ملی خدمات:
تحریک ہجرت ہو یا تحریک خلافت ، تحریک انجمن ہلال احمر ہو یا تحریک مسجد منزل گاہ ، تحریک ترک موالات ہویا تحریک پاکستان آپ نے ہر سیاسی اور مذہبی تحریک میں بھر پور کردار ادا کیا۔ انجمن ہلال احمر کے لئے صرف مٹیاری سے بارہ ہزار روپے جمع کروایا۔ انجمن خدام کعبہ کی تحریک کے لئے تمام سندھ سے ہزاروں روپے جمع کرکے بمبئی علی برادران کو بھیجوایا آپ ایک عرصہ تک جمعیت علمائے ہند کے سر کردہ رہنما رہے لیکن جب علماء اہل سنت نے جمعیت سے استعفی دیا تو آپ بھی مستعفی ہو گئے تھے ۔ آپ نے ہندوؤں کے بائیکاٹ کا اعلان کر دیا۔ ہندوو ں کے کچھ قرض آپ کے ذمہ تھے انہوں نے کہا کہ اگر آپ کانگریس میں شامل ہو جائیں تو ہم تمام قرضہ معاف کر دیں گے ورنہ ڈگری جاری کروادیں گے اس کے جواب میں آپ نے اپنی زمین فروخت کرکے ان کے قرضے اتار دیئے مگر اپنے ایمان کا سودانہ کیا۔
تحریک پاکستان میں مسلم لیگ کی آپ نے ہر طرح سے بھر پور مدد کی اور اس کی ترقی کے لئے بھر چونڈی شریف کے پیرمولاناعبدالرحمن قادری اور عبدالرحیم شہید کے ہمراہ آپ نے پورے سندھ کا دورہ کیا۔ آپ نے اپنی ساری زندگی ر شدو ہدایت اور تبلیغ میں گزاری ہر مذہبی تحریک میں آپ پیش پیش نظر آتے تھے۔ مسجد کانپور کا جھگڑا ہوا تو مولانا محمد علی جوہر نے تار دےکر آپ کو بلایا آپ فوراً کانپور پہنچے اورفیصلہ ہونے تک وہیں رہے اور ڈٹ کر حکومت وقت کا مقابلہ کیا۔
پاکستان بننے کے بعد ہندوستان سے مہاجرین کی آمد پر آپ نے اپنا گھر خالی کر دیا اور اس میں ان کو بسایا حتیٰ کے سونے کیلئے بستر اور کھانے پینے کے برتن تک ان کے استعمال کیلئے دے دیئے ۔ ان کے لئے مکانوں کا بندوبست فرمایا ان کو رہائش کے لئے سہولتیں مہیا کیں ۔حیدر آباد میں سب سے پہلے "سلاوٹ پارے سے عید میلاد النبی ﷺ کے جلوس "کی ابتدا آپ ہی نے فرمائی ۔ حیدر آباد شہر کی سب سے بڑی جامع مسجد آزاد میدان کی بنیاد بھی حضرت مفتی محمد محمود الوری کے ساتھ مل کر آپ ہی نے رکھی اور اس کی پہلی کمیٹی کے سب سے پہلے صدر بھی آپ ہی تھے۔الغرض آپ کی تمام زندگی ایک مجاہدانہ زندگی تھی۔خطۂ باب الاسلام سندھ آپ کی برکت وروحانیت سےفیض یاب ہوا۔
تاریخِ وصال:
آپ کاوصال بروز منگل صبح نو بجے 16 جمادی الاخری 1377ھ / مطابق 7 جنوری 1958ء کو حیدر آباد میں ہوا ۔ پھر آپ کو حسبِ وصیت "مٹیاری" میں سپردِ خاک کیا گیا ۔
وفات سے قبل اپنے جد امجد خواجہ ضیاء الحق کے یہ اشعار آپ کے وردِ زبان تھے ۔
بصدیقیت خریدارم عمر را دوست میں دارم
چہارم حیدر صفدر کہ باشد ساقی کوثر
فدا سازم دل و جاں را بعثمان یارسول اللہ
اما ماں را شوم چاکر بایقاں یارسول اللہ
ماخذ و مراجع:
انوار علمائے اہلسنت سندھ ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-peer-ghulam-jan-mujaddadi-sirhandi
تحریک ہجرت ہو یا تحریک خلافت ، تحریک انجمن ہلال احمر ہو یا تحریک مسجد منزل گاہ ، تحریک ترک موالات ہویا تحریک پاکستان آپ نے ہر سیاسی اور مذہبی تحریک میں بھر پور کردار ادا کیا۔ انجمن ہلال احمر کے لئے صرف مٹیاری سے بارہ ہزار روپے جمع کروایا۔ انجمن خدام کعبہ کی تحریک کے لئے تمام سندھ سے ہزاروں روپے جمع کرکے بمبئی علی برادران کو بھیجوایا آپ ایک عرصہ تک جمعیت علمائے ہند کے سر کردہ رہنما رہے لیکن جب علماء اہل سنت نے جمعیت سے استعفی دیا تو آپ بھی مستعفی ہو گئے تھے ۔ آپ نے ہندوؤں کے بائیکاٹ کا اعلان کر دیا۔ ہندوو ں کے کچھ قرض آپ کے ذمہ تھے انہوں نے کہا کہ اگر آپ کانگریس میں شامل ہو جائیں تو ہم تمام قرضہ معاف کر دیں گے ورنہ ڈگری جاری کروادیں گے اس کے جواب میں آپ نے اپنی زمین فروخت کرکے ان کے قرضے اتار دیئے مگر اپنے ایمان کا سودانہ کیا۔
تحریک پاکستان میں مسلم لیگ کی آپ نے ہر طرح سے بھر پور مدد کی اور اس کی ترقی کے لئے بھر چونڈی شریف کے پیرمولاناعبدالرحمن قادری اور عبدالرحیم شہید کے ہمراہ آپ نے پورے سندھ کا دورہ کیا۔ آپ نے اپنی ساری زندگی ر شدو ہدایت اور تبلیغ میں گزاری ہر مذہبی تحریک میں آپ پیش پیش نظر آتے تھے۔ مسجد کانپور کا جھگڑا ہوا تو مولانا محمد علی جوہر نے تار دےکر آپ کو بلایا آپ فوراً کانپور پہنچے اورفیصلہ ہونے تک وہیں رہے اور ڈٹ کر حکومت وقت کا مقابلہ کیا۔
پاکستان بننے کے بعد ہندوستان سے مہاجرین کی آمد پر آپ نے اپنا گھر خالی کر دیا اور اس میں ان کو بسایا حتیٰ کے سونے کیلئے بستر اور کھانے پینے کے برتن تک ان کے استعمال کیلئے دے دیئے ۔ ان کے لئے مکانوں کا بندوبست فرمایا ان کو رہائش کے لئے سہولتیں مہیا کیں ۔حیدر آباد میں سب سے پہلے "سلاوٹ پارے سے عید میلاد النبی ﷺ کے جلوس "کی ابتدا آپ ہی نے فرمائی ۔ حیدر آباد شہر کی سب سے بڑی جامع مسجد آزاد میدان کی بنیاد بھی حضرت مفتی محمد محمود الوری کے ساتھ مل کر آپ ہی نے رکھی اور اس کی پہلی کمیٹی کے سب سے پہلے صدر بھی آپ ہی تھے۔الغرض آپ کی تمام زندگی ایک مجاہدانہ زندگی تھی۔خطۂ باب الاسلام سندھ آپ کی برکت وروحانیت سےفیض یاب ہوا۔
تاریخِ وصال:
آپ کاوصال بروز منگل صبح نو بجے 16 جمادی الاخری 1377ھ / مطابق 7 جنوری 1958ء کو حیدر آباد میں ہوا ۔ پھر آپ کو حسبِ وصیت "مٹیاری" میں سپردِ خاک کیا گیا ۔
وفات سے قبل اپنے جد امجد خواجہ ضیاء الحق کے یہ اشعار آپ کے وردِ زبان تھے ۔
بصدیقیت خریدارم عمر را دوست میں دارم
چہارم حیدر صفدر کہ باشد ساقی کوثر
فدا سازم دل و جاں را بعثمان یارسول اللہ
اما ماں را شوم چاکر بایقاں یارسول اللہ
ماخذ و مراجع:
انوار علمائے اہلسنت سندھ ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-peer-ghulam-jan-mujaddadi-sirhandi
❤1
حضرت سید صدر الدین المعروف راجن قتال بخاری سہروردی رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: سید صدر الدین ۔ لقب: راجو قتال ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت صدر الدین راجن قتال سہروردی بن سید احمد کبیر بخاری سہروردی بن حضرت سید مخدوم جلال الدین سرخ بخاری بن سید ابو المؤید علی بن سید جعفر حسینی بن سید محمود بن سید احمد بن سید عبد اللہ بن سید علی اصغر بن سید جعفر ثانی بن امام محمد نقی رحمۃ اللہ علیہم اجمعین ۔
آپ کا تعلق سادات بخارا سے ہے ۔ آپ حضرت سید جلال الدین سرخ پوش بخاری کے پوتے، اور حضرت مخدوم جہانیاں جہاں گشت کے برادرِ اصغر ہیں ۔
لقب کی وجہ تسمیہ:
آپ راجن قتال کے لقب سے مشہور ہیں۔آپ کے لقب راجن کی وجہ تسمیہ یہ بیان کی جاتی ہے۔کہ تمام اہل شہر کے دلوں پر آپ کی روحانی حکومت کا سکہ بیٹھا ہوا تھا۔اور اوچ شریف اور گردونواح کے لوگ خود کو آپ کی رعایا کہلوانے میں فخر محسوس کرتے تھے۔اس لیے راجن (یعنی بادشاہ)آپ کا لقب پڑگیا جو آپ کے نام کا حصہ بن گیا۔قتال بمعنیٰ لڑنا۔کثرتِ مجاہدات وریاضات اورمخالفتِ نفس کی وجہ سےقتال مشہورہیں۔اسی طرح خداکےدشمنوں پرسختی کی وجہ سےاس لقب سےملقب ہوئے۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 26/شعبان المعظم 730ھ،مطابق جولائی/1330ءکوسلطان العاشقین حضرت سید احمد کبیر بخاری سہروردی علیہ الرحمۃ کے گھر اوچ شریف تحصیل احمد پور شرقیہ ضلع بہاولپور میں ہوئی۔
تحصیل علم:
آپ نے ابتدائی تعلیم و تربیت اپنے والدگرامی حضرت سید احمد کبیر سہروردی بخاری علیہ الرحمۃ سے مکمل کی اور ظاہری علوم کی تکمیل کے بعد اپنے برادربزرگوار حضرت سید مخدوم جہانیاں سہروردی علیہ الرحمۃ کی صحبت سے فیض یاب ہوئے۔جنہوں نے آپ کی روحانی تربیت مکمل کی اور سلوک و معرفت کی منازل طے کرائیں۔آپ کے بارے حضرت سید مخدوم جہانیاں جہاں گشت علیہ الرحمۃ اکثر فرمایا کرتے تھے: کہ خالق ِحقیقی نے ہم کو امور خلقت میں مشغول کیا اوربردار عزیز صدر الدین رحمۃ اللہ علیہ کو اپنی ذات کے عشق میں مستغرق رکھا ہے آپ انتہائی سیف زبان تھے۔ زبان ترجمان سے جو فرماتے ویسا ہی ہوکے رہتا تھا۔
بیعت و خلافت:
آپ سلسلہ عالیہ سہروردیہ میں اپنے والدبزرگوار حضرت سید احمد کبیر بخاری سہروردی علیہ الرحمہ سے مریدہوئےاور خلافت ملی۔اس کے علاوہ اپنے بڑے بھائی حضرت سیدمخدوم جہانیاں جہاں گشت سہروردی علیہ الرحمۃ سے بھی آپ کو خرقہ خلافت و اجازت حاصل تھا۔
سیرت و خصائص:
متصرف بہ تصرفات،صاحب کشف و کرامات ،غریق در بحر توحید و معرفت،خورشید ولایت، پیشوائے اہل کمال،حضرت مخدوم سید صدر الدین بخاری المعروف راجو قتال سہروردی رحمۃ اللہ علیہ ۔آپ انتہا درجہ کے متقی و پرہیز گاراورپابندِشریعت بزرگ ہوئے ہیں۔ہمہ وقت عبادت و ریاضت و مجاہد میں مست و مستغرق رہتے تھے۔ آپ کے متعلق مشہور ہے کہ حد سے زیادہ مجاہد ۂ نفس اورعبادت وزہد اورادو وظائف پرسختی سےعمل پیرا ہونے کی وجہ سے طبیعت میں شان جلالی پیدا ہوگئی تھی۔اگر کوئی شخص طریقت و شریعت کی ذراسی بھی خلاف ورزی کرتا ہوا پایا جاتا تو آپ سختی سے اس کا محاسبہ فرماتے تاوقتیکہ وہ توبہ نہ کرلے۔
نام و نسب:
اسمِ گرامی: سید صدر الدین ۔ لقب: راجو قتال ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت صدر الدین راجن قتال سہروردی بن سید احمد کبیر بخاری سہروردی بن حضرت سید مخدوم جلال الدین سرخ بخاری بن سید ابو المؤید علی بن سید جعفر حسینی بن سید محمود بن سید احمد بن سید عبد اللہ بن سید علی اصغر بن سید جعفر ثانی بن امام محمد نقی رحمۃ اللہ علیہم اجمعین ۔
آپ کا تعلق سادات بخارا سے ہے ۔ آپ حضرت سید جلال الدین سرخ پوش بخاری کے پوتے، اور حضرت مخدوم جہانیاں جہاں گشت کے برادرِ اصغر ہیں ۔
لقب کی وجہ تسمیہ:
آپ راجن قتال کے لقب سے مشہور ہیں۔آپ کے لقب راجن کی وجہ تسمیہ یہ بیان کی جاتی ہے۔کہ تمام اہل شہر کے دلوں پر آپ کی روحانی حکومت کا سکہ بیٹھا ہوا تھا۔اور اوچ شریف اور گردونواح کے لوگ خود کو آپ کی رعایا کہلوانے میں فخر محسوس کرتے تھے۔اس لیے راجن (یعنی بادشاہ)آپ کا لقب پڑگیا جو آپ کے نام کا حصہ بن گیا۔قتال بمعنیٰ لڑنا۔کثرتِ مجاہدات وریاضات اورمخالفتِ نفس کی وجہ سےقتال مشہورہیں۔اسی طرح خداکےدشمنوں پرسختی کی وجہ سےاس لقب سےملقب ہوئے۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 26/شعبان المعظم 730ھ،مطابق جولائی/1330ءکوسلطان العاشقین حضرت سید احمد کبیر بخاری سہروردی علیہ الرحمۃ کے گھر اوچ شریف تحصیل احمد پور شرقیہ ضلع بہاولپور میں ہوئی۔
تحصیل علم:
آپ نے ابتدائی تعلیم و تربیت اپنے والدگرامی حضرت سید احمد کبیر سہروردی بخاری علیہ الرحمۃ سے مکمل کی اور ظاہری علوم کی تکمیل کے بعد اپنے برادربزرگوار حضرت سید مخدوم جہانیاں سہروردی علیہ الرحمۃ کی صحبت سے فیض یاب ہوئے۔جنہوں نے آپ کی روحانی تربیت مکمل کی اور سلوک و معرفت کی منازل طے کرائیں۔آپ کے بارے حضرت سید مخدوم جہانیاں جہاں گشت علیہ الرحمۃ اکثر فرمایا کرتے تھے: کہ خالق ِحقیقی نے ہم کو امور خلقت میں مشغول کیا اوربردار عزیز صدر الدین رحمۃ اللہ علیہ کو اپنی ذات کے عشق میں مستغرق رکھا ہے آپ انتہائی سیف زبان تھے۔ زبان ترجمان سے جو فرماتے ویسا ہی ہوکے رہتا تھا۔
بیعت و خلافت:
آپ سلسلہ عالیہ سہروردیہ میں اپنے والدبزرگوار حضرت سید احمد کبیر بخاری سہروردی علیہ الرحمہ سے مریدہوئےاور خلافت ملی۔اس کے علاوہ اپنے بڑے بھائی حضرت سیدمخدوم جہانیاں جہاں گشت سہروردی علیہ الرحمۃ سے بھی آپ کو خرقہ خلافت و اجازت حاصل تھا۔
سیرت و خصائص:
متصرف بہ تصرفات،صاحب کشف و کرامات ،غریق در بحر توحید و معرفت،خورشید ولایت، پیشوائے اہل کمال،حضرت مخدوم سید صدر الدین بخاری المعروف راجو قتال سہروردی رحمۃ اللہ علیہ ۔آپ انتہا درجہ کے متقی و پرہیز گاراورپابندِشریعت بزرگ ہوئے ہیں۔ہمہ وقت عبادت و ریاضت و مجاہد میں مست و مستغرق رہتے تھے۔ آپ کے متعلق مشہور ہے کہ حد سے زیادہ مجاہد ۂ نفس اورعبادت وزہد اورادو وظائف پرسختی سےعمل پیرا ہونے کی وجہ سے طبیعت میں شان جلالی پیدا ہوگئی تھی۔اگر کوئی شخص طریقت و شریعت کی ذراسی بھی خلاف ورزی کرتا ہوا پایا جاتا تو آپ سختی سے اس کا محاسبہ فرماتے تاوقتیکہ وہ توبہ نہ کرلے۔
❤1
آپ خدا کی ذات میں اس قدر مست و مستغرق تھے اس کے سوا کسی کو جانتے نہ تھے۔ مخلوق سےبالکل کنارہ کش رہتے تھے۔آپ کی تربیت وصحبت سے کئی افرادفسق وفجورسےتائب ہوکرتقویٰ والی زندگی گزارنےلگے۔شیخ سارنگ کےبارےمیں آتاہےانہوں نےآپ سےکہاحضرت !مجھے اپنےکھانےسےبچا ہواروٹی کاٹکڑاعنایت فرمائیں میں بطورِ تبرک تناول کروںگا۔آپ نےفرمایا:تم نمازِپنجگانہ کی پابندی کاوعدہ کروہم تبرک کاوعدہ کرتےہیں۔جب وہ نمازی بن گئے توآپ نےفرمایا:آگرآپ اشراق چاشت کاوعدہ کریں تو ہم اپنےساتھ تمہیں کھاناکھلائیں گے۔اللہ اکبر۔کیانیکی کاجذبہ تھا۔صرف اس کوتبرک دیکرتھپکی نہ دی بلکہ اس کونمازی وکامل بناکرچھوڑا۔
(کاش! آج کےجانشین اپنےآباؤاجدادکےسچےوارث بن جائیں،اوران کےمشن کوفروغ دیں،چاپلوس،مفادپرست وبےنمازی مریدین کےظاہروباطن کونورِاسلام وایقان سےمنورفرماکرصرف ایک سچامسلمان بنادیں۔مزارات پرغیرشرعی افعال کےروک تھام کےلئےاپناکرداراداکریں۔آج ان ناخلف سجادوں کی وجہ سےان نفوسِ قدسیہ کےخلاف بدمذہبوں کوپروپیگنڈےکاموقع مل گیاہے۔کل جن اکابر کی تبلیغ سےلوگ مسلمان ہوتےتھے،جن کانام علم وتقویٰ کااستعارہ ہوتاتھا۔آج انہیں کےسجادوں کی نااہلی وبےعلمی وبےعملی کی وجہ سےبدمذہب سادہ لوح مسلمانوں کوگمراہ کررہےہیں۔تونسوی غفرلہ)
اسی طرح حضرت شیخ صدرالدین علیہ الرحمہ غیرمسلموں کےاسلام پربہت حریص تھے۔جس پرنظررکھتےتھے جب تک وہ اسلام قبول نہ کرلےتااس کےپیچھےلگےرہتے۔ آپ کے بارے میں مشہور ہے کہ آپ نے اپنی نگاہ ِولایت وتربیت سےتین لاکھ چالیس ہزارغیرمسلموں کو کلمہ پڑھا کر مشرف بااسلام کیا تھا۔(یادگارسہروردیہ:231)
تاریخِ وصال: آپ کاوصال 16/جمادی الاخریٰ 827ھ،مطابق مئی/1424ءکواہوا۔مزار پر انوار اوچ شریف تحصیل احمد پور شرقیہ ضلع بہاولپور میں مرجع ِخلائق عام ہے۔
ماخذومراجع: انسائیکلوپیڈیااولیاءکرام جلد5۔یادگارسہروردیہ۔اخبارالاخیار۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-abul-fazl-sadruddin-muhammad-raju
(کاش! آج کےجانشین اپنےآباؤاجدادکےسچےوارث بن جائیں،اوران کےمشن کوفروغ دیں،چاپلوس،مفادپرست وبےنمازی مریدین کےظاہروباطن کونورِاسلام وایقان سےمنورفرماکرصرف ایک سچامسلمان بنادیں۔مزارات پرغیرشرعی افعال کےروک تھام کےلئےاپناکرداراداکریں۔آج ان ناخلف سجادوں کی وجہ سےان نفوسِ قدسیہ کےخلاف بدمذہبوں کوپروپیگنڈےکاموقع مل گیاہے۔کل جن اکابر کی تبلیغ سےلوگ مسلمان ہوتےتھے،جن کانام علم وتقویٰ کااستعارہ ہوتاتھا۔آج انہیں کےسجادوں کی نااہلی وبےعلمی وبےعملی کی وجہ سےبدمذہب سادہ لوح مسلمانوں کوگمراہ کررہےہیں۔تونسوی غفرلہ)
اسی طرح حضرت شیخ صدرالدین علیہ الرحمہ غیرمسلموں کےاسلام پربہت حریص تھے۔جس پرنظررکھتےتھے جب تک وہ اسلام قبول نہ کرلےتااس کےپیچھےلگےرہتے۔ آپ کے بارے میں مشہور ہے کہ آپ نے اپنی نگاہ ِولایت وتربیت سےتین لاکھ چالیس ہزارغیرمسلموں کو کلمہ پڑھا کر مشرف بااسلام کیا تھا۔(یادگارسہروردیہ:231)
تاریخِ وصال: آپ کاوصال 16/جمادی الاخریٰ 827ھ،مطابق مئی/1424ءکواہوا۔مزار پر انوار اوچ شریف تحصیل احمد پور شرقیہ ضلع بہاولپور میں مرجع ِخلائق عام ہے۔
ماخذومراجع: انسائیکلوپیڈیااولیاءکرام جلد5۔یادگارسہروردیہ۔اخبارالاخیار۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-abul-fazl-sadruddin-muhammad-raju
❤1
حضرت شیخ محمد بن مصطفیٰ رفیقی (کشمیر) رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
شیخ محمد بن مصطفیٰ بن معین الحق والملۃ والدین رفیقی: ابو الرضا کنیت تھی، ۱۱۵۴ھ میں پیدا ہوئے۔
امام فاضل، فقیہ محدث، مفسر اور صوفی عارف تھے۔علوم معقول و منقول اپنے نانا مولانا مقیم السنہ ٹوپیگر اوراور ماموں اور خسر اولیٰ علامۃ الوریٰ نور الہدےٰ ٹوپیگر و سے اخذ کیے اور حدیث کو اپنے چچا اور باپ سے سنا اور کل معارف کو حاصل کیا اور عوارف کو درس شیخ ابی نعمت اللہ اشرف بن رضا ٹوپیگر و اپنے خسر ثانی سے پڑھا اور بہت سے لوگوں نے آپ سے استفادہ کیا۔تصوف میں بہت سے رسالے لکھے اور چار شنبہ کے روز ۱۶؍ماہ جمادی الآخریٰ ۱۲۲۸ھ میں وفات پائی۔’’صاحبِ تصنیفات کاملہ‘‘ آپ تاریخ وفات ہے ۔
( حدائق الحنفیہ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-muhammad-bin-mustafa-rafeeqi
شیخ محمد بن مصطفیٰ بن معین الحق والملۃ والدین رفیقی: ابو الرضا کنیت تھی، ۱۱۵۴ھ میں پیدا ہوئے۔
امام فاضل، فقیہ محدث، مفسر اور صوفی عارف تھے۔علوم معقول و منقول اپنے نانا مولانا مقیم السنہ ٹوپیگر اوراور ماموں اور خسر اولیٰ علامۃ الوریٰ نور الہدےٰ ٹوپیگر و سے اخذ کیے اور حدیث کو اپنے چچا اور باپ سے سنا اور کل معارف کو حاصل کیا اور عوارف کو درس شیخ ابی نعمت اللہ اشرف بن رضا ٹوپیگر و اپنے خسر ثانی سے پڑھا اور بہت سے لوگوں نے آپ سے استفادہ کیا۔تصوف میں بہت سے رسالے لکھے اور چار شنبہ کے روز ۱۶؍ماہ جمادی الآخریٰ ۱۲۲۸ھ میں وفات پائی۔’’صاحبِ تصنیفات کاملہ‘‘ آپ تاریخ وفات ہے ۔
( حدائق الحنفیہ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-muhammad-bin-mustafa-rafeeqi
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
حضرت سیّد شمس الدین عارف رحمۃ اللہ تعالیٰ عنہ
مولف کتاب آئینہ تصوف کے مطابق حضرت سیّد شمس الدین عارف رحمتہ اللہ علیہ کی ولادت با سعادت ۱۶ جمادی الثانی ۸۲۴ ہجری بروز چار شنبہ بوقت دوپہر پشاور میں ہوئی۔
حضرت سیّد شمس الدین رحمتہ اللہ علیہ ۱۷ رجب المرجب ۸۴۹ ہجری کو بروز چار شنبہ مغرب کے وقت حضرت سیّد شاہ گدا رحمٰن بن ابی الحسن رحمتہ اللہ علیہ سے کوہ جموں میں خلافت حاصل کی۔
حضرت سیّد شمس الدین رحمتہ اللہ علیہ ۶ صفرالمظفّر ۹۹۴ ہجری کو اس دار فانی سے رخصت ہوئے۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ کا مزارِ اقدس طبرستان میں ہے۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-shamsuddin-arif
مولف کتاب آئینہ تصوف کے مطابق حضرت سیّد شمس الدین عارف رحمتہ اللہ علیہ کی ولادت با سعادت ۱۶ جمادی الثانی ۸۲۴ ہجری بروز چار شنبہ بوقت دوپہر پشاور میں ہوئی۔
حضرت سیّد شمس الدین رحمتہ اللہ علیہ ۱۷ رجب المرجب ۸۴۹ ہجری کو بروز چار شنبہ مغرب کے وقت حضرت سیّد شاہ گدا رحمٰن بن ابی الحسن رحمتہ اللہ علیہ سے کوہ جموں میں خلافت حاصل کی۔
حضرت سیّد شمس الدین رحمتہ اللہ علیہ ۶ صفرالمظفّر ۹۹۴ ہجری کو اس دار فانی سے رخصت ہوئے۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ کا مزارِ اقدس طبرستان میں ہے۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-shamsuddin-arif
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
15-06-1445 ᴴ | 29-12-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
16-06-1445 ᴴ | 30-12-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1