📙 *فیضان خلاصہ تراویح*📙
✍🏻 *ابو بنتین محمد فراز عطاری مدنی*
🌅 *سورہ ہود*
حضرت عبداللہ بن عباس، حضرت حسن ا ور حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہمم اور دیگر مفسرین فرماتے ہیں کہ سورۂ ہود مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی ہے۔اس سورت میں 10رکوع اور 123 آیتیں ہیں۔
*وجہ*
اس سورت کی آیت نمبر50 تا 60 میں اللہ پاک کے نبی حضرت ہود علیہ السلام اور ان کی قوم عاد کا واقعہ بیان کیا گیا ہے ، اس واقعے کی مناسبت سے اس سور ت کا نام ’’سورۂ ہود‘‘ رکھا گیا۔
💰 *بارہواں پارہ،وَ مَا مِنْ دَآبَّةٍ*
🔥 اس پارے کے اندر عبرت ہی عبرت ہے کیونکہ اس میں مختلف قوموں اور ان کی نافرمانیوں کا ذکر ہے، پھر ان پر جو عذاب نازل کئے گئے ان کو بیان کیا گیا ہے۔
نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:" مجھے سورۂ ہود، سورۂ واقعہ، سورۂ مرسلات، سورۂ عَمَّ یَتَسَآءَلُوْنَ، اور سورۂ اِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ، نے بوڑھا کردیا۔
اس کی شرح میں مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ تعالی فرماتے ہیں: ان سورتوں میں عذابِ الٰہی کا ذکر ہے جن سے مجھے اپنی امت کی فکر ہے۔
🕕 سورہ ھود کی ابتداء گیارہویں پارے کے آخر سے ہوتی ہے، اس کا مرکزی مضمون رسالت پر مشتمل ہے، شروع میں اللہ پاک نے فرمایا زمین پر چلنے والے ہر جاندار کا رزق اللہ کے ذمہ کرم پر ہے، "دآبَّةٍ" کا معنی ہے ہر وہ جانور جو زمین پر رینگ کر چلتا ہو، عُرف میں چوپائے کو ’’ دَآبَّةٍ ‘‘ کہتے ہیں جبکہ آیت میں اس سے مُطْلَقا جاندار مراد ہے لہٰذا انسان اور تمام حیوانات اس میں داخل ہیں۔
پھر فرمایا کہ اللہ پاک ہر ایک کے ٹھکانے اور سپرد کئے جانے کی جگہ کو جانتا ہے، عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ٹھکانے سے مراد ماؤں کے رحم اور سپرد کی جگہ سے مراد موت کا مقام ہے، اس آیت میں جو جانداروں ، ان کے رزق، ان کے ٹھہرنے اور سپرد کئے جانے کی جگہ کا ذکر ہوا یہ سب بیان کرنے والی کتاب یعنی لوحِ محفوظ میں موجود ہے۔
🚫 پھر انسان کی خود غرضی کو بیان فرمایا کہ اگر ہم انسان کو اپنی کسی رحمت کا مزہ چکھائیں اور صحت، امن، وسعتِ رزق اور دولت عطا کریں پھر یہ سب اس سے چھین لیں اور اسے مَصائب میں مبتلا کردیں تو بیشک وہ دوبارہ اس نعمت کے پانے سے مایوس ہوجاتا ہے اور اللہ پاک کے فضل سے اپنی اُمید ختم کرلیتا ہے اور صبر و رضا پر ثابت قدم نہیں رہتا اور گزشتہ نعمت کی ناشکری کرتا ہے۔ اسی طرح اگر مصیبت کے بعد کوئی نعمت ملے تو انسان تکبر میں آجاتا ہے، البتہ جو شخص ہر حال میں صبر اور شکر کرنے والا اور نیک اعمال بجا لانے والا ہوتا ہے ان کے لیے بخشش اور بڑا اجر ہے۔
📝 یہاں ایک بار پھر قرآن کے کلام الٰہی ہونے کا انکار کرنے والوں کو چیلنج دیا گیا کہ اپنے تمام حامیوں کو بلا کر اس جیسی کوئی دس صورتیں بنالاؤ مگر ظاہر ہے کہ وہ کہاں لا سکتے تھے اور قرآن کریم جیسی صورتیں بنانے سے ان کا عاجز ہو جانا اس بات کی دلیل ہے کہ یہ قرآن اللہ کا نازل کردہ ہے اور دس سورتیں تو کیا وہ ایک سورت بلکہ ایک آیت بھی بنا کر نہیں لا سکتے تھے۔
☄️ پھر ان قوموں کا تذکرہ کیا گیا جو اپنی نافرمانیوں کی وجہ سے اللہ پاک کے عذاب میں گرفتار ہوئیں،
نوح علیہ السلام نے قوم کو توحید و رسالت کی بات سمجھائی اور نہ ماننے کی صورت میں درد ناک عذاب کی وعید سنائی، نوح علیہ السلام کو جب یقین ہو گیا کہ میری قوم کے صاحب ایمان لوگوں میں اب مزید کوئی اضافہ نہیں ہوگا تو نوح علیہ السلام نے اللہ پاک سے دعا مانگی ہے "اے میرے پروردگار! میری مدد فرما۔" اللہ پاک نے دعا کو قبول فرما کر حکم ارشاد فرمایا کہ آپ بہت بڑی کشتی تیار کریں جب تیار ہوجائے تو اس میں ایمان والوں کو بھی سوار ہونے کا حکم دیں، جب نوح علیہ السلام کشتی بنا چکے تو اللہ پاک نے آسمان سے پانی کو نازل کردیا اور زمین کو بھی پانی ابلنے کا حکم دے دیا، آسمان اور زمین سے آنے والے پانی نے کفار کو نیست و نابود کرریا، یہاں تک کہ جو نوح علیہ السلام کا کافر اور نافرمان بیٹا بھی طوفان میں غرق ہوگیا، پھر اللہ پاک نے حکم دیا کہ اے زمین اپنا پانی نگل لے اور اے آسمان تھم جا؛ چنانچہ پانی خشک ہوگیا اور کشتی کوہ جودی پر آکر ٹہر گئی۔
🔥 پھر اللہ پاک نے قوم عاد کا ذکر کیا جو خود کو اپنے دور کی طاقتور ترین قوم تصور کرتی تھی، ان کے پاس جسمانی طاقت میں بہت زیادہ تھی، ان کا دعوی تھا کہ دنیا میں ہم سے زیادہ طاقتور کوئی نہیں ہوسکتا ، ہود علیہ السلام ان کو اللہ پاک کی توحید کی دعوت دیتے رہے لیکن انہوں نے ہود علیہ السلام کی بات نہیں سنی، ہود علیہ السلام نے ارشاد فرمایا کہ: اے عاد! تم کو اپنی طاقت پر تکبر ہے اگر تم اپنے پروردگار سے بخشش و مغفرت طلب کرو اور اپنے گناہوں کی معافی مانگو تو اللہ پاک تم پر آسمان سے بارش نازل فرمائے گا اور تمہاری قوت میں اور اضافہ کردے گا، لیکن قوم عاد کے لوگ طاقت کے نشے میں بالکل بد مست تھے؛ چنانچہ اللہ پاک نے ایسی طاقتور طوفانی ہوا کو ان پر مس
✍🏻 *ابو بنتین محمد فراز عطاری مدنی*
🌅 *سورہ ہود*
حضرت عبداللہ بن عباس، حضرت حسن ا ور حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہمم اور دیگر مفسرین فرماتے ہیں کہ سورۂ ہود مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی ہے۔اس سورت میں 10رکوع اور 123 آیتیں ہیں۔
*وجہ*
اس سورت کی آیت نمبر50 تا 60 میں اللہ پاک کے نبی حضرت ہود علیہ السلام اور ان کی قوم عاد کا واقعہ بیان کیا گیا ہے ، اس واقعے کی مناسبت سے اس سور ت کا نام ’’سورۂ ہود‘‘ رکھا گیا۔
💰 *بارہواں پارہ،وَ مَا مِنْ دَآبَّةٍ*
🔥 اس پارے کے اندر عبرت ہی عبرت ہے کیونکہ اس میں مختلف قوموں اور ان کی نافرمانیوں کا ذکر ہے، پھر ان پر جو عذاب نازل کئے گئے ان کو بیان کیا گیا ہے۔
نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:" مجھے سورۂ ہود، سورۂ واقعہ، سورۂ مرسلات، سورۂ عَمَّ یَتَسَآءَلُوْنَ، اور سورۂ اِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ، نے بوڑھا کردیا۔
اس کی شرح میں مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ تعالی فرماتے ہیں: ان سورتوں میں عذابِ الٰہی کا ذکر ہے جن سے مجھے اپنی امت کی فکر ہے۔
🕕 سورہ ھود کی ابتداء گیارہویں پارے کے آخر سے ہوتی ہے، اس کا مرکزی مضمون رسالت پر مشتمل ہے، شروع میں اللہ پاک نے فرمایا زمین پر چلنے والے ہر جاندار کا رزق اللہ کے ذمہ کرم پر ہے، "دآبَّةٍ" کا معنی ہے ہر وہ جانور جو زمین پر رینگ کر چلتا ہو، عُرف میں چوپائے کو ’’ دَآبَّةٍ ‘‘ کہتے ہیں جبکہ آیت میں اس سے مُطْلَقا جاندار مراد ہے لہٰذا انسان اور تمام حیوانات اس میں داخل ہیں۔
پھر فرمایا کہ اللہ پاک ہر ایک کے ٹھکانے اور سپرد کئے جانے کی جگہ کو جانتا ہے، عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ٹھکانے سے مراد ماؤں کے رحم اور سپرد کی جگہ سے مراد موت کا مقام ہے، اس آیت میں جو جانداروں ، ان کے رزق، ان کے ٹھہرنے اور سپرد کئے جانے کی جگہ کا ذکر ہوا یہ سب بیان کرنے والی کتاب یعنی لوحِ محفوظ میں موجود ہے۔
🚫 پھر انسان کی خود غرضی کو بیان فرمایا کہ اگر ہم انسان کو اپنی کسی رحمت کا مزہ چکھائیں اور صحت، امن، وسعتِ رزق اور دولت عطا کریں پھر یہ سب اس سے چھین لیں اور اسے مَصائب میں مبتلا کردیں تو بیشک وہ دوبارہ اس نعمت کے پانے سے مایوس ہوجاتا ہے اور اللہ پاک کے فضل سے اپنی اُمید ختم کرلیتا ہے اور صبر و رضا پر ثابت قدم نہیں رہتا اور گزشتہ نعمت کی ناشکری کرتا ہے۔ اسی طرح اگر مصیبت کے بعد کوئی نعمت ملے تو انسان تکبر میں آجاتا ہے، البتہ جو شخص ہر حال میں صبر اور شکر کرنے والا اور نیک اعمال بجا لانے والا ہوتا ہے ان کے لیے بخشش اور بڑا اجر ہے۔
📝 یہاں ایک بار پھر قرآن کے کلام الٰہی ہونے کا انکار کرنے والوں کو چیلنج دیا گیا کہ اپنے تمام حامیوں کو بلا کر اس جیسی کوئی دس صورتیں بنالاؤ مگر ظاہر ہے کہ وہ کہاں لا سکتے تھے اور قرآن کریم جیسی صورتیں بنانے سے ان کا عاجز ہو جانا اس بات کی دلیل ہے کہ یہ قرآن اللہ کا نازل کردہ ہے اور دس سورتیں تو کیا وہ ایک سورت بلکہ ایک آیت بھی بنا کر نہیں لا سکتے تھے۔
☄️ پھر ان قوموں کا تذکرہ کیا گیا جو اپنی نافرمانیوں کی وجہ سے اللہ پاک کے عذاب میں گرفتار ہوئیں،
نوح علیہ السلام نے قوم کو توحید و رسالت کی بات سمجھائی اور نہ ماننے کی صورت میں درد ناک عذاب کی وعید سنائی، نوح علیہ السلام کو جب یقین ہو گیا کہ میری قوم کے صاحب ایمان لوگوں میں اب مزید کوئی اضافہ نہیں ہوگا تو نوح علیہ السلام نے اللہ پاک سے دعا مانگی ہے "اے میرے پروردگار! میری مدد فرما۔" اللہ پاک نے دعا کو قبول فرما کر حکم ارشاد فرمایا کہ آپ بہت بڑی کشتی تیار کریں جب تیار ہوجائے تو اس میں ایمان والوں کو بھی سوار ہونے کا حکم دیں، جب نوح علیہ السلام کشتی بنا چکے تو اللہ پاک نے آسمان سے پانی کو نازل کردیا اور زمین کو بھی پانی ابلنے کا حکم دے دیا، آسمان اور زمین سے آنے والے پانی نے کفار کو نیست و نابود کرریا، یہاں تک کہ جو نوح علیہ السلام کا کافر اور نافرمان بیٹا بھی طوفان میں غرق ہوگیا، پھر اللہ پاک نے حکم دیا کہ اے زمین اپنا پانی نگل لے اور اے آسمان تھم جا؛ چنانچہ پانی خشک ہوگیا اور کشتی کوہ جودی پر آکر ٹہر گئی۔
🔥 پھر اللہ پاک نے قوم عاد کا ذکر کیا جو خود کو اپنے دور کی طاقتور ترین قوم تصور کرتی تھی، ان کے پاس جسمانی طاقت میں بہت زیادہ تھی، ان کا دعوی تھا کہ دنیا میں ہم سے زیادہ طاقتور کوئی نہیں ہوسکتا ، ہود علیہ السلام ان کو اللہ پاک کی توحید کی دعوت دیتے رہے لیکن انہوں نے ہود علیہ السلام کی بات نہیں سنی، ہود علیہ السلام نے ارشاد فرمایا کہ: اے عاد! تم کو اپنی طاقت پر تکبر ہے اگر تم اپنے پروردگار سے بخشش و مغفرت طلب کرو اور اپنے گناہوں کی معافی مانگو تو اللہ پاک تم پر آسمان سے بارش نازل فرمائے گا اور تمہاری قوت میں اور اضافہ کردے گا، لیکن قوم عاد کے لوگ طاقت کے نشے میں بالکل بد مست تھے؛ چنانچہ اللہ پاک نے ایسی طاقتور طوفانی ہوا کو ان پر مس
لط کردیا جس نے قوم عاد کو اکھاڑ کر پھینک دیا اور اپنی طاقت پر ناز کرنے والے زمین پر یوں پڑے تھے جس طرح کٹے ہوئے درخت کے ٹکڑے ہوتے ہیں ۔
🌪️ پھر اللہ پاک نے قومِ ثمود کا ذکر کیا، قوم ثمود کے لوگ بھی اللہ پاک کی توحید کو فراموش کرچکے تھے، صالح علیہ السلام نے ان کو توحید کا درس دیا لیکن وہ اس درس کو قبول کرنے پر آمادہ نہ ہوئے اور انہوں نے صالح علیہ السلام سے اس بات کا تقاضا کیا کہ ان کو کوئی نشانی دکھائی جائے، صالح علیہ السلام نے اللہ پاک سے دعا مانگی تو بستی کی ایک بڑی پہاڑی پھٹی جس سے اونٹنی نکلی اور اونٹنی نے باہر نکلتے ہی بچہ جنم دیا، مگر بستی کے لوگوں نے اتنے بڑے معجزے کو دیکھ کر ایمان لانے کے بجائے اونٹنی کی ٹانگیں کاٹ ڈالیں، اس پر اللہ پاک کا عذاب نازل ہوا اور ان پر ایک چنگھاڑ کو مسلط کر دیا کہ ایک فرشتے نے چیخ ماری اور اس کی وجہ سے بستی کے لوگوں کے دماغ پھٹ گئے۔
