ملِکُ العلماء حضرت علامہ محمد
ظفر الدین بہاری اور علمِ توقیت:
ولادت:
بارگاہِ اعلیٰ حضرت علیہ رحمۃ ربِّ العزت سے فیض یافتہ، باکمال و باعمل عالمِ دین، ملِکُ العلماء حضرت علامہ محمد ظفر الدین بہاری علیہ رحمۃ اللہ الوَالی 10 محرم الحرام 1303 ہجری کو صوبۂ بہار (ہند) ضلع پٹنہ (موجودہ نام نالندہ، ہند) میں پیدا ہوئے ۔
آپ کا نام:
ظفر الدین نام اعلیٰ حضرت علیہ رحمۃ ربِّ العزت کی بارگاہ سے ملا اور اسی نام سے شہرت پائی ۔ (حیاتِ ملک العلماء، ص:9) ـ
علمِ توقیت میں مہارت:
کئی علوم و فنون میں مہارت کے ساتھ ساتھ آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کو علمِ توقیت میں بھی مہارتِ تامّہ اور معاصرین میں امتیازی خصوصیت حاصل تھی ۔ یہی وجہ ہے کہ اعلیٰ حضرت علیہ رحمۃ ربِّ العزت نے آپ کے بارے میں فرمایا: (مولانا محمد ظفر الدین قادری) علمائے زمانہ میں علمِ توقیت سے تنہا آگاہ ہیں ۔ (ملک العلماء، ص:204) ـ
علّامہ محمد ظفرالدین بہاری
کی توقیت دانی انہیں کی زبانی:
آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں: تقریباً گیارہ سال سے خاکسار (عاجز) برادرانِ دینی کی خدمت اور ان کے روزوں کی درستی و صحت کے لئے ہر سال رمضان شریف کے نقشۂ اوقاتِ صوم و صلاۃ زیچ و توقیت کے قواعدِ خاصہ (خاص قواعد) سے ترتیب دیتا ہے اور مخلصِ قدیم (سچے دوست) حاجی محمد لعل خاں صاحب مدراسی شائع کرتے ہیں، باقی گیارہ مہینوں میں نمازوں کی اَبْتَری (بد حالی) دیکھ دیکھ کر دل پریشان ہوتا تھا کہ اوقاتِ نماز صحیح طور پر معلوم نہ ہونے کے سبب بعض لوگ تاخیر کو انتہا تک پہنچا دیتے ہیں اور اکثر لوگ جلدی کرتے ہیں کہ قبل از وقت نماز پڑھ لیتے ہیں، خصوصاً عصر و عشاء میں تو قبل از وقت حنفی نماز پڑھنا ہندوستان میں عام طور پر رائج ہو گیا ہے ۔
ان ہی ضَرورتوں کے پیشِ نظر میں نے ایک رسالہ مُسَمّٰی بنامِ تاریخی ” بَدْرُ الْاِسْلَامِ لِمِیْقَاتِ کُلِّ الصَّلوٰۃِ وَالصِّیَامِ “ تصنیف کیا ۔ (حیاتِ ملک العلماء ص:18) ـ
علمِ توقیت پر آپ کی تصانیف:
علمِ توقیت پر آپ کی کُتُب میں اَلْجَواہِرُ وَ الْیَواقِیتُ فِی عِلْمِ التَّوْقِیت، بَدْرُ الْاِسْلَامِ لِمِیْقَاتِ کُلِّ الصَّلوٰۃِ وَالصِّیَامِ، تَوْضِیْحُ الْاَفْلَاکْ معروف بہ سُلَّمُ السَّمَاءِ، مؤذن الاوقات جیسی قیمتی اور نادِر تصانیف آپ کی توقیت دانی میں مہارتِ تامّہ کا مُنہ بولتا ثبوت ہیں ۔ (ملک العلماء، ص:204 ملخصاً) ـ
✍ حفیظ الرحمٰن عطاری مدنی،
نارتھ ناظم آباد، باب المدینہ کراچی
https://www.dawateislami.net/magazine/ur/faizan-e-jamia-tul-madina/hazrat-allama-muhammad-zafaruddin-bihari
ظفر الدین بہاری اور علمِ توقیت:
ولادت:
بارگاہِ اعلیٰ حضرت علیہ رحمۃ ربِّ العزت سے فیض یافتہ، باکمال و باعمل عالمِ دین، ملِکُ العلماء حضرت علامہ محمد ظفر الدین بہاری علیہ رحمۃ اللہ الوَالی 10 محرم الحرام 1303 ہجری کو صوبۂ بہار (ہند) ضلع پٹنہ (موجودہ نام نالندہ، ہند) میں پیدا ہوئے ۔
