🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.87K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.81K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
15-06-1445 ᴴ | 29-12-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
15-06-1445 ᴴ | 29-12-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
زبدۃ السالکین الحاج میاں محمد حسین قادری نقشبندی مجددی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

ولادت:
زبدۃ الاصفیاء حضرت الحاج میں محمد حسین قادری نقشبندی ابن کرم الٰہی رحمہا اللہ تعالیٰ) ۹ محرم الحرام / ۲۰نومبر بروز سہ شنبہ (۱۳۰۰ھ؍۱۸۸۲ء) موضع جھگیاں ناگردہ مضافات لاہور میں پیدا ہوئے ـ

والد ماجد نے ہوش سنبھالنے پر تعمیر سیرت پر پوری توجہ دی، ایک دن میاں محمد حسین کپاس کا پھول توڑ لائے،والد گرامی کو پتہ چلا تو خوب تواضع کی اور زمیند ار کے پاس جا کر فرمایا اس بچے نے تمہارے کھیت سے ایک پھور توڑلیا ہے،اب تمہاری مرضی ہے چاہو تو قیمت لے لو اور چا ہو تو معاف کردو۔ میں صاحب فرمایا کرتے تھے مجھے یاد نہیں کہ اس کے بعد مجھ سے کوئی اسی حرکت سرزد ہوئی ہو قرآن مجید والد ماجد سے پڑھا اور قصبہ ڈھولن وال میں پرائمری تک تعلیم حاصل کی ۔

ابتدائی تعلیم کے بعد حضرت پیر عبد الغفار شاہ قدس سرہ ’’حامی اشاعت درود شریف‘‘امام مسجد تکیہ سادھواںکے حلقۂ درس میں شامل ہوئے اور فارسی کی مروجہ کتب گلستاں،بوستاں وغیرہ پڑھیں،اس کے بعد حضرت مولانا حافظ فتح محمد بانی جامعہ فتحیہ اچھرہ (لاہور) کی خدمت میں حاضر ہو کر تین سال تک کسب فیض کیا اور مالابدمنہ مفتاح الصلوٰۃ،اخلاق جلالی اور زیلخا جامی وغیرہ کتابیں پڑھیں،ان کے زہد و اتقاء اور اتباع شریعت سے اس قدر متاثر ہوئے کہ ان کے ست اقدس پر بیعت ہوئے۔ طلب علم کے ساتھ ساتھ مجاہدات میں مصروف رہے اور سلوک و عرفان کی منزلیں طے کیں ۔ میاں محمد حسین رحمہ اللہ تعالیٰ کو اپنے مرشد کامل سے والہانہ محبت تھی، ان کے ارشادات کو تمام عمر حرزجاں بنائے رکھا ۔

ان کے وصال کے بعد حضرت مولانا مفتی عبد العزیز خطیب جنازہ گاہ مرتگ (لاہور) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور قدوری،منتیہ المصلی،کنز الدقائق، شرح وقایہ اور تفسیر حسینی وغیرہ کتب پر عبور حاصل کیا،مولانا نور الدین ابن مولانا غلام قادر شائق (رحمہا اللہ تعالیٰ) اونچی مسجد پاپڑ منڈی (اندرون شاہ عالم مارکیٹ) سے فن خوشنویسی حاسل کیا اور اس فن لطیف میں صاحب کمال ہوئے ۔

حضرت میاں محمد حسین رحمہ اللہ تعالیٰ قریباً بیس سال تک اچھرہ میں مختلف بھٹوں پر منشی گیری کرتے رہے پھر ملازمت کو چھوڑکر علوم دینیہ کی تدریس کا سلسلہ شروع کیا۔یہ مشغلہ آخر تک جاری رہا ۔ آپ کو اولیاء کرام سے بے پناہ عقیدت تھی، دوردراز کا سفر طے کر کے ان کی زیارت سے مشرف ہوتے۔کتب دینیہ میں سے کتب تصوف سے خاص لگاؤ رکھتے تھے، لباس اور خوراک میں سادگی پسند تھے ۔ ہر کام میں سنت مبارکہ کی پیروی کو پیش نظر رکھتے، غیر مشروع اور قبیح رسوم سے سخت متنفر تھے اور ان کو ختم کرنے کے لئے ہر طرح کوشش فرماتے، صبح سے شام تک ذکر و فکر میں مصرور رہتے، جسمانی اور روحانی امراض کے مریض آپ کی توجہ، دعا اور دم سے بفضلہ تعالیٰ شفا یاب ہو جاتے ۔ ۱۹۴۷ء میں حرمین شریفین کی زیارت سے مشرف ہوئے، واپسی پر پیٹ کا تکلیف کا عارضہ لاحق ہوا جو آخر تک دور نہ ہوا ۔

حضرت میاں محمد حسین رحمہ اللہ تعالیٰ ۱۶ جمادی الاخریٰ / ۲۸ دسمبر (۱۳۷۸ھ؍۱۹۵۸ء) رات کو ساڑھے بارہ بجے راہئی دار آخرت ہوئے ۔ موضع جھگیاں ناگرہ ڈاک خانہ ڈھولن وال، ملتان روڈ (لاہور) کی مسجد میں آپ کی آخری آرام گاہ بنی ۔ ہرسال ۱۶ جمادی الاخریٰ کو آپ کا عرس منایا جاتا ہے جس میں وعـظ نصیحت کے علاوہ ایصل ثواب کا اہتمام کیا جاتا ہے ۔

مولانا پیر غلام دستگیر نامی نے تاریخ وفات کہی ہے ؎

تھے نام محمد سے حسین ایک جو موسوم
دل جن کا تھا اللہ کے اذکار سے مشحون

مسجد ہی میں مشغول عبادت رہے تا عمر
جاں دے کے ہوئے گوشۂ مسجد میں وہ مدفون

نامی نے کہ سر انکار یہ تاریخ

’’حاجی ہوئے مغفور‘‘ سنو عالم مخزون ۱۔۱۳۷۸ھ[1]

حضرت میاں صاحب سے تین فرزند یاد گار ہیں:۔

۱۔ جناب حکیم محمد اکرم صاحب۔
۲۔ جناب الحاج محمد اعظم خوشنویس۔
۳۔ ہمارے کرم فرما،صاحب علم و ادب محمد عالم مختار حق مدظلہٗ

حضرت میاں صاحب کے صاحبزادگان نے نقوش جمیل کے نام سے اپنے والد گرامی کے مختصر حالات شائع کر دئے ہیں ۔

[1] محمد عالم مختار حق: نقوش جمیل،مطبوعہ ۱۹۵۹ء

( تذکرہ اکابرِ اہلسنت )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-alhaj-mian-muhammad-hussain-qadri-naqshbandi
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت مولانا پیر غلام مجدد سرہندی رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
اسمِ گرامی:
پیر غلام جان مجددی ۔ لقب: مجددی، سرہندی ۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
علامہ مولانا پیر غلام مجدد بن عبد الحلیم بن عبد الرحیم بن خواجہ محمد ضیاء الحق بن خواجہ غلام نبی بن خواجہ غلام حسن بن خواجہ غلام محمد بن خواجہ غلام معصوم بن خواجہ محمد اسماعیل بن خواجہ محمد بن خواجہ محمد معصوم بن امام ربانی شیخ احمد سرہندی ۔ علیہم الرحمۃ والرضوان ۔

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 6 رجب المرجب 1300ھ / مطابق 14 مئی 1883ء بروز پیر بوقتِ صبح صادق علاقہ "مٹیاری" ضلع حیدر آباد میں ہوئی ۔ اب مٹیاری خود ایک ضلع بن چُکا ہے ۔

تحصیلِ علم:
چار سال کی عمر میں آپ کی رسم بسم اللہ آپ کے جد امجد خواجہ عبدالرحیم نے کرائی، قرآن پاک آپ نے قاری عبدالرحمن متعلوی سے پڑھا، فارسی کی تعلیم جناب عزیز اللہ خان سلیمان خیل قندھاری سے اور عربی کی تعلیم علامہ محمد حسن اللہ صدیقی پاٹائی سے مٹیاری کی درگاہ شریف میں ہی حاصل کی ، سترہ سال کی عمر میں فارغ التحصیل ہوگئے۔ آپ کے والدگرامی نے تین سو علماء کی موجودگی میں آپ کو دستار فضیلت عطا فرمائی۔ اسی (80)علماءکےاجتماع میں آپ نےپہلی بارتقریرفرمائی جس کو سن کرعلماءبھی عش عش کراٹھے۔مکۃ المکرمہ میں علامہ سید علی بن ظاہروتری اور حضرت مولانا عبدالحق الہ آبادی مہاجر مکی سے بطورِ برکت کتب حدیث پڑھیں اور سند حاصل کی۔عمدہ عمدہ کتابوں کا آپ کو بہت شوق تھا، یہی شوق تھا جس کے باعث آپ نے مدینہ منورہ سے اسی ہزار روپے کی نایاب کتابیں خرید فرمائیں۔ آج بھی آپ کے کتب خانے پرآپ کی خریدی ہوئی نایاب کتابوں کا ایک عظیم ذخیرہ موجود ہے۔

بیعت و خلافت:
آپ کو اپنے جد امجد خواجہ عبدالرحیم سے شرف بیعت حاصل تھا، اور اجازت و خلافت اپنے والد گرامی خواجہ عبد الحلیم سے حاصل تھی آپ کا سلسلہ طریقت اور سلسلہ نسب ایک ہی ہے جو اوپر مذکور ہوا ۔

سیرت و خصائص:
شیخ الوقت،عالمِ ربانی، عارف اسرار یزدانی، صاحبِ علم و تقویٰ، خانوادۂ مجدد الفِ ثانی کے بطلِ جلیل حضرت علامہ مولانا پیر غلام جان سرہندی نقشبندی مجددی رحمۃ اللہ علیہ۔

آپ ایک ہمہ گیراورہمہ جہت شخصیت کےمالک تھے۔آپ کی زندگی ایک مومنانہ ومجاہدانہ تھی۔سیرت وکردار،علم وعمل،تقویٰ وطہارت،ہمدردی واخوت تمام معاملات میں یادگارِاسلاف تھے۔جذبۂ حریت وغیرت آپ کی رگ وخون میں شامل تھا۔یہی وجہ ہےکہ آپ نےانگریزوں کےخلاف اورمسلمانوں کی حمایت میں تمام تحریکوں میں قائدانہ کردارادکیا۔

فرنگیوں سے نفرت:
آپ کوفرنگیوں اور انگریزوں سے اور ان کی حکومت سےسخت نفرت تھی۔ آپ کوبڑی بڑی پیشکشیں کی گئیں ،لیکن آپ نے سب کوٹھکرا دیا۔تحریکِ خلافت کےدوران آپ بذریعہ ریل دورے پر جارہے تھے کہ راستے میں انگریز کلکٹر مسٹرگپس نے آپ کو دیکھ کر آپ کیلئے شربت منگوایا لیکن آپ نے اس کا منگایا ہوا شربت پینے سےانکارکردیا اور فرمایا:"کہ اگر اس گلاس میں شربت کی جگہ تمہارا خون ہوتا تو میں ضرور پیتا اسلئے کے تم ہمارے ترک بھائیوں کا خون پی رہے ہو"یہ سن کر انگریز کلکٹر کھسیانا سا ہو کر کہنے لگا کہ "شاید ان پر مذہبی جنون غالب آگیا ہے۔"

قید و بند:
ترک موالات کی تحریک میں آپ نے بھر پور حصہ لیا اور سندھ کے چپہ چپہ پر جلسے کرکے انگریزوں کے مکرو فریب سے لوگوں کو آگاہ کیا۔ کراچی کی عظیم کانفرنس میں انگریزوں کے خلاف جو فتویٰ صاد ر کیا گیا تھا اس میں علی برادران ، مولانا نثار احمد کانپوری کے علاوہ چھٹے نمبر پر آپ کے دستخط بھی تھے۔ اس جرم کی پاداش میں خالق دینا ہال کراچی میں آپ پر مقدمہ چلایا گیا ار آپ کو دو سال قید کی سزا سنائی گئی سزا سننے کے بعد آپ نے فرمایا کہ قید تو میرا ورثہ ہے کیوں کہ میں غلامِ مجدد اور اولاد ِمجدد ہوں جن کو جہانگیر بادشاہ نے قلعہ گوالیار میں نظر بند کردیا تھا۔ پھرارشادفرمایا:" کاش! آج مجھ پر یہ مقدمہ ہوتاکہ میں نے وقت کے انگریز بادشاہ جارج پنجم کو قتل کیا ہے اور اس کے خون سے میرے ہاتھ رنگے ہوتے"۔آپ نے بڑے تحمل سے یہ دوسال کا عرصہ جیل میں گزارا اور اس عرصہ میں قرآن پاک پورا حفظ کرلیا۔آپ نے جیل میں بڑی بڑی صعوبتیں برداشت کیں ، سردی کی راتوں میں آپ کی کوٹھڑی کے اندر ٹھنڈا پانی چھوڑ دیا جاتا تھا۔ تاکہ آپ ساری رات کھڑے ہوکرگزاریں اور نماز نہ پڑھ سکیں، بتیاں بند کر دی جاتی تھیں تاکہ آپ تلاوت قرآن پاک نہ کر سکیں ۔
1
ملی خدمات:
تحریک ہجرت ہو یا تحریک خلافت ، تحریک انجمن ہلال احمر ہو یا تحریک مسجد منزل گاہ ، تحریک ترک موالات ہویا تحریک پاکستان آپ نے ہر سیاسی اور مذہبی تحریک میں بھر پور کردار ادا کیا۔ انجمن ہلال احمر کے لئے صرف مٹیاری سے بارہ ہزار روپے جمع کروایا۔ انجمن خدام کعبہ کی تحریک کے لئے تمام سندھ سے ہزاروں روپے جمع کرکے بمبئی علی برادران کو بھیجوایا آپ ایک عرصہ تک جمعیت علمائے ہند کے سر کردہ رہنما رہے لیکن جب علماء اہل سنت نے جمعیت سے استعفی دیا تو آپ بھی مستعفی ہو گئے تھے ۔ آپ نے ہندوؤں کے بائیکاٹ کا اعلان کر دیا۔ ہندوو ں کے کچھ قرض آپ کے ذمہ تھے انہوں نے کہا کہ اگر آپ کانگریس میں شامل ہو جائیں تو ہم تمام قرضہ معاف کر دیں گے ورنہ ڈگری جاری کروادیں گے اس کے جواب میں آپ نے اپنی زمین فروخت کرکے ان کے قرضے اتار دیئے مگر اپنے ایمان کا سودانہ کیا۔

تحریک پاکستان میں مسلم لیگ کی آپ نے ہر طرح سے بھر پور مدد کی اور اس کی ترقی کے لئے بھر چونڈی شریف کے پیرمولاناعبدالرحمن قادری اور عبدالرحیم شہید کے ہمراہ آپ نے پورے سندھ کا دورہ کیا۔ آپ نے اپنی ساری زندگی ر شدو ہدایت اور تبلیغ میں گزاری ہر مذہبی تحریک میں آپ پیش پیش نظر آتے تھے۔ مسجد کانپور کا جھگڑا ہوا تو مولانا محمد علی جوہر نے تار دےکر آپ کو بلایا آپ فوراً کانپور پہنچے اورفیصلہ ہونے تک وہیں رہے اور ڈٹ کر حکومت وقت کا مقابلہ کیا۔

