🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.85K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
📗 *فیضان خلاصہ تراویح*📗

✍🏻 *ابو بنتین محمد فراز عطاری مدنی*

🔰 *تیرہواں پارہ، وَ مَاۤ اُبَرِّئُ*

📢 زلیخا کے اقرار اور اعتراف کے بعد حضرت یوسف علیہ السلام نے جب یہ فرمایا کہ میں  نے اپنی براءت کا اظہار اس لئے چاہا تھا تاکہ عزیز کو یہ معلوم ہوجائے کہ میں  نے اس کی غیر موجودگی میں  خیانت نہیں  کی اور اس کے اہلِ خانہ کی حرمت خراب کرنے سے بچا رہا ہوں  اور جو الزام مجھ پر لگائے گئے ہیں  میں  اُن سے پاک ہوں  تو اس کے بعد حضرت یوسف علیہ السلام   کا خیال مبارک اس طرف گیا کہ میری ان باتوں  میں  اپنی طرف پاکی کی نسبت اور اپنی نیکی کا بیان ہے، ایسا نہ ہو کہ اس میں  کسی قسم کی خودپسندی کا شائبہ آنے کی کوشش کرے، چنانچہ آپ علیہ السلام نے اللہ پاک کی بارگاہ میں  عاجزی و انکساری کا اظہار کرتے ہوئے عرض کیا کہ’’اے میرے اللہ پاک! نہ میں  اپنے نفس کو بے قصور بتاتا ہوں  نہ مجھے اپنی بے گناہی پر ناز ہے اور نہ میں  گناہ سے بچنے کو اپنے نفس کی خوبی قرار دیتا ہوں ،نفس کی جنس کا تویہ حال ہے کہ وہ برائی کا بڑا حکم دینے والا ہے، لیکن میرا رب قدیر  اپنے جس مخصوص بندے کو اپنے فضل وکرم سے معصوم کردے تو اس کا برائیوں سے بچنا اللہ پاک کے فضل اور اس کی رحمت سے ہے اور معصوم کرنا اللہ پاک   کا کرم ہے،بیشک میرا اللہ پاک اپنے بندوں  کے گناہوں  کوبخشنے والا اور ان پر مہربان ہے۔     
حضرت یوسف علیہ السلام نے بادشاہ سے فرمایا:  اپنی سلطنت کے تمام خزانے میرے سپرد کردے، بے شک میں  خزانے کی حفاظت کرنے والا اور ان کے مَصارف کو جاننے والا ہوں ۔ بادشاہ نے کہا آپ  علیہ السلام سے زیادہ اس کا مستحق اور کون ہوسکتا ہے ؟ چنانچہ بادشاہ نے حضرت یوسف علیہ السلام کے اس مطالبے کو منظور کرلیا۔    

👑 حکومت طلب کرنے کے ایک سال بعد بادشاہ نے حضرت یوسف علیہ السلام کو بلا کر آپ علیہ السلام کی تاج پوشی کی، تلوار اور مُہر آپ علیہ السلام    کے سامنے پیش کی، آپ علیہ السلام  کو جواہرات لگے ہوئے سونے کے تخت پر تخت نشین کیا، اپنا ملک آپ علیہ السلام  کے سپرد کیا ،عزیزِ مصر کو معزول کرکے آپ علیہ السلام    کو اس کی جگہ والی بنایا اور تمام خزانے آپ علیہ السلام کے حوالے کردئیے، سلطنت کے تمام اُمور آپ علیہ السلام کے ہاتھ میں دے دیئے اور خود اس طرح فرمانبردار ہوگیا کہ آپ علیہ السلام کی رائے میں دخل نہ دیتا اور آپ علیہ السلام کے ہر حکم کو مانتا۔
آپ علیہ السلام نے زرعی نظام کو بہت اچھے انداز سے چلایا اور خوشحالی کے سات سالوں کےلیے مستقبل کیلئے منصوبہ بندی کی، یہاں تک کہ جب شہروں میں قحط سالی عام ہوگئی، مصر کی معیشت انتہائی مضبوط و مستحکم ہوچکی تھی، قحط سالی اپنے عروج پر پہنچی تو غلے کے حصول کے لیے شہروں سے قافلے مصر پہنچنا شروع ہو گئے۔ یوسف علیہ السلام کے بھائیوں نے بھی مصر کا رخ کیا، جب مصر کے محل میں داخل ہوئے تو یوسف علیہ السلام اپنے بھائیوں کو پہچان گئے، جبکہ وہ یوسف علیہ السلام کو نہ پہچان سکے، یوسف علیہ السلام نے باتوں ہی باتوں میں فرمایا کہ اگلی مرتبہ اپنے بھائی بنیامین کو بھی ساتھ لے آنا، دراصل بنیامین چھوٹے تھے اور یوسف علیہ السلام کے سگے بھائی تھے یعنی ان کی اور یوسف علیہ السلام کی والدہ ایک تھیں، یوسف علیہ السلام نے فرمایا کہ اگر تم اپنے بھائی کو ساتھ نہ لائے تو تمہیں غلے میں سے کچھ بھی نہیں ملے گا، بعد میں حضرت یوسف  علیہ السلام نے اپنے غلاموں سے فرمایا کہ ان لوگوں نے غلے کی جو قیمت دی ہے ، غلے کے ساتھ ساتھ وہ رقم بھی ان کی بوریوں  میں  واپس رکھ دو تاکہ جب وہ اپنا سامان کھولیں تو اپنی جمع شدہ رقم انہیں مل جائے اور قحط کے زمانے میں  کام آئے ،نیز یہ رقم پوشیدہ طور پر اُن کے پاس پہنچے تاکہ اُنہیں  لینے میں  شرم بھی نہ آئے اور یہ کرم و احسان دوبارہ آنے کے لئے اُن کی رغبت کا باعث بھی ہو۔
یوسف علیہ السلام کے بھائی یعقوب علیہ السلام کے پاس پہنچے تو انھوں نے عزیز مصر یوسف علیہ السلام کی بہت تعریف کی اور ساتھ یہ بھی بتایا ہےکہ عزیز مصر کی یہ خواہش ہےکہ ہم اپنے چھوٹے بھائی کو بھی ساتھ لے کر جائیں، یعقوب علیہ السلام نے جواب میں کہا کہ کیا میں اسی طرح تم پر بھروسہ کرلوں جس طرح میں نے یوسف علیہ السلام کے معاملے میں تم پراعتماد کیا تھا؟ اس پر یعقوب علیہ السلام کے بیٹے خاموش ہوگئے جب غلے کو کھولا گیا تو اس میں غلےکے ساتھ جو خریدنے کے لیے رقم تھی وہ بھی موجود تھی تو یعقوب علیہ السلام کے بیٹوں نے کہا کہ یہ دیکھیے، عزیزِ مصر نے تو ہماری پونجی بھی واپس کردی، اب یعقوب علیہ السلام نے کہا کہ بنیامین کو تمہارے ساتھ صرف اسی صورت میں روانہ کروں گا کہ تم اس کی حفاظت کی قسم کھاؤ، بیٹوں نے یعقوب علیہ السلام کے سامنے حلف لیا۔ یعقوب علیہ السلام نے اپنے بیٹوں کو کچھ نصیحتیں کیں کہ جب مصر میں داخلے کا وقت آئے تو علیحدہ علیحدہ دروازوں سے داخل ہونا کیونکہ جب تم ایک ہی دروازے سے داخل ہوگے تو ممکن ہے تم
ہیں نظر لگ جائے،
جب دوبارہ یوسف علیہ السلام کے بھائی ان کے پاس پہنچے تو یوسف علیہ السلام نے بنیامین کو علیحدہ کر لیا اور ان سے کہا میں آپ کا بھائی یوسف ہوں۔
جب حضرت یوسف علیہ السلام  نے انہیں ان کا سامان مہیا کر دیا اور ان میں  سے ہر ایک کو ایک اونٹ کا بوجھ غلہ دیدیا اور ایک اونٹ کا بوجھ بنیامین کے لئے خاص کر دیا تو اپنے بھائی بنیامین کی بوری میں بادشاہ کا وہ پیالہ رکھ دیا جس میں وہ پانی پیتا تھا، وہ پیالہ سونے کا تھا اور اس میں جواہرات لگے ہوئے تھے اور اس وقت اس پیالے سے غلہ ناپنے کا کام لیا جاتا تھا ۔ قافلہ کنعان جانے کے ارادے سے روانہ ہوگیا ۔جب قافلہ شہر سے باہر جاچکا تو انبار خانہ کے کارکنوں کو معلوم ہوا کہ پیالہ نہیں  ہے، اُن کے خیال میں  یہی آیا کہ یہ پیالہ قافلے والے لے گئے ہیں ، چنانچہ اُنہوں    نے اس کی جستجو کے لئے آدمی بھیجے، ان میں سے ایک مُنادی نے ندا کی: اے قافلے والو! بیشک تم چور ہو،یعقوب علیہ السلام کے بیٹوں نے کہا اللہ کی قسم ہم زمین پر فساد پھیلانے والے نہیں اور نہ ہی ہم چور ہیں اس پر ان سے کہا گیا کہ تم میں سے کسی کے سامان میں سے بادشاہ کا پیالہ نکل آیا تو اس کی کیا سزا ہوگی جواب میں انہوں نے کہا کہ جس کے سامان میں وہ پیالہ ملے تو اِس کے بدلے میں وہ اپنی گردن چیز کے مالک کے سپرد کر دے اور وہ مالک ایک سال تک اسے غلام بنائے رکھے ۔ حضرت یعقوب علیہ السلام کی شریعت میں چونکہ چوری کی یہی سزا مقرر تھی اس لئے انہوں نے کہا کہ ہمارے یہاں ظالموں کی یہی سزا ہے۔ حضرت یوسف علیہ السلام   نے اپنے بھائی بنیامین کے سامان کی تلاشی لینے  سے پہلے دوسروں کے سامان کی تلاشی لینا شروع کی، تلاشی لیتے ہوئے جب بنیامین کے سامان تک پہنچے تو حضرت یوسف علیہ السلام  نے فرمایا ’’میرا گمان ہے کہ پیالہ اس کے ہی سامان میں     ہو گا۔ بھائیوں نے کہا: خدا کی قسم ! ہم اسے نہیں چھوڑیں  گے جب تک کہ آپ علیہ السلام   ا س کے سامان کی تلاشی نہ لے لیں ، اسی میں آپ کے لئے اور ہمارے لئے بہتری ہے۔ جب حضرت یوسف علیہ السلام نے بنیامین کے سامان کی تلاشی لی توپیالے کو اس کے سامان سے برآمد کر لیا۔

📢 بادشاہی قانون میں     حضرت یوسف علیہ السلام کیلئے درست نہیں تھا کہ اپنے بھائی کو لے لیں کیونکہ بادشاہِ مصر کے قانون میں  چوری کی سزا مارنا اور دگنا مال لے لینا مقرر تھی۔ یہ بات اللہ پاک کی مَشِیَّت سے ہوئی کہ حضرت  یوسف علیہ السلام  کے دل میں  ڈال دیا کہ سزا بھائیوں سے دریافت کریں اور بھائیوں کے دل میں ڈال دیا کہ وہ اپنے طریقے کے مطابق جواب دیں۔
خیال رہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام   نے اس حیلہ میں     نہ تو جھوٹ بولا کیونکہ آپ علیہ السلام کے خادم نے کہا تھا کہ تم چور ہو اور خادم بے خبر تھا، نہ آپ علیہ السلام نے بھائی پر چوری کا بہتان لگایا، بلکہ جو کچھ کیا گیا خود بنیامین کے مشورہ سے کیا گیا، اسی لئے اللہ پاک نے اس کی تعریف فرمائی اور فرمایا   ’’كَذٰلِكَ كِدْنَا لِیُوْسُفَ‘‘ یہ تدبیر یوسف کو ہم نے سکھائی۔   

🧉جب پیالہ نکل آیا ہے تو بھائیوں  نے کہا ’’اے عزیز! اس کے والد عمر میں  بہت بڑے ہیں ، وہ اس سے محبت رکھتے ہیں  اور اسی سے ان کے دل کو تسلی ہوتی ہے۔ آپ ہم میں  سے کسی ایک کو غلام بنا کر یا فدیہ ادا کرنے تک رہن کے طور پر رکھ لیں  بیشک ہم آپ کو احسان کرنے والا دیکھ رہے ہیں  کہ آپ نے ہمیں  عزت دی، کثیر مال ہمیں  عطا کیا، ہمارا مطلوب اچھی طرح پورا ہوا اور ہمارے غلے کی قیمت بھی ہمیں  لوٹا دی۔ حضرت یوسف علیہ السلام   نے فرمایا ’’اس بات سے اللہ پاک کی پناہ کہ جس کے پاس ہم نے اپنا سامان پایا ہے اس کے علاوہ کسی اور کو پکڑ یں  کیونکہ تمہارے فیصلہ کے مطابق ہم اسی کو لینے کے مستحق ہیں  جس کے کجاوے میں  ہمارا مال ملا ہے، اگر ہم اس کی بجائے دوسرے کو لیں  تو یہ تمہارے دین میں  ظلم ہے ، لہٰذا تم ا س چیز کا تقاضا کیوں  کرتے ہو جس کے بارے میں  جانتے ہو کہ وہ ظلم ہے۔
جب بنیامین کے ملنے سے بھائی مایوس ہوگئے تو ان میں سے ایک نے کہا کہ اب والد صاحب کو کیا منہ دکھائیں گے؟ میں تو یہاں سے جانے والا نہیں جب تک اللہ کوئی راستہ نہ نکال دے یا والد صاحب اجازت دے دیں۔
باقی بھائی واپس لوٹے ، یعقوب علیہ السلام کو واقعہ سنایا تو آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ چوری کی نسبت بنیامین کی طرف درست نہیں اور عنقریب اللہ پاک یوسف علیہ السلام اور ان کے دونوں بھائیوں کو مجھ سے ملا دے گا۔یعقوب علیہ السلام نے فرمایا کہ جاؤ اور بنیامین کو تلاش کرو،
اب یوسف علیہ السلام کے بھائی دوبارہ مصر آئے تو حالات بدلے ہوئے تھے،انہوں نے یوسف علیہ السلام کے پاس آکر اپنی غربت کی شکایت کی، یوسف علیہ السلام اپنے بھائیوں کی لاچارگی برداشت نہ کرسکے اور انہوں نے پوچھا کہ تمہیں معلوم ہے تم نے اپنے دور جاہلیت میں یوسف علیہ السلام اور اس کے بھائی کے ساتھ کیا کیا تھا؟ تو بھائیوں نے کہا کہ کہ آپ اس کو کیسے جانتے ہیں؟ آ
پ یوسف تو نہیں ہیں ؟کہا ہاں میں ہی یوسف ہوں اور بنیامین میرا بھائی ہے، اللہ نے ہم پر احسان کیا، بے شک جو صبر اور تقویٰ اختیار کرتا ہے اللہ پاک اس کا اجر ضائع نہیں فرماتا، یوسف علیہ السلام کے والد یعقوب علیہ السلام یوسف علیہ السلام کے غم سے آنسو بہاتے رہتے تھے اسی وجہ سے ان کی بینائی میں کمزوری آچکی تھی اور اب بنیامین بھی وہیں رک گئے تھے، یوسف علیہ السلام نے اپنے بھائیوں کو کہا کہ یہ میری قمیض ہےاسے لے جاؤ اور اپنے والد کے چہرے پر ڈالنا ان کی بینائی کی کمزوری ختم ہوجائے گی۔ اور یہ وہی قمیص تھی جو
جبرئیل علیہ السلام نے یوسف علیہ السلام کو عطا کی تھی جب آپ علیہ السلام کے بھائیوں نے آپ کو کنویں میں ڈالا تو سارا کنواں روشن ہو گیا تھا اور یہ وہ قمیص تھی جو ابراہیم علیہ السلام نے اس وقت پہنی ہوئی تھی جب نمرود نےآپ کو آگ میں ڈالا تھا گویا کہ یہ تبرکات کا مجموعہ تھا۔
یوسف علیہ السلام نے فرمایا آئندہ اپنے والد یعقوب علیہ السلام کو بھی ہمارے پاس لے کر آنا یعقوب علیہ السلام کے بیٹے جب آپ قمیص لے کر روانہ ہوئے تو یعقوب علیہ السلام نے اپنے گھر والوں کو کہا کہ مجھے یوسف علیہ السلام کی خوشبو آ رہی ہے حالانکہ ابھی قمیص کافی فاصلے پر تھی گھر والوں نے اس بات کو نہ سمجھا اور کہنے لگے کہ شاید آپ یوسف علیہ السلام کی محبت کی وجہ سے ایسا کہہ رہے ہیں،
جب مصر سے آپ کے بیٹے آئے اور انہوں نے آپ کے چہرے پر قمیص ڈالی تو یعقوب علیہ السلام کی بینائی کی کمزوری ختم ہوگئی، یعقوب علیہ السلام کے بیٹے شرمندہ ہوئے اور انھوں نے معافی مانگی اور یعقوب علیہ السلام سے عرض کی کہ اپ اللہ پاک کی بارگاہ میں ہمارے لئے استغفار کریں۔اسکے بعد سب اہل خانہ مصر کو روانہ ہوئے شہر سے باہر سرکاری پروٹوکول کے ساتھ ان کا استقبال کیا گیا اور دربار شاہی میں پہنچتے ہی والدین اور 11 بھائی یوسف علیہ السلام کے سامنے سجدہ ریز ہو گئے، پچھلی شریعتوں میں سجدہ تعظیمی جائز تھا، سجدہ عبادت تو کبھی بھی کسی شریعت میں بھی جائز نہیں ہوا۔یوسف علیہ السلام نے کہا کہ اے میرے والد یہ میرے اس پہلے خواب کی تعبیر ہے بیشک میرے رب نے اس کو سچ کر دکھایا اوراس نے مجھ پر احسان فرمایا۔ یوسف علیہ السلام نے اللہ پاک کی بارگاہ میں کلمات شکر ادا کیے کہ اے میرے رب تو نے مجھے حکمت عطا کی اور مجھے خوابوں کی تعبیر کا علم عطا فرمایا، آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والے تو ہی دنیا اور آخرت میں میرا کام بنانے والا ہے، مجھے دنیا سے مسلمان اٹھانا اور مجھے نیک بندوں کے سات ملا دینا۔

🔚 سورت کے اختتام پر بتایا گیا کہ قرآن کے بیان کردہ واقعات میں ہمارے لیے درس عبرت ہے۔ پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی تسلی دی گئ اور مشرکین مکہ کو بھی تنبیہ کی گئ کہ تم بھی میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف دینے سے باز آجاؤ ورنہ تمہارا بھی انجام ویسا ہی ہوگا جیسا پچھلی امتوں کا ہوا۔
📱 +923212094919
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
⛈️ *سورہ رعد*

اس میں 6 رکوع اور 43 آیتیں ہیں۔
 
*وجہ*
رعد، بادلوں سے پیدا ہونے والی گرج کو کہتے ہیں اور بعض مفسرین کے نزدیک بادل پر مامور ایک فرشتے کا نام رعد ہے ،اور ا س سورت کا یہ نام آیت نمبر 13 میں مذکور لفظ’’ اَلرَّعْدُ ‘‘ کی مناسبت سے رکھا گیا ہے۔ 

سورہ رعد میں تینوں بنیادی عقائد توحید، رسالت اور آخرت پر گفتگو کی گئی ہے۔
اس کی پہلی آیت میں حقانیت قرآن کا بیان کیا گیا ہے اور جن سورتوں کا آغاز حروف مقطعات سے ہوتا ہے ان کی ابتدا میں عام طور پر قرآن کا ذکر ہوتا ہے۔

☁️ اس کے بعد اللہ پاک کی قدرت و جلالت کا بیان ہے کہ بغیر ستونوں کے آسمانوں کو قائم رکھنا، سورج اور چاند کو ایک نظام کے ساتھ چلانا،زمین کا پھیلاؤ اور اس میں پہاڑوں کو لنگر کی طرح قائم رکھنا، دریاؤں کی روانی، دن و رات کا نظام، طرح طرح کے پھل انگوروں اور کھجوروں کے باغات اور امور کائنات کی تدبیر وغیرہ یہ سب اللہ پاک کی قدرت پر دلالت کرنے والی چیزیں ہیں، اللہ پاک کے علم و قدرت کا مزید بیان ہے کہ ماں کے پیٹ میں کیا ہے یہ اللہ پاک ہی جانتا ہے اور اس بچے کی نیکی بدی اور علم و جہالت اور زندگی کے ماہ و سال ان تمام باتوں کا علم اللہ پاک کے پاس ہے اور اللہ پاک جس کو یہ علم عطا فرمانا چاہے اپنی مشیت سے عطا فرماتا ہے۔

🌨️ بارش سے بھرے ہوئے بادل، بجلی کی چمک اور کڑک یہ اللہ کی تسبیح و تحمید کرتے ہیں اور فرشتے بھی خوف اور ڈر کے ساتھ اللہ پاک کی حمد کرتے رہتے ہیں۔آسمان و زمین میں جو بھی چیز ہے وہ سب اللہ ہی کو سجدہ کر رہی ہے۔اور پھر دلوں کے اطمینان کے لئے ایک نسخہ عطا فرما دیا اور وہ ہے اللہ کا ذکر۔
اور آخر میں کفار کی مذمت پر یہ سورت مکمل ہوتی ہے
📱 +923212094919
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
☘️ *سورہ ابراہیم*

اس سورت میں 7 رکوع اور  52  آیتیں ہیں ۔ 

وجہ
  اس سورت کی آیت نمبر 35  تا 41  میں  حضرت ابراہیم  علیہ السلام کی اطاعتِ الٰہی کے حسین واقعے اور آپ کی دعاؤں  کو بیان کیا گیا ہے، اس مناسبت سے اس سورت کا نام ’’سورۂ ابراہیم‘‘ رکھا گیا۔ 

🕕 سورہ ابراہیم کے شروع میں ایک بار پھر قرآن کی حقانیت اور اللہ پاک کی قدرت و اختیار کا ذکر ہوا ہے، لیکن کفار دنیا کو ترجیح دیتے ہیں، حق کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں اور اپنی کم بختی کے باعث فضول باتوں کے طلب گار رہتے ہیں، اس میں انبیاء کرام علیہم السلام کا اختصار کے ساتھ ذکر بھی موجود ہے اور خاص طور پر سیدنا ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کا واقعہ بھی موجود ہے، پھر بتایا گیا کہ ہر قوم میں ان کی زبان میں سمجھانے والے نبی ہم نے مبعوث فرمائے، پھر موسی علیہ السلام اور ان کی قوم کا تذکرہ ہے اللہ پاک نے بنی اسرائیل پر نعمتیں اتاریں، فرعون کے بدترین عذاب کا بیان ہے شکر کرنے سے نعمت میں اضافہ ہوتا ہے نا شکری سے نعمتیں زائل ہوجاتی ہیں،

📝 اس کے بعد قوم نوح، قوم عاد اور قوم ثمود کا دوبارہ ذکر ہوا۔ آیت نمبر 21 میں بتایا گیا کہ قیامت کے دن جب مجرمین کو آپس میں بات چیت کرنے کا موقع ملے گا تو وہ ایک دوسرے پر اعتراض کرنے لگیں گے کہ دنیا میں تم نے ہم کو گناہ کروا دیا تھا اب عذاب کو بھی ہم سےدور کرو، وہ کہیں گے کہ ہم تو خود عذاب میں پھنسے ہیں تمہیں کس طرح بچاسکتے ہیں؟ پھر شیطان کی طرف متوجہ ہو کر شیطان کو ملامت کریں گے شیطان کہے گا کہ مجھے کیوں ملامت کرتے ہو؟ تم خود برائی کے راستے پر چلے تھے۔

🌳 اس کے بعد ایمان اور کفر کی مثال دی گئی جس طرح کھجور کے درخت کی جڑیں زمین کی گہرائی میں  موجود  ہوتی ہیں  اور اس کی شاخیں آسمان میں پھیلی ہوئی ہوتی ہیں اور وہ  اللہ پاک کے حکم سے ہر وقت پھل دیتا ہے ایسے ہی کلمۂ ایمان ہے کہ اس کی جڑ مومن کے دل کی زمین میں ثابت اور مضبوط ہوتی ہے اور اس کی شاخیں یعنی عمل آسمان میں    پہنچتے ہیں اور اس کے ثَمرات یعنی برکت و ثواب ہر وقت حاصل ہوتے ہیں۔
🥀 اور کفریَہ کلام کی مثال اندرائن جیسے کڑوے مزے اور ناگوار بو والے پھل کے درخت کی طرح ہے جو زمین کے اوپر سے کاٹ دیا گیا ہو تو اب اسے کوئی قرار نہیں کیونکہ اس کی جڑیں زمین میں ثابت و مستحکم نہیں اور نہ ہی اس کی شاخیں بلند ہوتیں  ہیں  یہی حال کفریہ کلام کا ہے کہ اس کی کوئی اصل ثابت نہیں  اور وہ کوئی دلیل وحجت نہیں رکھتا جس سے اسے استحکام ملے اورنہ اس میں کوئی خیر وبرکت ہے کہ وہ قبولیت کی بلندی پر پہنچ سکے۔ 

🕋 آیت نمبر 37 میں اس واقعے کا ذکر ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اللہ کے حکم سے حضرت ہاجرہ رضی اللہ عنھا اور اسماعیل علیہ السلام کو مکہ کی زمین میں چھوڑ کر آئے تو رخصت ہوتے وقت اللہ پاک سے دعا کی کہ اے ہمارے رب میں نے اپنی بعض اولاد کو تیری حرمت والے گھر کے نزدیک ایسی زمین میں ٹھہرا دیا ہے جہاں کھیتی نہیں ہوتی تاکہ وہ نماز کو قائم رکھیں، تو ان لوگوں کے دلوں کو اس کی طرف مائل فرمادے اور ان کو پھلوں سے روزی عطا فرما۔ آپ کی دعا کی برکت ہے وہاں ہر موسم کے پھل ملتے ہیں اور لوگوں کے دل اس طرف مائل رہتے ہیں

🌹 پھر یہ بیان کیا گیا کہ اللہ پاک بڑی عمر میں ابراہیم علیہ السلام کو اولاد عطا فرمائے گا جو اسماعیل علیہ السلام اور اسحاق علیہ السلام ہیں، پھر اس کے بعد ظالموں کی گرفت کے آسمانی نظام کا تذکرہ ہے کہ ظالموں کو آزادی کے ساتھ دندناتے ہوئے پھرتا دیکھو تو دھوکہ مت کھانا ، اسکے بعدکہا گیا کہ جس دن خوف سے سب کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں گی اس دن عرض کریں گے کہ ہمارے رب ہمیں کچھ مہلت دے تاکہ ہم تیرے پیغام کو قبول کریں، رسول کی پیروی کریں اللہ پاک فرمائے گا کہ کیا تم نے اس سے پہلے یہ قسمیں نہیں کھائیں تھیں کہ تم پر بالکل زوال نہیں آئے گا، تم اپنے اپ کو بڑا سمجھتے تھے اور ہم نے تمہارے لیے مثالیں بیان کر دی تھیں، تم اللہ کو اپنے رسولوں سے کیے ہوئے وعدے کے خلاف کرنے والا نہ سمجھو کہ اس نے اپنے رسولوں سے وعدہ کیا ہے کہ جو آپ تم کو تکلیف پہنچائیں گے اللہ پاک ان کو درد ناک عذاب میں مبتلا فرمائے گا
📱+92-3212094919
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
📚 *فیضان خلاصہ تراویح*📚

✍🏻 *ابو بنتین محمد فراز عطاری مدنی عفی عنہ*

🍀 *سورہ حِجْر*
سورۂ حِجْر مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی ہے۔اس سورت میں چھ 6رکوع اور 99 آیتیں ہیں۔

*وجہ*
حِجْر،مدینہ منورہ اور شام کے درمیان ایک وادی کا نام ہے، اور اِ س سورت کی آیت نمبر 80 تا 84 میں اُس وادی میں رہنے والی قومِ ثمود کا واقعہ بیان کیا گیاہے،اس مناسبت سے اس کا نام سورۂ حِجْر رکھا گیا۔    

*چودہواں پارہ، رُبَمَا*

📃تیرہویں پارے کے بالکل آخر سے یہ سورت شروع ہوتی ہے، مکہ مکرمہ میں   نازل ہونے والی دیگر سورتوں کی طرح اس سورت کا مرکزی مضمون بھی یہ ہے کہ اس میں اللہ پاک  کی وحدانیت اور ا س کی قدرت، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت،مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے اور اعمال  کی جزاء ملنے کو کئی طرح کے دلائل سے ثابت کیا گیا ہے۔

شروع کی آیات میں فرمایا کہ اے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم یہ کافر اگرچہ مسلمان ہونے کے لئے تیار نہیں مگر ایک وقت آنے والا ہے جب یہ تمنا کریں گے کہ کاش وہ مسلمان ہوتے لہذا آپ انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیں، یہ کھاتے پیتے رہیں اور دنیا کے عارضی مفادات ہیں ان میں گم رہیں مگن رہیں اور امیدوں اور آرزوؤں میں پڑے رہیں عنقریب انہیں دنیا کے عارضی ہونے کا پتہ چل جائے گا۔اے حبیب! صلی اللہ علیہ وسلم آپ سے پہلے جن بستیوں  کے باشندوں کو ہم نے ہلاک کیا ان کے لئے ایک معین وقت لوح محفوظ میں لکھا ہوا تھا، ہم نے انہیں  وہ وقت آنے سے پہلے ہلاک نہیں کیا اور جب وہ وقت آ گیا تو ہم نے انہیں تباہ و برباد کر دیا۔ اے حبیب! صلی اللہ علیہ وسلم ، اسی طرح مکہ کے مشرکوں کو بھی ہم اسی وقت ہلاک کریں گے جب ان کا لکھا ہوا معین وقت آ جائے گا کیونکہ میرا فیصلہ یہ ہے کہ میں معین وقت آنے سے پہلے کسی بستی کے باشندوں کو ہلاک نہیں فرماتا۔

📝  آیت 9 میں قرآن پاک کی حفاظت کی ذمہ داری خود اللہ پاک نے لی ہے۔ 

آیت 16 میں فرمایا کہ ہم نے آسمان کو سورج ، چاند اور ستاروں  سے آراستہ کیا تاکہ غورو فکر کرنے والے اس سے  اللہ پاک کے واحد اور خالق ہونے پر استدلال کریں اور جان لیں کہ ہر چیز کو پیدا کرنے والا اور اسے شکل و صورت عطا کرنے والا صرف اللہ پاک ہے۔ 
 پھر فرمایا کہ اللہ پاک نے آسمانِ دنیا کو ہر مردود اور لعین شیطان سے محفوظ رکھا ہے لیکن جو شیطان آسمانوں میں ہونے والی گفتگو چوری کر کے ایک دوسرے کو بتاتے ہیں  تو ان کے پیچھے ایک روشن شعلہ پڑ جاتا ہے۔آیت میں شھاب کا لفظ ہے، شہاب اس ستارے کو کہتے ہیں جو شعلے کی طرح روشن ہوتا ہے اور فرشتے اس سے شیاطین کو مارتے ہیں ۔

🌏  اس کے اللہ پاک کی وحدانیت پر زمین دلائل دیے جارہے ہیں، فرمایا کہ ہم نے زمین کو پھیلایا اور ہم نے اس میں مضبوط پہاڑوں کے لنگر ڈال دئیے تاکہ وہ زمین والوں کے ساتھ حرکت نہ کرے۔ساتھ ہی فرمایا کہ  اللہ پاک  نے (زمین میں ) ہر چیز لوگوں کی ضروریات کے مطابق اندازے سے پیدا فرمائی کیونکہ اللہ پاک وہ مقدار جانتا ہے جس کی لوگوں کو ضرورت ہو اور وہ اس سے نفع حاصل کر سکتے ہوں اس لئے اللہ پاک نے زمین میں اسی مقدار کے مطابق   نباتات پیدا فرمائیں۔

🌨️آیت 22 اور 23 میں فرمایا کہ بادلوں میں  پانی پیدا کرنے اور ان سے بارش نازل کر کے تمہیں سیراب کرنے پر صرف اللہ پاک قادر ہے ،اس کے سوا اور کسی کو یہ قدرت حاصل نہیں ۔اس میں اللہ پاک کی قدرت اور بندوں  کے عاجز ہونے پر عظیم دلیل ہے۔ مخلوق کو زندگی اور موت عطا کرنا صرف ہمارے ہی دستِ قدرت میں ہے  اور تمام مخلوق فنا ہونے والی ہے اور ہم ہی باقی رہنے والے ہیں اور مُلک کی ملکیت کا دعویٰ کرنے والوں    کی ملکیت ضائع ہوجائے گی اور سب مالکوں    کا مالک یعنی اللہ پاک  باقی رہے گا۔

🕕 آیت 26 میں انسانوں اور جنوں کی پیدائش کا بیان کہ اللہ پاک نے انسانوں کو مٹی سے پیدا کیا اس سے قبل جنات کو آگ کے شعلے کی لپک سے پیدا کیا ، اللہ پاک نے فرشتوں کو حکم دیا کہ جب میں انسان کو بناؤں اور اس میں روح ڈال دوں تو تم اس کے سامنے سجدے میں گرنا، تمام فرشتوں نے حضرت آدم علیہ السلام کے سامنے سجدہ کیا لیکن ابلیس نے حضرت آدم علیہ السلام کے سامنے سجدہ ریز ہونے سے انکار کر دیا، اور کہنے لگا کہ میں افضل ہوں کیونکہ تو نے مجھے آگ سے اور انہیں مٹی سے بنایا ہے، اللہ پاک نے فرمایا قیامت تک آسمان و زمین و الے تجھ پر لعنت کریں گے اور جب قیامت کا دن آئے گا تواس لعنت کے ساتھ ہمیشگی کے عذاب میں گرفتار کیا جائے گا جس سے کبھی رہائی نہ ہوگی۔
 اپنے مردود اور لعنتی     ہونے کے بارے میں      سن کر شیطان نے کہا کہ اے میرے رب! مجھے قیامت کے دن تک مہلت دے دے۔ قیامت کے دن تک مہلت مانگنے سے شیطان کا مطلب یہ تھا کہ وہ کبھی نہ مرے کیونکہ قیامت کے بعد کوئی نہ مرے گا اور قیامت تک کی اُس نے مہلت مانگ ہی لی لیکن اس کی اس دعا کو اللہ پاک نے اس طرح     قبول کیا کہ اس سے فرمایا: بیشک تو ان میں سے ہے جن کو اس معین وقت کے د
ن تک مہلت دی گئی ہے جس میں تمام مخلوق مرجائے گی اور وہ وقت پہلے نَفْخہ کا ہے تو شیطان کے مردہ رہنے کی مدت پہلے نَفْخہ سے دوسرے نَفْخہ تک چالیس برس ہے اور اس کوا س قدر مہلت دینا اس کے اکرام کے لئے نہیں بلکہ اس کی بلا، شَقاوت اور عذاب کی زیادتی کے لئے ہے، اس نے کہا میں تیرے مخلص بندوں کے سوا سب کو گمراہ کر دوں گا اس پر اللہ پاک نے فرمایا کہ یہ وہ راہ ہے جو سیدھی مجھ تک پہنچتی ہے، میرے مخلص بندوں پر تیرا کچھ زور نہیں چلے گا سوائے ان گمراہوں کے جو تیری پیروی کریں گے اور ان تمام لوگوں سے جہنم کا وعدہ ہے جس کے سات دروازے ہیں اور ہر دروازے کے لیے ان گمراہ لوگوں میں سے لوگ تقسیم کئے گئے ہیں یعنی لوگ اپنے اعمال کی مناسبت سے جہنم میں داخل کر دیے جائیں گے۔

☄️🔥 اس کے بعد جنت و جہنم اور رحمت خداوندی کا ذ کر ہے، اس کے بعد لوط علیہ السلام اور ان کی قوم کا بیان ہے، اس کی بعد قوم ثمود اور ان کی تباہ شدہ بستی حجر کو درس عبرت کے لئے بیان فرمایا، پھر عظمت قرآن اور خاص طور پر بار بار دہرائی جانے والى سورت "سورہ فاتحہ" کى سات آیتوں کا تذکرہ موجود هے اس کو سبع مثانی کہا جاتا ہے۔

🐝 *سورہ نحل*
اس سورت میں 16رکوع  اور 128آیتیں ہیں ۔     

*وجہ*  
عربی میں شہد کی مکھی کو’’نحل ‘‘کہتے ہیں ۔ اس سورت کی آیت نمبر 68 میں اللہ پاک نے شہد کی مکھی کا ذکر فرمایا اس مناسبت سے اس سورت کا نام ’’سورۂ نحل‘‘ رکھا گیا۔    
اس سورت مبارکہ کی بہت پیاری خصوصیت یہ ہے اس میں بڑی کثرت کے ساتھ  اللہ پاک کی عظمت، قدرت، حکمت اور وحدانیت پر دلائل دئیے گئے ہیں ۔ اگر کثرت سے اس سورت کو سمجھ کر پڑھا جائے تو دل میں اللہ پاک کی محبت اور عظمت کا اضافہ ہوتا ہے۔ نیز اس سورت میں  اللہ پاک کی نعمتوں کا بیان بہت کثرت کے ساتھ ہے ، اگر ان نعمتوں کے بارے میں بار بار غور کریں تو دل میں شکر ِ الٰہی کا جذبہ بیدار ہوگا اور محبت ِ الہٰی میں اضافہ ہوگا۔

🐑🐐 آیت نمبر 5 سے جانوروں کی پیدائش کا تذکرہ ہے جن میں انسانوں کے لئے کئی طرح کے فوائد ہیں،اللہ پاک نے اونٹ، گائے اور بکریاں وغیرہ جانور پیدا کئے ،ان کی کھالوں اور اُون سے تمہارے لیے گرم لباس تیار ہوتے ہیں اوراس کے علاوہ بھی ان جانوروں میں بہت سے فائدے ہیں جیسے تم ان کی نسل سے دولت بڑھاتے ہو، اُن کے دودھ پیتے ہو، اُن پر سواری کرتے ہو اور تم ان کا گوشت بھی کھاتے ہو۔
✈️🚊 اللہ پاک نے فرمایا کہ جانوروں کی جو اقسام بیان کی گئیں ان کے علاوہ ابھی مزید ایسی عجیب و غریب چیزیں اللہ پاک پیدا کرے گا جن کی حقیقت اور پیدائش کی کیفیت تم نہیں جانتے ۔ اس میں  وہ تمام چیزیں آگئیں  جو آدمی کے فائدے، راحت و آرام اور آسائش  کے کام آتی ہیں اور وہ اس وقت تک موجود نہیں ہوئی تھیں لیکن اللہ پاک کو ان کا آئندہ پیدا کرنا منظور تھا جیسے کہ بحری جہاز ، ریل گاڑیاں  ، کاریں ، بسیں ، ہوائی جہاز اور اس طرح کی ہزاروں ، لاکھوں سائنسی ایجادات ۔ اور ابھی آئندہ زمانے میں نہ جانے کیا کیا ایجاد ہوگا لیکن جو بھی ایجاد ہوگا وہ اس آیت میں داخل ہوگا۔    


🛥️ پھر سمندری دنیا کا تعارف کرواتے ہوئے بیان فرمایا کہ بحری جہاز اور کشتیاں پانی میں سفر کرنے اور سامان منتقل کرنے کے بہترین ذرائع ہیں، تمہیں اس سے ،مچھلی کا تروتازہ گوشت اور زیورات بنانے کے لیے موتی اور جواہر بھی فراہم ہوتے ہیں.اللہ پاک نے اپنے احسانات اور انعامات کا تذکرہ کرکے فرمایا کہ ہماری نعمتیں بے حساب ہیں اگر تم شمار کرنا چاہو تو بھی نہیں کر سکتے، لہذا تم شکر ادا کرو.

پھر کفار کا تذکرہ فرمایا کہ اگر ان کے یہاں بیٹی کی پیدائش ہوتی ہے تو ان کا چہرہ کالا پڑ جاتا ہے اور وہ غصے سے بھر جاتے ہیں اور بیٹی کی پیدائش کو بری خبر جانتے ہیں اپنی قوم سے چھپتے پھرتے ہیں، اس کو زندہ دفن کردیتے تھے، اللہ پاک نے ان کی مذمت فرمائی۔

پھر اللہ پاک نے کائناتی شواہد سے توحید و رسالت کے مزید دلائل بیان فرمائے، اللہ پاک کی عظمت و قدرت کی نشانیاں ہر چیز میں موجود ہیں حتّٰی کہ اگر تم اپنے مویشیوں میں بھی غور کرو تو تمہیں غور وفکر کرنے کی بہت سی باتیں مل جائیں گی اور اللہ پاک کی حکمت کے عجائب اورا س کی قدرت کے کمال پر تمہیں آگاہی حاصل ہوجائے گی۔ تم غورکرو کہ ہم تمہیں ان جانوروں    کے پیٹوں سے گوبر اور خون کے درمیان سے خالص دودھ نکال کرپلاتے ہیں جو پینے والے کے گلے سے آسانی سے اترنے والا ہے، جس میں    کسی چیز کی آمیزش کا کوئی شائبہ نہیں حالانکہ حیوان کے جسم میں غذا کا ایک ہی مقام ہے جہاں چارا ،گھاس ، بھوسہ وغیرہ پہنچتا ہے اور دودھ، خون گوبر سب اسی غذا سے پیدا ہوتے ہیں اور ان میں  سے ایک دوسرے سے ملنے نہیں پاتا ۔ دودھ میں    نہ خون کی رنگت کا شائبہ ہوتا ہے نہ گوبر کی بوکا، نہایت صاف اور لطیف برآمد ہوتا ہے، اس سے اللہ پاک کی حکمت کی عجیب کاریگری کا اِظہار ہے۔


🐝 شہد کی مکھی میں غور کرنے کا حکم دیا گیا کہ اسے ہم نے پہاڑوں اور
درختوں میں گھر بنانے کا حکم دیا، پھر ہر قسم کے پھولوں اور پھلوں سے رس چوس کر دور دراز کا سفر طے کرکے اپنے چھتے تک پہنچنے کی سمجھ عطا فرمائی، پھر مکھی کے پیٹ سے مختلف رنگوں اور ذائقوں کا شہد نکالا جو انسانوں کے مختلف امراض کے لئے شفا اور صحت عطا کرنے والا ہے،

📖 پھر قرآن کریم کے ہدایت اور رحمت ہونے کا بیان ہے اور بتایا گیا ہے کہ اللہ تبارک وتعالی عدل و احسان کا حکم دیتا ہے اور ظلم و بےحیائی اور بری باتوں سے دور رہنے کی تلقین فرماتا ہے۔

🤝🏻 اگلی آیت میں ،وعدے کو پورا کرنے کا حکم دیا گیا اور قسمیں کھا کر توڑنے سے منع فرمایا ہے اور دنیوی فائدہ کیلئے قسمیں کھانے کو برا قرار دیا گیا۔

✉️ پھر کافروں کو سرزنش کی گئی، کیونکہ وہ کہا کرتے تھے کہ معاذ اللہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن کریم نازل نہیں ہوا بلکہ انہوں نے خود بنا لیا ہے، اس کا قرآن نے سختی سے جواب دیا۔

📝 پھر ایک حکم بیان ہوا کہ اگر کوئی مسلمان کفار کے ہاتھ چڑھ جائے اور کفار قتل کرنے کی دھمکی دے کر کلمہ کفر کہنے پر مجبور کریں تو اسے اکراہ شرعی کہا جاتا ہے، ایسے میں کیا صورت اختیار کی جائے، اس حوالے سے 4 احکام ذکر کیے جاتے ہیں۔

⬅️ حالت ِاکراہ میں  اگر دل ایمان پر جما ہوا ہو تو کلمۂ کفر کا زبان پر جاری کرنا جائز ہے جب کہ آدمی کو (کسی ظالم کی طرف سے)  اپنی جان یا کسی عُضْوْ کے تَلف ہونے کا (حقیقی) خوف ہو ۔ (اور اس میں  یہ بھی ضروری ہے کہ اگر کوئی دو معنی والی بات کہنے میں  گزارا چل سکتا ہو جس سے کفار اپنی مراد لیں اور کہنے والا اس کی درست مراد لے تو ضروری ہے کہ ایسی دو معنی والی بات ہی کہے جبکہ اس طرح کہنا جانتا ہو۔)۔            
⬅️ اگر اس حالت میں  بھی صبر کرے اور قتل کر ڈالا جائے تو اسے اجر ملے گا اور وہ شہید ہوگا جیسا کہ حضرت خُبَیب رضی اللہ عنہ نے صبر کیا اور وہ سولی پر چڑھا کر شہید کر ڈالے گئے۔ سرکارِ دو عالَم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سیّدُ الشُّہداء فرمایا ۔            
⬅️ جس شخص کو مجبور کیا جائے اگر اس کا دل ایمان پر جما ہوا نہ ہو تو وہ کلمۂ کفر زبان پر لانے سے کافر ہوجائے گا ۔            
⬅️ اگر کوئی شخص بغیر مجبوری کے مذاق کے طور پر یا علم نہ ہونے کی وجہ سے کلمۂ  کفر زبان پر جاری کرے وہ کافر ہوجائے گا۔

📣 آخر میں خوشخبری سنائی گئی کہ اللہ پاک تقویٰ اور احسان کے حاملین کی ہر قدم پر مدد اور نصرت فرماتا ہے۔
📱 +923212094919
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
شیخ ابو الحسن امام سری سقطی
رَضِیَ الــلّٰــهُ تَـبَـارَڪَ وَ تَــعَــالیٰ عَــنۡـہۡ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
یومِ ولادت ... ............... ؁ھ
یومِ وصال ¹³ رمضان المبارک ۳۵۲؁ھ
➻═══════════➻
TTS AʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Muhammad IBRAHEEM
Muhammad IBRAHEEM:
Syed Kamran Qadri:

Asslam O Alaikum... Piyare Kamran bhai Ap sy ik important malommat leni hai.
Please Uqbari k bare rehnumai farma dain.
Uqbari walo ka kiya aqidah hai?
Hm ahle sunnat wa jamat hanfi barelvi in ko sun sakte hain? follow kr sakte hain? in k wazaif kis had tk haqiqat sy taluk rakhtay hain? Kiya hm in wazaif kr sakte hain?

والسلام:"عبقری" طب اور روحانی مسائل کا رسالہ ہے جو کہ حکیم طارق محمود چغتائی کی سربراہی میں نکلتا ہے یہ احمد پور شرقیہ کی سائیڈ کا رہنے والا ہے یہ دیوبند مکتبہ فکر سے تعلق رکھتا ہے اور آجکل نیوٹرل بن کر اپنے مسلک کو سپورٹ کر رہا ہے بہت سے پرانے اسلامی بھائی بھی اسے سنی سمجھ کر اس کے ساتھ لگے ہوئے ہیں اس لیے آپ سے گزارش ہے کے اس کے لٹریچر کو ہزگز ہزگز نہ پڑھیں کیونکہ یہ طب اور روحانیت کی آڑ میں اپنے مسلک کو فروغ دے رہا ہے۔
واللہ اعلم بالصواب
🌹 🌹 🌹 🌹 🌹 🌹 🌹 🌹 🌹 🌹 🌹 🌹
Forwarded from Muhammad IBRAHEEM
عبقری میگزین سے بچیں

ہمارے پاس اکثر روایات کی تحقیق کے لئے سوالات آتے ہیں ۔تجربہ سے معلوم ہوا کہ ان *منگھڑت روایات* میں سے ایک بہت بڑی تعداد *عبقری میگزین* کے ذریعے سے وجود میں آتی ہے ۔

میں نے دو تین سال پہلے بھی اس پر کچھ تحریریں مرتب کیں تھیں اب ضرورت محسوس ہوئی کہ اپنے احباب و رفقاء کو مزید متوجہ کر دیا جائے تاکہ وہ خود بھی *دجالیت* کے اس مظہر اور جھوٹ کے منبع سے بچ سکیں اور اپنے اہل خانہ کو بھی بچائیں کہ *خواتین میں یہ رسالہ زیادہ مقبول ہو رہا ہے کہ خواتین کو جادو ٹونے کے قصوں، دیسی ٹوٹکوں اوروظائف و عملیات میں زیادہ دلچسپی ہوتی ہے ۔*

اب ان کا رسالہ چونکہ ہر ماہ شائع ہوتا ہے لہذا ہر ماہ ان کو نئی نئی چیزیں چاہیئں تو ان کا طریقہ کار یہ ہے کہ وہ عوام کے خطوط میں جو بھی چیز ان کو ملتی ہے وہ من و عن چھاپ دیتے ہیں ۔
*اب یہ جو کہا جاتا ہے کہ پاکستان میں ہر بندہ طبیب اور ہر آدمی مفتی ہے اس کی سب سے بڑی مثال یہ رسالہ ہے ۔*
علاج معالجہ ہماری لائن نہیں لہذا ہم اس سے بحث نہیں کرتے لیکن کسی بھی مستند ڈاکٹر یا حکیم سے معلوم کیا جاسکتا ہے کہ ایسے عوامی نسخوں سے علاج کس قدر نقصان دہ ہوسکتا ہے ۔
*اب رہی بات روایات کی* تو
اطلاعات کے مطابق انہوں نے ایک ٹیم بٹھائی ہوئی ہے جو یہ وظائف گھڑنے اور مختلف *کتب شیعہ* وغیرہ کی وہاں سے تلاش کا کام کرتی ہے ۔
نیز ان کے پاس عوام کے خطوط میں جو کچھ بھی لکھا آتا ہے اسے بھی من وعن چھاپ دیتے ہیں ۔
اور اس بنیاد پر کہ ان کے رسالہ میں انوکھی انوکھی چیزیں ہوتی ہیں اور انسان کی فطرت ہے کہ کل جدید لذیذ تو ان کا رسالہ خوب بکتا ہے ایک دفعہ بتایا کہ لاکھوں میں اشاعت چلی جاتی ہے اور پوری دنیا میں جاتا ہے ۔
*تو بھائی جب لاکھوں میں چھپتا ہے تو پرافٹ کتنا ہوتا ہوگا؟*
تو یہ ایک بہت بڑا کاروبار ہے جس کی بنیاد اس طرح کی روایات پر ہے ۔ *ورنہ صحیح احادیث جو معروف ہیں ان کے لکھنے سے کیسے یہ کاروبار چلے گا؟*
اب آپ سب پوری صورتحال پر غور کرو اور پھر سمجھو کہ *ان لوگوں کو روایت کے درست ہونے نا ہونے سے مطلب نہیں ہے ۔*
ایک دفعہ مسجد نبوی میں ہمارے دوست مفتی عبدالباقی صاحب نے ان سے اس موضوع پر بات کی تو کہنے لگے *میں کوئی عالم دین نہیں* اس لئے مجھے پتا نہیں چلتا پھر جب ان سے کہا جاتا ہے کہ آپ اپنی اس ٹیم میں جو رسالہ تیار کرتی ہے *کسی عالم کو شامل کرلیں تو وہ اس پر راضی نہیں ہوتے*
اور دیگر علماء سے معلوم ہواکہ یہ بات تو بہت سے لوگ ان کو کہہ چکے ہیں ۔
لیکن وہ لوگوں کو یہ کہہ کر مطمئن کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ میرے پاس اتنے علماء دوائی لینے آتے ہیں اور اتنے علماء مجلس میں بیٹھتے ہیں وغیرہ ۔
*تو غور کرنے سے سمجھ آیا کہ رسالہ کی تیاری میں علماء کو شامل کرنے والی تجویز وہ کبھی قبول نہ کریں گے کہ کوئی عالم ہوگا تو وہ ہر انوکھی اور نئی چیز کو نکال دے گا تو رسالہ کیسے چلے گا؟*
جس کا مدار ہی ان انوکھی انوکھی باتوں پر ہے ۔
نیز جو جادو و جنات کے قصے ان کے رسالہ میں ہیں ان کی تصدیق کا بھی کوئی ذریعہ نہیں ہے بقول بعض رفقاء کے علامہ لاہوتی پراسراری صاحب کا جو قصہ چلتا ہے اس سے عبقری صاحب اپنی ذات مراد لیتے ہیں اور اب شیخ الوظائف لقب اختیار کیا ہے ۔
ان گنہگار آنکھوں نے ان صاحب کو ایک معمولی حکیم سے پی ایچ ڈی امریکہ تک اور پھر شیخ الوظائف کی مسند تک منتقل ہوتے دیکھا ہے ۔
پھر ان فرضی قصوں کہانیوں سے کسی عملی فائدے کا ہونا بھی مشکل ہے کہ *جس بات کی بنیاد جھوٹ پر ہو اس سے کسی دینی فائدے کی توقع کیسے کی جاسکتی ہے ۔*
اس کے بجائے صحابہ کی زندگی اور اکابر کے حالات کے مطالعہ کی طرف متوجہ کرنا چاہئے تاکہ زندگی میں تبدیلی آئے۔

*عبداللہ اسلم لاہور*

*نوٹ :*

*یاد رہے کہ*

*📌 عبقری والے مکتبہ فکر نجدی وہابی دیوبندی فرقوں سے تعلق رکھتے ہیں*
اور
*وہابی دیوبندی یا رسول اللہ کہنے والے سنی مسلمانوں کو مشرک کہتے ہیں اور مسلمانوں کو مشرک کہنے والے خوارج ہیں*
*اس لئے سنی مسلمانوں کو ان کے مکر و فریب سے بچنا چاہئے*

*طریقہ واردات*

*یہ بدمذہب بدعقیدہ گستاخان_رسول نجدی قبضہ گروپ سعودی وہابی غیر مقلد سلفی دیوبندی منافق فرقے اہلسنت کا لباس اوڑھ کر یعنی چند معمولاتِ اہلسنت کا سہارا لے کر چند عقائد اہلسنت کا سہارا لے کر سنی مسلمانوں کو اپنے قریب کرکے انہیں اپنے خارجی نجدی وہابی دیوبندی بدمذہب بدعقیدہ مسلک میں کنورٹ کرنے کی واردات کر رہے ہیں*

*یہ بھی یاد رکھیں کہ*
*وہابی دیوبندی خوارج کے روپ میں منافق فرقوں کا اہلسنت جماعت سے کوئی تعلق نہیں ہے *

*اللہ تعالیٰ ہمیں اور ہماری_نسلوں کو ان خارجی نجدی قبضہ گروپ سعودی وہابی غیر مقلد سلفی دیوبندی گستاخان_رسول منافق فرقوں سے محفوظ رکھے آمین 🤲*
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
ادب پہلا قرینہ ہے محبت کے قرینوں میں

,,مدینے میں کھڑے انجن کی حقیقت,,

خلافت عثمانیہ کے 34ویں خلیفہ عبدالحمید ثانی اپنے وقت کے بہت بڑے شاعر اور عاشق رسول گزرے ہیں...

شہر رسولِ معظم " لَآ أُقْسِمُ بِهَٰذَا ٱلْبَلَدِ" کا ادب کرنے اور "لَا تَرْفَعُوٓا۟ أَصْوَٰتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ ٱلنَّبِىِّ" کی بولتی ہوئی سچی تصویر تھے....

آپ کی طبیعت میں عشق رسول کُوٹ کُوٹ کر بھرا ہوا تھا....
شہر رسول مدینہ شریف کا ادب اس قدر ملحوظِ خاطر رکھتے تھے کہ وہ بے جان چیزوں کی آواز پر بھی غضبناک ہوجاتے تھے..

آپ کے دورِ خلافت میں استنبول سے مدینہ شریف جانے کے لئے ٹرین شروع کی گئی....

آج بھی وہ لائن مدینہ شریف میں بچھی ہوئی ہے اور ترکی ریوے اسٹیشن کے نام سے مشہور ہے....

اُس زمانے میں ٹرین کا انجن کوئلہ کا ہوا کرتا تھا، مکمل تیاریاں ہونے کے بعد مدینہ شریف میں ترکی اسٹیشن پر سلطان عبدالحمید ثانی کو اوپنگ (افتتاح) کے لیے بلایا گیا تو
دیکھا کہ کوئلہ والا انجن بھڑ بھڑ آواز کرنے لگا تو
سلطان عبدالحمید غضبناک ہوگئے اور کوڑا اٹھاکر انجن کو مارنا شروع کیے اور کہا شہرِ رسول میں اتنی بلند آواز ؟
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے مدینہ میں اتنی تیز آواز تیری....؟

*ادب گاہسیت زیر آسماں از عرش نازک تر*
*نفس گم کردہ می آید جنیدؓ و بایزیدؓ اینجا*

100 سال کا عرصہ ہونے کو آیا، اس وقت سے جو انجن بند ہوا ہے
وہ آج تک ایسے ہی مدینہ شریف میں رکھا ہوا ہے.جو ترکی اسٹیشن سے مشہور ہے،
اس قدر ادب کہ وہ انجن کی بلند آواز کو بھی شہرِ رسول میں پسند نہیں کرتے تھے تو سوچو
وہ اپنے محبوب سے کس قدر محبت فرماتے ہوں گے..!!

یہ عشق تھا یہ ادب تھا جو ان کے سینوں میں موجزن تھا،
اللہ تعالی ہمیں بھی ایسا عشق و ادب اور شہر رسول کی باادب حاضری نصیب کرے..آمین.

(محب گرامی مولانا جمال اختر
صدف کی وال سے کاپی)

➻═══════════➻
TTS AʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
📖 *فیضان خلاصہ تراویح*📖

✍🏻 *ابو بنتین محمد فراز عطاری مدنی*

🌏 *پارہ 15،سُبْحٰنَ الَّذِیْۤ*

🌳 *سورہ بنی اسرائیل*
اس سورت میں 12 رکوع  اور 111 آیتیں ہیں۔
س سورۂ مبارکہ کے چند نام ہیں   

◀️ سورۂ اِسراء۔ اسراء کا معنی ہے رات کوجانا، اور اس سورت کی پہلی آیت میں تاجدارِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم  کے رات کے مختصر حصے میں مکۂ مکرمہ سے بیتُ المقدس جانے کا ذکر ہے اس مناسبت سے اسے’’ سورۂ اِسراء ‘‘ کہتے ہیں ۔   

◀️ سورۂ سبحان۔ سبحان کا معنی ہے پاک ہونا، اور اس سور ت کی ابتداء لفظِ ’’سبحان ‘‘ سے کی گئی اس مناسبت سے اسے’’ سورۂ سبحان ‘‘کہتے ہیں ۔   

◀️ بنی اسرائیل۔ اسرائیل کا معنی ہے اللہ پاک کا بندہ، یہ حضرت یعقوب علیہ السلام  کا لقب ہے اور آپ علیہ السلام  کی اولاد کو ’’بنی اسرائیل ‘‘کہتے ہیں ، اس سورت میں بنی اسرائیل کے عروج و زوال اور عزت و ذلت کے وہ اَحوال بیان کئے گئے ہیں جو دیگر سورتوں میں بیان نہیں ہوئے، اس مناسبت سے اس سورت کو’’بنی اسرائیل‘‘ کہتے ہیں اور یہی اس کا مشہور نام ہے۔

☄️ معراج شریف کے بارے میں سینکڑوں اَحادیث ہیں جن کا ایک مختصر خلاصہ یہاں پیش کیا جاتا ہے۔ چنانچہ معراج کی رات حضرت جبریل علیہ السلام بارگاہِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کو معراج کی خوشخبری سنائی اورآپ صلی اللہ علیہ وسلم  کا مقدس سینہ کھول کر اسے آبِ زمزم سے دھویا، پھر اسے حکمت و ایمان سے بھر دیا۔ اس کے بعدتاجدارِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم  کی بارگاہ میں براق پیش کی اور انتہائی اِکرام اور احترام کے ساتھ اس پر سوار کرکے مسجد ِاقصیٰ کی طرف لے گئے۔ بیتُ المقدس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  نے تمام اَنبیاء و مُرسَلین علیہم السلام کی امامت فرمائی ۔پھر وہاں سے آسمانوں کی سیر کی طرف متوجہ ہوئے۔ حضرت جبریل امین علیہ السلام  نے باری باری تمام آسمانوں کے دروازے کھلوائے، انبیاء کرام علیھم السلام حضور ِاقدس  صلی اللہ علیہ وسلم   کی زیارت و ملاقات سے مشرف ہوئے ، انہوں نے حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم  کی عزت و تکریم کی اور تشریف آوری کی مبارک بادیں دیں ،حتّٰی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  ایک آسمان سے دوسرے آسمان کی طرف سیر فرماتے اور وہاں کے عجائبات دیکھتے ہوئے تمام مُقَرَّبین کی آخری منزل سِدرۃُ المنتہیٰ  تک پہنچے۔ اس جگہ سے آگے بڑھنے کی چونکہ کسی مقرب فرشتے کو بھی مجال نہیں ہے اس لئے حضرت جبریل امین علیہ السلام  آگے ساتھ جانے سے معذرت کرکے وہیں رہ گئے ، پھر مقامِ قربِ خاص میں  نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ترقیاں فرمائیں اور اس قربِ اعلیٰ میں پہنچے کہ جس کے تَصَوُّر تک مخلوق کے اَفکار و خیالات بھی پرواز سے عاجز ہیں ۔ وہاں رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر خاص رحمت و کرم ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم انعاماتِ الٰہیہ اور مخصوص نعمتوں سے سرفراز فرمائے گئے، زمین و آسمان کی بادشاہت اور ان سے افضل و برتر علوم پائے ۔ اُمت کے لئے نمازیں فرض ہوئیں ، نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  نے بعض گناہگاروں کی شفاعت فرمائی، جنت و دوزخ کی سیر کی اور پھر دنیا میں  اپنی جگہ واپس تشریف لے آئے۔ جب سَرورِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس واقعے کی خبریں دیں تو کفار نے اس پر بہت واویلا کیا اور حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم  سے بیتُ المقدس کی عمارت کا حال اور ملک ِشام جانے والے قافلوں کی کَیفِیَّتیں دریافت کرنے لگ گئے ۔حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم  نے انہیں سب کچھ بتا دیا اور قافلوں کے جو اَحوال سیّد المرسَلین صلی اللہ علیہ وسلم  نے بتائے تھے ، قافلوں کے آنے پر اُن سب کی تصدیق ہوئی۔      

‼️ بنی اسرائیل کے بارے میں  بیان کیا گیا کہ  اللہ پاک     نے انہیں  تورات میں  یہ غیب کی خبر دی تھی کہ تم زمین میں  یعنی سرزمینِ شام میں دو مرتبہ فساد کرو گے ۔یہ غیب کی خبر پوری ہوئی اور جس طرح اللہ پاک نے فرمایا تھا ویسے ہی وقوع میں  آیا کہ بنی اسرائیل نے فساد کیا، ظلم و بغاوت پر اترے اور اس کا انجام دیکھنے کے بعد پھر سنبھلے لیکن پھر دوبارہ فساد میں مبتلا ہوگئے اور ہر مرتبہ فساد کے نتیجے میں  ذلیل و رسوا ہوئے۔آگے اس کی تفصیل بیان ہوئی کہ جب دو  مرتبہ کے فساد میں سے پہلی مرتبہ کے فساد کا وقت آیا تو فساد کی صورت یہ بنی کہ انہوں   نے توریت کے احکام کی مخالفت کی اور  گناہ کے کاموں میں پڑگئے اور حرام چیزوں کے مُرتکب ہونے لگے حتّٰی کہ انہوں نے اللہ پاک   کے نبی  کو شہید کیا اور جب بنی اسرائیل نے یہ فساد کیا تو اللہ پاک  نے ان پر بہت زور وقوت والے لشکروں   کو مُسَلَّط کردیا تاکہ وہ انہیں   لوٹیں   اور انہیں   قتل کریں ، قید کریں (اور ذلیل و رسوا  کریں ۔)  چنانچہ ان مسلط کئے جانے والے لشکروں   نے بنی اسرائیل کے علماء کو قتل کیا، توریت کو جلایا، مسجد اقصیٰ کو ویران کیا اور ستر ہزار افراد کو گرفتار کیا۔ یہ مسلط کئے جانے والے لشکر کون سے تھے ، اس بار