آپ کا نام:
ظفر الدین نام اعلیٰ حضرت علیہ رحمۃ ربِّ العزت کی بارگاہ سے ملا اور اسی نام سے شہرت پائی ۔ (حیاتِ ملک العلماء، ص:9) ـ
علمِ توقیت میں مہارت:
کئی علوم و فنون میں مہارت کے ساتھ ساتھ آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کو علمِ توقیت میں بھی مہارتِ تامّہ اور معاصرین میں امتیازی خصوصیت حاصل تھی ۔ یہی وجہ ہے کہ اعلیٰ حضرت علیہ رحمۃ ربِّ العزت نے آپ کے بارے میں فرمایا: (مولانا محمد ظفر الدین قادری) علمائے زمانہ میں علمِ توقیت سے تنہا آگاہ ہیں ۔ (ملک العلماء، ص:204) ـ
علّامہ محمد ظفرالدین بہاری
کی توقیت دانی انہیں کی زبانی:
آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں: تقریباً گیارہ سال سے خاکسار (عاجز) برادرانِ دینی کی خدمت اور ان کے روزوں کی درستی و صحت کے لئے ہر سال رمضان شریف کے نقشۂ اوقاتِ صوم و صلاۃ زیچ و توقیت کے قواعدِ خاصہ (خاص قواعد) سے ترتیب دیتا ہے اور مخلصِ قدیم (سچے دوست) حاجی محمد لعل خاں صاحب مدراسی شائع کرتے ہیں، باقی گیارہ مہینوں میں نمازوں کی اَبْتَری (بد حالی) دیکھ دیکھ کر دل پریشان ہوتا تھا کہ اوقاتِ نماز صحیح طور پر معلوم نہ ہونے کے سبب بعض لوگ تاخیر کو انتہا تک پہنچا دیتے ہیں اور اکثر لوگ جلدی کرتے ہیں کہ قبل از وقت نماز پڑھ لیتے ہیں، خصوصاً عصر و عشاء میں تو قبل از وقت حنفی نماز پڑھنا ہندوستان میں عام طور پر رائج ہو گیا ہے ۔
ان ہی ضَرورتوں کے پیشِ نظر میں نے ایک رسالہ مُسَمّٰی بنامِ تاریخی ” بَدْرُ الْاِسْلَامِ لِمِیْقَاتِ کُلِّ الصَّلوٰۃِ وَالصِّیَامِ “ تصنیف کیا ۔ (حیاتِ ملک العلماء ص:18) ـ
علمِ توقیت پر آپ کی تصانیف:
علمِ توقیت پر آپ کی کُتُب میں اَلْجَواہِرُ وَ الْیَواقِیتُ فِی عِلْمِ التَّوْقِیت، بَدْرُ الْاِسْلَامِ لِمِیْقَاتِ کُلِّ الصَّلوٰۃِ وَالصِّیَامِ، تَوْضِیْحُ الْاَفْلَاکْ معروف بہ سُلَّمُ السَّمَاءِ، مؤذن الاوقات جیسی قیمتی اور نادِر تصانیف آپ کی توقیت دانی میں مہارتِ تامّہ کا مُنہ بولتا ثبوت ہیں ۔ (ملک العلماء، ص:204 ملخصاً) ـ
✍ حفیظ الرحمٰن عطاری مدنی،
نارتھ ناظم آباد، باب المدینہ کراچی
https://www.dawateislami.net/magazine/ur/faizan-e-jamia-tul-madina/hazrat-allama-muhammad-zafaruddin-bihari
www.dawateislami.net
فیضانِ جامعۃ المدینہ - ملِکُ العلماء حضرت علامہ محمدظفر الدین بہاری اور علمِ توقیت/ جَدْوَل (Schedule)کی اہمیت
---
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
ملِکُ العلماء حضرت علامہ محمد ظفر الدین بہاری اور علمِ توقیت: ولادت: بارگاہِ اعلیٰ حضرت علیہ رحمۃ ربِّ العزت سے فیض یافتہ، باکمال و باعمل عالمِ دین، ملِکُ العلماء حضرت علامہ محمد ظفر الدین بہاری علیہ رحمۃ اللہ الوَالی 10 محرم الحرام 1303 ہجری کو صوبۂ بہار…
ملک العلماء علامہ ظفر الدین بہاری علیہالرحمہ
https://t.me/islaamic_Knowledge/43507
https://t.me/islaamic_Knowledge/43507
❤1
خلیفۂ اعلیٰ حضرت ، حضور ملک العلما، حضرت علامہ سید محمد ظفر الدین بہاری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
نام و نسب:
کنیت: ابو البرکات ـ لقب: ملک العلما ـ نام: محمد ظفرالدین بن عبد الرزاق، آپ کے مورثِ اعلیٰ سید ابراہیم بن سید ابو بکر غزنوی ملقب بہ مدار الملک ہیں ۔ ان کا نسب ساتویں پشت میں حضرت شیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ تک پہنچتا ہے ۔
تاریخِ ولادت:
آپ رسول پور میجرا ضلع پٹنہ (اب ضلع نالندہ) صوبہ بہار میں ۱۰ محرم الحرام ۱۳۰۳ھ / مطابق ۱۹ اکتوبر ۱۸۸۰ء کو صبح صادق کے وقت پیدا ہوئے ۔
تحصیلِ علم:
چار سال کی عمر میں رسم بسم اللہ حضرت شاہ چاند صاحب کے مبارک ہاتھوں سے انجام پائی ۔ ابتدائی تعلیم والد ماجد سے حاصل کی، ابتدائی فارسی کتب حافظ مخدوم اشرف، مولانا کبیر الدین اور مولانا عبد اللطیف سے پڑھیں ۔ پھر مدرسہ حنفیہ میں مولانا شاہ وصی احمد محدث سورتی سے مسند امام اعظم، مشکوٰۃ شریف اور ملا جلال پڑھی ۔ پھر منڈی کان پور میں مولانا قاضی عبد الرزاق اور مولانا احمد حسن کانپوری اور مولانا شاہ عبید اللہ پنجابی کانپوری سے تعلیم حاصل کی ۔اس کے بعد خوب سے خوب ترکی تلاش انھیں بریلی شریف لے گئی ۔ بریلی میں مولانا حکیم محمد امیر اللہ شاہ بریلوی، مولانا حامد حسن رام پوری، مولانا سید بشیر احمد علی گڑھی اور اعلیٰ حضرت امام اہل سنّت مولانا احمد رضا خان فاضل بریلوی علیہم الرحمہ سے علومِ نقلیہ و عقلیہ کی تکمیل ہوئی ۔
بیعت و خلافت:
محرم الحرام ۱۳۲۱ھ میں اعلیٰ حضرت سے مرید ہوئے اور تمام سلاسل میں اجازتِ عام عطا فرمائی ۔
سیرت و خصائص:
اعلیٰ حضرت امامِ اہلِ سنت نے خلیفہ تاج الدین احمد ، ناظم انجمن نعمانیہ لاہور کو اپنی رحلت سے بارہ سال پہلے ۵ شعبان المکرّم ۱۳۲۸ھ کو آپ کی ذات کے بارے میں ایک مکتوب تحریر کیا تھا: اس مکتوب شریف سے بطورِ تبرک وہی الفاظ نقل کرتا ہوں!"مولانا مولوی محمد ظفر الدین صاحب قادری سلمہ فقیر کے یہاں کے اعز طلبہ سے ہیں اور میرے بجان عزیز ۔ ابتدائی کتب کے بعد یہیں تحصیل علوم کی اور اب کئی سال سے میرے مدرسہ میں مدرس اور اس کے علاوہ کار افتا میں میرے معین ہیں ۔ میں یہ نہیں کہتا کہ جتنی درخواستیں آئی ہوں سب سے یہ زائد ہیں مگر اتنا ضرور کہوں گا: سنی خالص مخلص نہایت صحیح العقیدہ ہادی مہدی ہیں ۔ عام درسیات میں بفضلہٖ تعالیٰ عاجز نہیں، مفتی ہیں، مصنف ہیں، واعظ ہیں، مناظرہ بعونہ تعالیٰ کر سکتے ہیں ۔ علمائے زمانہ میں علم توقیت سے تنہا آگاہ ہیں ۔
امام ابن حجر مکی نے زواجر میں اس علم کو فرض کفایہ لکھا ہے اور اب ہند بلکہ عام بلاد میں یہ علم علما، بلکہ عام مسلمین سے اٹھ گیا ۔ فقیر نے بتوفیق قدیر اس کا احیاء کیا اور سات صاحب بنانا چاہے جن میں بعض نے انتقال کیا، اکثر اس کی صعوبت سے چھوڑ کر بیٹھے ۔ انھوں نے بقدر کفایت اخذ کیا اور اب میرے یہاں کے اوقات طلوع و غروب و نصف النہار ہر روز و تاریخ کے لیے اور جملہ اوقات ماہ مبارک رمضان شریف کے بھی بناتے ہیں ۔ فقیر آپ کے مدرسے کو اپنے نفس پر ایثار کر کے انھیں آپ کے لیے پیش کرتا ہے ۔ "
وصال:
شب دو شنبہ ۱۹ جمادی الثانی ۱۳۸۲ھ / ۱۸ نومبر ۱۹۶۲ء کو ذکرِ جہر کرتے ہوئے واصل بحق ہوئے ۔
میرے ظفر کو اپنی ظفر دے
اس سے شکستیں کھاتے یہ ہیں
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-zafaruddin-bihari
ملک العلماء علامہ ظفر الدین بہاری علیہالرحمہ
نام و نسب:
کنیت: ابو البرکات ـ لقب: ملک العلما ـ نام: محمد ظفرالدین بن عبد الرزاق، آپ کے مورثِ اعلیٰ سید ابراہیم بن سید ابو بکر غزنوی ملقب بہ مدار الملک ہیں ۔ ان کا نسب ساتویں پشت میں حضرت شیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ تک پہنچتا ہے ۔
تاریخِ ولادت:
آپ رسول پور میجرا ضلع پٹنہ (اب ضلع نالندہ) صوبہ بہار میں ۱۰ محرم الحرام ۱۳۰۳ھ / مطابق ۱۹ اکتوبر ۱۸۸۰ء کو صبح صادق کے وقت پیدا ہوئے ۔
تحصیلِ علم:
چار سال کی عمر میں رسم بسم اللہ حضرت شاہ چاند صاحب کے مبارک ہاتھوں سے انجام پائی ۔ ابتدائی تعلیم والد ماجد سے حاصل کی، ابتدائی فارسی کتب حافظ مخدوم اشرف، مولانا کبیر الدین اور مولانا عبد اللطیف سے پڑھیں ۔ پھر مدرسہ حنفیہ میں مولانا شاہ وصی احمد محدث سورتی سے مسند امام اعظم، مشکوٰۃ شریف اور ملا جلال پڑھی ۔ پھر منڈی کان پور میں مولانا قاضی عبد الرزاق اور مولانا احمد حسن کانپوری اور مولانا شاہ عبید اللہ پنجابی کانپوری سے تعلیم حاصل کی ۔اس کے بعد خوب سے خوب ترکی تلاش انھیں بریلی شریف لے گئی ۔ بریلی میں مولانا حکیم محمد امیر اللہ شاہ بریلوی، مولانا حامد حسن رام پوری، مولانا سید بشیر احمد علی گڑھی اور اعلیٰ حضرت امام اہل سنّت مولانا احمد رضا خان فاضل بریلوی علیہم الرحمہ سے علومِ نقلیہ و عقلیہ کی تکمیل ہوئی ۔
بیعت و خلافت:
محرم الحرام ۱۳۲۱ھ میں اعلیٰ حضرت سے مرید ہوئے اور تمام سلاسل میں اجازتِ عام عطا فرمائی ۔
سیرت و خصائص:
اعلیٰ حضرت امامِ اہلِ سنت نے خلیفہ تاج الدین احمد ، ناظم انجمن نعمانیہ لاہور کو اپنی رحلت سے بارہ سال پہلے ۵ شعبان المکرّم ۱۳۲۸ھ کو آپ کی ذات کے بارے میں ایک مکتوب تحریر کیا تھا: اس مکتوب شریف سے بطورِ تبرک وہی الفاظ نقل کرتا ہوں!"مولانا مولوی محمد ظفر الدین صاحب قادری سلمہ فقیر کے یہاں کے اعز طلبہ سے ہیں اور میرے بجان عزیز ۔ ابتدائی کتب کے بعد یہیں تحصیل علوم کی اور اب کئی سال سے میرے مدرسہ میں مدرس اور اس کے علاوہ کار افتا میں میرے معین ہیں ۔ میں یہ نہیں کہتا کہ جتنی درخواستیں آئی ہوں سب سے یہ زائد ہیں مگر اتنا ضرور کہوں گا: سنی خالص مخلص نہایت صحیح العقیدہ ہادی مہدی ہیں ۔ عام درسیات میں بفضلہٖ تعالیٰ عاجز نہیں، مفتی ہیں، مصنف ہیں، واعظ ہیں، مناظرہ بعونہ تعالیٰ کر سکتے ہیں ۔ علمائے زمانہ میں علم توقیت سے تنہا آگاہ ہیں ۔
امام ابن حجر مکی نے زواجر میں اس علم کو فرض کفایہ لکھا ہے اور اب ہند بلکہ عام بلاد میں یہ علم علما، بلکہ عام مسلمین سے اٹھ گیا ۔ فقیر نے بتوفیق قدیر اس کا احیاء کیا اور سات صاحب بنانا چاہے جن میں بعض نے انتقال کیا، اکثر اس کی صعوبت سے چھوڑ کر بیٹھے ۔ انھوں نے بقدر کفایت اخذ کیا اور اب میرے یہاں کے اوقات طلوع و غروب و نصف النہار ہر روز و تاریخ کے لیے اور جملہ اوقات ماہ مبارک رمضان شریف کے بھی بناتے ہیں ۔ فقیر آپ کے مدرسے کو اپنے نفس پر ایثار کر کے انھیں آپ کے لیے پیش کرتا ہے ۔ "
وصال:
شب دو شنبہ ۱۹ جمادی الثانی ۱۳۸۲ھ / ۱۸ نومبر ۱۹۶۲ء کو ذکرِ جہر کرتے ہوئے واصل بحق ہوئے ۔
میرے ظفر کو اپنی ظفر دے
اس سے شکستیں کھاتے یہ ہیں
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-zafaruddin-bihari
ملک العلماء علامہ ظفر الدین بہاری علیہالرحمہ
❤2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
خلیفۂ اعلیٰ حضرت ، حضور ملک العلما، حضرت علامہ سید محمد ظفر الدین بہاری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نام و نسب: کنیت: ابو البرکات ـ لقب: ملک العلما ـ نام: محمد ظفرالدین بن عبد الرزاق، آپ کے مورثِ اعلیٰ سید ابراہیم بن سید ابو بکر غزنوی ملقب بہ مدار الملک ہیں ۔ ان…
ملک العلماء علامہ ظفر الدین بہاری علیہالرحمہ
https://t.me/islaamic_Knowledge/66354
https://t.me/islaamic_Knowledge/66354
❤2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
فاضلِ بہار، ملک العلماء، حضرت علامہ سید محمد ظفر الدین رضوی محدث بہاری رحمة الله تعالى عليه کی ولادت 10 محرم الحرام 1303ھ مطابق 19 اکتوبر 1885ء رسول پورہ ضلع پٹنہ (موجودہ ضلع نالندہ) صوبہ بہار ہند میں ہوئی۔ آپ شہزادۂ غوث اعظم، تلمیذ اعلی حضرت، عالم باعمل،…
فاضلِ بہار، ملک العلماء، حضرت علامہ سید محمد ظفر الدین رضوی محدث بہاری رحمة الله تعالى عليه کی ولادت 10 محرم الحرام 1303ھ مطابق 19 اکتوبر 1885ء رسول پورہ ضلع پٹنہ (موجودہ ضلع نالندہ) صوبہ بہار ہند میں ہوئی۔ آپ شہزادۂ غوث اعظم، تلمیذ اعلی حضرت، عالم باعمل، مناظر اہل سنت، مفتی اسلام، ماہر علم توقیت، استاذ العلماء اور صاحب تصانیف ہیں۔ حیات اعلی حضرت اور صحیح البہاری کی تالیف آپ کا تاریخی کارنامہ ہے۔ اعلی حضرت علیہ الرحمہ آپ کو ”ولد الاعز“ یعنی اپنا سب سے پیارا بیٹا کہہ کر یاد فرماتے۔ 19 جمادی الاخری 1382ھ مطابق 18 نومبر 1962ء بروز دوشنبہ (پیر شریف) اپنے گھر ظفر منزل میں ذکر الله کرتے ہوئے وصال فرمایا۔ مزار مبارک شاہ گنج قبرستان پٹنہ (بہار) ہند میں انوار و تجلیات کا مرکز ہے۔
میرے ظفر کو اپنی ظفر دے
اس سے شکستیں کھاتے یہ ہیں
https://www.facebook.com/286386582084187/posts/974912249898280/
Malik al-Ulama Allama Sayyid Muhammad Zafaruddin Ridawi Muhaddith Bihari (Alayhir Rahmah) was born on 10th Muharram 1303 AH (i.e. 19 October 1885 CE) in Rasoolpura District of Patna (now Nalanda District) in Bihar Province of India. He is the descendant of Ghaus al-Azam, Student of AlaHazrat, Practicing Scholar, Debater of Ahlus Sunnah, Jurist of Islam, Authority in Ilm al-Tauqeet, Teacher of Scholars, and Prolific Author. The compilations of Hayat-e-AlaHazrat and Sahih Al-Bihari are his remarkable achievements. AlaHazrat (Alayhir Rahmah) used to remember him by calling him "Walad-ul-A'iz" meaning his dearest son. He passed away on Monday 19th of Jumad al-Akhirah 1382 AH (i.e. 18th November 1962 CE) in his house Zafar Manzil while performing dhikr of Allah. His blessed resting place in Shah Ganj Cemetery Patna (Bihar) India is the center of spirituality.
Mere Zafar Ko Allah Zafar De
is Se Shikasten Khate Ye Hain
https://www.facebook.com/286386582084187/posts/974912249898280/
میرے ظفر کو اپنی ظفر دے
اس سے شکستیں کھاتے یہ ہیں
https://www.facebook.com/286386582084187/posts/974912249898280/
Malik al-Ulama Allama Sayyid Muhammad Zafaruddin Ridawi Muhaddith Bihari (Alayhir Rahmah) was born on 10th Muharram 1303 AH (i.e. 19 October 1885 CE) in Rasoolpura District of Patna (now Nalanda District) in Bihar Province of India. He is the descendant of Ghaus al-Azam, Student of AlaHazrat, Practicing Scholar, Debater of Ahlus Sunnah, Jurist of Islam, Authority in Ilm al-Tauqeet, Teacher of Scholars, and Prolific Author. The compilations of Hayat-e-AlaHazrat and Sahih Al-Bihari are his remarkable achievements. AlaHazrat (Alayhir Rahmah) used to remember him by calling him "Walad-ul-A'iz" meaning his dearest son. He passed away on Monday 19th of Jumad al-Akhirah 1382 AH (i.e. 18th November 1962 CE) in his house Zafar Manzil while performing dhikr of Allah. His blessed resting place in Shah Ganj Cemetery Patna (Bihar) India is the center of spirituality.
Mere Zafar Ko Allah Zafar De
is Se Shikasten Khate Ye Hain
https://www.facebook.com/286386582084187/posts/974912249898280/
Facebook
Log in to Facebook
Log in to Facebook to start sharing and connecting with your friends, family and people you know.
❤2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
18-06-1445 ᴴ | 01-01-2024 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
19-06-1445 ᴴ | 02-01-2024 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤2