🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.87K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.81K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
14-06-1445 ᴴ | 28-12-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
14-06-1445 ᴴ | 28-12-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❶ کیا آپ نے کبھی یہ سوچا کہ ہم دین کتنا جانتے ہیں؟ ❷ لفظِ فتوی مِیں کھڑا زَبر یاء پر نہیں بلکہ واؤ پر ہونا چاہئے یعنی: فتویٰ نہیں بلکہ فتوٰی لِکھنا چاہئے ـ مکتوبات فقیہ ملت ـ ❸ حضرت ابو بکر صدیق اور اللہ سے شرم ـ ❹ مزاج اور اہم فیصلے ـ ❺ آپ نیا سال کس طرح منائیں‌گے؟ ❻ دو ستونوں کے درمیان صف بنانا کیسا ہے؟ ❼ امتحان میں نقل کرنا کیسا ہے؟ ❽ تمام امتوں کا دین ایک ہی تھا یا جدا جدا ؟ ❾ کرتا اُتار کر نماز پڑھنا کیسا ہے؟ ❿ کیا عورت نا محرم کا جوٹھا یعنی بچا ہوا کھانا کھا سکتی ہے؟
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت خواجہ شمس الدین ترک پانی پتی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

نام و نسب:
اسمِ گرامی:
حضرت خواجہ شمس الدین ۔ لقب: شمس الاولیاء ۔ ترکی النسل ہونے کی وجہ سے ترک، اور پانی پت میں قیام کی وجہ سے پانی پتی کہلاتے ہیں ۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
شمس الدین ترک بن سید احمد بن سید عبدالمومن بن سید عبدالملک بن سید سیف الدین بن خواجہ ورعنابن بابا قرعنا ۔ علیہم الرضوان ۔

آپ کے آباؤ اجداد ترک کے رہنے والے تھے ۔ آپ ساداتِ علوی سے تھے ۔ آپ کا سلسلۂ نسب چند واسطوں سے حضرت محمد حنیفہ بن حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم تک پہنچتا ہے ۔

تاریخِ ولادت:
21 جمادی الثانی 597ھ کو بمقام مرخس ترکمانستان میں پیدا ہوئے ۔

تحصیل ِ علم:
آپ کی تعلیم و تربیت ترکمانستان میں ہوئی۔ آپ نے بہت جلد تفسیر، حدیث، فقہ، ریاضی، منطق، ہیئت، ہندسہ میں قابلیت حاصل کی۔جلد ہی علم معقول و منقول سے فارغ ہو کر علم باطنی کی طرف متوجہ ہوئے ۔

بیعت و خلافت:
حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر رحمتہ اللہ علیہ نے آپ کو خلافت سے سرفراز فرمایا، اور آپ سے فرمایا: تمھارا باقی حصہ دوسرے مرشد کے پاس ہے۔ "حصول نعمت و کمال تو موقوف بر مرشد دیگر است" ۔ تمہارا حصول نعمت و کمال دوسرے مرشد پر موقوف ہے ۔

آپ کو اپنے مرید و خلیفہ حضرت علاؤ الدین احمد صابر رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں کلیر روانہ کیا ۔ (اس وقت ایسا پیر نہیں دیکھا گیا کہ جو بابا فرید کے مقام پر فائز ہو اور آئے ہوئے شخص سے یہ کہے کہ تم فلاں شخص کے پاس چلے جاؤ، تمھارا حصہ ان کے پاس ہے ۔ اب تو یہ ہے کہ ایک ترغیبی مہم چلائی جاتی ہے کہ فلاں حضرت اس مقام پر فائز ہیں تم ان کے مرید ہو جاؤ، ماشاء اللہ لنگر مزیدار ہوتا ہے وغیرہ ۔ پھر صرف لنگر ہی ملتا ہے، خدا نہیں ملتا) حضرت مخدوم علاؤالدین احمد صابر (رحمۃ اللہ علیہ) نے آپ کو دیکھ کر فرمایا ۔

"اے شمس الدین! تو میرا فرزند ہے ۔ میں نے خدا سے چاہا کہ میرا سلسلہ تجھ سے جاری ہو اور قیامت تک رہے" ۔ آپ کو بیعت سے مشرف فرمایا ۔ سلسلۂ عالیہ چشتیہ کے مطابق آپ کو حلق کرایا ۔ کلاہ چہار ترکی آپ کے سر پر رکھی ۔ آپ گیارہ سال تک اپنے پیر و مرشد کی خدمت میں رہے ۔ پیر و مرشد کو وضو کرانے کی خدمت آپ کے سپرد تھی ۔ حضرت نے خرقۂ خلافت آپ کو عطا فرمایا اور اسم اعظم جو سینہ بسینہ چلا آتا تھا، آپ کو تعلیم کیا ۔

سیرت و خصائص:
شمس الاولیاء، بدر الاتقیاء، آئینہ جمال و جلال حقانی، قطبِ وقت، فیض یافتہ حضرت فرید الدین، و شیخ صابر، معارفِ علومِ ربانی حضرت شمس الدین ترک پانی پتی رحمۃ اللہ علیہ ۔

آپ علیہ الرحمہ صوفیِ باصفا اور کاملانِ اولیاء میں سے تھے ۔ تلاش کے حق کے جذبے سے متاثر ہو کر آپ نے اپنے وطن عزیز کو خیرباد کہا ۔ اول ترکستان کی سیر و سیاحت فرمائی ۔ جب وہاں کوئی مرشد کامل نہیں ملا تو ماور النہر تشریف لائے ۔ وہاں بہت سے بزرگوں سے ملے، لیکن آپ کو تسکین نہیں ہوئی ۔ماوراء النہر سے ملتان تشریف لائے۔ملتان سے اجودہن (پاک پتن) آئے اور حضرت بابا فریدالدین گنج شکر رحمتہ اللہ علیہ کی قدم بوسی سے مشرف ہوئے۔ آپ نے کچھ عرصہ حضرت بابا گنج شکر رحمتہ اللہ علیہ کی خدمت بابرکت میں رہ کر فیوض و برکات باطنی حاصل کئے ۔

آپ صاحب عظمت و ولایت تھے۔علم ظاہری و باطنی میں اپنی مثال آپ تھے۔ زہد و تقویٰ آپ کا مشہور تھا۔ ترک و تجرید، ریاضت، مجاہدہ اور عبادمت میں بےنظیر تھے، وضع قطع سے قلندر معلوم ہوتے تھے اور قلندروں کا سا لباس چرمی پہنتے تھے۔ جو کچھ زبان سے فرماتے تھے ویسا ہی ہو جاتا۔ آپ کے پیر و مرشد حضرت مخدوم صابر کلیری رحمتہ اللہ علیہ نے آپ کے متعلق فرمایا:

شمس ما در اولیاء چوں شمس است"
ہمارا شمس اولیاء میں سورج کی طرح ہے۔

آپ اپنے پیر دستگیر کی اجازت سے سلطان غیاث الدین بلبن کے لشکر میں ملازم ہوگئے۔ ریاضت، عبادت اور مجاہدہ کے ساتھ ساتھ آپ اپنے فرائض کو بھی بحسن و خوبی انجام دیتے رہے۔ آپ اپنا حال کسی پر ظاہر نہیں کرتے تھے ۔ باوجود امارت و اعزاز کے فقر و فاقہ میں گزارتے تھے ۔
1
فضل و کمال:
سلطان غیاث الدین بلبن نے ایک قلعہ کا محاصرہ کیا۔ آپ شاہی لشکر کے ساتھ تھے۔ قلعہ فتح نہ ہو سکا، لیکن محاصر چھ ماہ تک بدستور جاری رہا ۔ ایک رات آندھی اور بارش کے طوفان سے لشکر والوں کے خیمے گر پڑے ۔ ہر طرف اندھیرا ہو گیا ۔ آگ بُجھ گئی ۔ ایک بہشتی (پانی بھرنے والا) لوٹا لے کر سلطان بلبن کے وضو کے لئے پانی گرم کرنے کے واسطے آگ تلاش کرنے نکلا۔ اس کی نگاہ آپ کے خیمے پر پڑی کہ بدستور قائم تھا۔ جب نزدیک پہنچے، دیکھا کہ ایک درویش چراغ کی روشنی میں قرآن پاک کی تلاوت کر رہا ہے اگرچہ طوفان سخت تیز تھا مگر چراغ بجھنے نہ پاتا تھا۔ وہ بہشتی خیمہ میں جاکر خاموش کھڑا ہوگیا۔ آپ نے اس کی طرف دیکھ کر فرمایا کہ اگر آگ چاہے تولے جاؤ، اس بہشتی نے لکڑی سلگائی اور واپس چلا گیا۔ دوسرے روز وہ پھر آیا، لیکن آپ کو خیمہ میں نہ پایا ۔

وہاں سے تالاب پر پانی بھرنے گیا تو کیا دیکھتا ہے کہ آپ وضو کر رہے ہیں۔ وہ ایک طرف چھپ کر کھڑا ہوگیا آپ کے جانے کے بعد اس نے مشک بھری تو پانی کو خوب گرم پایا، اس کو سخت حیرت ہوئی، اگلے روز علی الصبح آپ کے پہنچنے سے قبل وہ تالاب پر گیا، پانی کو سرد پایا، وہ ایک جگہ چھپ کر بیٹھ گیا، تھوڑی دیر بعد آپ تشریف لائے اور وضو کیا، آپ کے جانے کے بعد اس نے جو مشک بھری تو پانی گرم پایا، اب اس کو یقین ہوا کہ بس آپ کی برکت کا نتیجہ ہے۔ اس نے سلطان بلبن سے ذکر کیا۔ سلطان بلبن اس کو ہمراہ لےکر اس تالاب پر پہنچا، پانی کو سرد پایا، سلطان بلبن اور وہ  ایک جگہ چھپ کر بیٹھ گئے، آپ تالاب پر تشریف لائے اور وضو کیا، آپ کے جانے کے بعد سلطان بلبن نے جو تالاب پر جاکر دیکھا تو پانی گرم پایا، اس کو کامل یقین ہوا کہ آپ کامل درویش ہیں ۔

سلطان بلبن آپ کے خیمہ میں گیا، آداب بجا لایا۔ اور کہا: میں بہت خوش قسمت  ہوں آپ جیسے کامل میرے لشکر میں موجود ہیں۔ آپ سے دعا کا طالب ہوا، آپ نے دعا کی اور دو دن میں قلعہ فتح ہوگیا۔ آپ سے جب کرامت کا اظہار ہوا اور سلطان بلبن اور لشکر والے آپ کے حال سے خبردار ہوئے تو آپ ملازمت سے مستعفی ہوکر کلیر آگئے۔ پیر و مرشد کےحکم سے پانی پت پہنچے، اور وہاں دین اسلام کے چراغ روشن کیے، اور لوگ جوق در جوق آپ کی خدمت میں حاضر ہوکر مشرف بااسلام ہونے لگے۔ فاسق و فاجر تائب ہوکر نیکی کی زندگی گزارنے لگے۔

اولیاء کرام جہاں بھی تشریف لے گئے، اپنے اخلاق و کردار اور سیرت سے اسلام کی تفسیر بیان کرتے تھے۔ صرف قال نہیں ہوتا تھا، قال کے ساتھ حال بھی ہوتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ ان کے اخلاق اور کردار سے متائثر ہوکر حلقہ بگوش اسلام ہوجاتےتھے۔پاک و ہند،اور بنگلہ دیش میں جو اکثریت مسلمانوں کی نظر آرہی ہے یہ کسی کی دعوت و تبلیغ کا نتیجہ نہیں ہے، بلکہ یہ تو اولیاء کرام کا فیضان و احسان ہے ۔

تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 15 جمادی الثانی 716ھ کو ہوا ۔ آپ کا مزار شریف پانی پت انڈیا میں مرجعِ خلائق ہے ۔

ماخذ و مراجع:
تذکرہ اولیائے پاک و ہند ۔ اقتباس الانوار ۔ انسائیکلوپیڈیا اولیائے کرام ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-shamsuddin-tark-panipati
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت مولانا مفتی شاہ ارشاد حسین رام پوری رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
اسم گرامی:
حضرت مولانا مفتی ارشاد حسین ۔ لقب: نبراس العلماء، سراج الفقہاء، قطب الارشاد وغیرہ ۔ رامپور کی نسبت سے "رامپوری" کہلاتے ہیں ۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
مولانا ارشاد حسین بن مولانا حکیم احمد حسین بن غلام محی الدین بن فیض احمد بن شاہ کمال الدین بن شیخ زین العابدین عرف میاں فقیر اللہ بن حضرت خواجہ محمد یحیٰ بن امام ربانی مجدد الف ثانی حضرت شیخ احمد سرہندی ۔علیہم الرحمۃ والرضوان ـ

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 14 صفر المظفر 1248ھ / مطابق نومبر 1832ء کو محلہ پیلا تالاب شہر مصطفیٰ آباد عرف رام پور (انڈیا) میں ہوئی ۔

قبلِ ولادت بشارت:
عارف باللہ حضرت حاجی محمدی علیہ الرحمہ (جن کا مزار شریف پاک توپ خانہ روڈ رامپور میں مرجعِ خلائق ہے) نے حضرت مولانا حافظ عنایت اللہ خان رامپوری سے ان کے اصرارِ بیعت پر ایک دن فرمایا: "تم ابھی تعلیم حاصل کرو، ایک قطبِ وقت کا ظہور ہونے والا ہے، ان سے تمہیں نصیبِ کامل ملےگا" ۔ (حیات مولانا ارشاد حسین رام پوری: ص،14) ـ

تحصیلِ علم:
مولانا محمد ارشاد حسین رامپوری علیہ الرحمہ نے فارسی کی ابتدائی کتب اپنے والد ماجد اور برادر مولانا امداد حسین رامپوری، شیخ احمد علی اور شیخ واجد علی سے پڑھیں ۔ اس کے بعد دیگر فنون کی تعلیم مولانا حافظ غلام نبی، مولانا جلال الدین، اور مولانا نصیر الدین خان سے حاصل کی ۔ اس کے بعد علومِ نقلیہ کی تکمیل کی ۔ معقولات کا درس علامۂ زماں مولانا محمد نواب خان افغانی نقشبندی سے لیا ۔ آپ نے عارف باللہ مولانا عبد الکریم عرف ملا فقیر اخوند قادری چشتی کی خانقاہ کے حجرے میں دورانِ قیام نو ماہ میں قرآنِ کریم حفظ کیا ۔

بیعت و خلافت:
حضرت مولانا شاہ احمد سعید مجددی سے مرید ہوئے، اور محبوبیت و مرادیت کا مقامِ بلند پایا، اجازت و خلافت سے سر فراز کیے گئے ۔

سیرت و خصائص:
حافظِ آیاتِ قرآنی، واقفِ اسرارِ ربانی، مفسرِ کلامِ ربِ العلمین، محدثِ حدیثِ سیدالمرسلین، مدرسِ فقہ واصول، جامع المنقولِ والمعقول ، مجمع البحرین، تاج المحدثین، سراج الفقہاء والمتکلمین، جامع شریعت وطریقت، نبراس العلماء حضرت علامہ مولانا مفتی شاہ ارشاد حسین رحمۃ اللہ علیہ ۔

آپ کا شمار اکابرین علماء اہلسنت میں ہوتا ہے ۔ آپ خاندانی شرافت و نجابت کے ساتھ علم و تقویٰ میں بھی بے مثال تھے ۔ رامپور ہمیشہ سے علم و فن کا گہوارہ رہا ہے ۔ خاص طور پر علماء و مشایخ، ادباء و شعراء، صوفیاء و حکماء کو اس شہر میں امتیاز حاصل رہاہے ۔انہیں نابغہ ٔ روزگار اور باکمال ہستیوں میں جو علمی بالا دستی اور عظمت حضرت مولانا ارشاد حسین کےحصےمیں آئی ہے، وہ آپ کا ہی خاصہ ہے ۔ آپ کا شمار ہندوستان کے ان برگزیدہ علماء میں ہوتا ہے جنہوں نے مشکل وقت میں چمن زار اہل سنت کی آبیاری اپنے قلم، علم و فضل، تقویٰ و طہارت، اور قول و فعل کی یکسانیت سے کی ہے ۔ انہوں نے مسلکِ حق کی ترویج و اشاعت میں امام احمد بن حنبل، امام اعظم ابو حنیفہ، اور حسینی کردار کو اپنے سامنے رکھا ۔ یہی وجہ ہے کہ اس وقت سے لے کرآج تک علماء اہلسنت انہیں اپنا مقتداء و پیشوا مانتے ہیں ۔

امام اہلسنت اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ آپ کے علم و فضل اور زہد و تقویٰ کے بڑے مداح تھے ۔ انہوں نے اپنی تحریروں میں اکثر مقامات پر بڑے ادب و احترام کے ساتھ آپ کا تذکرہ کیا ہے ۔ چنانچہ اپنی مشہورِ زمانہ تصنیف ِ لطیف "کفل الفقیہ الفاہم" میں آپ کا ذکران القاب و آداب سے کیا ہے ۔ "اقضیٰ علیہ ناس من کبار العلماء الہند کا الفاضل الکامل محمد ارشاد حسین الرامفوری رحمہ اللہ تعالی وغیرہ" ۔ (تذکرہ علمائے اہلسنت ص 25 / فتاویٰ رضویہ ج7 ص161) ـ

صدر الافاضل بدر المماثل حضرت مولانا مفتی محمد نعیم الدین مراد آبادی علیہ الرحمہ نے " سنی کی تعریف " ان الفاظ میں کی ہے: " سنی وہ ہے جو ما انا علیہ و اصحابی کا مصداق ہو ۔ یہ وہ لوگ ہیں جو خلفائے راشدین، آئمہ دین، مُسلَّم مشایخِ طریقت، اور متأ خرین علماء کرام میں سے حضرت شیخ عبد الحق محدث دہلوی، ملک العلماء، حضرت بحر العلوم فرنگی محلی، حضرت مولانا فضل حق خیرآبادی، حضرت مولانا شاہ فضل رسول بدایونی، حضرت مولانا مفتی ارشاد حسین رامپوری اور حضرت مولانا مفتی شاہ احمد رضا خاں بریلوی کے مسلک پر ہوں ۔رحمہم اللہ تعالیٰ ۔ " (الفقیہ امرتسر 21 اگست 1945ء، ص9) ـ
1
تاج الفقہاء حضرت مولانا مفتی شاہ ارشاد حسین رام پوری رحمۃ اللہ علیہ  خوش لباسی، خوش اخلاقی، اور خوش اوقاتی سے زندگی بسر کرتے تھے ۔ ہر شخص سے اچھا برتاؤ کرتے، عہد کو پورا کرتے، محتاجوں کی دستگیری فرماتے، امیروں سے بے نیاز رہتے تھے ۔ ہم عقیدہ مسلمانوں پر شفقت و عنایت فرماتے اور باطل پرستوں بدمذہبوں سے شدید نفرت کرتے تھے ۔ آپ کا ریاستِ رام پور میں خاص اثرتھا ۔ (تذکرہ علماء اہلسنت ص25) ـ

آپ علیہ الرحمہ کا حلقۂ درس بہت وسیع تھا ۔ دور دراز علاقوں سے سفر کرکے لوگ آپ کے پاس آکر علمی پیاس بجھاتے تھے ۔ تمام علوم و فنون پر یکساں مہارت حاصل تھی ۔ تقریباً تیس برس تدریس فرمائی اسی حالت میں واصل باللہ ہوئے ۔ اسی طرح افتاء میں آپ کا ایک نام تھا ۔ درس و تدریس اور افتاء وغیرہ سے وقت نکال کروقت کے تقاضوں کے مطابق تالیف میں مشغول رہتے تھے ۔ ہر جمعہ کو بعد نماز جمعہ اپنی مسجد میں قرآن کریم کی تفسیر بقدر ایک رکوع اسرار و نکات کے ساتھ بیان فرماتے تھے ۔ یہ مجلسِ خیر عصر کے قریب تک قائم رہتی ۔ سامعین کی یہ حالت ہوتی کہ گریہ و بکاء، اور سکتہ کی کیفیت طاری رہتی ۔ بعض حضرات بے خود ہو کر اپنا سر در و دیوار پر مارتے تھے ۔ تیس سال میں دو مرتبہ آپ نے قرآن مجید کی اول تا آخر مکمل تفسیر بیان فرمائی ۔ (حیات مولانا ارشاد حسین رامپوری ص 22) ـ

تاریخِ وصال:
آپ کا وصال پیر کا دن گزار کر بوقتِ صبحِ کاذب 15 جمادی الاخریٰ 1311ھ / مطابق 25 دسمبر 1893ء کو ہوا ۔ آپ کا مزار پر انوار، رام پور (انڈیا) میں مرجعِ خلائق ہے ۔

ماخذ و مراجع:
تذکرہ علمائے اہل سنت ۔ حیات مولانا ارشاد حسین رام پوری ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-shah-irshad-hussain-rampuri
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت شیخ احمد عبد الحق زندان ردولوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

وصال:
۱۵ جمادی الاخری ۸۳۷ھ ـ

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-ahmad-abdul-haq
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
مادرِ اہلسنت زوجۂ حضور مفتیٔ اعظم ہند رحمۃ اللہ علیہا

وصال:
15 جمادی الاخری ـ

https://scholars.pk/ur/scholar/wife-of-huzoor-mufti-e-azam-hind-mustafa-raza-khan
1