پاکستان بننے کے بعد ہندوستان سے مہاجرین کی آمد پر آپ نے اپنا گھر خالی کر دیا اور اس میں ان کو بسایا حتیٰ کے سونے کیلئے بستر اور کھانے پینے کے برتن تک ان کے استعمال کیلئے دے دیئے ۔ ان کے لئے مکانوں کا بندوبست فرمایا ان کو رہائش کے لئے سہولتیں مہیا کیں ۔حیدر آباد میں سب سے پہلے "سلاوٹ پارے سے عید میلاد النبی ﷺ کے جلوس "کی ابتدا آپ ہی نے فرمائی ۔ حیدر آباد شہر کی سب سے بڑی جامع مسجد آزاد میدان کی بنیاد بھی حضرت مفتی محمد محمود الوری کے ساتھ مل کر آپ ہی نے رکھی اور اس کی پہلی کمیٹی کے سب سے پہلے صدر بھی آپ ہی تھے۔الغرض آپ کی تمام زندگی ایک مجاہدانہ زندگی تھی۔خطۂ باب الاسلام سندھ آپ کی برکت وروحانیت سےفیض یاب ہوا۔

تاریخِ وصال:
آپ کاوصال بروز منگل صبح نو بجے 16 جمادی الاخری 1377ھ / مطابق 7 جنوری 1958ء کو حیدر آباد میں ہوا ۔ پھر آپ کو حسبِ وصیت "مٹیاری" میں سپردِ خاک کیا گیا ۔

وفات سے قبل اپنے جد امجد خواجہ ضیاء الحق کے یہ اشعار آپ کے وردِ زبان تھے ۔

بصدیقیت خریدارم عمر را دوست میں دارم
چہارم حیدر صفدر کہ باشد ساقی کوثر

فدا سازم دل و جاں را بعثمان یارسول اللہ
اما ماں را شوم چاکر بایقاں یارسول اللہ

ماخذ و مراجع:
انوار علمائے اہلسنت سندھ ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-peer-ghulam-jan-mujaddadi-sirhandi
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت سید صدر الدین المعروف راجن قتال بخاری سہروردی رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
اسمِ گرامی:
سید صدر الدین ۔ لقب: راجو قتال ۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت صدر الدین راجن قتال سہروردی بن سید احمد کبیر بخاری سہروردی بن حضرت سید مخدوم جلال الدین سرخ بخاری بن سید ابو المؤید علی بن سید جعفر حسینی بن سید محمود بن سید احمد بن سید عبد اللہ بن سید علی اصغر بن سید جعفر ثانی بن امام محمد نقی رحمۃ اللہ علیہم اجمعین ۔

آپ کا تعلق سادات بخارا سے ہے ۔ آپ حضرت سید جلال الدین سرخ پوش بخاری کے پوتے، اور حضرت مخدوم جہانیاں جہاں گشت کے برادرِ اصغر ہیں ۔

لقب کی وجہ تسمیہ:
آپ راجن قتال کے لقب سے مشہور ہیں۔آپ کے لقب راجن کی وجہ تسمیہ یہ بیان کی جاتی ہے۔کہ تمام اہل شہر کے دلوں پر آپ کی روحانی حکومت کا سکہ بیٹھا ہوا تھا۔اور اوچ شریف اور گردونواح کے لوگ خود کو آپ کی رعایا کہلوانے میں فخر محسوس کرتے تھے۔اس لیے راجن (یعنی بادشاہ)آپ کا لقب پڑگیا جو آپ کے نام کا حصہ بن گیا۔قتال بمعنیٰ لڑنا۔کثرتِ مجاہدات وریاضات اورمخالفتِ نفس کی وجہ سےقتال مشہورہیں۔اسی طرح خداکےدشمنوں پرسختی کی وجہ سےاس لقب سےملقب ہوئے۔

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 26/شعبان المعظم 730ھ،مطابق جولائی/1330ءکوسلطان العاشقین حضرت سید احمد کبیر بخاری سہروردی علیہ الرحمۃ کے گھر اوچ شریف تحصیل احمد پور شرقیہ ضلع بہاولپور میں ہوئی۔

تحصیل علم:
آپ نے ابتدائی تعلیم و تربیت اپنے والدگرامی حضرت سید احمد کبیر سہروردی بخاری علیہ الرحمۃ سے مکمل کی اور ظاہری علوم کی تکمیل کے بعد اپنے برادربزرگوار حضرت سید مخدوم جہانیاں سہروردی علیہ الرحمۃ کی صحبت سے فیض یاب ہوئے۔جنہوں نے آپ کی روحانی تربیت مکمل کی اور سلوک و معرفت کی منازل طے کرائیں۔آپ کے بارے حضرت سید مخدوم جہانیاں جہاں گشت علیہ الرحمۃ اکثر فرمایا کرتے تھے: کہ خالق ِحقیقی نے ہم کو امور خلقت میں مشغول کیا اوربردار عزیز صدر الدین رحمۃ اللہ علیہ کو اپنی ذات کے عشق میں مستغرق رکھا ہے آپ انتہائی سیف زبان تھے۔ زبان ترجمان سے جو فرماتے ویسا ہی ہوکے رہتا تھا۔

بیعت و خلافت:
آپ سلسلہ عالیہ سہروردیہ میں اپنے والدبزرگوار حضرت سید احمد کبیر بخاری سہروردی علیہ الرحمہ سے مریدہوئےاور خلافت ملی۔اس کے علاوہ اپنے بڑے بھائی حضرت سیدمخدوم جہانیاں جہاں گشت سہروردی علیہ الرحمۃ سے بھی آپ کو خرقہ خلافت و اجازت حاصل تھا۔

سیرت و خصائص:
متصرف بہ تصرفات،صاحب کشف و کرامات ،غریق در بحر توحید و معرفت،خورشید ولایت، پیشوائے اہل کمال،حضرت مخدوم سید صدر الدین بخاری المعروف راجو قتال سہروردی رحمۃ اللہ علیہ ۔آپ انتہا درجہ کے متقی و پرہیز گاراورپابندِشریعت بزرگ ہوئے ہیں۔ہمہ وقت عبادت و ریاضت و مجاہد میں مست و مستغرق رہتے تھے۔ آپ کے متعلق مشہور ہے کہ حد سے زیادہ مجاہد ۂ نفس اورعبادت وزہد اورادو وظائف پرسختی سےعمل پیرا ہونے کی وجہ سے طبیعت میں شان جلالی پیدا ہوگئی تھی۔اگر کوئی شخص طریقت و شریعت کی ذراسی بھی خلاف ورزی کرتا ہوا پایا جاتا تو آپ سختی سے اس کا محاسبہ فرماتے تاوقتیکہ وہ توبہ نہ کرلے۔
1
آپ خدا کی ذات میں اس قدر مست و مستغرق تھے اس کے سوا کسی کو جانتے نہ تھے۔ مخلوق سےبالکل کنارہ کش رہتے تھے۔آپ کی تربیت وصحبت سے کئی افرادفسق وفجورسےتائب ہوکرتقویٰ والی زندگی گزارنےلگے۔شیخ سارنگ کےبارےمیں آتاہےانہوں نےآپ سےکہاحضرت !مجھے اپنےکھانےسےبچا ہواروٹی کاٹکڑاعنایت فرمائیں میں بطورِ تبرک تناول کروںگا۔آپ نےفرمایا:تم نمازِپنجگانہ کی پابندی کاوعدہ کروہم تبرک کاوعدہ کرتےہیں۔جب وہ نمازی بن گئے توآپ نےفرمایا:آگرآپ اشراق چاشت کاوعدہ کریں تو ہم اپنےساتھ تمہیں کھاناکھلائیں گے۔اللہ اکبر۔کیانیکی کاجذبہ تھا۔صرف اس کوتبرک دیکرتھپکی نہ دی بلکہ اس کونمازی وکامل  بناکرچھوڑا۔

(کاش! آج کےجانشین اپنےآباؤاجدادکےسچےوارث بن جائیں،اوران کےمشن کوفروغ دیں،چاپلوس،مفادپرست وبےنمازی مریدین کےظاہروباطن کونورِاسلام وایقان سےمنورفرماکرصرف ایک سچامسلمان بنادیں۔مزارات پرغیرشرعی افعال کےروک تھام کےلئےاپناکرداراداکریں۔آج ان ناخلف سجادوں کی وجہ سےان نفوسِ قدسیہ کےخلاف بدمذہبوں کوپروپیگنڈےکاموقع مل گیاہے۔کل جن اکابر کی تبلیغ سےلوگ مسلمان ہوتےتھے،جن کانام علم وتقویٰ کااستعارہ ہوتاتھا۔آج انہیں کےسجادوں کی نااہلی وبےعلمی وبےعملی  کی وجہ سےبدمذہب سادہ لوح مسلمانوں کوگمراہ کررہےہیں۔تونسوی غفرلہ)

اسی طرح حضرت شیخ صدرالدین علیہ الرحمہ  غیرمسلموں کےاسلام پربہت حریص تھے۔جس  پرنظررکھتےتھے جب تک وہ اسلام قبول نہ کرلےتااس کےپیچھےلگےرہتے۔ آپ کے بارے میں مشہور ہے کہ آپ نے اپنی نگاہ ِولایت  وتربیت سےتین لاکھ چالیس ہزارغیرمسلموں کو کلمہ پڑھا کر مشرف بااسلام کیا تھا۔(یادگارسہروردیہ:231)

تاریخِ وصال: آپ کاوصال 16/جمادی الاخریٰ 827ھ،مطابق مئی/1424ءکواہوا۔مزار پر انوار اوچ شریف تحصیل احمد پور شرقیہ ضلع بہاولپور میں مرجع ِخلائق عام ہے۔

ماخذومراجع: انسائیکلوپیڈیااولیاءکرام جلد5۔یادگارسہروردیہ۔اخبارالاخیار۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-abul-fazl-sadruddin-muhammad-raju
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت شیخ محمد بن مصطفیٰ رفیقی (کشمیر) رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

شیخ محمد بن مصطفیٰ بن معین الحق والملۃ والدین رفیقی: ابو الرضا کنیت تھی، ۱۱۵۴؁ھ میں پیدا ہوئے۔

امام فاضل، فقیہ محدث، مفسر اور صوفی عارف تھے۔علوم معقول و منقول اپنے نانا مولانا مقیم السنہ ٹوپیگر اوراور ماموں اور خسر اولیٰ علامۃ الوریٰ نور الہدےٰ ٹوپیگر و سے اخذ کیے اور حدیث کو اپنے چچا اور باپ سے سنا اور کل معارف کو حاصل کیا اور عوارف کو درس شیخ ابی نعمت اللہ اشرف بن رضا ٹوپیگر و اپنے خسر ثانی سے پڑھا اور بہت سے لوگوں نے آپ سے استفادہ کیا۔تصوف میں بہت سے رسالے لکھے اور چار شنبہ کے روز ۱۶؍ماہ جمادی الآخریٰ ۱۲۲۸؁ھ میں وفات پائی۔’’صاحبِ تصنیفات کاملہ‘‘ آپ تاریخ وفات ہے ۔

( حدائق الحنفیہ )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-muhammad-bin-mustafa-rafeeqi
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM