھی دوسرے ہيں حشر ميں بھی دوسرے ہوں گے ۔
یعنی اُس اَفضلُ الْخَلْقِ بَعْدَ الرُّسُل
ثَانِیَ اثْنَیْنِہِجرت پہ لاکھوں سلام
( حدائق بخشش )
رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا! "مجھ پر جس کسی کا احسان تھا میں نے اس کا بدلہ چکا دیا ہے، مگر ابو بکر کے مجھ پر وہ احسانات ہیں جن کا بدلہ اللہ تعالیٰ روزِ قیامت انہیں عطا فرمائےگا (سنن الترمذی، رقم الحدیث ،۳۶۸۱)
خلافتِ صدیق اکبر :
ام المؤمنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی للہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ اللہ کے حبیب ﷺ نے مرضِ وفات میں مجھے ارشاد فرمایا! "ابوبکر اور ان کے بیٹے کو بلا لاؤ تاکہ میں انہیں پروانہ (خلافت) لکھ دوں، مجھے خوف ہے کہ کوئی تمنا کرنے والا اپنی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے یہ نہ کہ دے کہ میں زیادہ حقدار ہوں کیونکہ اللہ تعالیٰ اور مسلمان ابوبکر کے علاوہ کسی سے راضی نہ ہونگے" (صحیح مسلم، رقم الحدیث: ۲۳۸۷)
سیدنا جبیر بن مطعم سے روایت ہے! کہ ایک عورت اپنی کسی حاجت کی وجہ سے بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوئی تو آپ ﷺ نے اسے دوبارہ آنے کا حکم ارشاد فرمایا، وہ کہنے لگی: یا رسول اللہ ﷺ !اگر میں دوبارہ آؤں اور آپ کو نہ پاؤں تو؟ "گویا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے دنیا سے پردہ فرمانے کا ذکر کر رہی تھی ۔سرورِ عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا! اگر تم مجھے نہ پاؤ تو ابو بکر کے پاس چلی جانا ۔ "(صحیح البخاری، رقم الحدیث: ۳۶۵۹)
افضلیتِ صدیق اکبر:
امام بخاری رحمۃ ﷲ تعالیٰ علیہ حضرت محمد بن حنفیہ صاحبزاده جناب امیر المومنین علی رضی اللہ تعالیٰ عنھما سے راویت فرماتے ہیں: قال: قلت لأبي: أيّ الناس خیرٌ بعد النبي صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم؟ قال: أبو بکر، قال: قلت: ثم من؟ قال: عمر)۔
یعنی میں نے اپنے والد ماجد امیر المومنین مولیٰ علی کرم ﷲ وجہہ سے عرض کیا: کہ رسول ﷺ کے بعد سب آدمیوں سے بہتر کون ہیں؟ ارشاد فرمایا: ""ابو بکر، میں نے عرض کیا پھر کون ؟ فرمایا: عمر "" (صحیح البخاري، رقم الحدیث،۳۶۷۱)
اہلسنت و جماعت کا اجماعی عقیدہ ہے کہ بعد انبیاء و مرسلین، تمام مخلوقتِ الہی انس و جن و ملک سے افضل حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں پھر حضرت فاروقِ اعظم پھر حضرت عثمان غنی ، پھر حضرت مولیٰ علی (رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین)(بہارِ شریعت ،ج، اول، امامت کا بیان، ص،۲۴۱)
❤2
شیخین کی خلافت کا منکر کافر ہے:
شیخین کریمین کی خلافت پر صحابہ ٔکرام کا اجماع ہے لہذا انکی خلافت کا منکر دائرہ اسلام سے خارج ہے ۔ (بہارِ شریعت، ج، اول، امامت کا بیان، ص،۲۵۳)
اعلیٰ حضرت عظیم البرکت، مجدد دین و ملت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں: وجیز امام کردری مطبوعہ مصر جلد ۳ ص ۳۱۸ میں ہے " من انکرخلا فۃ ابی بکر رضی ﷲ تعالٰی عنہ فھو کافر فی الصحیح ومن انکر خلافۃ عمر رضی اللہ تعالی عنہ فھو کافر فی الاصح ۔ خلافتِ ابو بکر رضی اللہ تعالٰی عنہ کا منکر کافر ہے، یہی صحیح ہے، اور خلافتِ عمر فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ کا منکر بھی کافر ہے، یہی صحیح تر ہے" ۔ (فتاویٰ رضویہ، ج:۱۴، ص:۲۵۱)
وصال:
۲۲ جمادی الثانی۱۳ھ مطابق ۲۳ / اگست ۶۳۴ء بروز پیر ، مغرب و عشاء کے درمیان تریسٹھ سال کی عمر میں آپکا وصال ہوا ۔ آپ کی مدت خلافت دو سال ، تین ماہ اور دس دن تھی ۔
وصیت:
بوقت وصال حضرتِ سیِّدُنا صِدِّیقِ اَکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے وصیت فرمائی کہ میرے جنازے کو میرے حبیبِ ﷺ کے روضۂ اَنور کے دَر کے سامنے لاکر رکھ دینا اور اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا رَسُوْلَ اللہ کہہ کر عرض کرنا! "یارسولَ اللہ ﷺ ابو بکر آستانۂ عالیہ پر حاضِر ہے ۔ اگر دروازہ خود بخود کھل جائے تو اندر لے جانا ورنہ مسلمانوں کے قبرستان جنت البقیع میں دفن کر دینا۔ جنازۂ مبارکہ کو حسبِ وَصیت جب روضۂ اَقدس کے سامنے رکھا گیا اور عرض کیا گیا: اَلسَّلامُ عَلَیْکَ یَا رَسُوْلَ اللہ! ابو بکر حاضِر ہے ۔ یہ عرض کرتے ہی دروازے کا تالا خود بخودکھل گیا اور آواز آنے لگی: اَدْخِلُوا الْحَبِیْبَ اِلَی الْحَبِیْبِ فَاِنَّ الْحَبِیْبَ اِلَی الْحَبِیْبِ مُشْتَاقٌ یعنی محبوب کو محبوب سے مِلا دو کہ محبوب کو محبوب کا اِشتِیاق ہے ۔ (تفسیر کبیر ج۱۰ ص۱۶۷ دار احیاء التراث العربی بیروت)
https://scholars.pk/ur/scholar/1st-caliph-of-islam-hazrat-abu-bakr-siddique
شیخین کریمین کی خلافت پر صحابہ ٔکرام کا اجماع ہے لہذا انکی خلافت کا منکر دائرہ اسلام سے خارج ہے ۔ (بہارِ شریعت، ج، اول، امامت کا بیان، ص،۲۵۳)
اعلیٰ حضرت عظیم البرکت، مجدد دین و ملت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں: وجیز امام کردری مطبوعہ مصر جلد ۳ ص ۳۱۸ میں ہے " من انکرخلا فۃ ابی بکر رضی ﷲ تعالٰی عنہ فھو کافر فی الصحیح ومن انکر خلافۃ عمر رضی اللہ تعالی عنہ فھو کافر فی الاصح ۔ خلافتِ ابو بکر رضی اللہ تعالٰی عنہ کا منکر کافر ہے، یہی صحیح ہے، اور خلافتِ عمر فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ کا منکر بھی کافر ہے، یہی صحیح تر ہے" ۔ (فتاویٰ رضویہ، ج:۱۴، ص:۲۵۱)
وصال:
۲۲ جمادی الثانی۱۳ھ مطابق ۲۳ / اگست ۶۳۴ء بروز پیر ، مغرب و عشاء کے درمیان تریسٹھ سال کی عمر میں آپکا وصال ہوا ۔ آپ کی مدت خلافت دو سال ، تین ماہ اور دس دن تھی ۔
وصیت:
بوقت وصال حضرتِ سیِّدُنا صِدِّیقِ اَکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے وصیت فرمائی کہ میرے جنازے کو میرے حبیبِ ﷺ کے روضۂ اَنور کے دَر کے سامنے لاکر رکھ دینا اور اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا رَسُوْلَ اللہ کہہ کر عرض کرنا! "یارسولَ اللہ ﷺ ابو بکر آستانۂ عالیہ پر حاضِر ہے ۔ اگر دروازہ خود بخود کھل جائے تو اندر لے جانا ورنہ مسلمانوں کے قبرستان جنت البقیع میں دفن کر دینا۔ جنازۂ مبارکہ کو حسبِ وَصیت جب روضۂ اَقدس کے سامنے رکھا گیا اور عرض کیا گیا: اَلسَّلامُ عَلَیْکَ یَا رَسُوْلَ اللہ! ابو بکر حاضِر ہے ۔ یہ عرض کرتے ہی دروازے کا تالا خود بخودکھل گیا اور آواز آنے لگی: اَدْخِلُوا الْحَبِیْبَ اِلَی الْحَبِیْبِ فَاِنَّ الْحَبِیْبَ اِلَی الْحَبِیْبِ مُشْتَاقٌ یعنی محبوب کو محبوب سے مِلا دو کہ محبوب کو محبوب کا اِشتِیاق ہے ۔ (تفسیر کبیر ج۱۰ ص۱۶۷ دار احیاء التراث العربی بیروت)
https://scholars.pk/ur/scholar/1st-caliph-of-islam-hazrat-abu-bakr-siddique
scholars.pk
1st Caliph of Islam Hazrat Abu Bakr Siddique
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
حضرت ابو بکر صدیق رضی الله تعالیٰ عنه نام و نسب: اسمِ گرامی: عبد اللہ ، کنیت ابوبکر ، اور دو لقب زیادہ مشہور ہیں صدیق اور عتیق ۔ سلسلۂ نسب اس طرح ہے: عبد اللہ بن عثمان بن عامر بن عمرو بن کعب بن سعد بن تیم بن مرہ بن کعب ـ حضرت کعب پر جا کر آپ رضی اللہ عنہ…
خلیفۂ اول ، افضل البشر بعد الانبیاء بالتحقیق ، امیر المؤمنینن حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ تبارک و تعالیٰ عنہ
https://t.me/islaamic_Knowledge/43661
یوم عرس 22 جمادی الاخری 13ھ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
شان و عظمت خلفائے راشدین↶
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/8401
شان و عظمت ابو بکر صدیق↶
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/8565
خلفاء | اہلبیت | صحابہ | کربلا↶
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/14068
https://t.me/islaamic_Knowledge/43661
یوم عرس 22 جمادی الاخری 13ھ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
شان و عظمت خلفائے راشدین↶
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/8401
شان و عظمت ابو بکر صدیق↶
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/8565
خلفاء | اہلبیت | صحابہ | کربلا↶
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/14068
❤2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
21-06-1445 ᴴ | 04-01-2024 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
22-06-1445 ᴴ | 05-01-2024 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1