🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت شاہ کمال کیتھلی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
حضرت شاہ کامل کتھیلی مقتدائےراہ دین ہیں۔

خاندانی حالات:

آپ بغدادکےایک معززخاندان سےتعلق رکھتے ہیں۔

والد:

آپ کےوالدماجدکانام سیدمحمدعمرہے،وہ حافظ بھی تھےاورحاجی بھی تھے،وہ کامیاب طبیب ہونے کےعلاوہ ایک عالم بھی تھے۔

ولادت:

آپ نے۷شوال ۸۳۵ھ کواس عالم کوزینت بخشی۔

نام:

آپ کانام کمال ہے۔

القاب:

آپ کےالقاب"سلب احوال"اور"لال ریال"ہیں۔

پیشین گوئی:

حضرت فضیل قادری آپ کےیہاں تشریف لائے،آپ کو دیکھ کربہت خوش ہوئےاورآپ کے والد سےآپ کےمتعلق فرمایاکہ۔

ہادیٔ کامل ولیٔ عادل تمہیں ودیعت ہواہے،اس کی تربیت صحیح طورپرکیجئےکیونکہ یہ بچہ اولیاءکے زمرے میں مراتب عالیہ پرفائزہوگا،اس کی پروازسدرۃ المنتہیٰ تک ہوگی،اس کاعلم وسیع ہوگااور

عمردرازہوگی۔

ابتدائی زندگی:

بچپن ہی سےآپ میں ترک وتجریدکےآثارنمایاں تھےاوربچوں کی طرح کھیل کود میں دلچسپی نہیں لیتے تھے۔جنگلوں میں گھومناپھرناآپ کامحبوب مشغلہ تھا۔کھاناپینابھی برائےنام تھا۔اگرمل جاتاتو کھالیتے،ورنہ نہیں۔بچپن ہی سےآپ حالت جذب میں رہتےتھے۔

ایک واقعہ:

ایک روزجب کہ آپ حسب معمول گھرسےغائب تھے،آپ کے والدماجدآپ کی تلاش کےلئے نکلے۔ایک جنگل میں پہنچ کردیکھاکہ آپ ایک پیڑکےنیچےمراقبہ میں بیٹھےہیں،آپ کواسی حالت میں روحانی قوت کےذریعےمعلوم ہواکہ آپ کےوالدماجدوہاں تشریف لائے ہیں،آپ وہاں سے اٹھ کھڑےہوئے،آپ کےوالدماجدآپ کے پیچھےہولئے،آپ تھوڑی دورچل کرغائب ہوگئے۔

آپ کے والد نےگھرآکریہ واقعہ بیان کیا۔

بیعت وخلافت:

آپ کےوالدنےآپ کی یہ حالت دیکھ کربخوبی اندازہ لگالیاکہ آپ کی تعلیم وتربیت ان کےبس کی نہیں۔انہوں نےآپ کوفضیل قادری کےسپردفرمایا،آپ کی تعلیم وتربیت فضیل قادری کےزیر نگرانی ہوئی آپ بہت جلدعلوم ظاہری کی تکمیل وتحصیل سے فارغ ہوئے۔

تعلیم وتربیت:

آپ نےفضیل قادری کےدست حق پرست پربیعت کی اورانہیں سےخرقہ خلافت پایا،آپ نے سلوک کےتمام مدارج طے کئے،ریاضت،عبادت اورمجاہدہ میں کوئی کسراٹھانہ رکھی۔

پیرومرشدکی ہدایت:

آپ کےپیرومرشدنےآپ کےروحانی کمالات سےخوش ہوکرآپ کو ہندوستان کی ولایت عطا فرمائی،کہ ہندوستان جاکرتادم آخررشدوہدایت میں مشغول رہیں۔

سیروسیاحت:

بغدادسےروانہ ہوکرآپ نےعراق،ایران،مشہد،نجف اشرف تبریز،اصفہان کی سیروسیاحت فرمائی،بہت سےکامل درویشوں سےملےاوران کےفیض باطنی سےمستفیدہوئے۔

ہندوستان میں آمد:

سیروسیاحت فرماتےہوئےآپ ہندوستان پہنچے،ٹھٹھہ میں پہنچ کرایک سال قیام فرمایا،وہاں ملاسیدمحمد مدرس کوبیعت کیااورخرقہ خلافت سےسرفرازفرمایا۔

ٹھٹھہ سےآپ ملتان تشریف لےگئے،وہاں حمیدخاں نےآپ کاشانداراستقبال کیا۔ملتان سےآپ لدھیانہ میں رونق افروزہوئے۔لدھیانہ سےآپ(پائل)سرہندکےقریب)تشریف لےگئے۔

کتھیلی میں قیام:

پائل سےآپ کتھیلی تشریف لےگئےاورکتھیل کواپنی رشدوہدایت کامرکزبنایا۔کتھیل میں مفتیوں کااقتدارتھا،ان کی پانسوپالکیاں نکلاکرتی تھیں۔مفتی طرح طرح سےآپ کی مخالفت پر آمادہ ہوگئے،بہت سےلوگ مفتیوں کےبہکانےسےآپ کےمخالف ہوگئے،وہ طرح طرح سےآپ کو اذیت پہنچانےلگے۔

مفتی اپنی فتنہ پردازیوں سےبازنہ آئے،ایک دن آپ کوغصہ ہی آگیااورآپ کی زبان مبارک سے یہ الفاظ نکلے۔

"مفتیان کی جڑاللہ شہ کمال نےپٹی"

اس کےبعدسےمفتیوں کااقتدارگرناشروع ہوا،یہاں تک رفتہ رفتہ وہ سب نیست ونابود ہوگئے۔

آپ کتھیل میں بلاروک ٹوک رشدوہدایت فرماتے،لوگ آپ کی خدمت میں حاضرہوتے،آپ کا حلقہ ارادت روزبروزبڑھتاگیا۔

شادی اوراولاد:

آپ کےتینوں صاحب زادوں حضرت شاہ عمادالدین،حضرت شاہ موسیٰ،ابوالمکارم اورحضرت نورالدین صاحب کشف وکرامات تھے،ریاضت مجاہدہ اورتزکیہ نفس میں بےنظیرتھے۔

وفات:

آپ کوشغل میت سےکافی دلچسپی تھی،اسی شغل میں کئی کئی مہینےگزرجاتےتھے،آپ اپنےحجرے سے چھ چھ مہینےباہرتشریف نہیں لاتےتھے،ایک مرتبہ آپ کےصاحب زادےحضرت شاہ عماد الدین آپ کےحجرے کی طرف سےگزرے،انہوں دروازےمیں جھانک کردیکھاکہ آپ بے حس وحرکت لیٹے ہیں،دروازہ اتاراگیا،قریب جاکرجب آپ کودیکھاتومردہ پایا،نبض غائب تھی۔

غسل دیتےوقت آپ نےحرکت کی اورغسال سےفرمایاکہ"ہمارےمرنےکی خبرتمام شہرمیں پھیل گئی ہے"۔

غسال نےجواب دیاکہ جی ایساہی ہے۔

یہ سن کرآپ نےفرمایا"اچھاہم جاتے ہیں"۔

یہ کہااورجان شیریں جان آفریں کےسپردفرمائی۔۱؎اس طرح آپ کی وفات۱۹جمادی الثانی ۹۲۱ھ کوواقع ہوئی۔۲؎

خلفاء:

آپ کامزارمبارک کتھیل میں مرجع خاص وعام ہے۔

آپ کےمشہورخلفاء حسب ذیل ہیں۔

ملامحمدمدرس،شاہ سکندر،شاہ موسیٰ،ابوالمکارم،شیخ جلال الدین،کہکیہ ملتان،شاہ یوسف غوث بھکری، شیخ عبدالرحمٰن سرہندی،محمدخاں تاشقندی،ہاشم نجوتی،خواجہ امان اللہ حسینی شیخ قادری،خواجہ فتح علی خاں،خواجہ عین الدین گلانوری،خواجہ اسحاق،باواپوری شیخ عبدالاحد۔

سیرت پاک:

آپ کوحضرت غوث الاعظیم میراں محی الدین سیدعبدالقادرجیلانی رحمتہ اللہ علیہ
1
کی روح پرفتوح سے براہ راست اویسی طریقے سےفیض حاصل تھا۔کئی بزرگ ہستیوں نےآپ سے جلاوبقاءپائی، جس میں حضرت عبدالاحد،حضرت شاہ ہاشم بنوتی،حضرت شیخ طائربندگی اورباواستیل پوری قابل ذکر ہیں۔

آپ کی ذات ستودہ صفات کےذریعہ ےسےسلسلہ قادریہ کو کافی فروغ وعرف حاصل ہوا،آپ کی شخصیت،عظمت و بزرگی کااندازحضرت مجددالف ثانی کےان الفاظ سےبخوبی ہوتاہے۔۳؎

"ہم کوجب خاندان قادریہ کےمشائخ کاکشف ہوتاہےتوبعدحضرت غوث الثقلین رضی اللہ عنہ کے شاہ صاحب جیساکوئی بزرگ نظرنہیں آتا۔

آپ صاحب کرامت اورصاحب تصرف بزرگوں میں سے تھے۔"جن کی نظیر اولیائے متقدمین میں کم نظرآتی ہے"۔

آپ صاحب کرامت اورصاحب تصرف بزرگوں میں سےتھے۔"جن کی نظیراولیائےمتقدمین میں کم نظرآتی ہے"۔

آپ کی قدرومنزلت سےکوئی انکارکی جراءت نہیں کرسکتا،آپ کتھیلی کےصاحب ولایت تھے، آپ کاشمارکاملین اولیائےکرام میں ہوتاہے،حضرت مجددالف ثانی فرماتےہیں۔۴؎

"مجھےنسبت فردینہ جس سے عروج آخرمخصوص ہے،اپنےوالد ماجد شیخ عبدالقادر بن زین العابدین سے حاصل ہوئی اورانہیں ایک بزرگ حضرت شاہ کمال قادری قدس سرہ سےجن کوجذبہ قوی

حاصل تھااورخوارق عادات میں شہرہ آفاق تھے،ہاتھ آئی"۔

آپ کوجلال بہت تھا،کوئی صاحب ولایت کتھیل کےقریب بغیرآپ کی اجازت کےنہیں آسکتا تھا، اگرکوئی ہمت کرتاتوآپ اس کی ساری صلاحیتیں سلب کرلیتےتھے۔آپ نےاپنےبڑےصاحب زادےشاہ عمادالدین کی صلاحیتیں ان سےکرامت سرزدہونےپرسلب کرلیں۔آپ کےچھوٹے صاحب زادےنورالدین سے جب کرامات سرزدہوئی توآپ نےان کےسینےپراپناہاتھ پھیرا،ہاتھ پھیرناتھاکہ ان کاانتقال ہوگیا۔

آپ اتباع سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے سخت پابندتھے،کوئی کام شرع شریف کےخلافت نہیں کرتے تھے۔آپ تمام روحانی اوراخلاقی خوبیوں سےآراستہ تھے۔ریاضت اورمجاہدہ میں فقیدالمثال اور عبادت اورفقرمیں بےنظیرتھے۔فقروغناکادامن کسی حالت میں بھی نہیں چھوڑتےتھے۔آپ سرخ رنگ کالباس زیب تن فرماتےتھے،کبھی کبھی آپ فوجی طرزکالباس پہنتےتھے۔

ارشادات:

آپ فرماتےہیں۔

"سالک مثل میت ہےاوریہ غسال کی مرضی پر منحصرہےکہ وہ ٹھنڈے پانی سے غسل دےیاگرم سے،میت کوکوئی حق نہیں کہ وہ غسال کےسامنےلب کشائی کرے"۔

کشف وکرامات:

ایک ہندوفقیراپنی آنتوں کونکال کرکتھیل کےتالاب کےکنارےصاف کرایاکرتاتھا،ایک روزآپ کا ادھرسےگزرہوا،آپ یہ دیکھ کرمسکرائے اورواپس تشریف لےآئے۔آپ کے آنےکےبعد جب باواسیتل پوری نےاپنی آنتوں کواندررکھناچاہاتووہ ٹھیک نہیں بیٹھیں،وہ پریشان ہوئے،آپ کے پاس آکراپنی پریشانی کی وجہ ظاہرکی۔۵؎

آپ نےان کوتوجہ دی،ان کاسینہ عشق الٰہی کاگنجینہ ہوگیا۔ظلمت دورہوئی،حجابات اٹھ گئےوہ آپ

کے حلقہ ارادت میں داخل ہوئے،آپ نےان کوکلاہ دےکرسرفرازفرمایا۔

ایک روزباواسیتل پوری آپ کےیہاں گئے،آپ کےچھوٹےصاحبزادےکوپژمردہ،ناتواں اور کمزوردیکھ کران سےوجہ پوچھی،بوجہ کم عمری وہ وجہ نہ چھپاسکے۔انہوں نے صاف صاف بتادیاکہ کئی دن کھاناکھائےہوگئےہیں۔باواسیتل پوری یہ سن کربےچین ہوگئے،فوراًواپس آگئےاور ایک پارس پتھرلےکرواپس آئے،پارس پتھرپیش کرتےہوئےانہوں نےعرض کیاکہ اس سےاگرلوہے کو مس کیاجائےلوہاسونابن جاتاہے۔

کچھ دنوں کےبعدجوباواسیتل پوری پھردردولت پرحاضرہوئےتووہی حالت دیکھ کر حیران ہوئےکہ سنگ پارس کےہوتےہوئےیہ افلاس یہ غربت اوریہ ناداری اتنے میں آپ تشریف لائےاورباوا سیتل پوری سےفرمایاکہ آؤ باہرچلیں،دونوں کچھ دورکےایک مقام پرپہنچ کرآپ نےاستنجاکیا۔ استنجاکرکےڈھیلازمین پرزورسےدےمارا،جہاں ڈھیلاگراوہ زمین سونے کی ہوگئی۔

آپ نےباواسیتل پوری سے مخاطب ہوکرفرمایاکہ جتناچاہوبلاتکلف اٹھالو،پھرفاقہ کشی کی وجہ بتاتے ہوئے فرمایاکہ فاقہ کشی کی اصل وجہ یہ ہے کہ سنت رسول اداکررہاہوں۔

بعدازاں باواسیتل پوری کاپیش کردہ سنگ پارس دریامیں ڈلوادیا۔

حواشی:
۱؎ گلزارالخوارق
۲؎ جواہرمجددیہ
۳؎ جواہرمجددیہ
۴؎ مبدآمعاد (اردوترجمہ)ص۳،۲
۵؎ گلزار الخوارق

( تذکرہ اولیاءِ پاک و ہند )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-shah-kamal-kaithalwi
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
ملِکُ العلماء حضرت علامہ محمد
ظفر الدین بہاری اور علمِ توقیت:


ولادت:
بارگاہِ اعلیٰ حضرت علیہ رحمۃ ربِّ العزت سے فیض یافتہ، باکمال و باعمل عالمِ دین، ملِکُ العلماء حضرت علامہ محمد ظفر الدین بہاری علیہ رحمۃ اللہ  الوَالی 10 محرم الحرام 1303 ہجری کو صوبۂ بہار (ہند) ضلع پٹنہ (موجودہ نام نالندہ، ہند) میں پیدا ہوئے ۔

آپ کا نام:
ظفر الدین نام اعلیٰ حضرت  علیہ رحمۃ ربِّ العزت کی بارگاہ سے ملا اور اسی نام سے شہرت پائی ۔ (حیاتِ ملک العلماء، ص:9) ـ

علمِ توقیت میں مہارت:
کئی علوم و فنون میں مہارت کے ساتھ ساتھ آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کو علمِ توقیت میں بھی مہارتِ تامّہ اور معاصرین میں امتیازی خصوصیت حاصل تھی ۔ یہی وجہ ہے کہ اعلیٰ حضرت علیہ رحمۃ ربِّ العزت نے آپ کے بارے میں فرمایا: (مولانا محمد ظفر الدین قادری) علمائے زمانہ میں علمِ توقیت سے تنہا آگاہ ہیں ۔ (ملک العلماء، ص:204) ـ

علّامہ محمد ظفرالدین بہاری
کی توقیت دانی انہیں کی زبانی:

آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں: تقریباً گیارہ سال سے خاکسار (عاجز) برادرانِ دینی کی خدمت اور ان کے روزوں کی درستی و صحت کے لئے ہر سال رمضان شریف کے نقشۂ اوقاتِ صوم و صلاۃ زیچ و توقیت کے قواعدِ خاصہ (خاص قواعد) سے ترتیب دیتا ہے اور مخلصِ قدیم (سچے دوست) حاجی محمد لعل خاں صاحب مدراسی شائع کرتے ہیں، باقی گیارہ مہینوں میں نمازوں کی اَبْتَری (بد حالی) دیکھ دیکھ کر دل پریشان ہوتا تھا کہ اوقاتِ نماز صحیح طور پر معلوم نہ ہونے کے سبب بعض لوگ تاخیر کو انتہا تک پہنچا دیتے ہیں اور اکثر لوگ جلدی کرتے ہیں کہ قبل از وقت نماز پڑھ لیتے ہیں، خصوصاً عصر و عشاء میں تو قبل از وقت حنفی نماز پڑھنا ہندوستان میں عام طور پر رائج ہو گیا ہے ۔

ان ہی ضَرورتوں کے پیشِ نظر میں نے ایک رسالہ مُسَمّٰی بنامِ تاریخی ” بَدْرُ الْاِسْلَامِ لِمِیْقَاتِ کُلِّ الصَّلوٰۃِ وَالصِّیَامِ “ تصنیف کیا ۔ (حیاتِ ملک العلماء ص:18) ـ

علمِ توقیت پر آپ کی تصانیف:
علمِ توقیت پر آپ کی کُتُب میں اَلْجَواہِرُ وَ الْیَواقِیتُ فِی عِلْمِ التَّوْقِیت، بَدْرُ الْاِسْلَامِ لِمِیْقَاتِ کُلِّ الصَّلوٰۃِ وَالصِّیَامِ، تَوْضِیْحُ الْاَفْلَاکْ معروف بہ سُلَّمُ السَّمَاءِ، مؤذن الاوقات جیسی قیمتی اور نادِر تصانیف آپ کی توقیت دانی میں مہارتِ تامّہ کا مُنہ بولتا ثبوت ہیں ۔ (ملک العلماء، ص:204 ملخصاً) ـ

حفیظ الرحمٰن عطاری مدنی،
نارتھ ناظم آباد، باب المدینہ کراچی

https://www.dawateislami.net/magazine/ur/faizan-e-jamia-tul-madina/hazrat-allama-muhammad-zafaruddin-bihari
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
خلیفۂ اعلیٰ حضرت ، حضور ملک العلما، حضرت علامہ سید محمد ظفر الدین بہاری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

نام و نسب:
کنیت: ابو البرکات ـ لقب: ملک العلما ـ نام: محمد ظفرالدین بن عبد الرزاق، آپ کے مورثِ اعلیٰ سید ابراہیم بن سید ابو بکر غزنوی ملقب بہ مدار الملک ہیں ۔ ان کا نسب ساتویں پشت میں حضرت شیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ تک پہنچتا ہے ۔

تاریخِ ولادت:
آپ رسول پور میجرا ضلع پٹنہ (اب ضلع نالندہ) صوبہ بہار میں ۱۰ محرم الحرام ۱۳۰۳ھ / مطابق ۱۹ اکتوبر ۱۸۸۰ء کو صبح صادق کے وقت پیدا ہوئے ۔

تحصیلِ علم:
چار سال کی عمر میں رسم بسم اللہ حضرت شاہ چاند صاحب  کے مبارک ہاتھوں سے انجام پائی ۔ ابتدائی تعلیم  والد ماجد سے حاصل کی، ابتدائی فارسی کتب حافظ مخدوم اشرف، مولانا کبیر الدین اور مولانا عبد اللطیف سے پڑھیں ۔ پھر مدرسہ حنفیہ میں مولانا شاہ وصی احمد محدث سورتی سے مسند امام اعظم، مشکوٰۃ شریف اور ملا جلال پڑھی ۔ پھر منڈی کان پور میں مولانا قاضی عبد الرزاق  اور مولانا احمد حسن کانپوری اور مولانا شاہ عبید اللہ  پنجابی کانپوری سے تعلیم حاصل کی ۔اس کے بعد خوب سے خوب ترکی تلاش انھیں بریلی شریف لے گئی ۔ بریلی میں مولانا حکیم محمد امیر اللہ شاہ بریلوی، مولانا حامد حسن رام پوری، مولانا سید بشیر احمد علی گڑھی اور اعلیٰ حضرت امام اہل سنّت مولانا احمد رضا خان فاضل بریلوی علیہم الرحمہ سے علومِ نقلیہ و عقلیہ کی تکمیل ہوئی ۔

بیعت و خلافت:
محرم الحرام ۱۳۲۱ھ میں اعلیٰ حضرت سے مرید  ہوئے اور تمام سلاسل میں اجازتِ عام عطا فرمائی ۔

سیرت و خصائص:
اعلیٰ حضرت امامِ اہلِ سنت نے خلیفہ تاج الدین احمد ، ناظم انجمن نعمانیہ لاہور کو اپنی رحلت سے بارہ سال پہلے  ۵ شعبان المکرّم ۱۳۲۸ھ کو آپ کی ذات کے بارے میں ایک مکتوب تحریر کیا تھا: اس مکتوب شریف سے بطورِ تبرک وہی الفاظ نقل کرتا ہوں!"مولانا مولوی محمد ظفر الدین صاحب قادری سلمہ فقیر کے یہاں کے اعز طلبہ سے ہیں اور میرے بجان عزیز ۔ ابتدائی کتب کے بعد یہیں تحصیل علوم کی اور اب کئی سال سے میرے مدرسہ میں مدرس اور اس کے علاوہ کار افتا میں میرے معین ہیں ۔ میں یہ نہیں  کہتا کہ جتنی درخواستیں آئی ہوں سب سے یہ زائد ہیں مگر اتنا ضرور کہوں گا: سنی خالص مخلص نہایت صحیح العقیدہ ہادی مہدی ہیں ۔ عام درسیات میں بفضلہٖ تعالیٰ عاجز نہیں، مفتی ہیں، مصنف ہیں، واعظ ہیں، مناظرہ بعونہ تعالیٰ کر سکتے ہیں ۔ علمائے زمانہ میں علم توقیت سے تنہا  آگاہ ہیں ۔

امام ابن حجر مکی نے زواجر میں اس علم کو فرض کفایہ لکھا ہے اور اب ہند بلکہ عام بلاد میں یہ علم علما، بلکہ عام مسلمین سے اٹھ گیا ۔ فقیر نے بتوفیق قدیر اس کا احیاء کیا اور سات صاحب  بنانا چاہے جن میں بعض نے انتقال کیا، اکثر اس کی صعوبت سے چھوڑ کر بیٹھے ۔ انھوں نے بقدر کفایت اخذ کیا اور اب میرے یہاں کے اوقات طلوع و غروب و نصف النہار ہر روز و تاریخ کے لیے اور جملہ اوقات ماہ مبارک رمضان شریف کے بھی بناتے ہیں ۔ فقیر آپ کے مدرسے کو اپنے نفس پر ایثار کر کے انھیں آپ کے لیے پیش کرتا ہے ۔ "

وصال:
شب دو شنبہ ۱۹ جمادی الثانی ۱۳۸۲ھ / ۱۸ نومبر ۱۹۶۲ء کو ذکرِ جہر کرتے ہوئے واصل بحق ہوئے ۔

میرے ظفر کو اپنی ظفر دے
اس سے شکستیں کھاتے یہ ہیں


https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-zafaruddin-bihari

ملک العلماء علامہ ظفر الدین بہاری علیہ‌الرحمہ
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
فاضلِ بہار، ملک العلماء، حضرت علامہ سید محمد ظفر الدین رضوی محدث بہاری رحمة الله تعالى عليه کی ولادت 10 محرم الحرام 1303ھ مطابق 19 اکتوبر 1885ء رسول پورہ ضلع پٹنہ (موجودہ ضلع نالندہ) صوبہ بہار ہند میں ہوئی۔ آپ شہزادۂ غوث اعظم، تلمیذ اعلی حضرت، عالم باعمل،…
فاضلِ بہار، ملک العلماء، حضرت علامہ سید محمد ظفر الدین رضوی محدث بہاری رحمة الله تعالى عليه کی ولادت 10 محرم الحرام 1303ھ مطابق 19 اکتوبر 1885ء رسول پورہ ضلع پٹنہ (موجودہ ضلع نالندہ) صوبہ بہار ہند میں ہوئی۔ آپ شہزادۂ غوث اعظم، تلمیذ اعلی حضرت، عالم باعمل، مناظر اہل سنت، مفتی اسلام، ماہر علم توقیت، استاذ العلماء اور صاحب تصانیف ہیں۔ حیات اعلی حضرت اور صحیح البہاری کی تالیف آپ کا تاریخی کارنامہ ہے۔ اعلی حضرت علیہ الرحمہ آپ کو ”ولد الاعز“ یعنی اپنا سب سے پیارا بیٹا کہہ کر یاد فرماتے۔ 19 جمادی الاخری 1382ھ مطابق 18 نومبر 1962ء بروز دوشنبہ (پیر شریف) اپنے گھر ظفر منزل میں ذکر الله کرتے ہوئے وصال فرمایا۔ مزار مبارک شاہ گنج قبرستان پٹنہ (بہار) ہند میں انوار و تجلیات کا مرکز ہے۔

میرے ظفر کو اپنی ظفر دے
اس سے شکستیں کھاتے یہ ہیں

https://www.facebook.com/286386582084187/posts/974912249898280/

Malik al-Ulama Allama Sayyid Muhammad Zafaruddin Ridawi Muhaddith Bihari (Alayhir Rahmah) was born on 10th Muharram 1303 AH (i.e. 19 October 1885 CE) in Rasoolpura District of Patna (now Nalanda District) in Bihar Province of India. He is the descendant of Ghaus al-Azam, Student of AlaHazrat, Practicing Scholar, Debater of Ahlus Sunnah, Jurist of Islam, Authority in Ilm al-Tauqeet, Teacher of Scholars, and Prolific Author. The compilations of Hayat-e-AlaHazrat and Sahih Al-Bihari are his remarkable achievements. AlaHazrat (Alayhir Rahmah) used to remember him by calling him "Walad-ul-A'iz" meaning his dearest son. He passed away on Monday 19th of Jumad al-Akhirah 1382 AH (i.e. 18th November 1962 CE) in his house Zafar Manzil while performing dhikr of Allah. His blessed resting place in Shah Ganj Cemetery Patna (Bihar) India is the center of spirituality.

Mere Zafar Ko Allah Zafar De
is Se Shikasten Khate Ye Hain

https://www.facebook.com/286386582084187/posts/974912249898280/
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
18-06-1445 ᴴ | 01-01-2024 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
19-06-1445 ᴴ | 02-01-2024 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
2