حضرت علامہ مولانا ہادی حسن نعیمی رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: مولانا ہادی حسن ۔ لقب: خطیب اسلام ، صدر الافاضل کی نسبت سے نعیمی کہلاتے ہیں ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
مولانا محمد ہادی حسن نعیمی بن صوفی مسافر علی ایوبی انصاری ۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت تقریباً 1909ء کو غیاث پور ضلع چھپرا صوبہ بہار (انڈیا) میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
ابتدائی تعلیم کلکتہ 24 پر گنہ جگدل کی جامع مسجد میں مولانا عبد الستار ہاشمی سے حاصل کی، پھر یوپی اور بہار کے مختلف مدارس میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد اعلیٰ تعلیم کے لئے جامعہ نعیمیہ مراد آباد میں داخلہ لیا، جہاں صدر الافاضل ، مفسر قرآن ، نعیم ملت علامہ سید محمد نعیم الدین مراد آبادی سے دورۂ حدیث پڑھ کر فارغ التحصیل ہوئے ۔
بیعت و خلافت:
آپ سلسلۂ قادریہ اشرفیہ میں حضرت صدر الافاضل سے بیعت ہوئے اور ڈھاکہ (بنگلہ دیش) کے قیام کے دوران حضرت پیر مولانا عبد السلام نقشبندی سے متاثر ہوئے تو ان کے حلقہ ارادت میں داخل ہو گئے ۔
سیرت و خصائص:
خطیبِ اسلام، عالمِ شریعت و طریقت، حضرت علامہ مولانا ہادی حسن نعیمی رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ علیہ الرحمہ حضور صدر الافاضل بدر المماثل مفسر قرآن سید نعیم الدین مرادآبادی رحمۃ اللہ کے شاگرد اور فیض یافتہ تھے ۔ مسلکِ حق کا درد حضرت صدر الافاضل سے ورثہ میں ملا تھا ۔ یہی وجہ ہے کہ آپ جہاں بھی رہے ایک متحرک شخصیت بن کر رہے ۔ تحریکِ پاکستان میں بھر پور کردار ادا کیا ۔
تحریک پاکستان:
آپ نے تحریک پاکستان میں علماء و مشائخ اہل سنت کے ساتھ بھر پور کردار ادا کیا، قیام پاکستان کی تحریک کو مضبوط بنانے کے لئے ملک گیر دورے کئے ، پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ کی صدا گھر گھر پہنچانے کے لئے تن من دھن کی قربانیاں دیں ۔ آپ کی انہیں قربانیوں کے پیش نظر آپ کو 24 پر گنہ کے مسلم لیگ کا صدر اور گنائزر مقرر کیا گیا ـ
21 مارچ 1950ء کو مشرقی پاکستان (بنگلہ دیش) کے سید پور ضلع رنگ پور میں انڈیا سے نقل مکانی کرکے آئے ۔ یہاں بھی آپ چین سے نہیں بیٹھے دینی علمی اور فلاحی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے رہے ۔ سردار عبد الرب نشتر آپ کے لیگی دوست تھے ۔ تحریک پاکستان کے دوران مل کر کام کیا تھا سید پور کے علاقہ میں آپ نے نشتر صاحب سے مل کر 500 سو گھروں کی آباد کاری کرائی ۔ یہ گھر ان مہاجرین کو دلائے جو کہ انڈیاسے سید پور (بنگلہ دیش) نقل مکانی کر کے آئے تھے ۔
پاکستان آمد:
جب ہندو بنیئے کی سازش کے تحت پاکستان کا بازو ٹوٹا، مشرقی پاکستان جدا گانہ ملک کا نعرہ لگا کر بنگلہ دیش بن گیا تو مولانا 1972ء میں کراچی تشریف لے آئے اور ڈرگ کالونی میں کرایہ کے مکان میں رہائش اختیار کی اور چند ماہ کے بعد سی ، اے ، اے کی جامع مسجد (ایئر پورٹ) میں امامت و خطابت کے فرائض انجام دیئے اور یہاں پر سرکاری کوارٹر میں رہائش اختیار کی ۔
دینی خدمات:
سید پور ضلع رنگ پور (بنگلہ دیش) میں بھی امامت و خطابت کے فرائض بحسن و خوبی سر انجام دیئے ۔ آگے چل کر سید پور بانس باری میں ایک کمیٹی تشکیل دی جس کے ذریعہ دینی علمی و فلاحی حدمات سرانجام دیتے رہے ان خدمات میں سر فہرست دینی درسگاہ ہے جو کہ آپ نے " جامعہ رضویہ اہل سنت و جماعت " کے نام سے قائم فرمائی جو کہ آج بھی دینی خدمات میں پیش پیش ہے اور آپ کے لئے صدقۂ جاریہ ہے ۔
جس وقت آپ نے جامع رضویہ کی بنیاد رکھی تو اس علاقہ میں وہابیت کا راج تھا ، ان کا مدرسہ تھا، پورے علاقے میں انہیں کا ہولڈ تھا ۔ سنی عوام آہستہ آہستہ گمراہی کی طرف جا رہی تھی ۔ جب آپ نے اس علاقے میں اہل سنت کے مدرسہ کی بنیاد رکھی، تو بد مذہبی کے تمام جال مکڑی کے جال کی طرح بکھر گئے، اور پھر سے ہر طرف صلوۃ و سلام، میلاد و قیام، اور معمولاتِ اہلسنت بحال ہو گئے ۔ عوامِ اہلسنت کے عقائد محفوظ ہو گئے ۔ آج بھی وہ مدرسہ اسلام کے ایک قلعے کی حیثیت رکھتا ہے ۔ جہاں لوگوں کا ایمان محفوظ ہے ۔
الغرض آپ جہاں بھی رہے ایک مجاہد کی طرح رہے اور بھر پور بیدار مغزی سے اہل سنت و جماعت کی ترقی و ترویج کے لئے خلوص و جذبہ کے ساتھ کام کرتے رہے ۔ آپ ایک بہترین خطیب ہونے کے ساتھ ساتھ اچھے شاعر و مصنف بھی تھے ۔ آپ کا تمام علمی ذخیرہ انڈیا و بنگلہ دیش میں رہ گیا ۔
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 21 جمادی الآخر 1404ھ / مطابق 21 مارچ 1984ء بروز بدھ کو ہوا ۔ شاہ فیصل کالونی گیٹ والے قبرستان میں مدفون ہوئے ۔
ماخذ و مراجع:
انوار علمائے اہلسنت سندھ ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-hadi-hassan-naeemi
نام و نسب:
اسمِ گرامی: مولانا ہادی حسن ۔ لقب: خطیب اسلام ، صدر الافاضل کی نسبت سے نعیمی کہلاتے ہیں ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
مولانا محمد ہادی حسن نعیمی بن صوفی مسافر علی ایوبی انصاری ۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت تقریباً 1909ء کو غیاث پور ضلع چھپرا صوبہ بہار (انڈیا) میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
ابتدائی تعلیم کلکتہ 24 پر گنہ جگدل کی جامع مسجد میں مولانا عبد الستار ہاشمی سے حاصل کی، پھر یوپی اور بہار کے مختلف مدارس میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد اعلیٰ تعلیم کے لئے جامعہ نعیمیہ مراد آباد میں داخلہ لیا، جہاں صدر الافاضل ، مفسر قرآن ، نعیم ملت علامہ سید محمد نعیم الدین مراد آبادی سے دورۂ حدیث پڑھ کر فارغ التحصیل ہوئے ۔
بیعت و خلافت:
آپ سلسلۂ قادریہ اشرفیہ میں حضرت صدر الافاضل سے بیعت ہوئے اور ڈھاکہ (بنگلہ دیش) کے قیام کے دوران حضرت پیر مولانا عبد السلام نقشبندی سے متاثر ہوئے تو ان کے حلقہ ارادت میں داخل ہو گئے ۔
سیرت و خصائص:
خطیبِ اسلام، عالمِ شریعت و طریقت، حضرت علامہ مولانا ہادی حسن نعیمی رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ علیہ الرحمہ حضور صدر الافاضل بدر المماثل مفسر قرآن سید نعیم الدین مرادآبادی رحمۃ اللہ کے شاگرد اور فیض یافتہ تھے ۔ مسلکِ حق کا درد حضرت صدر الافاضل سے ورثہ میں ملا تھا ۔ یہی وجہ ہے کہ آپ جہاں بھی رہے ایک متحرک شخصیت بن کر رہے ۔ تحریکِ پاکستان میں بھر پور کردار ادا کیا ۔
تحریک پاکستان:
آپ نے تحریک پاکستان میں علماء و مشائخ اہل سنت کے ساتھ بھر پور کردار ادا کیا، قیام پاکستان کی تحریک کو مضبوط بنانے کے لئے ملک گیر دورے کئے ، پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ کی صدا گھر گھر پہنچانے کے لئے تن من دھن کی قربانیاں دیں ۔ آپ کی انہیں قربانیوں کے پیش نظر آپ کو 24 پر گنہ کے مسلم لیگ کا صدر اور گنائزر مقرر کیا گیا ـ
21 مارچ 1950ء کو مشرقی پاکستان (بنگلہ دیش) کے سید پور ضلع رنگ پور میں انڈیا سے نقل مکانی کرکے آئے ۔ یہاں بھی آپ چین سے نہیں بیٹھے دینی علمی اور فلاحی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے رہے ۔ سردار عبد الرب نشتر آپ کے لیگی دوست تھے ۔ تحریک پاکستان کے دوران مل کر کام کیا تھا سید پور کے علاقہ میں آپ نے نشتر صاحب سے مل کر 500 سو گھروں کی آباد کاری کرائی ۔ یہ گھر ان مہاجرین کو دلائے جو کہ انڈیاسے سید پور (بنگلہ دیش) نقل مکانی کر کے آئے تھے ۔
پاکستان آمد:
جب ہندو بنیئے کی سازش کے تحت پاکستان کا بازو ٹوٹا، مشرقی پاکستان جدا گانہ ملک کا نعرہ لگا کر بنگلہ دیش بن گیا تو مولانا 1972ء میں کراچی تشریف لے آئے اور ڈرگ کالونی میں کرایہ کے مکان میں رہائش اختیار کی اور چند ماہ کے بعد سی ، اے ، اے کی جامع مسجد (ایئر پورٹ) میں امامت و خطابت کے فرائض انجام دیئے اور یہاں پر سرکاری کوارٹر میں رہائش اختیار کی ۔
دینی خدمات:
سید پور ضلع رنگ پور (بنگلہ دیش) میں بھی امامت و خطابت کے فرائض بحسن و خوبی سر انجام دیئے ۔ آگے چل کر سید پور بانس باری میں ایک کمیٹی تشکیل دی جس کے ذریعہ دینی علمی و فلاحی حدمات سرانجام دیتے رہے ان خدمات میں سر فہرست دینی درسگاہ ہے جو کہ آپ نے " جامعہ رضویہ اہل سنت و جماعت " کے نام سے قائم فرمائی جو کہ آج بھی دینی خدمات میں پیش پیش ہے اور آپ کے لئے صدقۂ جاریہ ہے ۔
جس وقت آپ نے جامع رضویہ کی بنیاد رکھی تو اس علاقہ میں وہابیت کا راج تھا ، ان کا مدرسہ تھا، پورے علاقے میں انہیں کا ہولڈ تھا ۔ سنی عوام آہستہ آہستہ گمراہی کی طرف جا رہی تھی ۔ جب آپ نے اس علاقے میں اہل سنت کے مدرسہ کی بنیاد رکھی، تو بد مذہبی کے تمام جال مکڑی کے جال کی طرح بکھر گئے، اور پھر سے ہر طرف صلوۃ و سلام، میلاد و قیام، اور معمولاتِ اہلسنت بحال ہو گئے ۔ عوامِ اہلسنت کے عقائد محفوظ ہو گئے ۔ آج بھی وہ مدرسہ اسلام کے ایک قلعے کی حیثیت رکھتا ہے ۔ جہاں لوگوں کا ایمان محفوظ ہے ۔
الغرض آپ جہاں بھی رہے ایک مجاہد کی طرح رہے اور بھر پور بیدار مغزی سے اہل سنت و جماعت کی ترقی و ترویج کے لئے خلوص و جذبہ کے ساتھ کام کرتے رہے ۔ آپ ایک بہترین خطیب ہونے کے ساتھ ساتھ اچھے شاعر و مصنف بھی تھے ۔ آپ کا تمام علمی ذخیرہ انڈیا و بنگلہ دیش میں رہ گیا ۔
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 21 جمادی الآخر 1404ھ / مطابق 21 مارچ 1984ء بروز بدھ کو ہوا ۔ شاہ فیصل کالونی گیٹ والے قبرستان میں مدفون ہوئے ۔
ماخذ و مراجع:
انوار علمائے اہلسنت سندھ ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-hadi-hassan-naeemi
❤1
حضرت شیخ محب اللہ اکبر آبادی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
شیخ محب اللہ اکبر آبادی:
عالم فاضل، وحید العصر، فرید الدہر، باخذا اور معمر شخص تھے ـ
آپ کی توجہ بیماروں پر نہایت مؤثر ہوتی تھی۔
تصانیف:
تصانیف بھی آپ نے کثرت سے کی جس میں سے شرح کتاب فصوص الحکم اشہر اور نہایت عمدہ ہے ۔
وصال:
وفات آپ کی ۱۰۸۷ھ میں ہوئی اور اکبر آباد میں مدفون ہوئے ۔ الہ آبادی ۔ الہ آباد میں ’’نزہت الخواطر‘‘ انکی سوانح ارادہ میں ہو چکی ہے (مرتب)
( حدائق الحنفیہ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-mohibullah-akbar-abadi
شیخ محب اللہ اکبر آبادی:
عالم فاضل، وحید العصر، فرید الدہر، باخذا اور معمر شخص تھے ـ
آپ کی توجہ بیماروں پر نہایت مؤثر ہوتی تھی۔
تصانیف:
تصانیف بھی آپ نے کثرت سے کی جس میں سے شرح کتاب فصوص الحکم اشہر اور نہایت عمدہ ہے ۔
وصال:
وفات آپ کی ۱۰۸۷ھ میں ہوئی اور اکبر آباد میں مدفون ہوئے ۔ الہ آبادی ۔ الہ آباد میں ’’نزہت الخواطر‘‘ انکی سوانح ارادہ میں ہو چکی ہے (مرتب)
( حدائق الحنفیہ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-mohibullah-akbar-abadi
❤1
حضرت امام عبد اللہ یافعی رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: عبد اللہ ۔ کنیت: ابو محمد ۔ لقب: عفیف الدین، ابو السعادات، ابو البرکات، مؤرخِ اسلام وغیرہ ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
ابو محمد عبد اللہ یافعی بن اسعد بن علی بن سلیمان بن فلاح الیافعی الیمنی الشافعی ۔ علیہم الرحمہ ۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 698ھ کو عدن یمن میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
آپ نے کثیر علماء سے اخذِ علوم کیا ۔ ان میں سے امام ذہبی بن النضال، امام شرف الحرازی، امام نجم الدین طبری ۔ مکۃ المکرمہ میں کئی شیوخ سے علمی استفادہ کیا ۔ اسی طرح مصر اور شام کا سفر کیا، وہاں کے شیوخ سے استفادہ کیا ۔ ان میں سے شیخ حسین حاکی، شیخ عبد اللہ المالکی، شیخ محمد المرشدی اہم ہیں ۔ شیخ مرشدی نے آپ کو بہت سی بشارتوں سے نواز ۔ اسی طرح علمِ تصوف و اخلاق شیخ علی المعروف شیخ طواشی سے اخذ کیا ۔
بیعت و خلافت:
آپ سلسلۂ عالیہ قادریہ میں حضرت شیخ ابو عبد اللہ البصال علیہ الرحمہ کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے، اور خرقۂ خلافت حاصل کیا ۔ حضرت شیخ بصال علیہ الرحمہ کا شجرۂ طریقت چند واسطوں سے حضرت محبوبِ سبحانی قطبِ ربانی غوث الاعظم سیدنا شیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے جاکر ملتا تھا ۔ حضرت غوث الاعظم سے محبت و عقیدت کی بناء پر ان سے بیعت ہوئے تھے ۔ آپ نے ان کی شان میں ایک کتاب بنام " خلاصۃ المفاخر فی اخبار الشیخ عبد القادر " تحریر فرمائی ۔
سیرت و خصائص:
امام الاولیاء، قدوۃ الصلحاء، مجمع البحرین، شیخ الفریقین، جامع کمالاتِ علمیہ و عملیہ، پیشوائے اہلسنت، عارف انوارِ ربانی حضرت امام عبد اللہ یافعی رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ علیہ الرحمہ کی پیدائش یمن میں ہوئی اور یہیں پہ تحصیلِ علوم کیا ۔ پھر یہاں سے ہجرت کرکے حجازِ مقدس تشریف لے گئے، اور حرمین شریفین کے فیوضات سے مستفیض ہوئے ۔
علامہ مولانا جامی علیہ الرحمۃ الباری فرماتےہیں: امام عبد اللہ یافعی رحمۃ اللہ علیہ اپنے وقت کے بڑے مشائخ میں سے تھے، علومِ ظاہری و باطنی کے جامع تھے، آپ کی تصانیف نہایت عمدہ اور کثیر ہیں ۔ ان میں سے " تاریخ مرأۃ الجنان ، روضۃ الریاحین ، الدرالنظیم ـ مشہور ہیں ۔ ان کے ماسوا اور بھی تصانیف ہیں ۔ اشعار بھی بہت عمدہ کہتے تھے ۔ ( نفحات الانس ، ص:503 ) ـ
آپ علیہ الرحمہ کثیر العبادت، صاحبِ ورع و تقویٰ تھے ۔ آپ کی فضیلت عظمت اور بزرگی آپ کی زندگی میں ہی معروف تھی ۔ تمام علومِ عربیہ، صرف و نحو، ادب و بیان و بدیع، فقہ و اصول، تفسیر و حدیث، علم الحساب و فرائض، تاریخ و انساب، اور تصوف و اخلاق میں مہارتِ تامہ حاصل تھی ۔
آپ کا محبوب ترین مشغلہ صوفیاء کی صحبت و محبت اور ان کی مجالسِ خیر میں حاضر ہو کر فیوض و برکات حاصل کرنا شامل تھا ۔ اسی طرح لوگوں کی اصلاح و تربیت کرنا، فقراء پر بہت ایثار و سخاوت، اور ان کی ضروریات کا خیال رکھتے تھے ۔
آپ کی ولایت کے بارے میں مشہور ہے کہ آپ قطب الوقت تھے ۔ لیکن انتہائی منکسر المزاج، اور خوش اخلاق تھے ۔ مخلوقِ خدا پر بہت مہربان و رحم دِل تھے ۔ حضرت شیخ ابن عربی علیہ الرحمہ کی تعلیمات کے حامی اور ان کی ذات کے محب تھے ۔ ابنِ تیمیہ اور اس کے گروہ کے سخت مخالف تھے ۔ (طبقات الشافعیہ، ج:3، ص:94) ـ
جب حضرت سید جلال الدین مخدومِ جہانیاں جہاں گشت سہروردی مکہ معظمہ گئے تو امام صاحب سے بھی ملاقات کا شرف حاصل کیا ۔ ان دونوں حضرات میں اس درجہ اتحاد و محبت کا تعلق بڑھا کہ اس کی نظیر نہیں دیکھی گئی ۔ حضرت امام یافعی نے سلسلۂ چشتیہ سے اخذِ فیض کے لیے حضرت مخدومِ جہانیاں کو حضرت شیخ سید نصیر الدین محمود چراغ دہلوی کی خدمت میں جانے کو کہا ۔ چنانچہ حضرت مخدوم جب ہندوستان لوٹے تو دہلی میں حضرت شیخ نصیر الدین چراغ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور خرقۂ چشت حاصل کیا ۔
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 21 جمادی الآخر 768ھ / مطابق فروری 1367ء کو ہوا ۔ مکۃ المکرمہ میں حضرت فضیل بن عیاض علیہ الرحمہ کے پاس مدفون ہوئے ۔
ماخذ و مراجع:
طبقات الشافعیہ ۔ نفحات الانس ۔ خزینۃ الاصفیاء ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-imam-abdullah-bin-saad
نام و نسب:
اسمِ گرامی: عبد اللہ ۔ کنیت: ابو محمد ۔ لقب: عفیف الدین، ابو السعادات، ابو البرکات، مؤرخِ اسلام وغیرہ ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
ابو محمد عبد اللہ یافعی بن اسعد بن علی بن سلیمان بن فلاح الیافعی الیمنی الشافعی ۔ علیہم الرحمہ ۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 698ھ کو عدن یمن میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
آپ نے کثیر علماء سے اخذِ علوم کیا ۔ ان میں سے امام ذہبی بن النضال، امام شرف الحرازی، امام نجم الدین طبری ۔ مکۃ المکرمہ میں کئی شیوخ سے علمی استفادہ کیا ۔ اسی طرح مصر اور شام کا سفر کیا، وہاں کے شیوخ سے استفادہ کیا ۔ ان میں سے شیخ حسین حاکی، شیخ عبد اللہ المالکی، شیخ محمد المرشدی اہم ہیں ۔ شیخ مرشدی نے آپ کو بہت سی بشارتوں سے نواز ۔ اسی طرح علمِ تصوف و اخلاق شیخ علی المعروف شیخ طواشی سے اخذ کیا ۔
بیعت و خلافت:
آپ سلسلۂ عالیہ قادریہ میں حضرت شیخ ابو عبد اللہ البصال علیہ الرحمہ کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے، اور خرقۂ خلافت حاصل کیا ۔ حضرت شیخ بصال علیہ الرحمہ کا شجرۂ طریقت چند واسطوں سے حضرت محبوبِ سبحانی قطبِ ربانی غوث الاعظم سیدنا شیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے جاکر ملتا تھا ۔ حضرت غوث الاعظم سے محبت و عقیدت کی بناء پر ان سے بیعت ہوئے تھے ۔ آپ نے ان کی شان میں ایک کتاب بنام " خلاصۃ المفاخر فی اخبار الشیخ عبد القادر " تحریر فرمائی ۔
سیرت و خصائص:
امام الاولیاء، قدوۃ الصلحاء، مجمع البحرین، شیخ الفریقین، جامع کمالاتِ علمیہ و عملیہ، پیشوائے اہلسنت، عارف انوارِ ربانی حضرت امام عبد اللہ یافعی رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ علیہ الرحمہ کی پیدائش یمن میں ہوئی اور یہیں پہ تحصیلِ علوم کیا ۔ پھر یہاں سے ہجرت کرکے حجازِ مقدس تشریف لے گئے، اور حرمین شریفین کے فیوضات سے مستفیض ہوئے ۔
علامہ مولانا جامی علیہ الرحمۃ الباری فرماتےہیں: امام عبد اللہ یافعی رحمۃ اللہ علیہ اپنے وقت کے بڑے مشائخ میں سے تھے، علومِ ظاہری و باطنی کے جامع تھے، آپ کی تصانیف نہایت عمدہ اور کثیر ہیں ۔ ان میں سے " تاریخ مرأۃ الجنان ، روضۃ الریاحین ، الدرالنظیم ـ مشہور ہیں ۔ ان کے ماسوا اور بھی تصانیف ہیں ۔ اشعار بھی بہت عمدہ کہتے تھے ۔ ( نفحات الانس ، ص:503 ) ـ
آپ علیہ الرحمہ کثیر العبادت، صاحبِ ورع و تقویٰ تھے ۔ آپ کی فضیلت عظمت اور بزرگی آپ کی زندگی میں ہی معروف تھی ۔ تمام علومِ عربیہ، صرف و نحو، ادب و بیان و بدیع، فقہ و اصول، تفسیر و حدیث، علم الحساب و فرائض، تاریخ و انساب، اور تصوف و اخلاق میں مہارتِ تامہ حاصل تھی ۔
آپ کا محبوب ترین مشغلہ صوفیاء کی صحبت و محبت اور ان کی مجالسِ خیر میں حاضر ہو کر فیوض و برکات حاصل کرنا شامل تھا ۔ اسی طرح لوگوں کی اصلاح و تربیت کرنا، فقراء پر بہت ایثار و سخاوت، اور ان کی ضروریات کا خیال رکھتے تھے ۔
آپ کی ولایت کے بارے میں مشہور ہے کہ آپ قطب الوقت تھے ۔ لیکن انتہائی منکسر المزاج، اور خوش اخلاق تھے ۔ مخلوقِ خدا پر بہت مہربان و رحم دِل تھے ۔ حضرت شیخ ابن عربی علیہ الرحمہ کی تعلیمات کے حامی اور ان کی ذات کے محب تھے ۔ ابنِ تیمیہ اور اس کے گروہ کے سخت مخالف تھے ۔ (طبقات الشافعیہ، ج:3، ص:94) ـ
جب حضرت سید جلال الدین مخدومِ جہانیاں جہاں گشت سہروردی مکہ معظمہ گئے تو امام صاحب سے بھی ملاقات کا شرف حاصل کیا ۔ ان دونوں حضرات میں اس درجہ اتحاد و محبت کا تعلق بڑھا کہ اس کی نظیر نہیں دیکھی گئی ۔ حضرت امام یافعی نے سلسلۂ چشتیہ سے اخذِ فیض کے لیے حضرت مخدومِ جہانیاں کو حضرت شیخ سید نصیر الدین محمود چراغ دہلوی کی خدمت میں جانے کو کہا ۔ چنانچہ حضرت مخدوم جب ہندوستان لوٹے تو دہلی میں حضرت شیخ نصیر الدین چراغ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور خرقۂ چشت حاصل کیا ۔
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 21 جمادی الآخر 768ھ / مطابق فروری 1367ء کو ہوا ۔ مکۃ المکرمہ میں حضرت فضیل بن عیاض علیہ الرحمہ کے پاس مدفون ہوئے ۔
ماخذ و مراجع:
طبقات الشافعیہ ۔ نفحات الانس ۔ خزینۃ الاصفیاء ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-imam-abdullah-bin-saad
❤1
حضرت خواجہ شمس الدین ترک پانی پتی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: حضرت خواجہ شمس الدین ۔ لقب: شمس الاولیاء ۔ ترکی النسل ہونے کی وجہ سے ترک، اور پانی پت میں قیام کی وجہ سے پانی پتی کہلاتے ہیں ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
شمس الدین ترک بن سید احمد بن سید عبدالمومن بن سید عبدالملک بن سید سیف الدین بن خواجہ ورعنابن بابا قرعنا ۔ علیہم الرضوان ۔
آپ کے آباؤ اجداد ترک کے رہنے والے تھے ۔ آپ ساداتِ علوی سے تھے ۔ آپ کا سلسلۂ نسب چند واسطوں سے حضرت محمد حنیفہ بن حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم تک پہنچتا ہے ۔
تاریخِ ولادت:
21 جمادی الثانی 597ھ کو بمقام مرخس ترکمانستان میں پیدا ہوئے ۔
تحصیل ِ علم:
آپ کی تعلیم و تربیت ترکمانستان میں ہوئی۔ آپ نے بہت جلد تفسیر، حدیث، فقہ، ریاضی، منطق، ہیئت، ہندسہ میں قابلیت حاصل کی۔جلد ہی علم معقول و منقول سے فارغ ہو کر علم باطنی کی طرف متوجہ ہوئے ۔
بیعت و خلافت:
حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر رحمتہ اللہ علیہ نے آپ کو خلافت سے سرفراز فرمایا، اور آپ سے فرمایا: تمھارا باقی حصہ دوسرے مرشد کے پاس ہے۔ "حصول نعمت و کمال تو موقوف بر مرشد دیگر است" ۔ تمہارا حصول نعمت و کمال دوسرے مرشد پر موقوف ہے ۔
آپ کو اپنے مرید و خلیفہ حضرت علاؤ الدین احمد صابر رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں کلیر روانہ کیا ۔ (اس وقت ایسا پیر نہیں دیکھا گیا کہ جو بابا فرید کے مقام پر فائز ہو اور آئے ہوئے شخص سے یہ کہے کہ تم فلاں شخص کے پاس چلے جاؤ، تمھارا حصہ ان کے پاس ہے ۔ اب تو یہ ہے کہ ایک ترغیبی مہم چلائی جاتی ہے کہ فلاں حضرت اس مقام پر فائز ہیں تم ان کے مرید ہو جاؤ، ماشاء اللہ لنگر مزیدار ہوتا ہے وغیرہ ۔ پھر صرف لنگر ہی ملتا ہے، خدا نہیں ملتا) حضرت مخدوم علاؤالدین احمد صابر (رحمۃ اللہ علیہ) نے آپ کو دیکھ کر فرمایا ۔
"اے شمس الدین! تو میرا فرزند ہے ۔ میں نے خدا سے چاہا کہ میرا سلسلہ تجھ سے جاری ہو اور قیامت تک رہے" ۔ آپ کو بیعت سے مشرف فرمایا ۔ سلسلۂ عالیہ چشتیہ کے مطابق آپ کو حلق کرایا ۔ کلاہ چہار ترکی آپ کے سر پر رکھی ۔ آپ گیارہ سال تک اپنے پیر و مرشد کی خدمت میں رہے ۔ پیر و مرشد کو وضو کرانے کی خدمت آپ کے سپرد تھی ۔ حضرت نے خرقۂ خلافت آپ کو عطا فرمایا اور اسم اعظم جو سینہ بسینہ چلا آتا تھا، آپ کو تعلیم کیا ۔
سیرت و خصائص:
شمس الاولیاء، بدر الاتقیاء، آئینہ جمال و جلال حقانی، قطبِ وقت، فیض یافتہ حضرت فرید الدین، و شیخ صابر، معارفِ علومِ ربانی حضرت شمس الدین ترک پانی پتی رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ علیہ الرحمہ صوفیِ باصفا اور کاملانِ اولیاء میں سے تھے ۔ تلاش کے حق کے جذبے سے متاثر ہو کر آپ نے اپنے وطن عزیز کو خیرباد کہا ۔ اول ترکستان کی سیر و سیاحت فرمائی ۔ جب وہاں کوئی مرشد کامل نہیں ملا تو ماور النہر تشریف لائے ۔ وہاں بہت سے بزرگوں سے ملے، لیکن آپ کو تسکین نہیں ہوئی ۔ماوراء النہر سے ملتان تشریف لائے۔ملتان سے اجودہن (پاک پتن) آئے اور حضرت بابا فریدالدین گنج شکر رحمتہ اللہ علیہ کی قدم بوسی سے مشرف ہوئے۔ آپ نے کچھ عرصہ حضرت بابا گنج شکر رحمتہ اللہ علیہ کی خدمت بابرکت میں رہ کر فیوض و برکات باطنی حاصل کئے ۔
آپ صاحب عظمت و ولایت تھے۔علم ظاہری و باطنی میں اپنی مثال آپ تھے۔ زہد و تقویٰ آپ کا مشہور تھا۔ ترک و تجرید، ریاضت، مجاہدہ اور عبادمت میں بےنظیر تھے، وضع قطع سے قلندر معلوم ہوتے تھے اور قلندروں کا سا لباس چرمی پہنتے تھے۔ جو کچھ زبان سے فرماتے تھے ویسا ہی ہو جاتا۔ آپ کے پیر و مرشد حضرت مخدوم صابر کلیری رحمتہ اللہ علیہ نے آپ کے متعلق فرمایا:
شمس ما در اولیاء چوں شمس است"
ہمارا شمس اولیاء میں سورج کی طرح ہے۔
آپ اپنے پیر دستگیر کی اجازت سے سلطان غیاث الدین بلبن کے لشکر میں ملازم ہوگئے۔ ریاضت، عبادت اور مجاہدہ کے ساتھ ساتھ آپ اپنے فرائض کو بھی بحسن و خوبی انجام دیتے رہے۔ آپ اپنا حال کسی پر ظاہر نہیں کرتے تھے ۔ باوجود امارت و اعزاز کے فقر و فاقہ میں گزارتے تھے ۔
نام و نسب:
اسمِ گرامی: حضرت خواجہ شمس الدین ۔ لقب: شمس الاولیاء ۔ ترکی النسل ہونے کی وجہ سے ترک، اور پانی پت میں قیام کی وجہ سے پانی پتی کہلاتے ہیں ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
شمس الدین ترک بن سید احمد بن سید عبدالمومن بن سید عبدالملک بن سید سیف الدین بن خواجہ ورعنابن بابا قرعنا ۔ علیہم الرضوان ۔
آپ کے آباؤ اجداد ترک کے رہنے والے تھے ۔ آپ ساداتِ علوی سے تھے ۔ آپ کا سلسلۂ نسب چند واسطوں سے حضرت محمد حنیفہ بن حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم تک پہنچتا ہے ۔
تاریخِ ولادت:
21 جمادی الثانی 597ھ کو بمقام مرخس ترکمانستان میں پیدا ہوئے ۔
تحصیل ِ علم:
آپ کی تعلیم و تربیت ترکمانستان میں ہوئی۔ آپ نے بہت جلد تفسیر، حدیث، فقہ، ریاضی، منطق، ہیئت، ہندسہ میں قابلیت حاصل کی۔جلد ہی علم معقول و منقول سے فارغ ہو کر علم باطنی کی طرف متوجہ ہوئے ۔
بیعت و خلافت:
حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر رحمتہ اللہ علیہ نے آپ کو خلافت سے سرفراز فرمایا، اور آپ سے فرمایا: تمھارا باقی حصہ دوسرے مرشد کے پاس ہے۔ "حصول نعمت و کمال تو موقوف بر مرشد دیگر است" ۔ تمہارا حصول نعمت و کمال دوسرے مرشد پر موقوف ہے ۔
آپ کو اپنے مرید و خلیفہ حضرت علاؤ الدین احمد صابر رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں کلیر روانہ کیا ۔ (اس وقت ایسا پیر نہیں دیکھا گیا کہ جو بابا فرید کے مقام پر فائز ہو اور آئے ہوئے شخص سے یہ کہے کہ تم فلاں شخص کے پاس چلے جاؤ، تمھارا حصہ ان کے پاس ہے ۔ اب تو یہ ہے کہ ایک ترغیبی مہم چلائی جاتی ہے کہ فلاں حضرت اس مقام پر فائز ہیں تم ان کے مرید ہو جاؤ، ماشاء اللہ لنگر مزیدار ہوتا ہے وغیرہ ۔ پھر صرف لنگر ہی ملتا ہے، خدا نہیں ملتا) حضرت مخدوم علاؤالدین احمد صابر (رحمۃ اللہ علیہ) نے آپ کو دیکھ کر فرمایا ۔
"اے شمس الدین! تو میرا فرزند ہے ۔ میں نے خدا سے چاہا کہ میرا سلسلہ تجھ سے جاری ہو اور قیامت تک رہے" ۔ آپ کو بیعت سے مشرف فرمایا ۔ سلسلۂ عالیہ چشتیہ کے مطابق آپ کو حلق کرایا ۔ کلاہ چہار ترکی آپ کے سر پر رکھی ۔ آپ گیارہ سال تک اپنے پیر و مرشد کی خدمت میں رہے ۔ پیر و مرشد کو وضو کرانے کی خدمت آپ کے سپرد تھی ۔ حضرت نے خرقۂ خلافت آپ کو عطا فرمایا اور اسم اعظم جو سینہ بسینہ چلا آتا تھا، آپ کو تعلیم کیا ۔
سیرت و خصائص:
شمس الاولیاء، بدر الاتقیاء، آئینہ جمال و جلال حقانی، قطبِ وقت، فیض یافتہ حضرت فرید الدین، و شیخ صابر، معارفِ علومِ ربانی حضرت شمس الدین ترک پانی پتی رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ علیہ الرحمہ صوفیِ باصفا اور کاملانِ اولیاء میں سے تھے ۔ تلاش کے حق کے جذبے سے متاثر ہو کر آپ نے اپنے وطن عزیز کو خیرباد کہا ۔ اول ترکستان کی سیر و سیاحت فرمائی ۔ جب وہاں کوئی مرشد کامل نہیں ملا تو ماور النہر تشریف لائے ۔ وہاں بہت سے بزرگوں سے ملے، لیکن آپ کو تسکین نہیں ہوئی ۔ماوراء النہر سے ملتان تشریف لائے۔ملتان سے اجودہن (پاک پتن) آئے اور حضرت بابا فریدالدین گنج شکر رحمتہ اللہ علیہ کی قدم بوسی سے مشرف ہوئے۔ آپ نے کچھ عرصہ حضرت بابا گنج شکر رحمتہ اللہ علیہ کی خدمت بابرکت میں رہ کر فیوض و برکات باطنی حاصل کئے ۔
آپ صاحب عظمت و ولایت تھے۔علم ظاہری و باطنی میں اپنی مثال آپ تھے۔ زہد و تقویٰ آپ کا مشہور تھا۔ ترک و تجرید، ریاضت، مجاہدہ اور عبادمت میں بےنظیر تھے، وضع قطع سے قلندر معلوم ہوتے تھے اور قلندروں کا سا لباس چرمی پہنتے تھے۔ جو کچھ زبان سے فرماتے تھے ویسا ہی ہو جاتا۔ آپ کے پیر و مرشد حضرت مخدوم صابر کلیری رحمتہ اللہ علیہ نے آپ کے متعلق فرمایا:
شمس ما در اولیاء چوں شمس است"
ہمارا شمس اولیاء میں سورج کی طرح ہے۔
آپ اپنے پیر دستگیر کی اجازت سے سلطان غیاث الدین بلبن کے لشکر میں ملازم ہوگئے۔ ریاضت، عبادت اور مجاہدہ کے ساتھ ساتھ آپ اپنے فرائض کو بھی بحسن و خوبی انجام دیتے رہے۔ آپ اپنا حال کسی پر ظاہر نہیں کرتے تھے ۔ باوجود امارت و اعزاز کے فقر و فاقہ میں گزارتے تھے ۔
فضل و کمال:
سلطان غیاث الدین بلبن نے ایک قلعہ کا محاصرہ کیا۔ آپ شاہی لشکر کے ساتھ تھے۔ قلعہ فتح نہ ہو سکا، لیکن محاصر چھ ماہ تک بدستور جاری رہا ۔ ایک رات آندھی اور بارش کے طوفان سے لشکر والوں کے خیمے گر پڑے ۔ ہر طرف اندھیرا ہو گیا ۔ آگ بُجھ گئی ۔ ایک بہشتی (پانی بھرنے والا) لوٹا لے کر سلطان بلبن کے وضو کے لئے پانی گرم کرنے کے واسطے آگ تلاش کرنے نکلا۔ اس کی نگاہ آپ کے خیمے پر پڑی کہ بدستور قائم تھا۔ جب نزدیک پہنچے، دیکھا کہ ایک درویش چراغ کی روشنی میں قرآن پاک کی تلاوت کر رہا ہے اگرچہ طوفان سخت تیز تھا مگر چراغ بجھنے نہ پاتا تھا۔ وہ بہشتی خیمہ میں جاکر خاموش کھڑا ہوگیا۔ آپ نے اس کی طرف دیکھ کر فرمایا کہ اگر آگ چاہے تولے جاؤ، اس بہشتی نے لکڑی سلگائی اور واپس چلا گیا۔ دوسرے روز وہ پھر آیا، لیکن آپ کو خیمہ میں نہ پایا ۔
وہاں سے تالاب پر پانی بھرنے گیا تو کیا دیکھتا ہے کہ آپ وضو کر رہے ہیں۔ وہ ایک طرف چھپ کر کھڑا ہوگیا آپ کے جانے کے بعد اس نے مشک بھری تو پانی کو خوب گرم پایا، اس کو سخت حیرت ہوئی، اگلے روز علی الصبح آپ کے پہنچنے سے قبل وہ تالاب پر گیا، پانی کو سرد پایا، وہ ایک جگہ چھپ کر بیٹھ گیا، تھوڑی دیر بعد آپ تشریف لائے اور وضو کیا، آپ کے جانے کے بعد اس نے جو مشک بھری تو پانی گرم پایا، اب اس کو یقین ہوا کہ بس آپ کی برکت کا نتیجہ ہے۔ اس نے سلطان بلبن سے ذکر کیا۔ سلطان بلبن اس کو ہمراہ لےکر اس تالاب پر پہنچا، پانی کو سرد پایا، سلطان بلبن اور وہ ایک جگہ چھپ کر بیٹھ گئے، آپ تالاب پر تشریف لائے اور وضو کیا، آپ کے جانے کے بعد سلطان بلبن نے جو تالاب پر جاکر دیکھا تو پانی گرم پایا، اس کو کامل یقین ہوا کہ آپ کامل درویش ہیں ۔
سلطان بلبن آپ کے خیمہ میں گیا، آداب بجا لایا۔ اور کہا: میں بہت خوش قسمت ہوں آپ جیسے کامل میرے لشکر میں موجود ہیں۔ آپ سے دعا کا طالب ہوا، آپ نے دعا کی اور دو دن میں قلعہ فتح ہوگیا۔ آپ سے جب کرامت کا اظہار ہوا اور سلطان بلبن اور لشکر والے آپ کے حال سے خبردار ہوئے تو آپ ملازمت سے مستعفی ہوکر کلیر آگئے۔ پیر و مرشد کےحکم سے پانی پت پہنچے، اور وہاں دین اسلام کے چراغ روشن کیے، اور لوگ جوق در جوق آپ کی خدمت میں حاضر ہوکر مشرف بااسلام ہونے لگے۔ فاسق و فاجر تائب ہوکر نیکی کی زندگی گزارنے لگے۔
اولیاء کرام جہاں بھی تشریف لے گئے، اپنے اخلاق و کردار اور سیرت سے اسلام کی تفسیر بیان کرتے تھے۔ صرف قال نہیں ہوتا تھا، قال کے ساتھ حال بھی ہوتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ ان کے اخلاق اور کردار سے متائثر ہوکر حلقہ بگوش اسلام ہوجاتےتھے۔پاک و ہند،اور بنگلہ دیش میں جو اکثریت مسلمانوں کی نظر آرہی ہے یہ کسی کی دعوت و تبلیغ کا نتیجہ نہیں ہے، بلکہ یہ تو اولیاء کرام کا فیضان و احسان ہے ۔
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 15 جمادی الثانی 716ھ کو ہوا ۔ آپ کا مزار شریف پانی پت انڈیا میں مرجعِ خلائق ہے ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ اولیائے پاک و ہند ۔ اقتباس الانوار ۔ انسائیکلوپیڈیا اولیائے کرام ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-shamsuddin-tark-panipati
سلطان غیاث الدین بلبن نے ایک قلعہ کا محاصرہ کیا۔ آپ شاہی لشکر کے ساتھ تھے۔ قلعہ فتح نہ ہو سکا، لیکن محاصر چھ ماہ تک بدستور جاری رہا ۔ ایک رات آندھی اور بارش کے طوفان سے لشکر والوں کے خیمے گر پڑے ۔ ہر طرف اندھیرا ہو گیا ۔ آگ بُجھ گئی ۔ ایک بہشتی (پانی بھرنے والا) لوٹا لے کر سلطان بلبن کے وضو کے لئے پانی گرم کرنے کے واسطے آگ تلاش کرنے نکلا۔ اس کی نگاہ آپ کے خیمے پر پڑی کہ بدستور قائم تھا۔ جب نزدیک پہنچے، دیکھا کہ ایک درویش چراغ کی روشنی میں قرآن پاک کی تلاوت کر رہا ہے اگرچہ طوفان سخت تیز تھا مگر چراغ بجھنے نہ پاتا تھا۔ وہ بہشتی خیمہ میں جاکر خاموش کھڑا ہوگیا۔ آپ نے اس کی طرف دیکھ کر فرمایا کہ اگر آگ چاہے تولے جاؤ، اس بہشتی نے لکڑی سلگائی اور واپس چلا گیا۔ دوسرے روز وہ پھر آیا، لیکن آپ کو خیمہ میں نہ پایا ۔
وہاں سے تالاب پر پانی بھرنے گیا تو کیا دیکھتا ہے کہ آپ وضو کر رہے ہیں۔ وہ ایک طرف چھپ کر کھڑا ہوگیا آپ کے جانے کے بعد اس نے مشک بھری تو پانی کو خوب گرم پایا، اس کو سخت حیرت ہوئی، اگلے روز علی الصبح آپ کے پہنچنے سے قبل وہ تالاب پر گیا، پانی کو سرد پایا، وہ ایک جگہ چھپ کر بیٹھ گیا، تھوڑی دیر بعد آپ تشریف لائے اور وضو کیا، آپ کے جانے کے بعد اس نے جو مشک بھری تو پانی گرم پایا، اب اس کو یقین ہوا کہ بس آپ کی برکت کا نتیجہ ہے۔ اس نے سلطان بلبن سے ذکر کیا۔ سلطان بلبن اس کو ہمراہ لےکر اس تالاب پر پہنچا، پانی کو سرد پایا، سلطان بلبن اور وہ ایک جگہ چھپ کر بیٹھ گئے، آپ تالاب پر تشریف لائے اور وضو کیا، آپ کے جانے کے بعد سلطان بلبن نے جو تالاب پر جاکر دیکھا تو پانی گرم پایا، اس کو کامل یقین ہوا کہ آپ کامل درویش ہیں ۔
سلطان بلبن آپ کے خیمہ میں گیا، آداب بجا لایا۔ اور کہا: میں بہت خوش قسمت ہوں آپ جیسے کامل میرے لشکر میں موجود ہیں۔ آپ سے دعا کا طالب ہوا، آپ نے دعا کی اور دو دن میں قلعہ فتح ہوگیا۔ آپ سے جب کرامت کا اظہار ہوا اور سلطان بلبن اور لشکر والے آپ کے حال سے خبردار ہوئے تو آپ ملازمت سے مستعفی ہوکر کلیر آگئے۔ پیر و مرشد کےحکم سے پانی پت پہنچے، اور وہاں دین اسلام کے چراغ روشن کیے، اور لوگ جوق در جوق آپ کی خدمت میں حاضر ہوکر مشرف بااسلام ہونے لگے۔ فاسق و فاجر تائب ہوکر نیکی کی زندگی گزارنے لگے۔
اولیاء کرام جہاں بھی تشریف لے گئے، اپنے اخلاق و کردار اور سیرت سے اسلام کی تفسیر بیان کرتے تھے۔ صرف قال نہیں ہوتا تھا، قال کے ساتھ حال بھی ہوتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ ان کے اخلاق اور کردار سے متائثر ہوکر حلقہ بگوش اسلام ہوجاتےتھے۔پاک و ہند،اور بنگلہ دیش میں جو اکثریت مسلمانوں کی نظر آرہی ہے یہ کسی کی دعوت و تبلیغ کا نتیجہ نہیں ہے، بلکہ یہ تو اولیاء کرام کا فیضان و احسان ہے ۔
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 15 جمادی الثانی 716ھ کو ہوا ۔ آپ کا مزار شریف پانی پت انڈیا میں مرجعِ خلائق ہے ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ اولیائے پاک و ہند ۔ اقتباس الانوار ۔ انسائیکلوپیڈیا اولیائے کرام ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-shamsuddin-tark-panipati
scholars.pk
Hazrat Khawaja Shamsuddin Tark Panipati
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
20-06-1445 ᴴ | 03-01-2024 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
21-06-1445 ᴴ | 04-01-2024 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1