🐄 آیت 69 سے ابراہیم اور لوط علیہما السلام کا تذکرہ ہے کہ سادہ رُو، نوجوانوں کی حسین شکلوں میں فرشتے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس حضرت اسحق اور حضرت یعقوب علیھما السلام کی پیدائش کی خوشخبری لے کر آئے۔ فرشتوں نے سلام کہا تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بھی جواب میں فرشتوں کو سلام کہا، پھر تھوڑی ہی دیر میں حضرت ابراہیم علیہ السلام ایک بھنا ہوا بچھڑا لے آئے،ابراہیم علیہ السلام نے دیکھا کہ مہمانوں کے ہاتھ بچھڑے کے بھنے ہوئے گوشت کی طرف نہیں بڑھ رہے تو کھانا نہ کھانے کی وجہ سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ان سے وحشت ہوئی اور دل میں ان کی طرف سے خوف محسوس کیا کہ کہیں یہ کوئی نقصان نہ پہنچا دیں۔ فرشتوں نے جب حضرت ابراہیم علیہ السلام پر خوف کے آثار دیکھے تو انہوں نے کہا : آپ نہ ڈریں کیونکہ ہم فرشتے ہیں اور حضرت لوط علیہ السلام کی قوم پر عذاب نازل کرنے کے لئے بھیجے گئے ہیں اور فرشتے ہونے کی وجہ سے ہم کھانا نہیں کھارہے تھے۔اور ہم آپ کو اولاد کی خوشخبری دینے آئے ہیں، اللہ پاک آپ کو اسحاق (علیہ السلام) نامی بیٹا عطا فرمائے گا اور یعقوب (علیہ السلام) آپ کے پوتے ہوں گے، تو ابراہیم علیہ السلام کی زوجہ وہیں کھڑی تھیں عورتوں کے انداز گفتگو میں اپنے چہرے پر ہاتھ ماڑتے ہوئے کہنے لگیں کہ میرے اندر تو بظاہر اولاد ہونے کے کوئی امکانات نہیں ہیں اور ابراہیم علیہ السلام بھی بڑی عمر کے ہو چکے ہیں ہمارے یہاں کیسے اولاد ہوسکتی ہے!! تو فرشتوں نے کہا کہ اس میں تعجب اور حیرانی کی بات نہیں، اللہ پاک آپ کے گھرانے پر اپنی رحمتیں اور برکتیں عطا کرنے کا ارادہ فرماتا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔یاد رہے یہ ان کا اعتراض یا رب کی رحمت سے مایوسی نہیں تھی بلکہ تعجب کے طور پر تھا۔
❌ آیت 77 سے اللہ پاک نے قوم لوط کا ذکر فرمایا کہ اس قوم کے لوگ ہم جنس پرستی کا شکار تھے، لوط علیہ السلام نے ان کو سمجھایا کہ وہ اس کام سے اجتناب کریں لیکن وہ لوگ لوط علیہ السلام کی دعوت سے بالکل بھی تبدیل نہ ہوئے، فرشتے لوط علیہ السلام کے پاس خوبصورت انسانوں کی شکلوں میں آئے اور لوط علیہ السلام ان کی آمد پر پریشان ہوئے کہ اب بستی کے لوگ ان نوجوانوں کو اپنی ہوس کا نشانہ نہ بنالیں، قوم کو جب پتا چلا تو وہ برائی کی نیت سے پہنچ گئے جس پر آپ علیہ السلام غمگین ہوگئے، آپ کے غم کو دیکھ کر فرشتوں نے کہا کہ آپ کی قوم ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتی، آپ راتوں رات اپنے گھر والوں کو لے کر تشریف لے جائیں مگر آپ کی بیوی بھی عذاب میں گرفتار ہوگی، پھر اللہ پاک نے ان فرشتوں کو حکم دیا تو فرشتوں نے بستی کو اپنے پروں پر اٹھا کر زمین پر پھینک دیا اور پوری بستی کو پتھروں سے روند ڈالا گیا۔
⚖️ آیت 84 میں اللہ پاک نے قوم مدین کا ذکر کیا جو شرک کے گناہ کے ساتھ ساتھ ناجائز منافع خوری کا شکار تھی ، شعیب علیہ السلام نے انہیں سمجھایا کہ ناپ تول میں کمی نہ کرو مگر انھوں نے شعیب علیہ السلام کی بات نہ مانی ، انہوں نے کہا کہ ہمیں ایسا دین نہیں چاہیے جو انسان کو کاروبار بھی نہ کرنے دے۔ شعیب علیہ السلام نے فرمایا کہ پچھلی قوموں سے تو عبرت حاصل کرو مگر ان میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوئی، اس پر اللہ پاک نے ان پر اسی طرح کی چیخ کو مسلط کردیا جس کے ساتھ قوم ثمود تباہ ہوئی تھی اور یہ لوگ صبح کو اپنے گھروں میں عذاب کی تاب نہ لا کر ایسے الٹے پڑے تھے گویا کہ وہ کبھی زمین پر آباد ہی نہیں ہوئے، اس کے بعد بتایا گیا کہ برائی سے روکنے والے عذاب کی گرفت میں آنے سے محفوظ رہتے ہیں ، فرمایا کہ کیا ہی اچھا ہوتا کہ ہلاک ہونے والی قوموں میں ایک موثر حصہ ایسے لوگوں کا ہوتا جو نافرمانوں کو برائی سے روکتا لیکن ایسے لوگ بہت کم ہوتے ہیں۔
💡آخری آیات میں یاد دہانی کروائی گئی کہ اللہ پاک نے سابقہ رسولوں کے واقعات اس لئے بیان فرمائیے کہ اس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی ہو اور اہل ایمان کے لئے نصیحت ہوجائے اور کافروں کے لیے چیلنج ہے کہ وہ ہمارے رسول علیہ
🌪️ پھر اللہ پاک نے قومِ ثمود کا ذکر کیا، قوم ثمود کے لوگ بھی اللہ پاک کی توحید کو فراموش کرچکے تھے، صالح علیہ السلام نے ان کو توحید کا درس دیا لیکن وہ اس درس کو قبول کرنے پر آمادہ نہ ہوئے اور انہوں نے صالح علیہ السلام سے اس بات کا تقاضا کیا کہ ان کو کوئی نشانی دکھائی جائے، صالح علیہ السلام نے اللہ پاک سے دعا مانگی تو بستی کی ایک بڑی پہاڑی پھٹی جس سے اونٹنی نکلی اور اونٹنی نے باہر نکلتے ہی بچہ جنم دیا، مگر بستی کے لوگوں نے اتنے بڑے معجزے کو دیکھ کر ایمان لانے کے بجائے اونٹنی کی ٹانگیں کاٹ ڈالیں، اس پر اللہ پاک کا عذاب نازل ہوا اور ان پر ایک چنگھاڑ کو مسلط کر دیا کہ ایک فرشتے نے چیخ ماری اور اس کی وجہ سے بستی کے لوگوں کے دماغ پھٹ گئے۔
🐄 آیت 69 سے ابراہیم اور لوط علیہما السلام کا تذکرہ ہے کہ سادہ رُو، نوجوانوں کی حسین شکلوں میں فرشتے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس حضرت اسحق اور حضرت یعقوب علیھما السلام کی پیدائش کی خوشخبری لے کر آئے۔ فرشتوں نے سلام کہا تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بھی جواب میں فرشتوں کو سلام کہا، پھر تھوڑی ہی دیر میں حضرت ابراہیم علیہ السلام ایک بھنا ہوا بچھڑا لے آئے،ابراہیم علیہ السلام نے دیکھا کہ مہمانوں کے ہاتھ بچھڑے کے بھنے ہوئے گوشت کی طرف نہیں بڑھ رہے تو کھانا نہ کھانے کی وجہ سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ان سے وحشت ہوئی اور دل میں ان کی طرف سے خوف محسوس کیا کہ کہیں یہ کوئی نقصان نہ پہنچا دیں۔ فرشتوں نے جب حضرت ابراہیم علیہ السلام پر خوف کے آثار دیکھے تو انہوں نے کہا : آپ نہ ڈریں کیونکہ ہم فرشتے ہیں اور حضرت لوط علیہ السلام کی قوم پر عذاب نازل کرنے کے لئے بھیجے گئے ہیں اور فرشتے ہونے کی وجہ سے ہم کھانا نہیں کھارہے تھے۔اور ہم آپ کو اولاد کی خوشخبری دینے آئے ہیں، اللہ پاک آپ کو اسحاق (علیہ السلام) نامی بیٹا عطا فرمائے گا اور یعقوب (علیہ السلام) آپ کے پوتے ہوں گے، تو ابراہیم علیہ السلام کی زوجہ وہیں کھڑی تھیں عورتوں کے انداز گفتگو میں اپنے چہرے پر ہاتھ ماڑتے ہوئے کہنے لگیں کہ میرے اندر تو بظاہر اولاد ہونے کے کوئی امکانات نہیں ہیں اور ابراہیم علیہ السلام بھی بڑی عمر کے ہو چکے ہیں ہمارے یہاں کیسے اولاد ہوسکتی ہے!! تو فرشتوں نے کہا کہ اس میں تعجب اور حیرانی کی بات نہیں، اللہ پاک آپ کے گھرانے پر اپنی رحمتیں اور برکتیں عطا کرنے کا ارادہ فرماتا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔یاد رہے یہ ان کا اعتراض یا رب کی رحمت سے مایوسی نہیں تھی بلکہ تعجب کے طور پر تھا۔
❌ آیت 77 سے اللہ پاک نے قوم لوط کا ذکر فرمایا کہ اس قوم کے لوگ ہم جنس پرستی کا شکار تھے، لوط علیہ السلام نے ان کو سمجھایا کہ وہ اس کام سے اجتناب کریں لیکن وہ لوگ لوط علیہ السلام کی دعوت سے بالکل بھی تبدیل نہ ہوئے، فرشتے لوط علیہ السلام کے پاس خوبصورت انسانوں کی شکلوں میں آئے اور لوط علیہ السلام ان کی آمد پر پریشان ہوئے کہ اب بستی کے لوگ ان نوجوانوں کو اپنی ہوس کا نشانہ نہ بنالیں، قوم کو جب پتا چلا تو وہ برائی کی نیت سے پہنچ گئے جس پر آپ علیہ السلام غمگین ہوگئے، آپ کے غم کو دیکھ کر فرشتوں نے کہا کہ آپ کی قوم ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتی، آپ راتوں رات اپنے گھر والوں کو لے کر تشریف لے جائیں مگر آپ کی بیوی بھی عذاب میں گرفتار ہوگی، پھر اللہ پاک نے ان فرشتوں کو حکم دیا تو فرشتوں نے بستی کو اپنے پروں پر اٹھا کر زمین پر پھینک دیا اور پوری بستی کو پتھروں سے روند ڈالا گیا۔
⚖️ آیت 84 میں اللہ پاک نے قوم مدین کا ذکر کیا جو شرک کے گناہ کے ساتھ ساتھ ناجائز منافع خوری کا شکار تھی ، شعیب علیہ السلام نے انہیں سمجھایا کہ ناپ تول میں کمی نہ کرو مگر انھوں نے شعیب علیہ السلام کی بات نہ مانی ، انہوں نے کہا کہ ہمیں ایسا دین نہیں چاہیے جو انسان کو کاروبار بھی نہ کرنے دے۔ شعیب علیہ السلام نے فرمایا کہ پچھلی قوموں سے تو عبرت حاصل کرو مگر ان میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوئی، اس پر اللہ پاک نے ان پر اسی طرح کی چیخ کو مسلط کردیا جس کے ساتھ قوم ثمود تباہ ہوئی تھی اور یہ لوگ صبح کو اپنے گھروں میں عذاب کی تاب نہ لا کر ایسے الٹے پڑے تھے گویا کہ وہ کبھی زمین پر آباد ہی نہیں ہوئے، اس کے بعد بتایا گیا کہ برائی سے روکنے والے عذاب کی گرفت میں آنے سے محفوظ رہتے ہیں ، فرمایا کہ کیا ہی اچھا ہوتا کہ ہلاک ہونے والی قوموں میں ایک موثر حصہ ایسے لوگوں کا ہوتا جو نافرمانوں کو برائی سے روکتا لیکن ایسے لوگ بہت کم ہوتے ہیں۔
💡آخری آیات میں یاد دہانی کروائی گئی کہ اللہ پاک نے سابقہ رسولوں کے واقعات اس لئے بیان فرمائیے کہ اس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی ہو اور اہل ایمان کے لئے نصیحت ہوجائے اور کافروں کے لیے چیلنج ہے کہ وہ ہمارے رسول علیہ
السلام کے خلاف جو کرسکتے کر گزریں ان کا وہی انجام ہوگا جیسا سابقہ رسولوں کے مخالفین کا ہوا تھا بلکہ اس سے بھی بدتر ہوگا۔
📲 +923212094919
📲 +923212094919
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
📙 فیضان خلاصہ تراویح 📙
✍🏻 ابو بنتین محمد فراز عطاری مدنی
🧭 سورہ یوسف 🌅
سورۂ یوسف مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی اور اس سورت کاشانِ نزول یہ ہے کہ یہودیوں کے علماء نے عرب کے سرداروں سے کہا تھا کہ محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کرو کہ حضرت یعقوب علیہ السلام کی اولاد ملک ِ شام سے مصر میں کس طرح پہنچی اور اُن کے وہاں جاکر آباد ہونے کا سبب کیا ہوا اور حضرت یوسف علیہ السلام کا واقعہ کیا ہے؟ اس پر یہ سور ۂ مبارکہ نازل ہوئی۔اس سورت میں 12رکوع اور 111آیتیں ہیں۔
*وجہ*
اس سورت میں اللہ پاک کے نبی حضرت یوسف علیہ السلام کے حالات ِزندگی اور ان کی سیرتِ مبارکہ کو تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے اس مناسبت سے اس سورت کا نام ’’سورۂ یوسف‘‘ رکھا گیا۔
📃 اس سورت میں بڑے منفرد انداز میں یوسف علیہ السلام کا واقعہ بیان ہوا ہے باقی نبیوں کے واقعات مختلف آیات میں مختلف سورتوں اور پاروں میں موجود ہیں لیکن حضرت یوسف علیہ السلام کا واقعہ مکمل طور پر اسی سورت میں بیان کیا گیا ہے، قرآن پاک نے اس قصے کو احسن القصص قرار دیا ہے یعنی واقعات میں سے بہترین سچا قصہ، اس میں جتنی عبرت اور نصیحت پائی جاتی ہے وہ کسی دوسرے قصے میں پائی نہیں جاتی۔اس میں دین، توحید اور شرک کی تردید ہے، سیرت اور خوابوں کی تعبیر ہے، سیاست اور حکومت کے رموز ،انسانی نفسیات، معاشی خوشحالی کی تدبیریں اور زہد و تقویٰ کی مثالیں بھی موجود ہیں۔
🕟 سورت کے شروع میں قرآن کریم کی حقانیت کا بیان ہے پھر یوسف علیہ السلام کے خواب کا ذکر ہے،
مفسرین نے یہ واقعہ یوں بیان کیا ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام نے خواب دیکھا کہ آسمان سے گیارہ ستارے اترے اور ان کے ساتھ سورج اور چاند بھی ہیں ،ان سب نے آپ کو سجدہ کیا، حضرت یوسف علیہ السلام نے یہ خواب جمعہ کی رات کو دیکھا اور یہ رات شبِ قدر تھی۔ حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ’’خواب میں دیکھے گئے ستاروں کی تعبیر آپ علیہ السلام کے گیارہ بھائی ہیں اور سورج آپ کے والد اور چاند آپ کی والدہ ہیں۔ آپ کی والدہ ماجدہ کا نام راحیل ہے اورمفسر سدی کا قول ہے کہ چونکہ راحیل کا انتقال ہوچکا تھا اس لئے چاند سے آپ کی خالہ مراد ہیں۔ سجدہ کرنے سے مراد حقیقتاً سجدہ مراد ہے کیونکہ اس زمانہ میں سلام کی طرح سجدۂ تحیت یعنی تعظیم کا سجدہ بھی جائز تھا۔ یعقوب علیہ السلام یوسف علیہ السلام سے بہت محبت کرتے تھے اس لئے یوسف علیہ السلام کے بھائی ان سے حسد کرتے تھے اور یعقوب علیہ السلام یہ بات جانتے تھے اسی وجہ سے آپ علیہ السلام نے یوسف علیہ السلام کو یہ قصہ ان کو بتانے سے منع فرمایا۔آخر کار حسد کی بنا پر بھائیوں نے یوسف علیہ السلام کے قتل کا ارادہ کیا اور اپنے والد کو راضی کرکے انھیں جنگل میں لے گئے، انہیں کنویں میں پھینک کر کپڑوں کو کسی جانور کے خون سے آلودہ کر کے والد کو بتایا کہ ہم جنگل میں کھیلتے رہے اور بھائی کو بھیڑیا کھا گیا، یعقوب علیہ السلام ان کی سازش کو سمجھ گئے اور یوسف علیہ السلام کے فراق میں پریشان رہنے لگے اور آنسو بہاتے رہے، ایک تجارتی قافلے نے یوسف علیہ السلام کو کنویں سے نکال کر مصر کے بازار میں فروخت کردیا، آپ علیہ السلام کی خوبصورتی کے چرچے وہاں ہونے لگے، بادشاہ نے انہیں خرید کر اپنا منہ بولا بیٹا قرار دے دیا اور اس طرح یوسف علیہ السلام کنویں سے نکل کر شاہی محل میں رہنے لگے، شاہ مصر کی بیوی یوسف علیہ السلام پر فریفتہ ہوگئی اور دعوت گناہ دینے لگی، یوسف علیہ السلام نے اپنی پاک دامنی کی حفاظت کی اور آپ علیہ السلام نے اس کو اس کام سے منع کیا، شاہ مصر کو معلوم ہوا تو اس عورت نے یوسف علیہ السلام پر الزام لگا دیا کہ یوسف علیہ السلام طرف سے ابتداء تھی، اللہ پاک نے ایسا کرم کیا کہ اسی خاندان کے اسی گھر میں چھوٹے سے دودھ پیتے بچے سے یوسف علیہ السلام کی پاکدامنی کی گواہی دلوائی،
اس کے بعد یوسف علیہ السلام کو قید میں ڈال دیا گیا، وہاں پر یوسف علیہ السلام کے ساتھ دو قیدی تھے، انہوں نے اپنا یوسف علیہ السلام کو کہا کہ ہم نے خواب دیکھا ہے آپ اس کی تعبیر بتا دیں، آپ علیہ السلام نے خوابوں کی تعبیر بتائیں، ایک سے کہا کہ تم بادشاہ کے دربار میں پہنچو گے اور اپنے آقا کو شراب پلاؤ گے اور دوسرے کو بتایا کہ تم سولی دیے جاؤ گے اور پرندے تمہارا گوشت نوچ کر کھائیں گے، وہ کہنے لگے ہم نے خواب دیکھا ہی نہیں آپ نے فرمایا جو میں نے کہہ دیا وہ ہو کر رہے گا، اور پھر ایسا ہی ہوا، ایک آزاد ہو کر اپنے بادشاہ کے دربار تک پہنچا اور دوسرا سولی کا شکار ہوگیا، آپ علیہ السلام نے آزاد ہونے والے کو کہا کہ تم باہر نکل کر اپنے بادشاہ سے میرے حوالے سے بات کرنا، کچھ دنوں کے بعد بادشاہ نے خواب دیکھا کہ سات تندرست گائیں سات دبلی گائیں کھا رہی ہیں اور سات سرسبز بالیاں ہیں اور سات خشک ہیں، بادشاہ نے اپنے درباریوں سے خواب کی تعبیر پوچھی لیکن وہ
✍🏻 ابو بنتین محمد فراز عطاری مدنی
🧭 سورہ یوسف 🌅
سورۂ یوسف مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی اور اس سورت کاشانِ نزول یہ ہے کہ یہودیوں کے علماء نے عرب کے سرداروں سے کہا تھا کہ محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کرو کہ حضرت یعقوب علیہ السلام کی اولاد ملک ِ شام سے مصر میں کس طرح پہنچی اور اُن کے وہاں جاکر آباد ہونے کا سبب کیا ہوا اور حضرت یوسف علیہ السلام کا واقعہ کیا ہے؟ اس پر یہ سور ۂ مبارکہ نازل ہوئی۔اس سورت میں 12رکوع اور 111آیتیں ہیں۔
*وجہ*
اس سورت میں اللہ پاک کے نبی حضرت یوسف علیہ السلام کے حالات ِزندگی اور ان کی سیرتِ مبارکہ کو تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے اس مناسبت سے اس سورت کا نام ’’سورۂ یوسف‘‘ رکھا گیا۔
📃 اس سورت میں بڑے منفرد انداز میں یوسف علیہ السلام کا واقعہ بیان ہوا ہے باقی نبیوں کے واقعات مختلف آیات میں مختلف سورتوں اور پاروں میں موجود ہیں لیکن حضرت یوسف علیہ السلام کا واقعہ مکمل طور پر اسی سورت میں بیان کیا گیا ہے، قرآن پاک نے اس قصے کو احسن القصص قرار دیا ہے یعنی واقعات میں سے بہترین سچا قصہ، اس میں جتنی عبرت اور نصیحت پائی جاتی ہے وہ کسی دوسرے قصے میں پائی نہیں جاتی۔اس میں دین، توحید اور شرک کی تردید ہے، سیرت اور خوابوں کی تعبیر ہے، سیاست اور حکومت کے رموز ،انسانی نفسیات، معاشی خوشحالی کی تدبیریں اور زہد و تقویٰ کی مثالیں بھی موجود ہیں۔
🕟 سورت کے شروع میں قرآن کریم کی حقانیت کا بیان ہے پھر یوسف علیہ السلام کے خواب کا ذکر ہے،
مفسرین نے یہ واقعہ یوں بیان کیا ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام نے خواب دیکھا کہ آسمان سے گیارہ ستارے اترے اور ان کے ساتھ سورج اور چاند بھی ہیں ،ان سب نے آپ کو سجدہ کیا، حضرت یوسف علیہ السلام نے یہ خواب جمعہ کی رات کو دیکھا اور یہ رات شبِ قدر تھی۔ حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ’’خواب میں دیکھے گئے ستاروں کی تعبیر آپ علیہ السلام کے گیارہ بھائی ہیں اور سورج آپ کے والد اور چاند آپ کی والدہ ہیں۔ آپ کی والدہ ماجدہ کا نام راحیل ہے اورمفسر سدی کا قول ہے کہ چونکہ راحیل کا انتقال ہوچکا تھا اس لئے چاند سے آپ کی خالہ مراد ہیں۔ سجدہ کرنے سے مراد حقیقتاً سجدہ مراد ہے کیونکہ اس زمانہ میں سلام کی طرح سجدۂ تحیت یعنی تعظیم کا سجدہ بھی جائز تھا۔ یعقوب علیہ السلام یوسف علیہ السلام سے بہت محبت کرتے تھے اس لئے یوسف علیہ السلام کے بھائی ان سے حسد کرتے تھے اور یعقوب علیہ السلام یہ بات جانتے تھے اسی وجہ سے آپ علیہ السلام نے یوسف علیہ السلام کو یہ قصہ ان کو بتانے سے منع فرمایا۔آخر کار حسد کی بنا پر بھائیوں نے یوسف علیہ السلام کے قتل کا ارادہ کیا اور اپنے والد کو راضی کرکے انھیں جنگل میں لے گئے، انہیں کنویں میں پھینک کر کپڑوں کو کسی جانور کے خون سے آلودہ کر کے والد کو بتایا کہ ہم جنگل میں کھیلتے رہے اور بھائی کو بھیڑیا کھا گیا، یعقوب علیہ السلام ان کی سازش کو سمجھ گئے اور یوسف علیہ السلام کے فراق میں پریشان رہنے لگے اور آنسو بہاتے رہے، ایک تجارتی قافلے نے یوسف علیہ السلام کو کنویں سے نکال کر مصر کے بازار میں فروخت کردیا، آپ علیہ السلام کی خوبصورتی کے چرچے وہاں ہونے لگے، بادشاہ نے انہیں خرید کر اپنا منہ بولا بیٹا قرار دے دیا اور اس طرح یوسف علیہ السلام کنویں سے نکل کر شاہی محل میں رہنے لگے، شاہ مصر کی بیوی یوسف علیہ السلام پر فریفتہ ہوگئی اور دعوت گناہ دینے لگی، یوسف علیہ السلام نے اپنی پاک دامنی کی حفاظت کی اور آپ علیہ السلام نے اس کو اس کام سے منع کیا، شاہ مصر کو معلوم ہوا تو اس عورت نے یوسف علیہ السلام پر الزام لگا دیا کہ یوسف علیہ السلام طرف سے ابتداء تھی، اللہ پاک نے ایسا کرم کیا کہ اسی خاندان کے اسی گھر میں چھوٹے سے دودھ پیتے بچے سے یوسف علیہ السلام کی پاکدامنی کی گواہی دلوائی،
اس کے بعد یوسف علیہ السلام کو قید میں ڈال دیا گیا، وہاں پر یوسف علیہ السلام کے ساتھ دو قیدی تھے، انہوں نے اپنا یوسف علیہ السلام کو کہا کہ ہم نے خواب دیکھا ہے آپ اس کی تعبیر بتا دیں، آپ علیہ السلام نے خوابوں کی تعبیر بتائیں، ایک سے کہا کہ تم بادشاہ کے دربار میں پہنچو گے اور اپنے آقا کو شراب پلاؤ گے اور دوسرے کو بتایا کہ تم سولی دیے جاؤ گے اور پرندے تمہارا گوشت نوچ کر کھائیں گے، وہ کہنے لگے ہم نے خواب دیکھا ہی نہیں آپ نے فرمایا جو میں نے کہہ دیا وہ ہو کر رہے گا، اور پھر ایسا ہی ہوا، ایک آزاد ہو کر اپنے بادشاہ کے دربار تک پہنچا اور دوسرا سولی کا شکار ہوگیا، آپ علیہ السلام نے آزاد ہونے والے کو کہا کہ تم باہر نکل کر اپنے بادشاہ سے میرے حوالے سے بات کرنا، کچھ دنوں کے بعد بادشاہ نے خواب دیکھا کہ سات تندرست گائیں سات دبلی گائیں کھا رہی ہیں اور سات سرسبز بالیاں ہیں اور سات خشک ہیں، بادشاہ نے اپنے درباریوں سے خواب کی تعبیر پوچھی لیکن وہ
بتا نہیں سکے، وہ قیدی تھا وہیں کا درباری تھا، اس کےذہن میں آیا کہ یوسف علیہ السلام خوابوں کی تعبیر جانتے ہیں، اس نے بادشاہ کو بتایا تو بادشاہ نے ان کے پاس لوگوں کو بھیجا ، آپ. علیہ السلام نےفرمایا کہ سات سال خوشحالی کے ہونگے پھر سات سال قحط سالی کے ہونگے تمہیں چاہیے کہ خوشحالی کے سات سالوں میں اناج کو خوشوں میں رکھنا تاکہ خشک سالی میں تمہارے کام آئیں، خواب کی صحیح تعبیر بتانے کی وجہ سے آپ بادشاہ کی نظروں میں آگئے، بادشاہ نے آپ کی رہائی کا فیصلہ کردیا مگر آپ نے کہا کہ میرے معاملے میں تحقیقات کی جائیں، مجھے غلط طریقے سے جیل میں ڈالا گیا ہے، تو تحقیقات کروائی گئیں، جس پر انہیں بے گناہ قرار دیا گیا، آپ نے ارشاد فرمایا میری پاکدامنی کا براہ راست اعلان کیا جائے پھر آپ کو وہاں سے نکالا گیا اور آپ بادشاہ کے دربار میں تشریف لائے۔
باقی حصہ اگلے پارے میں بیان کیا جائے گا مگر چند باتیں عرض کردوں۔
ان آیات میں ذکر کئے گئے واقعے سے متعلق بحث کرنے سے بچنا ہر مسلمان کے لئے ضروری ہے کیونکہ معاملہ اللہ کے پیارے نبی کی عصمت کا ہے اور بحث کرنا کہیں ایمان کی بربادی کا سبب نہ بن جائے ۔
دوسرا یہ کہ یوسف علیہ السلام کے بھائی تائب ہو چکے تھے اور یعقوب علیہ السلام نے ان کے لیے دعائے مغفرت بھی، لہذا یوسف علیہ السلام کے بھائیوں کے حوالے سے کوئی زبان درازی کرنے کی اجازت نہیں،
تیسرا یہ کہ یوسف علیہ السلام پاک دامن تھے آپ کی طرف سے کوئی بھی ایسی پیش قدمی نہیں ہوئی تھی بلکہ اس عورت کی طرف سے یہ معاملہ کیا گیا تھا اور پھر وہ بھی تائب ہوگئی پھر آپ علیہ السلام کا اس خاتون سے نکاح ہوا، ان کی اولاد بھی ہوئی۔
موبائل نمبر 📱 +923212094919
باقی حصہ اگلے پارے میں بیان کیا جائے گا مگر چند باتیں عرض کردوں۔
ان آیات میں ذکر کئے گئے واقعے سے متعلق بحث کرنے سے بچنا ہر مسلمان کے لئے ضروری ہے کیونکہ معاملہ اللہ کے پیارے نبی کی عصمت کا ہے اور بحث کرنا کہیں ایمان کی بربادی کا سبب نہ بن جائے ۔
دوسرا یہ کہ یوسف علیہ السلام کے بھائی تائب ہو چکے تھے اور یعقوب علیہ السلام نے ان کے لیے دعائے مغفرت بھی، لہذا یوسف علیہ السلام کے بھائیوں کے حوالے سے کوئی زبان درازی کرنے کی اجازت نہیں،
تیسرا یہ کہ یوسف علیہ السلام پاک دامن تھے آپ کی طرف سے کوئی بھی ایسی پیش قدمی نہیں ہوئی تھی بلکہ اس عورت کی طرف سے یہ معاملہ کیا گیا تھا اور پھر وہ بھی تائب ہوگئی پھر آپ علیہ السلام کا اس خاتون سے نکاح ہوا، ان کی اولاد بھی ہوئی۔
موبائل نمبر 📱 +923212094919
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
📗 *فیضان خلاصہ تراویح*📗
✍🏻 *ابو بنتین محمد فراز عطاری مدنی*
🔰 *تیرہواں پارہ، وَ مَاۤ اُبَرِّئُ*
📢 زلیخا کے اقرار اور اعتراف کے بعد حضرت یوسف علیہ السلام نے جب یہ فرمایا کہ میں نے اپنی براءت کا اظہار اس لئے چاہا تھا تاکہ عزیز کو یہ معلوم ہوجائے کہ میں نے اس کی غیر موجودگی میں خیانت نہیں کی اور اس کے اہلِ خانہ کی حرمت خراب کرنے سے بچا رہا ہوں اور جو الزام مجھ پر لگائے گئے ہیں میں اُن سے پاک ہوں تو اس کے بعد حضرت یوسف علیہ السلام کا خیال مبارک اس طرف گیا کہ میری ان باتوں میں اپنی طرف پاکی کی نسبت اور اپنی نیکی کا بیان ہے، ایسا نہ ہو کہ اس میں کسی قسم کی خودپسندی کا شائبہ آنے کی کوشش کرے، چنانچہ آپ علیہ السلام نے اللہ پاک کی بارگاہ میں عاجزی و انکساری کا اظہار کرتے ہوئے عرض کیا کہ’’اے میرے اللہ پاک! نہ میں اپنے نفس کو بے قصور بتاتا ہوں نہ مجھے اپنی بے گناہی پر ناز ہے اور نہ میں گناہ سے بچنے کو اپنے نفس کی خوبی قرار دیتا ہوں ،نفس کی جنس کا تویہ حال ہے کہ وہ برائی کا بڑا حکم دینے والا ہے، لیکن میرا رب قدیر اپنے جس مخصوص بندے کو اپنے فضل وکرم سے معصوم کردے تو اس کا برائیوں سے بچنا اللہ پاک کے فضل اور اس کی رحمت سے ہے اور معصوم کرنا اللہ پاک کا کرم ہے،بیشک میرا اللہ پاک اپنے بندوں کے گناہوں کوبخشنے والا اور ان پر مہربان ہے۔
حضرت یوسف علیہ السلام نے بادشاہ سے فرمایا: اپنی سلطنت کے تمام خزانے میرے سپرد کردے، بے شک میں خزانے کی حفاظت کرنے والا اور ان کے مَصارف کو جاننے والا ہوں ۔ بادشاہ نے کہا آپ علیہ السلام سے زیادہ اس کا مستحق اور کون ہوسکتا ہے ؟ چنانچہ بادشاہ نے حضرت یوسف علیہ السلام کے اس مطالبے کو منظور کرلیا۔
👑 حکومت طلب کرنے کے ایک سال بعد بادشاہ نے حضرت یوسف علیہ السلام کو بلا کر آپ علیہ السلام کی تاج پوشی کی، تلوار اور مُہر آپ علیہ السلام کے سامنے پیش کی، آپ علیہ السلام کو جواہرات لگے ہوئے سونے کے تخت پر تخت نشین کیا، اپنا ملک آپ علیہ السلام کے سپرد کیا ،عزیزِ مصر کو معزول کرکے آپ علیہ السلام کو اس کی جگہ والی بنایا اور تمام خزانے آپ علیہ السلام کے حوالے کردئیے، سلطنت کے تمام اُمور آپ علیہ السلام کے ہاتھ میں دے دیئے اور خود اس طرح فرمانبردار ہوگیا کہ آپ علیہ السلام کی رائے میں دخل نہ دیتا اور آپ علیہ السلام کے ہر حکم کو مانتا۔
آپ علیہ السلام نے زرعی نظام کو بہت اچھے انداز سے چلایا اور خوشحالی کے سات سالوں کےلیے مستقبل کیلئے منصوبہ بندی کی، یہاں تک کہ جب شہروں میں قحط سالی عام ہوگئی، مصر کی معیشت انتہائی مضبوط و مستحکم ہوچکی تھی، قحط سالی اپنے عروج پر پہنچی تو غلے کے حصول کے لیے شہروں سے قافلے مصر پہنچنا شروع ہو گئے۔ یوسف علیہ السلام کے بھائیوں نے بھی مصر کا رخ کیا، جب مصر کے محل میں داخل ہوئے تو یوسف علیہ السلام اپنے بھائیوں کو پہچان گئے، جبکہ وہ یوسف علیہ السلام کو نہ پہچان سکے، یوسف علیہ السلام نے باتوں ہی باتوں میں فرمایا کہ اگلی مرتبہ اپنے بھائی بنیامین کو بھی ساتھ لے آنا، دراصل بنیامین چھوٹے تھے اور یوسف علیہ السلام کے سگے بھائی تھے یعنی ان کی اور یوسف علیہ السلام کی والدہ ایک تھیں، یوسف علیہ السلام نے فرمایا کہ اگر تم اپنے بھائی کو ساتھ نہ لائے تو تمہیں غلے میں سے کچھ بھی نہیں ملے گا، بعد میں حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنے غلاموں سے فرمایا کہ ان لوگوں نے غلے کی جو قیمت دی ہے ، غلے کے ساتھ ساتھ وہ رقم بھی ان کی بوریوں میں واپس رکھ دو تاکہ جب وہ اپنا سامان کھولیں تو اپنی جمع شدہ رقم انہیں مل جائے اور قحط کے زمانے میں کام آئے ،نیز یہ رقم پوشیدہ طور پر اُن کے پاس پہنچے تاکہ اُنہیں لینے میں شرم بھی نہ آئے اور یہ کرم و احسان دوبارہ آنے کے لئے اُن کی رغبت کا باعث بھی ہو۔
یوسف علیہ السلام کے بھائی یعقوب علیہ السلام کے پاس پہنچے تو انھوں نے عزیز مصر یوسف علیہ السلام کی بہت تعریف کی اور ساتھ یہ بھی بتایا ہےکہ عزیز مصر کی یہ خواہش ہےکہ ہم اپنے چھوٹے بھائی کو بھی ساتھ لے کر جائیں، یعقوب علیہ السلام نے جواب میں کہا کہ کیا میں اسی طرح تم پر بھروسہ کرلوں جس طرح میں نے یوسف علیہ السلام کے معاملے میں تم پراعتماد کیا تھا؟ اس پر یعقوب علیہ السلام کے بیٹے خاموش ہوگئے جب غلے کو کھولا گیا تو اس میں غلےکے ساتھ جو خریدنے کے لیے رقم تھی وہ بھی موجود تھی تو یعقوب علیہ السلام کے بیٹوں نے کہا کہ یہ دیکھیے، عزیزِ مصر نے تو ہماری پونجی بھی واپس کردی، اب یعقوب علیہ السلام نے کہا کہ بنیامین کو تمہارے ساتھ صرف اسی صورت میں روانہ کروں گا کہ تم اس کی حفاظت کی قسم کھاؤ، بیٹوں نے یعقوب علیہ السلام کے سامنے حلف لیا۔ یعقوب علیہ السلام نے اپنے بیٹوں کو کچھ نصیحتیں کیں کہ جب مصر میں داخلے کا وقت آئے تو علیحدہ علیحدہ دروازوں سے داخل ہونا کیونکہ جب تم ایک ہی دروازے سے داخل ہوگے تو ممکن ہے تم
✍🏻 *ابو بنتین محمد فراز عطاری مدنی*
🔰 *تیرہواں پارہ، وَ مَاۤ اُبَرِّئُ*
📢 زلیخا کے اقرار اور اعتراف کے بعد حضرت یوسف علیہ السلام نے جب یہ فرمایا کہ میں نے اپنی براءت کا اظہار اس لئے چاہا تھا تاکہ عزیز کو یہ معلوم ہوجائے کہ میں نے اس کی غیر موجودگی میں خیانت نہیں کی اور اس کے اہلِ خانہ کی حرمت خراب کرنے سے بچا رہا ہوں اور جو الزام مجھ پر لگائے گئے ہیں میں اُن سے پاک ہوں تو اس کے بعد حضرت یوسف علیہ السلام کا خیال مبارک اس طرف گیا کہ میری ان باتوں میں اپنی طرف پاکی کی نسبت اور اپنی نیکی کا بیان ہے، ایسا نہ ہو کہ اس میں کسی قسم کی خودپسندی کا شائبہ آنے کی کوشش کرے، چنانچہ آپ علیہ السلام نے اللہ پاک کی بارگاہ میں عاجزی و انکساری کا اظہار کرتے ہوئے عرض کیا کہ’’اے میرے اللہ پاک! نہ میں اپنے نفس کو بے قصور بتاتا ہوں نہ مجھے اپنی بے گناہی پر ناز ہے اور نہ میں گناہ سے بچنے کو اپنے نفس کی خوبی قرار دیتا ہوں ،نفس کی جنس کا تویہ حال ہے کہ وہ برائی کا بڑا حکم دینے والا ہے، لیکن میرا رب قدیر اپنے جس مخصوص بندے کو اپنے فضل وکرم سے معصوم کردے تو اس کا برائیوں سے بچنا اللہ پاک کے فضل اور اس کی رحمت سے ہے اور معصوم کرنا اللہ پاک کا کرم ہے،بیشک میرا اللہ پاک اپنے بندوں کے گناہوں کوبخشنے والا اور ان پر مہربان ہے۔
حضرت یوسف علیہ السلام نے بادشاہ سے فرمایا: اپنی سلطنت کے تمام خزانے میرے سپرد کردے، بے شک میں خزانے کی حفاظت کرنے والا اور ان کے مَصارف کو جاننے والا ہوں ۔ بادشاہ نے کہا آپ علیہ السلام سے زیادہ اس کا مستحق اور کون ہوسکتا ہے ؟ چنانچہ بادشاہ نے حضرت یوسف علیہ السلام کے اس مطالبے کو منظور کرلیا۔
👑 حکومت طلب کرنے کے ایک سال بعد بادشاہ نے حضرت یوسف علیہ السلام کو بلا کر آپ علیہ السلام کی تاج پوشی کی، تلوار اور مُہر آپ علیہ السلام کے سامنے پیش کی، آپ علیہ السلام کو جواہرات لگے ہوئے سونے کے تخت پر تخت نشین کیا، اپنا ملک آپ علیہ السلام کے سپرد کیا ،عزیزِ مصر کو معزول کرکے آپ علیہ السلام کو اس کی جگہ والی بنایا اور تمام خزانے آپ علیہ السلام کے حوالے کردئیے، سلطنت کے تمام اُمور آپ علیہ السلام کے ہاتھ میں دے دیئے اور خود اس طرح فرمانبردار ہوگیا کہ آپ علیہ السلام کی رائے میں دخل نہ دیتا اور آپ علیہ السلام کے ہر حکم کو مانتا۔
آپ علیہ السلام نے زرعی نظام کو بہت اچھے انداز سے چلایا اور خوشحالی کے سات سالوں کےلیے مستقبل کیلئے منصوبہ بندی کی، یہاں تک کہ جب شہروں میں قحط سالی عام ہوگئی، مصر کی معیشت انتہائی مضبوط و مستحکم ہوچکی تھی، قحط سالی اپنے عروج پر پہنچی تو غلے کے حصول کے لیے شہروں سے قافلے مصر پہنچنا شروع ہو گئے۔ یوسف علیہ السلام کے بھائیوں نے بھی مصر کا رخ کیا، جب مصر کے محل میں داخل ہوئے تو یوسف علیہ السلام اپنے بھائیوں کو پہچان گئے، جبکہ وہ یوسف علیہ السلام کو نہ پہچان سکے، یوسف علیہ السلام نے باتوں ہی باتوں میں فرمایا کہ اگلی مرتبہ اپنے بھائی بنیامین کو بھی ساتھ لے آنا، دراصل بنیامین چھوٹے تھے اور یوسف علیہ السلام کے سگے بھائی تھے یعنی ان کی اور یوسف علیہ السلام کی والدہ ایک تھیں، یوسف علیہ السلام نے فرمایا کہ اگر تم اپنے بھائی کو ساتھ نہ لائے تو تمہیں غلے میں سے کچھ بھی نہیں ملے گا، بعد میں حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنے غلاموں سے فرمایا کہ ان لوگوں نے غلے کی جو قیمت دی ہے ، غلے کے ساتھ ساتھ وہ رقم بھی ان کی بوریوں میں واپس رکھ دو تاکہ جب وہ اپنا سامان کھولیں تو اپنی جمع شدہ رقم انہیں مل جائے اور قحط کے زمانے میں کام آئے ،نیز یہ رقم پوشیدہ طور پر اُن کے پاس پہنچے تاکہ اُنہیں لینے میں شرم بھی نہ آئے اور یہ کرم و احسان دوبارہ آنے کے لئے اُن کی رغبت کا باعث بھی ہو۔
یوسف علیہ السلام کے بھائی یعقوب علیہ السلام کے پاس پہنچے تو انھوں نے عزیز مصر یوسف علیہ السلام کی بہت تعریف کی اور ساتھ یہ بھی بتایا ہےکہ عزیز مصر کی یہ خواہش ہےکہ ہم اپنے چھوٹے بھائی کو بھی ساتھ لے کر جائیں، یعقوب علیہ السلام نے جواب میں کہا کہ کیا میں اسی طرح تم پر بھروسہ کرلوں جس طرح میں نے یوسف علیہ السلام کے معاملے میں تم پراعتماد کیا تھا؟ اس پر یعقوب علیہ السلام کے بیٹے خاموش ہوگئے جب غلے کو کھولا گیا تو اس میں غلےکے ساتھ جو خریدنے کے لیے رقم تھی وہ بھی موجود تھی تو یعقوب علیہ السلام کے بیٹوں نے کہا کہ یہ دیکھیے، عزیزِ مصر نے تو ہماری پونجی بھی واپس کردی، اب یعقوب علیہ السلام نے کہا کہ بنیامین کو تمہارے ساتھ صرف اسی صورت میں روانہ کروں گا کہ تم اس کی حفاظت کی قسم کھاؤ، بیٹوں نے یعقوب علیہ السلام کے سامنے حلف لیا۔ یعقوب علیہ السلام نے اپنے بیٹوں کو کچھ نصیحتیں کیں کہ جب مصر میں داخلے کا وقت آئے تو علیحدہ علیحدہ دروازوں سے داخل ہونا کیونکہ جب تم ایک ہی دروازے سے داخل ہوگے تو ممکن ہے تم
ہیں نظر لگ جائے،
جب دوبارہ یوسف علیہ السلام کے بھائی ان کے پاس پہنچے تو یوسف علیہ السلام نے بنیامین کو علیحدہ کر لیا اور ان سے کہا میں آپ کا بھائی یوسف ہوں۔
جب حضرت یوسف علیہ السلام نے انہیں ان کا سامان مہیا کر دیا اور ان میں سے ہر ایک کو ایک اونٹ کا بوجھ غلہ دیدیا اور ایک اونٹ کا بوجھ بنیامین کے لئے خاص کر دیا تو اپنے بھائی بنیامین کی بوری میں بادشاہ کا وہ پیالہ رکھ دیا جس میں وہ پانی پیتا تھا، وہ پیالہ سونے کا تھا اور اس میں جواہرات لگے ہوئے تھے اور اس وقت اس پیالے سے غلہ ناپنے کا کام لیا جاتا تھا ۔ قافلہ کنعان جانے کے ارادے سے روانہ ہوگیا ۔جب قافلہ شہر سے باہر جاچکا تو انبار خانہ کے کارکنوں کو معلوم ہوا کہ پیالہ نہیں ہے، اُن کے خیال میں یہی آیا کہ یہ پیالہ قافلے والے لے گئے ہیں ، چنانچہ اُنہوں نے اس کی جستجو کے لئے آدمی بھیجے، ان میں سے ایک مُنادی نے ندا کی: اے قافلے والو! بیشک تم چور ہو،یعقوب علیہ السلام کے بیٹوں نے کہا اللہ کی قسم ہم زمین پر فساد پھیلانے والے نہیں اور نہ ہی ہم چور ہیں اس پر ان سے کہا گیا کہ تم میں سے کسی کے سامان میں سے بادشاہ کا پیالہ نکل آیا تو اس کی کیا سزا ہوگی جواب میں انہوں نے کہا کہ جس کے سامان میں وہ پیالہ ملے تو اِس کے بدلے میں وہ اپنی گردن چیز کے مالک کے سپرد کر دے اور وہ مالک ایک سال تک اسے غلام بنائے رکھے ۔ حضرت یعقوب علیہ السلام کی شریعت میں چونکہ چوری کی یہی سزا مقرر تھی اس لئے انہوں نے کہا کہ ہمارے یہاں ظالموں کی یہی سزا ہے۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنے بھائی بنیامین کے سامان کی تلاشی لینے سے پہلے دوسروں کے سامان کی تلاشی لینا شروع کی، تلاشی لیتے ہوئے جب بنیامین کے سامان تک پہنچے تو حضرت یوسف علیہ السلام نے فرمایا ’’میرا گمان ہے کہ پیالہ اس کے ہی سامان میں ہو گا۔ بھائیوں نے کہا: خدا کی قسم ! ہم اسے نہیں چھوڑیں گے جب تک کہ آپ علیہ السلام ا س کے سامان کی تلاشی نہ لے لیں ، اسی میں آپ کے لئے اور ہمارے لئے بہتری ہے۔ جب حضرت یوسف علیہ السلام نے بنیامین کے سامان کی تلاشی لی توپیالے کو اس کے سامان سے برآمد کر لیا۔
📢 بادشاہی قانون میں حضرت یوسف علیہ السلام کیلئے درست نہیں تھا کہ اپنے بھائی کو لے لیں کیونکہ بادشاہِ مصر کے قانون میں چوری کی سزا مارنا اور دگنا مال لے لینا مقرر تھی۔ یہ بات اللہ پاک کی مَشِیَّت سے ہوئی کہ حضرت یوسف علیہ السلام کے دل میں ڈال دیا کہ سزا بھائیوں سے دریافت کریں اور بھائیوں کے دل میں ڈال دیا کہ وہ اپنے طریقے کے مطابق جواب دیں۔
خیال رہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام نے اس حیلہ میں نہ تو جھوٹ بولا کیونکہ آپ علیہ السلام کے خادم نے کہا تھا کہ تم چور ہو اور خادم بے خبر تھا، نہ آپ علیہ السلام نے بھائی پر چوری کا بہتان لگایا، بلکہ جو کچھ کیا گیا خود بنیامین کے مشورہ سے کیا گیا، اسی لئے اللہ پاک نے اس کی تعریف فرمائی اور فرمایا ’’كَذٰلِكَ كِدْنَا لِیُوْسُفَ‘‘ یہ تدبیر یوسف کو ہم نے سکھائی۔
🧉جب پیالہ نکل آیا ہے تو بھائیوں نے کہا ’’اے عزیز! اس کے والد عمر میں بہت بڑے ہیں ، وہ اس سے محبت رکھتے ہیں اور اسی سے ان کے دل کو تسلی ہوتی ہے۔ آپ ہم میں سے کسی ایک کو غلام بنا کر یا فدیہ ادا کرنے تک رہن کے طور پر رکھ لیں بیشک ہم آپ کو احسان کرنے والا دیکھ رہے ہیں کہ آپ نے ہمیں عزت دی، کثیر مال ہمیں عطا کیا، ہمارا مطلوب اچھی طرح پورا ہوا اور ہمارے غلے کی قیمت بھی ہمیں لوٹا دی۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے فرمایا ’’اس بات سے اللہ پاک کی پناہ کہ جس کے پاس ہم نے اپنا سامان پایا ہے اس کے علاوہ کسی اور کو پکڑ یں کیونکہ تمہارے فیصلہ کے مطابق ہم اسی کو لینے کے مستحق ہیں جس کے کجاوے میں ہمارا مال ملا ہے، اگر ہم اس کی بجائے دوسرے کو لیں تو یہ تمہارے دین میں ظلم ہے ، لہٰذا تم ا س چیز کا تقاضا کیوں کرتے ہو جس کے بارے میں جانتے ہو کہ وہ ظلم ہے۔
جب بنیامین کے ملنے سے بھائی مایوس ہوگئے تو ان میں سے ایک نے کہا کہ اب والد صاحب کو کیا منہ دکھائیں گے؟ میں تو یہاں سے جانے والا نہیں جب تک اللہ کوئی راستہ نہ نکال دے یا والد صاحب اجازت دے دیں۔
باقی بھائی واپس لوٹے ، یعقوب علیہ السلام کو واقعہ سنایا تو آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ چوری کی نسبت بنیامین کی طرف درست نہیں اور عنقریب اللہ پاک یوسف علیہ السلام اور ان کے دونوں بھائیوں کو مجھ سے ملا دے گا۔یعقوب علیہ السلام نے فرمایا کہ جاؤ اور بنیامین کو تلاش کرو،
اب یوسف علیہ السلام کے بھائی دوبارہ مصر آئے تو حالات بدلے ہوئے تھے،انہوں نے یوسف علیہ السلام کے پاس آکر اپنی غربت کی شکایت کی، یوسف علیہ السلام اپنے بھائیوں کی لاچارگی برداشت نہ کرسکے اور انہوں نے پوچھا کہ تمہیں معلوم ہے تم نے اپنے دور جاہلیت میں یوسف علیہ السلام اور اس کے بھائی کے ساتھ کیا کیا تھا؟ تو بھائیوں نے کہا کہ کہ آپ اس کو کیسے جانتے ہیں؟ آ
جب دوبارہ یوسف علیہ السلام کے بھائی ان کے پاس پہنچے تو یوسف علیہ السلام نے بنیامین کو علیحدہ کر لیا اور ان سے کہا میں آپ کا بھائی یوسف ہوں۔
جب حضرت یوسف علیہ السلام نے انہیں ان کا سامان مہیا کر دیا اور ان میں سے ہر ایک کو ایک اونٹ کا بوجھ غلہ دیدیا اور ایک اونٹ کا بوجھ بنیامین کے لئے خاص کر دیا تو اپنے بھائی بنیامین کی بوری میں بادشاہ کا وہ پیالہ رکھ دیا جس میں وہ پانی پیتا تھا، وہ پیالہ سونے کا تھا اور اس میں جواہرات لگے ہوئے تھے اور اس وقت اس پیالے سے غلہ ناپنے کا کام لیا جاتا تھا ۔ قافلہ کنعان جانے کے ارادے سے روانہ ہوگیا ۔جب قافلہ شہر سے باہر جاچکا تو انبار خانہ کے کارکنوں کو معلوم ہوا کہ پیالہ نہیں ہے، اُن کے خیال میں یہی آیا کہ یہ پیالہ قافلے والے لے گئے ہیں ، چنانچہ اُنہوں نے اس کی جستجو کے لئے آدمی بھیجے، ان میں سے ایک مُنادی نے ندا کی: اے قافلے والو! بیشک تم چور ہو،یعقوب علیہ السلام کے بیٹوں نے کہا اللہ کی قسم ہم زمین پر فساد پھیلانے والے نہیں اور نہ ہی ہم چور ہیں اس پر ان سے کہا گیا کہ تم میں سے کسی کے سامان میں سے بادشاہ کا پیالہ نکل آیا تو اس کی کیا سزا ہوگی جواب میں انہوں نے کہا کہ جس کے سامان میں وہ پیالہ ملے تو اِس کے بدلے میں وہ اپنی گردن چیز کے مالک کے سپرد کر دے اور وہ مالک ایک سال تک اسے غلام بنائے رکھے ۔ حضرت یعقوب علیہ السلام کی شریعت میں چونکہ چوری کی یہی سزا مقرر تھی اس لئے انہوں نے کہا کہ ہمارے یہاں ظالموں کی یہی سزا ہے۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنے بھائی بنیامین کے سامان کی تلاشی لینے سے پہلے دوسروں کے سامان کی تلاشی لینا شروع کی، تلاشی لیتے ہوئے جب بنیامین کے سامان تک پہنچے تو حضرت یوسف علیہ السلام نے فرمایا ’’میرا گمان ہے کہ پیالہ اس کے ہی سامان میں ہو گا۔ بھائیوں نے کہا: خدا کی قسم ! ہم اسے نہیں چھوڑیں گے جب تک کہ آپ علیہ السلام ا س کے سامان کی تلاشی نہ لے لیں ، اسی میں آپ کے لئے اور ہمارے لئے بہتری ہے۔ جب حضرت یوسف علیہ السلام نے بنیامین کے سامان کی تلاشی لی توپیالے کو اس کے سامان سے برآمد کر لیا۔
📢 بادشاہی قانون میں حضرت یوسف علیہ السلام کیلئے درست نہیں تھا کہ اپنے بھائی کو لے لیں کیونکہ بادشاہِ مصر کے قانون میں چوری کی سزا مارنا اور دگنا مال لے لینا مقرر تھی۔ یہ بات اللہ پاک کی مَشِیَّت سے ہوئی کہ حضرت یوسف علیہ السلام کے دل میں ڈال دیا کہ سزا بھائیوں سے دریافت کریں اور بھائیوں کے دل میں ڈال دیا کہ وہ اپنے طریقے کے مطابق جواب دیں۔
خیال رہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام نے اس حیلہ میں نہ تو جھوٹ بولا کیونکہ آپ علیہ السلام کے خادم نے کہا تھا کہ تم چور ہو اور خادم بے خبر تھا، نہ آپ علیہ السلام نے بھائی پر چوری کا بہتان لگایا، بلکہ جو کچھ کیا گیا خود بنیامین کے مشورہ سے کیا گیا، اسی لئے اللہ پاک نے اس کی تعریف فرمائی اور فرمایا ’’كَذٰلِكَ كِدْنَا لِیُوْسُفَ‘‘ یہ تدبیر یوسف کو ہم نے سکھائی۔
🧉جب پیالہ نکل آیا ہے تو بھائیوں نے کہا ’’اے عزیز! اس کے والد عمر میں بہت بڑے ہیں ، وہ اس سے محبت رکھتے ہیں اور اسی سے ان کے دل کو تسلی ہوتی ہے۔ آپ ہم میں سے کسی ایک کو غلام بنا کر یا فدیہ ادا کرنے تک رہن کے طور پر رکھ لیں بیشک ہم آپ کو احسان کرنے والا دیکھ رہے ہیں کہ آپ نے ہمیں عزت دی، کثیر مال ہمیں عطا کیا، ہمارا مطلوب اچھی طرح پورا ہوا اور ہمارے غلے کی قیمت بھی ہمیں لوٹا دی۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے فرمایا ’’اس بات سے اللہ پاک کی پناہ کہ جس کے پاس ہم نے اپنا سامان پایا ہے اس کے علاوہ کسی اور کو پکڑ یں کیونکہ تمہارے فیصلہ کے مطابق ہم اسی کو لینے کے مستحق ہیں جس کے کجاوے میں ہمارا مال ملا ہے، اگر ہم اس کی بجائے دوسرے کو لیں تو یہ تمہارے دین میں ظلم ہے ، لہٰذا تم ا س چیز کا تقاضا کیوں کرتے ہو جس کے بارے میں جانتے ہو کہ وہ ظلم ہے۔
جب بنیامین کے ملنے سے بھائی مایوس ہوگئے تو ان میں سے ایک نے کہا کہ اب والد صاحب کو کیا منہ دکھائیں گے؟ میں تو یہاں سے جانے والا نہیں جب تک اللہ کوئی راستہ نہ نکال دے یا والد صاحب اجازت دے دیں۔
باقی بھائی واپس لوٹے ، یعقوب علیہ السلام کو واقعہ سنایا تو آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ چوری کی نسبت بنیامین کی طرف درست نہیں اور عنقریب اللہ پاک یوسف علیہ السلام اور ان کے دونوں بھائیوں کو مجھ سے ملا دے گا۔یعقوب علیہ السلام نے فرمایا کہ جاؤ اور بنیامین کو تلاش کرو،
اب یوسف علیہ السلام کے بھائی دوبارہ مصر آئے تو حالات بدلے ہوئے تھے،انہوں نے یوسف علیہ السلام کے پاس آکر اپنی غربت کی شکایت کی، یوسف علیہ السلام اپنے بھائیوں کی لاچارگی برداشت نہ کرسکے اور انہوں نے پوچھا کہ تمہیں معلوم ہے تم نے اپنے دور جاہلیت میں یوسف علیہ السلام اور اس کے بھائی کے ساتھ کیا کیا تھا؟ تو بھائیوں نے کہا کہ کہ آپ اس کو کیسے جانتے ہیں؟ آ
پ یوسف تو نہیں ہیں ؟کہا ہاں میں ہی یوسف ہوں اور بنیامین میرا بھائی ہے، اللہ نے ہم پر احسان کیا، بے شک جو صبر اور تقویٰ اختیار کرتا ہے اللہ پاک اس کا اجر ضائع نہیں فرماتا، یوسف علیہ السلام کے والد یعقوب علیہ السلام یوسف علیہ السلام کے غم سے آنسو بہاتے رہتے تھے اسی وجہ سے ان کی بینائی میں کمزوری آچکی تھی اور اب بنیامین بھی وہیں رک گئے تھے، یوسف علیہ السلام نے اپنے بھائیوں کو کہا کہ یہ میری قمیض ہےاسے لے جاؤ اور اپنے والد کے چہرے پر ڈالنا ان کی بینائی کی کمزوری ختم ہوجائے گی۔ اور یہ وہی قمیص تھی جو
جبرئیل علیہ السلام نے یوسف علیہ السلام کو عطا کی تھی جب آپ علیہ السلام کے بھائیوں نے آپ کو کنویں میں ڈالا تو سارا کنواں روشن ہو گیا تھا اور یہ وہ قمیص تھی جو ابراہیم علیہ السلام نے اس وقت پہنی ہوئی تھی جب نمرود نےآپ کو آگ میں ڈالا تھا گویا کہ یہ تبرکات کا مجموعہ تھا۔
یوسف علیہ السلام نے فرمایا آئندہ اپنے والد یعقوب علیہ السلام کو بھی ہمارے پاس لے کر آنا یعقوب علیہ السلام کے بیٹے جب آپ قمیص لے کر روانہ ہوئے تو یعقوب علیہ السلام نے اپنے گھر والوں کو کہا کہ مجھے یوسف علیہ السلام کی خوشبو آ رہی ہے حالانکہ ابھی قمیص کافی فاصلے پر تھی گھر والوں نے اس بات کو نہ سمجھا اور کہنے لگے کہ شاید آپ یوسف علیہ السلام کی محبت کی وجہ سے ایسا کہہ رہے ہیں،
جب مصر سے آپ کے بیٹے آئے اور انہوں نے آپ کے چہرے پر قمیص ڈالی تو یعقوب علیہ السلام کی بینائی کی کمزوری ختم ہوگئی، یعقوب علیہ السلام کے بیٹے شرمندہ ہوئے اور انھوں نے معافی مانگی اور یعقوب علیہ السلام سے عرض کی کہ اپ اللہ پاک کی بارگاہ میں ہمارے لئے استغفار کریں۔اسکے بعد سب اہل خانہ مصر کو روانہ ہوئے شہر سے باہر سرکاری پروٹوکول کے ساتھ ان کا استقبال کیا گیا اور دربار شاہی میں پہنچتے ہی والدین اور 11 بھائی یوسف علیہ السلام کے سامنے سجدہ ریز ہو گئے، پچھلی شریعتوں میں سجدہ تعظیمی جائز تھا، سجدہ عبادت تو کبھی بھی کسی شریعت میں بھی جائز نہیں ہوا۔یوسف علیہ السلام نے کہا کہ اے میرے والد یہ میرے اس پہلے خواب کی تعبیر ہے بیشک میرے رب نے اس کو سچ کر دکھایا اوراس نے مجھ پر احسان فرمایا۔ یوسف علیہ السلام نے اللہ پاک کی بارگاہ میں کلمات شکر ادا کیے کہ اے میرے رب تو نے مجھے حکمت عطا کی اور مجھے خوابوں کی تعبیر کا علم عطا فرمایا، آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والے تو ہی دنیا اور آخرت میں میرا کام بنانے والا ہے، مجھے دنیا سے مسلمان اٹھانا اور مجھے نیک بندوں کے سات ملا دینا۔
🔚 سورت کے اختتام پر بتایا گیا کہ قرآن کے بیان کردہ واقعات میں ہمارے لیے درس عبرت ہے۔ پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی تسلی دی گئ اور مشرکین مکہ کو بھی تنبیہ کی گئ کہ تم بھی میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف دینے سے باز آجاؤ ورنہ تمہارا بھی انجام ویسا ہی ہوگا جیسا پچھلی امتوں کا ہوا۔
📱 +923212094919
جبرئیل علیہ السلام نے یوسف علیہ السلام کو عطا کی تھی جب آپ علیہ السلام کے بھائیوں نے آپ کو کنویں میں ڈالا تو سارا کنواں روشن ہو گیا تھا اور یہ وہ قمیص تھی جو ابراہیم علیہ السلام نے اس وقت پہنی ہوئی تھی جب نمرود نےآپ کو آگ میں ڈالا تھا گویا کہ یہ تبرکات کا مجموعہ تھا۔
یوسف علیہ السلام نے فرمایا آئندہ اپنے والد یعقوب علیہ السلام کو بھی ہمارے پاس لے کر آنا یعقوب علیہ السلام کے بیٹے جب آپ قمیص لے کر روانہ ہوئے تو یعقوب علیہ السلام نے اپنے گھر والوں کو کہا کہ مجھے یوسف علیہ السلام کی خوشبو آ رہی ہے حالانکہ ابھی قمیص کافی فاصلے پر تھی گھر والوں نے اس بات کو نہ سمجھا اور کہنے لگے کہ شاید آپ یوسف علیہ السلام کی محبت کی وجہ سے ایسا کہہ رہے ہیں،
جب مصر سے آپ کے بیٹے آئے اور انہوں نے آپ کے چہرے پر قمیص ڈالی تو یعقوب علیہ السلام کی بینائی کی کمزوری ختم ہوگئی، یعقوب علیہ السلام کے بیٹے شرمندہ ہوئے اور انھوں نے معافی مانگی اور یعقوب علیہ السلام سے عرض کی کہ اپ اللہ پاک کی بارگاہ میں ہمارے لئے استغفار کریں۔اسکے بعد سب اہل خانہ مصر کو روانہ ہوئے شہر سے باہر سرکاری پروٹوکول کے ساتھ ان کا استقبال کیا گیا اور دربار شاہی میں پہنچتے ہی والدین اور 11 بھائی یوسف علیہ السلام کے سامنے سجدہ ریز ہو گئے، پچھلی شریعتوں میں سجدہ تعظیمی جائز تھا، سجدہ عبادت تو کبھی بھی کسی شریعت میں بھی جائز نہیں ہوا۔یوسف علیہ السلام نے کہا کہ اے میرے والد یہ میرے اس پہلے خواب کی تعبیر ہے بیشک میرے رب نے اس کو سچ کر دکھایا اوراس نے مجھ پر احسان فرمایا۔ یوسف علیہ السلام نے اللہ پاک کی بارگاہ میں کلمات شکر ادا کیے کہ اے میرے رب تو نے مجھے حکمت عطا کی اور مجھے خوابوں کی تعبیر کا علم عطا فرمایا، آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والے تو ہی دنیا اور آخرت میں میرا کام بنانے والا ہے، مجھے دنیا سے مسلمان اٹھانا اور مجھے نیک بندوں کے سات ملا دینا۔
🔚 سورت کے اختتام پر بتایا گیا کہ قرآن کے بیان کردہ واقعات میں ہمارے لیے درس عبرت ہے۔ پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی تسلی دی گئ اور مشرکین مکہ کو بھی تنبیہ کی گئ کہ تم بھی میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف دینے سے باز آجاؤ ورنہ تمہارا بھی انجام ویسا ہی ہوگا جیسا پچھلی امتوں کا ہوا۔
📱 +923212094919
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
⛈️ *سورہ رعد*
اس میں 6 رکوع اور 43 آیتیں ہیں۔
*وجہ*
رعد، بادلوں سے پیدا ہونے والی گرج کو کہتے ہیں اور بعض مفسرین کے نزدیک بادل پر مامور ایک فرشتے کا نام رعد ہے ،اور ا س سورت کا یہ نام آیت نمبر 13 میں مذکور لفظ’’ اَلرَّعْدُ ‘‘ کی مناسبت سے رکھا گیا ہے۔
✅ سورہ رعد میں تینوں بنیادی عقائد توحید، رسالت اور آخرت پر گفتگو کی گئی ہے۔
اس کی پہلی آیت میں حقانیت قرآن کا بیان کیا گیا ہے اور جن سورتوں کا آغاز حروف مقطعات سے ہوتا ہے ان کی ابتدا میں عام طور پر قرآن کا ذکر ہوتا ہے۔
☁️ اس کے بعد اللہ پاک کی قدرت و جلالت کا بیان ہے کہ بغیر ستونوں کے آسمانوں کو قائم رکھنا، سورج اور چاند کو ایک نظام کے ساتھ چلانا،زمین کا پھیلاؤ اور اس میں پہاڑوں کو لنگر کی طرح قائم رکھنا، دریاؤں کی روانی، دن و رات کا نظام، طرح طرح کے پھل انگوروں اور کھجوروں کے باغات اور امور کائنات کی تدبیر وغیرہ یہ سب اللہ پاک کی قدرت پر دلالت کرنے والی چیزیں ہیں، اللہ پاک کے علم و قدرت کا مزید بیان ہے کہ ماں کے پیٹ میں کیا ہے یہ اللہ پاک ہی جانتا ہے اور اس بچے کی نیکی بدی اور علم و جہالت اور زندگی کے ماہ و سال ان تمام باتوں کا علم اللہ پاک کے پاس ہے اور اللہ پاک جس کو یہ علم عطا فرمانا چاہے اپنی مشیت سے عطا فرماتا ہے۔
🌨️ بارش سے بھرے ہوئے بادل، بجلی کی چمک اور کڑک یہ اللہ کی تسبیح و تحمید کرتے ہیں اور فرشتے بھی خوف اور ڈر کے ساتھ اللہ پاک کی حمد کرتے رہتے ہیں۔آسمان و زمین میں جو بھی چیز ہے وہ سب اللہ ہی کو سجدہ کر رہی ہے۔اور پھر دلوں کے اطمینان کے لئے ایک نسخہ عطا فرما دیا اور وہ ہے اللہ کا ذکر۔
اور آخر میں کفار کی مذمت پر یہ سورت مکمل ہوتی ہے
📱 +923212094919
اس میں 6 رکوع اور 43 آیتیں ہیں۔
*وجہ*
رعد، بادلوں سے پیدا ہونے والی گرج کو کہتے ہیں اور بعض مفسرین کے نزدیک بادل پر مامور ایک فرشتے کا نام رعد ہے ،اور ا س سورت کا یہ نام آیت نمبر 13 میں مذکور لفظ’’ اَلرَّعْدُ ‘‘ کی مناسبت سے رکھا گیا ہے۔
✅ سورہ رعد میں تینوں بنیادی عقائد توحید، رسالت اور آخرت پر گفتگو کی گئی ہے۔
اس کی پہلی آیت میں حقانیت قرآن کا بیان کیا گیا ہے اور جن سورتوں کا آغاز حروف مقطعات سے ہوتا ہے ان کی ابتدا میں عام طور پر قرآن کا ذکر ہوتا ہے۔
☁️ اس کے بعد اللہ پاک کی قدرت و جلالت کا بیان ہے کہ بغیر ستونوں کے آسمانوں کو قائم رکھنا، سورج اور چاند کو ایک نظام کے ساتھ چلانا،زمین کا پھیلاؤ اور اس میں پہاڑوں کو لنگر کی طرح قائم رکھنا، دریاؤں کی روانی، دن و رات کا نظام، طرح طرح کے پھل انگوروں اور کھجوروں کے باغات اور امور کائنات کی تدبیر وغیرہ یہ سب اللہ پاک کی قدرت پر دلالت کرنے والی چیزیں ہیں، اللہ پاک کے علم و قدرت کا مزید بیان ہے کہ ماں کے پیٹ میں کیا ہے یہ اللہ پاک ہی جانتا ہے اور اس بچے کی نیکی بدی اور علم و جہالت اور زندگی کے ماہ و سال ان تمام باتوں کا علم اللہ پاک کے پاس ہے اور اللہ پاک جس کو یہ علم عطا فرمانا چاہے اپنی مشیت سے عطا فرماتا ہے۔
🌨️ بارش سے بھرے ہوئے بادل، بجلی کی چمک اور کڑک یہ اللہ کی تسبیح و تحمید کرتے ہیں اور فرشتے بھی خوف اور ڈر کے ساتھ اللہ پاک کی حمد کرتے رہتے ہیں۔آسمان و زمین میں جو بھی چیز ہے وہ سب اللہ ہی کو سجدہ کر رہی ہے۔اور پھر دلوں کے اطمینان کے لئے ایک نسخہ عطا فرما دیا اور وہ ہے اللہ کا ذکر۔
اور آخر میں کفار کی مذمت پر یہ سورت مکمل ہوتی ہے
📱 +923212094919
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
☘️ *سورہ ابراہیم*
اس سورت میں 7 رکوع اور 52 آیتیں ہیں ۔
وجہ
اس سورت کی آیت نمبر 35 تا 41 میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اطاعتِ الٰہی کے حسین واقعے اور آپ کی دعاؤں کو بیان کیا گیا ہے، اس مناسبت سے اس سورت کا نام ’’سورۂ ابراہیم‘‘ رکھا گیا۔
🕕 سورہ ابراہیم کے شروع میں ایک بار پھر قرآن کی حقانیت اور اللہ پاک کی قدرت و اختیار کا ذکر ہوا ہے، لیکن کفار دنیا کو ترجیح دیتے ہیں، حق کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں اور اپنی کم بختی کے باعث فضول باتوں کے طلب گار رہتے ہیں، اس میں انبیاء کرام علیہم السلام کا اختصار کے ساتھ ذکر بھی موجود ہے اور خاص طور پر سیدنا ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کا واقعہ بھی موجود ہے، پھر بتایا گیا کہ ہر قوم میں ان کی زبان میں سمجھانے والے نبی ہم نے مبعوث فرمائے، پھر موسی علیہ السلام اور ان کی قوم کا تذکرہ ہے اللہ پاک نے بنی اسرائیل پر نعمتیں اتاریں، فرعون کے بدترین عذاب کا بیان ہے شکر کرنے سے نعمت میں اضافہ ہوتا ہے نا شکری سے نعمتیں زائل ہوجاتی ہیں،
📝 اس کے بعد قوم نوح، قوم عاد اور قوم ثمود کا دوبارہ ذکر ہوا۔ آیت نمبر 21 میں بتایا گیا کہ قیامت کے دن جب مجرمین کو آپس میں بات چیت کرنے کا موقع ملے گا تو وہ ایک دوسرے پر اعتراض کرنے لگیں گے کہ دنیا میں تم نے ہم کو گناہ کروا دیا تھا اب عذاب کو بھی ہم سےدور کرو، وہ کہیں گے کہ ہم تو خود عذاب میں پھنسے ہیں تمہیں کس طرح بچاسکتے ہیں؟ پھر شیطان کی طرف متوجہ ہو کر شیطان کو ملامت کریں گے شیطان کہے گا کہ مجھے کیوں ملامت کرتے ہو؟ تم خود برائی کے راستے پر چلے تھے۔
🌳 اس کے بعد ایمان اور کفر کی مثال دی گئی جس طرح کھجور کے درخت کی جڑیں زمین کی گہرائی میں موجود ہوتی ہیں اور اس کی شاخیں آسمان میں پھیلی ہوئی ہوتی ہیں اور وہ اللہ پاک کے حکم سے ہر وقت پھل دیتا ہے ایسے ہی کلمۂ ایمان ہے کہ اس کی جڑ مومن کے دل کی زمین میں ثابت اور مضبوط ہوتی ہے اور اس کی شاخیں یعنی عمل آسمان میں پہنچتے ہیں اور اس کے ثَمرات یعنی برکت و ثواب ہر وقت حاصل ہوتے ہیں۔
🥀 اور کفریَہ کلام کی مثال اندرائن جیسے کڑوے مزے اور ناگوار بو والے پھل کے درخت کی طرح ہے جو زمین کے اوپر سے کاٹ دیا گیا ہو تو اب اسے کوئی قرار نہیں کیونکہ اس کی جڑیں زمین میں ثابت و مستحکم نہیں اور نہ ہی اس کی شاخیں بلند ہوتیں ہیں یہی حال کفریہ کلام کا ہے کہ اس کی کوئی اصل ثابت نہیں اور وہ کوئی دلیل وحجت نہیں رکھتا جس سے اسے استحکام ملے اورنہ اس میں کوئی خیر وبرکت ہے کہ وہ قبولیت کی بلندی پر پہنچ سکے۔
🕋 آیت نمبر 37 میں اس واقعے کا ذکر ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اللہ کے حکم سے حضرت ہاجرہ رضی اللہ عنھا اور اسماعیل علیہ السلام کو مکہ کی زمین میں چھوڑ کر آئے تو رخصت ہوتے وقت اللہ پاک سے دعا کی کہ اے ہمارے رب میں نے اپنی بعض اولاد کو تیری حرمت والے گھر کے نزدیک ایسی زمین میں ٹھہرا دیا ہے جہاں کھیتی نہیں ہوتی تاکہ وہ نماز کو قائم رکھیں، تو ان لوگوں کے دلوں کو اس کی طرف مائل فرمادے اور ان کو پھلوں سے روزی عطا فرما۔ آپ کی دعا کی برکت ہے وہاں ہر موسم کے پھل ملتے ہیں اور لوگوں کے دل اس طرف مائل رہتے ہیں
🌹 پھر یہ بیان کیا گیا کہ اللہ پاک بڑی عمر میں ابراہیم علیہ السلام کو اولاد عطا فرمائے گا جو اسماعیل علیہ السلام اور اسحاق علیہ السلام ہیں، پھر اس کے بعد ظالموں کی گرفت کے آسمانی نظام کا تذکرہ ہے کہ ظالموں کو آزادی کے ساتھ دندناتے ہوئے پھرتا دیکھو تو دھوکہ مت کھانا ، اسکے بعدکہا گیا کہ جس دن خوف سے سب کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں گی اس دن عرض کریں گے کہ ہمارے رب ہمیں کچھ مہلت دے تاکہ ہم تیرے پیغام کو قبول کریں، رسول کی پیروی کریں اللہ پاک فرمائے گا کہ کیا تم نے اس سے پہلے یہ قسمیں نہیں کھائیں تھیں کہ تم پر بالکل زوال نہیں آئے گا، تم اپنے اپ کو بڑا سمجھتے تھے اور ہم نے تمہارے لیے مثالیں بیان کر دی تھیں، تم اللہ کو اپنے رسولوں سے کیے ہوئے وعدے کے خلاف کرنے والا نہ سمجھو کہ اس نے اپنے رسولوں سے وعدہ کیا ہے کہ جو آپ تم کو تکلیف پہنچائیں گے اللہ پاک ان کو درد ناک عذاب میں مبتلا فرمائے گا
📱+92-3212094919
اس سورت میں 7 رکوع اور 52 آیتیں ہیں ۔
وجہ
اس سورت کی آیت نمبر 35 تا 41 میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اطاعتِ الٰہی کے حسین واقعے اور آپ کی دعاؤں کو بیان کیا گیا ہے، اس مناسبت سے اس سورت کا نام ’’سورۂ ابراہیم‘‘ رکھا گیا۔
🕕 سورہ ابراہیم کے شروع میں ایک بار پھر قرآن کی حقانیت اور اللہ پاک کی قدرت و اختیار کا ذکر ہوا ہے، لیکن کفار دنیا کو ترجیح دیتے ہیں، حق کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں اور اپنی کم بختی کے باعث فضول باتوں کے طلب گار رہتے ہیں، اس میں انبیاء کرام علیہم السلام کا اختصار کے ساتھ ذکر بھی موجود ہے اور خاص طور پر سیدنا ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کا واقعہ بھی موجود ہے، پھر بتایا گیا کہ ہر قوم میں ان کی زبان میں سمجھانے والے نبی ہم نے مبعوث فرمائے، پھر موسی علیہ السلام اور ان کی قوم کا تذکرہ ہے اللہ پاک نے بنی اسرائیل پر نعمتیں اتاریں، فرعون کے بدترین عذاب کا بیان ہے شکر کرنے سے نعمت میں اضافہ ہوتا ہے نا شکری سے نعمتیں زائل ہوجاتی ہیں،
📝 اس کے بعد قوم نوح، قوم عاد اور قوم ثمود کا دوبارہ ذکر ہوا۔ آیت نمبر 21 میں بتایا گیا کہ قیامت کے دن جب مجرمین کو آپس میں بات چیت کرنے کا موقع ملے گا تو وہ ایک دوسرے پر اعتراض کرنے لگیں گے کہ دنیا میں تم نے ہم کو گناہ کروا دیا تھا اب عذاب کو بھی ہم سےدور کرو، وہ کہیں گے کہ ہم تو خود عذاب میں پھنسے ہیں تمہیں کس طرح بچاسکتے ہیں؟ پھر شیطان کی طرف متوجہ ہو کر شیطان کو ملامت کریں گے شیطان کہے گا کہ مجھے کیوں ملامت کرتے ہو؟ تم خود برائی کے راستے پر چلے تھے۔
🌳 اس کے بعد ایمان اور کفر کی مثال دی گئی جس طرح کھجور کے درخت کی جڑیں زمین کی گہرائی میں موجود ہوتی ہیں اور اس کی شاخیں آسمان میں پھیلی ہوئی ہوتی ہیں اور وہ اللہ پاک کے حکم سے ہر وقت پھل دیتا ہے ایسے ہی کلمۂ ایمان ہے کہ اس کی جڑ مومن کے دل کی زمین میں ثابت اور مضبوط ہوتی ہے اور اس کی شاخیں یعنی عمل آسمان میں پہنچتے ہیں اور اس کے ثَمرات یعنی برکت و ثواب ہر وقت حاصل ہوتے ہیں۔
🥀 اور کفریَہ کلام کی مثال اندرائن جیسے کڑوے مزے اور ناگوار بو والے پھل کے درخت کی طرح ہے جو زمین کے اوپر سے کاٹ دیا گیا ہو تو اب اسے کوئی قرار نہیں کیونکہ اس کی جڑیں زمین میں ثابت و مستحکم نہیں اور نہ ہی اس کی شاخیں بلند ہوتیں ہیں یہی حال کفریہ کلام کا ہے کہ اس کی کوئی اصل ثابت نہیں اور وہ کوئی دلیل وحجت نہیں رکھتا جس سے اسے استحکام ملے اورنہ اس میں کوئی خیر وبرکت ہے کہ وہ قبولیت کی بلندی پر پہنچ سکے۔
🕋 آیت نمبر 37 میں اس واقعے کا ذکر ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اللہ کے حکم سے حضرت ہاجرہ رضی اللہ عنھا اور اسماعیل علیہ السلام کو مکہ کی زمین میں چھوڑ کر آئے تو رخصت ہوتے وقت اللہ پاک سے دعا کی کہ اے ہمارے رب میں نے اپنی بعض اولاد کو تیری حرمت والے گھر کے نزدیک ایسی زمین میں ٹھہرا دیا ہے جہاں کھیتی نہیں ہوتی تاکہ وہ نماز کو قائم رکھیں، تو ان لوگوں کے دلوں کو اس کی طرف مائل فرمادے اور ان کو پھلوں سے روزی عطا فرما۔ آپ کی دعا کی برکت ہے وہاں ہر موسم کے پھل ملتے ہیں اور لوگوں کے دل اس طرف مائل رہتے ہیں
🌹 پھر یہ بیان کیا گیا کہ اللہ پاک بڑی عمر میں ابراہیم علیہ السلام کو اولاد عطا فرمائے گا جو اسماعیل علیہ السلام اور اسحاق علیہ السلام ہیں، پھر اس کے بعد ظالموں کی گرفت کے آسمانی نظام کا تذکرہ ہے کہ ظالموں کو آزادی کے ساتھ دندناتے ہوئے پھرتا دیکھو تو دھوکہ مت کھانا ، اسکے بعدکہا گیا کہ جس دن خوف سے سب کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں گی اس دن عرض کریں گے کہ ہمارے رب ہمیں کچھ مہلت دے تاکہ ہم تیرے پیغام کو قبول کریں، رسول کی پیروی کریں اللہ پاک فرمائے گا کہ کیا تم نے اس سے پہلے یہ قسمیں نہیں کھائیں تھیں کہ تم پر بالکل زوال نہیں آئے گا، تم اپنے اپ کو بڑا سمجھتے تھے اور ہم نے تمہارے لیے مثالیں بیان کر دی تھیں، تم اللہ کو اپنے رسولوں سے کیے ہوئے وعدے کے خلاف کرنے والا نہ سمجھو کہ اس نے اپنے رسولوں سے وعدہ کیا ہے کہ جو آپ تم کو تکلیف پہنچائیں گے اللہ پاک ان کو درد ناک عذاب میں مبتلا فرمائے گا
📱+92-3212094919
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
📚 *فیضان خلاصہ تراویح*📚
✍🏻 *ابو بنتین محمد فراز عطاری مدنی عفی عنہ*
🍀 *سورہ حِجْر*
سورۂ حِجْر مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی ہے۔اس سورت میں چھ 6رکوع اور 99 آیتیں ہیں۔
*وجہ*
حِجْر،مدینہ منورہ اور شام کے درمیان ایک وادی کا نام ہے، اور اِ س سورت کی آیت نمبر 80 تا 84 میں اُس وادی میں رہنے والی قومِ ثمود کا واقعہ بیان کیا گیاہے،اس مناسبت سے اس کا نام سورۂ حِجْر رکھا گیا۔
*چودہواں پارہ، رُبَمَا*
📃تیرہویں پارے کے بالکل آخر سے یہ سورت شروع ہوتی ہے، مکہ مکرمہ میں نازل ہونے والی دیگر سورتوں کی طرح اس سورت کا مرکزی مضمون بھی یہ ہے کہ اس میں اللہ پاک کی وحدانیت اور ا س کی قدرت، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت،مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے اور اعمال کی جزاء ملنے کو کئی طرح کے دلائل سے ثابت کیا گیا ہے۔
❗شروع کی آیات میں فرمایا کہ اے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم یہ کافر اگرچہ مسلمان ہونے کے لئے تیار نہیں مگر ایک وقت آنے والا ہے جب یہ تمنا کریں گے کہ کاش وہ مسلمان ہوتے لہذا آپ انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیں، یہ کھاتے پیتے رہیں اور دنیا کے عارضی مفادات ہیں ان میں گم رہیں مگن رہیں اور امیدوں اور آرزوؤں میں پڑے رہیں عنقریب انہیں دنیا کے عارضی ہونے کا پتہ چل جائے گا۔اے حبیب! صلی اللہ علیہ وسلم آپ سے پہلے جن بستیوں کے باشندوں کو ہم نے ہلاک کیا ان کے لئے ایک معین وقت لوح محفوظ میں لکھا ہوا تھا، ہم نے انہیں وہ وقت آنے سے پہلے ہلاک نہیں کیا اور جب وہ وقت آ گیا تو ہم نے انہیں تباہ و برباد کر دیا۔ اے حبیب! صلی اللہ علیہ وسلم ، اسی طرح مکہ کے مشرکوں کو بھی ہم اسی وقت ہلاک کریں گے جب ان کا لکھا ہوا معین وقت آ جائے گا کیونکہ میرا فیصلہ یہ ہے کہ میں معین وقت آنے سے پہلے کسی بستی کے باشندوں کو ہلاک نہیں فرماتا۔
📝 آیت 9 میں قرآن پاک کی حفاظت کی ذمہ داری خود اللہ پاک نے لی ہے۔
✨ آیت 16 میں فرمایا کہ ہم نے آسمان کو سورج ، چاند اور ستاروں سے آراستہ کیا تاکہ غورو فکر کرنے والے اس سے اللہ پاک کے واحد اور خالق ہونے پر استدلال کریں اور جان لیں کہ ہر چیز کو پیدا کرنے والا اور اسے شکل و صورت عطا کرنے والا صرف اللہ پاک ہے۔
پھر فرمایا کہ اللہ پاک نے آسمانِ دنیا کو ہر مردود اور لعین شیطان سے محفوظ رکھا ہے لیکن جو شیطان آسمانوں میں ہونے والی گفتگو چوری کر کے ایک دوسرے کو بتاتے ہیں تو ان کے پیچھے ایک روشن شعلہ پڑ جاتا ہے۔آیت میں شھاب کا لفظ ہے، شہاب اس ستارے کو کہتے ہیں جو شعلے کی طرح روشن ہوتا ہے اور فرشتے اس سے شیاطین کو مارتے ہیں ۔
🌏 اس کے اللہ پاک کی وحدانیت پر زمین دلائل دیے جارہے ہیں، فرمایا کہ ہم نے زمین کو پھیلایا اور ہم نے اس میں مضبوط پہاڑوں کے لنگر ڈال دئیے تاکہ وہ زمین والوں کے ساتھ حرکت نہ کرے۔ساتھ ہی فرمایا کہ اللہ پاک نے (زمین میں ) ہر چیز لوگوں کی ضروریات کے مطابق اندازے سے پیدا فرمائی کیونکہ اللہ پاک وہ مقدار جانتا ہے جس کی لوگوں کو ضرورت ہو اور وہ اس سے نفع حاصل کر سکتے ہوں اس لئے اللہ پاک نے زمین میں اسی مقدار کے مطابق نباتات پیدا فرمائیں۔
🌨️آیت 22 اور 23 میں فرمایا کہ بادلوں میں پانی پیدا کرنے اور ان سے بارش نازل کر کے تمہیں سیراب کرنے پر صرف اللہ پاک قادر ہے ،اس کے سوا اور کسی کو یہ قدرت حاصل نہیں ۔اس میں اللہ پاک کی قدرت اور بندوں کے عاجز ہونے پر عظیم دلیل ہے۔ مخلوق کو زندگی اور موت عطا کرنا صرف ہمارے ہی دستِ قدرت میں ہے اور تمام مخلوق فنا ہونے والی ہے اور ہم ہی باقی رہنے والے ہیں اور مُلک کی ملکیت کا دعویٰ کرنے والوں کی ملکیت ضائع ہوجائے گی اور سب مالکوں کا مالک یعنی اللہ پاک باقی رہے گا۔
🕕 آیت 26 میں انسانوں اور جنوں کی پیدائش کا بیان کہ اللہ پاک نے انسانوں کو مٹی سے پیدا کیا اس سے قبل جنات کو آگ کے شعلے کی لپک سے پیدا کیا ، اللہ پاک نے فرشتوں کو حکم دیا کہ جب میں انسان کو بناؤں اور اس میں روح ڈال دوں تو تم اس کے سامنے سجدے میں گرنا، تمام فرشتوں نے حضرت آدم علیہ السلام کے سامنے سجدہ کیا لیکن ابلیس نے حضرت آدم علیہ السلام کے سامنے سجدہ ریز ہونے سے انکار کر دیا، اور کہنے لگا کہ میں افضل ہوں کیونکہ تو نے مجھے آگ سے اور انہیں مٹی سے بنایا ہے، اللہ پاک نے فرمایا قیامت تک آسمان و زمین و الے تجھ پر لعنت کریں گے اور جب قیامت کا دن آئے گا تواس لعنت کے ساتھ ہمیشگی کے عذاب میں گرفتار کیا جائے گا جس سے کبھی رہائی نہ ہوگی۔
اپنے مردود اور لعنتی ہونے کے بارے میں سن کر شیطان نے کہا کہ اے میرے رب! مجھے قیامت کے دن تک مہلت دے دے۔ قیامت کے دن تک مہلت مانگنے سے شیطان کا مطلب یہ تھا کہ وہ کبھی نہ مرے کیونکہ قیامت کے بعد کوئی نہ مرے گا اور قیامت تک کی اُس نے مہلت مانگ ہی لی لیکن اس کی اس دعا کو اللہ پاک نے اس طرح قبول کیا کہ اس سے فرمایا: بیشک تو ان میں سے ہے جن کو اس معین وقت کے د
✍🏻 *ابو بنتین محمد فراز عطاری مدنی عفی عنہ*
🍀 *سورہ حِجْر*
سورۂ حِجْر مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی ہے۔اس سورت میں چھ 6رکوع اور 99 آیتیں ہیں۔
*وجہ*
حِجْر،مدینہ منورہ اور شام کے درمیان ایک وادی کا نام ہے، اور اِ س سورت کی آیت نمبر 80 تا 84 میں اُس وادی میں رہنے والی قومِ ثمود کا واقعہ بیان کیا گیاہے،اس مناسبت سے اس کا نام سورۂ حِجْر رکھا گیا۔
*چودہواں پارہ، رُبَمَا*
📃تیرہویں پارے کے بالکل آخر سے یہ سورت شروع ہوتی ہے، مکہ مکرمہ میں نازل ہونے والی دیگر سورتوں کی طرح اس سورت کا مرکزی مضمون بھی یہ ہے کہ اس میں اللہ پاک کی وحدانیت اور ا س کی قدرت، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت،مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے اور اعمال کی جزاء ملنے کو کئی طرح کے دلائل سے ثابت کیا گیا ہے۔
❗شروع کی آیات میں فرمایا کہ اے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم یہ کافر اگرچہ مسلمان ہونے کے لئے تیار نہیں مگر ایک وقت آنے والا ہے جب یہ تمنا کریں گے کہ کاش وہ مسلمان ہوتے لہذا آپ انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیں، یہ کھاتے پیتے رہیں اور دنیا کے عارضی مفادات ہیں ان میں گم رہیں مگن رہیں اور امیدوں اور آرزوؤں میں پڑے رہیں عنقریب انہیں دنیا کے عارضی ہونے کا پتہ چل جائے گا۔اے حبیب! صلی اللہ علیہ وسلم آپ سے پہلے جن بستیوں کے باشندوں کو ہم نے ہلاک کیا ان کے لئے ایک معین وقت لوح محفوظ میں لکھا ہوا تھا، ہم نے انہیں وہ وقت آنے سے پہلے ہلاک نہیں کیا اور جب وہ وقت آ گیا تو ہم نے انہیں تباہ و برباد کر دیا۔ اے حبیب! صلی اللہ علیہ وسلم ، اسی طرح مکہ کے مشرکوں کو بھی ہم اسی وقت ہلاک کریں گے جب ان کا لکھا ہوا معین وقت آ جائے گا کیونکہ میرا فیصلہ یہ ہے کہ میں معین وقت آنے سے پہلے کسی بستی کے باشندوں کو ہلاک نہیں فرماتا۔
📝 آیت 9 میں قرآن پاک کی حفاظت کی ذمہ داری خود اللہ پاک نے لی ہے۔
✨ آیت 16 میں فرمایا کہ ہم نے آسمان کو سورج ، چاند اور ستاروں سے آراستہ کیا تاکہ غورو فکر کرنے والے اس سے اللہ پاک کے واحد اور خالق ہونے پر استدلال کریں اور جان لیں کہ ہر چیز کو پیدا کرنے والا اور اسے شکل و صورت عطا کرنے والا صرف اللہ پاک ہے۔
پھر فرمایا کہ اللہ پاک نے آسمانِ دنیا کو ہر مردود اور لعین شیطان سے محفوظ رکھا ہے لیکن جو شیطان آسمانوں میں ہونے والی گفتگو چوری کر کے ایک دوسرے کو بتاتے ہیں تو ان کے پیچھے ایک روشن شعلہ پڑ جاتا ہے۔آیت میں شھاب کا لفظ ہے، شہاب اس ستارے کو کہتے ہیں جو شعلے کی طرح روشن ہوتا ہے اور فرشتے اس سے شیاطین کو مارتے ہیں ۔
🌏 اس کے اللہ پاک کی وحدانیت پر زمین دلائل دیے جارہے ہیں، فرمایا کہ ہم نے زمین کو پھیلایا اور ہم نے اس میں مضبوط پہاڑوں کے لنگر ڈال دئیے تاکہ وہ زمین والوں کے ساتھ حرکت نہ کرے۔ساتھ ہی فرمایا کہ اللہ پاک نے (زمین میں ) ہر چیز لوگوں کی ضروریات کے مطابق اندازے سے پیدا فرمائی کیونکہ اللہ پاک وہ مقدار جانتا ہے جس کی لوگوں کو ضرورت ہو اور وہ اس سے نفع حاصل کر سکتے ہوں اس لئے اللہ پاک نے زمین میں اسی مقدار کے مطابق نباتات پیدا فرمائیں۔
🌨️آیت 22 اور 23 میں فرمایا کہ بادلوں میں پانی پیدا کرنے اور ان سے بارش نازل کر کے تمہیں سیراب کرنے پر صرف اللہ پاک قادر ہے ،اس کے سوا اور کسی کو یہ قدرت حاصل نہیں ۔اس میں اللہ پاک کی قدرت اور بندوں کے عاجز ہونے پر عظیم دلیل ہے۔ مخلوق کو زندگی اور موت عطا کرنا صرف ہمارے ہی دستِ قدرت میں ہے اور تمام مخلوق فنا ہونے والی ہے اور ہم ہی باقی رہنے والے ہیں اور مُلک کی ملکیت کا دعویٰ کرنے والوں کی ملکیت ضائع ہوجائے گی اور سب مالکوں کا مالک یعنی اللہ پاک باقی رہے گا۔
🕕 آیت 26 میں انسانوں اور جنوں کی پیدائش کا بیان کہ اللہ پاک نے انسانوں کو مٹی سے پیدا کیا اس سے قبل جنات کو آگ کے شعلے کی لپک سے پیدا کیا ، اللہ پاک نے فرشتوں کو حکم دیا کہ جب میں انسان کو بناؤں اور اس میں روح ڈال دوں تو تم اس کے سامنے سجدے میں گرنا، تمام فرشتوں نے حضرت آدم علیہ السلام کے سامنے سجدہ کیا لیکن ابلیس نے حضرت آدم علیہ السلام کے سامنے سجدہ ریز ہونے سے انکار کر دیا، اور کہنے لگا کہ میں افضل ہوں کیونکہ تو نے مجھے آگ سے اور انہیں مٹی سے بنایا ہے، اللہ پاک نے فرمایا قیامت تک آسمان و زمین و الے تجھ پر لعنت کریں گے اور جب قیامت کا دن آئے گا تواس لعنت کے ساتھ ہمیشگی کے عذاب میں گرفتار کیا جائے گا جس سے کبھی رہائی نہ ہوگی۔
اپنے مردود اور لعنتی ہونے کے بارے میں سن کر شیطان نے کہا کہ اے میرے رب! مجھے قیامت کے دن تک مہلت دے دے۔ قیامت کے دن تک مہلت مانگنے سے شیطان کا مطلب یہ تھا کہ وہ کبھی نہ مرے کیونکہ قیامت کے بعد کوئی نہ مرے گا اور قیامت تک کی اُس نے مہلت مانگ ہی لی لیکن اس کی اس دعا کو اللہ پاک نے اس طرح قبول کیا کہ اس سے فرمایا: بیشک تو ان میں سے ہے جن کو اس معین وقت کے د
ن تک مہلت دی گئی ہے جس میں تمام مخلوق مرجائے گی اور وہ وقت پہلے نَفْخہ کا ہے تو شیطان کے مردہ رہنے کی مدت پہلے نَفْخہ سے دوسرے نَفْخہ تک چالیس برس ہے اور اس کوا س قدر مہلت دینا اس کے اکرام کے لئے نہیں بلکہ اس کی بلا، شَقاوت اور عذاب کی زیادتی کے لئے ہے، اس نے کہا میں تیرے مخلص بندوں کے سوا سب کو گمراہ کر دوں گا اس پر اللہ پاک نے فرمایا کہ یہ وہ راہ ہے جو سیدھی مجھ تک پہنچتی ہے، میرے مخلص بندوں پر تیرا کچھ زور نہیں چلے گا سوائے ان گمراہوں کے جو تیری پیروی کریں گے اور ان تمام لوگوں سے جہنم کا وعدہ ہے جس کے سات دروازے ہیں اور ہر دروازے کے لیے ان گمراہ لوگوں میں سے لوگ تقسیم کئے گئے ہیں یعنی لوگ اپنے اعمال کی مناسبت سے جہنم میں داخل کر دیے جائیں گے۔
☄️🔥 اس کے بعد جنت و جہنم اور رحمت خداوندی کا ذ کر ہے، اس کے بعد لوط علیہ السلام اور ان کی قوم کا بیان ہے، اس کی بعد قوم ثمود اور ان کی تباہ شدہ بستی حجر کو درس عبرت کے لئے بیان فرمایا، پھر عظمت قرآن اور خاص طور پر بار بار دہرائی جانے والى سورت "سورہ فاتحہ" کى سات آیتوں کا تذکرہ موجود هے اس کو سبع مثانی کہا جاتا ہے۔
🐝 *سورہ نحل*
اس سورت میں 16رکوع اور 128آیتیں ہیں ۔
*وجہ*
عربی میں شہد کی مکھی کو’’نحل ‘‘کہتے ہیں ۔ اس سورت کی آیت نمبر 68 میں اللہ پاک نے شہد کی مکھی کا ذکر فرمایا اس مناسبت سے اس سورت کا نام ’’سورۂ نحل‘‘ رکھا گیا۔
اس سورت مبارکہ کی بہت پیاری خصوصیت یہ ہے اس میں بڑی کثرت کے ساتھ اللہ پاک کی عظمت، قدرت، حکمت اور وحدانیت پر دلائل دئیے گئے ہیں ۔ اگر کثرت سے اس سورت کو سمجھ کر پڑھا جائے تو دل میں اللہ پاک کی محبت اور عظمت کا اضافہ ہوتا ہے۔ نیز اس سورت میں اللہ پاک کی نعمتوں کا بیان بہت کثرت کے ساتھ ہے ، اگر ان نعمتوں کے بارے میں بار بار غور کریں تو دل میں شکر ِ الٰہی کا جذبہ بیدار ہوگا اور محبت ِ الہٰی میں اضافہ ہوگا۔
🐑🐐 آیت نمبر 5 سے جانوروں کی پیدائش کا تذکرہ ہے جن میں انسانوں کے لئے کئی طرح کے فوائد ہیں،اللہ پاک نے اونٹ، گائے اور بکریاں وغیرہ جانور پیدا کئے ،ان کی کھالوں اور اُون سے تمہارے لیے گرم لباس تیار ہوتے ہیں اوراس کے علاوہ بھی ان جانوروں میں بہت سے فائدے ہیں جیسے تم ان کی نسل سے دولت بڑھاتے ہو، اُن کے دودھ پیتے ہو، اُن پر سواری کرتے ہو اور تم ان کا گوشت بھی کھاتے ہو۔
✈️🚊 اللہ پاک نے فرمایا کہ جانوروں کی جو اقسام بیان کی گئیں ان کے علاوہ ابھی مزید ایسی عجیب و غریب چیزیں اللہ پاک پیدا کرے گا جن کی حقیقت اور پیدائش کی کیفیت تم نہیں جانتے ۔ اس میں وہ تمام چیزیں آگئیں جو آدمی کے فائدے، راحت و آرام اور آسائش کے کام آتی ہیں اور وہ اس وقت تک موجود نہیں ہوئی تھیں لیکن اللہ پاک کو ان کا آئندہ پیدا کرنا منظور تھا جیسے کہ بحری جہاز ، ریل گاڑیاں ، کاریں ، بسیں ، ہوائی جہاز اور اس طرح کی ہزاروں ، لاکھوں سائنسی ایجادات ۔ اور ابھی آئندہ زمانے میں نہ جانے کیا کیا ایجاد ہوگا لیکن جو بھی ایجاد ہوگا وہ اس آیت میں داخل ہوگا۔
🛥️ پھر سمندری دنیا کا تعارف کرواتے ہوئے بیان فرمایا کہ بحری جہاز اور کشتیاں پانی میں سفر کرنے اور سامان منتقل کرنے کے بہترین ذرائع ہیں، تمہیں اس سے ،مچھلی کا تروتازہ گوشت اور زیورات بنانے کے لیے موتی اور جواہر بھی فراہم ہوتے ہیں.اللہ پاک نے اپنے احسانات اور انعامات کا تذکرہ کرکے فرمایا کہ ہماری نعمتیں بے حساب ہیں اگر تم شمار کرنا چاہو تو بھی نہیں کر سکتے، لہذا تم شکر ادا کرو.
❌❌ پھر کفار کا تذکرہ فرمایا کہ اگر ان کے یہاں بیٹی کی پیدائش ہوتی ہے تو ان کا چہرہ کالا پڑ جاتا ہے اور وہ غصے سے بھر جاتے ہیں اور بیٹی کی پیدائش کو بری خبر جانتے ہیں اپنی قوم سے چھپتے پھرتے ہیں، اس کو زندہ دفن کردیتے تھے، اللہ پاک نے ان کی مذمت فرمائی۔
✨ پھر اللہ پاک نے کائناتی شواہد سے توحید و رسالت کے مزید دلائل بیان فرمائے، اللہ پاک کی عظمت و قدرت کی نشانیاں ہر چیز میں موجود ہیں حتّٰی کہ اگر تم اپنے مویشیوں میں بھی غور کرو تو تمہیں غور وفکر کرنے کی بہت سی باتیں مل جائیں گی اور اللہ پاک کی حکمت کے عجائب اورا س کی قدرت کے کمال پر تمہیں آگاہی حاصل ہوجائے گی۔ تم غورکرو کہ ہم تمہیں ان جانوروں کے پیٹوں سے گوبر اور خون کے درمیان سے خالص دودھ نکال کرپلاتے ہیں جو پینے والے کے گلے سے آسانی سے اترنے والا ہے، جس میں کسی چیز کی آمیزش کا کوئی شائبہ نہیں حالانکہ حیوان کے جسم میں غذا کا ایک ہی مقام ہے جہاں چارا ،گھاس ، بھوسہ وغیرہ پہنچتا ہے اور دودھ، خون گوبر سب اسی غذا سے پیدا ہوتے ہیں اور ان میں سے ایک دوسرے سے ملنے نہیں پاتا ۔ دودھ میں نہ خون کی رنگت کا شائبہ ہوتا ہے نہ گوبر کی بوکا، نہایت صاف اور لطیف برآمد ہوتا ہے، اس سے اللہ پاک کی حکمت کی عجیب کاریگری کا اِظہار ہے۔
🐝 شہد کی مکھی میں غور کرنے کا حکم دیا گیا کہ اسے ہم نے پہاڑوں اور
☄️🔥 اس کے بعد جنت و جہنم اور رحمت خداوندی کا ذ کر ہے، اس کے بعد لوط علیہ السلام اور ان کی قوم کا بیان ہے، اس کی بعد قوم ثمود اور ان کی تباہ شدہ بستی حجر کو درس عبرت کے لئے بیان فرمایا، پھر عظمت قرآن اور خاص طور پر بار بار دہرائی جانے والى سورت "سورہ فاتحہ" کى سات آیتوں کا تذکرہ موجود هے اس کو سبع مثانی کہا جاتا ہے۔
🐝 *سورہ نحل*
اس سورت میں 16رکوع اور 128آیتیں ہیں ۔
*وجہ*
عربی میں شہد کی مکھی کو’’نحل ‘‘کہتے ہیں ۔ اس سورت کی آیت نمبر 68 میں اللہ پاک نے شہد کی مکھی کا ذکر فرمایا اس مناسبت سے اس سورت کا نام ’’سورۂ نحل‘‘ رکھا گیا۔
اس سورت مبارکہ کی بہت پیاری خصوصیت یہ ہے اس میں بڑی کثرت کے ساتھ اللہ پاک کی عظمت، قدرت، حکمت اور وحدانیت پر دلائل دئیے گئے ہیں ۔ اگر کثرت سے اس سورت کو سمجھ کر پڑھا جائے تو دل میں اللہ پاک کی محبت اور عظمت کا اضافہ ہوتا ہے۔ نیز اس سورت میں اللہ پاک کی نعمتوں کا بیان بہت کثرت کے ساتھ ہے ، اگر ان نعمتوں کے بارے میں بار بار غور کریں تو دل میں شکر ِ الٰہی کا جذبہ بیدار ہوگا اور محبت ِ الہٰی میں اضافہ ہوگا۔
🐑🐐 آیت نمبر 5 سے جانوروں کی پیدائش کا تذکرہ ہے جن میں انسانوں کے لئے کئی طرح کے فوائد ہیں،اللہ پاک نے اونٹ، گائے اور بکریاں وغیرہ جانور پیدا کئے ،ان کی کھالوں اور اُون سے تمہارے لیے گرم لباس تیار ہوتے ہیں اوراس کے علاوہ بھی ان جانوروں میں بہت سے فائدے ہیں جیسے تم ان کی نسل سے دولت بڑھاتے ہو، اُن کے دودھ پیتے ہو، اُن پر سواری کرتے ہو اور تم ان کا گوشت بھی کھاتے ہو۔
✈️🚊 اللہ پاک نے فرمایا کہ جانوروں کی جو اقسام بیان کی گئیں ان کے علاوہ ابھی مزید ایسی عجیب و غریب چیزیں اللہ پاک پیدا کرے گا جن کی حقیقت اور پیدائش کی کیفیت تم نہیں جانتے ۔ اس میں وہ تمام چیزیں آگئیں جو آدمی کے فائدے، راحت و آرام اور آسائش کے کام آتی ہیں اور وہ اس وقت تک موجود نہیں ہوئی تھیں لیکن اللہ پاک کو ان کا آئندہ پیدا کرنا منظور تھا جیسے کہ بحری جہاز ، ریل گاڑیاں ، کاریں ، بسیں ، ہوائی جہاز اور اس طرح کی ہزاروں ، لاکھوں سائنسی ایجادات ۔ اور ابھی آئندہ زمانے میں نہ جانے کیا کیا ایجاد ہوگا لیکن جو بھی ایجاد ہوگا وہ اس آیت میں داخل ہوگا۔
🛥️ پھر سمندری دنیا کا تعارف کرواتے ہوئے بیان فرمایا کہ بحری جہاز اور کشتیاں پانی میں سفر کرنے اور سامان منتقل کرنے کے بہترین ذرائع ہیں، تمہیں اس سے ،مچھلی کا تروتازہ گوشت اور زیورات بنانے کے لیے موتی اور جواہر بھی فراہم ہوتے ہیں.اللہ پاک نے اپنے احسانات اور انعامات کا تذکرہ کرکے فرمایا کہ ہماری نعمتیں بے حساب ہیں اگر تم شمار کرنا چاہو تو بھی نہیں کر سکتے، لہذا تم شکر ادا کرو.
❌❌ پھر کفار کا تذکرہ فرمایا کہ اگر ان کے یہاں بیٹی کی پیدائش ہوتی ہے تو ان کا چہرہ کالا پڑ جاتا ہے اور وہ غصے سے بھر جاتے ہیں اور بیٹی کی پیدائش کو بری خبر جانتے ہیں اپنی قوم سے چھپتے پھرتے ہیں، اس کو زندہ دفن کردیتے تھے، اللہ پاک نے ان کی مذمت فرمائی۔
✨ پھر اللہ پاک نے کائناتی شواہد سے توحید و رسالت کے مزید دلائل بیان فرمائے، اللہ پاک کی عظمت و قدرت کی نشانیاں ہر چیز میں موجود ہیں حتّٰی کہ اگر تم اپنے مویشیوں میں بھی غور کرو تو تمہیں غور وفکر کرنے کی بہت سی باتیں مل جائیں گی اور اللہ پاک کی حکمت کے عجائب اورا س کی قدرت کے کمال پر تمہیں آگاہی حاصل ہوجائے گی۔ تم غورکرو کہ ہم تمہیں ان جانوروں کے پیٹوں سے گوبر اور خون کے درمیان سے خالص دودھ نکال کرپلاتے ہیں جو پینے والے کے گلے سے آسانی سے اترنے والا ہے، جس میں کسی چیز کی آمیزش کا کوئی شائبہ نہیں حالانکہ حیوان کے جسم میں غذا کا ایک ہی مقام ہے جہاں چارا ،گھاس ، بھوسہ وغیرہ پہنچتا ہے اور دودھ، خون گوبر سب اسی غذا سے پیدا ہوتے ہیں اور ان میں سے ایک دوسرے سے ملنے نہیں پاتا ۔ دودھ میں نہ خون کی رنگت کا شائبہ ہوتا ہے نہ گوبر کی بوکا، نہایت صاف اور لطیف برآمد ہوتا ہے، اس سے اللہ پاک کی حکمت کی عجیب کاریگری کا اِظہار ہے۔
🐝 شہد کی مکھی میں غور کرنے کا حکم دیا گیا کہ اسے ہم نے پہاڑوں اور
درختوں میں گھر بنانے کا حکم دیا، پھر ہر قسم کے پھولوں اور پھلوں سے رس چوس کر دور دراز کا سفر طے کرکے اپنے چھتے تک پہنچنے کی سمجھ عطا فرمائی، پھر مکھی کے پیٹ سے مختلف رنگوں اور ذائقوں کا شہد نکالا جو انسانوں کے مختلف امراض کے لئے شفا اور صحت عطا کرنے والا ہے،
📖 پھر قرآن کریم کے ہدایت اور رحمت ہونے کا بیان ہے اور بتایا گیا ہے کہ اللہ تبارک وتعالی عدل و احسان کا حکم دیتا ہے اور ظلم و بےحیائی اور بری باتوں سے دور رہنے کی تلقین فرماتا ہے۔
🤝🏻 اگلی آیت میں ،وعدے کو پورا کرنے کا حکم دیا گیا اور قسمیں کھا کر توڑنے سے منع فرمایا ہے اور دنیوی فائدہ کیلئے قسمیں کھانے کو برا قرار دیا گیا۔
✉️ پھر کافروں کو سرزنش کی گئی، کیونکہ وہ کہا کرتے تھے کہ معاذ اللہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن کریم نازل نہیں ہوا بلکہ انہوں نے خود بنا لیا ہے، اس کا قرآن نے سختی سے جواب دیا۔
📝 پھر ایک حکم بیان ہوا کہ اگر کوئی مسلمان کفار کے ہاتھ چڑھ جائے اور کفار قتل کرنے کی دھمکی دے کر کلمہ کفر کہنے پر مجبور کریں تو اسے اکراہ شرعی کہا جاتا ہے، ایسے میں کیا صورت اختیار کی جائے، اس حوالے سے 4 احکام ذکر کیے جاتے ہیں۔
⬅️ حالت ِاکراہ میں اگر دل ایمان پر جما ہوا ہو تو کلمۂ کفر کا زبان پر جاری کرنا جائز ہے جب کہ آدمی کو (کسی ظالم کی طرف سے) اپنی جان یا کسی عُضْوْ کے تَلف ہونے کا (حقیقی) خوف ہو ۔ (اور اس میں یہ بھی ضروری ہے کہ اگر کوئی دو معنی والی بات کہنے میں گزارا چل سکتا ہو جس سے کفار اپنی مراد لیں اور کہنے والا اس کی درست مراد لے تو ضروری ہے کہ ایسی دو معنی والی بات ہی کہے جبکہ اس طرح کہنا جانتا ہو۔)۔
⬅️ اگر اس حالت میں بھی صبر کرے اور قتل کر ڈالا جائے تو اسے اجر ملے گا اور وہ شہید ہوگا جیسا کہ حضرت خُبَیب رضی اللہ عنہ نے صبر کیا اور وہ سولی پر چڑھا کر شہید کر ڈالے گئے۔ سرکارِ دو عالَم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سیّدُ الشُّہداء فرمایا ۔
⬅️ جس شخص کو مجبور کیا جائے اگر اس کا دل ایمان پر جما ہوا نہ ہو تو وہ کلمۂ کفر زبان پر لانے سے کافر ہوجائے گا ۔
⬅️ اگر کوئی شخص بغیر مجبوری کے مذاق کے طور پر یا علم نہ ہونے کی وجہ سے کلمۂ کفر زبان پر جاری کرے وہ کافر ہوجائے گا۔
📣 آخر میں خوشخبری سنائی گئی کہ اللہ پاک تقویٰ اور احسان کے حاملین کی ہر قدم پر مدد اور نصرت فرماتا ہے۔
📱 +923212094919
📖 پھر قرآن کریم کے ہدایت اور رحمت ہونے کا بیان ہے اور بتایا گیا ہے کہ اللہ تبارک وتعالی عدل و احسان کا حکم دیتا ہے اور ظلم و بےحیائی اور بری باتوں سے دور رہنے کی تلقین فرماتا ہے۔
🤝🏻 اگلی آیت میں ،وعدے کو پورا کرنے کا حکم دیا گیا اور قسمیں کھا کر توڑنے سے منع فرمایا ہے اور دنیوی فائدہ کیلئے قسمیں کھانے کو برا قرار دیا گیا۔
✉️ پھر کافروں کو سرزنش کی گئی، کیونکہ وہ کہا کرتے تھے کہ معاذ اللہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن کریم نازل نہیں ہوا بلکہ انہوں نے خود بنا لیا ہے، اس کا قرآن نے سختی سے جواب دیا۔
📝 پھر ایک حکم بیان ہوا کہ اگر کوئی مسلمان کفار کے ہاتھ چڑھ جائے اور کفار قتل کرنے کی دھمکی دے کر کلمہ کفر کہنے پر مجبور کریں تو اسے اکراہ شرعی کہا جاتا ہے، ایسے میں کیا صورت اختیار کی جائے، اس حوالے سے 4 احکام ذکر کیے جاتے ہیں۔
⬅️ حالت ِاکراہ میں اگر دل ایمان پر جما ہوا ہو تو کلمۂ کفر کا زبان پر جاری کرنا جائز ہے جب کہ آدمی کو (کسی ظالم کی طرف سے) اپنی جان یا کسی عُضْوْ کے تَلف ہونے کا (حقیقی) خوف ہو ۔ (اور اس میں یہ بھی ضروری ہے کہ اگر کوئی دو معنی والی بات کہنے میں گزارا چل سکتا ہو جس سے کفار اپنی مراد لیں اور کہنے والا اس کی درست مراد لے تو ضروری ہے کہ ایسی دو معنی والی بات ہی کہے جبکہ اس طرح کہنا جانتا ہو۔)۔
⬅️ اگر اس حالت میں بھی صبر کرے اور قتل کر ڈالا جائے تو اسے اجر ملے گا اور وہ شہید ہوگا جیسا کہ حضرت خُبَیب رضی اللہ عنہ نے صبر کیا اور وہ سولی پر چڑھا کر شہید کر ڈالے گئے۔ سرکارِ دو عالَم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سیّدُ الشُّہداء فرمایا ۔
⬅️ جس شخص کو مجبور کیا جائے اگر اس کا دل ایمان پر جما ہوا نہ ہو تو وہ کلمۂ کفر زبان پر لانے سے کافر ہوجائے گا ۔
⬅️ اگر کوئی شخص بغیر مجبوری کے مذاق کے طور پر یا علم نہ ہونے کی وجہ سے کلمۂ کفر زبان پر جاری کرے وہ کافر ہوجائے گا۔
📣 آخر میں خوشخبری سنائی گئی کہ اللہ پاک تقویٰ اور احسان کے حاملین کی ہر قدم پر مدد اور نصرت فرماتا ہے۔
📱 +923212094919
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
شیخ ابو الحسن امام سری سقطی
رَضِیَ الــلّٰــهُ تَـبَـارَڪَ وَ تَــعَــالیٰ عَــنۡـہۡ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
یومِ ولادت ... ............... ھ
یومِ وصال ¹³ رمضان المبارک ۳۵۲ھ
➻═══════════➻
TTS AʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
رَضِیَ الــلّٰــهُ تَـبَـارَڪَ وَ تَــعَــالیٰ عَــنۡـہۡ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
یومِ ولادت ... ............... ھ
یومِ وصال ¹³ رمضان المبارک ۳۵۲ھ
➻═══════════➻
TTS AʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM