🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.85K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
ے۔
اس سورت میں 24 رکوع اور 206 آیتیں ہیں۔

*وجہ*

اعراف کا معنی ہے بلند جگہ، اس سورت کی آیت نمبر 46 میں جنت اور دوزخ کے درمیان ایک جگہ اعراف کا ذکر ہے جو کہ بہت بلند ہے، اس مناسبت سے اس سورت کا نام ’’سورۂ اعراف ‘‘رکھا گیا۔

🕋 اس سے پہلے والی سورت کا مرکزی مضمون توحید تھا، اور اس سورت کا مرکزی مضمون رسالت ہے، اس کے ساتھ ہی جنت اور جہنم اور قیامت کے موضوع کو بھی کافی بیان کیا گیا ہے۔

📖 سورت کی ابتدا میں قرآن کریم کی حقانیت کو ایک انوکھے انداز میں بیان کیا گیا ہے، جس میں ایک طرف حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ہمت افزائی ہے تو دوسری طرف آپ کو تسلی دی گئی ہے کہ یہ کتاب قرآن پاک آپ کی طرف اس لئے نازل کیا گیا تاکہ آپ اس کے ذریعے لوگوں کو اللہ پاک کے عذاب سے ڈرائیں۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں لوگوں کے سابقہ طرز عمل کی وجہ سے اور اس خیال سے کہ لوگ نہ مانیں گے اور اس پر اعتراض کریں گے اور اسے جھٹلانے لگیں گے اس کی تبلیغ فرمانے سے کوئی تنگی نہ آئے، آپ ان کفار کی مخالفت کی ذرہ بھر پروا نہ کریں کہ یہ لوگ اپنے انجام کو پہنچ کر رہیں گے کیوں کہ اس سے پہلے بھی ایسی قومیں گزری ہیں جنہیں وحی الہی کے انکار پر پلک جھپکتے میں نیست ونابود کر دیا گیا۔

آیت 11 سے 27 میں ہے کہ جب ابلیس نے اللہ پاک کے حکم پر حضرت آدم علیہ الصلاۃ والسلام کو سجدہ نہ کیا تو اللہ پاک نے اس سے فرمایا کہ تم کو سجدہ کرنے سے کس چیز نے روکا؟ تو اس نے اپنی سرکشی کا جواز عقلی دلیل سے پیش کیا، اس نے کہا کہ آدم علیہ السلام سے میں بہتر ہو کیوں کہ انہیں مٹی سے پیدا کیا گیا ہے اور میرا وجود آگ کا
ہے اور لطیف ہونے کی بنا پر آگ مٹی سے افضل ہے، جبکہ یہ غلط ہے،اس کے تکبر کی وجہ سے اللہ پاک نے اسکو مقام عزت سے نکال دیا اور وہ رسوا ہوا، ابلیس نے اللہ پاک سے قیامت تک مہلت طلب کی تو اللہ پاک نے مہلت عطا فرمادی، اس پر اس نے کہا کے میں صراط مستقیم پر گھات لگا کر بیٹھ جاؤں گا اور بنی آدم کو دائیں بائیں آگے پیچھے ہر جگہ سے گمراہ کرنے کی کوشش کروں گا،اللہ پاک نے فرمایا کہ تمہارے پیروکار جہنم میں جائیں گے، اللہ پاک نے آدم علیہ السلام اور بی بی حوا رضی اللہ تعالی عنہا کو جنت میں داخل کیا، ان کو ایک خاص درخت کے قریب جانے سے منع فرمایا، شیطان نے ان کو وسوسہ ڈالا اور مخلص اور خیرخواہ کا روپ اختیار کرکے کہا : کہ آپ لوگوں کو قریب جانے سے محض اس لئے منع کیا گیا ہے کہ اس کے قریب اگر آپ لوگ فرشتے بن جائیں گے اور آپ لوگوں کو اپنی ابدی زندگی مل جائے گی، اس نے قسم کھانا شروع کر دی اور اپنی خیرخواہی کا یقین دلانا شروع کر دیا، حضرت آدم علیہ السلام کے دل میں چونکہ اللہ پاک کے نام کی عظمت انتہا درجے کی تھی، اس لئے آپ علیہ السلام کو گمان بھی نہ تھا کہ اللہ پاک کی قسم کھا کر کوئی جھوٹ بھی بول سکتا ہے، نیز جنت قرب الہٰی کا مقام تھا اور حضرت آدم علیہ السلام کو بھی اُس مقام قرب میں رہنے کا اشتیاق تھا اور فرشتہ بننے یا دائمی بننے سے یہ مقام حاصل ہوسکتا ہے، لہٰذا آپ نے شیطان کی قسم کا اعتبار کر لیا اور ممانعت کو محض تنزیہی سمجھتے ہوئے یا خاص درخت کی ممانعت سمجھتے ہوئے اسی جنس کے دوسرے درخت سے کھالیا، پھر انھوں نے استغفار کیا، اللہ پاک نے ان پر خاص نظر رحمت فرمائی، پھر انھیں جنت سے زمین کی طرف اتارا گیا اور فرمایا گیا کہ ایک مقررہ مدت تک آپ کو یہاں رہنا ہے۔

🥼 آگے چل کر مقصد لباس کو بیان فرمایا کہ ہم نے بنی آدم پر لباس اس لئے اتارا کہ ان کی ستر پوشی ہو، وہ اپنے اعضاء کو ڈھانکے اور جو سامان زینت ہے وہ حاصل کریں اور سب سے بہتر لباس تقویٰ کا لباس ہے، آدم علیہ السلام کی اولاد کو شیطان کے شر سے بچنے کے لیے ایک انتہائی حکمت بھرے انداز میں خطاب فرمایا گیا " کہ اے بنی آدم وہ شیطان جس نے تمہارے والدین کو جنت سے اتروانے کی سازش کی وہ تمہیں فتنے میں مبتلا کرکے جنت سے محروم نہ کردے۔لہذا شیطان کی دھوکے بازیوں سے بچو۔

💥 اس کے بعد قیامت کے دن کی منظر کشی کرتے ہوئے اصحاب الجنہ، اصحاب النار اور اصحاب اعراف کا تذکرہ ہے جس میں جنت والے جہنم والوں کا ویسے ہی مذاق اڑائیں گے جیسے وہ لوگ دنیا میں ان کی نیکی اور اصلاح و تقویٰ کا مذاق اڑایا کرتے تھے، ایسا منظر ہوگا کہ جنت والے انعامات اور عیش و عشرت کے مزے لے رہے ہونگے اور جہنم والے اذیت اور تکلیف میں مبتلا ہوں گے اور جنتیوں سے کھانے کے ایک نوالے اور پانی کے دو گھونٹ مانگ رہے ہوں گے، اعراف والے جنت اور جہنم والوں میں اپنے جاننے والوں کو پہچانیں گے ان سے گفتگو کریں گے، اہل جنت کے نظارے بہت خوبصورت ہوں گے جبکہ کہ اہل جہنم بد شکل اور سیاہ اور ذلت و رسوائی کے عالم میں ہوں گے ۔

🌨️⛈️ آیت 57 میں بتایا کہ اللہ کے حکم سے ہوا پانی سے بھرے ہوئے بادلوں کو چلا کر لے جاتی ہے اور بنجر زمین پر برسا کر اس پر اللہ کی نعمتیں پیدا کرتی ہے، پھر فرمایا کہ
اچھی زمین کا سبزہ اللہ کے حکم سے نکلتا ہے اور خراب زمین باغ وبہار نہیں لے کر آتی، مثالیں دے کر قرآن نے یہ بتایا کہ انسانوں کے دل ودماغ کی جو حالت ہے وہ زمین کی مانند ہے یعنی پاکیزہ دل اور دماغ میں ایمان قرار پاتا ہے اور اعمال کے ثمرات پیدا ہوتے ہیں اس کے لیے وہ پھل پیدا ہوتے ہیں جبکہ خبیث دل میں خیر کے پھل پیدا نہیں ہوتے۔

🌎 آیت 59 میں انبیاء کرام علیہم السلام کی قوموں کا ذکر ہے، نوح علیہ السلام اور ان کی قوم کے حالات بیان کئے گئے ہیں ان کی قوم کے سرداروں نے کہا کہ معاذ اللہ آپ تو کھلی گمراہی میں ہیں، نوح علیہ السلام نے فرمایا کہ میں تو اللہ کا رسول ہوں میرا کام تمہاری خیر خواہی اور دعوت حق پہنچانا ہے۔

🔮 آیت 65 سے ہود علیہ السّلام کا تذکرہ ہے، انہوں نے قوم عاد کو دعوت توحید دی، انھوں نے ہود علیہ السلام کو معاذاللہ بےوقوف اور نہ سمجھ کہ کر انکار کر دیا، اللہ پاک نے ان پر آندھی اور طوفان کا عذاب بھیج کر انھیں ہلاک کردیا اور اپنے نبی علیہ السلام اور ان کے ماننے والوں کو بچا لیا۔

🌎 پھر قوم ثمود کا تذکرہ کہ صالح علیہ السلام نے دعوت توحید اپنی قوم کو دی، انہوں نے انکار کیا اور بلاوجہ کے مطالبے شروع کر دیے ، وہ لوگ پتھر کو تراش کر مکان بنانے میں بڑے ماہر تھے، تو کہنے لگے کہ پہاڑ سے اوٹنی پیدا کرکے دکھائیے جو نکلتے ہی بچہ بھی جنے، جب اللہ پاک نے اونٹنی پہاڑ سے ظاہر فرمادی تو انہوں نے اسے قتل کردیا اور حد سے بڑھ گئے، اللہ پاک نے اس گستاخی پر انھیں ہلاک فرمادیا۔

پھر قوم لوط کا ذکر ہے، وہ اپنی جنسی خواہش کو غیر فطری طریقے سے پورا کرتے تھے معاذاللہ، جس کو ہم جنس پرستی کہتے ہیں، اور جب اللہ کے نبی عذاب کا ڈر سناتے تو وہ اسے مذاق سمجھتے آخر کار اللہ پاک نے ان پر عذاب نازل کیا ، آسمان سے پتھر برسائے گئے اور اس طرح ان کا نام و نشان مٹا دیا گیا کہ گویا تھے ہی نہیں، یہاں تک کہ لوط علیہ السلام کی وہ بیوی جو قوم لوط کی ہم خیال تھی، وہ بھی عذاب سے نہ بچ سکی، کیوں کہ وہ لوط علیہ السلام کو نقصان پہنچانے کے منصوبے بناتی اور لوط علیہ السلام کے خلاف باتیں کیا کرتی تھی، لوط علیہ الصلاۃ والسلام اور ان کے ساتھ تقریباً 72 افراد محفوظ رہے۔

🌊 پھر مدین کا ذکر ہے جو شعیب علیہ السلام کی قوم ہے، انہیں توحید کی دعوت دی گئی اور تجارت میں جو بددیانتی کرتے اسے منع کر کے ناپ تول پورا کرنے کی تلقین فرمائی اور انہیں یہ بھی حکم فرمایا گیا کہ راہ گیروں اور مسافروں کو ڈرانے دھمکانے سے باز رہہں، مگر وہ لوٹ مار کرتے اور شعیب علیہ الصلاۃ والسلام کی مخالفت پر اتر آئے، شعیب علیہ السلام نے فرمایا کہ اے میری قوم تمہارے دو گروہ بن چکے ہیں، ایمان والے اور کفر والے، لہذا اب عذاب کا انتظار کرو، عنقریب ہمارے اور تمہارے درمیان اللہ پاک فیصلہ فرما دے گا۔انہی کے ذکر پر پارے کا اختتام ہوتا ہے۔
📱+92-321-2094919
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
📕 *فیضان خلاصہ تراویح*📕

