Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
ادب پہلا قرینہ ہے محبت کے قرینوں میں
,,مدینے میں کھڑے انجن کی حقیقت,,
خلافت عثمانیہ کے 34ویں خلیفہ عبدالحمید ثانی اپنے وقت کے بہت بڑے شاعر اور عاشق رسول گزرے ہیں...
شہر رسولِ معظم " لَآ أُقْسِمُ بِهَٰذَا ٱلْبَلَدِ" کا ادب کرنے اور "لَا تَرْفَعُوٓا۟ أَصْوَٰتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ ٱلنَّبِىِّ" کی بولتی ہوئی سچی تصویر تھے....
آپ کی طبیعت میں عشق رسول کُوٹ کُوٹ کر بھرا ہوا تھا....
شہر رسول مدینہ شریف کا ادب اس قدر ملحوظِ خاطر رکھتے تھے کہ وہ بے جان چیزوں کی آواز پر بھی غضبناک ہوجاتے تھے..
آپ کے دورِ خلافت میں استنبول سے مدینہ شریف جانے کے لئے ٹرین شروع کی گئی....
آج بھی وہ لائن مدینہ شریف میں بچھی ہوئی ہے اور ترکی ریوے اسٹیشن کے نام سے مشہور ہے....
اُس زمانے میں ٹرین کا انجن کوئلہ کا ہوا کرتا تھا، مکمل تیاریاں ہونے کے بعد مدینہ شریف میں ترکی اسٹیشن پر سلطان عبدالحمید ثانی کو اوپنگ (افتتاح) کے لیے بلایا گیا تو
دیکھا کہ کوئلہ والا انجن بھڑ بھڑ آواز کرنے لگا تو
سلطان عبدالحمید غضبناک ہوگئے اور کوڑا اٹھاکر انجن کو مارنا شروع کیے اور کہا شہرِ رسول میں اتنی بلند آواز ؟
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے مدینہ میں اتنی تیز آواز تیری....؟
*ادب گاہسیت زیر آسماں از عرش نازک تر*
*نفس گم کردہ می آید جنیدؓ و بایزیدؓ اینجا*
100 سال کا عرصہ ہونے کو آیا، اس وقت سے جو انجن بند ہوا ہے
وہ آج تک ایسے ہی مدینہ شریف میں رکھا ہوا ہے.جو ترکی اسٹیشن سے مشہور ہے،
اس قدر ادب کہ وہ انجن کی بلند آواز کو بھی شہرِ رسول میں پسند نہیں کرتے تھے تو سوچو
وہ اپنے محبوب سے کس قدر محبت فرماتے ہوں گے..!!
یہ عشق تھا یہ ادب تھا جو ان کے سینوں میں موجزن تھا،
اللہ تعالی ہمیں بھی ایسا عشق و ادب اور شہر رسول کی باادب حاضری نصیب کرے..آمین.
(محب گرامی مولانا جمال اختر
صدف کی وال سے کاپی)
➻═══════════➻
TTS AʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
,,مدینے میں کھڑے انجن کی حقیقت,,
خلافت عثمانیہ کے 34ویں خلیفہ عبدالحمید ثانی اپنے وقت کے بہت بڑے شاعر اور عاشق رسول گزرے ہیں...
شہر رسولِ معظم " لَآ أُقْسِمُ بِهَٰذَا ٱلْبَلَدِ" کا ادب کرنے اور "لَا تَرْفَعُوٓا۟ أَصْوَٰتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ ٱلنَّبِىِّ" کی بولتی ہوئی سچی تصویر تھے....
آپ کی طبیعت میں عشق رسول کُوٹ کُوٹ کر بھرا ہوا تھا....
شہر رسول مدینہ شریف کا ادب اس قدر ملحوظِ خاطر رکھتے تھے کہ وہ بے جان چیزوں کی آواز پر بھی غضبناک ہوجاتے تھے..
آپ کے دورِ خلافت میں استنبول سے مدینہ شریف جانے کے لئے ٹرین شروع کی گئی....
آج بھی وہ لائن مدینہ شریف میں بچھی ہوئی ہے اور ترکی ریوے اسٹیشن کے نام سے مشہور ہے....
اُس زمانے میں ٹرین کا انجن کوئلہ کا ہوا کرتا تھا، مکمل تیاریاں ہونے کے بعد مدینہ شریف میں ترکی اسٹیشن پر سلطان عبدالحمید ثانی کو اوپنگ (افتتاح) کے لیے بلایا گیا تو
دیکھا کہ کوئلہ والا انجن بھڑ بھڑ آواز کرنے لگا تو
سلطان عبدالحمید غضبناک ہوگئے اور کوڑا اٹھاکر انجن کو مارنا شروع کیے اور کہا شہرِ رسول میں اتنی بلند آواز ؟
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے مدینہ میں اتنی تیز آواز تیری....؟
*ادب گاہسیت زیر آسماں از عرش نازک تر*
*نفس گم کردہ می آید جنیدؓ و بایزیدؓ اینجا*
100 سال کا عرصہ ہونے کو آیا، اس وقت سے جو انجن بند ہوا ہے
وہ آج تک ایسے ہی مدینہ شریف میں رکھا ہوا ہے.جو ترکی اسٹیشن سے مشہور ہے،
اس قدر ادب کہ وہ انجن کی بلند آواز کو بھی شہرِ رسول میں پسند نہیں کرتے تھے تو سوچو
وہ اپنے محبوب سے کس قدر محبت فرماتے ہوں گے..!!
یہ عشق تھا یہ ادب تھا جو ان کے سینوں میں موجزن تھا،
اللہ تعالی ہمیں بھی ایسا عشق و ادب اور شہر رسول کی باادب حاضری نصیب کرے..آمین.
(محب گرامی مولانا جمال اختر
صدف کی وال سے کاپی)
➻═══════════➻
TTS AʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
📖 *فیضان خلاصہ تراویح*📖
✍🏻 *ابو بنتین محمد فراز عطاری مدنی*
🌏 *پارہ 15،سُبْحٰنَ الَّذِیْۤ*
🌳 *سورہ بنی اسرائیل*
اس سورت میں 12 رکوع اور 111 آیتیں ہیں۔
س سورۂ مبارکہ کے چند نام ہیں
◀️ سورۂ اِسراء۔ اسراء کا معنی ہے رات کوجانا، اور اس سورت کی پہلی آیت میں تاجدارِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کے رات کے مختصر حصے میں مکۂ مکرمہ سے بیتُ المقدس جانے کا ذکر ہے اس مناسبت سے اسے’’ سورۂ اِسراء ‘‘ کہتے ہیں ۔
◀️ سورۂ سبحان۔ سبحان کا معنی ہے پاک ہونا، اور اس سور ت کی ابتداء لفظِ ’’سبحان ‘‘ سے کی گئی اس مناسبت سے اسے’’ سورۂ سبحان ‘‘کہتے ہیں ۔
◀️ بنی اسرائیل۔ اسرائیل کا معنی ہے اللہ پاک کا بندہ، یہ حضرت یعقوب علیہ السلام کا لقب ہے اور آپ علیہ السلام کی اولاد کو ’’بنی اسرائیل ‘‘کہتے ہیں ، اس سورت میں بنی اسرائیل کے عروج و زوال اور عزت و ذلت کے وہ اَحوال بیان کئے گئے ہیں جو دیگر سورتوں میں بیان نہیں ہوئے، اس مناسبت سے اس سورت کو’’بنی اسرائیل‘‘ کہتے ہیں اور یہی اس کا مشہور نام ہے۔
☄️ معراج شریف کے بارے میں سینکڑوں اَحادیث ہیں جن کا ایک مختصر خلاصہ یہاں پیش کیا جاتا ہے۔ چنانچہ معراج کی رات حضرت جبریل علیہ السلام بارگاہِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج کی خوشخبری سنائی اورآپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقدس سینہ کھول کر اسے آبِ زمزم سے دھویا، پھر اسے حکمت و ایمان سے بھر دیا۔ اس کے بعدتاجدارِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں براق پیش کی اور انتہائی اِکرام اور احترام کے ساتھ اس پر سوار کرکے مسجد ِاقصیٰ کی طرف لے گئے۔ بیتُ المقدس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام اَنبیاء و مُرسَلین علیہم السلام کی امامت فرمائی ۔پھر وہاں سے آسمانوں کی سیر کی طرف متوجہ ہوئے۔ حضرت جبریل امین علیہ السلام نے باری باری تمام آسمانوں کے دروازے کھلوائے، انبیاء کرام علیھم السلام حضور ِاقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت و ملاقات سے مشرف ہوئے ، انہوں نے حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت و تکریم کی اور تشریف آوری کی مبارک بادیں دیں ،حتّٰی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک آسمان سے دوسرے آسمان کی طرف سیر فرماتے اور وہاں کے عجائبات دیکھتے ہوئے تمام مُقَرَّبین کی آخری منزل سِدرۃُ المنتہیٰ تک پہنچے۔ اس جگہ سے آگے بڑھنے کی چونکہ کسی مقرب فرشتے کو بھی مجال نہیں ہے اس لئے حضرت جبریل امین علیہ السلام آگے ساتھ جانے سے معذرت کرکے وہیں رہ گئے ، پھر مقامِ قربِ خاص میں نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ترقیاں فرمائیں اور اس قربِ اعلیٰ میں پہنچے کہ جس کے تَصَوُّر تک مخلوق کے اَفکار و خیالات بھی پرواز سے عاجز ہیں ۔ وہاں رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر خاص رحمت و کرم ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم انعاماتِ الٰہیہ اور مخصوص نعمتوں سے سرفراز فرمائے گئے، زمین و آسمان کی بادشاہت اور ان سے افضل و برتر علوم پائے ۔ اُمت کے لئے نمازیں فرض ہوئیں ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض گناہگاروں کی شفاعت فرمائی، جنت و دوزخ کی سیر کی اور پھر دنیا میں اپنی جگہ واپس تشریف لے آئے۔ جب سَرورِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس واقعے کی خبریں دیں تو کفار نے اس پر بہت واویلا کیا اور حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم سے بیتُ المقدس کی عمارت کا حال اور ملک ِشام جانے والے قافلوں کی کَیفِیَّتیں دریافت کرنے لگ گئے ۔حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سب کچھ بتا دیا اور قافلوں کے جو اَحوال سیّد المرسَلین صلی اللہ علیہ وسلم نے بتائے تھے ، قافلوں کے آنے پر اُن سب کی تصدیق ہوئی۔
‼️ بنی اسرائیل کے بارے میں بیان کیا گیا کہ اللہ پاک نے انہیں تورات میں یہ غیب کی خبر دی تھی کہ تم زمین میں یعنی سرزمینِ شام میں دو مرتبہ فساد کرو گے ۔یہ غیب کی خبر پوری ہوئی اور جس طرح اللہ پاک نے فرمایا تھا ویسے ہی وقوع میں آیا کہ بنی اسرائیل نے فساد کیا، ظلم و بغاوت پر اترے اور اس کا انجام دیکھنے کے بعد پھر سنبھلے لیکن پھر دوبارہ فساد میں مبتلا ہوگئے اور ہر مرتبہ فساد کے نتیجے میں ذلیل و رسوا ہوئے۔آگے اس کی تفصیل بیان ہوئی کہ جب دو مرتبہ کے فساد میں سے پہلی مرتبہ کے فساد کا وقت آیا تو فساد کی صورت یہ بنی کہ انہوں نے توریت کے احکام کی مخالفت کی اور گناہ کے کاموں میں پڑگئے اور حرام چیزوں کے مُرتکب ہونے لگے حتّٰی کہ انہوں نے اللہ پاک کے نبی کو شہید کیا اور جب بنی اسرائیل نے یہ فساد کیا تو اللہ پاک نے ان پر بہت زور وقوت والے لشکروں کو مُسَلَّط کردیا تاکہ وہ انہیں لوٹیں اور انہیں قتل کریں ، قید کریں (اور ذلیل و رسوا کریں ۔) چنانچہ ان مسلط کئے جانے والے لشکروں نے بنی اسرائیل کے علماء کو قتل کیا، توریت کو جلایا، مسجد اقصیٰ کو ویران کیا اور ستر ہزار افراد کو گرفتار کیا۔ یہ مسلط کئے جانے والے لشکر کون سے تھے ، اس بار
✍🏻 *ابو بنتین محمد فراز عطاری مدنی*
🌏 *پارہ 15،سُبْحٰنَ الَّذِیْۤ*
🌳 *سورہ بنی اسرائیل*
اس سورت میں 12 رکوع اور 111 آیتیں ہیں۔
س سورۂ مبارکہ کے چند نام ہیں
◀️ سورۂ اِسراء۔ اسراء کا معنی ہے رات کوجانا، اور اس سورت کی پہلی آیت میں تاجدارِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کے رات کے مختصر حصے میں مکۂ مکرمہ سے بیتُ المقدس جانے کا ذکر ہے اس مناسبت سے اسے’’ سورۂ اِسراء ‘‘ کہتے ہیں ۔
◀️ سورۂ سبحان۔ سبحان کا معنی ہے پاک ہونا، اور اس سور ت کی ابتداء لفظِ ’’سبحان ‘‘ سے کی گئی اس مناسبت سے اسے’’ سورۂ سبحان ‘‘کہتے ہیں ۔
◀️ بنی اسرائیل۔ اسرائیل کا معنی ہے اللہ پاک کا بندہ، یہ حضرت یعقوب علیہ السلام کا لقب ہے اور آپ علیہ السلام کی اولاد کو ’’بنی اسرائیل ‘‘کہتے ہیں ، اس سورت میں بنی اسرائیل کے عروج و زوال اور عزت و ذلت کے وہ اَحوال بیان کئے گئے ہیں جو دیگر سورتوں میں بیان نہیں ہوئے، اس مناسبت سے اس سورت کو’’بنی اسرائیل‘‘ کہتے ہیں اور یہی اس کا مشہور نام ہے۔
☄️ معراج شریف کے بارے میں سینکڑوں اَحادیث ہیں جن کا ایک مختصر خلاصہ یہاں پیش کیا جاتا ہے۔ چنانچہ معراج کی رات حضرت جبریل علیہ السلام بارگاہِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج کی خوشخبری سنائی اورآپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقدس سینہ کھول کر اسے آبِ زمزم سے دھویا، پھر اسے حکمت و ایمان سے بھر دیا۔ اس کے بعدتاجدارِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں براق پیش کی اور انتہائی اِکرام اور احترام کے ساتھ اس پر سوار کرکے مسجد ِاقصیٰ کی طرف لے گئے۔ بیتُ المقدس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام اَنبیاء و مُرسَلین علیہم السلام کی امامت فرمائی ۔پھر وہاں سے آسمانوں کی سیر کی طرف متوجہ ہوئے۔ حضرت جبریل امین علیہ السلام نے باری باری تمام آسمانوں کے دروازے کھلوائے، انبیاء کرام علیھم السلام حضور ِاقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت و ملاقات سے مشرف ہوئے ، انہوں نے حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت و تکریم کی اور تشریف آوری کی مبارک بادیں دیں ،حتّٰی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک آسمان سے دوسرے آسمان کی طرف سیر فرماتے اور وہاں کے عجائبات دیکھتے ہوئے تمام مُقَرَّبین کی آخری منزل سِدرۃُ المنتہیٰ تک پہنچے۔ اس جگہ سے آگے بڑھنے کی چونکہ کسی مقرب فرشتے کو بھی مجال نہیں ہے اس لئے حضرت جبریل امین علیہ السلام آگے ساتھ جانے سے معذرت کرکے وہیں رہ گئے ، پھر مقامِ قربِ خاص میں نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ترقیاں فرمائیں اور اس قربِ اعلیٰ میں پہنچے کہ جس کے تَصَوُّر تک مخلوق کے اَفکار و خیالات بھی پرواز سے عاجز ہیں ۔ وہاں رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر خاص رحمت و کرم ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم انعاماتِ الٰہیہ اور مخصوص نعمتوں سے سرفراز فرمائے گئے، زمین و آسمان کی بادشاہت اور ان سے افضل و برتر علوم پائے ۔ اُمت کے لئے نمازیں فرض ہوئیں ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض گناہگاروں کی شفاعت فرمائی، جنت و دوزخ کی سیر کی اور پھر دنیا میں اپنی جگہ واپس تشریف لے آئے۔ جب سَرورِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس واقعے کی خبریں دیں تو کفار نے اس پر بہت واویلا کیا اور حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم سے بیتُ المقدس کی عمارت کا حال اور ملک ِشام جانے والے قافلوں کی کَیفِیَّتیں دریافت کرنے لگ گئے ۔حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سب کچھ بتا دیا اور قافلوں کے جو اَحوال سیّد المرسَلین صلی اللہ علیہ وسلم نے بتائے تھے ، قافلوں کے آنے پر اُن سب کی تصدیق ہوئی۔
‼️ بنی اسرائیل کے بارے میں بیان کیا گیا کہ اللہ پاک نے انہیں تورات میں یہ غیب کی خبر دی تھی کہ تم زمین میں یعنی سرزمینِ شام میں دو مرتبہ فساد کرو گے ۔یہ غیب کی خبر پوری ہوئی اور جس طرح اللہ پاک نے فرمایا تھا ویسے ہی وقوع میں آیا کہ بنی اسرائیل نے فساد کیا، ظلم و بغاوت پر اترے اور اس کا انجام دیکھنے کے بعد پھر سنبھلے لیکن پھر دوبارہ فساد میں مبتلا ہوگئے اور ہر مرتبہ فساد کے نتیجے میں ذلیل و رسوا ہوئے۔آگے اس کی تفصیل بیان ہوئی کہ جب دو مرتبہ کے فساد میں سے پہلی مرتبہ کے فساد کا وقت آیا تو فساد کی صورت یہ بنی کہ انہوں نے توریت کے احکام کی مخالفت کی اور گناہ کے کاموں میں پڑگئے اور حرام چیزوں کے مُرتکب ہونے لگے حتّٰی کہ انہوں نے اللہ پاک کے نبی کو شہید کیا اور جب بنی اسرائیل نے یہ فساد کیا تو اللہ پاک نے ان پر بہت زور وقوت والے لشکروں کو مُسَلَّط کردیا تاکہ وہ انہیں لوٹیں اور انہیں قتل کریں ، قید کریں (اور ذلیل و رسوا کریں ۔) چنانچہ ان مسلط کئے جانے والے لشکروں نے بنی اسرائیل کے علماء کو قتل کیا، توریت کو جلایا، مسجد اقصیٰ کو ویران کیا اور ستر ہزار افراد کو گرفتار کیا۔ یہ مسلط کئے جانے والے لشکر کون سے تھے ، اس بار
ے میں مختلف اَقوال ہیں البتہ ان میں سے جس نے بنی اسرائیل کو بدترین طریقے سے ہزیمت سے دوچار کیا وہ بخت نصر تھا جس نے انہیں تہس نہس کرکے چھوڑا اور یوں وعدہ الٰہی پورا ہوا۔
📝 پھر بتایا گیا کہ ہم نے ہر انسان کا اعمال نامہ اسکے گلے میں لٹکا دیا ہے یعنی اللہ کی قضاء اور قدر جو طے ہے وہ ہو کر رہے گی اور قیامت کے دن انکا اعمال نامہ ایک کھلی ہوئی کتاب کی صورت میں ہوگا، بندے سے کہا جاۓ گا اعمال نامہ پڑھو، آج تم ہی اپنا حساب کرنے کے لئے کافی ہو، جس نے ہدایت کو اختیار کیا اسکا فائدہ اسی کو پہنچے گا اور جس نے گمراہی کو اختیار کیا اسکا وبال بھی اسی پر آۓ گا اور کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی کا بوجھ نہیں اٹھاۓ گا اور ہم اس وقت تک عذاب دینے والے نہیں ہیں جب تک حجّت کو مکمل نہ کردیں یعنی جب تک رسول کو نہ بھیج دیں۔
⚖️ کوئی جان کسی جان کا بوجھ نہیں اٹھاۓ گی یعنی کوئی کافر کسی کافر کے کام نہیں آۓ گا، لیکن مسلمانوں کے لیے قیامت کے دن شفاعت ہے، مسلمان ایک دوسرے کی شفاعت کردیں گے۔
🌹اس کے بعد والی 16 آیات میں اللہ پاک نے تقریباً 25کاموں کا حکم دیا ہے ۔ آیت کے ابتدائی حصے کا معنی یہ ہے کہ تمہارے رب نے حکم فرمایا کہ تم اللہ پاک کی عبادت میں اس کے ساتھ کسی اور کو شریک نہ ٹھہراؤ اور تمہیں جو کام کرنے کا اللہ پاک نے حکم دیا انہیں کرو اور جن کاموں سے منع کیا ہے ان سے بچو۔ اس میں سیّد المرسَلین صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کا اقرار، ان سے محبت اور ان کی تعظیم کرنا بھی داخل ہیں
🌼 اپنی عبادت کا حکم دینے کے بعد اس کے ساتھ ہی ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کا حکم دیا ،اس میں حکمت یہ ہے کہ انسان کے وجود کا حقیقی سبب اللہ پاک کی تخلیق اور اِیجاد ہے جبکہ ظاہری سبب اس کے ماں باپ ہیں ا س لئے اللہ پاک نے پہلے انسانی وجود کے حقیقی سبب کی تعظیم کا حکم دیا،پھر اس کے ساتھ ظاہری سبب کی تعظیم کا حکم دیا ۔ آیت کا معنی یہ ہے کہ تمہارے رب نے حکم فرمایا کہ تم اپنے والدین کے ساتھ انتہائی اچھے طریقے سے نیک سلوک کرو کیونکہ جس طرح والدین کا تم پر احسان بہت عظیم ہے تو تم پر لازم ہے کہ تم بھی ان کے ساتھ اسی طرح نیک سلوک کرو۔مزید حکم دیا کہ والدین کے ساتھ نرمی اور عاجزی کے ساتھ پیش آؤ اور ہر حال میں ان کے ساتھ شفقت و محبت کا برتاؤ کرو کیونکہ اُنہوں نے تیری مجبوری کے وقت تجھے محبت سے پرورش کیا تھا اور جو چیز اُنہیں درکار ہو وہ اُن پر خرچ کرنے میں دریغ نہ کرو۔
حقوقِ والدین کے بیان کے آخر میں فرمایا کہ ان کیلئے دعا کرو ۔گویا یہ فرمایا گیا کہ دنیا میں بہتر سے بہترین سلوک اور خدمت میں کتنا بھی مبالغہ کرلیا جائے لیکن والدین کے احسان کا حق ادا نہیں ہوتا، اس لئے بندے کو چاہیے کہ بارگاہِ الٰہی میں اُن پر فضل و رحمت فرمانے کی دعا کرے اور عرض کرے کہ یارب! میری خدمتیں اُن کے احسان کی جزا نہیں ہوسکتیں تو اُن پر کرم کرکہ اُن کے احسان کا بدلہ ہو۔
❌ پھر روزی کی کمی کے ڈر سے اولاد کو قتل کرنے كی مذمت کرتے ہوئے فرمایا کے تمہاری روزی بھی اللہ کے ذِمّے کرم پر ہے اور تمہاری اولاد کی روزی بھی اللہ ہی کے ذِمّے کرم پر ہے۔پھر گناہوں سے بچنے کا حکم دیا گیا کہ زنا سے بچو، ناحق قتل نہ کرو، یتیم کا مال ناحق نہ کھاؤ،عہد شکنی نہ کرو، ناپ تول میں کمی نہ کرو، بغیر تحقیق کے کسی بات کو نقل نہ کرو، زمین پر متکبرانہ انداز میں نہ چلو، یہ سب برائی کے ناپسندیدہ کام ہیں،ہم ہر بات مختلف انداز میں بیان فرماتے ہیں، تاکہ یہ لوگ نصیحت حاصل کریں، مگر یہ لوگ حق سے اور بھی دور ہوتے چلے جارہے ہیں،
🌹 پھر فرمایا گیا کہ آسمان وزمین کی چیز اللہ کی تسبیح بیان کرتی ہے لیکن تم ان کی تسبح کو نہیں سمجھتے۔
🕌 آیت 78 میں فرمایا نماز قائم رکھو سورج ڈھلنے سے رات کے اندھیرے تک ۔ اس دورانیے میں چار نمازیں آگئیں: ظہر، عصر، مغرب، عشاء، کیونکہ یہ چاروں نمازیں سورج ڈھلنے سے رات گئے تک پڑھی جاتی ہیں ۔ مزید فرمایا کہ صبح کا قرآن قائم رکھو، اس سے نماز ِفجر مراد ہے ،ساتھ ہی قرآن پاک کی تلاوت کرنے ، تہجد کا اہتمام کرنے کی ترغیب ارشاد فرمائی گئی۔
🌹 انہی آیات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مقام محمود عطا کیے جانے کی بشارت ہے، پھر بتایا گیا کہ حق آنے پر باطل زائل ہو جایا کرتا ہے،قرآن کریم کو مومنین کے لیے شفاء و رحمت فرمایا گیا۔
🌊 آگے فرمایا کہ ساری دنیا کے انسان و جِنّات مل کر بھی قرآن کریم جیسا کلام بنانے پر بھی قادر نہیں ہوسکتے،پھر موسی علیہ السلام کا فرعون کے ساتھ ہونے والا مکالمہ ذکر کیا گیا جس کو پہلے بھی بیان کیا گیا، اور انہیں عطا کی جانے والی نشانیوں کا مختصرا تذکرہ کیا گیا۔پھر مشرکین مکہ جو اعتراض کرتے تھے اس کا جواب دیا گیا، ایک بار سرکارِ دوعالَم صلی اللہ علیہ وسلم نے طویل سجدہ کیا اور اپنے سجدہ میں یااللہ یارحمن فرماتے رہے۔ابوجہل نے سنا تو کہنے لگا کہ محمد (صلی اللہ عل
📝 پھر بتایا گیا کہ ہم نے ہر انسان کا اعمال نامہ اسکے گلے میں لٹکا دیا ہے یعنی اللہ کی قضاء اور قدر جو طے ہے وہ ہو کر رہے گی اور قیامت کے دن انکا اعمال نامہ ایک کھلی ہوئی کتاب کی صورت میں ہوگا، بندے سے کہا جاۓ گا اعمال نامہ پڑھو، آج تم ہی اپنا حساب کرنے کے لئے کافی ہو، جس نے ہدایت کو اختیار کیا اسکا فائدہ اسی کو پہنچے گا اور جس نے گمراہی کو اختیار کیا اسکا وبال بھی اسی پر آۓ گا اور کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی کا بوجھ نہیں اٹھاۓ گا اور ہم اس وقت تک عذاب دینے والے نہیں ہیں جب تک حجّت کو مکمل نہ کردیں یعنی جب تک رسول کو نہ بھیج دیں۔
⚖️ کوئی جان کسی جان کا بوجھ نہیں اٹھاۓ گی یعنی کوئی کافر کسی کافر کے کام نہیں آۓ گا، لیکن مسلمانوں کے لیے قیامت کے دن شفاعت ہے، مسلمان ایک دوسرے کی شفاعت کردیں گے۔
🌹اس کے بعد والی 16 آیات میں اللہ پاک نے تقریباً 25کاموں کا حکم دیا ہے ۔ آیت کے ابتدائی حصے کا معنی یہ ہے کہ تمہارے رب نے حکم فرمایا کہ تم اللہ پاک کی عبادت میں اس کے ساتھ کسی اور کو شریک نہ ٹھہراؤ اور تمہیں جو کام کرنے کا اللہ پاک نے حکم دیا انہیں کرو اور جن کاموں سے منع کیا ہے ان سے بچو۔ اس میں سیّد المرسَلین صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کا اقرار، ان سے محبت اور ان کی تعظیم کرنا بھی داخل ہیں
🌼 اپنی عبادت کا حکم دینے کے بعد اس کے ساتھ ہی ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کا حکم دیا ،اس میں حکمت یہ ہے کہ انسان کے وجود کا حقیقی سبب اللہ پاک کی تخلیق اور اِیجاد ہے جبکہ ظاہری سبب اس کے ماں باپ ہیں ا س لئے اللہ پاک نے پہلے انسانی وجود کے حقیقی سبب کی تعظیم کا حکم دیا،پھر اس کے ساتھ ظاہری سبب کی تعظیم کا حکم دیا ۔ آیت کا معنی یہ ہے کہ تمہارے رب نے حکم فرمایا کہ تم اپنے والدین کے ساتھ انتہائی اچھے طریقے سے نیک سلوک کرو کیونکہ جس طرح والدین کا تم پر احسان بہت عظیم ہے تو تم پر لازم ہے کہ تم بھی ان کے ساتھ اسی طرح نیک سلوک کرو۔مزید حکم دیا کہ والدین کے ساتھ نرمی اور عاجزی کے ساتھ پیش آؤ اور ہر حال میں ان کے ساتھ شفقت و محبت کا برتاؤ کرو کیونکہ اُنہوں نے تیری مجبوری کے وقت تجھے محبت سے پرورش کیا تھا اور جو چیز اُنہیں درکار ہو وہ اُن پر خرچ کرنے میں دریغ نہ کرو۔
حقوقِ والدین کے بیان کے آخر میں فرمایا کہ ان کیلئے دعا کرو ۔گویا یہ فرمایا گیا کہ دنیا میں بہتر سے بہترین سلوک اور خدمت میں کتنا بھی مبالغہ کرلیا جائے لیکن والدین کے احسان کا حق ادا نہیں ہوتا، اس لئے بندے کو چاہیے کہ بارگاہِ الٰہی میں اُن پر فضل و رحمت فرمانے کی دعا کرے اور عرض کرے کہ یارب! میری خدمتیں اُن کے احسان کی جزا نہیں ہوسکتیں تو اُن پر کرم کرکہ اُن کے احسان کا بدلہ ہو۔
❌ پھر روزی کی کمی کے ڈر سے اولاد کو قتل کرنے كی مذمت کرتے ہوئے فرمایا کے تمہاری روزی بھی اللہ کے ذِمّے کرم پر ہے اور تمہاری اولاد کی روزی بھی اللہ ہی کے ذِمّے کرم پر ہے۔پھر گناہوں سے بچنے کا حکم دیا گیا کہ زنا سے بچو، ناحق قتل نہ کرو، یتیم کا مال ناحق نہ کھاؤ،عہد شکنی نہ کرو، ناپ تول میں کمی نہ کرو، بغیر تحقیق کے کسی بات کو نقل نہ کرو، زمین پر متکبرانہ انداز میں نہ چلو، یہ سب برائی کے ناپسندیدہ کام ہیں،ہم ہر بات مختلف انداز میں بیان فرماتے ہیں، تاکہ یہ لوگ نصیحت حاصل کریں، مگر یہ لوگ حق سے اور بھی دور ہوتے چلے جارہے ہیں،
🌹 پھر فرمایا گیا کہ آسمان وزمین کی چیز اللہ کی تسبیح بیان کرتی ہے لیکن تم ان کی تسبح کو نہیں سمجھتے۔
🕌 آیت 78 میں فرمایا نماز قائم رکھو سورج ڈھلنے سے رات کے اندھیرے تک ۔ اس دورانیے میں چار نمازیں آگئیں: ظہر، عصر، مغرب، عشاء، کیونکہ یہ چاروں نمازیں سورج ڈھلنے سے رات گئے تک پڑھی جاتی ہیں ۔ مزید فرمایا کہ صبح کا قرآن قائم رکھو، اس سے نماز ِفجر مراد ہے ،ساتھ ہی قرآن پاک کی تلاوت کرنے ، تہجد کا اہتمام کرنے کی ترغیب ارشاد فرمائی گئی۔
🌹 انہی آیات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مقام محمود عطا کیے جانے کی بشارت ہے، پھر بتایا گیا کہ حق آنے پر باطل زائل ہو جایا کرتا ہے،قرآن کریم کو مومنین کے لیے شفاء و رحمت فرمایا گیا۔
🌊 آگے فرمایا کہ ساری دنیا کے انسان و جِنّات مل کر بھی قرآن کریم جیسا کلام بنانے پر بھی قادر نہیں ہوسکتے،پھر موسی علیہ السلام کا فرعون کے ساتھ ہونے والا مکالمہ ذکر کیا گیا جس کو پہلے بھی بیان کیا گیا، اور انہیں عطا کی جانے والی نشانیوں کا مختصرا تذکرہ کیا گیا۔پھر مشرکین مکہ جو اعتراض کرتے تھے اس کا جواب دیا گیا، ایک بار سرکارِ دوعالَم صلی اللہ علیہ وسلم نے طویل سجدہ کیا اور اپنے سجدہ میں یااللہ یارحمن فرماتے رہے۔ابوجہل نے سنا تو کہنے لگا کہ محمد (صلی اللہ عل
یہ وسلم) ہمیں تو کئی معبودوں کے پوجنے سے منع کرتے ہیں اور خود دو کو پکارتے ہیں ، اللہ کو اور رحمٰن کو( معاذ اللہ) اس کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی اور بتایا گیا اللہ اور رحمٰن دو نام ایک ہی معبودِ برحق کے ہیں خواہ کسی نام سے پکارو ،اس کے بہت سے نام ہیں اور سب نام اچھے ہیں جیسے اللہ پاک کے ننانوے نام معروف ہیں اور حقیقتاً اس سے بھی زیادہ نام ہیں جن کے معنی بہت پاکیزہ ہیں ۔
🌏 *سورہ کہف*
یہ سورت مکۂ مکرمہ میں نازل ہوئی ہے۔ اس سورت میں 12 رکوع اور 110 آیتیں ہیں ۔
*وجہ*
کہف کا معنی ہے پہاڑی غار ، اور اس سورت کی آیت نمبر 9 تا 26 میں اصحاب ِ کہف یعنی پہاڑی غار والے چنداولیاءِ کرام کا واقعہ بیان کیا گیا ہے، اس مناسبت سے اس سورت کا نام’’ سورۂ کہف‘‘ رکھا گیا۔
*فضیلت*
🌼 حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’جو شخص جمعہ کے دن سورۂ کہف کی تلاوت کرے گا تو آئندہ جمعے تک اس کے لئے خاص نور کی روشنی رہے گی۔
🌸 رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو سورۂ کہف کی ابتدائی دس آیات یاد کرے گا وہ دجال (کے فتنے ) سے محفوظ رہے گا۔
🌎 *اصحاب کہف کا واقعہ*
چنانچہ مفسرین کے بیان کے مطابق اصحابِ کہف اُفْسُوس نامی ایک شہر کے شُرفاء و معززین میں سے ایماندار لوگ تھے۔ ان کے زمانے میں دقیانوس نامی ایک بڑا جابر بادشاہ تھا جو لوگوں کو بت پرستی پر مجبور کرتا اورجو شخص بھی بت پرستی پر راضی نہ ہوتا اسے قتل کر ڈالتا تھا۔ دقیانوس بادشاہ کے جَبر و ظلم سے اپنا ایمان بچانے کے لئے اصحابِ کہف بھاگے اور قریب کے پہاڑ میں غار کے اندر پناہ گزین ہوئے، وہاں سوگئے اور تین سوبرس سے زیادہ عرصہ تک اسی حال میں رہے ۔ بادشاہ کو جستجو سے معلوم ہوا کہ وہ ایک غار کے اندر ہیں تو اس نے حکم دیا کہ غار کو ایک سنگین دیوار کھینچ کر بند کردیا جائے تاکہ وہ اس میں مر کر رہ جائیں اور وہ ان کی قبر ہوجائے، یہی ان کی سزا ہے۔ حکومتی عملے میں سے یہ کام جس کے سپرد کیا گیا وہ نیک آدمی تھا، اس نے ان اصحاب کے نام، تعداد اور پورا واقعہ رانگ کی تختی پرکَنْدَہ کرا کرتا نبے کے صندوق میں دیوار کی بنیا د کے اندر محفوظ کردیا اور یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ اسی طرح ایک تختی شاہی خزانہ میں بھی محفوظ کرا دی گئی۔ کچھ عرصہ بعد دقیانوس ہلاک ہوا ، زمانے گزرے ، سلطنتیں بدلیں یہاں تک کہ ایک نیک بادشاہ فرمانروا ہوا جس کا نام بیدروس تھا اور اس نے 68 سال حکومت کی ۔ اس کے دورِ حکومت میں ملک میں فرقہ بندی پیدا ہوئی اور بعض لوگ مرنے کے بعد اٹھنے اور قیامت آنے کے منکر ہوگئے ۔ بادشاہ ایک تنہا مکان میں بند ہوگیا اور اس نے گریہ وزاری سے بارگاہِ الٰہی میں دعا کی کہ یارب! کوئی ایسی نشانی ظاہر فرما جس سے مخلوق کو مُردوں کے اٹھنے اور قیامت آنے کا یقین حاصل ہو جائے۔ اسی زمانہ میں ایک شخص نے اپنی بکریوں کے لئے آرام کی جگہ حاصل کرنے کے واسطے اسی غار کو تجویز کیا اور (کچھ لوگوں کے ساتھ مل کر) دیوار کوگرا دیا۔ دیوار گرنے کے بعد کچھ ایسی ہیبت طاری ہوئی کہ گرانے والے بھاگ گئے ۔ اصحابِ کہف اللہ پاک کے حکم سے فرحاں و شاداں اُٹھے ، چہرے شگفتہ ،طبیعتیں خوش ، زندگی کی ترو تازگی موجود۔ ایک نے دوسرے کو سلام کیا اور نماز کے لئے کھڑے ہوگئے ، نماز سے فارغ ہو کر یملیخا سے کہا کہ آپ جائیے اور بازار سے کچھ کھانے کو بھی لائیے اور یہ بھی خبر لائیے کہ دقیانوس بادشاہ کا ہم لوگوں کے بارے میں کیا ارادہ ہے۔ وہ بازار گئے تو انہوں نے شہر پناہ کے دروازے پر اسلامی علامت دیکھی اور وہاں نئے نئے لوگ پائے، یہ دیکھ کر انہیں تعجب ہوا کہ یہ کیا معاملہ ہے؟ کل تک تو کوئی شخص اپنا ایمان ظاہر نہیں کرسکتا تھا جبکہ آج اسلامی علامتیں شہر پناہ پر ظاہر ہیں ۔ پھر کچھ دیر بعد آپ تندور والے کی دوکان پر گئے اور کھانا خریدنے کے لئے اسے دقیانوسی سکے کا روپیہ دیا جس کارواج صدیوں سے ختم ہوگیا تھا اور اسے دیکھنے والا بھی کوئی باقی نہ رہا تھا۔ بازار والوں نے خیال کیا کہ کوئی پرانا خزانہ ان کے ہاتھ آگیا ہے، چنانچہ وہ انہیں پکڑ کر حاکم کے پاس لے گئے، وہ نیک شخص تھا ،اس نے بھی ان سے دریافت کیا کہ خزانہ کہاں ہے؟ انہوں نے کہا خزانہ کہیں نہیں ہے۔ یہ روپیہ ہمارا اپنا ہے۔ حاکم نے کہا :یہ بات کسی طرح قابلِ یقین نہیں ، کیونکہ اس میں جو سال لکھا ہوا ہے وہ تین سو برس سے زیادہ کا ہے اور آپ نوجوان ہیں ،ہم لوگ بوڑھے ہیں ، ہم نے تو کبھی یہ سکہ دیکھا ہی نہیں ۔ آپ نے فرمایا: میں جو دریافت کروں وہ ٹھیک ٹھیک بتاؤ تو عُقدہ حل ہوجائے گا۔ یہ بتاؤ کہ دقیانوس بادشاہ کس حال وخیال میں ہے ؟ حاکم نے کہا، آج روئے زمین پر اس نام کا کوئی بادشاہ نہیں ، سینکڑوں برس پہلے ایک بے ایمان بادشاہ اس نام کا گزرا ہے۔ آپ نے فرمایا: کل ہی تو ہم اس کے خوف سے جان بچا کر بھاگے ہیں
🌏 *سورہ کہف*
یہ سورت مکۂ مکرمہ میں نازل ہوئی ہے۔ اس سورت میں 12 رکوع اور 110 آیتیں ہیں ۔
*وجہ*
کہف کا معنی ہے پہاڑی غار ، اور اس سورت کی آیت نمبر 9 تا 26 میں اصحاب ِ کہف یعنی پہاڑی غار والے چنداولیاءِ کرام کا واقعہ بیان کیا گیا ہے، اس مناسبت سے اس سورت کا نام’’ سورۂ کہف‘‘ رکھا گیا۔
*فضیلت*
🌼 حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’جو شخص جمعہ کے دن سورۂ کہف کی تلاوت کرے گا تو آئندہ جمعے تک اس کے لئے خاص نور کی روشنی رہے گی۔
🌸 رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو سورۂ کہف کی ابتدائی دس آیات یاد کرے گا وہ دجال (کے فتنے ) سے محفوظ رہے گا۔
🌎 *اصحاب کہف کا واقعہ*
چنانچہ مفسرین کے بیان کے مطابق اصحابِ کہف اُفْسُوس نامی ایک شہر کے شُرفاء و معززین میں سے ایماندار لوگ تھے۔ ان کے زمانے میں دقیانوس نامی ایک بڑا جابر بادشاہ تھا جو لوگوں کو بت پرستی پر مجبور کرتا اورجو شخص بھی بت پرستی پر راضی نہ ہوتا اسے قتل کر ڈالتا تھا۔ دقیانوس بادشاہ کے جَبر و ظلم سے اپنا ایمان بچانے کے لئے اصحابِ کہف بھاگے اور قریب کے پہاڑ میں غار کے اندر پناہ گزین ہوئے، وہاں سوگئے اور تین سوبرس سے زیادہ عرصہ تک اسی حال میں رہے ۔ بادشاہ کو جستجو سے معلوم ہوا کہ وہ ایک غار کے اندر ہیں تو اس نے حکم دیا کہ غار کو ایک سنگین دیوار کھینچ کر بند کردیا جائے تاکہ وہ اس میں مر کر رہ جائیں اور وہ ان کی قبر ہوجائے، یہی ان کی سزا ہے۔ حکومتی عملے میں سے یہ کام جس کے سپرد کیا گیا وہ نیک آدمی تھا، اس نے ان اصحاب کے نام، تعداد اور پورا واقعہ رانگ کی تختی پرکَنْدَہ کرا کرتا نبے کے صندوق میں دیوار کی بنیا د کے اندر محفوظ کردیا اور یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ اسی طرح ایک تختی شاہی خزانہ میں بھی محفوظ کرا دی گئی۔ کچھ عرصہ بعد دقیانوس ہلاک ہوا ، زمانے گزرے ، سلطنتیں بدلیں یہاں تک کہ ایک نیک بادشاہ فرمانروا ہوا جس کا نام بیدروس تھا اور اس نے 68 سال حکومت کی ۔ اس کے دورِ حکومت میں ملک میں فرقہ بندی پیدا ہوئی اور بعض لوگ مرنے کے بعد اٹھنے اور قیامت آنے کے منکر ہوگئے ۔ بادشاہ ایک تنہا مکان میں بند ہوگیا اور اس نے گریہ وزاری سے بارگاہِ الٰہی میں دعا کی کہ یارب! کوئی ایسی نشانی ظاہر فرما جس سے مخلوق کو مُردوں کے اٹھنے اور قیامت آنے کا یقین حاصل ہو جائے۔ اسی زمانہ میں ایک شخص نے اپنی بکریوں کے لئے آرام کی جگہ حاصل کرنے کے واسطے اسی غار کو تجویز کیا اور (کچھ لوگوں کے ساتھ مل کر) دیوار کوگرا دیا۔ دیوار گرنے کے بعد کچھ ایسی ہیبت طاری ہوئی کہ گرانے والے بھاگ گئے ۔ اصحابِ کہف اللہ پاک کے حکم سے فرحاں و شاداں اُٹھے ، چہرے شگفتہ ،طبیعتیں خوش ، زندگی کی ترو تازگی موجود۔ ایک نے دوسرے کو سلام کیا اور نماز کے لئے کھڑے ہوگئے ، نماز سے فارغ ہو کر یملیخا سے کہا کہ آپ جائیے اور بازار سے کچھ کھانے کو بھی لائیے اور یہ بھی خبر لائیے کہ دقیانوس بادشاہ کا ہم لوگوں کے بارے میں کیا ارادہ ہے۔ وہ بازار گئے تو انہوں نے شہر پناہ کے دروازے پر اسلامی علامت دیکھی اور وہاں نئے نئے لوگ پائے، یہ دیکھ کر انہیں تعجب ہوا کہ یہ کیا معاملہ ہے؟ کل تک تو کوئی شخص اپنا ایمان ظاہر نہیں کرسکتا تھا جبکہ آج اسلامی علامتیں شہر پناہ پر ظاہر ہیں ۔ پھر کچھ دیر بعد آپ تندور والے کی دوکان پر گئے اور کھانا خریدنے کے لئے اسے دقیانوسی سکے کا روپیہ دیا جس کارواج صدیوں سے ختم ہوگیا تھا اور اسے دیکھنے والا بھی کوئی باقی نہ رہا تھا۔ بازار والوں نے خیال کیا کہ کوئی پرانا خزانہ ان کے ہاتھ آگیا ہے، چنانچہ وہ انہیں پکڑ کر حاکم کے پاس لے گئے، وہ نیک شخص تھا ،اس نے بھی ان سے دریافت کیا کہ خزانہ کہاں ہے؟ انہوں نے کہا خزانہ کہیں نہیں ہے۔ یہ روپیہ ہمارا اپنا ہے۔ حاکم نے کہا :یہ بات کسی طرح قابلِ یقین نہیں ، کیونکہ اس میں جو سال لکھا ہوا ہے وہ تین سو برس سے زیادہ کا ہے اور آپ نوجوان ہیں ،ہم لوگ بوڑھے ہیں ، ہم نے تو کبھی یہ سکہ دیکھا ہی نہیں ۔ آپ نے فرمایا: میں جو دریافت کروں وہ ٹھیک ٹھیک بتاؤ تو عُقدہ حل ہوجائے گا۔ یہ بتاؤ کہ دقیانوس بادشاہ کس حال وخیال میں ہے ؟ حاکم نے کہا، آج روئے زمین پر اس نام کا کوئی بادشاہ نہیں ، سینکڑوں برس پہلے ایک بے ایمان بادشاہ اس نام کا گزرا ہے۔ آپ نے فرمایا: کل ہی تو ہم اس کے خوف سے جان بچا کر بھاگے ہیں
ا وقت آیا تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنے خادم سے فرمایا: ہمارا صبح کا کھانا لاؤ بیشک ہمیں اپنے اس سفر سے بڑی مشقت کا سامنا ہوا ہے۔ تھکان بھی ہے بھوک کی شدت بھی ہے۔ اور یہ بات جب تک مَجْمَعُ الْبَحْرَیْن پہنچے تھے پیش نہ آئی تھی اور جب منزلِ مقصود سے آگے بڑھ گئے تو تھکن اور بھوک معلوم ہوئی، اس میں اللّٰہ تعالیٰ کی حکمت یہ تھی کہ وہ مچھلی یاد کریں اور اس کی طلب میں منزلِ مقصود کی طرف واپس ہوں ۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کے یہ فرمانے پر خادم نے معذرت کی۔
حضرت یوشع بن نون علیہ السلام کی بات سن کر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا ’’مچھلی کا جانا ہی تو ہمارے مقصد حاصل ہونے کی علامت ہے ۔ جن کی طلب میں ہم چلے ہیں ان کی ملاقات وہیں ہوگی۔ چنانچہ پھر وہ دونوں اپنے قدموں کے نشانات کی پیروی کرتے ہوئے واپس لوٹے۔ جب وہ دونوں بزرگ واپس اسی جگہ پہنچے تو وہاں انہوں نے اللہ پاک کے بندوں میں سے ایک بندہ پایا جو چادر اوڑھے آرام فرما رہا تھا۔ یہ حضرت خضر علیہ السلام تھے۔
(ان کا مکالمہ اگلے پارے کے ساتھ بیان کیا جائے گا)
*📱+92-321-2094919*
@faizanealahazrat
حضرت یوشع بن نون علیہ السلام کی بات سن کر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا ’’مچھلی کا جانا ہی تو ہمارے مقصد حاصل ہونے کی علامت ہے ۔ جن کی طلب میں ہم چلے ہیں ان کی ملاقات وہیں ہوگی۔ چنانچہ پھر وہ دونوں اپنے قدموں کے نشانات کی پیروی کرتے ہوئے واپس لوٹے۔ جب وہ دونوں بزرگ واپس اسی جگہ پہنچے تو وہاں انہوں نے اللہ پاک کے بندوں میں سے ایک بندہ پایا جو چادر اوڑھے آرام فرما رہا تھا۔ یہ حضرت خضر علیہ السلام تھے۔
(ان کا مکالمہ اگلے پارے کے ساتھ بیان کیا جائے گا)
*📱+92-321-2094919*
@faizanealahazrat
اور میرے ساتھی قریب کے پہاڑ میں ایک غار کے اندر پناہ گزین ہیں ، چلو میں تمہیں ان سے ملادوں ، حاکم اور شہر کے سردار اور ایک کثیر مخلوق ان کے ہمراہ غار کے کنارے پہنچ گئے۔ اصحابِ کہف یملیخا کے انتظار میں تھے ، جب انہوں نے کثیر لوگوں کے آنے کی آواز سنی تو سمجھے کہ یملیخا پکڑے گئے اور دقیانوسی فوج ہماری جستجو میں آرہی ہے۔ چنانچہ وہ اللہ پاک کی حمدمیں مشغول ہوگئے۔ اتنے میں شہر کے لوگ پہنچ گئے اور یملیخا نے بقیہ حضرات کو تمام قصہ سنایا، ان حضرات نے سمجھ لیا کہ ہم اللہ پاک کے حکم سے اتنا طویل زمانہ سوئے رہے اور اب اس لئے اٹھائے گئے ہیں کہ لوگوں کے لئے موت کے بعد زندہ کئے جانے کی دلیل اور نشانی بنیں ۔ جب حاکمِ شہر غار کے کنارے پہنچا تو اس نے تانبے کا صندوق دیکھا ، اس کو کھلوایا تو تختی برآمد ہوئی، اس تختی میں اُن اصحاب کے اَسماء اور اُن کے کتے کا نام لکھا تھا ، یہ بھی لکھا تھا کہ یہ جماعت اپنے دین کی حفاظت کے لئے دقیانوس کے ڈر سے اس غار میں پناہ گزین ہوئی، دقیانوس نے خبر پا کر ایک دیوار سے انہیں غار میں بند کردینے کا حکم دیا ، ہم یہ حال اس لئے لکھتے ہیں تاکہ جب کبھی یہ غار کھلے تو لوگ ان کے حال پر مطلع ہوجائیں ۔ یہ تختی پڑھ کر سب کو تعجب ہوا اور لوگ اللہ پاک کی حمد و ثناء بجالائے کہ اس نے ایسی نشانی ظاہر فرمادی جس سے موت کے بعد اٹھنے کا یقین حاصل ہوتا ہے۔ حاکمِ شہرنے اپنے بادشاہ بید روس کو واقعہ کی اطلاع دی ، چنانچہ بادشاہ بھی بقیہ معززین اور سرداروں کو لے کر حاضر ہوا اور شکرِ الٰہی کا سجدہ بجا لایا کہ اللّٰہ تعالیٰ نے اس کی دعا قبول کی ۔اصحاب ِکہف نے بادشاہ سے مُعانقہ کیا اور فرمایا ہم تمہیں اللہ پاک کے سپرد کرتے ہیں ۔ والسلام علیک ورحمۃ اللّٰہ وبرکا تہ ،اللہ پاک تیری اور تیرے ملک کی حفاظت فرمائے اور جن و اِنس کے شر سے بچائے ۔بادشاہ کھڑا ہی تھا کہ وہ حضرات اپنے خواب گاہوں کی طرف واپس ہو کر مصروفِ خواب ہوئے اور اللہ پاک نے انہیں وفات دیدی، بادشاہ نے سال کے صندوق میں ان کے اَجساد کو محفوظ کیا اور اللہ پاک نے رُعب سے ان کی حفاظت فرمائی کہ کسی کی مجال نہیں کہ وہاں پہنچ سکے ۔ بادشاہ نے سرِغار مسجد بنانے کا حکم دیا اور ایک خوشی کا دن معین کردیا کہ ہر سال لوگ عید کی طرح وہاں آیا کریں۔
🌳 آیت نمبر 32 سے ایک مسلمان اور ایک کافر کا حال بیان کیا ہے اورہر کافر و مومن دونوں کو دعوتِ فکر دی ہے کہ اس واقعے میں غور کرکے اپنا اپنا انجام سمجھیں۔ چنانچہ فرمایا کہ ان دو مردوں کا حال یہ ہے ان میں سے ایک آدمی یعنی کافر کیلئے اللہ پاک نے انگوروں کے دو باغ بنادیئے اور ان دونوں باغوں کو کھجوروں سے ڈھانپ دیا اور ان کے درمیان میں کھیتی بھی بنادی یعنی اُنہیں نہایت بہترین ترتیب کے ساتھ مُرتَّب کیا۔ آس پاس سبز باغ ہواور بیچ میں ہرا بھرا کھیت ہو تودیکھنے میں بہت ہی خوشنما معلوم ہوتا ہے اور اس سے مالک اپنی تمام ضروریات پوری کرلیتا ہے، کھیت سے غذا اور باغ سے پھل حاصل ہوتے ہیں ۔ دونوں باغوں نے اپنے اپنے پھل دیدئیے اور اس میں کچھ کمی نہ کی اور دونوں کے بیچ اللہ پاک نے ایک نہر جاری کردی۔ یعنی کھجور اور انگور، دونوں باغوں میں ہی خوب بہار آئی، پھل خوب لگے جبکہ باغ کے بیچ میں موجود نہر نے باغ کی خوبصورتی اور زینت میں بھی اضافہ کردیا اور وہ باغ کے ترو تازہ رہنے کا باعث بھی ہوئی۔
مزید فرمایا کہ اس باغ والے کافر آدمی کے پاس باغ کے علاوہ اور بھی بہت سا مال و اَسباب جیسے سونا، چاندی وغیرہ ہر قسم کا مال تھا تو وہ اپنے مسلمان ساتھی سے اتراتے ہوئے اور اپنے مال پر فخر کرتے ہوئے کہنے لگا اور وہ اس سے فخر و غرور کی باتیں کرتا رہتا تھا۔ کہنے لگا کہ میں تجھ سے زیادہ مالدار ہوں اور افراد کے اعتبار سے زیادہ طاقتور ہوں یعنی میرا کنبہ قبیلہ بڑا ہے اور ملازم، خدمت گار ،نوکر چاکر بھی میرے پاس بہت ہیں۔پھر اس کافر کی غافلانہ باتوں کی ابتداء ہوتی ہے چنانچہ وہ باغات کا مالک مسلمان کا ہاتھ پکڑ کر اس کو ساتھ لے کر باغ میں گیا ، وہاں اسے فخریہ طور پر ہر طرف لے کرپھرا اور مسلمان کو ہر ہر چیز دکھائی اور پھر باغ کی زینت و زیبائش اور رونق و بہار دیکھ کر مغرور ہوگیا اور کہنے لگا : میں گمان نہیں کرتا کہ یہ باغ کبھی فنا ہوگا یعنی ساری عمر مجھے پھل دیتا رہے گا۔باغ کے کافر مالک نے کہا کہ مجھے تواس بات کا گمان بھی نہیں ہے کہ قیامت قائم ہوگی جیسے تیرا گمان ہے بلکہ مجھے یقین ہے کہ قیامت نہ آئے گی اور اگر بالفرض قیامت آبھی گئی تو مجھے آخرت میں بھی اس دنیوی باغ سے بہتر باغ دیا جائے گا کیونکہ دنیا میں بھی میں نے بہترین جگہ پائی ہے۔ سب باتیں سن کر اس کافر کے مسلمان ساتھی نے اس کی فخروغرور کی باتوں کا جواب دیتے ہوئے کہا: کیا تو اس خداوند ِ قدوس کے ساتھ کفر کرتا ہے جس نے تجھے مٹی سے بن
🌳 آیت نمبر 32 سے ایک مسلمان اور ایک کافر کا حال بیان کیا ہے اورہر کافر و مومن دونوں کو دعوتِ فکر دی ہے کہ اس واقعے میں غور کرکے اپنا اپنا انجام سمجھیں۔ چنانچہ فرمایا کہ ان دو مردوں کا حال یہ ہے ان میں سے ایک آدمی یعنی کافر کیلئے اللہ پاک نے انگوروں کے دو باغ بنادیئے اور ان دونوں باغوں کو کھجوروں سے ڈھانپ دیا اور ان کے درمیان میں کھیتی بھی بنادی یعنی اُنہیں نہایت بہترین ترتیب کے ساتھ مُرتَّب کیا۔ آس پاس سبز باغ ہواور بیچ میں ہرا بھرا کھیت ہو تودیکھنے میں بہت ہی خوشنما معلوم ہوتا ہے اور اس سے مالک اپنی تمام ضروریات پوری کرلیتا ہے، کھیت سے غذا اور باغ سے پھل حاصل ہوتے ہیں ۔ دونوں باغوں نے اپنے اپنے پھل دیدئیے اور اس میں کچھ کمی نہ کی اور دونوں کے بیچ اللہ پاک نے ایک نہر جاری کردی۔ یعنی کھجور اور انگور، دونوں باغوں میں ہی خوب بہار آئی، پھل خوب لگے جبکہ باغ کے بیچ میں موجود نہر نے باغ کی خوبصورتی اور زینت میں بھی اضافہ کردیا اور وہ باغ کے ترو تازہ رہنے کا باعث بھی ہوئی۔
مزید فرمایا کہ اس باغ والے کافر آدمی کے پاس باغ کے علاوہ اور بھی بہت سا مال و اَسباب جیسے سونا، چاندی وغیرہ ہر قسم کا مال تھا تو وہ اپنے مسلمان ساتھی سے اتراتے ہوئے اور اپنے مال پر فخر کرتے ہوئے کہنے لگا اور وہ اس سے فخر و غرور کی باتیں کرتا رہتا تھا۔ کہنے لگا کہ میں تجھ سے زیادہ مالدار ہوں اور افراد کے اعتبار سے زیادہ طاقتور ہوں یعنی میرا کنبہ قبیلہ بڑا ہے اور ملازم، خدمت گار ،نوکر چاکر بھی میرے پاس بہت ہیں۔پھر اس کافر کی غافلانہ باتوں کی ابتداء ہوتی ہے چنانچہ وہ باغات کا مالک مسلمان کا ہاتھ پکڑ کر اس کو ساتھ لے کر باغ میں گیا ، وہاں اسے فخریہ طور پر ہر طرف لے کرپھرا اور مسلمان کو ہر ہر چیز دکھائی اور پھر باغ کی زینت و زیبائش اور رونق و بہار دیکھ کر مغرور ہوگیا اور کہنے لگا : میں گمان نہیں کرتا کہ یہ باغ کبھی فنا ہوگا یعنی ساری عمر مجھے پھل دیتا رہے گا۔باغ کے کافر مالک نے کہا کہ مجھے تواس بات کا گمان بھی نہیں ہے کہ قیامت قائم ہوگی جیسے تیرا گمان ہے بلکہ مجھے یقین ہے کہ قیامت نہ آئے گی اور اگر بالفرض قیامت آبھی گئی تو مجھے آخرت میں بھی اس دنیوی باغ سے بہتر باغ دیا جائے گا کیونکہ دنیا میں بھی میں نے بہترین جگہ پائی ہے۔ سب باتیں سن کر اس کافر کے مسلمان ساتھی نے اس کی فخروغرور کی باتوں کا جواب دیتے ہوئے کہا: کیا تو اس خداوند ِ قدوس کے ساتھ کفر کرتا ہے جس نے تجھے مٹی سے بن
ایا ،پھر نطفہ سے اور پھر تجھے بالکل صحیح مرد بنادیا یعنی اس نے تجھے عقل و بلوغ، قوت و طاقت عطا کی اور تو سب کچھ پاکر کافر ہوگیا۔ لہٰذا تو اس کو مان یا نہ مان لیکن میں تو یہی کہتا ہوں کہ وہ اللہ ہی میرا رب ہے او ر میں کسی کو اپنے رب قدیر کا شریک نہیں کرتا۔
مسلمان نے اس کافر کو سمجھاتے ہوئے کہا کہ ایسا کیوں نہ ہوا کہ تو اس سارے باغ اور اَسباب پر اللہ پاک کی قدرت و نعمت کا معترف ہوتا اور اگر توباغ دیکھ کر ماشاء اللہ کہتا اور اعتراف کرتا کہ یہ باغ اور اُس کے تمام مَحاصل و مَنافع اللہ پاک کی مَشِیَّت اور اس کے فضل وکرم سے ہیں اور سب کچھ اس کےاختیار میں ہے، چاہے اس کو آباد رکھے اور چاہے ویران کرے ،ایسا کہتا تو یہ تیرے حق میں بہتر ہوتا ۔اگر تو مجھے اپنے مقابلے میں مال اور اولاد میں کم سمجھ رہا تھا اور اس وجہ سے تکبر میں مبتلا تھا اور اپنے آپ کو بڑا سمجھتا تھا توتو نے ایسا کیوں نہیں کہا جو اوپر بیان ہوا۔ مسلمان نے مزید کہا کہ قریب ہے یعنی ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ میرا رب عَزَّوَجَلَّ مجھے تیرے باغ سے بہتر عطا فرما دے اور تیرے باغ پر آسمان سے بجلیاں گرا دے تو وہ چٹیل میدان ہوکر رہ جائے کہ اس میں سبزہ کا نام و نشان باقی نہ رہے اور اپنی زندگی ہی میں تو اس باغ کو برباد ہوتا ہوا دیکھے اور کف ِ افسوس ملتا رہ جائے یا اس باغ کا پانی زمین میں دھنس جائے اور نیچے چلا جائے کہ کسی طرح نکالا نہ جاسکے۔ اس کافر کے باغ پر عذاب آگیا اور باغ کے ساتھ ساتھ اس کے دیگر ہر طرح کے مال و اَسباب پھل ہلاکت میں گھیر لیے گئے اور باغ بالکل ویران ہوگیا تو وہ حسرت کے ساتھ ان اخراجات پر اپنے ہاتھ ملتا رہ گیا جو اس نے باغ کی دیکھ بھال میں خرچ کئے تھے اور وہ باغ اپنی چھتوں کے بل اوندھے منہ گرگیا ، پھر اس حال کو پہنچ کر اسے مو من کی نصیحت یاد آئی اور وہ سمجھا کہ یہ اُس کے کفرو سرکشی کا نتیجہ ہے اور اس وقت وہ کہنے لگا کہ اے کاش! میں نے اپنے رب قدیر کے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا ہوتا، آیت کے آخر میں اس واقعے کا سبق بیان فرمایا ہے کہ یہاں پتہ چلتا ہے اور ایسے حالات میں معلوم ہوتا ہیکہ تمام اختیارات اللہ پاک کے دست ِ قدرت میں ہیں ۔ وہی چاہے تو پھلوں سے لدے ہوئے باغات عطا فرما دے اور وہ چاہے تو ایک لمحے میں سب کچھ تہس نہس کردے۔
🐬 آیت نمبر 60 سے موسی اور خِضر علیھما السلام کا دلچسپ واقعہ بیان ہوا ہے، حضرت موسیٰ علیہ السلام حضرت خضر علیہ السلام کے پاس علم سیکھنے کے لئے جانے والے قصے کو بیان کیا گیا ہے۔ آیت میں جن کا ذکر ہے وہ مشہور پیغمبر اور جلیل القدر نبی حضرت موسیٰ بن عمران علیہ السلام ہیں ، انہیں اللہ پاک نے تورات اور کثیر معجزات عطا فرمائے تھے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے خادم کا نام حضرت یوشع بن نون ہے، یہ حضرت موسیٰ علیہ السلام خدمت وصحبت میں رہتے اور آپ علیہ السلام سے علم حاصل کرتے تھے ۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد حضرت یوشع ہی آپ کے ولی عہد بنے۔ آیت میں مذکور واقعے کا پسِ منظر یہ ہے کہ ایک بار حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کی جماعت میں بہت شاندار وعظ فرمایا، اس کے بعد کسی نے پوچھا کہ آپ سے بڑا عالم بھی کوئی ہے۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا: نہیں ۔ اللہ پاک نے آپ کی طرف وحی فرمائی کہ ’’ اے موسیٰ ! علیہ السلام ، تم سے بڑے عالم حضرت خضر علیہ السلام ہیں ۔ آپ علیہ السلام نے اللہ پاک سے ان کا پتہ پوچھا تو ارشاد فرمایا : مَجمعِ بَحرَین میں رہتے ہیں ، وہاں کی نشانی یہ بتائی، کہ جہاں بھنی مچھلی زندہ ہو کر دریا میں چلی جائے اور پانی میں سرنگ بن جائے ، وہاں حضرت خضر علیہ السلام ہوں گے ۔ چنانچہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنے خادم سے فرمایا: میں مسلسل سفر میں رہوں گا جب تک کہ مشرق کی جانب دوسمندروں یعنی بحرِ فارس اور بحرِ روم کے ملنے کی جگہ نہ پہنچ جاؤں یا اگر وہ جگہ دور ہو تو مدتوں تک چلتا رہوں گا ۔پھر یہ حضرات روٹی اور نمکین بھنی مچھلی زنبیل میں توشہ کے طور پر لے کر روانہ ہوئے۔حضرت موسیٰ علیہ السلام حضرت یوشع بن نون علیہ السلام دو سمندروں کے ملنے کی جگہ پہنچے ، وہاں ایک پتھر کی چٹان اور چشمۂ حیات تھا ۔ اس جگہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے آرام فرمایا اور حضرت یوشع علیہ السلام وضو کرنے لگے۔ اسی دوران بھنی ہوئی مچھلی زنبیل میں زندہ ہوگئی اور تڑپ کر دریا میں گری ، اس پر سے پانی کا بہاؤ رک گیا اور ایک محراب سی بن گئی ۔ حضرت یوشع علیہ السلام یہ دیکھ کر بہت حیران ہوئے اور جب حضرت موسیٰ علیہ السلام بیدار ہوئے تو حضرت یوشع علیہ السلام کو ان سے مچھلی کا واقعہ ذکر کرنا یاد نہ رہا۔ چنانچہ ارشاد ہوتا ہے کہ وہ اپنی مچھلی بھول گئے اور اس مچھلی نے سمندر میں سرنگ کی طرح اپنا راستہ بنالیا۔ جب وہ دونوں اس جگہ سے گزر گئے اور چلتے رہے یہاں تک کہ دوسرے روز کھانے ک
مسلمان نے اس کافر کو سمجھاتے ہوئے کہا کہ ایسا کیوں نہ ہوا کہ تو اس سارے باغ اور اَسباب پر اللہ پاک کی قدرت و نعمت کا معترف ہوتا اور اگر توباغ دیکھ کر ماشاء اللہ کہتا اور اعتراف کرتا کہ یہ باغ اور اُس کے تمام مَحاصل و مَنافع اللہ پاک کی مَشِیَّت اور اس کے فضل وکرم سے ہیں اور سب کچھ اس کےاختیار میں ہے، چاہے اس کو آباد رکھے اور چاہے ویران کرے ،ایسا کہتا تو یہ تیرے حق میں بہتر ہوتا ۔اگر تو مجھے اپنے مقابلے میں مال اور اولاد میں کم سمجھ رہا تھا اور اس وجہ سے تکبر میں مبتلا تھا اور اپنے آپ کو بڑا سمجھتا تھا توتو نے ایسا کیوں نہیں کہا جو اوپر بیان ہوا۔ مسلمان نے مزید کہا کہ قریب ہے یعنی ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ میرا رب عَزَّوَجَلَّ مجھے تیرے باغ سے بہتر عطا فرما دے اور تیرے باغ پر آسمان سے بجلیاں گرا دے تو وہ چٹیل میدان ہوکر رہ جائے کہ اس میں سبزہ کا نام و نشان باقی نہ رہے اور اپنی زندگی ہی میں تو اس باغ کو برباد ہوتا ہوا دیکھے اور کف ِ افسوس ملتا رہ جائے یا اس باغ کا پانی زمین میں دھنس جائے اور نیچے چلا جائے کہ کسی طرح نکالا نہ جاسکے۔ اس کافر کے باغ پر عذاب آگیا اور باغ کے ساتھ ساتھ اس کے دیگر ہر طرح کے مال و اَسباب پھل ہلاکت میں گھیر لیے گئے اور باغ بالکل ویران ہوگیا تو وہ حسرت کے ساتھ ان اخراجات پر اپنے ہاتھ ملتا رہ گیا جو اس نے باغ کی دیکھ بھال میں خرچ کئے تھے اور وہ باغ اپنی چھتوں کے بل اوندھے منہ گرگیا ، پھر اس حال کو پہنچ کر اسے مو من کی نصیحت یاد آئی اور وہ سمجھا کہ یہ اُس کے کفرو سرکشی کا نتیجہ ہے اور اس وقت وہ کہنے لگا کہ اے کاش! میں نے اپنے رب قدیر کے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا ہوتا، آیت کے آخر میں اس واقعے کا سبق بیان فرمایا ہے کہ یہاں پتہ چلتا ہے اور ایسے حالات میں معلوم ہوتا ہیکہ تمام اختیارات اللہ پاک کے دست ِ قدرت میں ہیں ۔ وہی چاہے تو پھلوں سے لدے ہوئے باغات عطا فرما دے اور وہ چاہے تو ایک لمحے میں سب کچھ تہس نہس کردے۔
🐬 آیت نمبر 60 سے موسی اور خِضر علیھما السلام کا دلچسپ واقعہ بیان ہوا ہے، حضرت موسیٰ علیہ السلام حضرت خضر علیہ السلام کے پاس علم سیکھنے کے لئے جانے والے قصے کو بیان کیا گیا ہے۔ آیت میں جن کا ذکر ہے وہ مشہور پیغمبر اور جلیل القدر نبی حضرت موسیٰ بن عمران علیہ السلام ہیں ، انہیں اللہ پاک نے تورات اور کثیر معجزات عطا فرمائے تھے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے خادم کا نام حضرت یوشع بن نون ہے، یہ حضرت موسیٰ علیہ السلام خدمت وصحبت میں رہتے اور آپ علیہ السلام سے علم حاصل کرتے تھے ۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد حضرت یوشع ہی آپ کے ولی عہد بنے۔ آیت میں مذکور واقعے کا پسِ منظر یہ ہے کہ ایک بار حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کی جماعت میں بہت شاندار وعظ فرمایا، اس کے بعد کسی نے پوچھا کہ آپ سے بڑا عالم بھی کوئی ہے۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا: نہیں ۔ اللہ پاک نے آپ کی طرف وحی فرمائی کہ ’’ اے موسیٰ ! علیہ السلام ، تم سے بڑے عالم حضرت خضر علیہ السلام ہیں ۔ آپ علیہ السلام نے اللہ پاک سے ان کا پتہ پوچھا تو ارشاد فرمایا : مَجمعِ بَحرَین میں رہتے ہیں ، وہاں کی نشانی یہ بتائی، کہ جہاں بھنی مچھلی زندہ ہو کر دریا میں چلی جائے اور پانی میں سرنگ بن جائے ، وہاں حضرت خضر علیہ السلام ہوں گے ۔ چنانچہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنے خادم سے فرمایا: میں مسلسل سفر میں رہوں گا جب تک کہ مشرق کی جانب دوسمندروں یعنی بحرِ فارس اور بحرِ روم کے ملنے کی جگہ نہ پہنچ جاؤں یا اگر وہ جگہ دور ہو تو مدتوں تک چلتا رہوں گا ۔پھر یہ حضرات روٹی اور نمکین بھنی مچھلی زنبیل میں توشہ کے طور پر لے کر روانہ ہوئے۔حضرت موسیٰ علیہ السلام حضرت یوشع بن نون علیہ السلام دو سمندروں کے ملنے کی جگہ پہنچے ، وہاں ایک پتھر کی چٹان اور چشمۂ حیات تھا ۔ اس جگہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے آرام فرمایا اور حضرت یوشع علیہ السلام وضو کرنے لگے۔ اسی دوران بھنی ہوئی مچھلی زنبیل میں زندہ ہوگئی اور تڑپ کر دریا میں گری ، اس پر سے پانی کا بہاؤ رک گیا اور ایک محراب سی بن گئی ۔ حضرت یوشع علیہ السلام یہ دیکھ کر بہت حیران ہوئے اور جب حضرت موسیٰ علیہ السلام بیدار ہوئے تو حضرت یوشع علیہ السلام کو ان سے مچھلی کا واقعہ ذکر کرنا یاد نہ رہا۔ چنانچہ ارشاد ہوتا ہے کہ وہ اپنی مچھلی بھول گئے اور اس مچھلی نے سمندر میں سرنگ کی طرح اپنا راستہ بنالیا۔ جب وہ دونوں اس جگہ سے گزر گئے اور چلتے رہے یہاں تک کہ دوسرے روز کھانے ک
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌹 مسلک اعلیٰ حضرت کا تعلق
عقائد سے ہے فقہی فروع سے نہیں
حوالہ مسلک اعلیٰ حضرت صفحہ⁹
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
✍ حضور سراج الفقہاء حضرت
مفتی نظام الدین رضوی صَاحَبۡ
قِـبۡـلَـہۡ دَامَـتۡ بَرۡکَاتُہُمُ الۡـعَـالِـیَہۡ 🌹
صدر شعبۂ افتاء جامعہ اشرفیہ
عقائد سے ہے فقہی فروع سے نہیں
حوالہ مسلک اعلیٰ حضرت صفحہ⁹
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
✍ حضور سراج الفقہاء حضرت
مفتی نظام الدین رضوی صَاحَبۡ
قِـبۡـلَـہۡ دَامَـتۡ بَرۡکَاتُہُمُ الۡـعَـالِـیَہۡ 🌹
صدر شعبۂ افتاء جامعہ اشرفیہ
❤2
مسلک اعلیٰ حضرت - مفتی نظام الدین.pdf
1.2 MB
عصر حاضر میں مسلک اہل سنت کی
مترادف اصطلاح مسلک اعلیٰ حضرت
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
✍ مفتی نظام الدین رضوی برکاتی
مترادف اصطلاح مسلک اعلیٰ حضرت
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
✍ مفتی نظام الدین رضوی برکاتی
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
شیخ ابو الحسن امام سری سقطی رَضِیَ الــلّٰــهُ تَـبَـارَڪَ وَ تَــعَــالیٰ عَــنۡـہۡ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬ یومِ ولادت ... ............... ھ یومِ وصال ¹³ رمضان المبارک ۳۵۲ھ ➻═══════════➻ TTS AʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge ➻═══════════➻
بحر العلوم حـضـرت عـلامـہ مفتی
سید محمد افضل حسین رضوی
رَحۡـــمَـــةُ الــلّٰــهِ تَــعَــالیٰ عَـــلَـــیۡـــه
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
یومِ ولادت ¹⁴رمضان المبارک ۷۳۳۱ھ
یومِ وصال ²⁰ رجب المرجب ۲۰۴۱ھ
➻═══════════➻
TTS AʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
سید محمد افضل حسین رضوی
رَحۡـــمَـــةُ الــلّٰــهِ تَــعَــالیٰ عَـــلَـــیۡـــه
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
یومِ ولادت ¹⁴رمضان المبارک ۷۳۳۱ھ
یومِ وصال ²⁰ رجب المرجب ۲۰۴۱ھ
➻═══════════➻
TTS AʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
📝 *فیضان خلاصہ تراویح*📝
✍🏻 *ابو بنتین محمد فراز عطاری مدنی*
👑 *پارہ 16،قَالَ اَلَمْ*
📢 پارہ 15 کے خلاصے کے آخر میں بیان کیا گیا تھا کہ موسی علیہ السلام خضر علیہ السلام کے پاس پہنچے تھے، اور ان کے درمیان کچھ گفتگو ہوئی جو 15ویں پارے کے آخر سے شروع ہوتی ہے۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے حضرت خضر علیہ السلام سے کہا: کیا اس شرط پر میں آپ کے ساتھ رہوں کہ آپ مجھے وہ درست بات سکھا دیں جو آپ کو سکھائی گئی ہے، حضرت خضر علیہ السلام نے فرمایا: آپ میرے ساتھ ہرگز نہ ٹھہر سکیں گے۔حضرت خضر علیہ السلام نے اس کی وجہ خود ہی بیان فرما دی اور فرمایا ’’ اور آپ اس بات پر کس طرح صبر کریں گے جسے آپ کا علم محیط نہیں اور ظاہر میں وہ منع ہیں۔حضرت خضر علیہ السلام نے فرمایاکہ اگر آپ کو میرے ساتھ رہنا ہے تو آپ میرے کسی ایسے عمل کے بارے میں مجھ سے سوال نہ کرنا جو آپ کی نظر میں ناپسندیدہ ہو جب تک میں خود آپ کے سامنے اس کا ذکر نہ کردوں۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت خضر علیہ السلام کشتی کی تلاش میں ساحل کے کنارے چلنے لگے۔جب ان کے پاس سے ایک کشتی گزری تو کشتی والوں نے حضرت خضر علیہ السلام کو پہچان کر بغیر معاوضہ کے سوار کرلیا، جب کشتی سمندر کے بیچ میں پہنچی تو حضرت خضر علیہ السلام نے کلہاڑی کے ذریعے اس کا ایک تختہ یا دو تختے اکھاڑ ڈالے۔ یہ دیکھ کر حضرت موسیٰ علیہ السلام خاموش نہ رہ سکے اور فرمایا: کیا تم نے اس کشتی کو اس لیے چیر دیا تاکہ کشتی والوں کو غرق کردو، بیشک یہ تم نے بہت برا کام کیا۔ حضرت خضر علیہ السلام نے ان سے فرمایا: کیا میں نہ کہتا تھا کہ آپ میرے ساتھ ہرگز نہ ٹھہر سکیں گے۔حضرت موسیٰ علیہ السلام نے معذرت فرمائی کہ میں آپ سے کیا وعدہ بھول گیا تھا لہٰذا اس پر میرا مواخذہ نہ کریں۔
کشتی سے اتر کر وہ دونوں چلے اور ایک ایسے مقام پر گزرے جہاں لڑکے کھیل رہے تھے۔ وہاں انہیں ایک لڑکا ملا جوکافی خوبصورت تھا اور حدِ بلوغ کو نہ پہنچا تھا۔ بعض مفسرین نے کہا وہ لڑکا جوان تھا اور رہزنی کیا کرتا تھا۔حضرت خضر علیہ السلام نے اسے قتل کردیا۔ یہ دیکھ کر حضرت موسیٰ علیہ السلام سے پھر نہ رہا گیا اور آپ نے فرمایا: کیا تم نے کسی جان کے بدلے کے بغیر ایک پاکیزہ جان جس کا کوئی گناہ ثابت نہ تھا کو قتل کردیا؟ بیشک تم نے بہت ناپسندیدہ کام کیا ہے۔جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے حضرت خضر علیہ السلام کے فعل پر کلام فرمایا تو آپ علیہ السلام نے کہا: اے موسیٰ! علیہ السلام ، میں نے آپ سے نہ کہا تھا کہ آپ ہرگز میرے ساتھ نہ ٹھہر سکیں گے۔حضرت خضر علیہ السلام کی بات کے جواب میں حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا: اگر اس مرتبہ کے بعد میں آپ سے کسی شے کے بارے میں سوال کروں تو پھر مجھے اپنا ساتھی نہ رکھنا اگرچہ میں آپ کے ساتھ رہنے کا تقاضا کروں اور جب میں تیسری بار ایسا کروں تو بیشک اس صورت میں میری طرف سے آپ کے ساتھ نہ رہنے میں آپ کا عذر پورا ہوچکا۔
اس گفتگو کے بعد حضرت خضر علیہ السلام اور حضرت موسیٰ علیہ السلام چلنے لگے یہاں تک کہ جب ایک بستی والوں کے پاس آئے توان حضرات نے اس بستی کے باشندوں سے کھانا مانگا، انہوں نے ان دونوں کی مہمان نوازی کرنے سے انکار کردیا۔ پھر دونوں نے اس گاؤں میں ایک دیوار پائی جو گرنے والی تھی تو حضرت خضر علیہ السلام نے اپنے دستِ مبارک سے اسے سیدھا کردیا۔ یہ دیکھ کرحضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: اگر آپ چاہتے تو اس دیوار کو سیدھی کرنے پر کچھ مزدوری لے لیتے کیونکہ یہ ہماری حاجت کا وقت ہے اور بستی والوں نے ہماری کچھ مہمان نوازی نہیں کی، اس لئے ایسی حالت میں ان کا کام بنانے پر اجرت لینا مناسب تھا۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرف سے تیسری مرتبہ اپنے فعل پر کلام سن کر حضرت خضر علیہ السلام نے ان سے فرمایا ’’ یہ میری اور آپ علیہ السلام کی جدائی کا وقت ہے۔ اب میں جدا ہونے سے پہلے آپ علیہ السلام کو ان باتوں کا اصل مطلب بتاؤں گا جن پر آپ علیہ السلام صبر نہ فرما سکے اور اُن کے اندر جو راز تھے ان کا اظہار کردوں گا۔
حضرت خضر علیہ السلام ے اپنے افعال کی حقیقت سے پردہ اٹھاتے ہوئے فرمایا ’’وہ جو میں نے کشتی کا تختہ اکھاڑا تھا، اس سے میرا مقصد کشتی والوں کو ڈبو دینا نہیں تھا بلکہ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ کشتی دس مسکین بھائیوں کی تھی، ان میں پانچ تو اپاہج تھے جو کچھ نہیں کرسکتے تھے اور پانچ تندرست تھے جو دریا میں کام کرتے تھے اور اسی پر ان کے روزگار کا دارومدار تھا۔ ان کے آگے ایک بادشاہ تھا اور انہیں واپسی میں اس کے پاس سے گزرنا تھا، کشتی والوں کو اس کا حال معلوم نہ تھا اور اس کا طریقہ یہ تھا کہ وہ ہرصحیح سلامت کشتی کو زبردستی چھین لیتا اور اگر عیب دار ہوتی تو چھوڑ دیتا تھا اس لئے میں نے اس کشتی کو عیب دار کردیا تاکہ وہ ان غریبوں کے لئے بچ جائے۔
اپنے دوسرے فعل کی حکمت بیان کرتے ہوئے حضرت خضر علیہ السلام نے فرمایا کہ و
✍🏻 *ابو بنتین محمد فراز عطاری مدنی*
👑 *پارہ 16،قَالَ اَلَمْ*
📢 پارہ 15 کے خلاصے کے آخر میں بیان کیا گیا تھا کہ موسی علیہ السلام خضر علیہ السلام کے پاس پہنچے تھے، اور ان کے درمیان کچھ گفتگو ہوئی جو 15ویں پارے کے آخر سے شروع ہوتی ہے۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے حضرت خضر علیہ السلام سے کہا: کیا اس شرط پر میں آپ کے ساتھ رہوں کہ آپ مجھے وہ درست بات سکھا دیں جو آپ کو سکھائی گئی ہے، حضرت خضر علیہ السلام نے فرمایا: آپ میرے ساتھ ہرگز نہ ٹھہر سکیں گے۔حضرت خضر علیہ السلام نے اس کی وجہ خود ہی بیان فرما دی اور فرمایا ’’ اور آپ اس بات پر کس طرح صبر کریں گے جسے آپ کا علم محیط نہیں اور ظاہر میں وہ منع ہیں۔حضرت خضر علیہ السلام نے فرمایاکہ اگر آپ کو میرے ساتھ رہنا ہے تو آپ میرے کسی ایسے عمل کے بارے میں مجھ سے سوال نہ کرنا جو آپ کی نظر میں ناپسندیدہ ہو جب تک میں خود آپ کے سامنے اس کا ذکر نہ کردوں۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت خضر علیہ السلام کشتی کی تلاش میں ساحل کے کنارے چلنے لگے۔جب ان کے پاس سے ایک کشتی گزری تو کشتی والوں نے حضرت خضر علیہ السلام کو پہچان کر بغیر معاوضہ کے سوار کرلیا، جب کشتی سمندر کے بیچ میں پہنچی تو حضرت خضر علیہ السلام نے کلہاڑی کے ذریعے اس کا ایک تختہ یا دو تختے اکھاڑ ڈالے۔ یہ دیکھ کر حضرت موسیٰ علیہ السلام خاموش نہ رہ سکے اور فرمایا: کیا تم نے اس کشتی کو اس لیے چیر دیا تاکہ کشتی والوں کو غرق کردو، بیشک یہ تم نے بہت برا کام کیا۔ حضرت خضر علیہ السلام نے ان سے فرمایا: کیا میں نہ کہتا تھا کہ آپ میرے ساتھ ہرگز نہ ٹھہر سکیں گے۔حضرت موسیٰ علیہ السلام نے معذرت فرمائی کہ میں آپ سے کیا وعدہ بھول گیا تھا لہٰذا اس پر میرا مواخذہ نہ کریں۔
کشتی سے اتر کر وہ دونوں چلے اور ایک ایسے مقام پر گزرے جہاں لڑکے کھیل رہے تھے۔ وہاں انہیں ایک لڑکا ملا جوکافی خوبصورت تھا اور حدِ بلوغ کو نہ پہنچا تھا۔ بعض مفسرین نے کہا وہ لڑکا جوان تھا اور رہزنی کیا کرتا تھا۔حضرت خضر علیہ السلام نے اسے قتل کردیا۔ یہ دیکھ کر حضرت موسیٰ علیہ السلام سے پھر نہ رہا گیا اور آپ نے فرمایا: کیا تم نے کسی جان کے بدلے کے بغیر ایک پاکیزہ جان جس کا کوئی گناہ ثابت نہ تھا کو قتل کردیا؟ بیشک تم نے بہت ناپسندیدہ کام کیا ہے۔جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے حضرت خضر علیہ السلام کے فعل پر کلام فرمایا تو آپ علیہ السلام نے کہا: اے موسیٰ! علیہ السلام ، میں نے آپ سے نہ کہا تھا کہ آپ ہرگز میرے ساتھ نہ ٹھہر سکیں گے۔حضرت خضر علیہ السلام کی بات کے جواب میں حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا: اگر اس مرتبہ کے بعد میں آپ سے کسی شے کے بارے میں سوال کروں تو پھر مجھے اپنا ساتھی نہ رکھنا اگرچہ میں آپ کے ساتھ رہنے کا تقاضا کروں اور جب میں تیسری بار ایسا کروں تو بیشک اس صورت میں میری طرف سے آپ کے ساتھ نہ رہنے میں آپ کا عذر پورا ہوچکا۔
اس گفتگو کے بعد حضرت خضر علیہ السلام اور حضرت موسیٰ علیہ السلام چلنے لگے یہاں تک کہ جب ایک بستی والوں کے پاس آئے توان حضرات نے اس بستی کے باشندوں سے کھانا مانگا، انہوں نے ان دونوں کی مہمان نوازی کرنے سے انکار کردیا۔ پھر دونوں نے اس گاؤں میں ایک دیوار پائی جو گرنے والی تھی تو حضرت خضر علیہ السلام نے اپنے دستِ مبارک سے اسے سیدھا کردیا۔ یہ دیکھ کرحضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: اگر آپ چاہتے تو اس دیوار کو سیدھی کرنے پر کچھ مزدوری لے لیتے کیونکہ یہ ہماری حاجت کا وقت ہے اور بستی والوں نے ہماری کچھ مہمان نوازی نہیں کی، اس لئے ایسی حالت میں ان کا کام بنانے پر اجرت لینا مناسب تھا۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرف سے تیسری مرتبہ اپنے فعل پر کلام سن کر حضرت خضر علیہ السلام نے ان سے فرمایا ’’ یہ میری اور آپ علیہ السلام کی جدائی کا وقت ہے۔ اب میں جدا ہونے سے پہلے آپ علیہ السلام کو ان باتوں کا اصل مطلب بتاؤں گا جن پر آپ علیہ السلام صبر نہ فرما سکے اور اُن کے اندر جو راز تھے ان کا اظہار کردوں گا۔
حضرت خضر علیہ السلام ے اپنے افعال کی حقیقت سے پردہ اٹھاتے ہوئے فرمایا ’’وہ جو میں نے کشتی کا تختہ اکھاڑا تھا، اس سے میرا مقصد کشتی والوں کو ڈبو دینا نہیں تھا بلکہ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ کشتی دس مسکین بھائیوں کی تھی، ان میں پانچ تو اپاہج تھے جو کچھ نہیں کرسکتے تھے اور پانچ تندرست تھے جو دریا میں کام کرتے تھے اور اسی پر ان کے روزگار کا دارومدار تھا۔ ان کے آگے ایک بادشاہ تھا اور انہیں واپسی میں اس کے پاس سے گزرنا تھا، کشتی والوں کو اس کا حال معلوم نہ تھا اور اس کا طریقہ یہ تھا کہ وہ ہرصحیح سلامت کشتی کو زبردستی چھین لیتا اور اگر عیب دار ہوتی تو چھوڑ دیتا تھا اس لئے میں نے اس کشتی کو عیب دار کردیا تاکہ وہ ان غریبوں کے لئے بچ جائے۔
اپنے دوسرے فعل کی حکمت بیان کرتے ہوئے حضرت خضر علیہ السلام نے فرمایا کہ و