✍🏻 *ابو بنتین محمد فراز عطاری مدنی*

📣 *نواں پارہ، قال الملا*

⚖️ آٹھویں پارے کے آخر میں حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم کا قصہ شروع ہوا اس کا باقی حصہ اس پارے کے شروع میض مذکور ہے کہ قوم کے سرداروں نے دھمکی دی کہ آپ اور آپ کے ساتھی اپنے خیالات سے تائب ہو کر ہمارے طریقے پر نہ لوٹے تو ہم آپ لوگوں کو در بدر کر دیں گے، اس پر اہل ایمان نے کہا کہ اللہ نے ہمیں کفر سے نجات دے کر ایمان سے سرفراز فرمایا ہے تو اب ہم کیسے گمراہی کی طرف جا سکتے ہیں؟ ہم اللہ سے دعا کرتے ہیں وہ ہمارے درمیان فیصلہ فرما دے اور حق کو غالب کر دے، چنانچہ بڑی شدت کا زلزلہ آیا اور ان کی قوم کو بری طرح تباہ کردیا گیا اور مومنوں کو عافیت کے ساتھ بچالیا گیا، اس پر شعیب علیہ السلام نے فرمایا کہ میں نے اپنے رب کے فرمان کو پورا کیا ان تک حق کو پہنچایا مگر انھوں نے تسلیم نہ کیا ، اب میں کافر قوم پر کیسے غم کروں؟

🌊 آیت 103 سے 108 میں حضرت موسی علیہ السلام اور فرعون کا ذکر ہے۔ اس واقعے کو قرآن پاک میں مختلف مقامات پر مختلف انداز سے بیان کیا گیا ہے،
یہاں بیان کیا گیا کہ اس سے پہلی آیات میں جن انبیاء کرام علیہم السلام کا ذکر ہوا ان کے بعد ہم نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ان کی صداقت پر دلالت کرنے والی نشانیوں جیسے روشن ہاتھ اور عصا وغیرہ معجزات  کے ساتھ فرعون اور اس کی قوم کی طرف بھیجا توانہوں نے ان نشانیوں پر زیادتی کی کیونکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام  جو نشانیاں لے کر آئے تھے وہ بالکل صاف واضح اور ظاہر تھیں لیکن پھر بھی فرعون اور اس کے درباریوں نے اقرار کی بجائے انکار ہی کیا تو انہوں نے اقرار کی جگہ انکار اور ایمان کی جگہ کفر کو رکھ کر حضرت موسیٰ علیہ السلام کی نشانیوں کے ساتھ زیادتی کی تو اے حبیب !     صلی الله عليه وسلم ، آپ نگاہِ بصیرت سے دیکھیں کہ فسادیوں کا کیسا انجام ہوا اور ہم نے انہیں کس طرح ہلاک کیا۔


📢 جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی رسالت کی تبلیغ مکمل فرمائی تو فرعون نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہا: اگر آپ کے پاس اپنی صداقت کی کوئی نشانی ہے تومیرے سامنے اسے ظاہر کریں تاکہ پتا چل جائے کہ آپ اپنے دعوے میں سچے ہیں یا نہیں تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا ،وہ فورا ً ایک ظاہر اژدہا بن گیا۔

☀️ پھر دوسرے معجزے کا ذکر ہے کہ آپ نے ا پنا ہاتھ گریبان میں ڈال کر نکالا تو وہ دیکھنے والوں کے سامنے جگمگانے لگا اور اس کی روشنی اور چمک نورِ آفتاب پر غالب ہوگئی۔ ایک روایت میں ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام  نے فرعون کو اپنا ہاتھ دکھا کر     پوچھا کہ’’ یہ کیا ہے؟ فرعون نے جواب دیا :آپ کا ہاتھ ہے۔ پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام  نے ا پنا ہاتھ گریبان میں  ڈال کر نکا لا تو وہ جگمگانے لگا۔

فرعون نے ان معجزات کو جادو کہ دیا، پھر مقابلے کے لئے ایک وقت طے ہوا، موسی علیہ السلام کا عصا اژدھا بن گیا،اس نے جادوگروں کی رسیوں کو جو نظر بندی کی وجہ سے سانپ لگ رہے تھے نگل لیا، جادو گر جو اپنے فن کے ماہر تھے وہ سمجھ گئے کہ یہ جادو نہیں ہے، یہ معجزہ ہی ہے وہ سب مسلمان ہو کر سجدے میں گر گئے، فرعون نے دیکھا تو کہا کہ یہ سب جادوگروں کا استاد ہے، ان سب جادوگروں کے ہاتھ پاؤں کاٹ کر سولی چڑھا دیا گیا لیکن اب وہ ایمان لا چکے تھے اور موسی علیہ السلام کے صحابہ بن گئے اور شہید بھی ہوئے۔

💥 آیت 130 میں فرعونیوں پر عذاب کے سلسلے کو بیان کیا گیا ہے، اللہ پاک نے ان پر جوں، خون، مینڈک، ٹڈیوں اور طوفان کا پے در پے عذاب بھیجا، جب بھی ان پر عذاب کی شکل ظاہر ہوتی تو یہ چھوٹے وعدے کرکے حضرت موسی علیہ السلام سے دعا کروا لیتے عذاب کے ختم ہوتے ہی پھر نافرمانی پر اتر آتے، جب بار بار فرعونیوں کو عذابوں سے نجات دی گئی اور وہ کسی عہد پر قائم نہ رہے اور ایمان نہ لائے اور کفر نہ چھوڑا تو جو میعاداُن کے لئے مقرر فرمائی گئی تھی وہ پوری ہونے کے بعد اُنہیں اللہ پاک نے دریائے نیل میں غرق کرکے ہلاک کردیا۔ 

 دسویں محرم کے دن فرعون اور اس کی قوم کو غرق کرنے کے بعد اللہ پاک نے بنی اسرائیل کو دریا سے پار کردیا تو ان کا گزر ایک ایسی قوم کے پاس سے ہوا جو اپنے بتوں کے آگے جم کر بیٹھے ہوئے تھے اور اُن کی عبادت کرتے تھے، یہاں سے بنی اسرائیل کے دل میں بچھڑا پوجنے کا شوق پیدا ہوا جس کا نتیجہ بعد میں گائے پرستی کی شکل میں نمودار ہوا۔ اُن کو دیکھ کر بنی اسرائیل نے موسی علیہ السلام سے کہا: اے موسیٰ! جس طرح ان کے لئے کئی معبود ہیں جن کی یہ عبادت اور تعظیم کرتے ہیں ہمارے لئے بھی ایسا ہی ایک معبود بنادو تاکہ ہم بھی ا س کی عبادت کریں اور تعظیم بجا لائیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ان کے مطالبے کو رد کرتے ہوئے فرمایا: بیشک تم جا ہل لوگ ہو کہ اتنی نشانیاں دیکھ کر بھی نہ سمجھے کہ اللہ پاک  واحد ہے اس کا کوئی شریک نہیں اور اس کے سوا کسی کی عبادت جائز نہیں۔

📖 حضرت موسیٰ علیہ السلام  ن
ے مصر میں بنی اسرائیل سے وعدہ فرمایا تھا کہ جب اللہ پاک اُن کے دشمن فرعون کو ہلاک فرما دے گا تو وہ اُن کے پاس اللہ پاک کی جانب سے ایک کتاب لائیں گے جس میں حلال و حرام کا بیان ہوگا۔ جب       اللہ پاک نے فرعون کو ہلاک کر دیا تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ پاک سے اُس کتاب کو نازل فرمانے کی درخواست کی، انہیں حکم ملا کہ تیس روزے رکھیں پھر مزید دس روزوں کا حکم ہوا۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے پہاڑ پر مناجات کے لئے جاتے وقت اپنے بھائی حضرت ہارون علیہ السلام  سے فرمایا ’’تم میرے واپس آنے تک میری قوم میں میرے نائب بن کر رہو،حضرت ہارون علیہ سلام کو وہاں نائب بنا کر حضرت موسی علیہ السلام کوہ طور پر چالیس دن کے لیے تشریف لے گئے، جب حضرت موسیٰ  علیہ السلام  کلام سننے کے لئے حاضر ہوئے تو آپ نے طہارت کی اور پاکیزہ لباس پہنا اور روزہ رکھ کر طورِ سینا میں حاضر ہوئے۔ آپ کے لئے آسمان کھول دیا گیا تو آپ نے ملائکہ کو ملاحظہ فرمایا کہ ہوا میں کھڑے ہیں اور آپ نے عرشِ الٰہی کو صاف دیکھا یہاں تک کہ اَلواح پر قلموں کی آواز سنی اور   اللہ پاک نے آپ سے کلام فرمایا،حضرت موسیٰ علیہ السلام کو کلامِ ربانی کی لذت نے اس کے دیدار کا آرزو مند بنایا۔چنانچہ اللہ پاک کی بارگاہ میں عرض کی: اے میرے رب! مجھے اپنا جلوہ دکھا تاکہ میں تیرا دیدار کرلوں ‘‘ یعنی صرف دل یا خیال کا دیدار نہیں مانگتا بلکہ آنکھ کا دیدار چاہتا ہوں کہ جیسے تو نے میرے کان سے حجاب اٹھا دیا تو میں نے تیرا کلامِ قدیم سن لیا ایسے ہی میری آنکھ سے پردہ ہٹا دے تاکہ تیرا جمال دیکھ لوں۔ اللہ پاک نے ان سے ارشاد فرمایا: تم دنیا میں میرا دیدار کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔
یاد رہے دنیا میں صرف ایک ہستی کے لئے اللہ پاک کا دیدار جاگتے میں سر کی آنکھوں سے کرنا ممکن ہے اور وہ ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔

📝 آیت 172 میں ایک عہد کا ذکر ہے۔اللہ پاک نے حضرت آدم علیہ السلام کی نسل میں قیامت تک آنے والے تمام انسانوں کی روحوں کو جمع کیا اور فرمایا: کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ سب نے کہا ہاں تو ہی ہمارا رب ہے، اس عہد کی یاد دھانی کے لئے اسے یہاں ذکر کیا تاکہ کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ ہمیں یاد نہیں تھا، یہ شرک ہمارے باپ دادا سے ہمیں ملا ہے،کیونکہ عالم ارواح میں ہر ایک نے اقرار کیا تھا۔

💰💎 پھر بنی اسرائیل کے ایک شخص کا ذکر ہے کہ اللہ نے اسے علم اور کرامات سے نوازا تھا، بد قسمتی سے اس شخص پر شیطان غالب آ یا، اپنی نفسانی خواہش اور مال و دولت کی حرص کی وجہ سے ایسی پستی میں گرا دیا گیا کہ کتے کی شکل ہوگیا۔ اس کا نام بلعم بن باعوراء تھا جو کہ ایک ولی تھا۔ لوح محفوظ کو دیکھ لیتا تھا۔ مستجاب الدعوات تھا لیکن لالچ نے اس کا ایمان برباد کر دیا، بنی اسرائیل کے لوگ اس کے پاس حضرت موسی علیہ السلام کے لیے بد دعا کروانے آئے، پہلے تو وہ منع کرتا رہا، پھر مال و دولت کی لالچ میں بددعا کرنے بیٹھا تو تو الفاظ اسکے اپنے لئے نکلنے لگے، یہ اللہ کی خفیہ تدبیر ہے۔

🌼 پھر فرمایا کہ اللہ کے بندوں میں ایسے نیک سیرت لوگ بھی ہیں جو حق کے ذریعے نصیحت کرتے ہیں اور ایسے بھی لوگ ہیں جو حق کو جھٹلاتے ہیں پھر انکی پکڑ بھی بہت شدید ہے، پھر حضرت آدم علیہ السلام سے ایک انسانی تخلیق کا تذکرہ ہے، زوجین کو ایک دوسرے سے راحت کا ذکر ہے، شرک کی مذمت کہ ایسے کمزوروں کو اللہ کا شریک بناتے ہیں جو خود اپنی پیدائش کے محتاج ہیں۔جن بتوں کو وہ اپنا معبود سمجھتے ہیں جو چلنے پھرنے اور دیکھنے سے محروم ہیں۔
جو اللہ کی راہ کی طرف بلانے والا تھا، اس کو اچھے اخلاق کی تلقین اور عفو درگزر کرنے، شیطان کی اتباع چھوڑ کر اللہ کی اطاعت کو اختیار کرنے کا ذکر ہے،

📗 پھر اگلی آیات میں حکم ہے کہ جب قرآن پڑھا جائے تو خاموشی سے سننا ضروری ہے، اور صبح و شام اللہ کو یاد کرو آخری آیت میں فرمایا ہے کہ جو اللہ کے مقرب بندے ہوتے ہیں وہ عاجزی کے ساتھ اللہ کی عبادت کرتے ہیں، تسبیح و تہلیل کرتے ہوئے سجدہ ریز ہوتے ہیں۔
-------------------
💰💎 *سورہ انفال*

صحیح قول کے مطابق یہ سورت مدنی ہے۔اور ایک قول یہ ہے کہ یہ سورت ان سات آیتوں کے علاوہ مدنی ہے جو مکہ مکرمہ میں نازل ہوئیں۔
اس سورت میں 10 رکوع اور 75 آیتیں ہیں۔  

*وجہ*
اَنفال نَفَل کی جمع ہے اور اس کا معنی ہے غنیمت کا مال، اس سورت کی پہلی آیت میں اَنفال یعنی مالِ غنیمت کے احکام کے بارے میں مسلمانوں کے سوال اور انہیں دئیے جانے والے جواب کا ذکر ہے، اس مناسبت سے اس سورت کا نام ’’سورۂ اَنفال‘‘ رکھا گیا۔  


پہلی آیت میں فرمایا گیا کہ آپ سے مال غنیمت کے بارے میں پوچھتے ہیں تو آپ فرما دیجئےکے مال غنیمت اللہ اور اس کے رسول کا ہے۔ پھر کامل ایمان والوں کی صفات اور ظاہری و باطنی کیفیت کا ذکر ہے کہ مومن صرف اللہ کا ذکر سن کر لرز اٹھتے ہیں اور آیت قرآنی سن کر ان کا ایمان بڑھ جاتا ہے ان کا ایمان اللہ پر ہوتا ہے اخلاص کے ساتھ نمازیں قائم ک
رتے ہیں اور اللہ کے دئیے ہوئے رزق میں سے خرچ کرتے ہیں۔ ایسے مومنوں کے لئے بلند درجات والے رزق کی بشارت ہے۔

⚔️ اگلی آیتوں میں بدر کے مجاہدین کا اور اللہ پاک کی ان لئے بھیجی گئی غیبی مدد کا ذکر ہے۔
میدان بدر میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مٹی میں ریت لے کر کافروں کی جانب پھینکی تھی اور فرمایا تھا کہ آج یہ رسوا ہو جائیں گے، اسی کا تذکرہ ہے کہ اللہ کی شان یہ ریت ان کی آنکھوں میں جاپڑی اللہ نے فرمایا کہ یہ آپ نے نہیں کی حقیقت میں آپ کے رب نے پھینکی، اللہ نے بدر کو فیصلہ کن معرکہ فرمایا اور مسلمانوں سے فرمایا کہ اے ایمان والو اللہ اور اس کے رسول اللہ صلی علیہ وسلم کے بلانے پر فورا حاضر ہو جاؤ، اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے خیانت نہ کرو اور اپنے امانتوں میں بھی خیانت نہ کرو ان آیتوں میں اللہ نے پانچ دفعہ "اے ایمان والوں" کے ایمان افروز لقب سے مخاطب فرمایا۔

⬇️ آخر میں فرمایا کہ اے مسلمانوں ان مشرکین مکہ سے اس وقت تک جنگ کرتے رہو جب تک کے دین اسلام کا نظام غالب نہ آجائے اور فتنہ ختم نہ ہوجائے مشرکین کو پھر دعوت اسلام دی گئی اور بشارت سنائی گئی کہ اہل حق کا حامی و ناصر اللہ ہے اور کیا ہی خوب حامی و ناصر ہے۔
📲 +92-321-2094919
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌼 *فیضان خلاصہ تراویح*🌼

✍🏻 *ابو بنتین محمد فراز عطاری مدنی عفی عنہ*

🖊️ *دسواں پارہ، وعلموا*

💰 اس پارے کے شروع میں مال غنیمت کی تقسیم کے بارے میں تفصیل بیان کی گئی ہے۔
وہ مال جسے مسلمان کفار سے جنگ میں قہر و غلبہ کے طور پر حاصل کریں اسے غنیمت کہتے ہیں اور جنگ کے بغیر جو مال کفار سے حاصل کیا جائے جیسے خَراج اور جِزیہ اس کو فَئے کہتے ہیں۔
💎 مال غنیمت میں سے خُمُسْ یعنی پانچواں خاص اللہ پاک اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کیلئے ہے ، پانچواں حصہ نکال کرباقی چار حصے مجاہدین پر تقسیم کر دئیے جائیں گے اور مالِ فَئے مکمل طور پر بیتُ المال میں رکھا جائے گا۔  
💎رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اب حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم  اور آپ کے اہلِ قرابت کے حصے ساقط ہو گئے۔ اب مالِ غنیمت کا جو پانچواں حصہ نکالا جائے تو اس کے تین حصے کئے جائیں گے۔ ایک حصہ یتیموں کے لئے، ایک مسکینوں اور ایک مسافروں کے لئے اوراگر یہ تینوں حصے ایک ہی قسم مثلاً یتیموں یا مسکینوں پر خرچ کردئیے جب بھی جائز ہے اور مجاہدین کو حاجت ہو تو ان پر خرچ کرنا بھی جائز ہے۔ 
💎خُمُس کے علاوہ باقی چار حصے مجاہدین پر اس طرح تقسیم کئے جائیں گے کہ سوار کو پیدل کے مقابلے میں دگنا ملے گا یعنی ایک اس کا حصہ اور ایک گھوڑے کا اور گھوڑا عربی ہو یا کسی اور قسم کا سب کا ایک حکم ہے۔

⚔️ اسکے بعد غزوہ بدر کو بڑے پیارے انداز میں بیان کیا گیا ہے اور اسکی منظر کشی اس انداز میں فرمائی گئی ہے جیسے سننے والے اپنی آنکھوں سے اس کا حال دیکھ رہے ہیں، پارے کے شروع میں اللہ پاک نے بدر کے اس واقعہ کو ذکر فرمایا ہے جب مسلمان بدر کے مقام پر پہنچے تو میدان بدر کے اس حصے میں پڑاؤ کیا جو مدینے پاک سے قریب تھا اور کفار دور والے کنارے پر تھے، اس جنگ میں کیفیت یہ تھی کہ کفار کے حصے میں پانی تھا اور زمین بھی زیادہ بہتر تھی، جبکہ مسلمانوں نے اپنا پڑاؤ کیا تو زمین پرتھیلی تھی اور اس میں چلنے پھرنے میں بھی دشواری تھی اور سب سے بڑھ کر یہ کے وہاں پر پانی کی بھی بہت قلت تھی، ان مشکلات کے باوجود اللہ پاک نے مسلمانوں کو غلبہ عطا فرمایا، اللہ پاک ان کے لئے بارش نازل فرمائی تو مسلمانوں کے لیے چلنا آسان ہو گیا اور مسلمانوں نے بارش سے اپنے کنویں بھر لئے، برتنوں میں پانی جمع کرلیا۔غزوہ بدر کے حوالے سے جو حقائق ذکر کیے گئے ہیں ان میں سے جو خاص خاص ہیں وہ یہ ہیں کہ جب دونوں لشکر آمنے سامنے ہوئے تو کفار نے مسلمانوں کی تعداد بہت کم سمجھی اور ایسا ہی مسلمانوں کو بھی دکھایا گیا، اور ایسا اس لئے ہوا کہ اللہ پاک نے اس جنگ کا ھونا مقرر فرما دیا تھا۔ پھر اللہ پاک نے جنگ کے آداب تعلیم فرمائے۔

📝میدان جنگ میں ثابت قدم رہنا
📝لڑائی کے دوران اللہ کا ذکر کثرت کے ساتھ کرنا۔
📝 اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرنا
📝 آپس میں بے اتفاقی نہ کرنا اور
📝 صبر سے کام لینا

🔃 اسکے بعد قوموں کے عروج و زوال کا ایک ضابطہ بیان فرمایا گیا کہ اللہ پاک کسی قوم کو اس وقت تک زوال پزیر نہیں فرماتا جب تک وہ اپنی عملی زندگی میں خودپستی کا شکار نہ ہوجائے، اللہ پاک نے اس سورت میں اس واقعہ کو بھی بیان فرمایا کہ شیطان لعین بدر کے موقع پر انسانی شکل میں موجود تھا اور پھر کافروں کو لڑائی کیلئے اکسا رہا تھا، سراقہ بن مالک کے روپ میں موجود شیطان کافروں کو یقین دلا رہا تھا کہ مسلمانوں کا کافروں پر غلبہ پانا آسان کام نہیں ہے اور مسلمان کافروں پر غلبہ نہیں پا سکتے، جب اللہ پاک نے جبرائیل علیہ السلام کی سرپرستی میں فرشوں کی جماعتوں کو اتارا تو شیطان جو کچھ دیر پہلے کافروں کو مشورے دے رہا تھا، وہ میدان بدر سے فرار ہو گیا، کافروں نے اس سے پوچھا کہ تم تو ہمیں فتح کی نوید سنارہے تھے، اب کہاں بھاگے جا رہے ہو؟ اس پر شیطان نے جواب دیا میں وہ دیکھ رہا ہوں جو تم نہیں دیکھ رہے، مجھے اللہ کا خوف ہے اور اللہ کی پکڑ بڑی سخت ہے۔

‼️ پھر آیت نمبر 50 میں بتایا گیا کہ فرشتے کافروں کی جان نکالتے ہیں، چہروں اور پیٹھوں پر ضربیں لگاتے ہیں اور ڈانٹتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ بدلہ ھے تمھارے جرموں کا۔

🤝🏻 آیت نمبر 72 سے واضح کیا گیا کہ اہل ایمان کی دوستی اور محبت صرف ان اہل ایمان سے ہونی چاہیے جو دین کی خاطر مال اور جان کی قربانیاں دینے والے ہوتے ہیں، اسکے مقابلے میں کافر کا دوست کافر ہی ہو سکتا ہے، مسلمان کافر کا دوست نہیں ہو سکتا، اگر دوستی کا یہ معیار اختیار کر لیا جائے تو معاشرے سے فتنے فساد ختم ہو جائیں گے۔

⬇️ سورت کے آخر میں ان لوگوں کو رفیق قرار دیا گیا جو اللہ کی رضا کے لئے ہجرت اور جھاد کرتے ہیں اور دین کی خاطر قربانی دینے والوں کی ہر طرح مدد کرتے ہیں، اس سورت کی ابتداء میں جھاد اور غنیمت کا تذکره تھا اور اختتام نصرت اور ہجرت کے مضمون پر ہو رہا ہے، گویا یہ سورت شروع سے آخر تک جھاد ہی کے بیان کا احاطہ کرتی نظر آرہی ہے۔

-----------------------

🤲🏻 *سورہ ت
وبہ*
سورۂ توبہ مدنیہ ہے مگر اس کی آخری آیات ’’ لَقَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلٌ ‘‘ سے آخر تک، ان کو بعض علماء مکی کہتے ہیں۔
اس سورت میں  16  رکوع اور  129  آیتیں ہیں۔

*وجہ*
اس سورت کے دس سے زیادہ نام ہیں ،ان میں سے یہ دو نام مشہور ہیں
1️⃣ توبہ : اس سورت میں کثرت سے توبہ کا ذکر کیا گیا اس لئے اسے ’’سورۂ توبہ‘‘ کہتے ہیں۔
2️⃣ براءت: یہاں اس کا معنی بری الذمہ ہونا ہے، اور اس کی پہلی آیت میں کفار سے براء ت کا اعلان کیا گیا ہے ،اس مناسبت سے اسے ’’سورۂ براءت‘‘ کہتے ہیں۔

اس سورت کے شروع میں  بِسْمِ اللہْ  نہیں لکھی گئی، اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ حضرت جبریل علیہ السلام  اس سورت کے ساتھ  بِسْمِ اللہْ  لے کر نازل ہی نہیں ہوئے تھے اور نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  نے  بِسْمِ اللہْ  لکھنے کا حکم نہیں فرمایا۔


📢 شروع کی آیات میں مشرکین عرب کے لئے اعلان کیا گیا ہے کہ ان تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دین کا پیغام پہنچا دیا ہے اور حجت قائم فرما دی ہے، یہ سورت غزوہ تبوک کے بعد واپسی پر نازل ہوئی، جہاد اور زکوة کے حوالے سے منافقین کی بدباطنی کی نشاندہی کی گئی ہے اور انہوں نے جو اسلام کا لبادہ اوڑھا ہوا تھا اس کی حقیقت کو ظاہر کیا گیا۔

🕌 آیت نمبر 24 میں اللہ پاک نے 8 دنیاوی محبتوں اور 3 دینی محبتوں کو بیان فرمایا، اسکے بعد دعوت دی کہ اپنے باطن میں ترازو قائم کرو ایک پلڑے میں دنیاوی محبتیں اور دوسرے میں دینی محبتیں رکھو، اگردینی محبتوں والا پلڑا ہلکا رہے اور دنیاوی محبتوں والا پلڑا وزنی ہوجائے تو پھر موت کا انتظار کرو۔
اللہ پاک نے فرمایا:
*قُلْ اِنْ كَانَ اٰبَآؤُكُمْ وَ اَبْنَآؤُكُمْ وَ اِخْوَانُكُمْ وَ اَزْوَاجُكُمْ وَ عَشِیْرَتُكُمْ وَ اَمْوَالُ نِ اقْتَرَفْتُمُوْهَا وَ تِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَ مَسٰكِنُ تَرْضَوْنَهَاۤ اَحَبَّ اِلَیْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ جِهَادٍ فِیْ سَبِیْلِهٖ فَتَرَبَّصُوْا حَتّٰى یَاْتِیَ اللّٰهُ بِاَمْرِهٖؕ-وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ۠(۲۴)*
تم فرماؤ: اگر تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے اور تمہارے بھائی اور تمہاری بیویاں اور تمہارا خاندان اور تمہاری کمائی کے مال او ر وہ تجارت جس کے نقصان سے تم ڈرتے ہو اور تمہارے پسندیدہ مکانات تمہیں اللہ اور اس کے رسول اور اس کی راہ میں جہاد کرنے سے زیاد ہ محبوب ہیں تو انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ اپنا حکم لائے اور اللہ نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔

⚔️ اسکے بعد غزوہ حنین کی تفصیلات بیان ہوئی ہیں۔

فتحِ مکہ کے بعد عام طور سے تمام عرب کے لوگ اسلام کے حلقہ بگوش ہوگئے کیونکہ ان میں اکثروہ لوگ تھے جو اسلام کی حقانیت کا پورا پورا یقین رکھنے کے باوجود قریش کے ڈر سے مسلمان ہونے میں تَوَقُّف کررہے تھے اور فتحِ مکہ کا انتظار کررہے تھے۔ پھر چونکہ عرب کے دلوں میں کعبہ کا بے حد احترام تھا اور ان کا اعتقاد تھا کہ کعبہ پر کسی باطل پرست کا قبضہ نہیں ہوسکتا، اس لئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مکہ کو فتح کرلیا تو عرب کے بچے بچے کو اسلام کی حقانیت کا پورا پورا یقین ہوگیا اور وہ سب کے سب جوق در جوق بلکہ فوج در فوج اسلام میں داخل ہونے لگے۔ باقی ماندہ عرب کی بھی ہمت نہ رہی کہ اب اسلام کے مقابلہ میں ہتھیار اٹھا سکیں۔ لیکن مقامِ حُنَین میں ’’ہوازن‘‘ اور ’’ثقیف‘‘ نام کے دو قبیلے آباد تھے جو بہت ہی جنگجو اور فُنونِ جنگ سے واقف تھے۔ ان لوگوں پر فتحِ مکہ کا اُلٹا اثر پڑا اور ان لوگوں پر خواہ مخواہ کی جاہلیت کیغیرت سوار ہوگئی اور ان لوگوں نے یہ خیال قائم کرلیا کہ فتحِ مکہ کے بعد ہماری باری ہے اس لئے ان لوگوں نے یہ طے کرلیا کہ مسلمانوں پر جو اس وقت مکہ میں جمع ہیں ایک زبردست حملہ کردیا جائے۔ چنانچہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم    نے حضرت عبداللہ بن ابی حدرد رضی اللہ عنہ کو تحقیقات کے لئے بھیجا۔ جب انہوں نے وہاں سے واپس آکر ان قبائل کی جنگی تیاریوں کا حال بیان کیا اور بتایا کہ قبیلہ ہوازن اور ثقیف نے اپنے تمام قبائل کو جمع کرلیا ہے اور قبیلہ ہوازن کا رئیسِ اعظم مالک بن عوف ان تمام اَفواج کا سپہ سالار ہے اور وہ سو برس سے زائد عمر کا بوڑھا ہے۔ ’’درید بن الصمہ‘‘ جو عرب کا مشہور شاعر اور مانا ہوا بہادر تھا بطور مشیر کے میدانِ جنگ میں لایا گیا ہے اور یہ لوگ اپنی عورتوں بچوں بلکہ جانوروں تک کو میدانِ جنگ میں لائے ہیں تاکہ کوئی سپاہی میدان سے بھاگنے کا خیال بھی نہ کرسکے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی شوال8ھ میں بارہ ہزار کا لشکر جمع فرمایا۔ دس ہزار تو مہاجرین و انصار وغیرہ کا وہ لشکر تھا جو مدینہ سےآپ کے ساتھ آیا تھا اور دو ہزار نومسلم تھے جو فتحِ مکہ میں مسلمان ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لشکر کو ساتھ لے کر اس شان و شوکت کے ساتھ حنین کا رُخ کیا کہ اسلامی افواج کی کثرت اور اس کے جاہ و جلال کو دیکھ کر بے اختیار بعض صحابۂ کرام  رضی اللہ عنھم کی زبان سے یہ لف
ظ نکل گیا کہ ’’آج بھلا ہم پر کون غالب آسکتا ہے۔ لیکن اللہ پاک کو ان حضرات کا اپنی فوجوں کی کثرت پر ناز کرنا پسند نہیں آیا۔ چنانچہ اس فخر و نازِش کا یہ انجام ہوا کہ پہلے ہی حملہ میں قبیلہ ہوازن و ثقیف کے تیر اندازوں نے جو تیروں کی بارش کی اور ہزاروں کی تعداد میں تلواریں لے کر مسلمانوں پر ٹوٹ پڑے تو وہ دو ہزار نو مسلم اور کفارِ مکہ جو لشکرِ اسلام میں شامل ہو کر مکہ سے آئے تھے ایک دم سرپر پیر رکھ کر بھاگ نکلے۔ ان لوگوں کی بھگدڑ دیکھ کر انصار و مہاجرین کے بھی پاؤں اکھڑ گئے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جو نظر اٹھا کر دیکھا تو گنتی کے چند جاں نثاروں کے سوا سب فرار ہو چکے تھے۔ تیروں کی بارش ہو رہی تھی۔بارہ ہزار کا لشکر فرار ہو چکا تھا مگر رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے پائے اِستقامت میں بال برابر بھی لغزش نہیں ہوئی۔ بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  اکیلے ایک لشکر بلکہ ایک عالَمِ کائنات کا مجموعہ بنے ہوئے نہ صرف پہاڑ کی طرح ڈٹے رہے بلکہ اپنے سفید خچر پر سوار برابر آگے ہی بڑھتے رہے اور آپ  صلی اللہ علیہ وسلم کی زَبانِ مبارک پر یہ الفاظ جاری تھے کہ
"میں نبی ہوں یہ جھوٹ نہیں ہے : میں عبدالمطلب کا بیٹا ہوں۔"
حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے لشکر کو پکارا    ’’ یَامَعْشَرَ الْاَنْصَار ‘‘اور   پھر ’’
 یَالَلْمُھَاجرِیْنَ‘‘ کا نعرہ مارا تو ایک دم تمام فوجیں پلٹ پڑیں اور لوگ اس قدر تیزی کے ساتھ دوڑ پڑے کہ جن لوگوں کے گھوڑے اِژْدِحام کی وجہ سے نہ مڑ سکے انہوں نے ہلکا ہونے کے لئے اپنی زرہیں پھینک دیں اور گھوڑوں سے کود کود کر دوڑے اور کفار کے لشکر پر جھپٹ پڑے اور اس طرح جانبازی کے ساتھ لڑنے لگے کہ دم زَدَن میں جنگ کا پانسہ پلٹ گیا۔ کفار بھاگ نکلے ،کچھ قتل ہو گئے اور جو رہ گئے گرفتار ہو گئے۔ قبیلہ ثقیف کی فوجیں بڑی بہادری کے ساتھ جم کر مسلما نو ں سے لڑتی رہیں یہاں تک کہ ان کے ستر بہادر کٹ گئے، لیکن جب ان کا علمبردار عثمان بن       عبداللہ       قتل ہو گیا تو ان کے پاؤں بھی اُکھڑ گئے۔ اور فتحِ مُبین نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم  کے قدموں کا بوسہ لیا اور کثیر تعداد و مقدار میں مالِ غنیمت ہاتھ آیا۔ 

پھر اللہ پاک نے آیت نمبر 28 میں ذکر فرمایا کہ مشرک بالکل ناپاک ہیں یعنی ان کو باطن کے اعتبار سے ناپاک قرار دیا ہے کہ وہ کفر و شرک کی نجاست سے آلودہ ہیں۔ حکم دیا گیا کہ اِس سال یعنی سَن9 ہجری کے بعد وہ مسجدِ حرام کے قریب نہ آنے پائیں نہ حج کے لئے نہ عمرہ کے لئے۔یہاں اصلِ حکم مسجد ِ حرام شریف میں آنے سے روکنے کا ہے اور بقیہ دنیا بھر کی مساجد میں آنے کے متعلق بھی حکم یہ ہے کہ کفار مسجدوں میں نہیں آسکتے ۔ خصوصاً کفار کو عزت و احترام اور استقبال کے ساتھ مسجد میں لانا شدید حرام ہے۔

💰💵 اسکے بعد اس مال و دولت اور سونے چاندی کی مذمت بیان فرمائی گئی جس کے حقوق ادا نہ کیے جائیں، زکوۃ ادا نہ کرنے والوں کو وعید سنائی گئی اور اس دردناک کیفیت کو بیان فرمایا گیا کہ قیامت کے دن اسے جہنم کی آگ میں تپایا جائے گا  یہاں تک کہ شدت ِحرارت سے سفید ہوجائے گا پھر اس کے ساتھ زکوٰۃ    ادا نہ کرنے والوں کی پیشانیوں اور ان کے پہلوؤں اور ان کی پشتوں کو داغا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا یہ وہ مال ہے جو تم نے    اپنے لئے جمع کر رکھا تھا تو دنیا میں اپنا مال جمع کر کے رکھنے اور حق داروں کو ان کا حق ادا نہ کرنے کے عذاب کا مزہ چکھو۔  

🌹 آیت نمبر 40 میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی شان بیان فرمائی گئی کہ ہجرت میں انھیں نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی خاص رفاقت نصیب ہوئی، اور بارگاہ رسالت سے بے خوف رہنے اور اللہ پاک کی معیت کا مژدہ عطا کیا گیا۔

🔰 آیت نمبر 79 میں مسلمانوں کا ایک شعار اور منافقین کا ایک شعار بتایا گیا کہ نادار مومنین اپنی محنت کی کمائی سے اپنا مال صدقہ کرتے ہیں تو منافق ان پر طعن کرتے ہیں، مذاق اڑاتے ہیں، فرمایا گیا کہ اللہ ان کو ان کے مذاق کی سزا ضرور دیگا۔

🔚 آخر میں صحابہ کرام علیھم الرضوان کا جذبۂ جہاد بیان کیا گیا کہ انہوں نے اللہ پاک کی رضا کی طلب میں اور اس کی بارگاہ میں قرب حاصل کرنے کے لئے اپنے مال اور اپنی جانیں دونوں خرچ کر دیں۔جہاد کے لئے جانے کے لئے باطل عذر والوں کا ذکر فرمانے کے بعد سچے عذر والوں کے متعلق  فرمایا کہ ان پر سے جہاد کی فرضیت ساقط ہے ۔یہ کون لوگ ہیں ؟ان کے چند طبقے بیان فرمائے  
پہلا طبقہ  ضعیف جیسے کہ بوڑھے ،بچے ، عورتیں اور وہ شخص بھی انہیں میں داخل ہے جو پیدائشی کمزور ضعیف ونحیف ہو۔   
  دوسرا طبقہ  بیمار، اس میں اندھے ،لنگڑے، اپاہج بھی داخل ہیں۔  
تیسرا طبقہ  وہ لوگ جنہیں خرچ کرنے کی قدرت نہ ہو اور سامانِ جہاد نہ کرسکیں یہ لوگ رہ جائیں تو ان پر کوئی گناہ نہیں۔
📲 *+92-321-2094919*
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
📖 *فیضان خلاصہ تراویح*📖

✍🏻 *ابو بنتین محمد فراز عطاری مدنی عفی عنہ*

🔮 *گیارہواں پارہ، یعتذرون*

🚫 پارے کے شروع میں ان منافقین کی مذمت بیان فرمائی گئی جنھوں نے اسباب ہونے کے باوجود جہاد میں شرکت نہیں کی اور بہانے بناتے رہے، اللہ پاک نے اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کو ان منافقین کا حال بیان فرمایا کہ اے حبیب! صلی اللہ علیہ وسلم، آپ اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنھم جب غزوۂ تبوک سے واپس مدینہ منورہ پہنچیں گے تو غزوہ سے رہ جانے والے منافقین جھوٹے بہانے بنا کر اور باطل عذر پیش کر کے آپ سب کو راضی کرنے کی کوشش کریں گے۔ اے حبیب!  صلی اللہ علیہ وسلم ، آپ ان سے فرما دینا کہ بہانے مت بناؤ، جو عذر تم پیش کر رہے ہو ہم اس کی ہر گز تصدیق نہیں کریں گے، تم نے جو کچھ کیا اللہ پاک  نے ہمیں اس کی خبریں دیدی ہیں اور اب اللہ پاک  اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے کام دیکھیں گے کہ تم نفاق سے توبہ کرتے ہو یا اس پر قائم رہتے ہو۔
دراصل منافقین کے ذہنوں میں یہ غلط فہمی تھی کہ مسلمان غزوہ تبوک میں شکست سے دو چار ہونگے، اسی لئے انھوں نے شرکت نہیں کی، اللہ پاک نے محض اپنے فضل وکرم سے ایمان والوں کی مدد فرمائی اور انہیں کامیابی عطا فرمائی۔

💰 آیت نمبر 98 میں عرب کے دیہاتی لوگوں کے دو طبقوں کا بیان ہوا ہے،
کچھ دیہاتی ایسے ہیں کہ اللہ پاک کی راہ میں جو خرچ کرتے ہیں اسے تاوان سمجھتے ہیں کیونکہ وہ جو کچھ خرچ کرتے ہیں رضائے الٰہی اور طلبِ ثواب کے لئے تو کرتے نہیں بلکہ ریاکاری کے طور پر اور مسلمانوں کے خوف سے خرچ کرتے ہیں اور وہ مسلمانوں پر گردشیں آنے کے انتظار میں رہتے ہیں اور یہ راہ دیکھتے ہیں کہ کب مسلمانوں کا زور کم ہو اور کب وہ مغلوب ہوں ، انہیں خبر نہیں کہ اللہ پاک   کو کیا منظورہے ، وہ اللہ پاک نے بتا دیا کہ بری گردش انہی پر ہے اور وہی رنج و بلا اور بدحالی میں گرفتار ہوں گے۔

🌹دیہات میں رہنے والے بعض حضرات ایسے ہیں کہ وہ اللہ پاک کی راہ میں جو کچھ خرچ کرتے ہیں اسے اللہ پاک کے ہاں نزدیکیوں     اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم   کی دعاؤں کا ذریعہ سمجھتے ہیں کہ جب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں صدقہ پیش کریں گے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم ان کیلئے خیرو برکت و مغفرت کی دعا فرمائیں گے۔ 

🌼 آیت نمبر 100 میں ان مہاجر و انصار صحابہ کرام علیھم الرضوان کی تعریف بیان کی گی ہے جنہوں نے اسلام قبول کرنے میں سبقت کی اور مال و جان سے اس دینِ حق کا بھرپور ساتھ دیا۔

🚷 اگلی آیت میں ان دو گروہوں کا ذکر ہے جو غزوہ تبوک میں بغیر کسی شرعی عذ ر کے شرکت سے محروم رہے، لیکن انکو اپنی اس محرومی پر شدید ندامت تھی، ان میں سے ایک گروہ نے پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی واپسی سے پہلے ہی خود کو سزا دے دی اور مسجدِ نبوی کے ستونوں سے خود کو باندھ لیا، آیت مبارکہ میں انھیں بشارت دی گئی کہ اللہ پاک نے ان کے گناہوں کو معاف کردیا ہے۔

🏛️ آیت نمبر 107 میں مسجدِ ضرار کا تذ کرہ ہے۔ قبا شریف کے مخلص مسلمانوں نے مسجد قبا بنا کر اللہ کی عبادت اور اعمال خیر کی بنیاد ڈالی ،تو منافقوں نے ان کے مقابلے میں فتنہ اور فساد کے لئے مرکز بنا کر اسکو مسجد کا نام دے دیا ، اور انھیں خفیہ طور پر کافروں کی سرپرستی حاصل تھی، یہ لوگ جنہوں نے مسجدِ ضرار بنائی تھی وہ پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کو بلا کر اس کا افتتاح کروانا چاہتے تھے تاکہ مسلمانوں کی نظر میں وہ مسجد مقدّس ہوجائے اور اس کے پسِ پشت یہ اس مسجد کے ذریعے مسلمانوں میں انتشار پھیلانے کی سازشیں کرتے رہیں ،لیکن اللہ پاک نے پیارے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کو وہاں تشریف لے جانے سے منع فرمادیا اور فرمایا کہ یہ مسجد مسلمانوں کو ضرر پہچانے، کفر پھیلانے، اہل ایمان کے درمیان جھگڑا اور فساد کرنے اور اللہ پاک اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے جنگ کرنے والوں کی باطل منصوبہ بندی اور سازشوں کا مرکز ہے، لہٰذا پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض صحابہ کو بھیجا اور اس مسجد کو آگ لگا کر جلانے کا حکم ارشاد فرمایا، اس سے معلوم ہوا کہ بعض اوقات بظاہر نیک کام اگر منفی مقاصد کے لئے کیا جائے تو اللہ پاک کے ہاں اسکو قبولیت حاصل نہیں ہوسکتی، اس کے مقابلے میں اللہ تعالٰی نے مسجدِ قُبا اور اس میں جمع ہونے والے مخلصین کی تعریف فرمائی اور ان کے ظاہری اور باطنی طہارت کے جذبہ کو بیان فرمایا اور فرمایا کہ مسجدِ قُبا کی بنیاد پہلے دن سے اخلاص پر رکھی گئی ہے ،اللہ پاک کی عبادت،حمد اور رکوع و سجود کرنے والوں کے لئے بنائی گئی ہے۔

📝 اگلی آیت میں بتایا گیا کہ کلمہ پڑھ کر بندہ مومن اللہ سے ایک طرح کا وعدہ کرتا ہے،اور اس وعدہ کی رو سے وہ اپنا مال،جان اللہ کے حوالے کردیتا ہے اور اللہ پاک اس کے بدلے میں اسے جنت عطا فرمائے گا۔ اب اگر مومن مال و جان اللہ کی مرضی کے خلاف استعمال کرے گا تو یہ امانت میں خیانت ہے۔

🌸 آیت نمبر 118 میں ان تین مخلص مومنوں کا ذکر ہے
جو غزوہ تبوک میں بغیر کسی عذر کے پیچھے رہ گئے تھے، ان کے نام ہیں۔
🌷 کعب بن مالک
🌷ہلال بن امیّہ
🌷 مرارہ بن ربیع (رضی اللہ عنھم)
رسول کریم  صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوۂ تبوک سے واپس ہو کر ان سے جہاد میں حاضر نہ ہونے کی وجہ دریافت فرمائی اور فرمایا: ٹھہرو، جب تک اللہ پاک تمہارے لئے کوئی فیصلہ فرمائے اور مسلمانوں کو اُن لوگوں سے ملنے جلنے کلام کرنے سے ممانعت فرما دی حتّٰی کہ اُن کے رشتہ داروں اور دوستوں نے ان سے کلام ترک کردیا ،یہاں تک کہ ایسا معلو م ہوتا تھا کہ اُن کو کوئی پہچانتا ہی نہیں اور اُن کی کسی سے شناسائی ہی نہیں۔ اس حال پر انہیں پچاس  روز گزرے یہاں تک کہ جب زمین اپنی وسعت کے باوجود ان پر تنگ ہوگئی اور انہیں کوئی ایسی جگہ نہ مل سکی جہاں ایک لمحہ کے لئے انہیں قرار ہوتا ،ہر وقت پریشانی اور رنج وغم بے چینی و اِضطراب میں مُبتلا تھے اور وہ رنج وغم کی شدت کی وجہ سے اپنی جانوں سے تنگ آگئے ، نہ کوئی اَنیس ہے جس سے بات کریں ،نہ کوئی غم خوار جسے حالِ دل سنائیں ، وحشت و تنہائی ہے اور شب و روز کی گریہ و زاری۔ انہوں نے یقین کرلیا کہ  اللہ پاک  کی ناراضی سے بچنے کیلئے اس کے سوا کوئی پناہ نہیں تو اللہ پاک   نے ان پر رحم فرمایا اور ان کی توبہ قبول فرما لی تا کہ آئندہ توبہ کرنے والے ہی رہیں۔

🤝🏻 اس کے بعد ایمان والوں کو اللہ سے ڈرنے اور سچے لوگوں کی صحبت اختیار کرنے کا حکم دیا گیا۔
اس کے بعد مسلمانوں کی ایک جماعت کو علم دین کے حصول کے لئے گھروں سے نکلنے کی ترغیب ارشاد فرمائی گئی اور طریقہ ارشاد فرمایا کہ علم حاصل کرنے کے لئے سب مسلمانوں کا اپنے وطن سے  نکل جانا درست نہیں کہ اس طرح شدید حَرج ہوگا توجب سارے نہیں جاسکتے تو ہر بڑی جماعت سے ایک چھوٹی جماعت جس کا نکلنا انہیں کافی ہو کیوں نہیں نکل جاتی تاکہ وہ دین میں فقاہت حاصل کریں اورا س کے حصول میں مشقتیں جھیلیں اور اس سے ان کا مقصود واپس آکر اپنی قوم کو وعظ و نصیحت کرنا ہو تاکہ ان کی قوم کے لوگ اس چیز سے بچیں جس سے بچنا انہیں ضروری ہے۔

🌼 آخر میں نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی نعت شریف بیان فرمائی گئی کہ اے اہلِ عرب! بیشک تمہارے پاس تم میں سے عظیم رسول، محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے جو کہ عربی، قرشی ہیں۔ جن کے حسب ونسب کو تم خوب پہچانتے ہو کہ تم میں سب سے عالی نسب ہیں اور تم اُن کے صدق و امانت، زہد و تقویٰ، طہارت وتَقَدُّس اور اَخلا قِ حمیدہ کو بھی خوب جانتے ہو، یہ وہ ہیں کہ تمہارے تکلیف اور آزمائش میں پڑنا ان کو رنجیدہ کردیتا ہے، اور یہ وہ ذات ہیں جو مومنوں پر بہت زیادہ مہربان ہیں۔

🌳 *سورہ یونس*

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنھما فرماتے ہیں ’’سورۂ یونس مکیہ ہے، البتہ اس کی تین آیتیں ’’ فَاِنْ كُنْتَ فِیْ شَكٍّ ‘‘    سے لے کر’’ لَا یُؤْمِنُوْنَ ‘‘    تک مدینہ منورہ میں نازل ہوئیں۔اس سورت میں 11 رکوع  اور 109 آیتیں ہیں۔    

*وجہ* 

اس سورت کی آیت نمبر 98 میں اللہ پاک کے نبی حضرت یونس علیہ السلام کی قوم کا واقعہ بیان کیا گیا ہے کہ جب انہیں حضرت یونس  علیہ السلام  نے عذاب کی وعید سنائی اور خود وہاں سے تشریف لے گئے تو ان کے جانے کے بعد عذاب کے آثار دیکھ کر وہ لوگ ایمان لے آئے اور انہوں نے سچے دل سے توبہ کی تو ان سے عذاب اٹھا لیا گیا۔ اس واقعے کی مناسبت سے اس سورت کا نام’’سورۂ یونس‘‘ رکھا گیا۔   

📗 سورت کا آغاز حروف مقطعات سے ہوتا ہے ،آگے چل کر قرآن کریم کے حکیمانہ کلام ہونے کو بیان کیا گیا اور منکرین قرآن کی باطل ذہنیت کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔اس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ خاتمُ المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوّت اور رسالت سے کسی کو تعجّب نہیں کرنا چاہیے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کوئی نئی بات نہیں ہے، بلکہ ہر امّت میں نبی علیہ السلام تشریف لاتے رہے۔اس کے بعد اللہ پاک نے دلائلِ قدرت اور نظامِ کائنات پر غور و فکر کرنے کی دعوت عطا فرمائی ہے کہ لوگ نظام کائنات کو دیکھیں کہ بغیر ستون کے آسمان ہمارے اوپر موجود ہے اور زمین کو چلنے کے لئے ہموار کردیا ہے، اس کی طرف غور و فکر کرو۔

💥 اگلی آیتوں میں بتایا گیا کہ جس طرح لوگ خیر کے لئے جلدی مچاتے ہیں ایسے ہی اگر شر کو بھی اللہ پاک جلدی نازل فرمادے تو دنیا کا سارا نظام درھم برھم ہوجائے۔

🛥️ آیت نمبر 22 سے اللہ پاک نے اپنی عطا کردہ نعمتوں کا ذکر فرمایا، ان نعمتوں میں دریاؤں کے اندر کشتیوں کا چلنا ، بارش سے انسانوں اور جانوروں کی خوراک کے لئے پودوں اور سبزوں کا اُگنا ہے، لیکن انسان کی فطرت یہ ہے کہ طوفان جب آتا ہے تو اُس وقت آخری سہارے کے طور پر اللہ پاک کو پکارتا ہے۔ لیکن جب مصیبت ٹل جاتی ہے تو اللہ کی نافرمانی شروع کردیتا ہے۔

🌿🌱 اس کے بعد دنیا کی زندگی کو ایک کھیتی کی مثال سے واضح کیا ہے کہ جس طرح آسمان سے بارش برستی ہے، کھیتی اُگتی ہے اور اپنی انتہا کو پہنچتی ہے، لیکن اچانک کوئی آفت نازل ہوتی ہے
،وہ اسے رات یا دن میں اُجاڑ کر رکھ دیتی ہے۔ اس طرح انسان کی زندگی بھی ابتداء کے بعد جوانی کے عروج تک پہنچتی ہے لیکن اچانک کسی طبعی موت سے اسکا خاتمہ ہوجاتا ہے۔تو کھیتی کا معاملہ تو پھر بھی آسان ہے کہ اسکا کوئی حساب نہیں ہے ،لیکن اے انسان تجھ کو موت کے بعد پھر اُٹھایا جائے گا اور تیرے کیے کا تجھ سے حساب کتاب ہوگا تو آج ہی سدھر جا اور اپنا حساب کرلے اور آج ہی اپنے آپکو نیکی کی راہ پر لے آ ورنہ کل حساب کا دن ہوگا پھر عمل نہیں کر سکے گا۔

📢 آیت نمبر 25 سے بیان کیا جارہا ہے کہ اللہ پاک تمام انسانوں کو سلامتی کی راہ کی طرف بلا رہا ہے جو اللہ کے حکم پر لبیک کہیں گے ان کے لئے بھلائیاں ہی بھلائیاں ہیں اور روز قیامت اُن کے چہرے ہر قسم کی ذلّت اور رسوائی کی سیاہی سے محفوظ ہونگے اور وہ ہمیشہ ہمیشہ جنت میں رہیں گے، اس کے برعکس اللہ کی نافرمانی کرنے والوں کے چہرے ذلت و رسوائی کی وجہ سے اندھیری رات کی طرح کالے ہونگے۔ انہیں اللہ کے عذاب سے کوئی نہیں بچا سکے گا اور وہ ہمیشہ جھنم میں رہیں گے۔

📖 اگلی آیات میں قرآنِ مجید کی شان بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ تمہارے پاس اپنے رب کی طرف سے ایک عظیم نصیحت آئی ہے جو دلوں کی بیماریوں کے لئے شفا ہے اور مومنوں کے لیئے ہدایت اور رحمت ہے۔ اس کے بعد اگلی آیت میں اولیاء اللہ کی شان بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ انہیں نہ کسی آنے والی بات کا خوف ہوگا نا گزری ہوئی بات کا ملال۔ قیامت کے دن وہ اپنی پسند کی نعمتوں کے اندر ہونگے۔
اور یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے اور ہمیشہ اپنے تقوٰی پر کاربند رہے،انہیں دنیا میں بھی بشارت ہے اور آخرت میں بھی بشارت ہے اور اللہ کے کلام میں تبدیلی واقع نہیں ہوتی، اور یہ بڑی کامیابی ہے ۔

🕋 اس کے بعد نوح علیہ السلام کے واقعے کو مختصراً ذکر کیا گیا ہے کہ انہوں نے سرداروں کے مقابلے میں اللہ پاک پر توکل کیا ۔اللہ پاک کا پیغام سنانے میں کوئی اجرت نہیں لی، اللہ پاک نے انہیں ان کے ماننے والوں کے ساتھ کشتی میں سوار ہونے کا حکم فرمایا اور انہیں طوفان سے بچالیا اور مخالفین کو طوفان میں غرق کر کے عبرتناک انجام سے دوچار فرمایا۔

🕝 پھر موسیٰ و ھارون علیہما السلام کو فرعون اور اس کے سرداروں کے پاس بھیجنے کا بیان ہے۔ موسٰی علیہ السلام نے ان کے خلاف دعا فرمائی جس پر اللہ پاک نے فرعون اور اس کے لشکر کو غرق کرنے کا حکم ارشاد فرمایا۔

ℹ️ یہ سورت حضرت یونس علیہ السلام کے نام سے موسوم ہے۔اس کی آخری آیت میں حضرت یونس  علیہ السلام   کی قوم کا واقعہ یہ ہے کہ یہ لوگ موصل کے علاقے نینوٰی میں رہتے تھے اور کفر و شرک میں مبتلا تھے اللہ پاک نے حضرت یونس  علیہ السلام کو ان کی طرف بھیجا، آپ نے انہیں بت پرستی چھوڑنے اور ایمان لانے کا حکم دیا، ان لوگوں      نے انکار کیا اور حضرت یونس  علیہ السلام  کی تکذیب  کی، آپ نے انہیں  اللہ پاک کے حکم سے عذاب نازل ہونے کی خبر دی، ان لوگوں نے آپس میں کہا کہ حضرت یونس علیہ السلام  نے کبھی کوئی بات غلط نہیں کہی ہے، دیکھو اگر وہ رات کو یہاں رہے جب تو کوئی اندیشہ نہیں اور اگر انہوں نے      رات یہاں نہ گزاری تو سمجھ لینا چاہیے کہ عذاب آئے گا۔ جب رات ہوئی توحضرت یونس  علیہ السلام وہاں سے تشریف لے گئے اور صبح کے وقت عذاب کے آثار نمودار ہوگئے ، آسمان پر سیاہ رنگ کا ہیبت ناک بادل آیا ، بہت سارا دھواں جمع ہوا اور تمام شہر پر چھا گیا۔ یہ دیکھ کر انہیں یقین ہوگیا کہ عذاب آنے والا ہے ، انہوں نے حضرت یونس  علیہ السلام  کو تلاش کیا تو آپ کو نہ پایا، اب انہیں اور زیادہ اندیشہ ہوا تو وہ لوگ اپنی عورتوں ، بچوں اور جانوروں کے ساتھ جنگل      کی طرف نکل گئے، موٹے کپڑے پہن کر توبہ و اسلام کا اظہار کیا، شوہر سے بیوی اور ماں سے بچے جدا ہوگئے اور سب نے      بارگاہِ الٰہی میں گریہ و زاری شروع کر دی اور عرض کرنے لگے کہ جودین حضرت یونس  علیہ السلام لائے ہیں ہم اس پر ایمان لاتے ہیں۔ چنانچہ انہوں نے سچی توبہ کی اور جو جَرائم ان سے ہوئے تھے انہیں دور کیا، پرائے مال واپس کئے حتّٰی کہ  اگر دوسرے کا ایک پتھرکسی کی بنیاد میں لگ گیا تھا تو بنیاد اکھاڑ کر وہ پتھر نکال دیا اور واپس کردیا ۔ اللہ پاک سے اخلاص کے ساتھ مغفرت کی دعائیں کیں توپروردگارِ عالَم نے ان پر رحم کیا، دعا قبول فرمائی اور عذاب اٹھا دیا گیا۔

⬇️ ان سب واقعات کو بیان کرنے کے بعد مشرکین کو تنبیہ کی گئی کہ اگر وہ کفر و شرک سے باز نہ آئے اور اپنی انا پر اڑے رہے تو قیامت سے پہلے ہی ان پر عذاب آسکتا ہے ، ساتھ ہی اہل ایمان کو خوش خبری سنائی گئی کی اللہ پاک کی مدد اور نصرت قریب ہے اور یہ اللہ کا طریقہ رہا ہے کہ اللہ پاک اہل ایمان کو نجات عطا فرماتا ہے۔ جس طرح سورہ یونس کی ابتدا قرآن کریم کے ذ کر سے ہوئی تھی اسی طرح اس کا اختتام بھی اس سچی کتاب کی اتباع اور پیروی کے حکم پر ہورہا ہے۔
📲 *+92-321-2094919*
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
📙 *فیضان خلاصہ تراویح*📙

✍🏻 *ابو بنتین محمد فراز عطاری مدنی*

🌅 *سورہ ہود*

حضرت عبداللہ بن عباس، حضرت حسن ا ور حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہمم  اور دیگر مفسرین فرماتے ہیں کہ سورۂ ہود مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی ہے۔اس سورت میں 10رکوع اور 123 آیتیں ہیں۔ 
  
*وجہ* 
اس سورت کی آیت نمبر50 تا 60 میں اللہ پاک کے نبی حضرت ہود علیہ السلام اور ان کی قوم عاد کا واقعہ بیان کیا گیا ہے ، اس واقعے کی مناسبت سے اس سور ت کا نام ’’سورۂ ہود‘‘ رکھا گیا۔

💰 *بارہواں پارہ،وَ مَا مِنْ دَآبَّةٍ*

🔥 اس پارے کے اندر عبرت ہی عبرت ہے کیونکہ اس میں مختلف قوموں اور ان کی نافرمانیوں کا ذکر ہے، پھر ان پر جو عذاب نازل کئے گئے ان کو بیان کیا گیا ہے۔
نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:" مجھے سورۂ ہود، سورۂ واقعہ، سورۂ مرسلات، سورۂ  عَمَّ یَتَسَآءَلُوْنَ، اور سورۂ اِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ، نے بوڑھا کردیا۔
اس کی شرح میں مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ تعالی فرماتے ہیں: ان سورتوں میں عذابِ الٰہی کا ذکر ہے جن سے مجھے اپنی امت کی فکر ہے۔

🕕 سورہ ھود کی ابتداء گیارہویں پارے کے آخر سے ہوتی ہے، اس کا مرکزی مضمون رسالت پر مشتمل ہے، شروع میں اللہ پاک نے فرمایا زمین پر چلنے والے ہر جاندار کا رزق اللہ کے ذمہ کرم پر ہے، "دآبَّةٍ" کا معنی ہے ہر وہ جانور جو زمین پر رینگ کر چلتا ہو، عُرف میں چوپائے کو ’’ دَآبَّةٍ ‘‘ کہتے ہیں جبکہ آیت میں اس سے مُطْلَقا جاندار مراد ہے لہٰذا انسان اور تمام حیوانات اس میں داخل ہیں۔
پھر فرمایا کہ اللہ پاک ہر ایک کے ٹھکانے اور سپرد کئے جانے کی جگہ کو جانتا ہے، عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ٹھکانے سے مراد ماؤں کے رحم اور سپرد کی جگہ سے مراد موت کا مقام ہے، اس آیت میں جو جانداروں ، ان کے رزق، ان کے ٹھہرنے اور سپرد کئے جانے کی جگہ کا ذکر ہوا یہ سب بیان کرنے والی کتاب یعنی لوحِ محفوظ میں موجود ہے۔

🚫 پھر انسان کی خود غرضی کو بیان فرمایا کہ اگر ہم انسان کو اپنی کسی رحمت کا مزہ چکھائیں اور صحت، امن،  وسعتِ رزق اور دولت عطا کریں پھر یہ سب اس سے چھین لیں اور اسے مَصائب میں مبتلا کردیں تو بیشک وہ دوبارہ اس نعمت کے پانے سے مایوس ہوجاتا ہے اور  اللہ پاک  کے فضل سے اپنی اُمید ختم کرلیتا ہے اور صبر و رضا پر ثابت قدم نہیں رہتا اور گزشتہ نعمت کی ناشکری کرتا ہے۔ اسی طرح اگر مصیبت کے بعد کوئی نعمت ملے تو انسان تکبر میں آجاتا ہے، البتہ جو شخص ہر حال میں صبر اور شکر کرنے والا اور نیک اعمال بجا لانے والا ہوتا ہے ان کے لیے بخشش اور بڑا اجر ہے۔

📝 یہاں ایک بار پھر قرآن کے کلام الٰہی ہونے کا انکار کرنے والوں کو چیلنج دیا گیا کہ اپنے تمام حامیوں کو بلا کر اس جیسی کوئی دس صورتیں بنالاؤ مگر ظاہر ہے کہ وہ کہاں لا سکتے تھے اور قرآن کریم جیسی صورتیں بنانے سے ان کا عاجز ہو جانا اس بات کی دلیل ہے کہ یہ قرآن اللہ کا نازل کردہ ہے اور دس سورتیں تو کیا وہ ایک سورت بلکہ ایک آیت بھی بنا کر نہیں لا سکتے تھے۔

☄️ پھر ان قوموں کا تذکرہ کیا گیا جو اپنی نافرمانیوں کی وجہ سے اللہ پاک کے عذاب میں گرفتار ہوئیں،
نوح علیہ السلام نے قوم کو توحید و رسالت کی بات سمجھائی اور نہ ماننے کی صورت میں درد ناک عذاب کی وعید سنائی، نوح علیہ السلام کو جب یقین ہو گیا کہ میری قوم کے صاحب ایمان لوگوں میں اب مزید کوئی اضافہ نہیں ہوگا تو نوح علیہ السلام نے اللہ پاک سے دعا مانگی ہے "اے میرے پروردگار! میری مدد فرما۔" اللہ پاک نے دعا کو قبول فرما کر حکم ارشاد فرمایا کہ آپ بہت بڑی کشتی تیار کریں جب تیار ہوجائے تو اس میں ایمان والوں کو بھی سوار ہونے کا حکم دیں، جب نوح علیہ السلام کشتی بنا چکے تو اللہ پاک نے آسمان سے پانی کو نازل کردیا اور زمین کو بھی پانی ابلنے کا حکم دے دیا، آسمان اور زمین سے آنے والے پانی نے کفار کو نیست و نابود کرریا، یہاں تک کہ جو نوح علیہ السلام کا کافر اور نافرمان بیٹا بھی طوفان میں غرق ہوگیا، پھر اللہ پاک نے حکم دیا کہ اے زمین اپنا پانی نگل لے اور اے آسمان تھم جا؛ چنانچہ پانی خشک ہوگیا اور کشتی کوہ جودی پر آکر ٹہر گئی۔

🔥 پھر اللہ پاک نے قوم عاد کا ذکر کیا جو خود کو اپنے دور کی طاقتور ترین قوم تصور کرتی تھی، ان کے پاس جسمانی طاقت میں بہت زیادہ تھی، ان کا دعوی تھا کہ دنیا میں ہم سے زیادہ طاقتور کوئی نہیں ہوسکتا ، ہود علیہ السلام ان کو اللہ پاک کی توحید کی دعوت دیتے رہے لیکن انہوں نے ہود علیہ السلام کی بات نہیں سنی، ہود علیہ السلام نے ارشاد فرمایا کہ: اے عاد! تم کو اپنی طاقت پر تکبر ہے اگر تم اپنے پروردگار سے بخشش و مغفرت طلب کرو اور اپنے گناہوں کی معافی مانگو تو اللہ پاک تم پر آسمان سے بارش نازل فرمائے گا اور تمہاری قوت میں اور اضافہ کردے گا، لیکن قوم عاد کے لوگ طاقت کے نشے میں بالکل بد مست تھے؛ چنانچہ اللہ پاک نے ایسی طاقتور طوفانی ہوا کو ان پر مس
لط کردیا جس نے قوم عاد کو اکھاڑ کر پھینک دیا اور اپنی طاقت پر ناز کرنے والے زمین پر یوں پڑے تھے جس طرح کٹے ہوئے درخت کے ٹکڑے ہوتے ہیں ۔

🌪️ پھر اللہ پاک نے قومِ ثمود کا ذکر کیا، قوم ثمود کے لوگ بھی اللہ پاک کی توحید کو فراموش کرچکے تھے، صالح علیہ السلام نے ان کو توحید کا درس دیا لیکن وہ اس درس کو قبول کرنے پر آمادہ نہ ہوئے اور انہوں نے صالح علیہ السلام سے اس بات کا تقاضا کیا کہ ان کو کوئی نشانی دکھائی جائے، صالح علیہ السلام نے اللہ پاک سے دعا مانگی تو بستی کی ایک بڑی پہاڑی پھٹی جس سے اونٹنی نکلی اور اونٹنی نے باہر نکلتے ہی بچہ جنم دیا، مگر بستی کے لوگوں نے اتنے بڑے معجزے کو دیکھ کر ایمان لانے کے بجائے اونٹنی کی ٹانگیں کاٹ ڈالیں، اس پر اللہ پاک کا عذاب نازل ہوا اور ان پر ایک چنگھاڑ کو مسلط کر دیا کہ ایک فرشتے نے چیخ ماری اور اس کی وجہ سے بستی کے لوگوں کے دماغ پھٹ گئے۔

🐄 آیت 69 سے ابراہیم اور لوط علیہما السلام کا تذکرہ ہے کہ سادہ رُو، نوجوانوں کی حسین شکلوں میں فرشتے حضرت ابراہیم علیہ السلام  کے پاس حضرت اسحق اور حضرت یعقوب علیھما السلام  کی پیدائش کی خوشخبری لے کر آئے۔ فرشتوں نے سلام کہا تو حضرت ابراہیم  علیہ السلام   نے بھی جواب میں فرشتوں کو سلام کہا، پھر تھوڑی ہی دیر میں حضرت ابراہیم علیہ السلام  ایک بھنا ہوا بچھڑا لے آئے،ابراہیم علیہ السلام نے دیکھا کہ مہمانوں کے ہاتھ بچھڑے کے بھنے ہوئے گوشت کی طرف نہیں بڑھ رہے تو کھانا نہ کھانے کی وجہ سے حضرت ابراہیم علیہ السلام  کو ان سے وحشت ہوئی اور دل میں ان کی طرف سے خوف محسوس کیا کہ کہیں یہ کوئی نقصان نہ پہنچا دیں۔ فرشتوں نے جب حضرت ابراہیم  علیہ السلام  پر خوف کے آثار دیکھے تو انہوں نے کہا : آپ نہ ڈریں کیونکہ ہم فرشتے ہیں اور حضرت لوط علیہ السلام   کی قوم پر عذاب نازل کرنے کے لئے بھیجے گئے ہیں اور فرشتے ہونے کی وجہ سے ہم کھانا نہیں کھارہے تھے۔اور ہم آپ کو اولاد کی خوشخبری دینے آئے ہیں، اللہ پاک آپ کو اسحاق (علیہ السلام) نامی بیٹا عطا فرمائے گا اور یعقوب (علیہ السلام) آپ کے پوتے ہوں گے، تو ابراہیم علیہ السلام کی زوجہ وہیں کھڑی تھیں عورتوں کے انداز گفتگو میں اپنے چہرے پر ہاتھ ماڑتے ہوئے کہنے لگیں کہ میرے اندر تو بظاہر اولاد ہونے کے کوئی امکانات نہیں ہیں اور ابراہیم علیہ السلام بھی بڑی عمر کے ہو چکے ہیں ہمارے یہاں کیسے اولاد ہوسکتی ہے!! تو فرشتوں نے کہا کہ اس میں تعجب اور حیرانی کی بات نہیں، اللہ پاک آپ کے گھرانے پر اپنی رحمتیں اور برکتیں عطا کرنے کا ارادہ فرماتا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔یاد رہے یہ ان کا اعتراض یا رب کی رحمت سے مایوسی نہیں تھی بلکہ تعجب کے طور پر تھا۔

آیت 77 سے اللہ پاک نے قوم لوط کا ذکر فرمایا کہ اس قوم کے لوگ ہم جنس پرستی کا شکار تھے، لوط علیہ السلام نے ان کو سمجھایا کہ وہ اس کام سے اجتناب کریں لیکن وہ لوگ لوط علیہ السلام کی دعوت سے بالکل بھی تبدیل نہ ہوئے، فرشتے لوط علیہ السلام کے پاس خوبصورت انسانوں کی شکلوں میں آئے اور لوط علیہ السلام ان کی آمد پر پریشان ہوئے کہ اب بستی کے لوگ ان نوجوانوں کو اپنی ہوس کا نشانہ نہ بنالیں، قوم کو جب پتا چلا تو وہ برائی کی نیت سے پہنچ گئے جس پر آپ علیہ السلام غمگین ہوگئے، آپ کے غم کو دیکھ کر فرشتوں نے کہا کہ آپ کی قوم ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتی، آپ راتوں رات اپنے گھر والوں کو لے کر تشریف لے جائیں مگر آپ کی بیوی بھی عذاب میں گرفتار ہوگی، پھر اللہ پاک نے ان فرشتوں کو حکم دیا تو فرشتوں نے بستی کو اپنے پروں پر اٹھا کر زمین پر پھینک دیا اور پوری بستی کو پتھروں سے روند ڈالا گیا۔

⚖️ آیت 84 میں اللہ پاک نے قوم مدین کا ذکر کیا جو شرک کے گناہ کے ساتھ ساتھ ناجائز منافع خوری کا شکار تھی ، شعیب علیہ السلام نے انہیں سمجھایا کہ ناپ تول میں کمی نہ کرو مگر انھوں نے شعیب علیہ السلام کی بات نہ مانی ، انہوں نے کہا کہ ہمیں ایسا دین نہیں چاہیے جو انسان کو کاروبار بھی نہ کرنے دے۔ شعیب علیہ السلام نے فرمایا کہ پچھلی قوموں سے تو عبرت حاصل کرو مگر ان میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوئی، اس پر اللہ پاک نے ان پر اسی طرح کی چیخ کو مسلط کردیا جس کے ساتھ قوم ثمود تباہ ہوئی تھی اور یہ لوگ صبح کو اپنے گھروں میں عذاب کی تاب نہ لا کر ایسے الٹے پڑے تھے گویا کہ وہ کبھی زمین پر آباد ہی نہیں ہوئے، اس کے بعد بتایا گیا کہ برائی سے روکنے والے عذاب کی گرفت میں آنے سے محفوظ رہتے ہیں ، فرمایا کہ کیا ہی اچھا ہوتا کہ ہلاک ہونے والی قوموں میں ایک موثر حصہ ایسے لوگوں کا ہوتا جو نافرمانوں کو برائی سے روکتا لیکن ایسے لوگ بہت کم ہوتے ہیں۔

💡آخری آیات میں یاد دہانی کروائی گئی کہ اللہ پاک نے سابقہ رسولوں کے واقعات اس لئے بیان فرمائیے کہ اس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی ہو اور اہل ایمان کے لئے نصیحت ہوجائے اور کافروں کے لیے چیلنج ہے کہ وہ ہمارے رسول علیہ
السلام کے خلاف جو کرسکتے کر گزریں ان کا وہی انجام ہوگا جیسا سابقہ رسولوں کے مخالفین کا ہوا تھا بلکہ اس سے بھی بدتر ہوگا۔
📲 +923212094919
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
📙 فیضان خلاصہ تراویح 📙

✍🏻 ابو بنتین محمد فراز عطاری مدنی

🧭 سورہ یوسف 🌅

سورۂ یوسف مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی اور اس سورت کاشانِ نزول یہ ہے کہ یہودیوں کے علماء نے عرب کے سرداروں سے کہا تھا کہ محمد مصطفٰی  صلی اللہ علیہ وسلم  سے دریافت کرو کہ حضرت یعقوب علیہ السلام کی اولاد ملک ِ شام سے مصر میں کس طرح پہنچی اور اُن کے وہاں جاکر آباد ہونے کا سبب کیا ہوا اور حضرت یوسف علیہ السلام  کا واقعہ کیا ہے؟ اس پر یہ سور ۂ مبارکہ نازل ہوئی۔اس سورت میں 12رکوع اور 111آیتیں ہیں۔   
  
*وجہ*   
اس سورت میں  اللہ پاک کے نبی حضرت یوسف  علیہ السلام  کے حالات ِزندگی اور ان کی سیرتِ مبارکہ کو تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے اس مناسبت سے اس سورت کا نام ’’سورۂ یوسف‘‘ رکھا گیا۔ 

📃 اس سورت میں بڑے منفرد انداز میں یوسف علیہ السلام کا واقعہ بیان ہوا ہے باقی نبیوں کے واقعات مختلف آیات میں مختلف سورتوں اور پاروں میں موجود ہیں لیکن حضرت یوسف علیہ السلام کا واقعہ مکمل طور پر اسی سورت میں بیان کیا گیا ہے، قرآن پاک نے اس قصے کو احسن القصص قرار دیا ہے یعنی واقعات میں سے بہترین سچا قصہ، اس میں جتنی عبرت اور نصیحت پائی جاتی ہے وہ کسی دوسرے قصے میں پائی نہیں جاتی۔اس میں دین، توحید اور شرک کی تردید ہے، سیرت اور خوابوں کی تعبیر ہے، سیاست اور حکومت کے رموز ،انسانی نفسیات، معاشی خوشحالی کی تدبیریں اور زہد و تقویٰ کی مثالیں بھی موجود ہیں۔

🕟 سورت کے شروع میں قرآن کریم کی حقانیت کا بیان ہے پھر یوسف علیہ السلام کے خواب کا ذکر ہے،
مفسرین نے یہ واقعہ یوں بیان کیا ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام  نے خواب دیکھا کہ آسمان سے گیارہ ستارے اترے اور ان کے ساتھ سورج اور چاند بھی ہیں ،ان سب نے آپ کو سجدہ کیا، حضرت یوسف علیہ السلام   نے یہ خواب جمعہ کی رات کو دیکھا اور یہ رات شبِ قدر تھی۔ حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ  فرماتے ہیں ’’خواب میں دیکھے گئے ستاروں کی تعبیر آپ  علیہ السلام کے گیارہ بھائی ہیں اور سورج آپ کے والد اور چاند آپ کی والدہ ہیں۔ آپ کی والدہ ماجدہ کا نام راحیل ہے اورمفسر سدی کا قول ہے کہ چونکہ راحیل کا انتقال ہوچکا تھا اس لئے چاند سے آپ کی خالہ مراد ہیں۔ سجدہ کرنے سے مراد حقیقتاً سجدہ مراد ہے کیونکہ اس زمانہ میں سلام کی طرح سجدۂ تحیت یعنی تعظیم کا سجدہ بھی جائز تھا۔ یعقوب علیہ السلام یوسف علیہ السلام سے بہت محبت کرتے تھے اس لئے یوسف علیہ السلام کے بھائی ان سے حسد کرتے تھے اور یعقوب علیہ السلام یہ بات جانتے تھے اسی وجہ سے آپ علیہ السلام نے یوسف علیہ السلام کو یہ قصہ ان کو بتانے سے منع فرمایا۔آخر کار حسد کی بنا پر بھائیوں نے یوسف علیہ السلام کے قتل کا ارادہ کیا اور اپنے والد کو راضی کرکے انھیں جنگل میں لے گئے، انہیں کنویں میں پھینک کر کپڑوں کو کسی جانور کے خون سے آلودہ کر کے والد کو بتایا کہ ہم جنگل میں کھیلتے رہے اور بھائی کو بھیڑیا کھا گیا، یعقوب علیہ السلام ان کی سازش کو سمجھ گئے اور یوسف علیہ السلام کے فراق میں پریشان رہنے لگے اور آنسو بہاتے رہے، ایک تجارتی قافلے نے یوسف علیہ السلام کو کنویں سے نکال کر مصر کے بازار میں فروخت کردیا، آپ علیہ السلام کی خوبصورتی کے چرچے وہاں ہونے لگے، بادشاہ نے انہیں خرید کر اپنا منہ بولا بیٹا قرار دے دیا اور اس طرح یوسف علیہ السلام کنویں سے نکل کر شاہی محل میں رہنے لگے، شاہ مصر کی بیوی یوسف علیہ السلام پر فریفتہ ہوگئی اور دعوت گناہ دینے لگی، یوسف علیہ السلام نے اپنی پاک دامنی کی حفاظت کی اور آپ علیہ السلام نے اس کو اس کام سے منع کیا، شاہ مصر کو معلوم ہوا تو اس عورت نے یوسف علیہ السلام پر الزام لگا دیا کہ یوسف علیہ السلام طرف سے ابتداء تھی، اللہ پاک نے ایسا کرم کیا کہ اسی خاندان کے اسی گھر میں چھوٹے سے دودھ پیتے بچے سے یوسف علیہ السلام کی پاکدامنی کی گواہی دلوائی،
اس کے بعد یوسف علیہ السلام کو قید میں ڈال دیا گیا، وہاں پر یوسف علیہ السلام کے ساتھ دو قیدی تھے، انہوں نے اپنا یوسف علیہ السلام کو کہا کہ ہم نے خواب دیکھا ہے آپ اس کی تعبیر بتا دیں، آپ علیہ السلام نے خوابوں کی تعبیر بتائیں، ایک سے کہا کہ تم بادشاہ کے دربار میں پہنچو گے اور اپنے آقا کو شراب پلاؤ گے اور دوسرے کو بتایا کہ تم سولی دیے جاؤ گے اور پرندے تمہارا گوشت نوچ کر کھائیں گے، وہ کہنے لگے ہم نے خواب دیکھا ہی نہیں آپ نے فرمایا جو میں نے کہہ دیا وہ ہو کر رہے گا، اور پھر ایسا ہی ہوا، ایک آزاد ہو کر اپنے بادشاہ کے دربار تک پہنچا اور دوسرا سولی کا شکار ہوگیا، آپ علیہ السلام نے آزاد ہونے والے کو کہا کہ تم باہر نکل کر اپنے بادشاہ سے میرے حوالے سے بات کرنا، کچھ دنوں کے بعد بادشاہ نے خواب دیکھا کہ سات تندرست گائیں سات دبلی گائیں کھا رہی ہیں اور سات سرسبز بالیاں ہیں اور سات خشک ہیں، بادشاہ نے اپنے درباریوں سے خواب کی تعبیر پوچھی لیکن وہ
بتا نہیں سکے، وہ قیدی تھا وہیں کا درباری تھا، اس کےذہن میں آیا کہ یوسف علیہ السلام خوابوں کی تعبیر جانتے ہیں، اس نے بادشاہ کو بتایا تو بادشاہ نے ان کے پاس لوگوں کو بھیجا ، آپ. علیہ السلام نےفرمایا کہ سات سال خوشحالی کے ہونگے پھر سات سال قحط سالی کے ہونگے تمہیں چاہیے کہ خوشحالی کے سات سالوں میں اناج کو خوشوں میں رکھنا تاکہ خشک سالی میں تمہارے کام آئیں، خواب کی صحیح تعبیر بتانے کی وجہ سے آپ بادشاہ کی نظروں میں آگئے، بادشاہ نے آپ کی رہائی کا فیصلہ کردیا مگر آپ نے کہا کہ میرے معاملے میں تحقیقات کی جائیں، مجھے غلط طریقے سے جیل میں ڈالا گیا ہے، تو تحقیقات کروائی گئیں، جس پر انہیں بے گناہ قرار دیا گیا، آپ نے ارشاد فرمایا میری پاکدامنی کا براہ راست اعلان کیا جائے پھر آپ کو وہاں سے نکالا گیا اور آپ بادشاہ کے دربار میں تشریف لائے۔
باقی حصہ اگلے پارے میں بیان کیا جائے گا مگر چند باتیں عرض کردوں۔
ان آیات میں ذکر کئے گئے واقعے سے متعلق بحث کرنے سے بچنا ہر مسلمان کے لئے ضروری ہے کیونکہ معاملہ اللہ کے پیارے نبی کی عصمت کا ہے اور بحث کرنا کہیں ایمان کی بربادی کا سبب نہ بن جائے ۔   
دوسرا یہ کہ یوسف علیہ السلام کے بھائی تائب ہو چکے تھے اور یعقوب علیہ السلام نے ان کے لیے دعائے مغفرت بھی، لہذا یوسف علیہ السلام کے بھائیوں کے حوالے سے کوئی زبان درازی کرنے کی اجازت نہیں،
تیسرا یہ کہ یوسف علیہ السلام پاک دامن تھے آپ کی طرف سے کوئی بھی ایسی پیش قدمی نہیں ہوئی تھی بلکہ اس عورت کی طرف سے یہ معاملہ کیا گیا تھا اور پھر وہ بھی تائب ہوگئی پھر آپ علیہ السلام کا اس خاتون سے نکاح ہوا، ان کی اولاد بھی ہوئی۔
موبائل نمبر 📱 +923212094919